اتوار، 16 فروری، 2014

تعارف

مجھ سے ملیئے

میں شاعر ہوں
میں لیکھک ہوں
میں دلبر ہوں
میں عاطف ہوں
میں حاضر دور کا انشاء ہوں
اور سب سے اہم
میں جھوٹا ہوں!!

سچ پوچھو تو۔۔۔۔۔
معلوم نہیں میں کیا کچھ ہوں
اور یہ بھی نہیں
کہ کیوں کچھ ہوں
یا کب سے ہوں
اور کب تک ہوں
یا کیسا ہوں
اور جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں؟
ہاں خوب کہا ۔۔۔
میں شاعر ہوں
لفظوں کے تیر چلاتا ہوں
الفاظ کے گورکھ دھندے میں
سپنوں کے جال بچھاتا ہوں
اور جال میں خود پھنس جاتا ہوں
پھر لفظوں میں رہ جاتا ہوں۔۔۔۔۔
اور رات گئے
اٹھ بیٹھتا ہوں
اور چیختا ہوں
چنگھاڑتا ہوں
بے سود مگر
یاں کوئی صدا
سنتا ہی نہیں
پھر فجر گئے
میں پوچھتا ہوں
اے ربِّ جہاں
اتنا تو بتا ۔۔۔
میں چیخ اٹھوں؟
یا ضبط کروں؟
کیاکوئی صدا
یاکوئی فغاں
کوئی نوحہ
یا گریہ یا فریاد کوئی
تو سنتا ہے؟
اے ربِ جہاں
میرے مولا
خاموش خدا
اتنا تو بتا!
کہ کون ہوں میں؟
مجذوب ہوں میں
یا دانا ہوں؟
بہلول ہوں میں؟
منصور ہوں میں؟
یا میں ہوں فقط، مردودِ حرم!
یہ میں ہی ہوں؟
یا اور کوئی؟
کیا مجھ میں ہے کوئی پریت چھپا؟؟
کیوں ہوں ایسا؟
کب تک ایسا؟
کیا کوئی دوا۔۔۔
تعویزِ شفا ۔۔
دم، دارو، ٹونا
کوئی نہیں؟
کوئی تنتر، آیت، وِرد، دعا
کوئی، کچھ تو ہو
جو پردے سارے اٹھوا دے
جو مجھ کو مجھ سے ملوا دے!!!

سید عاطف علی
15- فروری - 2014

Image

جمعرات، 13 فروری، 2014

Valentine's Day


دل کی گہرائیوں سے آپ تمام احباب کو شبِ ویلنٹائن ڈے مبارک ہو۔ آج تیرہ فروری ہے اور انشاءاللہ کل کا سورج ہم پر چودھویں شریف (المعروف ویلنٹائن ڈے) لے کر طلوع ہوگا۔ اس بلاگ میں ہم آپ کو اس دن سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔

تعارف:
یہ سال کی وہی مبارک تاریخ ہے جو محبت کرنے والوں سے منسوب ہے، ہرگاہ کچھ میڈیا نہ اندیش لوگ یہ افواہ بھی اڑاتے پائے گئے ہیں کہ ان سینٹ ویلنٹائن سے پہلے بھی لوگ محبت کیا کرتے تھے مگر یہ نری افواہ ہے سو اس پر کان نہ دھرا جائے اور خشوع و خضوع سے اس دن کا اہتمام کیا جائے۔ گوکہ اس عظیم دن کا آغاز یورپ کی تاریک گلیوں میں ہوا مگر اس دن کو صحیح عظمت برِ صغیر آکر ہی ملی۔ صحیح کہا تھا کسی نے کہ ہیرے کی قدر صرف جوہری ہی کرسکتا ہے۔ سو چونکہ یہ دن محبت سے منسوب ہے اور محبت کوئی کام نہیں ہے لہٰذا اس میدان میں کوئی ہمارے قریب تک نہیں پہنچ سکا۔
خدا فیض صاحب کا بھلا کرے کہ اچھے وقتوں میں ہی عشق کو کام سمجھنے کے نقصانات بتا گئے، سو ہم نے من حیث القوم نہ کبھی عشق کو کام سمجھا اور نہ کبھی کام سے عاشقی کرنے جیسے غیر مسلمانہ فعلِ قبیح کے مرتکب ہوئے۔

آداب:

اعمالِ شبِ چودھویں شریف:
رات ہوتے ہی محبوب کو کال ملا لیں (اس سے پہلے کے کوئی اور ملائے)۔ ہر سال کی طرح امسال بھی میڈیا زمہ دارانہ صحافت اور ہمدردیِ خلقِ خدا کا ثبوت دے گا اور آپ کو انشاءاللہ ایک ہفتہ پہلے سے ہی یاددہانی کروانا شروع کردے گا۔ سننے میں آیا ہے کہ بعض اداروں نے تو الٹی گنتی کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اجرکم ال اللہ

اعمال روزِ چودھویں شریف:

غسل:
روایات سے ثابت ہے کہ اس دن کو غسلِ شرعی کرنا چاہئے (دن کے آغاز میں بھی) کیونکہ اگر پچھلے ویلنٹائن پر ملا عطر ختم ہو بھی گیا ہو تو یہ غسل کم سے کم ایک/دو گھنٹے کیلئے آپ کی عزت اور محبوب کی ذندگی دونوں پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ البتہ اگر صورتحال گمبھیر ہو رہی یو تو تحفے میں ملنے والا پرفیوم چیک کرنے کے بہانے ہی لگا لیں کہ زندہ رہے گی/گا تو ملتی/ملتا رہے گی/گا۔  

لباس:
اچھے سے اچھا کپڑا پہنیں بلکہ پچھلے سال کی طرح دوست سے مانگ کر اوقات سے اچھے کپڑے پہنیں کیونکہ سامنے والی/والا بھی میاں منشاء کی بیٹی/بیٹا نہیں ہے اور آج کا گلابی سوٹ اپنی کسی دوست سے "کیسی/کیسا کوئی کنجوس کمینی/کمینہ ہے تو، بھین/بھای کی کھسیوں سے جلیوس ہوریا/ہورئی ہے، دیکھ لڑکا/لڑکی گولستانِ جوہر سے آریا/آرئ اے، کیا سونچیں گا/گی" کہہ کر لایا/لائی ہے۔

کھجور:
اصل مطلب وہی ہے جو آپ سمجھے ہیں سو آگے چلئیے۔ اور اگر آپ کو واقعی نہیں پتہ کے ڈیٹ پر کیا کرنا ہے تو صرف ایک کام کیجئے کہ بیچاری/بیچارے کی جان بخش دیجئے۔ "ایویں ٹیم کھوٹا نہ کریں"۔

خیر صاحب یہ تو تھی مذاق کی باتیں۔ اب ویلنٹائن ڈے منانا چاہئے یا نہیں؟ صرف ایک دن کی تخصیص کیوں؟ کیا مذہب اور تہذیب ان سب کی اجازت دیتے ہیں؟ میں ان سب سوالوں کے جواب نہیں جانتا ۔۔۔۔ میرا سوال تو بس اتنا ہے کہ ۔۔۔۔۔

کیا آپ کسی کوئٹہ کے ہزارہ یا کسی گمشدہ بلوچ اور کسی دفاعِ وطن کیلئے اجڑے ہوئے گھرانے کے لواحقین کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دیں گے کہ محبت کے اس دن پر وہ سب سے پہلے میری محبت کے حقدار ہیں؟؟؟؟ پلیز؟؟؟؟؟

جمعہ، 7 فروری، 2014

پڑوسیوں کے نام ۔۔۔۔

سرحد پار کے پیارے لوگو
میرے اپنے سارے لوگو

بس بھی کرو اب ۔۔۔
ختم کرو سب ۔۔۔

کب تک یہ سب مارا ماری؟
کب تک یہ الزام تراشی؟
کب تک دشمن دشمن کھیلیں؟
کب تک غربت بھوک اگائیں؟
کب تک ہم محراب میں آگے؟
کب تک ہم تعلیم میں پیچھے؟
کب تک ایٹم بم کے پیچھے؟
کب تک ہم افلاس میں آگے؟

غربت، فاقے، بھوک میں اول
سینا کی تعداد میں اول
ذلت، پستی، ننگ میں اول
جدل میں اول، جنگ میں اول
طعنے اور تفریق میں اول
گھڑی ہوئی تاریخ میں اول

بس بھی کرو اب ۔۔۔
ختم کرو سب ۔۔۔

کب تک گاندھی گاندھی اچھا؟
کب تک قائد قائد بہتر؟
کب تک تیرا تیرا تیرا؟
کب تک میرا میرا میرا؟
کب تک نیتا، لیڈر حاکم؟
کب تک جنتا اندھی دشمن؟
کب تک جنگ کے شعلے ہر سو؟
کب تک امن رہے بس آشا؟

سرحد پار کے پیارے لوگو ۔۔۔۔۔
میرے اپنے سارے لوگو ۔۔۔۔۔۔۔

آئو مل کر جنگ کریں ہم
لیکن اب یہ آخری جنگ ہو

مل کہ لڑیں ان سب سے جوکہ
ہم کو تم سے روز ڈرائیں
باہم جو نفرت پھیلائیں
زہر بھرے جو تیر چلائیں
جنتا کو جنتا سے لڑائیں
ہنسا کے پرچارک ہیں جو
(مجھ میں تم میں شامل ہیں جو)
آئو مل کر دور بھگائیں

خوشحالی کے نغمے گائیں
بم کا بجٹ، کالج پہ لگائیں

آئو مل کر جنگ کریں پھر ۔۔۔۔۔

سید عاطف علی
7 - فروری - 2014

بلاگ فالوورز

آمدورفت