ہفتہ، 26 مئی، 2018

گناہگار


 طوائف اگر سدھرنا بھی چاہے تو تماش بین اسے بھولنے نہیں دیتے۔

اس نے  کہتے ہوئے تاسف سے سر جھٹکا تو میں حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔ اس کی عمر تیس بتیس سال ہی رہی ہوگی مگر وقت
 نے اسے عینِ شباب میں ہی بوڑھا کر دیا تھا۔ اس کے چہرے پر جھریاں تو نہیں تھیں مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تھکن تھی جو اس کا مجموعی تاثر ایک جوان دکھنے والے بوڑھے کا بناتی تھی۔
ہم دونوں سمندر کے دوست تھے۔  یہ میرا روز کا معمول تھا  کہ میں دفتر سے واپسی پر گھر جانے سے پہلے مغرب گئے سمندر پر حاضری دینے آجاتا تھا۔ کسی زمانے میں یہ واقعی سمندر ہوا کرتا تھا مگر شہرمیں آ بسنے کی وجہ سے اب یہ بھی شہر کے باسیوں کی طرح ایک وسیع و عریض جوہڑ میں تبدیل ہو چکا تھا۔  اس کا ساحل اب ایک وسیع کوڑا دان تھا۔ اس کی موجیں جو کبھی شفاف نیلگوں پانی ساتھ لاتی تھیں اب سیاہی مائل ہوچکی تھیں۔  میرا ماننا تھا کہ سمندر کا دامن اتنا وسیع تھا کہ وہ اس شہر کیا، اس پورے ملک کا کچرا بھی اپنے اندر سمو سکتا تھا۔ اور اس کا ظرف اتنا تھا کہ اس تمام کچرے کو بھی وہ اپنے دل سے لگا کر رکھتا  اور کبھی سطحِ آب کو اس طرح آلودہ نہ دکھاتا۔ مجھے یاد ہے ایک دن ایسے ہی ساحل پر بینچ پر بیٹھے میں نے اپنے اس فلسفے کی تکرار کی تھی اور بے دھیانی میں میری آواز تھوڑی بلند ہوگئی تھی تو اس نے مجھے  مخاطب کر کے جواب دیا تھا کہ ، سمندر  فضلے کی آلودگی سے کالا نہیں ہوا۔ ہماری سوچوں کی نجاست نے اس کا رنگ اجاڑ دیا ہے۔ اس دن کے بعد روزانہ ہونے والی ہماری ملاقاتوں کے سلسلے کی وہ پہلی ملاقات تھی۔
ہماری ملاقاتیں عام لوگوں کی ملاقاتوں سے مختلف ہوتی تھیں۔ ہم دونوں اس بات سے واقف تھے کہ ان ملاقاتوں (اور شاید اس تعلق کا بھی )  واحد سبب ایک دوسرے کی ذات میں دلچسپی نہیں بلکہ سمندر تھا۔   شاید اس ہی لئے ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے سے ذاتی معلومات کا تبادلہ نہیں کیا تھا۔  آپ کو پڑھ کر حیرت ہو رہی ہوگی کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ناموں تک سے واقف نہیں تھے۔  ہم دونوں جانتے تھے کہ ناموں کے پیچھے  حوالے چھپے  ہوتے ہیں اور جب ہمیں کسی انسان کا حوالہ مل جائے تو ہم اس کی پہچان اس کے کردار یا گفتار کے بجائے اس حوالے سے جوڑ دینے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں۔ سمندر ایسا نہیں کرتا۔ یہ سید، شیخ، سنگھ، پیٹر، سومرو، بٹ، مینگل ، خان اور  اعوان سب کو ایک جیسا برتتا ہے۔ ایک ہی جیسی موت بخشتا ہے۔  اس لئے ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے سے نام پوچھنے کا تردد نہیں کیا تھا اور  اطمینان کی بات یہ تھی کہ ایک دوسرے کی پہچان جانے بغیر بھی ہم زندہ تھے۔
آج البتہ معاملہ مختلف تھا۔ خلافِ معمول آج وہ مجھ سے پہلے سےساحل پر براجمان تھا۔ خدا  جانے کب سے بیٹھا تھا۔ تھکن تو خیر اس کی شناختی علامت رہی ہی تھی مگر آج وہ کچھ پریشان بھی معلوم ہورہا تھا۔ یا شاید وہ ہمیشہ سے ہی پریشان رہا ہو اور میں نے آج محسوس کیا تھا۔  معاملہ جو بھی تھا، بہرحال وہ میرے معشوق کا عاشق تھا اور یہ تعلق کتنا ہی گھٹیا سہی مگر ہوتا بہرحال نہایت مضبوط ہے۔ سو فطری طور پر میں اس کے لئے فکرمند تھا۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ مجھے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی اور وہ خود ہی بولنا شروع ہوگیا۔ نجانے کیوں ہم انسان دوسرے انسانوں کو زبردستی خود سے برتر بنانے پر تلے رہتے ہیں؟  اگر سب انسان ایک ایسے نیک ہوتے تو جنت میں مدارج کیوں ہوتے؟  پونر جنم پا کر ایک برہمن اور دوسرا کتا کیوں بنتا؟   خدا  کے گھرانے میں صرف تین ہی لوگ کیوں ہوتے؟  جب خدا یا ایشور یا گوڈ کے عقیدے کے حامل تمام انسان یہ بات مانتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی برتر اور باقی اس سے کمتر لوگ ہوتے ہیں تو  پھر ہم انسانوں کو کمتر ہونے کا حق کیوں نہیں دے سکتے؟ کوئی گناہ محض بدلے کے طور پر کیوں قابلِ فہم قرار دیا جاتا ہے؟ اور کوئی برائی محض اس لئے کیوں برائی ہے کیونکہ آپ اسے  نہیں کرتے؟ برائی محض برائی ہے۔ کسی ایک انسان کا اسے کرنا نہ کرنا اسے برا کیسے بنا سکتا ہے؟ ویسے ہی اچھائی محض اچھائی ہے۔ اگر تم کوئی نیک کام کرتے ہو     تو یہ مجھ پر کیسے لازم ہوجاتا ہے کہ میں بھی وہی نیکی دہراؤں؟ مگر میں نیکی کے موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ اس موضوع پر مجھ سے بہتر بولنے والے بہت سے موجود ہیں۔ میں تو  محض یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر میں نے بحیثیت انسان ایک غلطی کر دی تو مجھے  پچھتاوے کا حق کیوں نہیں ہے۔  میں اگر اپنے ماضی سے آگے نکلنا چاہتا ہوں تو کیوں یہ لازم ہے کہ میرے ماضی کے گندے پوتڑے میرے منہ پر مارے جائیں؟ کیوں  میری معافی قبول ہونے پر بھی مجھے پہلے میرے ماضی کی وہ بھیانک فلم دکھائی جاتی ہے جس سے گھن کھا کر ہی میں توبہ کے راستے پر چلنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ ، ان سب کے باوجود میں تمہیں معاف کرتا ہوں؟ ان سب کے باوجود؟  اگر پونر جنم کا قصہ درست مان لیا جائے تو کیا ہم اپنے کتے سے بھی یہی کہیں گے کہ تیرے رذیل ماضی کے باوجودمیں تجھے اپنے گھر میں رکھنے کو تیار ہوں؟ یا اگر مسلم کی بات درست مان لی جائے تو بخشش  کے طلب گار گناہگاروں کو، بغیر حساب کے بخشنے والے خدا کے ماننے والے دنیا میں ہر بخشش سے پہلے حساب کیوں مانگتے ہیں؟
وہ مسلسل بولے چلا جا رہا تھا اور میں حیرت سے اس کی شکل دیکھ رہا تھا۔  جب کلام میں تھوڑا سا وقفہ آیا  اور وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھیں رگڑنے لگا تو میں نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا  ۔ میں نے چاہا کہ اسے تسلی دوں مگر جب تسلی کے لئے مناسب الفاظ نہ ملے تو میں نے بس اتنا پوچھ لیا، کیا ہوا دوست؟ اس نے بھیگی ہوئی سرخ آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور نہایت کرب سے گویا ہوا، طوائف اگر سدھرنا بھی چاہے تو تماش بین اسے بھولنے نہیں دیتے۔ اس لئے طوائف کو چاہئے کہ وہ تاعمر طوائف ہی رہے کیونکہ گناہ کرچکنے کے بعد فرشتوں کی اس دنیا میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ کوٹھے پر اس کی عزت نہیں لٹتی، وہ اس کا پیشہ ہوتا ہے جس کی وہ مناسب قیمت لیتی ہے۔ یہاں فرشتوں کی دنیا میں روز اس کی عزت لٹے گی ۔اس نے یہ کہہ کر تاسف سے سر جھٹکا اور اٹھ کر واپسی کی طرف چل دیا۔ میں خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا۔  اس کی عمر تیس بتیس سال ہی رہی ہوگی مگر وقت نے اسے عینِ شباب میں ہی بوڑھا کر دیا تھا۔ اس کے چہرے پر جھریاں تو نہیں تھیں مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تھکن تھی جو اس کا مجموعی تاثر ایک جوان دکھنے والے بوڑھے کا بنادیتی تھی۔  ضرور اس نے زندگی میں کوئی نیچ کام کیا ہوگا جس کے پچھتاوے نے اسے ایسی باتیں کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ اور شاید یہی نیچ کام اس کے چہرے پر اس پھٹکار کا باعث بنے تھے جسے میں اب تک تھکن سمجھتا آیا تھا۔ خدا ہم سب کو ایسے کاموں سے محفوظ رکھے۔


بدھ، 9 مئی، 2018

قائد

بہت پیارا بچہ ہے صاحب! ڈرائیور کے انٹرویو کے لئے آئے ہوئے اس مفلوک الحال شخص نے میرے بیٹے کی تعریف کی تو خود بخود میری گرفت گود میں موجود اپنے بیٹے   پر مضبوط ہوگئی۔ کیا کریں؟ زمانہ  ہی ایسا ہے کہ اپنے بچوں کی خود حفاظت کرنی پڑتی ہے ورنہ یہ بھوکا معاشرہ انہیں مردوں سے بدتر حال میں پہنچا دے۔ خیر صرف تعریف کرنے پر میں اس کو کچھ نہیں کہہ  سکتا تھا مگردماغ میں آنے والے وسوسوں کی وجہ سے میں نے اس کو  غیرت دلانے کا فیصلہ کر لیا۔ "گھر میں ماں بہن نہیں ہے کیا"  والا روایتی جملہ یہاں کسی طرح منطبق نہیں ہو رہا تھا   مگر میں چاہتا تھا کہ میں اس  سے پوچھوں کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس کی قیمت چکانے کے لئے گھر میں مال موجود ہے  بھی یا نہیں ؟ سو میں نے بیٹے کی مناسبت سے اس سے پوچھ لیا کہ تمہارا کوئی  بچہ نہیں ہے؟    میرے سوال پر اس کی آنکھوں میں ایک چمک آکر گزر گئی۔ جب وہ  بولا تو مجھے احساس ہو اکہ اس ایک جملے کو کہنے میں وہ کس کرب سے گزرا ہوگا۔ اس نے کہا، ہے نہیں صاحب، تھا! آپ کے بیٹے سے تھوڑا ہی بڑا تھا ۔
میرا دل کیا کہ زمین پھٹ جائے اور میں سالم اس میں دفن ہو جاؤں۔ میں نے جو رائے اس شخص کے بارے میں بنالی تھی وہ اس وقت طمانچے کی صورت مجھ پر برس گئی تھی۔ لوگوں کے بارے میں رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ہوتی مگر اس رائے کو  اگلے کے موقف کو سنے بغیر حتی الیقین پر پہنچا دیناحرام    ہونا چاہئے۔ مجھ سے یہ حرام فعل سرزد ہوچکا تھا۔ شرمندگی  کو کم کرنے کے لئے میں نے اسے ہمدردی دینی چاہی اور پوچھ بیٹھاکہ، کیا مطلب تھا؟ کیا ہوا اس کو؟  اس نے میری طرف دیکھا گویا یہ جانچنے کی کوشش کر رہا ہو کہ آیا میں یہ بات برائے بات کر رہا ہوں یا واقعی سنجیدگی سے جاننا چاہتا ہوں۔ میرے چہرے پر شرمندگی نما ہمدردی دیکھ کر وہ بولا، بس صاحب! اللہ کی دی ہوئی چیز تھی۔ اللہ نے لے لی! مالک کے کاموں میں کس کا دخل؟ لوگ جیتے جی دوسرے کے لئے مر جاتے  ہیں اور پہلا ساری عمر اس کا روگ پالتا رہتا ہے ،یہاں اطمینان تو ہے کہ جب وہ مرا تو میری ہی گود میں تھا۔ گفتگو میرے لئے تکلیف دہ ہوتی جارہی تھی مگر میں موضوع یہاں پر پہنچ کر تبدیل نہیں کر سکتا تھا۔  میں نے پوچھا، مگر اسے ہوا کیا تھا؟ اب کی بار جب وہ بولا تو بولتا ہی چلا گیا۔ صاحب! ہونا کیا تھا؟ امیر آدمی تو کینسر سے بھی بچ جاتا ہے جبکہ غریب کے بچے کو بخار ہی بہت ہے۔ میرے بیٹے کو بخار ہوگیا تھا۔ شروع میں تو میں سرکاری ڈسپنسری سے دوائی لا کر دیتا رہا مگر بخار جان چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ پھر محلے کے ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے ملیریا بتایا۔ دوائی مہنگی تھی مگر بیٹے سے بڑھ کر تو نہیں تھی نا صاحب؟ ویسے بھی میرا بیٹا تو قائد تھا۔ قائد اعظم کو گئے ہوئے پینسٹھ سال ہوگئے تھے صاحب جب یہ پیدا ہوا۔ جیسے انہوں نے مسلمانوں کی تقدیر بدلی ویسے مجھے لگتا تھا یہ بڑا ہوکر میری تقدیر بدلے گا۔ اس ملک کی تقدیر بدلے گا۔ یہاں پہنچ کر اس کی آواز بھرا چکی تھی۔ اس نے آنسووں کا گھونٹ بھرا اور بولا، صاحب! برا مت ماننا مگر انسان خالی پیٹ میں فلسفی ہوجاتا ہے۔ تو بس ملیریا کا علاج چل رہا تھا اس کا کہ اچانک ایک دن طبیعت خراب ہوگئی۔ گھر پر بیوی اکیلی تھی۔ میں ڈیوٹی پر تھا۔ ان دنوں راج مستری کا کام کرتا تھا میں صاحب۔ موبائل فون تھا نہیں میرے پاس۔ بیوی میری گاؤں کی ہے ۔ یہاں کی زبان بھی نہیں جانتی تھی کہ کسی سے مدد مانگتی۔ بیچاری گھر پر پٹیاں رکھتی رہی ۔ جب میں گھر پہنچا تو میرے بچے کا حال بخار سے خراب تھا۔ پٹیوں کے باوجود بخار نیچے نہیں آرہا تھا۔ میں نے پڑوسی سے فون لے کر ایمبولینس منگوائی کہ سرکاری ہسپتال لے کر دوڑوں۔ ایمبولینس بھی وقت پر پہنچ گئی۔ میں بچے کو گود میں لے کر اس میں بیٹھ گیا۔ راستے میں بچے کا سانس اکھڑنے لگا۔ وہ پورا زور لگا کر سانس اندر کھینچنے کی کوشش کرتا تھا تو صاحب میں اس کے ننھے سے جسم کو دیکھتا تھا کہ کیسے اس کا سینہ پورا اندر ہوجاتا تھا۔ پھر وہ اس سانس کو باہر نکالنے لگتا تو شاید سانس کی ضرورت پھر پڑ جاتی اور وہ پھر دوبارہ اسے کھینچنے میں لگ جاتا۔ صاحب! دیکھتے ہی دیکھتے وہ بچہ میری گود میں نیلا پڑ چکا تھا۔ مگر کیا کرتے؟ ہمارے شہر میں جو ایمبولینس ہوتی ہے اس میں آکسیجن ماسک نہیں ہوتا صاحب۔ ڈرائیور مجھے تسلی دے رہا تھا کہ ہم جلدی پہنچ جائیں گے مگر صاحب یہ جو معصوم آپ کی گود میں ہے اگر یہ خدانخواستہ  سانس نہ لے پا رہا ہو اور نیلا پڑ چکا ہو تو کیا آپ تسلی رکھ سکتے ہو؟ نہیں نا؟  مگر خدا کا شکر ہے کہ تکلیف کی وہ گھڑی زیادہ دیر نہیں رہی۔ قائد نے میری گود میں پیر پٹخے اور پھر ایک بار اس کا جسم اکڑا اور پھر ڈھیلا پڑ گیا۔ خدا کو اس پر رحم آگیا تھا صاحب!
میں بھول چکا تھا کہ ہماری گفتگو کہاں سے شروع ہوئی تھی۔ میں بھول چکا تھا کہ میں کس سلسلے میں اس سے بات کرنے کھڑا ہوا تھا۔ میری نظر تو بس اپنے اس معصوم پر تھی جو اس وقت میری گود میں موجود تھا۔ کہیں نہ کہیں میں یہ بات جانتا تھا کہ امیری غریبی سے ماورا اگر کبھی خدانخواستہ مجھے ایمبولینس کی ضرورت پڑی تو میرے ساتھ بھی یہی ہوسکتا تھا۔ ڈھائی کروڑ کی آبادی والے شہر میں جان بچانے کی صلاحیت سے لیس اگر محض ساٹھ ایمبولینسز ہوں تو ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ محض ساٹھ لوگ خوش قسمت ہوسکتے ہیں۔ اگر اس وقت قسمت میرے ساتھ نہ ہوئی تو؟ میری سوچ کا سلسلہ شاید یونہی جاری رہتا مگر اس کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ اپنے آنسو پونچھ کر وہ ایک بار پھر  بول رہا تھا۔ صاحب! اس دن میں نے معلوم کیا تھوڑی ہی سہی مگر اس شہر میں جان بچانے والی ایمبولینسز موجود ہیں۔ میں نے اس دن طے کر لیا کہ کوئی اور قائد اب ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے نہیں مرے گا۔ میں نے ایمبولینس چلانے کے لئے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کرلیا اور ڈرائیونگ   سیکھ کر امن فاؤنڈیشن کےدفتر پہنچ گیا جو یہ جان بچانے والی ایمبولینسز چلاتے ہیں۔ مجھے لگا تھا کہ میرا جذبہ دیکھتے ہوئے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا مگر انہوں نے صاف کہہ دیا کہ پہلے ہی ڈرائیور زیادہ ہیں اور ایمبولینسز کم۔ اگر ایمبولینسز کی تعداد میں اضافہ ہوا تو ہم آپ کو بلا لیں گے۔ تب تک کے لئے صاحب کام مل جائے گا؟

بلاگ فالوورز

آمدورفت