پیر، 26 ستمبر، 2022

عفریت

ہم انسان ایک روح ہیں کہ جسے ایک جسم دیا گیا ہے یا پھر ہم ایک جسم ہیں کہ جسے ایک روح ودیعت کی گئی ہے؟  اس کہانی کے برے یا بھلے اور جھوٹے یا سچے  ہونے کا کل  دارو مدار آپ کے نقطہ نظر پر  ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ ایک جسم ہیں جسے ایک روح عطا کی گئی ہے تو عیش کیجئے ۔ کہانیاں روح کی تالیف اور تربیت کے لئے ہوتی ہیں  اور جب آپ نے روح کو ثانوی تسلیم کر ہی لیا ہے تو اس کی ضروریات بھی آپ کے لئے ثانوی ٹھہریں گی اور ایک ثانوی چیز کی تسکین کے لئے کہانی سننے اور پڑھنے ایسا وقت کا زیاں   چہ معنی ؟ البتہ اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ انسان ایک روح ہے اور اسے ایک عارضی جسم عطا کیا گیا  ہے تو پھر آپ کو یہ بھی ماننا  ہو گا  کہ روح  کے بنیادی اور جسم کے ثانوی ہونے کے ناتے ، روح کی ضروریات ہی آپ کی بنیادی ضروریات ہیں اور اس کہانی کا سننا آپ کے لئے لازم ہے کہ یہ کہانی میرے اور آپ جیسے ہی ایک انسان  کی ہے جو اپنی روح کی بقا کی خواہش میں وقت نامی سمندر میں بہتا ہوا ایک  نامعلوم جزیرے پر آ رکا تھا۔

خواہشات کے تعاقب میں چلنے کی سب سے بڑی قباحت راستے میں آنے والا وہ دوراہا ہے کہ جہاں انسان کو خواہشات یا اخلاقیات میں سے کسی ایک کی بقا کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ جزیرے پر پہنچتے ہی اس کی نظر ایک عفریت پر پڑی تھی جو اس کو دیکھتے ہی اپنے وجود کو گھسیٹتے ہوئے اس تک لے آئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ عفریت اپنے ہاتھ میں تھامے نوکیلے پتھر سے کام لیتی ہوئی اس پر حملہ آور ہوتی، اس نے لپک کر اس کے ہاتھ سے پتھر چھین کر اس ہی پتھر کو اس پر برسانا شروع کردیا  یہاں تک کہ وہ عفریت ریزہ ریزہ ہوکر بکھر نہ گئی۔ اس ناخوشگوار مگر ناگزیر عمل سے فراغت کے بعد اس نے سمندر سے ہاتھ دھوئے اور جزیرے کو ہمیشگی کے لئے اپنا مسکن بنا لیا۔  

تبدیلی  اپنے ادراک کے مکمل ہونے سے پہلے تک ہمیشہ خوبصورت ہوا کرتی ہے۔  گو کہ  عفریت کے جانے کے بعد اس جزیرہ پر کسی بھی قسم کی حیوانی و نباتاتی حیات کا گزر نہیں تھا مگر پھر بھی وہ اس کے لئے زمین پر جنت کا ایک ٹکڑا تھا۔ خود اس کا دریافت شدہ۔ زندگی کے ہر احساس سے عاری، مگر مکمل اس کا۔  وہ دن بھر  اس جنت کے مختلف گوشوں کی سیر کرتا اور شام ڈھلتے ہی اس امید پر ساحل پر آ بیٹھتا کہ مبادا    کوئی بھولا بسرا مسافر کبھی اس جزیرہ پر آ نکلے   تو جزیرہ کو غیر آباد جان کر واپس نہ پلٹ جائے ۔  انجان چیزوں کو لے کر انسانی فطرت کا تجسس اپنی جگہ مگر وہ یہ جانتا تھا کہ  ویران جگہوں کا خوف انسان ایسے معاشرتی حیوانوں کی سرشت میں ازل سے موجود ہے۔

وقت کا احساس فکر کے ساتھ منسلک ہے اور جنت میں چونکہ تفکرات نہیں ہوتے لہذا وہ بھی اب سمے کی قید سے آزاد ہو چکا تھا۔ سورج کے ڈھلنے اور اگنے سے دن کی تبدیلی کا احساس اپنی جگہ موجود تھا مگر جسے آپ وقت کہتے  اور سمجھتے ہیں، وہ اس کے حساب اور فکر سے مکمل آزاد تھا۔ خدا جانے اس جنت میں اس پر کتنے زمانے بیت چکے تھے جب پہلی مرتبہ اسے اپنی زندگی سے محروم جنت کا مکمل ادراک اور پہلی مرتبہ بھوک کا احساس ہوا تھا۔  جنت میں غذا کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ اس دن پورا وقت ساحل پر شکار کی تلاش میں گھومتا  اور کسی نہ آنے والے مسیحا کوچیخ چیخ کر پکارتا رہا  مگر وہ ساحل بھی اس  جزیرے سے اپنے تعلق کے طفیل زندگی کے لئے مکمل بانجھ ہو چکا  تھا۔ اور پھر اس جیسے کتنے ہی دن رات وہ  اس ساحل اور جزیرے پر ایک غیر حاضر غذا کی تلاش میں دیوانہ وار گھومتا رہا  اور مدد کے لئے پکارتا رہا ، یہاں تک کہ نڈھال ہو کر  گر نہ پڑا۔

انسانی خواہشات میں سب سے گراں  اور عظیم تر خواہش بقا کی ہوتی ہے۔ جب وہ جزیرے پر غذا کی موجودگی اور باہر سے آنے والی کسی بھی امداد  سے مکمل مایوس ہوگیا تو اس نے زمین پر پڑے پڑے ہی اپنے قریب سے ایک نوکیلا پتھر اٹھایا اور اپنے وجود کی تمام تر توانائی بروئے کار لاتے ہوئے اپنی پنڈلی میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹا اور اٹھنے والی ٹیسوں اور بہنے والے خون سے بے نیاز ہوکر اپنی ہی بوٹی کو چبانے میں مصروف ہوگیا۔ گوشت پیٹ میں اترنے سے کچھ حواس بحال ہوئے تو اس  نے گیلی مٹی کا لیپ لگا کر زخم کو مندمل کیا اور بہت مدت کے بعد سکون کی نیند سوگیا۔

خدا جانے وہ کتنا عرصہ سوتا رہا اور نجانے کتنی ہی مدت مزید سوتا رہتا مگر واپس آجانے والی بھوک  نے اسے گڑبڑا کر اٹھنے پر مجبور کر دیا ۔  زخمی ٹانگ کے ساتھ وہ دوبارہ (انسانوں سے چوٹ کھا کر بھی ایک مختلف نتیجے کی امید لے دوبارہ  ان ہی انسانوں کے پاس واپس جانے والے  کسی انسان کی طرح )کسی معجزے کی امید کے ساتھ دوبارہ   جزیرے کے سفر پر روانہ ہو گیا کہ شاید  اس کے آنکھیں بند کر لینے سے دنیا میں کوئی تبدیلی آ چکی ہو مگر انسانوں کے دلوں ہی کی طرح بنجر پتھروں کے اس جزیرے میں بھی اس کے لئے  ماسوائے  تھکن کچھ بھی نہ تھا۔

دوسری مرتبہ جب وہ گرا تو وہ ساحل پر موجود تھا۔  اس بار اس نے  کیفیت نیم مرگ کا انتظار نہ کیا اور کمزوری کے عالم میں ہی لیپ کے لئے گیلی مٹی کی  ڈھیری جمع کر کے دوسری پنڈلی کے لئے جیب میں موجود اس قیمتی نوکیلے پتھر کو نکال لیا۔

پنڈلی کے بعد ران اور ران کے بعد ایک ہاتھ کا بازو اور بازو کے بعد کان (کہ  اسے لگتا تھا کہ اتنے برسوں کے خاموش اور تھکا دینے والے تجربات  کے بعد اسے کان نہیں محض زبان کی ضرورت تھی) اور کان کے بعد اس  کا زندگی کی حسرتوں سے بھرا  دل! جی ہاں۔ اس کا دل!  وہ ایک ایک کر کے سب کاٹ کر کھا گیا۔ اور اس سے پہلے کہ آپ میری کہانی منقطع کر کے اپنا سوال داغیں، لطف کی بات یہ کہ وہ نا صرف اس دل کو  کھا چکنے کے بعد بھی زندہ رہا  بلکہ محاورے کی زبان میں کہا جائے تو سراپا دل بن گیا۔

جانتا ہوں کہ اب تک آپ اس کہانی کو ہذیان سمجھ کر آگے بڑھ جانا چاہتے  ہوں گے مگر یہاں تک پہنچ  ہی گئے ہیں تو یہ بھی سنیں کہ جب وہ یہ تمام اعضا کاٹ پیٹ کر کھا چکا اور ایک ادھڑی ہوئی زندہ لاش بن چکا ،تو ایک دن ساحل پر ایک اور انسان نمودار ہو گیا۔ آنے والے کے رنگ، نسل، عمر اور جنس سے قطع نظر، ایک انسان!

 اس انسان نے  سفر مکمل کر کے اپنے حواس جب بحال کئے اور اپنے پیروں میں لوٹتی اس کٹی پھٹی زندہ لاش کو دیکھا تو گھن اور خوف کی آمیزش بھری ایک چیخ ماری اور اس زندہ لاش کے ہاتھ  سے وہ نوکیلا پتھر چھین کر اس وقت تک برساتا رہا/رہی  جب تک اس کے جسم کی باقیات بھی ریزہ ریزہ نہ ہوگئیں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ ریزوں میں بٹنے کے باوجود بھی  موت اس پر مہربان نہ ہوئی اور اس انسان  کو ان ہی ریزوں میں اپنی رہی سہی عمر مکمل  کرنی پڑی۔ مگر کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ پوری کہانی استعاروں کی ہے اور وہ جنت  دراصل انسانی جسم تھا اور  یہ کہانی اس میں مقید روح کی ہے کہ جو اپنی بھوک میں خود اپنے دل ، اپنے  آپ تک  کو چبا گئی۔  سنی سنائی باتوں کا کیا بھروسا؟

دیو

 کسی بھی چیز کو اس کے مقام سے ہٹا دینا ظلم ہے۔ پھر وہ مقام سے بڑھانا ہو یا اس کی اصل جگہ سے گھٹا دینا ،دونوں صورتوں میں   ظلم کی اصل تعریف میرے نزدیک یہی ہے۔ مظلوم کی تعریف البتہ  ہنوز بحث طلب  ہے کہ ایک کا ظالم ہی اکثر دوسرے کا مظلوم نکلتا ہے اور یہاں بحث چھ اور نو والی مثال سے آگے بڑھ جاتی ہے کہ لازمی نہیں ہر بار فرق محض نقطہ نظر کا ہو اور ایک کا چھ ہی دراصل دوسرے کا نو ہو۔ کبھی  کبھار وہ واقعی چھ یا نو میں سے کوئی ایک ہی ہوتا ہے اور دو میں سے ایک فریق  غلط نکتہ نگاہ سے دیکھ کر زبردستی اسے الٹ ثابت کرنے کی کوشش میں جٹا رہتا ہے۔ اس کہانی میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون؟ یہ فیصلہ ہم اپنے پڑھنے والوں کے ذہن رسا پر چھوڑ رکھتے ہیں۔

 بے حس انسانوں کے معاشرے میں احساس نامی بیماری کا پیدائشی روگ پال رکھنے کے علاوہ وہ ایک معمولی بچہ تھا۔ مگر احساس نامی اس بیماری کی وجہ سے معاشرے نے اسے اس کے بچپن  سے ہی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔  اپنے ہم عمر بچوں کے بیچ  اس کا گزارہ یوں ناممکن تھا کہ ان کی بچکانہ حرکات سے اسے وحشت ہوتی تھی  اور اپنے  سے بڑی عمر کے لوگ یہ کہہ کر اسے پاس بٹھانے  سے انکار کر دیتے کہ ابھی اس کی عمر  ان کے درمیان بیٹھنے  کی نہیں تھی۔ داڑھی مونچھ ابھی اگی نہیں تھی کہ اسے رنگ کر بزرگی کا چولا پہنا جا سکتا سو مجبوری میں  بچوں کے بیچ میں بچہ بن کر رہنے کی کوشش  کرنے کے علاوہ غریب کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ لیجئے صاحب! ابھی ہم آپ کو نصیحت کرتے تھے کہ مظلوم ہونا  بالعموم نقطہ نگاہ کا کھیل ہے  اور ابھی ہم نے اس کے کردار کے ساتھ غریب کا لفظ جوڑ کر آپ کے تحت الشعور میں اس کی مظلومیت کا بیج بو بیٹھے ہیں۔ خیر! چونکہ ہم اس کردار کے خالق ہیں لہٰذا ہر خالق کی طرح ہمیں بھی یہ حق حاصل ہونا چاہئے  اپنے  کرداروں کے بارے میں جیسے چاہے لوگوں کی رائے قائم کرائیں اور بحیثیت مخلوق ہر تخلیق پر یہ لازم ہے کہ وہ راضی خوشی یا رو پیت کر مگر بہر حال اس کردار کو نبھاتی چلی جائے۔ اور اگر آپ اس بات پر غصہ ہیں کہ محض ایک کردار کی تخلیق کے لئے اتنے لمبے فلسفے کیوں بگھارے جا رہے ہیں تو یہ بھی ہم نے ایک خالق سے ہی سیکھا ہے کہ جس نے ایک کردار کو ناٹک میں دیکھنے کے لئے ارب ہا دیگر مخلوقات تراش دیں اور آج تک کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ اختیارات کے اس بے جا استعمال پر انگلی اٹھا سکے۔ ہم ایک تیسرے درجے کے معمولی تخلیق کار ہیں تو ہمارا گلا پکڑا جاتا ہے؟حد ہے مظلومیت کی! مگر مظلومیت تو پھر نکتہ نگاہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

تو اپنے ہم سن بچوں کے بیچ جب یہ کمسن بوڑھا پہنچا تو ایک عجیب ماجرہ ہوا۔ اپنے حالات سے مطابقت  اختیار کرنے میں انسان سے بہتر آج تک کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں اتری ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جہاں سینکڑوں فٹ کے ڈائناسورز نہ بچے وہاں یہ پانچ سے چھ فٹ کی عمومی جسامت والا جانور آج بھی دھرتی کو روندتا پھرتا ہے۔ تو  اس کے ہم عمر بچوں نے اس کے ساتھ مطابقت یہ اختیار کی کہ جیسے ہی یہ ان کے درمیان پہنچتا، وہ سارے اپنے وجود کا پورا زور لگا کر اپنی قامت کو چھوٹا کرلیتے اور یہ ان کے بیچ، ان ہی کی قامت کا ہوتے ہوئے  بھی دیو جیسا معلوم ہونے لگتا۔   اور منفرد چیزوں کا اشتیاق عین انسانی فطرت ہونے کے ناطے، کمرے میں موجود اختیاری بونوں کا موضوع سخن وہ خود ساختہ دیو بن جاتا جو اس سب معمول سے خائف تو بہت تھا مگر اوپر بیان کردہ مجبوری کے تحت ان ہی کے درمیان رہنے پر مجبور بھی تھا۔  اپنی جبلت سے مجبور ہوکر وہ رفیقوں کی تلاش میں ان بچوں کے بیچ آ بھی نکلتا تو بھی  اس کی کوشش ہوتی کہ کسی طرح کوئی کونا ڈھونڈ کر وہاں چھپ رہے کہ اس کی دیگر مخلوقات سے تعلق کی ہوس بھی پوری ہوسکے اور اس کی قامت میں ہونے والے پریشان کن اضافے کے اسباب بھی نہ بہم ہوں۔ مگر انسانوں اور بالخصوص اختیاری بونوں کے بیچ میں ایک دیو کیونکر چھپ سکتا ہے؟  اس کے آنے کے تھوڑی ہی دیر میں ایک نعرہ بلند ہوتا اور سب  بونے مل کر اس کے گرد جمع ہوجاتے اور معمول کی کاروائی کا آغاز ہوجاتا کہ جس کے اختتام پر ہر بار کی طرح اس کی انا کے غبارے میں بے فیض ہوا بھر کر اس کا قد دو ہاتھ مزید اونچا کر دیا جاتا۔

دیو اب اس روزانہ کی مشقت سے تنگ آچکا تھا مگر تعلق کی ہوس اس قدر شدید تھی کہ وہ چاہ کر بھی اس اذیت سے دستبردار نہیں ہوسکتا تھا۔  کافی غور و خوض کے بعد اس دیو نے اپنے تئیں ایک عقلمندانہ فیصلہ کیا اور ان بونوں میں سے چند قابل برداشت بونوں کا انتخاب کیا اور انہیں اپنی مٹھی میں بھر کر وہاں سے اٹھا لایا کہ اب وہ کسی پرسکون جگہ پر ان کے ساتھ رہ  کر اپنے قد کو واپس انسانی سطح پر لانا اور  ساتھ ان بونوں کی دوبارہ نمود کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ ایک ایسا دن بھی دیکھ سکے کہ جب وہ گھٹ کر اور یہ بونے نمو پاکر ایک دوسرے کے برابر ہوسکیں اوروہ زندگی میں پہلی مرتبہ برابری کی بنیاد پر تعلق قائم کر سکے۔ تو جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اس دیو نے ان بونوں کو اپنی مٹھی میں بند کیا اور لے کر نئے ٹھکانے کی تلاش میں  چل پڑا۔ احساس نامی بیماری کے تحت (کہ جس کا ذکر آپ داستان کے آغاز میں سن چکے ہیں)، اس  دیو نے  اس بات کا خاص خیال رکھا  کہ  وہ بونے اس انتقال کے دوران زمانے کے سرد و گرم سے  سے محفوظ رہیں۔ زمانے کی ہوا نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ اس کی مضبوط مٹھی میں نقب لگا سکے مگر اس دیو نے زمانے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا اور کامل جذبے، خلوص اور عزم مصمم کے ساتھ نئی منزل کی کھوج میں لگا رہا۔ 

سوکھی زمین کو بھی اگر خلوص کا پانی مل جائے تو اس پر موجود پودے اپنی بساط کے حساب سے پھول، پھل یا کانٹے، غرض جو بھی کچھ انہیں میسر  ہو ، اپنے ساقی کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔  زمانے  نے بھی اس کے خلوص کے آگے ہار مان لی اور اپنے دامن میں موجود سب سے پرسکون جگہ کا  رمز  اس پر وا کر دیا۔ منزل پر پہنچ کر اس دیو نے اطمینان کی سانس لی اور بصد احتیاط مٹھی کھول کر ان بونوں کو اپنی بنائی ہوئی اس جنت میں اتار دیا۔ اس کے سامنے اس وقت ایک حسین وادی، ایک پہاڑ، اس پہاڑ سے بہتا ایک آبشار،  اس آبشار کے دامن  میں موجود ایک جھیل، اور اس جھیل کے کنارے چند بونوں کی لاشیں پڑی تھیں کہ جو خدا جانے کب اس کی مٹھی میں سانس نہ پانے کی وجہ سے دم توڑ گئے تھے۔

آسیب

 انسان کی زندگی اس کے رزق سے متصل ہے۔ آپ زمین کے اوپر تب ہی تک ہیں کہ جب تک آپ کا رزق لکھا ہوا ہے۔ اور رزق کا تصور محض خوراک تک محدود کردینا   بھی ناشکری ہی کی ایک قسم ہے کہ جس میں انسان دیگر عطاکردہ چیزوں کی شکرگزاری سے بچنے کے لئے رزق کے شکر کو محض معدے کی سہولت تک محدود کر لیتا ہے۔ اور جب نعمت کا شکر ختم ہوجائے تو  منعم کی مرضی ہے کہ وہ جب چاہے ہاتھ کھینچ لے۔  وہ ان سب باتوں کا ادراک رکھتا تھا مگر نجانے کب شکر کی عادت شکوے میں تبدیل ہوگئی تھی اور نتیجتا آج بھی وہ لکھنے کی میز پر بیٹھا سامنے پڑے کورے کاغذ کو گھور رہا تھا جسے  وہ گزشتہ تین ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر یونہی کورا دیکھتا آرہا تھا۔ لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ لکھنے سے قاصر تھا۔ الفاظ کا سمندر تو اب بھی اس کے اندر موجزن تھا مگر کہانیاں اب اس سے روٹھ سی گئی تھیں۔  وہ خیال جو ایک کہانی کو تحریک  دیتے ہیں، اس سے منہ موڑ چکے تھے۔ ابکائی کی ایک مسلسل کیفیت تھی کہ جو  ختم ہونے کا نام نہ لیتی تھی  کہ کہانی کی قے باہر نکل کر اسے آرام دینے سے مسلسل انکاری تھی۔ 

اسے یہ بھی لگتا  تھا کہ اس کو کسی کی نظر لگ چکی تھی۔ پچھلی کہانیوں کی مقبولیت کے بعد یوں اچانک کہانیوں کا اس سے روٹھ جانا اس کے اس شک کو تقویت پہنچاتا تھا۔ یوں بھی اپنی ناکامیوں کے لئے انسان ہمیشہ سے ہی کسی دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کا عادی رہا ہے کہ اس سے ذات کی اصلاح جیسے مشقت طلب کام  سے فرار حاصل کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ سو وقت کے ساتھ ساتھ اسے  یقین سا ہوچلا تھا کہ اس ناکامی کے پیچھے دنیا والوں کی بری نظر کا ہاتھ تھا کہ جو اس کی کامیابیوں سے خائف تھے۔

تقدیر   بھی انسانوں کے ساتھ عجیب کھیل کھیلتی ہے کہ جب کبھی شک نامی جرثومہ ہمارے دماغوں  میں جگہ بناتا ہے تو یہ اسے راسخ  کرنے کے لئے  ہمارے اردگرد ایسے واقعات کا جال بننا شروع کردیتی ہے کہ پھر اس شک کو یقین میں بدلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ غور کرنے پر اس ادیب کو محسوس ہونے لگا کہ  آخری کہانی کے بعد سے اس کی طبیعت بھی مضمحل رہنا شروع ہوگئی تھی۔ روزمرہ کے معمولات تو برطرف، محض بستر پر لیٹے ہوئے بھی وہ تھکاوٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ گاڑی جو بغیر آواز کے چلا کرتی تھی، اب ہر دوسرے دن مکینک کے پاس کھڑی ہونے لگی۔ اور معاملہ اس وقت سنگین تر ہوگیا جب اسے لگا کہ جو بلغم وہ تھوک رہا ہے اس میں خون کے ذرات بھی آنے لگے ہیں۔

کہتے ہیں کہ موت کو بالکل سامنے پاکر ایک لحظے کے لئے ہی سہی مگر خودکشی کرنے والے انسان کو بھی زندگی پیاری لگنے لگتی ہے اور وہ  تو  جینے کی خواہش سے لبریز ادیب تھا۔ جسے ابھی پوری دنیا کی کہانیاں لکھنی تھیں۔ مشہور ہونا تھا۔ اپنی کتب کی کمائی سے امیر آدمی بننا تھا۔ اور ویسے بھی ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی؟ لوگ تو اس کی عمر میں آکر زندگی جینا شروع کرتے ہیں۔ وہ اتنی جلدی مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اور کسی کی نظر کی زد میں آکر تو بالکل بھی نہیں۔اس نے اٹھتے بیٹھتے وظیفوں کا ودر کرنا شروع کردیا۔ کلائی میں ایک سرخ رنگ کا منتی دھاگہ بھی بندھ گیا ۔ گلے میں بیک وقت دو تعویز ڈال دئے گئے ۔ اور گھر سے باہر نکلتے وقت الٹا پیر پہلے باہر رکھتے ہوئے معوذتین کا ورد شروع ہوگیا۔ مگر اس سب اہتمام کے باوجود مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق صورتحال بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس کے سنکی پن سے تنگ آ کر گھر والی نے بھی بچوں سمیت اپنے میکے کی راہ لے لی  اور اب بڑے سارے گھر میں محض وہ اور اس کی وحشت بسا کرتے تھے۔

اسے لگتا تھا کہ اگر وہ کسی طرح اس جمود کو توڑ کر ایک مرتبہ پھر کوئی کہانی لکھ سکے تو شاید اس نظر کا اثر ختم ہوجائے گا اور اس ہی سوچ کے زیراثر وہ روزانہ لکھنے کی میز پر قلم سنبھالے گھنٹوں بیٹھا کورے کاغذ کو گھورتا  رہتا اور  بالآخر کاغذ کو کورا ہی چھوڑ کر اٹھ جاتا۔ کئی بار اسے شدید ابکائی کی سی کیفیت  ہوتی اور وہ اس امید پر دوبارہ کاغذ اٹھاتا کہ شاید اب کی بار کہانی باہر آجائے گی مگر کہانی تھی کہ ہر بار وہی ڈھاک کے تین پات ، باہر نکلنے سے انکاری تھی۔

آج بھی وہ تنہائی اور وحشت سے بیزار ہوکر اور شدید ابکائی کے زیر اثر ،خود کو گھسیٹ کر لکھنے کی میز پر لے آیا تھااور اب بیٹھا ہوا اس کاغذ کو یوں گھور رہا تھا کہ جیسے کہانی کے باہر نہ آنے کی اصل وجہ وہ کاغذ ہی رہا ہو۔ اس ہی جھلاہٹ میں اس نے چاہا کہ قلم ہاتھ سے پھینک کر اٹھ کھڑا ہو مگر ہاتھوں نے اس کا حکم ماننے سے انکار کردیا۔ وہ بھول بیٹھا تھا کہ انسان کی زندگی اس کے رزق سے متصل ہے۔ آپ زمین کے اوپر تب ہی تک ہیں کہ جب تک آپ کا رزق لکھا ہوا ہے۔ اور رزق کا تصور محض خوراک تک محدود کردینا   بھی ناشکری ہی کی ایک قسم ہے کہ جس میں انسان دیگر عطاکردہ چیزوں کی شکرگزاری سے بچنے کے لئے رزق کے شکر کو محض معدے کی سہولت تک محدود کر لیتا ہے۔ اور جب نعمت کا شکر ختم ہوجائے تو  منعم کی مرضی ہے کہ وہ جب چاہے ہاتھ کھینچ لے۔ اس نے چاہا کہ وہ چیخ کر کسی کو مدد کے لئے آواز دے مگر گھر میں تھا ہی کون  کہ جو مدد کو آتا؟ اور زبان بھی کب اس کا ساتھ دے رہی تھی کہ وہ چیخ ہی پاتا۔ اس نے ایک حسرت سے کورے کاغذ کی سمت آخری بار دیکھا اور  پھر اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔

اس کی گردن ایک طرف ڈھلکتے ہوئے دیکھ کر میں مسکرایا اور آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے قلم لے کر میز پر رکھا کاغذ اٹھا لیا۔ کہانی مکمل ہوچکی تھی! 

بھوکا

 خدا جانے علی ابن ابی طالب نے کس نقطہ نظر سے کہا تھا کہ "جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو" مگر وقت نے بارہا یہ منظر دیکھا ہے کہ احسان کرنے والے اکثر خلوص میں کئے گئے اپنے ہی وعدوں کے بوجھ تلے دب کر ہلاک ہوجاتے ہیں اور ان کے مرنے کے بعد دنیا  احسان کے بوجھ تلے دبے بیچاروں پر محسن کشی کا تمغہ مزید سجا دیتی ہے۔

اس نے جب آنکھیں کھولیں تو اپنے چار طرف صرف ملگجا اندھیرا ہی پایا تھا۔  اس تاریکی کا تعلق  کسی سورج گرہن یا اس کی بصارت کے کسی خلل سے نہیں تھا بلکہ یہ بات تو تب کی ہے کہ جب وہ رحمِ مادر میں ہی موجود تھا ۔ اور ویسے بھی یہاں جس اندھیرے کا بیان ہے اسے دور کرنے کے لئے سورج کی روشنی نہیں بلکہ من کی سچائی کا نور درکار ہوتا ہے جس سے وہ پیدائش سے قبل ہی محروم ہوچکا تھا۔ 

انسان نامی مخلوق جسمانی سختیوں کی تاعمر عادی نہیں ہوپاتی مگر روح کے لئے تکلیف دہ چیزوں سے تاعمر لذت کشید کرتی ہے۔  وہ بھی اپنے اطراف پھیلے ہوئے اس ملگجے اندھیرے سے حظ اٹھایا کرتا تھا۔ ویسے بھی زندگی میں تکلیف نام کی کون سی شے تھی؟ وقت پر خوراک مل جاتی تھی۔ نہ دفتر کی فکر تھی نہ سکول یا مدرسے کی پڑھائی کی۔ ایک محبت کرنے والی ماں تھی جو گاہے بگاہے اسے پیغام بھیج کر یقین دلاتی رہتی تھی کہ اس کے دنیا میں ظہور سے پہلے ہی کم از کم ایک انسان اس سے  اس حد تک محبت کرتا ہے کہ اس کی نشو نما کے لئے اس کے وجود کو اپنے لہو تک سے سینچ سکتا ہے۔ سو اس تمام اندھیرے کے باوجود وہ  اپنی اس زندگی سے بے حد خورسند ہے۔

مرنے کے بعد کی تو خیر مارنے والا ہی جانتا  ہے مگر پیدائش سے پہلے اور زندگی کے اختتام تک کوئی بھی خوشی مستقل نہیں رہتی۔  موٹیویشنل سپیکرز کو سننے اور ماننے والے  شاید اعتراض کریں کہ مستقل تو غم بھی نہیں رہتا مگر فلسفے کے بنیادی طالب علم بھی جانتے ہیں کہ غم کا مستقل  نہ ہوپانا اپنی ذات میں ایک نہایت شدید اور مسلسل غم ہے۔ مگر اس بنیادی نکتے کو سمجھنے کے لئے درکار دماغ  کی موجودگی میں کون ناہنجار موٹیویشنل سپیکرز کی افیم چاٹے؟  خیر! چونکہ کوئی خوشی مستقل نہیں رہتی لہٰذا س کی خوشیاں بھی دیر پا ثابت نہ ہو پائیں اور اس کی تنہائی کی مونس نے بھی دیگر خالقین  کی طرح اس کو جواب دینا اور اس سے بات کرنا پہلے کم اور پھر بالکل ہی چھوڑ دیا۔

 توجہ کی بھوک نہ مٹنے کا شاید اس کو اتنا غم نہ ہوتا جتنا  احساس اسے اس بات کا تھا کہ وقت کے ساتھ اس کو ملنے والی غذا کی مقدار اور معیار بھی کمتر ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اس نے کئی مرتبہ اس معاملے  پر آواز اٹھائی، اپنے تئیں جس طرح ممکن تھا احتجاج کیا ، مگر مخلوق  کی خالق سے شکایات کا انجام جاننے کے لئے اس کہانی میں سطور ضائع کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ ہم میں سے ہر ایک اس انجام سے بخوبی واقف ہے۔ سو جب حسب معمول شکایات ،احتجاج ، اور مناجات میں سے کچھ بھی کام نہ آیا تو  کسی بھی دیگر مخلوق کی طرح اس نے بھی میسر پر گزارہ کرنا سیکھ ہی لیا۔

اس تمام عرصے میں کہ جب توجہ اور غذا کی قلت اور پھر قحط پیدا ہو رہا تھا، عجیب بات یہ تھی کہ اس کی نشو نما میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ ٹھیک ہے کہ بہتر غذا کے ساتھ وہ اس سے زیادہ نمو پاسکتا تھا  مگر ایسا بہرحال نہیں تھا کہ اس کا جسمانی ارتقا رک گیا ہو۔  ہاتھ پاؤں سمیت دیگر جسمانی اعضا ناصرف وجود میں آچکے تھے بلکہ وقت  کے ساتھ اپنی ناتواں ہی سہی مگر مکمل شکل بھی اختیار کر چکے تھے۔  وہ اب دنیا میں اپنی آمد کے لئے مکمل تیار تھا۔

خواہشات کے ہمیشہ مکمل ہوجانے والی جگہ کا نام اگر جنت رکھا گیا ہے تو خواہشات کے  کبھی نہ پورا ہونے والی جگہ کا نام جہنم ہی ہوگا؟ اور ان دونوں کے مابین دنیا نام کی ایک برزخ حائل ہے کہ جہاں خواہشات یا تو کبھی  مکمل نہیں ہوتیں اور اگر ہو بھی جائیں تو ان کے مکمل ہونے سے عین پہلے اس خواہش کی خواہش ہی مٹ چکی ہوتی ہے۔  مگر تکنیکی اعتبار سے وہ ابھی دنیا میں نہیں آیا تھا  اور جنت، جہنم یا دنیا میں سے کسی بھی جہان سے متعلق نہیں تھا ، لہٰذا اس کی خواہشات کو دنیا وی اعتبار سے اس کے خالق کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا۔  اپنے پورے وجود اور اس کی بود کے ساتھ وہ اپنے خالق، اپنی ماں کے لئے بھی ایک بوجھ تھا  جسے اصولی طور پر اب اس سے چھٹکارا حاصل کرلینا چاہئے تھا  مگر خدا جانے کیوں وہ اس بوجھ کو میعاد پوری ہونے کے بعد بھی پیٹ میں اٹھائے  گھوم رہی تھی اور جنم یا توجہ دونوں ہی  دینے سے انکاری تھی۔

اس  ہی یاس و بیم کی حالت میں آخر کار ایک دن اس بچے نے اپنی مدد آپ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اپنے ننھے ننھے ناخنوں سے اپنے قید خانے کی دیواروں کو کھرچنا شروع کردیا۔ ماں تلملائی تو بہت مگر خاموشی سے برداشت کرتی رہی۔ اس نے جب یہ بے اعتنائی دیکھی تو غصے میں کھرچنے کی رفتار اور تیز کر دی۔ رحم مادر کی دیواروں سے خون رسنا شروع ہوگیا۔ بھوکا تو یہ نجانے کب سے تھا ہی، اس نے  رستے ہوئے لہو کو چاٹتے ہوئے ناخنوں کی رفتار کو اپنی بساط بھر تیز کردیا۔ رحم کی دیوار میں شگاف پید ا ہوگیا تھا  اور رستا ہوا خون اب بہنا شروع ہوگیا تھا ۔ادھر  ماں تکلیف سے بلبلا رہی تھی۔ اس نے بہتے ہوئے خون پر منہ رکھ دیا اور پیٹ بھر پی چکنے کے بعد اپنی تمام تر طاقت  بروئے کار لاتے ہوئے  خود کو نیچے کی طرف دھکیل دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ محسن کش آزاد فضا میں سانس لے رہا تھا جبکہ اس کے سر کے اوپر ایک عورت کی لاش پڑی ہوئی تھی جو  کسی کو اس کی نشو نما کے لئے اپنے لہو تک سے سینچنے کے وعدے تلے دب کر ہلاک ہوچکی تھی۔

خدا جانے علی ابن ابی طالب نے کس نقطہ نظر سے کہا تھا کہ "جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو" مگر وقت نے بارہا یہ منظر دیکھا ہے کہ احسان کرنے والے اکثر خلوص میں کئے گئے اپنے ہی وعدوں کے بوجھ تلے دب کر ہلاک ہوجاتے ہیں اور ان کے مرنے کے بعد دنیا  احسان کے بوجھ تلے دبے بیچاروں پر محسن کشی کا تمغہ مزید سجا دیتی ہے۔

عوز کا غلیظ جادوگر

 دوسری دفعہ کا ذکر  ہے کہ کسی گاؤں میں ایک لڑکی رہا کرتی تھی۔  اس کا گاؤں  پچھلی کہانی کے برخلاف ہرا بھرا تھا کیونکہ اس گاؤں میں طوفانی بگولے اور آندھیاں انسانوں کے اندر چلا کرتی تھیں جس سے لوگوں کے چہروں کے رنگ تو زرد ہوجاتے تھے مگر گاؤں کے کھیت کھلیانوں اور ڈنگروں پر اس کا چنداں اثر نہیں ہوتا تھا۔  چونکہ یہ کہانی پچھلی کہانی سے زیادہ سچی ہے لہٰذا اس میں وہ لڑکی اپنے رشتے داروں کے گھر میں بخوشی نہیں رہ سکتی کہ فی زمانہ تو لڑکیوں کو اپنے سگے ماں باپ کے گھر میں بھی بخوشی رہنے کی اجازت دینے کی عیاشی فراہم نہیں کی جاسکتی، لہٰذا ہماری کہانی کی لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر میں رہا کرتی تھی۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ اس زمانے میں کتے کو گالی نہیں سمجھا جاتا تھا کہ لوگوں کا اجتماعی شعور اتنا بلند نہیں ہوا تھا کہ مسلسل شہوت اور مسلسل بھوک  کو ایک گالی سمجھا جائے، لہٰذا اس لڑکی نے بھی بہت سے گاؤں والوں کی طرح اپنے اندر کے کتے کو باہر نکالا ہوا تھا اور اسے بڑے چاؤ اور مان کے ساتھ لے کر گھوما کرتی تھی۔ کہنے والے تو خیر یہ بھی کہتے ہیں کہ فی زمانہ بھی کتے کو  گالی سمجھنے والا شخص اپنی ذات میں ایک گالی ہے مگر چونکہ پچھلی کہانی میں بھی کتے کا کردار محض اس لڑکی کو طوفانوں میں دربدر کروانے اور راستے کی صعوبتوں کو بڑھانے تک محدود تھا تو ہم یہاں بھی کتے سے آگے بڑھ کر اس لڑکی کی کہانی پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔

بڑے بوڑھے بتاتے ہیں کہ  کرونا کی طرح اس زمانے میں لکھنے کی وبا عام ہوا کرتی تھی۔ ویکسین اور سماجی فاصلے کی لاکھ احتیاط کے باوجود بھی بمشکل ہی کوئی خوش نصیب ہوتا تھا کہ جو اس بیماری سے بچ سکے۔ تو سب کی طرح اس بیچاری کا بھی وقت آیا اور ایک رات معرفت کی کھڑکی کھلی رہ جانے کی وجہ سے ایک بگولا اندر گھس آیا اور اس کی ذات کے اندر طوفانی جھکڑ چلنا شروع ہوگئے۔ بیچاری لڑکی نے پچھلی کہانی کی حماقت دہراتے ہوئے کھڑکی بند کرنے کے بجائے اپنے اندر کے کتے کو بچانے کی کوشش کی کہ معرفت کے طوفان میں کہیں ہوس شہید نہ ہوجائے اور جتنی دیر میں وہ اپنے کتے کو لے کر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوتی یا کھڑکی بند کرپاتی، بگولے نے اسے اس مکان سمیت اٹھا کر کالے کوس پار ایک بستی میں لے جا پٹخا۔

مکان جب واپس زمین پر لگا اور اس لڑکی کے حواس بحال ہوئے تو اس نے باہر نکل کر دیکھا کہ وہ بونوں کی ایک بستی میں کھڑی ہے جہاں بہت سے بونے مکان کی طرف اشارہ کر کے خوشی سے ناچ رہے ہیں۔ وہ معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ ان میں سے ایک بونے نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سینیٹائز کروائے اور پھر چوم لئے۔ بونے نے اسے بتایا کہ بونوں کی یہ پوری بستی اس کی احسان مند ہے کہ اس نے مشرق کے شریر نثر نگار سے ان سب کی جان  بچائی جو آزاد نظم کے نام پر ان کو نثر سناتا اور اصرار کر کے خود کو مجید امجد اور ن م راشد سے بڑا شاعر منواتا تھا ۔ وہ لڑکی چونکہ سخن کی بستی میں نئی تھی لہٰذا ابھی تک کسی بھی ناکردہ کام کی داد لینے میں متامل تھی۔ اس نے انہیں بتایا کہ اس نے کسی کی کسی سے خلاصی نہیں کرائی ہے اور وہ تو خود واپس اپنے گاؤں جا کر اپنی پہلی نظم مکمل کرنا چاہتی ہے۔ تس پر بونے نے اسے دکھایا کہ کس طرح سخن کی بستی میں اس کے نئے مکان کے نیچے آکر مشرق  کا شریر  نثر نگار ہلاک ہوچکا ہے اور اب مکان کے نیچے سے محض اس کے ہاتھ باہر تھے جن میں ایک چاندی سے بنا پارکر کا انک پین دبا ہوا تھا۔قلم کو دیکھ کر اس لڑکی کی آنکھوں میں ایک چمک آگئی اور  اس کہانی کی لڑکی نے بونے کے کہے بغیر مشرق کے شریر نثر نگار کے ہاتھ سے وہ قلم نکالا اور اپنے کان کے اوپر اڑس لیا۔لڑکی کو یوں پرایا مال اٹھا کر استحقاق کے ساتھ اپنا بناتے دیکھ کر بونوں نے دادِ تحسین بلند کی اور اسے یقین دلایا کہ اب اسے عظیم سخنور بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ لڑکی نے شرماتے ہوئے ان سب کا شکریہ ادا کیا اور واپسی کا راستہ دریافت کیا تاکہ گھر جا کر مرکزی خیال ماخوذ والی اپنی نظم مکمل کرے اور  اس چاندی کے قلم سے اپنے مستقبل کے مداحوں کو آٹوگراف دے سکے۔  

بستی والوں نے پچھلی بار کے جھمیلوں سے سبق سیکھتے ہوئے بغیر دماغ کا کٹھ پتلی ایڈیٹر،  بغیر دل کا ٹین کا بنا   پروڈیوسر، اور بغیر ہمت  کا شیر دکھنے والا ہدایتکار کو اپنے پاس ہی بلا رکھا تھا کہ اگر پچھلی کہانی کی لڑکی کو دوبارہ آنا پڑے تو کھیت کھلیانوں اور جنگلوں میں ان لوگوں کے پیچھے خوار نہ ہوتی پھرے اور براہ راست شمال کی پیاری  بلاگر سے ویریفائی کا بییج لگوا کر عوز کی ریاست پر راج کرنے والے اس جادوگر سے جا ملے  جو ساحر سے متاثر ہوکر جادوگر تخلص کے ساتھ شاعری کے نام پر پارٹ ٹائم تک بندی کرتا اور فل ٹائم اپنی ٹریول ایجنسی چلایا کرتا تھا۔

راستے میں ملنے والی غیر ضروری مشکلات  اور چلنے والی ہوا و اڑنے والے پتوں کے تین صفحات بچاتے ہوئے،  جب ہماری کہانی کی لڑکی عوز کی ریاست میں پہنچی تو سب نے اسے سمجھایا کہ عوز کا  عظیم جادوگر ہر کسی سے نہیں ملتا اور اس سے ملاقات کا خصوصی وقت لینا پڑتا ہے۔ مگر جب جادوگر کو ایک شعر کہنے والی زندہ اور نوجوان لڑکی سے ملاقات کا بتایا گیا تو اس نے چاندی کے قلم کو بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فوری ملاقات پر رضامندی کا اظہار کر دیا۔ پچھلی کہانی کی طرح اس بار بھی اس نے لڑکی کو تو اس وقت تک کسی بھی قسم کی مدد دینے سے انکار کردیا کہ جب تک وہ جنوب کے ذلیل شاعر سے ایک نئی کہانی لکھوا کر نہیں لے آتی جبکہ ساتھ آنے والے باقی تینوں کرداروں سے اس نے سرے سے ملنے سے ہی انکار کردیا۔ لڑکی بیچاری بھنائی تو بہت مگر بستی میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کا پورا نیٹ ورک اس ہی جادوگر  کے ہاتھ میں تھا لہٰذا اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔

جب جنوب کے شاعر سے ملاقات لازم ٹھہری تو لڑکی نے اس کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کیں ۔تحقیق پر معلوم ہوا کہ جنوب کا شاعر اس کالے کوس میں واقع عوز سے بھی کالے کوس دور ہے اور راستے میں کوے، مکھیاں، ٹوپی والے بندر اور اس ہی قسم کی دیگر ذلالتیں بھی درپیش ہوتی ہیں۔ پہلے تو  اس نے سوچا واپسی کے خیال پر لعنت بھیج کر یہیں قیام کرلیا جائے کہ اب چاندی کے قلم اور ویریفائیڈ کے بیج کے ساتھ وہ عوز میں بھی ایک سلیبرٹی کی زندگی گزار سکتی تھی۔ مگر جادوگر سمیت بستی کے تمام لوگوں کا جنوب کے ذلیل شاعر کی نئی کہانی کے لئے اشتیاق دیکھ کر خود اس کے اندر بھی یہ تجسس جاگ گیا تھا کہ یہ جنوب کا شاعر کون ہے اور یہ ذلیل کیوں کہلاتا ہے ، نیز اس نے کہانیاں لکھنا کیوں چھوڑ رکھی ہیں؟ اور ان سب سوالات کے لئے اس سے ملاقات ضروری تھی سو اس نے بھی تینوں نکموں کو ساتھ لیا اور اپنے کتے کو گود میں دبائے سفر پر روانہ ہوگئی۔

تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے اور انسانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔ مشہوری کے کھیت میں جا کر ضمیر کو سلانے کے بعد، اور کووں پھر مکھیوں سے نمٹنے کے بعد بالآخر  ٹوپی والے بندروں کی باری آئی اور ایک بار پھر تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا اور پتلے، ٹین کے آدمی، اور شیر کو تاراج کرتے ہوئے اس لڑکی کو جنوب کے ذلیل شاعر کے گھر میں لے جا پٹخا ۔  جنوب کے شاعر کے سامنے پہنچتے ہی لڑکی نے  اپنی تمام تر معصومیت اپنے چہرے پر مجتمع کی اور آنکھوں میں آنسو بھر کر اسے یقین دلادیا کہ وہ لڑکی اس کی سب سے بڑی مداح ہے اور اس نے دنیا میں اس سے بہتر لکھیک آج تک کسی کو نہیں جانا۔ جتنی دیر وہ یہ قصائد پڑھتی رہی، جنوب کے ذلیل شاعر کی نظریں اس کے کان پر ٹکے چاندی کے قلم پر  مرکوز رہیں۔ بیچاری لڑکی سمجھی کہ یا  تو شاعر بھینگا ہے یا اتنے عرصے مجرد زندگی گزارنے کی وجہ سے بھول بیٹھا  ہے کہ خواتین سے بات کرتے ہوئے مردوں کی نظریں کہاں ہونی چاہئیں۔ دونوں صورتوں میں اسے شاعر پر بہت ترس آیا اور اس نے گھریلو خادمہ کے طور پر اپنی خدمات اسے پیش کردیں کہ ساتھ رہ کر شاید وہ اسے ڈھنگ سے دیکھنا اور سوچنا سکھا سکے  اور پھر کوئی کہانی وجود میں آجائے کہ جس سے اس کی گھر واپسی کی سبیل نکل سکے۔

تاریخ اس بارے میں خاموش ہے کہ کتنے برس یا صدیاں یا ہزارہا سال گزرگئے مگر جنوب کے ذلیل شاعر نے کہانی لکھنے کا نام نہ لیا۔ وہ دونوں روزانہ ایک معمول کی زندگی گزارتے  اور رات کو اپنے اپنے کمروں میں جا کر سو مرتے۔ اس کے ساتھ رہ رہ کر یہ لڑکی بھی بھول گئی تھی کہ مستقبل کی عظیم شاعرہ تھی، اس کے پاس ویریفائیڈ کا بیج تھا، سوشل میڈیا فالوورز محض چند دنوں کی مار تھے۔ اس کا دیکھا دیکھی اسے بھی لکھنے پڑھنے سے سے زیادہ ویب سیریز دیکھنے کا شوق ہوگیا تھا۔  اور ایسے ہی ایک دن فلم دیکھتے ہوئے اس کے سامنے سے ایک منظر گزرا کہ جہاں ایک شرابی لیکھک نے اپنے بچے کی دوائی کے پیسے بھی اپنی دارو پر خرچ کردیے تو اسے لگا کہ وہ بھی ایک ایسے ہی بے حس لیکھک کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ اس نے سامنے پڑی ہوئے پوچھے کی بالٹی اٹھائی اور جنوب کے ذلیل شاعر پر انڈیل دی اور چیخ پڑی کہ تم سب لیکھک ایک جیسے اور نیچ ہوتے ہو۔ دنیا سے داد و تحسین کے ٹوکروں کی امید کرتے ہو جبکہ تمہاری اوقات پوچھے کی بالٹی کی بھی نہیں ہوتی۔ جب تک پھیپھڑوں نے ساتھ دیا وہ مسلسل کھڑی چلاتی رہی  یہاں تک کہ بے دم ہوکر واپس کرسی میں نہ گر پڑی۔

ادھر جنوب کا ذلیل شاعر اپنی ہی سرشاری میں کھڑا اس کی دشنام سن رہا تھا۔ ہر ہر طعنہ مانو اس کے مردہ وجود میں جان بھرتا جا رہا تھا۔ بیچاری لڑکی نہیں جانتی تھی کہ جتنے بھی ایسے سخنور گزرے  ہیں کہ جنہیں  اپنے فن میں ماہر سمجھا جاتا ہے، ان تمام کی زندگیاں ذلتوں سے عبارت تھیں۔ کسی کو مالی اعتبار سے شرمندہ رہنا پڑا۔ کوئی جذباتی نا آسودگی کے ہاتھوں رسوا ہوا۔ جس کو پسند کا جیون ساتھی ملا اس کے حصے میں قید آئی۔ اور کوئی  اپنے ہی گھر کے بند دروازوں کے پیچھے ذلت کی فصل کاٹتا رہا۔ یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ تخلیق درد سے عبارت ہے ، مگر یہ بات انسان اکثر بھول جاتے ہیں کہ تخلیق کے لئے درکار درد جسمانی نہیں بلکہ ذلت کا ہوتا ہے۔ جنت کے نکلنے  سے شروع ہونے والا ذلتوں کا یہ انسانی سفر  آج بھی ہر تخلیق کے پیچھے کارفرما ہے۔

کہتے ہیں  اس دن گھڑوں پانی پڑنے کے بعد  واہیات ہی سہی مگر جنوب کے ذلیل شاعر نے مدت بعد ایک کہانی  لکھی تھی۔ عوز کے غلیظ جادوگر کی کہانی جو کہانی پڑھنے کے بعد ایک بار پھر مکر گیا تھا  کہ کہانی جیسی واہیات چیز کے لئے کون کس کا کام کرتا ہے؟اور بیچاری لڑکی کو گھر جانے کے لئے ٹیکسی کروانی پڑ گئی تھی۔ واللہ اعلم بالصواب

جانور

 انسان اپنے آدرش کے تعاقب میں چلتا ہوا اس دنیا تک آ نکلتا ہے اور  پہنچنے کے بعد ہی اسے  یہ احساس ہو پاتا ہے کہ منزل کہیں پیچھے ہی چھوٹ گئی ہے۔  اس کے بعد کا سفر یا تو اس وقت کے زیاں پر واپسی کی صورت میں ہونے والی ممکنہ خفت کی وجہ  سے واپسی سے بچنے کی کوشش میں کٹ جاتا ہے یا پھر مزید وقت ضائع کیے بغیر کسی بھی طرح واپس لوٹ جانے کی دعا میں۔ کچھ  ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا میں ہی جان جاتے ہیں کہ جو کچھ پیچھے چھوٹ گیا ہے وہ اتنا پیچھے چھوٹ چکا ہے کہ اب اس کے بارے میں فکر کرنے سے کوئی فائدہ نہیں اور وہ اس دنیا کو ہی کل دنیا بنا کر جینا شروع ہوجاتے ہیں ۔مگر  ایسوں کا انجام بھی آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ یہ کہانی اوپر بیان کردہ تمام انسانوں میں سے کسی کی بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہانی کسی انسان کی ہے ہی نہیں۔ انسان تو درندہ ہوتا ہے جو بغیر بھوک کے بھی شکار کرتا ہے۔ یہ کہانی تو ایک جانور کی ہے جو محض جان کے خوف سے یا شدید بھوک کے عالم میں ہی کسی دوسرے جانور پر حملہ آور ہوتا ہے۔

وہ جانور ایک بہت سلجھے ہوئے اور دور اندیش جانور کے گھر پیدا ہوا تھا اور شاید اس ہی لئے اس کو بہت سلیقے سے سدھایا گیا تھا ۔ بچپن سے ہی اس با ت کا اہتمام کیا گیا تھا کہ اسے ایسی تمام چیزوں سے دور رکھا جائے جن سے اس کی تربیت میں خلل واقع ہوسکتا تھا۔ وہ تمام اشیا جو جنگل کے تمام جانوروں کی مرغوب تھیں اس  کی پہنچ سے دور رکھی جاتی تھیں کہ کہیں اسے اشتہا جیسی موذی لت نہ لگ جائے۔ اس کے گھر والوں کا ماننا تھا کہ چونکہ انہوں نے اشتہا کے شکار کسی بھی جانور کو دوبارہ سدھرتے نہیں دیکھا تھا لہٰذا وہ اپنے ہیرے جیسے جانور کو ان چیزوں سے دور رکھیں گے کہ جن کی وجہ سے جنگل کے تمام جانور بگڑ چکے تھے۔ جنگل میں سال کے سال بہار پر جو میلہ لگتا تھا اس میں دیگر جانوروں کے ساتھ اس کا تمام خاندان شامل ہوتا تھا مگر اس کو اس میلے سے دور رکھا جاتا کہ میلے ٹھیلوں میں جانا نرا وقت کا زیاں ہے۔ اس کے دوست کہ جن کے بارے میں یہ خیال رکھا جاتا تھا کہ وہ تمام جسمانی اعتبار سے بالکل اس ہی کی طرح ہوں، وہ بھی میلے میں جاتے اور واپس آکر اسے میلے کی داستانیں سناتے۔ یہ منہ کھولے حیرت سے ان کی باتیں سنتا کہ اس کی ننھی سمجھدانی اور معلومات کے اعتبار سے تو اس سے مختلف دکھنے والے جانوروں کے قریب جانا جنگل میں ممنوع تھا اورنہایت نیچ سمجھا جاتا تھا جبکہ یہ دوست ان میلوں میں ان جانوروں سے نہ صرف خوش گپیاں کرتے تھے بلکہ کوئی کوئی تو میلوں کے بعد بھی ان جانوروں کے ساتھ  وقت گزارنے اور ان سے ملنے جایا کرتے ۔ وہ  یہ سب دیکھتا تو عجیب ذہنی کشکمش کا شکار ہوجاتا۔ اسے سمجھ نہیں آتا کہ اس کے یہ دوست ٹھیک ہیں یا پھر اس کے گھر والے، جو اسے بچپن سے سکھاتے آئے تھے کہ  مختلف دکھنے والے جانوروں کو چھونا بھی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا اگر بے دھیانی میں بھی وہ کسی مختلف دکھنے والے جانور سے ٹکرا جائے تو اسے لازم ہے کہ وہ جنگل کے کنارے پر بہتی ندی میں جاکر رگڑ رگڑ کر اپنے آپ کو پاک صاف کرے۔ جسم کی اس پاکیزگی کے بدلے وہ اسے ایک ایسی زندگی کا وردان دیتے تھے کہ جہاں اس کا  جراثیم اور بیماریوں سے پاک جسم اپنی مرضی کی زندگی گزار سکتا ہے۔ایک ایسی زندگی کہ جہاں وہ اپنی مرضی سے جتنے چاہے مختلف دکھنے والے جانوروں سے تعلق رکھے اسے کوئی جراثیم نہیں لگے گا۔ جہاں مختلف دکھنے والے جانور ہمہ وقت اس کی خدمت پر مامور ہوں گے۔ مکمل آزادی اور بنا کسی روک ٹوک کے۔ مگر اس سب کو حاصل کرنے کی شرط یہ تھی کہ وہ اس وقت مختلف دکھنے والے جانوروں سے مکمل فاصلہ اختیار رکھے یہاں تک کہ اس کے گھر والے اس کی صحت سے مطمئن ہوکر اور اپنی مکمل تسلی کے بعد ایک ایسے مختلف دکھنے والے جانور کو اس کے لئے  تلاش کرسکیں جس سے اسے کوئی جراثیم نہ لگے اور جو اس کے لائق ہو۔

اس ذہنی کشمکش کے بیچ ، اس کا ماننا تھا کہاس کے  گھر والوں نے بہر حال اس کے دوستوں سے زیادہ دنیا دیکھی تھی اور یوں بھی اپنی مرضی کی مکمل زندگی پانے کا خواب اتنا لذت آمیز تھا کہ وہ وقتی طور پر بھی اپنے دوستوں کی جراثیم سے بھری دنیا میں نہیں اترنا چاہتا تھا۔ ایسا نہیں کہ اسے اس تیاگ کا فوری طور پر کوئی فائدہ نہ رہا ہو۔ جنگل بھر میں اس کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ دیگر جانوروں کے والدین   چاہتے تھے کہ ان کے بچے اس سے سبق سیکھیں اور اس جیسے بن جائیں۔   چھوٹے بڑے تمام جانور اسے عزت و عقیدت کی نگاہ سے دیکھا کرتے اور اس کے اپنی سچائی کے زعم کے غبارے میں ہوا بھرنے میں مدد دیتے تھے۔

سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا اور اسے امید تھی کہ بہت جلد وہ اتنا توانا ہوجائے گا کہ ہر طرح کے جراثیم کا سامنا کرسکے اور اس کے گھر والے اس کے لئے اس کے لائق کوئی مختلف دکھنے والا جانور بھی تلاش کرلیں گے، مگر پھر وہ منحوس شام آگئی ۔ خلاف معمول وہ اس دن شام کے بعد گھر سے نکلا ہوا تھا اور ندی کے کنارے ٹہل رہا تھا کہ اچانک ایک ذوردار خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی ۔   ایسا نہین کہ وہ اس خوشبو سے انجان تھا۔ وہ اس خوشبو کو پہلے بھی محسوس کر چکا تھا مگر آج سے پہلے یہ خوشبو ہمیشہ اسے دور سے  اور دھیمی ہی محسوس ہوئی تھی ، جبکہ آج وہ خوشبو  اور  اس کا  مآخذ دونوں اس کے سامنے موجود تھے۔  آج پہلی مرتبہ وہ ایک مختلف دکھنے والے جانور کے ساتھ چار ٹانگ کے فاصلے پر موجود تھا۔ چونکہ اس سے پہلے اس نے اس خوشبو کو محض دور ہی سے محسوس کیا تھا لہٰذا وہ اس بات سے ناآشنا تھا کہ یہ خوشبو محض نتھنوں ہی کو بھلی نہیں لگتی بلکہ اپنے ساتھ اشتہا جیسی موذی بیماری بھی لاتی ہے۔ وہ اس خوشبو کے اثرات کے ساتھ اس کو برتنے کے طریقے سے بھی انجان تھا۔ مختلف دکھنے والے جانور نے اس کے بدلتے ہوئے تاثرات بھانپ لئے تھے مگر اطمینان کی بات یہ تھی کہ وہ پورے جنگل میں نیک نام تھا اور اس سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا تھا؟  مگر  ماحول میں کچھ ایسا عجیب سا تناؤ پیدا ہوگیا تھا کہ اس وقت وہاں سے نکل جانے میں اس مختلف دکھنے والے جانور کو عافیت محسوس ہوئی۔

مختلف دکھنے والے جانور کو اپنے برابر سے گزر کر نکلتے ہوئے دیکھ کر اس ہیرے جیسے جانور کو اچانک احساس ہوا کہ وہ کتنے برسوں سے بھوکا ہے۔ بھوک کی شدت کے احساس سے وہ بالکل اتاؤلا ہوچکا تھا۔ ہوش تب آیا جب ایک پتھر اس کے سر پر لگا اور اس نے سر اٹھا کر دیکھاکہ آدرش کے تعاقب میں چلتا چلتا وہ تعلق کی بھوک  کے چوراہے سے بھٹک کر جسم کی بھوک کی منزل پر پہنچ چکا تھا  اور اس وقت مختلف دکھنے والے اس جانور پر سوار تھا جس کا نرخرہ وہ پھاڑ چکا تھا ۔ جبکہ جنگل کے جانوراسے گھیرے میں لئے کھڑے ہیں۔   اسے اپنی سمت متوجہ پاکر پتھر مارنے والے ایک جہاندیدہ بزرگ  درندے نے خفت سے صفائی پیش کی وہ اسے ایذا پہنچانا نہیں چاہتے تھے بلکہ پتھر تو اس کمین مختلف دکھنے والے جانور کے لئے تھا کہ جس نے جنگل کے مقدس اور معزز ترین جانور تک کو ورغلا کر اس بات پر مجبور کردیا تھا کہ وہ اس کے نرخرے سے اپنی پیاس بجھالے۔

بزرگ درندے کی بات سن کر  اس نے غصے سے ایک نظر اپنے نیچے تڑپتے اس مختلف دکھنے والے جانور پر ڈالی اور مجبوری کے عالم میں اپنے دانت دوبارہ اس کے نرخرے پر گاڑ دیے!

روپانزل

 دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جگہ پر ایک ذہنی اعتبار سے بانجھ جوڑا رہا کرتا تھا۔ ذہنی اعتبار سے بانجھ ہونے کے باعث ان کی زندگی بہت پرسکون تھی اور وہ دونوں میاں بیوی دنیا و مافیہا کی تکالیف سے ماورا ہوکر محض اپنی زندگی جیتے اور فرصت کے ایام میں اپنے ہی جیسے بچے پیدا کیا کرتے تھے۔ کھانے پینے کی کوئی تنگی نہیں تھی کہ اگر روزگار نہ بھی لگتا تو وہ اپنے گھر کے ساتھ واقع باغ (کہ جس کی چڑیل عرصہ پہلے ایک سبزی کے نام سے منسوب روپانزل کی بےوفائی سے دلبرداشتہ ہوکر علاقہ چھوڑ گئی تھی) سے جب جی چاہے بے دھڑک چیزیں توڑ کر کھاتے اور خوش رہتے تھے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ان کی اس ہی خوشی کی خرمستیوں میں پیدا ہونے والا ان کا چوتھا یا پانچواں بچہ تھا۔ ترتیب کا اس لئے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ پورا گھرانا اتنا معمولی تھا کہ کسی نے ان کی ترتیب نزولی کو دفتر کرنا ضروری ہی نہیں سمجھا تھا۔

بچپن میں وہ اپنے باقی گھر والوں ہی کی طرح معمولی ہی تھا مگر پھر اس کی اس غیرمعمولی طور پر معمولی زندگی اور اس کی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی۔ بات محض سوچنے کی بیماری تک محدود رہتی تو شاید معاملہ اتنا خراب نہ ہوتا مگر وہ تو اب سوچنے کے ساتھ ساتھ سوال کرنے جیسی غلیظ عادت کا بھی شکار ہوگیا تھا۔ گھر والوں نے اس بیماری کی متعدی طبیعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے فی الفور اس سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنا شروع کردیا اور جس قدر بن پڑا اس کے علاج کے لئے کوششیں شروع کردیں۔ بڑے بڑے نامی گرامی کارپوریٹ مینجرز کو دکھایا گیا مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اچھی سے اچھی نو سے پانچ بھی اسے سوال کرنے اور سوچنے کی علت سے دور نہیں کرپارہی تھی۔ اور نو سے پانچ پر ہی کیا موقوف، ہفتے کی چھٹی، سالانہ بونس،  اور بیرون ملک تعیناتی کے امکانات جیسے مجرب نسخہ جات جو کبھی اور کہیں ناکام نہیں ہوتے وہ بھی اس کی مرتبہ میں بےاثر ثابت ہوچکے تھے۔ سماج کے مروجہ اصول کے مطابق نصیحت کے نام پر ہر شخص اس سے مل کر اپنی اپنی مجروح انا کی مقدور بھر تسکین حاصل کرچکا تھا مگر وہ سدھرنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی" تو بالکل بےجا نہ ہوگا کہ اب اس نے باقاعدہ طور پر منطق پڑھنا اور کہانیوں اور غزلیات کے نام پر فلسفہ بکنا بھی شروع کردیا تھا۔

مسلسل بیماری میں ساتھ دینے کا سفر درپیش ہو تو انسان کے مخلص ترین رشتے بھی ہانپ جاتے ہیں جبکہ یہاں تو محض دنیا دار رشتے تھے۔ اور یہ مسلسل بیماری اگر متعدی ہونے کا ڈر بھی لاحق ہو تو محض خدا ہی ایسے انسان کو مہمان بناسکتا ہے، انسانوں سے ایسے خدائی ظرف کی امید رکھنا کم عقلی کی معراج ہے۔ سو وقت کے ساتھ وہ اپنی بیماری کے ساتھ  ساتھ تنہائی کا بھی شکار ہوتا چلا گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے بشری فطرت کے تقاضوں کے زیر اثر خود کو اس امید پر اپنی ہی ذات کے بے در منارے میں قید کرلیا کہ کوئی ایک، محض ایک انسان ایسا ہوگا جو اس کی فکر میں منار کی دیواروں کو توڑ کر دروازہ بنائے گا اور اسے اس خودساختہ قید اور تنہائی سے نجات دلا دے گا۔

اچھی امیدوں کا سب سے بڑا مسئلہ تب بھی یہی تھا کہ یہ ناہنجار اس وقت تک پوری نہیں ہوتیں کہ جب تک آپ ان کا دامن نہ چھوڑ دیں۔ گھڑی اور کیلنڈر کے حساب سے تو چند دن ہی گزرے ہوں گے مگر تنہائی کا ایک دن کیلنڈر کے تین سو پینسٹھ سال کے برابر ہوتا ہے اور اس اعتبار سے اس پر ہزارہا سال کا عرصہ بیت چلا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس پورے عرصے میں کوئی اس منار کے قریب نہ پھٹکا ہو۔ انجان اور پراسرار چیزیں عمومی لوگوں اور انسانوں کو یکساں طور پر متوجہ کرتی ہیں۔ کئی لوگ اس منفرد منارے کو دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے مگر منارے کے اردگرد گھوم کر جائزہ لینے اور کوئی داخلی دروازہ نہ پاکر بنانے والے انجینئر پر چار حروف بھیجنے کے بعد آگے بڑھ جاتے۔ ہر بار وہ انسانی آہٹ کو محسوس کرتا اور منار کی بلندی پر موجود اپنے کمرے کی کھڑکی سے نیچے جھانکتا اور آنے والے کی حرکات کا بغور معائنہ کرتا کہ وہ اس تک پہنچنے کے لئے کس حد تک جتن کرنے کے لئے تیار ہے اور بالآخر آنے والے کی مایوسی سے خود اپنے لئے بھی مایوسی کشید کرکے واپس اپنے بستر پر جا لیٹتا۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا یہاں تک کہ اس نے طے کر لیا کہ اب وہ محض تب خود کو زحمت دے گا کہ جب کوئی انسان واقعی منار میں در بنانے کے لئے کوئی عملی کوشش کرتا محسوس ہو۔ مگر مینار کو توڑنے کی کوشش کرنا تو دور، لوگوں نے وقت کے ساتھ اس منارے کے پاس بھٹکنا بھی چھوڑ دیا کہ جس میں اب وہ اور اس کی فراغت سے بھرپور تنہائی بسا کرتے تھے۔

ان ہزارہا برسوں میں فراغت کی طوالت سے تنگ آکر وہ اپنے خیالات کی زلفیں سنوارا کرتا تھا کہ مسلسل توجہ کے طفیل ان کی طوالت اب دسیوں گز ہوچکی تھی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ جب کوئی مسیحا اس تک پہنچے تو وہ ان میں الجھ کر گر پڑے اور اس پکار پر لبیک نہ کہہ پائے۔ اور اس ہی مشغلے میں چند ہزار برس اس پر مزید بیت گئے یہاں تک کہ ایک دن اس نے منار کے نزدیک دوبارہ کسی انسان کی موجودگی کو محسوس کیا۔ اس سے پہلے کے نووارد منارے میں کوئی در نہ پاکر مایوس ہوکر لوٹ جاتا، اس نے ہمت کرکے کھڑکی میں سے آواز لگائی اپنی طویل زلفوں کو نیچے لٹکا دیا کہ اگر دیوار میں در بنانا مشکل ہے تو میری زلفوں کا سہارا لے کر ہی مجھ تک پہنچ جاؤ؟ نووارد نے اس کے بالوں کو کھینچ کر ان کی مضبوطی کا جائزہ لیا اور پھر  کچھ سوچ کر واپس لوٹ گیا۔

اس بار کی مایوسی اس کے لئے پہلے سے گراں تر تھی۔ اس سے پہلے کم از کم دل کو تسلی دینے کے لئے یہ خیال موجود تھا کہ اس نے خود کو لوگوں کی پہنچ سے دور کر رکھا تھا۔ وہ اس تک پہنچنے کا نہ طریقہ جانتے تھے، نہ اس بات کی اہمیت۔ اب کی بار مگر اس نے نہ صرف خود صدا لگا کر لوگوں کو متوجہ کیا تھا بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اپنے خیالات کی زلفوں سے ان کو سہارا بھی دیا تھا کہ وہ اس تک پہنچ جائیں۔ شاید اس ہی لئے اس بار کی مایوسی میں خفت کے رنگ بہت نمایاں تھے۔

وہ بستر میں دراز خود کو اپنی اس حماقت کے لئے کوس ہی رہا تھا کہ اسے منار کے باہر بہت سے لوگوں کے بات کرنے کی بھنبھناہٹ محسوس ہوئی۔ اس نے دوڑ کر کھڑکی میں سے جھانکا تو وہ پلٹ جانے والا انسان اپنے ساتھ بہت سے لوگوں کو ساتھ لئے کھڑا تھا۔ اسے کھڑکی میں آتا دیکھ کر ہجوم نے بیک زبان اس سے زلفیں کھڑکی سے باہر لٹکانے کی درخواست کردی۔ اس کا جی چاہا کہ وہ لوگوں کو بتادے کہ اتنے سارے انسانوں کی اس تک پہنچ پانے کی خواہش رکھنا اب اسے اس منارے میں مقید رہنے کی ضرورت سے آزاد کرچکا ہے اور اب زلفیں لٹکانے کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ وہ خود اب منار سے باہر آکر ان کے بیچ رہ سکتا ہے مگر ہجوم متواتر پکار کر اس سے زلفیں دراز کرنے کی درخواست کر رہا تھا۔ اس نے لوگوں کی خوشی کا خیال کرتے ہوئے زلفیں کھڑکی میں سے باہر لٹکا دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مجمع ان زلفوں پر ٹوٹ پڑا۔ اسے لگا کہ شاید وہ اپنی روایتی حماقت سے مغلوب ہوکر اسے بھی کوئی مقدس چیز سمجھ کر چومنا چاہتے ہیں مگر جیسے ہی مجمع تھوڑا تھما اور پیچھے ہٹا تو اس نے دیکھا کہ ان سب کے ہاتھوں میں قینچیاں موجود تھیں جن کی مدد سے ان میں سے ہر ایک نے مقدور بھر اس کی زلف کا حصہ کاٹ لیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ مجمع سے کچھ کہہ پاتا، ہجوم اس کا شکریہ ادا کرکے واپس پلٹ چکا تھا۔

اور اس دن کے بعد سے یہ روز کا معمول بن گیا۔ ہجوم روز منار کے گرد جمع ہوکر اس سے زلفیں لٹکانے کی درخواست کرتا اور وہ اس امید پر دن بھر کی محنت سے بڑھائی ہوئی اپنی خیالات کی زلفیں دراز کرتا کہ شاید ان سینکڑوں عمومیوں کے اندر کوئی ایک انسان موجود ہو جو قینچی ساتھ نہ لایا ہو اور واقعی منار کی بلندی سر کر کے اس تک پہنچنا چاہتا ہو مگر اچھی امیدوں کے بارے میں بیان آپ تین پیراگراف قبل پڑھ ہی چکے ہیں۔

وقت کے ساتھ اگر کچھ بدلا تھا تو بس یہ کہ جس ویرانے میں اس کی ذات کا یہ منار موجود تھا، وہاں اب ایک مکمل بازار سج چکا تھا کہ جہاں اس ہی کے بالوں سے بنی ہوئی وگ فروخت کی جاتی تھیں۔ تین چار بل بورڈ تھے کہ جن پر مشہور شیمپو کے اشتہارات چسپاں تھے۔ بالوں کی آرائش کی مصنوعات کے لئے ایک الگ قطار میں سات دکانیں موجود تھیں۔ اور دوسرے شہروں سے آنے والے فکری گنج پن کے شکار لوگوں کے لئے گیارہ عدد سرائے قایم تھیں جو اکثر اوقات گنجائش سے زائد مسافروں کو سنبھال رہی ہوتی تھیں۔

وہ اب اس روزانہ کی مشقت سے مایوس ہوچلا تھا۔ باہر اڑنے والی افواہوں کو سن کر اسے لگنا لگا تھا کہ لوگ اس کے خیالات کی زلفوں سے اپنے گھروں کو تو آراستہ کرسکتے ہیں مگر اپنے گھر میں اسے بلانا تو درکنار، خود اس کے گھر میں اس کے مہمان بننے کو بھی درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔

اس بات کا صدمہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے سر کے بال جھڑنے لگے۔ وہ پورے دو دن تک کمرے میں بند اپنے بکھرے ہوئے بال سمیٹتا رہا اور کھڑکی میں بھی نہ جا سکا۔ دوسرے دن شام کو البتہ منار کے باہر سے احتجاج کی آوازیں اس حد تک بلند ہوگئیں کہ اسے صورتحال سمجھنے کے لئے کھڑکی میں آنا ہی پڑا۔ اسے یقین تھا کہ قسمت اتنے عرصے بعد بھی اتنی مہربان نہیں ہوسکتی کہ اس کی غیر موجودگی کا احساس لوگوں کو احتجاج کرنے پر مجبور کردے۔ وہ لوگوں کی بات دھیان سے سن کر اپنی رائے بنانا چاہتا تھا۔ اور جب کھڑکی میں آکر اس نے دیکھا تو باہر ہزارہا انسان سیاہ رنگ کے ماتمی بینر لئے کھڑے تھے جن پر مختلف انداز میں ایک ہی بات درج تھی کہ وہ کس درجہ کا کمینہ، نیچ، اور خودغرض انسان ہے کہ باہر ہزاروں لوگ اپنی ضرورت کے انتظار میں کھڑے ہیں جبکہ وہ کمرے میں بیٹھا اپنے بال سنوارتا رہتا ہے۔

اتنی صدیوں میں وہ اذیت کے ان گنت روپ دیکھ چکا تھا مگر کرب کی جو لہر اس وقت اس کے سراپے میں دوڑ رہی تھی وہ اس تکلیف سے یکسر ناآشنا تھا۔ اس نے اپنے بچے کھچے بال سمیٹ کر گردن کے گرد سے گزارتے ہوئے کھڑکی سے باہر لٹکائے اور کھڑکی بند کردی۔

ہجوم نے زلفیں نیچے آتی ہوئی دیکھیں تو ایک نعرہ مسرت بلند کیا اور دیوانہ وار ان کی طرف لپک پڑے۔ کچھ گرتے ہوئے ، اور کچھ گردن میں لپٹے ہوئے ہونے کی وجہ سے آج زلفیں زمین تک نہیں پہنچ پائی تھیں مگر مجمع ناشکرے لوگوں کا نہیں تھا کہ جو اس بات کی شکایت کرتا۔ ان میں سے چند راہنما آگے بڑھے اور اچھل کر زلفوں سے لٹک گئے تاکہ اپنے وزن سے انہیں نیچے لاسکیں اور ایک عام مقتدی بھی ان سے فیضیاب ہوسکے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ تھوڑی ہی دیر میں ان افراد کے وزن سے وہ بوسیدہ عمارت بھوسے کی طرح اپنی ہی بنیادوں پر ڈھیر ہوچکی تھی۔ مگر کہنے والوں کا کیا؟ وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگلے جب اس عمارت کا جنازہ اٹھا تو شہر بھر کے ہزارہا گنجے اس میں شریک تھے۔ اور اس کا ثبوت وہ تصاویر کے جو اس ملبے کے ڈھیر کے ساتھ وہ اپنے سوشل میڈیا پر لگائے بیٹھے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب

بدھ، 5 جنوری، 2022

گدھ - ششم

 ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ کسی جنگل میں نئے سال کا جشن بپا تھا اور اس ہی سلسلے میں تمام چرند اور پرند مرکزی اجتماع گاہ میں موجود تھے۔  شیر اور بکری کو محاورے کی زبان میں ایک گھاٹ پر پانی پلانے کے لئے دعوت سے پہلے ہی شیروں اور عقابوں کے میڈیا مینجرز نے  ان کے کچھاروں اور گھونسلوں میں ہی میمنے اور خرگوشوں کی پیٹ بھر رسد فراہم کر دی تھی تاکہ شیر اور بکری کے سال میں ایک بار ساتھ پانی پینے کی تصاویر اگلے چناؤ میں  استعمال کرکے بکریوں اور خرگوشوں کو اس بات پر قائل کیا جاسکے کہ جنگل کی حکمرانی کے اصل حقدار رحمدل ، پرخلوص اور رعایا پرور عقاب اور شیر ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے جنگل کے تمام جانور اس سکون کی نیند سو سکتے ہیں کہ پڑوسی جنگل سے آنے والے تمام درندوں سے حفاظت کے لئے ان کے یہ محافظ جاگ رہے ہیں۔

نئے سال کے اس جشن میں بھی حسب مراتب کا خاص خیال رکھا گیا تھا اور شیر اور عقاب اجتماع گاہ کے عین مرکز میں نشست جما کر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ دو موراپنے پنکھ پھیلائے چرندوں اور پرندوں کے ان بادشاہوں کو ہوا جھلنے میں مصروف تھے۔ بادشاہوں کے گرد، مرکزی پنڈال میں صرف درندوں کے لئے جگہ مخصوص تھی جبکہ  ان دردندوں  کے بعد گوشت خور جاندار، سینگ دار اور جسامت دار جاندار، اور ان سب کے بعد آخر میں سبزی خور بیچاروں کے لیے جگہ رکھی گئی تھی ۔

آج کا جشن گزشتہ تمام برسوں کے جشن سے تھوڑا مختلف تھا کہ اس برس عین جشن کے بیچ بھی جنگل کے بہت سے جانور، چچا  الو،  اور ان کے پٹھوں کے بہکاوے میں آکر جانورورں کے حقوق اور درندوں کے ہاتھوں ان کے ہونے والے استحصال جیسی نفرت انگیز باتوں میں مشغول تھے۔  جشن کے لوازمات تمام موجود تھے  مگر اب تک جشن کا ماحول تیار نہیں ہوسکا تھا۔ فضا میں ہر طرف چہ مگوئیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ اور ان ہی چہ مگوئیوں کے درمیان فضا میں اچانک ہی ایک  مکروہ خاموشی پھیل گئی۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مردار خور گدھ اور فضلہ خور سور خراماں خراماں چلتے چلے آرہے ہیں۔ وہ دونوں جہاں سے گزرتے ، چرند پرند کچھ گھبرا کر اور کچھ گھن کھا کر ان  سے بچنے کے لئے ادھر ادھر ہوجاتے اور یوں ان کے چلے آنے کے لئے راستہ آپ ہی آپ بنتا چلا جا رہا تھا۔  سبزی خور بیچاروں کو عبور کرکے جب یہ دونوں جسامت دار اور سینگ دار جانداروں کے درمیان پہنچے تو یہاں سے چہ مگوئیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا اور جب تک یہ دونوں درندوں کے درمیاں پہنچے تو چہ مگوئیوں کا شور اس درخت کے تنے کی تھاپ سے فزوں تر ہوچکا تھا جسے بندر جڑی بوٹیوں کے نشے میں مسلسل پیٹے چلے جا رہے تھے۔ادھر جانور ان دونوں سے نمٹنے کے طریقے پر باہمی مباحثے میں مصروف تھے اور ادھر  گدھ اور سور تمام جانوروں کی گھن اور نفرت سے بے نیاز  ہو کر بندر کی بجائی گئی تھاپ پر رقص کناں تھے۔

لومڑ کی رائے میں جشن اور چناؤ سے قطع نظرگدھ اور سور کو عین پنڈال میں ہی عبرت کا نشان بنا دینا چاہئے مگر گدھ سے منسوب وحشت کے کارن کوئی اس پر حملہ کرنے کو تیار نہیں تھا اور چیتے اور اس کے قبیل کے دیگر  درندے اپنے نئے ملبوسات کو بچانے کے لئے فضلے میں لت پت اس سور پر حملہ کرنے سے گریزاں تھے۔  نووارد بھی ان درندوں کی گفتگو سن چکے تھے لہٰذا اپنے رقص کو موقوف کر کے وہ بھی معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔ جشن کو یوں تھمتا دیکھ کر عقاب نے اپنا گلا کھکارا اور گدھ کو مخاطب کرکے گویا ہوا،مجھے شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ تمہارا جیسا رذیل پرندہ خدا نے ہم پرندوں کے بیچ میں پیدا کیا۔ تمہارا وجود کراہت کا ایک استعارہ ہے۔ اس ہی وجہ سے تمہیں تمام پرندوں سے دور رکھا جاتا ہے اور اگر تمہیں اپنے ان پروں کی ذرا بھی لاج ہے تو پرندوں کی برادری کی مزید رسوائی کئے بغیر فی الفور یہاں سے رخصت ہوجاؤ۔ ہم بھول جائیں گے کہ تم سے ایسی کوئی گستاخی ہوئی بھی تھی۔ آج جشن کا دن ہے ۔ اس خوشی میں ہم تمام لوگ تمہاری اس غلطی کو معاف کردیں گے۔ کیوں ساتھیو؟ کردو گے نا معاف؟ عقاب کی اس جذباتی تقریر پر تمام پرندوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ بے شک! بے شک! ہمارے دل آسمانوں کی طرح وسیع ہیں۔ ہم معاف کر دیں گے۔

عقاب کو اس طرح محفل لوٹتا دیکھ کر شیر کو بھی جوش آگیا۔ وہ بولا،  ہم چرند بھی کسی طرح پرندوں سے کم نہیں ہیں۔ ہماری سوچ بھی صندل کے درختوں کی طرح ہے ۔ خوشبودار اور بلند! اگر جنگلی سور اپنا بدبودار وجود لے کر فی الفور چلا جائے تو ہم بھی کسی قسم کی کوئی تاذیبی کاروائی نہیں کریں گے اور بالکل بھول جائیں گے کہ کس طرح ہمارے پاکیزہ جشن کو اس نے اپنے ناپاک وجود سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیوں ساتھیو؟ کردو گے نا معاف؟ پرندوں کی دیکھا دیکھی چرند بھی  بادشاہ کی آواز میں آواز ملا کر بولے، بے شک! بے شک!  ہماری سوچ صندل کی طرح بلند ہے ۔ ہم معاف کر دیں گے۔

گدھ اور سور نے اپنے اردگرد کے ماحول پر ایک متاسفانہ نگاہ کی اور پھر نظریں جھکا کر جس راہ  سے آئے تھے وہیں واپس پلٹ گئے۔  ان کو پلٹتا دیکھ کر تمام جانداروں نے شیر اور عقاب کے لئے ایک نعرہ تحسین بلند کیا اور اس وقت تک تالیاں پیٹتے رہے کہ جب تک گدھ اور سور مجمعے میں سے نکل کر نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئے۔ شیر اور عقاب نے ایک دوسرے  کی طرف مسکرا کر دیکھا اور ایک دوسرے کو جام تجویز کرنے لگے ۔ وہ دونوں  جانتے تھے کہ ان کے میڈیا مینجرز اپنی ذمہ داریاں بہت خوش اسلوبی سے نبھا رہے تھے اور ان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں تھا۔

شیر اور عقاب کے پیچھے موجود بزرگ مور اپنے جوان بیٹے کو سمجھا رہا تھا کہ زندگی کبھی مضبوط چونچ اور طاقتور پروں کے ساتھ  توانا پنجے عنایت کردے تو گدھ بن کر نیم مردہ جانوروں کی مشکلات آسان کرنے  جیسی احمقانہ سوچ رکھنے سے بہتر ہے کہ عقاب بن کر کسی جانور کے ہنسے کھیلتے نورِ نظر کو بھنبھوڑ دینا۔ شاعر تمہیں غیرت کا استعارہ ٹھہرائیں گے اور خود کو تمام مخلوقات میں افضل ترین سمجھنے والا انسان تک تمہاری مثال اپنے بچوں کو دے گا۔ سور بن کر جنگل کا گند کھانے سے پہلے یہ سوچ رکھنا کہ دنیا کی تمام مخلوقات گند صاف کرنے والے کو ہی گندگی کا استعارہ بنا بیٹھتی ہیں۔ جنگل میں گندگی سے زیادہ اسے صاف کرنے والے سے گھن کھائی جاتی ہے۔ ٹھیک سے پنکھ چلا! ان بادشاہوں کا سایہ ہمارے سر رہا تو  بس سانپوں کا ڈر ہے، باقی ہمارا مستقبل محفوظ ہے۔ سمجھا؟

جمعرات، 30 دسمبر، 2021

اژدھا

 دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ  کسی جنگل میں ایک راج ہنس کا ویسا ہی بچہ رہتا تھا جس  کی کہانیاں  آپ بچپن سے سنتے آئے ہیں۔  ویسا ہی بھدا، بد رنگا اور بطخ  کے دیگر بچوں سے جسامت میں کہیں بڑا۔ اچھے زمانے کی کہانی ہے جب فی زمانہ تعصب کے زمرے میں گنی جانی والی چیزوں کے بارے میں میں بیان کرنے پر بھی لیکھک متعصب نہیں ٹھہرائے جاتے تھے اور مکمل سہولت کے ساتھ اپنے سے مختلف دکھنے والوں کی رنگت وغیرہ پر یہ سوچ کر طنز  کیا جا سکتا تھا کہ جس مخلوق کا تقدیر ازل سے مذاق اڑاتی اور بناتی آئی ہو، اس کا آپس میں ایک دوسرے کی تضحیک پر برا ماننے کا تصور ہی مضحکہ خیز تھا۔ سو وہ دھڑلے سے ایک دوسرے کو بھدا، بد رنگا وغیرہ ٹھہراتے تھے اور ہنس کر آگے بڑھ جاتے تھے۔

شاید ازل سے کہانی کار ایک ہی رہا ہے سو  کہانی کے کردار نام اور مقام بدل کر اس ہی ایک کہانی کے تسلسل میں حصہ دار بنتے اور اپنے زعم کے غبارے میں ہوا بھرتے  آئے ہیں کہ وہ اس لامتناہی کائنات کی سب سے منفرد کہانی کا مرکز ی کردار ہیں۔ سو وہ ہنس کا بچہ بھی گزری تمام کہانیوں کی طرح بطخ کے بچوں کے بیچ میں رہتا، ان کے طعنوں کا نشانہ بنتا اور ان کی قامت بڑھانے کی جاں گسل محنت سے تھک کر  اپنی معصوم  سوچ  میں  اپنی قامت گھٹا کر خود کو  ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش میں جٹا رہتا  ۔   اور جب اس سعی لاحاصل سے مایوس ہو جاتا تو دنیا کے حصے کے الزام بھی اپنے سر لے کر ایک بار پھر کولہو کے بیل کی طرح دائرے کے سفر میں گامزن ہو جاتا، یہاں تک کہ پچھلی کہانی ہی کی طرح  اسے بھی اس بات پر مجبور کر دیا گیا کہ وہ شناخت کی تلاش میں گھر کہلانے والی جہنم سے فرار اختیار کرے اور انجانوں میں اپنے تلاش کرتا پھرے۔

پچھلی کہانی کے عین مطابق  یہ راج ہنس کا بچہ بھی فرار ہو کر اپنے جیسے کسی ایک، محض ایک کی تلاش میں تالاب تالاب گھومتا پھرا مگر  کسی نے چونکہ اس جیسی مخلوق کو دیکھنا تو دور، کبھی اس کے بارے میں سنا تک نہیں تھا لہٰذا ان تالابوں پر بھی اسے محض وہ مایوسی ہی ملی کہ جس  کی عادت کائنات میں کسی ذی روح کو آج تک نہ ہوسکی۔ اور اس ہی مایوسی سے گھبرا کر وہ شناخت کے سفر میں چلتا رہا یہاں تک کہ ایک   بظاہر مہربان عورت نے انڈوں کے لالچ میں اس پر ترس کھا کر اسے اٹھا کر اپنے گھر کی کوٹھری میں مقفل کردیا جہاں ایک مرغی اپنی نوکیلی چونچ اور اس سے کہیں زیادہ تیز زبان کے ساتھ اس  کی منتظر تھی۔ 

راج ہنس کو لگا تھا کہ اب اسے گھر اور گھر کا پیار میسر ہوجائے گا مگر شناخت کے سفر پر گامزن کسی بھی دیگر جاندار کی طرح  اس کی تخلیقی صلاحیتیں بھی کسی کے حکم کی تابع نہیں رہیں تھیں سو فرمائشی انڈوں کے معاملوں میں وہ غریب  بھی مکمل بانجھ ثابت ہوا اور جب مہربان بڑھیا کے گھر میں موجود مرغی کی چونچ اور بلے کی نیت  نے اسے نشانے پر رکھا تو اس راج ہنس نے وہاں سے بھی رخصت میں ہی عافیت سمجھی۔ اپنی سرمایہ کاری کے اس طرح ڈوبنے پر وہ مہربان بڑھیا کس طرح  غصہ ہوئی اور  کیسے اس نے وہاں سے گزرنے والے ہر جانور کو روک کر اس راج ہنس کی کم ظرفی کی کہانی سنائی، چونکہ اس بارے میں پچھلی کہانی خاموش تھی تو ہم بھی یہاں اس بڑھیا کا پردہ رکھتے ہوئے آج کی داستان کو راج ہنس پر ہی مرکوز رکھتے ہیں۔

داستان گو بتاتے ہیں کہ راج ہنس  نے بڑھیا کے پاس سے فرار اختیار کرنے  کے بعد تنہائی کے ایام میں اس راج ہنس نے کچھ وقت سرکنڈوں کے ایک ڈھیر کے بیچ میں بھی گزارا جہاں اس نے دور آسمان پر اڑتے ہوئے  ہنسوں کا ایک  جھنڈ دیکھا اور ایک بار دل میں تمنا کی کہ کاش وہ بھی کبھی ان جیسا ہو سکے۔ شاید وہ اس جملے سے تمام انسانوں کی ہوس کا بھرم رکھنا چاہتے ہیں کہ اپنے سے ارفع لوگوں سے منسلک ہونے کی ہوس  محض ہم انسانوں تک ہی محدود نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصواب

بتانے والے بتاتے ہیں کہ تنہائی کا وہ عرصہ اس ہنس کی زندگی کا ایک ایسا دور تھا کہ جس میں جسمانی ارتقا کے ساتھ ساتھ  اس کی سوچ  بھی ارتقا پا رہی تھی ۔ مگر انسان ہو یا ہنس، زندگی آزمائشوں کا دوسرا نام ہے لہٰذا وہ ایام بھی گزرے اور جاڑے نے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور  جب زمین کو سفیدی کی چادر نے اپنے اندر چھپا لیا تو  مجبورا اس ہنس کو  بھی غذا کی تلاش میں اپنے ٹھکانے سے باہر آنا پڑا۔  ہر طرف پھیلی برف کی چادر  گو نگاہوں کے لئے  بہت دلآویز  تھی مگر زمین  پر پائی جانے والی اکثر خوبصورت چیزوں کی طرح یہ بھی فیض سے مکمل عاری تھی۔  نظاروں سے دل بہلانے کے دوران جب بھوک کا احساس جاگا تو ذوق  نظارہ کے جانے کا کرب اور بھوک کی تکلیف کی آزمائش سے نڈھال ہو کر اس کہانی کا راج ہنس بھی بے ہوش ہو کر گر پڑا تھا۔

آنکھ کھلنے پر اس نے خود کو  ایک غریب کسان کے گھر میں پایا تھا جو بازار سے ہنس خرید کر پالنے کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے بخوشی زمین پر پڑے اس نیم مردہ ہنس کو اٹھا کر اپنے گھر لے آیا تھا تاکہ اس کے ننھے اور معصوم بچے اپنے پڑوس کے اپنی ہی طرح کے غریب بچوں پر   گھر میں ہنس ہونے کا رعب جھاڑ سکیں۔   مگر وقت کے ساتھ وہ ہنس اتنا بڑا ہو گیا کہ کسان کا جھونپڑا اس کے لئے چھوٹا پڑ گیا اور مجبورا کسان اسے دریا کے کنارے چھوڑ آیا  کہ جہاں اس جیسے ہی دیگر کئی ہنس  انسانوں اور دیگر کمتر مخلوقات سے مناسب فاصلہ  برقرار رکھتے ہوئے تیرنے میں مصروف تھے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ اس نووارد ہنس کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ تمام ہنس اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے اور یہ غریب اس وقت تک اس توجہ کی وجہ سمجھ نہیں پایا  تھا کہ جب تک اس نے خود پانی میں اپنا عکس دیکھا اور یہ جانا کہ  وہ کس حد کا خوبصوت راج ہنس بن چکا ہے۔

اصولی طور پر زندگی کو اب اس پر مہربان ہوجانا چاہئے تھا اور سب کے ہنسی خوشی رہنے پر کہانی ختم ہوجانی چاہئے تھی مگر یہ دوسری بار کا ذکر ہے اور دوسری بار کا ہنس اپنے ارتقا پر بہت نازاں تھا اور چاہتا تھا کہ ترقی کا یہ سفر جاری رہے لہٰذا چند ہی دنوں میں اس کی جسامت دریا میں موجود کسی بھی ہنس سے اضافی ہوچکی تھی اور ارتقا کا یہ سفر ابھی بھی ایک نامعلوم منزل کی طرف جاری تھا۔ دریا کے وہ تمام ہنس جو پہلے اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے، اب اس سے خائف ہو کر اپنا راستہ بدل لیا کرتے تھے۔اور پھر ایک دن  ،شناخت کے سفر کے اختتام پر اور اپنے جیسے سمجھے جانے والوں کے بیچ پہنچ کر بھی   یوں تنہائی کی زندگی گزارنے کی وحشت اس ہنس کو اس دریا سے نکال کر واپس جنگل میں لے آئی۔

بڑھتے بڑھتے اب اس کی قامت ایک شتر مرغ کے برابر ہوچکی تھی۔ وہ گردن اٹھا کر دیکھتا تو  مرغیوں اور بلیوں کو خود سے  گھبرا کر ادھر ادھر چھپتے دیکھ سکتا تھا۔ شاید کسی اور حالت میں یہ منظر اس کے لئے بہت خوش کن ہوتا مگر اندر موجود چنگاریوں اور ان کے دھویں کی وجہ سے ہونے والی بے دمی کی کیفیت اسے کسی بھی چیز سے محظوظ ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی۔ اس  نے تازہ ہوا کی جگہ بنانے کے لئے اندر موجود دھویں کو زوردار پھونکیں مار مار کر نکالنا شروع کردیا۔  تھوڑی ہی دیر میں  پھونکوں کے ساتھ نکلنے والی اس کے اندر کی آگ سے اردگرد کے درخت دھڑادھڑ جلنے لگے تھے۔

دور جنگل کے کنارے ، ایک درخت پر بیٹھا کہن سالہ و جہاں دیدہ الو تاسف سے سر ہلانے میں مصروف تھا۔ جنگل میں اژدھا (ڈریگن) واپس آگیا تھا۔

جمعرات، 26 اگست، 2021

گھناؤنا

 کہتے ہیں جس کے اپنے چھوٹ جائیں اسے غیر مل جاتے ہیں۔    یہ اور بات ہے کہ بعض انسان اپنوں کے دئے گئے تجربات کے زہر سے اتنے مردہ ہوچکے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی لاش کو کاندھا دینے والے پرایوں کے احسان تو دور، وجود  تک کا ادراک نہیں ہوتا۔  ان کی زندگی اس راوس مچھلی کے مصداق ہوتی ہے جو اپنی اصل کی تلاش میں سرگرداں، کھلے سمندروں سے بیزار ،واپس اس ندی کو جانا چاہتی ہو کہ جہاں اس نے جنم لیا تھا۔  مچھلی چونکہ بالعموم کم فہم جانور ہے لہٰذا اپنی جائے پیدائش کو ہی اپنی اصل سمجھ کر مطمئن ہوجاتی ہے جبکہ انسانوں میں سے جو تھوڑے ذی شعور ہوجاتے ہیں وہ یہ جان رکھتے ہیں کہ ان   کی اصل ان کی جائے پیدائش سے کہیں پرے ہے۔  اور پھر ان کی تلاش کا سفر ہی ان کی واپسی کا سفر بن جاتا ہے۔

      یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی انسان کی ہے جو واپسی کے سفر میں تیز قدم چلتا ہوا اس وقت سمندر کے اوپر موجود نیٹی جیٹی کے برج پر کھڑا ہوا خودکشی کے لئے چھلانگ لگانے ہی والا تھا۔ اگر وہ بروقت چھلانگ لگا دیتا تو آپ اس کہانی کی جگہ اخبار میں اس کے متعلق خبر پڑھ رہے ہوتے مگر جو انسان تقدیر کے ہاتھوں تنگ ہوکر زندگی ختم کردینے کی نہج پر پہنچ چکا ہو اس پر موت کے معاملے میں بھی تقدیر کیونکر مہربان ہوسکتی ہے؟  ابھی وہ  چھلانگ لگانے کے لئے پر تول ہی رہا تھا کہ اس ہی برج  کی کگر پر لیٹے ہوئے ایک افیمی نے لپک کر اس کی ٹانگیں پکڑ لیں  ۔ اول تو اسے لگا کہ تقدیر بالآخر اس پر مہربان ہوگئی ہے اور دنیا میں اجنبی اور افیمی ہی سہی مگر کوئی انسان ایسا بھی ہے کہ جسے اسکی موت سے فرق پڑتا ہے۔ جو نہیں چاہتا کہ وہ مایوس ہو کر ہمت چھوڑ بیٹھے۔ جو چاہتا ہے کہ وہ  لڑے اور دنیا  سے ہار نہ مانے۔ اس کی خوش فہمیوں کا سلسلہ کسی اکیسویں صدی کے شاعر کی بے وزنی گزل کی طرح دراز ہوتا  ہی جا رہا تھا کہ افیمی کی  آواز اسے حقیقت کی دنیا میں کھینچ لائی جو اس سے درخواست کر رہا تھا کہ اگر چھلانگ ہی لگانی ہے تو تھوڑا آگے پیچھے ہوکر لگا لے کیونکہ اگر اس نے اس کے برابر میں کھڑے ہو کر چھلانگ لگائی تو خدشہ ہے کہ چھپاکے سے پانی اوپر تک اچھل کر آئے گا اور بہت مشکل سے حاصل کردہ اس کے نشے کو برباد کر جائے گا۔ 

افیمی کی بات سن کر پہلے تو اس کا دل کیا کہ اپنی خودکشی سے پہلے اس خودغرض افیمی کو ہی اٹھا کر سمندر میں پھینک دے  مگر وہ فطرتا ایک انسان پرور آدمی تھا اور اپنے علاوہ کسی اور کی جان نہیں لے سکتا تھا۔ دوسرا خیال  جو فوری طور پر دماغ میں آیا وہ یہ تھا کہ برج سمندر سے اتنا بلند تھا کہ چھینٹوں کے اوپر تک پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر اس خیال کے آتے ہی افیمی کے حال اور اس کے منفرد خدشات پر بے ساختہ اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ افیمی جو آنکھوں کو میچ کر روشنی  سے لڑتے ہوئے اس کی جانب دیکھ رہا تھا ، اسے مسکراتا ہوا دیکھ کر اس  ہی کی ٹانگوں کا سہارا لے کر اس کے برابر میں کھڑا ہوگیا۔  اب صورتحال یہ تھی کہ برج کی کگر پر وہ دونوں کھڑے تھے اور دونوں نے  سہارے کے لئے ایک دوسرے کو تھام رکھا تھا۔ برج ویسے ہی خودکشی کے حوالے سے بدنام تھا تو  دو مردوں کو برج کی کگر پر کھڑا دیکھ کر آتی جاتی گاڑیاں اور موٹرسائکلیں بھی رکنا شروع ہوگئی تھیں۔  وہ ابھی معاملے کو سمجھنے کی کوشش  کر ہی رہا تھا کہ افیمی نے جھومتے ہوئے اسے یاد دلایا کہ  اگر وہ ایسے ہی  برج پر کھڑے رہے تو اقدام خودکشی کے مقدمے میں اندر ہوجائیں گے  ۔  پولیس کچہری سے زیادہ ایک افیمی کے ساتھ گرفتار ہونے اور اس سے جڑی افواہوں  اور ان افواہوں کے نتیجے میں ہونے والی اس  کے گھر والوں کی ممکنہ خفت  کے خیال سے وہ فورا افیمی کا ہاتھ تھام کر کگگر سے نیچے اتر آیا۔  خودکشی کے نتیجے میں جو کچھ  بدنامی ہوتی، اس کا معاملہ اور تھا کہ اسے دیکھنے اور سہنے کے لئے وہ خود موجود نہیں ہوتا مگر  گرفتاری کی صورت میں اس کا خودکشی کا منصوبہ ادھورا رہ جانا تھا اور وہ اپنی پہلے سے اذیت ناک زندگی میں مزید تلخیاں نہیں گھولنا چاہتا تھا۔

دونوں کو کگر سے نیچے اترتا  دیکھ کر راہگیر   ،بکتے جھکتے دوبارہ اپنی منزلوں کی جانب رواں ہونے لگے۔ افیمی  کہ جس کی آنکھیں اب کافی حد تک کھلنے لگی تھیں، نے بغور اس کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ وہ پینتیس برس کا ایک مضبوط قامت والا جوان تھا۔ جسم کسرتی نہ سہی مگر اضافی چربی کے بوجھ سے عاری تھا۔ چہرے پر بدسلیقی سے  ترشی ہوئی ہلکی داڑھی موجود تھی گویا وہ انسان خود ہی یا کسی نو آموز حجام سے داڑھی بنواتا  رہا ہو۔ اور ان سب عام سی پائی جانے والی تفصیلات  میں جو چیز اسے خاص بنا رہی تھی وہ اس کی قمیض کی آستینوں سے جھانکتی ہوئی اس کی مگرمچھ جیسی کھال تھی۔  افیمی نے اگر طب پڑھ رکھی ہوتی اور جان رکھتا کہ یہ سورائسز نامی بیماری کا شاخسانہ ہے جو محض چھونے سے نہیں پھیلتی، تب بھی شاید وہ اس ہی طرح گھبرا  اور گھن کھا کر پیچھے ہٹتا جیسے نیم نشے کی حالت میں اس  وقت وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا تھا۔

افیمی کے اس طرح پیچھے ہٹنے سے اسے یاد آگیا تھا کہ وہ یہا ں کیوں موجود تھا اور یہ بھی کہ اسے اب تک کیوں موجود نہیں ہونا چاہئے تھا۔  مگرکچھ بھی کرنے سے پیشتر،  برسہا برس کی عادت سے مجبور ہوکر بے ساختہ اس کے منہ سے یہ جملہ میکانکی انداز میں  نکل پڑا تھا کہ، گھبرائیے نہیں! یہ بیماری کسی کو چھونے یا اس کے قریب کھڑے ہونے سے نہیں پھیلتی۔  اور اس سے پہلے کہ وہ واپس کگر پر چڑھنے کے لئے قدم بڑھاتا ، افیمی نے    معذرت خواہانہ انداز میں  اس کے قریب آکر اس سے چھلانگ لگانے کا سبب دریافت کر لیا۔   شاید زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے کسی کو اپنی بیماری کے متعدی  نہ ہونے  کی بات  پر یقین کرتے دیکھا تھا   یا شاید   بہت مدت بعد اس میں یہ امید جاگی تھی کہ کوئی اسے سمجھنے کے لئے سنے گا ، وجہ بہرحال جو بھی رہی ہو، اس نے چاہا کہ وہ اس انجان افیمی سے اپنے دل کا احوال کہے سو اس نے   بلا کم و کاست اسے بتا دیا کہ زندگی  اور رشتوں سے ملنے والی تکالیف سے زچ ہوکر وہ اپنی زندگی کی  ریل کو یہیں روک دینا چاہتا ہے۔ جذبات کی رو میں اپنی داستان الم سناتے ہوئے اسے یہ دھیان بھی نہیں تھا کہ سوال کرنے کے بعد افیمی کا دھیان  اس پر سے ہٹ کر اپنے پھٹے ہوئے کرتے کی جیب پر چلا گیا ہے اور  وہ اس میں چیزیں نکال کر افیم کی پڑیا تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ جب وہ اپنی داستان سنا نے کے بعد دم لینے کے لئے رکا تو افیمی نے اسے دوبارہ مصروف کرنے کے  لئے ایک اور سوال داغ دیا کہ اتنی کم عمر میں اگر وہ دنیا سے جا  ہی رہا ہے تو کیا اس نے اپنی زندگی کی ساری حسرتیں پوری کر لیں؟ یا کم از کم وہ حسرتیں  کہ  جن کو پورا کرنا دسترس میں ہے ؟  افیمی کا سوال اس کے لئے غیر متوقع تھا  اور اس نوعیت کا سوال اگر متوقع ہو بھی تو اچھا خاصہ حاضر دماغ انسان بھی  جواب دینے سے پہلے چند  لمحات سوچتا ہے۔ اس نے بھی اپنے دل اور دماغ کے کونوں کو کھنگالا اور سچائی کے ساتھ بول دیا کہ ایسا نہیں تھا۔ زندگی میں چند ایسی حسرتیں بہرحال باقی تھیں کہ جن کی تکمیل کے لئے مزید کوشش کی جاسکتی تھی۔ افیمی کہ جو اتنی دیر میں سامان میں سے اپنی افیم کی پڑیا  کھوج چکا تھا ، یہ کہہ کر آگے بڑھا گیا کہ تو پھر مرنے کی اتنی جلدی کیا ہے؟ ایک مہینے تک اور کوشش کر لو۔ ہو سکتا ہے کم حسرتیں لے کر مرو؟  خودکشی کا کیا ہے؟ وہ تو تمہارے اپنے اختیار  میں ہے۔ آج نہیں تو تیس دن بعد کر لینا؟ تیس دن بعد کر لینے سے کون سا تمہیں زیادہ گناہ مل جائے گا؟

افیمی تو کہانی میں اپنا کردار مکمل کرکے  ویسے ہی آگے بڑھ گیا کہ جیسے ہماری زندگی کی کہانیوں میں بہت سے لوگ آتے ہیں کہ جن کے بارے میں سب کو یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ ہماری زندگی کے سب سے اہم کردار ثابت ہوں گے اور ان کی آمد سے لے کر ہماری زندگی  کے ناٹک کے اختتام تک ان کا کردار اس واہیات ناٹک میں مرکزی  حیثیت کا حامل رہے گا اور پھر وقت ثابت کرتا ہے کہ ان  کا کردار محض ایک افیمی کا تھا کہ جو اپنے نشے کی تلاش کے دورانیے تک ہماری زندگیوں میں شامل رہتا ہے اور نشہ میسر آتے ہی واپس کگر پر لیٹنے چلا جاتا ہےتاکہ کسی اور کے پیروں سے لپٹ سکے۔  مگر یہ سب فلسفے کی باتیں ہیں اور  فلسفہ محض مولانا روم یا  انگریزی زبان میں لکھنے والے ادیبوں پر سجتا ہے سو ہم اس سستے فلسفے کو یہیں چھوڑ کر واپس اپنی کہانی کی طرف لوٹ جاتے ہیں کہ جہاں ایک انسان اپنی خودکشی کو تیس دن  کے لئے موقوف کر کے زندگی سے جڑی اپنی حسرتوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔

طویل کہانیوں کے بارے میں میرا آج بھی یہی ماننا ہے کہ انہیں وہ غریب لکھتے ہیں کہ جو کم الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر نہیں جانتے سو مزید غیر ضروری تفصیلات کو  حذف کرتے ہوئے کہانی کے مرکزی خیال پر واپس آتے ہیں کہ اگر انسان کے پاس یہ اختیار موجود ہو کہ بیماری،  خوف اور بھوک سے نیاز ہو کر اگر وہ اپنی زندگی کی گھڑی کا وقت خود معین کر سکے تو کون سے ایسے کام ہوں گے جنہیں وہ کرنا چاہے گا؟ اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ اگر وہ کام واقعی اتنے اہم تھے تو اس سوال سے پہلے ہم انسانوں نے انہیں مکمل کیوں نہیں کیا تھا؟  چونکہ ان سوالات کے جواب  آپ کے پاس بھی نہیں ہیں اور میرے دئے گئے جوابات کتنے ہی سچے اور دل کو لگتے ہی کیوں نہ ہوں، مفت میں ملی ہوئی نصیحت کی انسانوں نے کبھی قدر نہیں کی لہٰذا ان واہیات اور کیپٹلزم سے نفرت دلاتے ان سوالات کو یہیں چھوڑ کر ہم واپس کہانی کی طرف جاتے ہیں کہ جہاں ایک انسان کی  زندگی کی پانچ بڑی حسرتوں میں سب سے بڑی حسرت یہ تھی کہ اس کی کھال پر آئے ہوئے ان چھلکوں کی وجہ سے شروع میں اپنی دوستوں کے سامنے  اور بعد میں گھر کے اندر بھی اس سے گھن کھانے والی اس کی اپنی دس سالہ  سگی بیٹی ، ایک مرتبہ، محض ایک مرتبہ، گھن کھائے بغیر اس کے گلے لگ سکے! 

جانتا ہوں کہ لٹریچر کسی بھی زبان کا ہو اس میں لیکھک کا قلم خون میں جتنا گہرا ڈوبے گا، لکھاری کا لقمہ اتنا ہی تر کرتا جائے گا مگر  رشتوں میں بے بس ایک باپ کی  لاش نوچ کر کھانے سے بہتر  ہے کہ میں کہانی کو مختصر کرتے ہوئے آپ کی تسلی کے لئے محض اتنا بتا دوں کہ جب اٹھائسویں دن بالآخر قسمت اس پر مہربان ہوگئی  اور دو دن بعد آنے والی حرام موت سے  اسے بچاتے ہوئے شدت غم سے جب اس کے دماغ کی شریان پھاڑ کر اسے دنیا سے خود ہی اٹھا لیا گیا۔ اور ہاں، جب جنازہ اٹھانے سے پہلے اس کی ننھی شہزادی کو بتایا گیا کہ بابا اب کبھی واپس نہیں آئیں گے تو وہ    دوڑتی ہوئی جا کر خوشی سے باپ کی لاش سے لپٹ گئی۔   جانتا ہوں کہ سورائسز موروثی بیماری ہے اور نسل در نسل منتقل ہوتی ہے مگر یہ کہانی پھر سہی۔ فی الحال وہ ننھی شہزادی خوش ہے اور بیٹیاں خوش ہی اچھی لگتی ہیں۔

جمعرات، 20 مئی، 2021

مردہ باد

 

بے بسی کی آخری حد احتجاج ہوا کرتی ہے اور جب یہ حد بھی عبور ہوجائے تو انسان اس کیفیت کو صبر آجانے سے تعبیر کیا کرتے ہیں۔ فلسطین کے مسئلے کو لے کر ان دنوں مسلم امہ ایک بار پھر سراپا احتجاج تھی۔ دنیا بھر میں کہ جہاں مسلمان موجود تھے، احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جا رہے تھے۔ عوامی جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے ،  بالعموم غیر جانبدار رہنے والے لوگ بھی ان مظاہروں میں شریک تھے اور یہودیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے اڑھائی سو کے قریب مسلمانوں کے خون نے امت کو یکجا کرنے کا وہ عظیم کارنامہ  سر انجام دے دیا تھا جس کی حسرت میں مسلکی اختلافات کے طفیل  اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں بہنے والا ہزارہا مسلمانوں کا  خون آج بھی سڑکوں پر بہہ رہا ہے ۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا کہ ہر قسم کی سچ سے سائنائیڈ سے لبریز  بات فی زمانہ معترضہ ہی ٹھہرائی جاتی ہے۔

مئی کا مہینہ تھا اور گرمی اپنے جوبن پر  تھی۔ مظاہرین کی سہولت کے پیش نظر اور انقلاب کو دھوپ میں  خراب ہونے سے بچانے کے لئے شہر کے چند نوجوانوں نے رات گئے مرکزی چوراہے پر احتجاج کا پروگرام بنایا تھا اور رات گیارہ بجے کے قریب وہ سب مقررہ مقام پر جمع ہوگئے تھے۔  فلسطین کے بینر اور مجمع میں شامل نوجوان خواتین کو  دیکھ کر قریب میں موجود چاء کے ہوٹل کے گاہک اور اردگرد کے دکاندار بھی مظاہرے میں شامل ہوگئے اور تھوڑی ہی دیر میں وہاں سو ڈیڑھ سو افراد کا ایک چھوٹا سا ہجوم جمع ہو چکا تھا۔  منتظمین نے جب مظاہرین کی تسلی بخش  تعداد دیکھ لی تو فیس بک پر لائیو سٹریم شروع کر کے مظاہرے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور سب سے پہلے سپرے پینٹ کی مدد سے نوجوان لڑکے لڑکیاں چوراہے کی چاروں جانب اسرائیل کے جھنڈے بنا نے میں مصروف ہوگئے تاکہ ان پر سے انجانے میں گاڑیاں گزار کر لوگ ایک ظالم کے خلاف اپنی نفرت کو ثابت کر سکیں۔

اس علامتی کاروائی سے فراغت کے بعد تقاریر کی باری آئی اور مقررین نے دلائل کی مدد سے ثابت کیا کہ  محض ان کے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ سے  اسرائیل کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور پاکستان میں دستیاب تمام یہودی کمپنیوں کی مصنوعات کے استعمال سے اصل فائدہ دراصل صرف پاکستان کا ہوتا ہے لہٰذا جو لوگ فلسطین کے بیچارے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے اسرائیل کی ہمنوا و مددگار کمپنیوں کی مصنوعا ت  کے بائیکاٹ کے بارے میں بات کرتے ہیں وہ زمینی حقائق سے ناآشنا وغیرہ ہیں۔ مسائل کا اصل حل اس وقت تک نہیں نکل سکتا جب تک اس ملک کے سیاست دان چوری سے باز نہیں آجاتے اور ہمیں نیک، پاکباز اور ایسے ہی چند دیگر کتابی القابات پر مشتمل سیاسی قیادت میسر نہیں ہوجاتی یا  جب تک ایسی قیادت کو مکمل اختیارات وغیرہ نہیں مل جاتے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس پرخلوص اور مدلل گفتگو کے بعد سامعین تالیاں پیٹتے مگر ایک جاہل دکاندار نے مائک پر بولنے کی خواہش کا اظہار کردیا اور مظاہرے کی ناتجربہ کار قیادت نے ستائش کے چند کلمات کے دھوکے میں مائک اس ناہنجار کے حوالے بھی کردیا۔  اس کم عقل انسان نے مائک سنبھال کر احتجاج کی علامتی حیثیت اور پیغام کے پرزور طور پر پہنچنانے کے لئے بائکاٹ کی افادیت   پر زور دینا شروع کردیا۔ وہ چونکہ خود دکاندار تھا تو پوری دنیا کو بازار سمجھ بیٹھا تھا کہ جہاں ہر چیز پیسے اور گاہک کی پسند ناپسند کے گرد گھومتی ہے۔  اس نے تو مائیک پر آکر اپنی بھڑاس نکال لی مگر مظاہرین کو واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم کردیا۔

منتظمین نے جب  معاملہ بگڑتے ہوئے دیکھا تو پروگرام میں تبدیلی لاتے ہوئے باقی ماندہ تقاریر کو ملتوی کر کے اسرائیل کے علامتی پتلے کو نذر آتش کرنے کی تیاری شروع کردی گئی تاکہ ظالم کے خلاف سینوں میں جلنے والی آگ کو کپڑے اور بھوسے کے ایک پتلے کے ذریعے اندر سے نکالا جاسکے اور لوگ اپنے حصے کا احتجاج مکمل کرکے اگلے رمضان کی فلسطین پر اسرائیلی جارحیت تک کے لئے دوبارہ اپنی معمول کی زندگی  میں مصروف ہوسکیں۔

جیسے ہی پتلا تیار ہوا اور منتظمین نے اسے بیچ چوراہے پر ٹریفک سگنل کے کھمبے سے علامتی پھانسی لگا کر لٹکانے کے لئے مشعل جلائی، ہجوم میں سے ایک بھکاری نکل کر کر آیا اور بھاگ کر اس پتلے کے پیروں سے لپٹ گیا۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ وہ انہیں اس پتلے کو نذر آتش کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور فی الفور اس پتلے کو نیچے اتارا جائے۔  حقیقت جو بھی ہو مگر بھکاریوں کے روپ میں گھومنے والے غیر ملکی جاسوسوں کی کہانی ہم اور آپ نے بھی سنی ہیں سو میں اس معاملے میں ان مظاہرین کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتا جنہوں نے اس غیر ملکی جاسوس کو لاتوں اور گھونسوں کی زد پر لے لیا اور جب وہ  نڈھال ہوکر گرپڑا تو اس کی نظروں کے سامنے  ہی اس پتلے کو آگ لگا دی گئی۔ ہجوم تو شاید پورے اسرائیل کا بدلہ اس جاسوس سے لے لیتا مگر حسب روایت غلط وقت پر پولیس پہنچ گئی اور اسے تفتیش کے لئے اپنے ساتھ لے گئی۔

میں وہیں پولیس وین کے ساتھ کھڑا سگریٹ پیتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہا تھا جب پولیس والے اسے اٹھا کر  لائے۔ اسے وین کے اندر پھینک کر وہ لوگ  کسی بھی اور ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لئے وہیں کھڑے ہوگئے تھے۔ میں نے پولیس وین میں سے کسی کے کراہتے ہوئے رونے اور کوسنے کی آواز سنی کہ ، میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ پتلا جلانا ہی ہے تو میری اس قمیض میں بھوسا بھر کر جلا دو اور یہ نئی قمیض شلوار مجھے دو۔ ظالموں نے نیا قمیض شلوار جلا دیا۔ میں نے باقی آدھا سگریٹ نیچے پھینکا اور اسے پاؤں سے مسلتا ہوا مظاہرین میں شامل ہوکر ان کے ساتھ نعرے لگانے میں مصروف ہوگیا۔ فلسطین زندہ باد۔ اسرائیل مردہ باد!

ہفتہ، 1 مئی، 2021

زٹل

 

ہم انسان ایک روح ہیں کہ جسے ایک جسم دیا گیا ہے یا پھر ہم ایک جسم ہیں کہ جسے ایک روح ودیعت کی گئی ہے؟  اس کہانی کے برے یا بھلے اور جھوٹے یا سچے  ہونے کا کل  دارو مدار آپ کے نقطہ نظر پر  ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ ایک جسم ہیں جسے ایک روح عطا کی گئی ہے تو عیش کیجئے ۔ کہانیاں روح کی تالیف اور تربیت کے لئے ہوتی ہیں  اور جب آپ نے روح کو ثانوی تسلیم کر ہی لیا ہے تو اس کی ضروریات بھی آپ کے لئے ثانوی ٹھہریں گی اور ایک ثانوی چیز کی تسکین کے لئے کہانی سننے اور پڑھنے ایسا وقت کا زیاں   چہ معنی ؟ البتہ اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ انسان ایک روح ہے اور اسے ایک عارضی جسم عطا کیا گیا  ہے تو پھر آپ کو یہ بھی ماننا  ہو گا  کہ روح  کے بنیادی اور جسم کے ثانوی ہونے کے ناتے ، روح کی ضروریات ہی آپ کی بنیادی ضروریات ہیں اور اس کہانی کا سننا آپ کے لئے لازم ہے کہ یہ کہانی میرے اور آپ جیسے ہی ایک انسان  کی ہے جو اپنی روح کی بقا کی خواہش میں وقت نامی سمندر میں بہتا ہوا ایک ایسےجزیرے پہ جا رکا تھا کہ جہاں اس سے پہلے کسی انسان کے قدم تو کیا سوچ کی پرچھائی بھی نہ پڑی تھی۔

تبدیلی  اپنے ادراک کے مکمل ہونے سے پہلے تک ہمیشہ خوبصورت ہوا کرتی ہے۔  گو کہ اس جزیرہ پر کسی بھی قسم کی حیوانی و نباتاتی حیات کا گزر نہیں تھا مگر پھر بھی وہ اس کے لئے زمین پر جنت کا ایک ٹکڑا تھا۔ خود اس کا دریافت شدہ۔ زندگی کے ہر احساس سے عاری، مگر مکمل اس کا۔  وہ دن بھر  اس جنت کے مختلف گوشوں کی سیر کرتا اور شام ڈھلتے ہی اس امید پر ساحل پر آ بیٹھتا کہ مبادا    کوئی بھولا بسرا مسافر کبھی اس جزیرہ پر آ نکلے   تو جزیرہ کو غیر آباد جان کر واپس نہ پلٹ جائے ۔  انجان چیزوں کو لے کر انسانی فطرت کا تجسس اپنی جگہ مگر وہ یہ جانتا تھا کہ  ویران جگہوں کا خوف انسان ایسے معاشرتی حیوانوں کی سرشت میں ازل سے موجود ہے۔

وقت کا احساس فکر کے ساتھ منسلک ہے اور جنت میں چونکہ تفکرات نہیں ہوتے لہذا وہ بھی اب سمے کی قید سے آزاد ہو چکا تھا۔ سورج کے ڈھلنے اور اگنے سے دن کی تبدیلی کا احساس اپنی جگہ موجود تھا مگر جسے آپ وقت کہتے  اور سمجھتے ہیں، وہ اس کے حساب اور فکر سے مکمل آزاد تھا۔ خدا جانے اس جنت میں اس پر کتنے زمانے بیت چکے تھے جب پہلی مرتبہ اسے اپنی زندگی سے محروم جنت کا مکمل ادراک اور پہلی مرتبہ بھوک کا احساس ہوا تھا۔  جنت میں غذا کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ اس دن پورا وقت ساحل پر شکار کی تلاش میں گھومتا  اور کسی نہ آنے والے مسیحا کوچیخ چیخ کر پکارتا رہا  مگر وہ ساحل بھی اس  جزیرے سے اپنے تعلق کے طفیل زندگی کے لئے مکمل بانجھ ہو چکا  تھا۔ اور پھر اس جیسے کتنے ہی دن رات وہ  اس ساحل اور جزیرے پر ایک غیر حاضر غذا کی تلاش میں دیوانہ وار گھومتا رہا  اور مدد کے لئے پکارتا رہا ، یہاں تک کہ نڈھال ہو کر  گر نہ پڑا۔

انسانی خواہشات میں سب سے گراں  اور عظیم تر خواہش بقا کی ہوتی ہے۔ جب وہ جزیرے پر غذا کی موجودگی اور باہر سے آنے والی کسی بھی امداد  سے مکمل مایوس ہوگیا تو اس نے زمین پر پڑے پڑے ہی اپنے قریب سے ایک نوکیلا پتھر اٹھایا اور اپنے وجود کی تمام تر توانائی بروئے کار لاتے ہوئے اپنی پنڈلی میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹا اور اٹھنے والی ٹیسوں اور بہنے والے خون سے بے نیاز ہوکر اپنی ہی بوٹی کو چبانے میں مصروف ہوگیا۔ گوشت پیٹ میں اترنے سے کچھ حواس بحال ہوئے تو اس  نے گیلی مٹی کا لیپ لگا کر زخم کو مندمل کیا اور بہت مدت کے بعد سکون کی نیند سوگیا۔

خدا جانے وہ کتنا عرصہ سوتا رہا اور نجانے کتنی ہی مدت مزید سوتا رہتا مگر واپس آجانے والی بھوک  نے اسے گڑبڑا کر اٹھنے پر مجبور کر دیا ۔  زخمی ٹانگ کے ساتھ وہ دوبارہ (انسانوں سے چوٹ کھا کر بھی ایک مختلف نتیجے کی امید لے دوبارہ  ان ہی انسانوں کے پاس واپس جانے والے  کسی انسان کی طرح )کسی معجزے کی امید کے ساتھ دوبارہ   جزیرے کے سفر پر روانہ ہو گیا کہ شاید  اس کے آنکھیں بند کر لینے سے دنیا میں کوئی تبدیلی آ چکی ہو مگر انسانوں کے دلوں ہی کی طرح بنجر پتھروں کے اس جزیرے میں بھی اس کے لئے  ماسوائے  تھکن کچھ بھی نہ تھا۔

دوسری مرتبہ جب وہ گرا تو وہ ساحل پر موجود تھا۔  اس بار اس نے  کیفیت نیم مرگ کا انتظار نہ کیا اور کمزوری کے عالم میں ہی لیپ کے لئے گیلی مٹی کی  ڈھیری جمع کر کے دوسری پنڈلی کے لئے جیب میں موجود اس قیمتی نوکیلے پتھر کو نکال لیا۔

پنڈلی کے بعد ران اور ران کے بعد ایک ہاتھ کا بازو اور بازو کے بعد کان (کہ  اسے لگتا تھا کہ اتنے برسوں کے خاموش اور تھکا دینے والے تجربات  کے بعد اسے کان نہیں محض زبان کی ضرورت تھی) اور کان کے بعد اس  کا زندگی کی حسرتوں سے بھرا  دل! جی ہاں۔ اس کا دل!  وہ ایک ایک کر کے سب کاٹ کر کھا گیا۔ اور اس سے پہلے کہ آپ میری کہانی منقطع کر کے اپنا سوال داغیں، لطف کی بات یہ کہ وہ نا صرف اس دل کو  کھا چکنے کے بعد بھی زندہ رہا  بلکہ محاورے کی زبان میں کہا جائے تو سراپا دل بن گیا۔

جانتا ہوں کہ اب تک آپ اس کہانی کو ہذیان سمجھ کر آگے بڑھ جانا چاہتے  ہوں گے مگر یہاں تک پہنچ  ہی گئے ہیں تو یہ بھی سنیں کہ جب وہ یہ تمام اعضا کاٹ پیٹ کر کھا چکا اور ایک ادھڑی ہوئی زندہ لاش بن چکا ،تو ایک دن ساحل پر ایک اور انسان نمودار ہو گیا۔ آنے والے کے رنگ، نسل، عمر اور جنس سے قطع نظر، ایک انسان!

 اس انسان نے  سفر مکمل کر کے اپنے حواس جب بحال کئے اور اپنے پیروں میں لوٹتی اس کٹی پھٹی زندہ لاش کو دیکھا تو گھن اور خوف کی آمیزش بھری ایک چیخ ماری اور اس زندہ لاش کے ہاتھ  سے وہ نوکیلا پتھر چھین کر اس وقت تک برساتا رہا/رہی  جب تک اس کے جسم کی باقیات بھی ریزہ ریزہ نہ ہوگئیں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ ریزوں میں بٹنے کے باوجود بھی  موت اس پر مہربان نہ ہوئی اور اس انسان  کو ان ہی ریزوں میں اپنی رہی سہی عمر مکمل  کرنی پڑی۔ مگر کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ پوری کہانی استعاروں کی ہے اور وہ جنت  دراصل انسانی جسم تھا اور  یہ کہانی اس میں مقید روح کی ہے کہ جو اپنی بھوک میں خود اپنے دل ، اپنے  آپ تک  کو چبا گئی۔  سنی سنائی باتوں کا کیا بھروسا؟

بلاگ فالوورز

آمدورفت