ہفتہ، 22 اکتوبر، 2016

ادیب - 4

اگر وہ واقعی اتنا ہی کھڑوس ہوا تو کیا ہوگا؟ گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے یہ سوال ایک بار پھر میرے سامنے آ کھڑا ہوا تھا مگرمیں نے ہمت جمع کرتے ہوئے اطلاعی گھنٹی بجا  ہی دی۔ مجھے انتظار نہیں کرنا پڑا تھا  اور چند ہی لمحوں میں میں ایک لائبریری نما کمرے میں موجود تھا۔ کمرا بھی اس  کی تحاریر ہی کی طرح عجیب تھا۔ تمباکو کی سوندھ کمرے میں گویا رج چکی تھی۔ کتابیں اپنی الماریوں سے زیادہ میز پر موجود تھیں گویا پڑھنے کے بعد انہیں واپس رکھنے کی زحمت نہیں کی گئی ہو۔ دیواروں پر جابجا تصاویر موجود تھیں مگر ان میں سےکوئی ایک بھی مکمل نہیں تھی۔ گویا تصویر تخلیق پاتے ہوئے درمیان میں ہی مصور کی توجہ کھو چکی ہو اور دنیا میں اگر کوئی انسان اس نامکمل  تخلیق کو اپنا سکتا یا اسے اپنے کمرے کی دیوار پر سجا سکتا تھا تو وہ یہی تھا۔  کمرے میں گرد کے آثار موجود نہیں تھے گویا وہاں باقاعدگی سے صفائی ہوتی ہو مگر گرد کی غیر موجودگی کے باوجود  یہ بے ترتیبی اس بات کی عکاس تھی کہ صاحبِ خانہ کو گندگی اور ترتیب دونوں ہی سے چڑ تھی۔ کمرے میں بیٹھ کر انتظار کرتے ہوئے میں اطراف کا جائزہ لے رہا تھا اور سنے گئے تمام تجزیے بالکل درست ثابت ہورہے تھے۔

وہ اپنے وقت کا ایک مشہور ادیب تھا۔ ایسا ہمارے جریدے کے مدیر کا ماننا تھا۔ شاید جو لوگ اسے جانتے ہوں ان میں وہ مشہور رہا بھی ہو مگر میں نے آج سے ایک ہفتے پہلے تک اس کا نام تک نہیں سنا تھا۔ اور شاید آگے بھی نہ سنتا اگر مدیر صاحب نے مجھے اس کا انٹرویو کرنے کا حکم نامہ نہ سنایا ہوتا۔  دراصل مدیر صاحب خود کسی زمانے میں اس کے قاری رہ چکے تھے اور چونکہ اب برسوں سے اس نے لکھنا ترک کر دیا تھا  سو وہ چاہتے تھے کہ میں جاکر انٹرویو کے بہانے اس کے قلم چھوڑ دینے کی وجہ دریافت کروں۔ بقول انکے وہ کئی برسوں سے اس انٹرویو کی کوشش کر رہے تھے اور اب جب انہیں کامیابی مل گئی تھی تو وہ چاہتے تھے کہ ان کا بہترین صحافی جاکر اس کارخیر کو انجام دے اس لئے یہ بلا میرے سر منڈھ دی گئی تھی۔

میری عادت تھی کہ میں کسی بھی انٹرویو میں جانے سے پہلے اس شخصیت کے بارے میں معلومات حاصل کرلیتا ہوں۔ وقت کے ساتھ  ادارے میں میرا مقام اتنا بلند ہوچکا تھا کہ میں صرف مشہور شخصیات کے انٹرویو ہی لے رہا ہوتا تھا سو بالعموم یہ معلومات بآسانی بہم ہو جاتی تھیں۔ اس ادیب کا معاملہ مگر مختلف تھا۔ ایک تو ادیب اور اوپر سے اردو زبان کا۔ معاشرے میں بیکار لوگوں سے تعلقات رکھنے کا رواج اب تقریبا ناپید ہوچکا تھا سو ایسے لوگوں کے دوست بھی ڈھونڈنےسے ملتے ہین اور بسا اوقات ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔  بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ جہاں سے معلومات کروانے پر کچھ لوگ ضرور سامنے آئے جو اس ادیب کو جاننے کے دعویدار تھے مگر ان کا سامنے آنا معاملے کو اور گنجلک کرگیا۔ ہر دوسرا شخص اس کے بارے میں ایک یکسر نئی رائے لیکر سامنے آتا اور سب کا دعویٰ یہی ہوتا کہ باقی سب دھوکہ ہے اور مصنف کو جتنی اچھی طرح وہ جانتے ہیں ویسے کوئی نہیں جانتا۔ ایک بات پر البتہ سب متفق تھے کہ وہ ایک سفاک انسان ہے۔ کڑوا بولتا ہے اور اس سے بھی زیادہ کڑوا لکھتا ہے۔ لکھتا کیا ہے باقاعدہالفاظ کی قے کرتا  ہے۔

سوشل میڈیا سے ملنے والی ان معلومات نے میرے اندر ایک تجسس بھر دیا تھا اور اب میں باقاعدہ اس ملاقات کے دن گننے لگا تھا۔  آراء کا سلسلہ ملاقات والے دن تک جاری رہا اور آج میں سوشل میڈیا سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں ایک شدید ٹھرکی، بے انتہا لالچی، حد کے کمینے، اور بلا کے سفاک وغیرہ قسم کی انسان نما مخلوق کا انٹرویو لینے اس کے گھر پر موجود تھا جہاں اس کی ملازمہ مجھے اس لائبریری نما کمرے میں بٹھا کر چلی گئی تھی اور اب میں کمرے میں ٹہلتا ہوا اس کا منتظر تھا۔

جب انتظار کرتے ہوئے کافی دیر ہوگئی تو میں ایک بار پھر کمرے کا جائزہ لینے لگا۔  ادھر ادھر نظریں دوڑاتے میری نظر اس تصویر پر جا کر ٹک گئی جس میں تمام انسان اوپر کی جانب حسرت سے دیکھ رہے تھے اور ان سب سے اوپر ایک انسان اکیلا بیٹھا اتنی ہی حسرت سے کاندھے سے کاندھا ملائے ان انسانوں کو دیکھ رہا تھا۔  اس انسانوں کے پہاڑ کے اوپر ایک بادل تھا اور بادل میں مصور نے ایک دریچہ بنانے کی کوشش کی تھی مگر کچھ سوچ کر اس دریچے کو ادھورا ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔ ابھی میں تصویر کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھاکہ پیچھے سے ایک بیزار کن آواز ابھری، ان تصاویر میں کچھ بھی نہیں دھرا ۔ جتنا غور تم لوگ تصاویر پر کرتے ہو اگر اس کی آدھی توجہ مصور کو دے دو تو شاید اس قسم کی تصاویر بنانے کی ضرورت ہی نہ پڑے! میں  نے مڑ کر دیکھا تو ایک ادھیڑ عمر انسان نشست میں دراز اپنا پائپ سلگا رہا تھا۔  میں نے لپک کر اسے سلام کیا اور اس کی سامنے والی نشست سنبھال لی۔ مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میں اپنی زندگی کا سب سے دلچسپ انٹرویو کرنے جا رہا تھا۔ اس نے پائپ پر سے نظریں اٹھا کر مجھے ناپسندیدگی سے دیکھا گویا اسے میرا اپنے سامنے بیٹھنا پسند نہ آیا ہومگر منہ سے کچھ بولے بغیر دوبارہ اپنے پائپ کے ساتھ مشغول ہوگیا۔

ایک لحظے کو تو میں شدید کھسیانہ ہوکر رہ گیا تھا مگر میں نے حواس پر قابو پاتے ہوئے اس سے بغیر اجازت بیٹھنے کی معذرت چاہی اور انٹرویو شروع کرنے کی اجازت طلب کر لی۔ میری معذرت سن کر اس کے چہرے پر تاثرات کچھ نرم ہوگئے اور اس نے رضامندی میں سر ہلا دیا گویا مجھے سوال کرنے کی اجازت دے رہا ہو۔ پچھلے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے میں نے آسان اور عام سوالات سے گفتگو کا آغاز کرنا چاہا اور اس سے اس کے بچپن ، ابتدائی تعلیم اور گھر والوں سے متعلق سوال کرلیا۔ اس نے پائپ سے ایک گہرا کش بھرا اور  دھویں کو ہوا میں اچھالتے ہوئے میری جانب مسکرا کر دیکھا اور بولا، صاحب! کیوں دونوں کا وقت برباد کرتے ہو؟ میرے بچپن سے جب مجھے خود کوئی دلچسپی نہیں تو کسی اور کو کیا ہوگی؟ اور ابتدائی تعلیم کا کیا؟ سوال یہ نہیں ہے کہ میری ماضی کی تعلیم کیا رہی ہے۔ سوال تو یہ ہونا چاہئے کہ میں اس لمحہ موجود میں کس چیز کو برحق گردانتا ہوں؟  آپ انسان زبردستی کیوں دوسروں کو ان کے ماضی کے ساتھ نتھی کرنا چاہتے ہیں؟ جب ایک چیز خدا نے گزار دی تو آپ کیوں اسے دہرانے پر مصر رہتے ہیں؟  اگر وہ میرے حق میں اتنی ہی اچھی ہوتی تو یقین رکھیے میں خود اسے کبھی گزرنے نہیں دیتا۔ خیر اب مزید وقت ضائع نہ کیجئے۔ وہ سوال کیجئے جو آپ کرنے آئے ہیں۔


مسلسل توہین کی وجہ سے اب میرے کان سرخ ہوچکے تھے اور اب میں باقاعدہ ان کو کھولتا ہوا محسوس کرسکتا تھا۔ میں نے اسے اس کی طرح برتنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سے پوچھ لیا کہ اس نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا ہے۔  کمرے میں تھوڑی دیر کے لئے خاموشی رہی اور اس دوران وہ پائپ کے کش لگاتے ہوئے مجھے نظروں میں تولنے کی کوشش کرتا رہا۔ اب مجھے اپنا آپ نہایت بچکانہ اور احمق محسوس ہورہا تھا اور میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اس کی آنکھیں نوچ ڈالوں۔ مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی بچہ اپنے باپ کے سامنے موجود ہو اور کوئی احمقانہ سوال کر بیٹھا ہو اور اب اس کا باپ سوچ رہا ہو کہ اس کی اس حماقت کا جواب کس طرح دیا جائے۔  غیر اضطراری طور پر میں نے اپنا موبائل فون جیب سے نکال لیا اور پڑھے ہوئے پیغامات کو دوبارہ دیکھنے لگا۔ میں تھوڑی دیر کے لئے بھلا دینا چاہتا تھا کہ میں کہاں اور کیوں موجود ہوں۔ وہ شاید میری کیفیت بھانپ گیا تھا اس لئے گلا کھکار کر گویا ہوا، کیونکہ تم انسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی چیز بغیر مانگے مل جائے تو تم لوگ کبھی اس کی قدر نہیں کرتے۔ تم وہ لوگ ہو جو مخلوق کی قدر کرنا نہیں سیکھ سکے تو خالق کی قدر کرنا کیا جانو گے؟  تم شاید سوچ رہے ہوگے کہ ادیب تو اپنے لئے لکھتا ہے تو معاشرے کا اس کی تحاریر کو قبول کرنا نہ کرنا یا سمجھنا نہ سمجھنا اس کے لئے کیوں اہم ہوگیا تو جان رکھو کہ بھوک میرا مسئلہ نہیں ہے۔ میں بھوکا نہیں ہوں۔ عورت کی حق تلفی پر میں کیوں روؤں؟ میں تو مرد ہوں۔ ادباء اور شعراء کی ناقدری پر میں کیوں لکھوں؟ میں ساری عمر کبھی بھی ان میں سے ایک تسلیم نہیں کیا گیا۔ اور جب تم یہ سب مانتے ہو تو یہ بھی مان لو کہ میں اپنے لئے نہیں لکھتا۔ اور جب میں تمہارے لئے لکھتا ہوں تو اگر میں لکھتا رہتا اور ساری عمر بھی لکھتا رہتا تو بھی تم لوگ کبھی اس پر کان نہیں دھرتے۔ منٹو اور ایلیا کا پیغام پھیلنے کے لئے منٹو اور ایلیا کا مرنا ضروری ہے کہ زندوں کو عزت دینا اس مٹی   اور یہاں کے لوگوں کے خمیر میں ہی نہیں ہے! جاؤ اور جاکر خبر لگا دو کہ عاطف علی بھی مرگیا۔ شاید میرا پیغام بھی سن لیا جائے۔ چاء آرہی ہے۔ پی کر جانا۔ یہ کہہ کر اس نے ایک طنزیہ مسکراہٹ میری سمت اچھالی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔  لوگ ٹھیک ہی کہتے تھے اس کے بارے میں۔ عجیب وحشی قسم کی مخلوق ہے!

پیر، 26 ستمبر، 2016

شعور

کون کہتا ہے کہ تعلیم انسان کو شعور نہیں دیتی یا شعور انسان کا پیٹ نہیں بھر سکتا؟ جیب میں بھرے نوٹوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے  جب یہ سوچ میرے دماغ میں آئی تو ایک طمانیت بھری مسکراہٹ میرے چہرے پر دوڑ گئی۔ میں جان گیا تھا کہ اب گھر میں کوئی بھی بھوکا نہیں سوئے گا اور میرے چھوٹے بہن بھائی اب دوبارہ اسکول جا سکیں گے۔
میر ا  نام عاطف علی ہے اور میں سڑک کے کنارے اپنے باپ کا چھوڑا ہوا کتابوں کا ٹھیہ لگاتا ہوں۔کہنے کو میری عمر ابھی لکھنے پڑھنے کی ہے ۔ مگرتمباکو نوشی کی زیادتی آج سے تین سال پہلے میرے باپ کو کھا گئی تھی اوربیوہ ماں اور باقی چھ بہن بھائیوں کی ذمہ داری بڑا ہونے کے ناطے مجھ پر آن پڑی تھی۔  مجھ سے چھوٹی دو بہنیں تھیں جو گھر میں اماں کے ساتھ سلائی میں ہاتھ بٹاتی تھیں  اور ان کے بعد جو دو بھائی اور دو بہنیں تھے وہ ابھی اتنے چھوٹے تھے کہ کچھ کر نہیں سکتے تھے سو پورا دن گھر میں ادھم مچاتے تھے۔ ابا کے مرنے سے پہلے میں پہلے ایک ورکشاپ پر کام کر رہا تھا مگر وہاں کا ماحول مجھے کبھی بھی پسند نہیں رہا تھا لہٰذا ابا کے جانے کے بعد میں نے ورکشاپ چھوڑ کر یہ ٹھیہ سنبھال لیا تھا۔ 
کتابوں کا کام بھی ہوائی روزی تھی۔ جہاں میرا ٹھیہ واقع تھا وہاں قطار سے آٹھ دیگر کتب فروش موجود تھے۔ ہم سب اٹھتے بیٹھتے  روزانہ یہی دعا کرتے تھے کہ کسی انگریز لکھاری کی کوئی نئی کتاب آجائے تو ہماری دکان بھی چل سکے ورنہ سارا سال محض نصاب کی کتب یا مشہور انگریزی کتابوں کی استعمال شدہ کاپیوں پر ہی گزارا کرنا پڑتا تھا اور ان پر مقابلہ سخت ہونے کی وجہ سے بچت بہت کم ہوپاتی تھی۔ باقی دکانداروں کی طرح میں خود بھی اس کام سے مطمئن نہیں تھا مگر واپس ورکشاپ جانے کا تصور اور استاد کا بہانے بہانے سے پیچھے والے اسٹور روم میں لے جانا یاد کرتا تو جھرجھری لے کر ایسے کسی بھی خیال کو ترک کردیتا تھا۔شاید باقی دکاندار بھی ماضی میں کسی ورکشاپ میں کام کر چکے تھے اس لئے ہم سب ہی سالہاسال سے تنگی کی زندگی گزارنے کے باوجود اپنے ٹھیے خالی کرنے پر تیار نہیں تھے۔
میں روزانہ صبح گیارہ بجے ٹھیہ سجا لیتا تھا  مگر  گاہکوں کے آنے کا وقت جامعات کی چھٹی کے بعد ایک گھنٹے یا دفاتر سے واپسی میں رکنے والے چند مخصوص سنکیوں کا ہی تھا جو آج کے زمانے میں بھی کتاب سے شغف رکھتے تھے اور نئی کتاب خریدنے کی استظاعت نہ رکھنے کی وجہ سے آتے جاتے ہمارے پاس  رک جاتے تھے۔ باقی دکاندار تو وقت بتانے کے لئے ٹھنڈے وقت میں ایک دوسرے  سے ہنسی مذاق کرکے گزار لیتے تھے مگر میری عمر محض سولہ سال ہونے کی وجہ سے مجھے اس گفتگو سے باہر رکھا جاتا تھا۔ کرنے کو کوئی اور کام ہوتا نہیں تھا سو میں نے اپنے ہی ٹھیے پر برسوں سے نئے قاری کی منتظر کچھ اردو ادب کی کتابیں کھنگالنی شروع کردیں۔ اردو ادب پڑھنے کی دو ہی وجوہات تھیں۔ پہلی اور سب سے اہم وجہ یہ کہ یہ کتابیں پچھلے تین سال سے کہ جب سے میں اس ٹھیے پر تھا، وہیں موجود تھیں اور آج تک ان کا کوئی قاری پیدا نہیں ہوا تھا۔ خدا جانے ابا نے کیا سوچ کر انہیں خریدا تھا اور خدا جانے میرے ٹھیہ سنبھالنے سے پہلے بھی وہ کتنے ہی سال یہاں گزار چکی تھیں۔ سو اگر میں انہیں نہ پڑھتا تو بھی وقت کے ساتھ وہ مزید سالخوردہ ہو رہی تھیں اور شاید کچھ عرصے بعد اتنی گل جاتیں کہ پڑھنے کے لائق بھی نہ رہتیں۔  دوسری وجہ یہ تھی کہ سرکاری اسکول سے پرائمری پاس کرنے کے بعد مجھے اردو پڑھنی تو آگئی تھی مگر انگریزی پڑھنا بہرحال ایک مشکل کام تھا۔
میں ان دنوں اماں کے بڑھتے ہوئے تقاضوں سے شدید پریشان تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری بہنیں بانس کی طرح بڑھ رہی ہیں لہٰذا مجھے آمدنی بڑھانی چاہئے تاکہ وہ ان کے جہیز کے لئے کچھ رقم پس انداز کرسکیں ورنہ بغیر باپ کی بچی کا ہاتھ تھامنے کو کوئی بھی تیار نہیں ہوگا کہ پتہ نہیں جہیز دے پائیں گے یا نہیں۔  سو بستی میں لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ابھی سے بہنوں کے لئے مال جمع کر رہے ہیں تاکہ وقت پر ان کے لئے ڈھنگ کے رشتے آ سکیں۔ دوسری فکر اماں کو دیگر چھوٹے بہن بھائیوں کی لاحق تھی جو پورا دن محلے میں کھمبے پیٹا کرتے اور گولیاں کھیلتے تھے۔اماں چاہتی تھیں کہ وہ اور کچھ نہیں تو سرکاری اسکول ہی جانا شروع کردیں ورنہ جیسے میں بچپن میں ورکشاپ بھیجا گیا تھا ویسے ہی کم از کم بھائیوں کو بھی کسی ورکشاپ میں ڈال دیا جائے۔ میں ان دونوں ہی چیزوں کا مخالف تھا۔ میرا ماننا تھا کہ اسکول بچوں کو تربیت کے لئے بھیجا جاتا ہے اور سرکاری اسکول میں پڑھ کر میں جان گیا تھا کہ جس قسم کی تربیت وہاں ان بچوں کو ملے گی اس سے بہتر ہے وہ محلے میں گولیاں کھیل لیں۔ اور ورکشاپ بھیجنے کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ان سب مسائل کا واحد حل یہ تھا کہ آمدنی میں اضافہ کیا جائے تاکہ بہنوں کے لئے رقم جوڑی جا سکے اور بھائی کسی سستے ہی سہی مگر پرائیوٹ اسکول میں جا سکیں جہاں کم از کم سرکاری اسکول جیسا برا حال نہ ہو۔ مگر یہ آمدنی میں اضافے کا سوال اتنا گنجلک تھا کہ میں بہت کوشش کے باوجود  اس کا جواب نہیں ڈھونڈ پایا تھا۔
ان ہی پریشانیوں کے دنوں میں وہ کتاب میرے ہاتھ لگ گئی۔ تقسیم کے ہنگاموں پر لکھی اس کتاب میں بہت سے افسانے مرقوم تھے۔ باقی ساری کہانیاں میرے لئے غیر اہم تھیں مگر اس ایک کہانی پر میرا دماغ اٹک کر رہ گیا جس میں مہاجر کیمپ کے باہر دو خواتین چھابڑی  لگا کر پکوڑے بیچا کرتی تھیں اور پھر ایک نیک انسان ان پر ترس کھا کر انہیں اپنے ساتھ موٹر میں بٹھا کر لے جاتا ہے اور واپسی میں انہیں اتنے پیسے دے دیتا ہے کہ جن سے ان کا ہفتہ سکون سے نکل جائے۔ کہنے کو یہ بھی تقسیم سے جڑی ہوئی تمام کہانیوں ہی کی طرح ایک کہانی تھی مگر یہ کہانی مجھ پر شعور کے نئے در وا کر گئی۔اس دن مجھے معلوم ہوا کہ وہ بڑی مونچھوں والا روز میرے ہی ٹھیے کے سامنے گاڑی کیوں روکتا ہے اور کیوں کبھی گاڑی سے اترنے کی زحمت کیئے بغیر بس میرے ٹھیے کی جانب دیکھتا ہی رہتا ہے۔ اور کیوں جب میں نے پہلی مرتبہ اس کی گاڑی کی جانب جاکر اس سے پوچھنا چاہا تھا تو برابر والے غفور چاچا نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے کسی بھی گاڑی کی طرف جا کر کتاب بیچنے سے سختی سے منع کردیا تھا۔  اس کہانی کو پڑھ کر پہلی مرتبہ مجھے احساس ہوا کہ تقسیم کے ہنگامے آج تک تھمے نہیں تھے۔ کرداروں کے نام تبدیل ہوگئے تھےمگر کہانی آج بھی وہی تھی۔  موٹر والوں کی جگہ ان کی اولاد  یا پھر اس اولاد کی اولاد لے چکی تھی اور چھابڑی والیوں کی جگہ ان کی بیٹیاں اور ان کی بیٹیوں کی بیٹیاں آ گئی تھیں۔اور آج پھر جب ایک گاڑی میرے ٹھیے کے سامنے رکی تو  مجھے معلوم تھا کہ مجھے کیا کرنا تھا۔ میں نے غفور چاچا سے ٹھیے کا خیال رکھنے کو کہا اور جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔
بمشکل دو گھنٹے بعد ہی میں واپس اپنے ٹھیے پر موجود تھا۔ غفور چاچا نے مجھے دیکھا تو غصہ کرنے کا ناٹک کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ میں نے  مسکرا کر ان کی سمت دیکھا اور ٹھیے کے اسٹول پر بیٹھ کر تقسیم کے ہنگاموں پر لکھی ہوئی وہ کتاب اٹھا کر دوبارہ پڑھنا شروع ہوگیا۔

کون کہتا ہے کہ تعلیم انسان کو شعور نہیں دیتی یا شعور انسان کا پیٹ نہیں بھر سکتا؟ جیب میں بھرے نوٹوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے  جب یہ سوچ میرے دماغ میں آئی تو ایک طمانیت بھری مسکراہٹ میرے چہرے پر دوڑ گئی۔ میں جان گیا تھا کہ اب گھر میں کوئی بھی بھوکا نہیں سوئے گا اور میرے چھوٹے بہن بھائی اب دوبارہ اسکول جا سکیں گے۔ 

بلاگ فالوورز

آمدورفت