اتوار، 2 جولائی، 2017

دیت

بابا عادل اور منصف میں کیا فرق ہوتا ہے؟  مجھے یاد ہے جب میں نے یہ سوال بابا سے کیا تھا تو انہوں نے مجھے پیار سے چومتے ہوئے اپنے پاس بٹھا لیا تھا اور جوابی سوال داغ دیا تھا کہ بتاؤ اللہ تعالیٰ عادل ہیں یا منصف؟ میں نے بہت یاد کرنے کی کوشش کی تھی مگر مجھے ہزار کوشش کے باوجودیاد نہیں آپایا تھا کہ میں نے کہیں بھی اللہ تعالیٰ کو خود کو منصف کہتے پایا ہو۔ وہ تو ہر جگہ عدل  کی بات کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ تو عادل ہیں! میں نے بہت سوچ سمجھ کر جواب دیا تھا اور بابا میرے اس جواب سے بہت خوش ہوئے تھے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے سمجھایا تھا کہ منصف اور انصاف کے الفاظ کی اصل نصف سے نکلی ہے۔ انصاف ہے برابر تقسیم اور منصف ہے برابر دینے والا۔ جبکہ عدل ہے ضرورت کے حساب سے عطا کرنا اور عادل ہے ضرورت کے حساب سے عطا کرنے والا۔ اس کے بعد بابا نے مجھے ایک مثال بھی دی تھی   کہ اگر میرے پاس چار روٹیاں ہوں جنہیں دو آدمیوں میں اس طرح تقسیم کرنا ہو کہ ایک آدمی تین روٹیوں کی بھوک رکھتا ہے اور دوسرا محض ایک کی، تو دونوں کو دو روٹیاں دینا انصاف اور ایک کو تین اور دوسرے کو ایک روٹی دینا عدل ہے۔ بابا کی سب سے اچھی عادت یہی تھی۔ وہ چیزوں کو مثال دے کر سمجھاتے تھے۔ خیر بابا کی تو ساری ہی عادات اچھی تھیں۔ یا شاید ماضی کی ساری ہی باتیں وقت کے ساتھ اچھی ہوجاتی ہیں۔ خیر یہ تو فلسفے کی باتیں ہیں اور میرا فلسفے سے کیا کام؟  میں تو ایک سیدھی سادھی  عورت ہوں ۔ جو کسی بھی سیدھی سادھی شادی شدہ عورت کی طرح  روزانہ شام گئے اپنے خاوند  کی راہ دیکھتی ہے ۔ بس تھوڑا سا فرق یہ ہےکہ ان سب کے  خاوند دیر سویر سے ہی  سہی مگر گھر پہنچ جاتے ہیں اور میرے خاوند آخری بار دو ماہ پہلے گھر آکر کبھی نہ واپس آنے کے لئے چلے گئے ہیں۔ سو  میں شام سے تیار ہوکر بیٹھ جاتی ہوں اور  فجر گئے تک ورانڈے میں بیٹھی اس دروازے کو تکتی رہتی ہوں جہاں سے آخری مرتبہ  وہ اپنے باپ کے کاندھے پر سوار منوں مٹی تلے سونے کے لئے روانہ ہوگئے تھے۔
کسی نے بتایا تھا کہ انہیں ایک غیرملکی سفارت خانے کی گاڑی نے کچل دیا تھا۔ نہ بھی بتاتا تو کیا فرق پڑتا تھا؟ کچلا کسی نے بھی ہو، ان کے ساتھ میرا مستقبل بھی اس گاڑی کے نیچے آکر کچلا جا چکا تھا سو اب کیا فرق پڑتا تھا۔ بتانے والوں نے تو یہ بھی بتایا تھا کہ عوام نے اس غیر ملکی کوگھیر کر گرفتار بھی کر لیا تھا۔ میرے سسر بتاتے ہیں کہ ملک بھر کے میڈیا پر بھی اس خبر کا چرچا ہے۔ عوام کا زبردست دباؤ ہے۔ جگہ جگہ اس قاتل کو پھانسی دلانے کے لئے مظاہرے ہو رہے ہیں۔  مگر جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اس کا مطلب ہے  ہمیں انصاف مل جائے گا تو کہنے لگے میں نے وکیل سے پوچھا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ غیر ملکی اگر پڑوسی ہوتا تو میں چوک پر پھانسی دلوا دیتا۔ بلکہ شاید کچہری کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا۔ جیل میں وہ سب کچھ ہوجاتا کہ سالا خود ہی خودکشی کرلیتا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ غیر ملکی  گورا ہے۔ میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میں یہ سب سن کر بھی مطمئن رہی۔  مجھے پتہ تھا کہ میرا اللہ عادل ہے۔ وہ عدل کرے گا۔
پھر ایک دن میرے سسر کے پاس کچھ لوگ آئے ۔ ان کے جانے کے بعد مہمان خانے سے باہر آنے والا انسان  کوئی بھی ہو میرا سسر نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ تو کوئی نہایت واماندہ اور شکست خوردہ انسان تھا۔ اتنا بدحال تو وہ جوان بیٹے کو مٹی میں دبا کر آنے کے بعد نہیں لگے تھے جتنا وہ یہ کہتے ہوئے لگ رہے تھے کہ میرے سامنے کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہمیں خون معاف کرنا پڑے گا۔ اگر آج ایک خون معاف نہیں کیا تو کچھ بعید نہیں کہ کل دو یا تین خون معاف کرنے پڑ جائیں۔ میں مزید نقصان اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔ تجھ سے اپنے بیٹے کی شادی کر کے پہلے ہی تیری زندگی برباد کرچکا ہوں۔ تجھے مزید نقصان پہنچا کر اپنی دنیا و آخرت برباد نہیں کرنا چاہتا۔ جانے والی چیز تھی چلی گئی مگر جو بچا ہے اسے بچانا ضروری ہے۔
میں نے  انہیں بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے میری ایک نہیں سنی۔  میں نے انہیں سمجھایا کہ اگر وہ معاف کر بھی دیں تو بھی میں دیت پر راضی نہیں ہوں گی۔ اور دیت کے بنیادی اصولوں میں یہ بات شامل ہے کہ تمام ورثا کا خون معاف کرنا ضروری ہے اور محض ایک یا دو لوگوں کے معاف کرنے سے معافی نہیں مل سکتی۔  میں نے انہیں یہ بھی یاد دلایا کہ قرآن کے علاوہ تعزیراتِ پاکستان کے مطابق بھی اس قسم کے معاملات میں محض لواحقین کا معاف کرنا کافی نہیں ہوگا کیونکہ سب کو اندازہ ہے کہ ہم پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ آپ معاف کردیں تو بھی عوام معاف نہیں کرے گی۔ آپ نے خود کہا ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور قاتل کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔  مگر وہ سننے کے ارادے سے بیٹھے ہی کب تھے؟ بولے،  سب انتظام ہوگیا ہے۔ لوگ سڑکوں سے واپس گھر چلے جائیں گے۔  شاید معذوری کا لفظ تعزیر سے ہی نکلا ہے ۔قانون کمزوروں کو قابو میں رکھنے کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ طاقت تو  بذاتِ خود ایک قانون ہے!  اندر جا کر سامان سمیٹ لو۔ ہمیں یہ گھر بھی خالی کرنا ہے!
کمرے میں آکر ضروری سامان نکالنا شروع کیا تو بھگت سنگھ  کی  زندگی پر بنی فلم کی سی ڈی بھی نکل آئی ۔ مجھے بھگت سنگھ کا کردار بہت پسند ہے۔ خاص طور پر اس کا وہ جملہ کہ کبھی کبھار اقوام کو جگانے کے لئے دھماکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ کوئی انسان بھری جوانی میں ایسی خودکشی کی موت کو کیسے گلے لگا سکتا ہے؟ اور ایسے خودکشی کرنے والے کو ہم ہیرو کیسے مان سکتے ہیں؟ آج مجھے یہ بات سمجھ آگئی ہے۔ بھگت سنگھ واقعی ٹھیک کہتا تھا۔ بعض اقوام کو جگانے کے لئے واقعی دھماکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پنکھے سے دوپٹہ لٹک رہا  ہے اور اس خط کو مکمل کرنے کے بعد اس کے ساتھ میں بھی لٹک رہی ہوں گی۔ مجھے بھگت سنگھ کی طرح ہیرو نہیں بننا۔ میں تو بس اتنا چاہتی ہوں کہ سوال اٹھے۔ اور کچھ نہیں تو میری موت پر ہی سہی مگر سوال اٹھے کہ وہ کیا حالات تھے کہ جن کی وجہ سے میں اس انتہائی قدم کو اٹھانے پر مجبور ہوئی۔ اور اگر سوال کرنے والے اور سوچنے والے سب گورے بن کر میری لاش کو بھی روند ڈالیں اور تاریخ کے قبرستان میں بغیر سوچے دفن کر آئیں تو بھی جیسا کہ بابا کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہیں تو محشر جب سجے اور جب سب گناہوں کے کچے چٹھے کھولے جائیں تو وہاں حرام موت کے باب میں میرا بھی حساب ہو تب میں کہہ سکوں کہ مالک ! تیری گنہگار حاضر ہے!  جانتی ہوں کہ موت تیرے ہاتھ میں تھی اور اگر میں خود کشی نہ کرتی تو بھی وقت مقررہ پر اٹھا لی جاتی۔ یا شاید وقت نہ ہوتا تو خودکشی کی کوشش  کا گناہ اپنے سر لے کر بھی دنیا کی جہنم میں سڑتی رہتی ۔ سو مالک! اب اپنے دنیا کے جہنم سے بھاگ کے آنے کے جرم میں شوق سے جس جہنم میں چاہے ڈال دے  مگر ان سب کو ایک مرتبہ بتا دے کہ میں نے خون معاف نہیں کیا تھا۔ مجھ سے خون معاف کروایا گیا تھا۔ اور اگر زبردستی کی دیت سے خون معاف ہوسکتے ہیں تو مالک تیرے خزانے میں کون کمی ہے؟اآج میری دیت تو میری جانب سے دے دے؟  اور مالک دیت دے یا نہ دے ایک موقع ضرور دے دے کہ میں آدم سے لے کر آخر  تک کے تمام انسانوں کو گواہ بنا کر تجھے بتا سکوں کہ مالک! تیرے بندوں سے عدل تو کیا ، انصاف تک نہ ہوسکا ۔

دروازے پر دستکیں بڑھ رہی ہیں۔ چلتی ہوں۔ 

ہفتہ، 27 مئی، 2017

کہانی

کہانی سنے گا؟ میں نے لالچ آمیز انداز سے اس سے پوچھا مگر خلاف توقع اس نے نفی میں سر ہلا دیا ۔ میں نے اسے اکسانے کے لئے یاد دلایا، میں نے خود لکھی ہے! مگر آج وہ کسی اور ہی دھن میں تھا۔ کہنے لگا ،اس ہی لئے نہیں سننی! میں نے کہا یہ کیا بکواس ہے؟ کہنے لگا ، فائدہ کیا ہے؟ تمہاری ساری کہانیاں ایک جیسی ہی تو ہوتی ہیں۔ ہر کہانی کے اختتام پر کہانی کا مرکزی کردار مر جاتا ہے۔ تو مان کیوں نہیں لیتا کہ کہانیاں لکھنا اب تیرے بس کا کام نہیں رہا؟ تس پر مجھے بھی غصہ آگیا۔ میں نے اسے یاد دلایا کہ کہانی ہمیشہ سے ایک ہی ہے اور کہانی تبدیل ہو بھی نہیں سکتی۔ دنیا میں ایسا کون سا نیا کام ہورہا ہے جو پہلے نہ ہو چکا ہو جس پر کہانی لکھی جائے؟   تم لوگوں کا اصل  مسئلہ احساسِ کمتری ہے۔ شکیب جلالی کی کہی ہوتی باتیں انگریزی میں سلویا پلیتھ کے نام سے پڑھ لو گے تو داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہوئے اوندھے ہوجاؤ گے مگر شکیب جلالی کا  کلام دکھ بھی جائے تو یہ سوچ کر آگے بڑھ جاؤ گے کہ ہے تو اردو کا شاعر ہی نا! کبوتر باز!

بک جھک کر اور دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد میں وہاں سے اٹھ کر آگیا اور کہانی کا ناقدانہ جائزہ لینے لگا۔ اچھی خاصی تو کہانی تھی۔ اور اس کہانی کا مرکزی کردار تو ویسے بھی ایک دیوتا تھا اور دیوتا کبھی مر بھی نہیں سکتے۔ خیر! میرا کیا گیا؟ اس ہی کا نقصان ہے کہ وہ  اس کہانی سے محروم رہ گیا۔ میرا کام تو کہانی لکھنا ہے۔ پڑھنا تو اس کا کام تھا۔ اب اگر وہ کام چوری پر اتر آیا ہے تو میں اس پر ترس کھانے کے بجائے خودسے کیوں الجھوں؟ میں نے اس پر چار حرف بھیج کر دوبارہ کہانی پڑھنا شروع کردی۔

اب آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں کن گنجلک باتوں میں الجھ گیا ہوں اور خدا جانے وہ ایسی کیا کہانی تھی جس کی تمہید میں دو پیرا گراف لکھ مارے گئے ہیں مگر کہانی ہے کہ سامنے آنے کا نام نہیں لیتی تو بھائی کہانی بہت معمول کی سی ہے کہ دو انسانوں کے ہاں ایک انسان کا بچہ پیدا ہوا۔ جی ہاں جی ہاں اس میں کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ اس بات پر کہانی لکھی جائے مگر آپ تحمل سے کہانی سنتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ انسان کا بچہ نہایت غیرمعمولی تھا۔ اتنا غیر معمولی کہ اس نے بڑے ہونے کے بعد معاشرے میں موجود انسان نما دیوی دیوتاؤں کو دیوتا ماننے سے انکار کر دیا۔  کسی بھی بچے کے لئے اس کے ماں باپ اور اساتذہ کا بت سب سے بڑا ہوتا ہے مگر اس نے انہیں بھی دیوتا ماننے سے انکار کردیا۔ جانتا ہوں آپ اسے ایک تخیلاتی کہانی سمجھ رہے ہوں گے مگر خود سوچیں کہ   اگر یہ بچہ تخیل میں آ سکتا ہے تو حقیقت میں کیوں نہیں آ سکتا؟ اور معاملہ یہیں پر نہیں رکتا  کہ اس نے دوسروں کو دیوتا ماننے سے انکار کر دیا ہو۔ یہ مافوق الفطرت بچہ خود اپنے آپ کو بھی دیوتا سمجھنے سے انکاری ہوگیا تھا۔ دنیا والے بکمال محبت اسے دیوتاؤں کے استھان پر چڑھاتے کہ بیٹا تم یہاں بیٹھو مگر وہ اتر اتر کر دوڑ جاتا کہ میں دیوتا نہیں ہوں جو غلطی نہ کر سکتا ہو۔ میں تو انسان ہوں۔ غلطیاں کروں گا۔ ہر طرح کی غلطیاں کروں گا۔ کچھ غلطیاں شاید ایک سے زائد بار بھی کروں گا۔ ٹھیک ہے کہ ان اغلاط کو اپنی ذات کا حصہ نہیں بناؤں گا مگر تم مجھے دیوتا بنا کر مجھ سے میرا غلطی کرنے کا حق نہیں چھین  سکتے۔  آگے کی کہانی آپ خود بھی جانتے ہیں کہ  ایسی احمقانہ خواہشات رکھنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے  اور چونکہ ابھی تک اس کے انسان یا دیوتا  ہونے کا فیصلہ نہیں ہوپایا ہے   اس لیے میں نے  اسے ان دیوتاؤں کی طرح زندہ چھوڑ دیا جو اس حسرت میں مرے جاتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں جان سکیں کہ وہ اس سے کہیں کم ہیں جتنا لوگ انہیں کہتے ہیں اور شاید اس سے بہت بہتر ہیں  جیسا وہ انہیں سمجھتے ہیں۔  
کیا کہا؟ میرا دوست ٹھیک کہتا تھا؟ کہانیاں لکھنا واقعی میرے بس کا کام نہیں رہا؟  لعنت ہو تم سب پر۔ میں 
جانتا تھا کہ تم لوگ ایسا ہی کرو گے اس لئے میں نے اصل کہانی لکھی ہی نہیں۔ اللہ حافظ!


بلاگ فالوورز

آمدورفت