بدھ، 1 نومبر، 2017

خانم بے حیائی

اس کا نام جو بھی کچھ رہا ہو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ سب کا ماننا تھا کہ وہ پیدائشی گونگی بہری ہے۔  بہری قوم یا افراد کو آپ جو جی چاہے لقب دے دیجئے ، پیار سے بلائیے یا دشنام سے نوازیے، ان کی صحت پر کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ تو اپنے حال میں مست رہتے اور رہتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں۔ سو اس کے نام سے بھی اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ مگر اس کے بہرے پن سے اب گھر والوں کو فرق پڑنے لگا تھا۔ خاندان، محلے کی کسی بھی تقریب میں جہاں چار لوگ جمع ہوتے، بلاوجہ ہمدردیاں جتانے لگتے۔ ہائے اللہ! کتنی پیاری بچی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی چن چن کر لوگوں کو آزماتا ہے۔ دیکھو معصوم اگر سن بول پاتی تو کیا چلا   جاتا کسی کا؟ مگر خیر! اللہ آپ لوگوں اور اس بچی کو صبر دے!  گھر والے شروع میں تو یہ باتیں سنتے  اور چپ ہو جاتے۔ پھر اس کے بعد ان باتوں کو سننے کے بعد جھلانے کا مرحلہ شروع ہوا اور بالآخر کسی بھی اور انسان کی طرح  اس کے گھر والوں کو بھی ہمدردی کی عادت پڑ گئی اور اگر آپ ان سے مل کر ہمدردی نہ جتائیں تو انہوں نے باقاعدہ اس بات کا برا منانا شروع کردیا۔
اسے ان تمام باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ اپنی زندگی میں مست تھی اوراس ہی مستی میں بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ اس کی عمر اب پندرہ برس ہوچلی تھی اور گھر والوں کو ہمدردی کے بادلوں کے پیچھے چھپا حقیقت کا سورج نظر آنے لگا تھا۔ مانا کہ تمازت ابھی اتنی نہ بڑھی تھی کہ  انسان جھلس جائے مگر آج نہیں تو کل اس حقیقت نے سامنے آجانا تھا۔ چار پانچ برس میں وہ معاشرے کی مروجہ شادی کی عمر کو پہنچنے والی تھی اور صورتحال یہ تھی کہ اس کے تمام شوق اب تک بچوں والے ہی تھے کہ گویا وہ محض جسمانی طور پر تو بڑھ رہی تھی مگر ذہنی طور پر وہ ایک پانچ سات سالہ بچی کی طرح ہو۔ علاج معالجے کا   مسئلہ یہ تھا کہ شہر چھوٹا تھااور بیماری بڑی۔ پہلے شہر کے بڑے ڈاکٹروں کو دکھایا گیا مگر جب لکھوکھا روپے کے نسخے اور آپریشن تجویز ہوئے تو واپس قصبے کے  حکیموں اور نیم حکیموں کی چوکھٹ چومی گئی۔  جب وہاں سے افاقہ نہ ہوا تو کسی نے مشورہ دے دیا کہ اسے ایران لے جاؤ۔ وہاں مشہد کے روزے پر سنا ہے کہ ہر قسم کی بیماری شفا پا جاتی ہے۔
چھوٹے شہر کے متوسط طبقے کے لوگ تھے جن کی زندگیوں کی معراج یہی تھی کہ لاہور یا کراچی دیکھ آئیں۔ قصبے میں چند گھر ایسے ضرور تھے  کہ جو خلیجی ممالک میں مزدوری کرتے تھے مگر ایران جانے کا تجربہ کسی کا بھی نہیں تھا۔ کہتے ہیں نا کہ ماں مرے ماسی جئے۔ خالہ اماں نے ذمہ داری اٹھائی کہ اگر بچی اور ان کے خاوند کا خرچہ گھر والے اٹھا لیں تو وہ اپنے میاں کے ساتھ اسے مشہد لے جائیں گی کہ اس ہی صدقے میں ان کی بھی زیارت ہو جائے گی۔ سودا برا نہیں تھا سو سفر کی تیاری شروع کر دی گئی اور اللہ اللہ کر کے خیر سے یہ لوگ مشہد پہنچ گئے۔
مشہد پہنچنے کے دو دن بعد خالہ کا ٹیلیفون آیا کہ معجزہ ہو گیا ہے۔ صبح جب وہ اسے روزے پر لے کر گئیں تو  روزے کے حکام نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ننگے سر حرم میں نہیں جا سکتیں ۔ پہلے جا کر روزے کے ساتھ موجود دفتر سے مفت میں  چادر وصول کریں اور پھر سر ڈھانپ کر آئیں۔ وہ مسلسل فارسی میں سمجھا رہے تھے، خانم ! بے حیائی! خانم! بے حیائی! ہماری تو خیر ہوئی کہ ہم نے دفتر سے جا کر چادر وصول کی اور حرم میں جا کر فاتحہ پڑھی اور واپس آگئے مگر جب حرم سے باہر نکلے تو  مجھے لگا کہ یہ کچھ بدبدا رہی ہے۔ غور کیا تو معلوم ہوا کہ معجزہ ہوگیا ہے۔ خیر سے ہماری شہزادی نہ صرف سن سکتی ہے بلکہ بول بھی سکتی ہے۔ وہ بدبدا رہی تھی، خانم بے حیائی۔ خانم بے حیائی! بھئی میں نے تو بے ساختہ ماتھا چوم لیا شہزادی کا۔ خیر سے وہیں بازار سے میوہ خریدا اور واپس جا کر حرم پر نیاز چڑھا آئی۔  تمہارے خالو تو خیر تہران چلے گئے ہیں اور یہ یہاں بیٹھی خانم بے حیائی کر کر کے میرا  سر کھا رہی ہے۔ میں نے پوچھا مطلب پتہ ہے اس بات کا  تو جواب میں کہتی ہے خانم بے حیائی کھی کھی کھی اب بتاؤ اس بات پر میں کیا بولتی۔ میں نے بے حیائی کا مطلب اشاروں میں سمجھایا  تو اب گانے کی طرح شروع ہوگئی ہے خانم م م م  ! بےےےے  حیااااااائی ۔۔۔ خانم م م م  ! بےےےے  حیااااااائی  ۔۔۔۔ یہ لو خود اس کے منہ سے سن لو!
پانچ دن کے بعد خالہ اسے لے کر خیر سے واپس گھر پہنچ گئیں ۔  گھر والے سارے اس کے گرد جمع تھے۔ سب بہت پراشتیاق تھے کہ  آج اس کو بولتا سنیں گے مگر خلاف معمول آج وہ بہت مضمحل لگ رہی تھی۔  خالہ سے پوچھا تو کہنے لگیں پرسوں تک اچھی خاصی تھی مگر خدا جانے پرسوں سے بالکل ویسے ہی چپ ہے جیسے کبھی بولی ہی نہ ہو۔ تم سب نے خود اسے فون پر بولتے سنا تھا ۔  میں خود سے کہہ رہی ہوتی کہ یہ بولی تھی تو تم شک کرتے مگر تم سب نے خود اسے فون پر بولتے سنا تھا۔ بیٹا بولو! شاباش بول کر دکھاؤ۔ بیٹا میں جانتی ہوں تم سن سکتی ہو اور سمجھ بھی سکتی ہو۔ دیکھو یہاں سب تمہارے اپنے ہیں۔ شاباش بول کر دکھاؤ۔  بولو خانم بے حیائی!
اس نے اپنے دامن پر سے نظریں اٹھائیں۔ سب کی طرف دیکھا۔ اس کی بائیں آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا اور وہ دھیرے سے بولی ۔۔۔۔  خالو بے حیائی!

منگل، 24 اکتوبر، 2017

نقاب

دن بھر کی مشقت کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو اتنا تھک چکا تھا کہ نقاب بدلے بغیر ہی سو گیا۔  رات کے پچھلے پہر اس کی بیٹی کی پیاس سے آنکھ کھلی تو پہلو میں باپ کی جگہ کسی انجان چہرے کو دیکھ کر گھبرا ہٹ میں چلا اٹھی۔ چپ کرانے کے لاکھ جتن کئے مگر وہ مان کر نہ دی۔ غریب کی عمر ہی کیا تھی کہ وہ باپ کی مجبوریاں سمجھتی؟ بڑی مشکل سے الماری سے گھر والا نقاب نکال کر لگایا تب جا کر اس معصوم کی جان میں جان آئی ۔ انسانوں اور بالخصوص بچوں کا المیہ یہی ہے کہ یہ اپنے پسندیدہ کرداروں کو کبھی اپنی مرضی کے روپ کے علاوہ دیکھ ہی نہیں سکتے۔ پھر چاہے وہ ان کی مرضی کا روپ محض ایک نقاب ہی ہو مگر وہ اصل پر اس من چاہی نقل کو فوقیت دیتے آئے ہیں۔
وہ کافی دیر بیٹی کے ساتھ جاگ کر اسے تسلیاں دیتا رہا اور جب اسے سلا کر فارغ ہوا تب احساس ہوا کہ اپنی نیند غائب ہوچکی ہے۔   اول تو یونہی دیر تک  کروٹیں بدلتا رہا مگر جب نیند کی جگہ جھنجھلاہٹ آنے لگی تو اٹھ کر خوابگاہ سے باہر آگیا۔ اسے رہ رہ کر اپنی حماقت پر غصہ آرہا تھا۔ کیا تھا اگر گھر میں گھسنے سے پہلے وہ گھر والا نقاب لگا لیتا؟  اس معصوم کا کیا قصور تھا کہ وہ اس کا یہ روپ دیکھتی؟  پھر سوچا آج نہیں تو کل کبھی تو اس نے یہ والا روپ بھی دیکھ ہی لینا تھا؟ تب کیا ہوتا؟ کل کا ہوتا آج سہی !  پھر خیال آیا تب تک وہ بڑی ہوچکی ہوتی اور شاید اس طرح نہ ڈرتی؟ سوچ  کا سلسلہ مسلسل دراز ہوتا چلا جا رہا تھا۔ ڈرنے سے اس کے دماغ میں ایک اور سوچ ابھر آئی۔ اس نے سوچا کیا میں اتنا  ہی بھیانک ہوں کہ میری اپنی اولاد تک مجھ سے خوف کھائے؟ پھر جوابی سوچ آئی کہ جو کچھ دیکھ کر وہ ڈری وہ میری اصل نہیں تھی۔ وہ تو محض حالات کی وجہ سے طاری کیا گیا ایک نقاب تھا۔ اصل پر طاری ہوا ایک نقاب۔ سوچ کے تسلسل میں چلتا ہوا وہ بے دھیانی میں شیشے کے سامنے جا کھڑا ہوا اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نقاب کو جانچنے لگا۔ اس وقت وہ ایک مکمل باپ تھا۔ شفیق اور  مہربان  ۔ چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خدا جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ اس نے نقاب کو یک بار گی اتار کر  پھینک دیا۔ نیچے سے برآمد ہونے والا چہرہ ایک شوہر کا تھا۔ محبت کی چمک سے بھرپور اور صبیح۔  اسے یاد آیا کہ یہ نقاب اس نے باپ والے نقاب سے پہلے پہنا تھا۔ اس نے اسے بھی نوچ کر پھینک دیا۔ وہ اب اس چہرے کی تلاش میں تھا جو اس کا اپنا چہرہ تھا۔ شوہر کے چہرے کے پیچھے ایک فرمانبردار بیٹے کا نقاب آویزاں تھا۔ اس کے ہاتھ اب میکانکی انداز میں چل رہے تھے۔ بیٹے کے بعد بھائی۔ بھائی کے بعد دوست۔ دوست کے بعد مزدور۔ ایک کے بعد ایک چہرہ آتا گیا اور وہ بغیر رکے ان نقابوں کو نوچتا چلا گیا یہاں تک کہ چہرے پر کوئی نقاب باقی نہ رہا۔اب اس کے سامنے  کوئی نقاب نہیں تھا۔ فقظ ایک چہرہ تھا۔ نقابوں کے بوجھ سے جھریوں زدہ۔ نقابوں کے ٹانکوں سے زخم آلود۔ وہ چہرہ کہیں سے بھی انسانی  چہرہ نہیں تھا۔ شیشے میں اس کے سامنے ایک عفریت کھڑی تھی۔ اس نے گھبرا کر نقاب دوبارہ لگانے چاہے تو احساس ہوا کہ جذبات میں آکر نقاب اتارنے کے دوران وہ ساری نقابیں پھاڑ بیٹھا ہے۔  شیشے میں موجود عفریت اب فلک شگاف قہقہے لگا رہی تھی۔ اس نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا اور جب قریب کوئی چیز نہ دکھی تو اپنا منہ شیشے پر دے مارا اور اس وقت تک مارتا رہا جب تک کے شیشہ کرچی کرچی ہوکر آدھا زمین اور باقی اس کے چہرے میں پیوست نہیں ہوگیا۔ اپنے چہرے سے جاری خون کی دھاروں کو وہ باقاعدہ محسوس کرسکتا تھا۔اسے نے بہتے ہوئے گرم سیال خون کو اپنے چہرے پر محسوس کیا تو گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔  اسے اٹھتا دیکھ کر اس کی معصوم بیٹی سہم کر بولی، بابا! میں تو آپ کو پیار کرنے آئی تھی مگر مجھ سے تھوڑا سا دودھ گر گیا۔ آئی ایم سوری۔ اس نے بے ساختہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور جب یقین ہوگیا کہ یہ سب کچھ محض ایک بھیانک خواب تھا اور نقاب چہرے پر سلامت موجود ہے تو بیٹی کا ماتھا چوم کر دوبارہ سونے لیٹ گیا۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت