ہفتہ، 3 اگست، 2019

کنگال


عورت اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ جوان ہوتی جاتی ہے جبکہ مرد اولاد کے جوان ہونے پر  بوڑھا     ہو جاتا ہے۔ اور شاید کنگال بھی۔  
خیر یہ کنگال والی بات تو اضافی ہے جو میں اس لئے کر رہا ہوں کیونکہ بینک کے کاؤنٹر پر بیٹھا وہ نوجوان جس رحم آمیز نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا ہے، میں سمجھ چکا ہوں کہ کھاتے میں اب کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ کھسیاہٹ کا احساس کم کرنے کے لئے میں نے اپنے اندر موجود بچا کھچا تمام اعتماد مجتمع کر کے اس سے پوچھا کہ آیا سسٹم میں کوئی خرابی ہے؟  جس پر اس نے اپنی نگاہوں کا تمام ترحم اپنے لہجے میں انڈیلتے ہوئے مجھے یاد دلایا کہ میں کھاتے میں جمع شدہ تمام رقم بہت پہلے اپنی رعایا کے نام منتقل کر چکا ہوں۔ اب اس کھاتے میں سے نکالنے لائق کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ محاورے کی زبان میں ،پھوٹی کوڑی  بھی نہیں!
آپ شاید اب تک اس کہانی کا سرا پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں  اور چاہتے ہیں کہ مصنف یہاں رک کر آپ کو کرداروں سے متعارف کروائے ۔ یہ نہیں تو کم از کم منظر کا پس منظر آپ پر واضح کرے۔  مگر کہانی کار ان تمام چیزوں سے قاصر ہے۔ آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک بینک میں موجود ہے، یعنی اسے سرمائے کی ضرورت ہے۔ اور آپ یہ بھی جان گئے ہیں کہ وہ اپنا تمام سرمایہ صرف کرچکا ہے۔  تو اب ایک ایسے انسان سے کہ جو سرمائے کی ضرورت میں ہو اور اس کا کھاتہ ویران پڑا ہو، آپ کیسے ہوشمندی اور سلیقے کی امید کرسکتے ہیں؟ تفصیلات کہ یہ بینک سرکاری تھا یا نجی؟ سرمایہ لکھوکھا تھا کہ ہزارہا؟ یہ سب باتیں مصنف آپ کو نہیں سمجھا سکتا۔ سمجھا بھی سکتا ہو تو اس وقت نہیں سمجھا سکتا۔ سو آپ آزاد ہیں کہ جو جی چاہے سمجھئے۔ بینک کو سرکاری سمجھیں کہ نجی آپ کی مرضی! آپ چاہیں تو اسے زندگی کا ایک استعارہ سمجھ لیں۔ مصنف ان تمام باتوں سے بے پرواہ ہے۔  مصنف کو پرواہ ہے تو بس اس بات کی کہ وہ ایک مرد ہے اور اپنا کل سرمایہ لٹا چکا ہے۔ اور اب وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی کہانی آپ سے بیان کرے ۔  بنا تکلفات میں پڑے اور بغیر تفصیلات میں جائے۔  اس امید پر کہ شاید آپ اسے اس کی مشکل سے نجات دے دیں۔
کیونکہ کہانی ہمیشہ سے ایک ہی رہتی ہے سو کہانی آج بھی وہی ہے۔ مگر چونکہ یہ دستورِ سخن ہے کہ ہم وہی گھسی پٹی لکھوکھا سال پرانی کہانی شکل بدل کر سناتے آئے ہیں سو آج اس کنگال لکھیک کی کہانی بھی دوبارہ  سن لیجئے۔ آپ میں سے چند ہی کی طرح لکھیک بھی ایک مرد تھا جس کی رعیت میں ایک عورت شامل کر دی گئی تھی۔ عرفِ عام میں اس عمل کو شادی کہتے ہیں۔ حسبِ دستور آنے والی رعایا اپنے ساتھ عزتِ نفس اور شخصیت  کی بقا کے لئے محض جہیز لائی تھی  جو کہ ایک مقررہ معیار  و مقدار سے تھوڑا بھی کم ہو تو بالعموم ناکافی رہتا ہے۔  ہماری کہانی کی دلہن تو اس معاملے میں بالکل ہی کنگال تھی۔  غریبوں کی اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ یہ جب تک غریب رہیں، مال کی قدر کرتے رہتے ہیں۔ وہ غریب بھی چونکہ مکمل تہی دست تھی لہٰذا مال کی قدر جانتی تھی۔ جو بھی کچھ تھوڑا بہت جمع کرپاتی اسے خرچ کرنے  کی کبھی ہمت ہی نہیں کرپاتی تھی۔ لکھیک چونکہ مرد تھا لہٰذا پیدائش کے فورا بعد ہی  عزت کے معاملے میں کروڑپتی ٹھہرا تھا۔ بڑے ہونے کے ساتھ وہ اس سرمائے میں بغیر کوشش کے مسلسل اضافہ ہی دیکھتا آیا تھا۔   (جس طرح مغرب میں چند لوگ فرینڈز ود بینیفٹ  رکھ لیتے ہیں اس کے برخلاف مشرق  یا کم از کم ہمارے معاشرے میں ہر مرد غلام ود بینیفٹ  رکھنے کا پیدائشی مکلف ہوتا ہے)۔  اپنا ذاتی غلام ود بینیفٹ آجانے کے بعد  وہ سرمائے کے معاملے میں کافی بے پرواہ ہوگیا تھا۔  عزت کا معاملہ بھی افیم کا سا ہوتا ہے۔ حق کی کمائی ختم ہوجائے تو انسان حاصل کرنے کے لئے چوری سے بھی باز نہیں آتا۔ دیگر تمام مردوں کی طرح لکھیک بھی یہ بات نہیں جانتا تھا کہ عزت کا سرمایہ   کسی بھی دوسرے سرمائے کی مانند ہی ہوتا ہے۔ کمائی کے ذرائع نہ ڈھونڈے جائیں اور جمع پونجی مسلسل خرچ ہوتی رہے تو ایک وقت آتا ہے کہ سرمایہ مکمل اجڑ جاتا ہے۔
اپنا اصل سرمایہ تو شاید بادشاہت کے شروع میں ہی ختم ہوگیا تھامگر احساس یوں نہ ہوا کہ رعایا کے کھاتوں سے ملنے والا سرمایہ اتنا بہت تھا کہ اصل سرمائے کی کمی کبھی محسوس ہی نہ ہوئی۔ رعایا کے آنے سے ویسے ہی لکھیک بادشاہ کے درجے سے بلند ہوکر دیوتا کے درجے پر جا پہنچا تھا اور اب اپنی ذاتی مخلوقات بھی  رکھتا تھا۔ گھر کے مندر میں اس کے قدم رکھتے ہی جیسے مخلوقات کا دم نکلتا  تھا، اسے لگتا تھا اس کا سرمایہ یکدم کئی گنا بڑھ جاتا تھا۔  مخلوق سے جواب طلبی کا جو مزہ خالقِ کائنات محض ایک مرتبہ محشر کے لئے محفوظ رکھتا ہے، وہ اس سے روز محظوظ ہوا کرتا تھا۔
مگر یہ سب پرانی باتیں ہیں۔ اب اس کی اپنی مخلوقات ، اپنے اپنے مندروں کے دیوتا ہیں۔ اصولی طور پر اب اس کو قارون سے زیادہ امیر ہوجانا چاہئے مگر بینک والوں کا کہنا ہے کہ اس  کا کھاتہ بالکل ویران پڑا ہوا ہے۔ محاورے کی زبان میں پھوٹی کوڑی تک نہیں ہے۔ دوسری طرف اس کی رعایا جو  بالکل تہی دست آئی تھی، خدا جانے کہاں سے سرمایا جوڑ کر اب کروڑ پتی ہوئی بیٹھی ہے۔  جوڑا کہاں سے ہوگا؟ یقینا یہ وہی سرمایہ ہے جو لکھیک کے کھاتے سے نکال کر اس کو دیا گیا ہے۔  اور دینے والے بھی کوئی اور نہیں، نئے زمانے کے دیوتا ہیں۔  ان کا ماننا ہے کہ لکھیک اپنے حصے کا تمام سرمایہ جوانی میں ہی اپنی رعایا سے وصول کر چکا ہے لہٰذا اب اس سرمائے پر پرانے دیوتا سے زیادہ اس رعایا کا حق ہے جس نے ساری عمر اس سرمائے کو محض دور سے ہی دیکھا ہے۔  اگر جوانی میں سرمائے میں سے رعایا کو حصہ دے دیا جاتا تو آج سود کے ساتھ ادائیگی نہیں کرنی پڑتی۔
یہ ہے لکھیک کی کل کہانی اور اس کی مشکل یہ ہے کہ وہ دیر سے بینک میں کھڑا ہوکر بڑبڑا رہا ہے کہ عورت اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ جوان ہوتی جاتی ہے جبکہ مرد اولاد کے جوان ہونے پر  بوڑھا     ہو جاتا ہے۔ اور شاید کنگال بھی۔   کوئی جاکر اسے تسلی دے دے!

اتوار، 31 مارچ، 2019

سوئی دھاگہ


خدا نے انسان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ کبھی اس پر اسکی برداشت سے زائد بوجھ نہ ڈالے گا۔ البتہ اس بارے میں تمام الہامی کتب خاموش ہیں کہ آیا خدا  انسانوں کو بھی ایک دوسرے پر برداشت سے زائد بوجھ ڈالنے سے باز رکھے گا یا نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انسان ایک وقت کو زمہ داریوں کا بھاری بوجھ تو اٹھا لیتا ہے مگر توقعات کا بوجھ نہیں سہار پاتا۔اور شاید اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان سرے سے اس المیے کو المیہ ماننے کو تیار ہی نہیں  ہیں۔ میں بھی اس وقت ایک ایسے ہی المیے سے دوچار ہوں۔  
میرے بچپن کا بیشتر حصہ نانی کے گھر میں گزرا تھا ۔  ویسے تو نانی کے گھر میں نانی نانا کے علاوہ دو عدد ماموں بھی ہوا کرتے تھے   جو کافی مہربان بھی تھے مگر میری دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ چھوٹی خالہ ہوا کرتی تھیں۔  چھوٹی خالہ مرغیاں پالنے اور بچوں کو بگاڑنے کے حوالے سے پورے خاندان میں مشہور تھیں۔ مگر اس کہانی میں تو یہ سب کردار اضافی ہیں۔  مگر  جب ہم حقیقی زندگی کا سب سے بڑا حصہ اضافی کرداروں کی نظر کردیتے ہیں تو اس کہانی پر کیوں اعتراض کرنا؟ تو بچپن کی ہی ایک دوپہر میری اس سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ مرغیوں کے انڈوں سے چند دن پہلے ہی چوزے نکلے تھے اور خالہ  کے پرزور اصرار پر میں انہیں دیکھنے پہنچا ہوا تھا۔ دوپہر کا وقت تھا تو گھر کے سب بڑے آرام کر رہے تھے جبکہ ہم  آنگن میں مرغیوں کا پنجرہ کھول کر چوزوں کو یہاں سے وہاں بھاگتے دیکھ دیکھ کر خوش ہورہے تھے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ اچھا وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا سو ہماری خوشیاں بھی وقتی ہی ثابت ہوئیں اور محلے کی بدنام بلی  نجانے کہاں سے آن ٹپکی۔  اس سے پہلے کہ ہم معاملے کو سمجھ پاتے، آنگن میں مرغیوں نے کڑکڑا کر آسمان سر پر اٹھا لیا کہ بلی منہ میں ایک مرغی کو دبائے رفو چکرہو رہی تھی۔  اور تو کچھ سمجھ نہیں آئی سو ہم نے بھی چپل کی فکر چھوڑ کر بلی کے پیچھے ہی باہر دوڑ لگا دی۔ باہر گلی میں پہلی مرتبہ میری اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ میری ہی عمر کا ایک لڑکا تھا۔ مرغی اس کے ہاتھ میں تھی جس کے نرخرے سے خون بہہ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا ، وہ خود ہی بول پڑا،  بلی آپ کے گھر سے مرغی لے کر بھاگ رہی تھی پر مجھے دیکھ کر پھینک گئی ہے۔  میں حواس باختہ کھڑا اس کے ہاتھ میں لرزتی ہوئی لہولہان مرغی دیکھ رہا تھا  جو شاید چند ہی گھڑیوں کی مہمان تھی۔ میں اتنا بوکھلایا ہوا تھا کہ شاید وہیں کھڑے مرغی کو اس کے ہاتھوں میں دم توڑتا دیکھتا رہتا مگر بھلا ہو کہ اس نے خود ہی مرغی کو کسی بڑے کو دکھانے کا مشورہ دے دیا۔ میں مرغی کو اس حال میں اپنے ہاتھ میں لینےمیں متامل تھا سو اس کو ساتھ لے کر گھر میں آگیا جہاں مرغیوں کا شور سن کر خالہ پہلے سے آنگن میں پہنچ چکی تھیں۔ اپنی مرغی کو اس حال میں دیکھ کر خالہ نے واپس کمرے کی طرف دوڑ لگا دی۔ جب وہ واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں سوئی دھاگہ تھا۔ انہوں نے مجھ سے مرغی کا سر پکڑنے کو کہا اور اس کے کھلے گلے کو اس طرح سینے لگیں جیسے کپڑے میں رفو لگا رہی ہوں۔  بچہ ہونے کے باوجود میں جانتا تھا یہ ایک نہایت احمقانہ حرکت تھی اور اب اس مرغی کو مرنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھامگر اول تو مرغیوں کوآنگن میں کھولنے کا آئیڈیا میرا تھا اور اس سوئی دھاگے کے ٹانکوں سے وقتی طور پر ہی سہی مگر خون کا  اخراج رک گیا تھا سو میں خالہ کو ٹوکنے یا سکھانے کی حماقت نہیں کرنا چاہتا تھا۔  مرغی کا گلا سینے کے بعد خالہ سکون میں آگئی تھیں اور مرغیوں کو واپس دڑبے میں ڈال کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں۔  میری  کچھ جان میں جان آئی تو مجھے اس مسیحا کی موجودگی کا احساس ہوا جس نے مجھے مکمل شرمندگی سے بچالیا تھا۔ تعارف پر معلوم ہوا وہ نانی اماں کے محلے میں نیا آیا ہے اور ایک دیگر سکول میں میری ہی جماعت کا طالب علم ہے۔ اس دن سے شروع ہونے والی ہماری دوستی آج ستائیس سال بعد بھی قائم تھی۔ہم اکثر ملتے تھے۔ ساتھ کھاتے تھے۔ ساتھ ہنستے تھے۔ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے تھے۔  اور آج بھی میں اس سے مل کر آنے کے بعد ہی بیٹھا یہ سطور لکھ رہا ہوں۔
آج کی ملاقات لیکن ماضی کی تمام ملاقاتوں سے مختلف تھی۔  آج وہ مجھے دوستی کے مرتبے سے بلند کر کے خدا بنانا چاہتا تھا۔ اپنے غم کوئی خدا کے علاوہ کسی کو کیسے سنا سکتا ہے ؟ اور بالفرضِ محال اگر سنا بھی دے تو اس سے چارہ جوئی کی امید کیسے کر سکتا ہے؟  مگر آج وہ یہ سب بنیادی باتیں بھول کر بیٹھا ہوا تھا اور اس بات پر مُصِر تھا کہ میں نہ صرف اس کی بات سنوں بلکہ اسے دلاسہ بھی دوں۔  اس نے اپنی روح کھول کر میرے سامنے رکھ دی جو کہ جگہ جگہ سے چاک تھی۔  کچھ زخم ایسے تھے کہ جن پر کھرنڈ آچکا تھا مگر زیادہ تر اب تک رِس رہے تھے اور دو ایک سے تو باقاعدہ خون جاری تھا۔  میں نے اسے سمجھایا کہ اس کے ان زخموں کا علاج سوائے خدا کے کسی کے پاس نہیں تو وہ بچپنا لے کر بیٹھ گیا کہ جب خالہ کی مرغی سوئی دھاگے سے سل کر  ناصرف زندہ رہ سکتی ہے بلکہ آگے چل کر انڈے بھی دے سکتی ہے توکیا تم ہمدردی کے سوئی دھاگے سے میرے زخم نہیں سی سکتے؟   میں نے اسے سمجھایا کہ میں خالہ کی طرح کم عقل نہیں ہوں۔ اس طرح سوئی دھاگے سے گلا سینے سے مرغی کو سیپٹک یا کوئی دوسری بیماری بھی ہوسکتی تھی۔  اس کا زخم پک بھی سکتا تھا۔ اس طریقے سے اسے کوئی دوسری بیماری بھی لگ سکتی تھی۔ انسان کو کچھ کام ماہرین کے لئے بھی چھوڑ دینے چاہئیں اور صرف ہمدردی کے نام پر ہر کٹے ہوئے گلے کو سینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔
خدا نے انسان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ کبھی اس پر اسکی برداشت سے زائد بوجھ نہ ڈالے گا۔ البتہ اس بارے میں تمام الہامی کتب خاموش ہیں کہ آیا خدا  انسانوں کو بھی ایک دوسرے پر برداشت سے زائد بوجھ ڈالنے سے باز رکھے گا یا نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انسان ایک وقت کو زمہ داریوں کا بھاری بوجھ تو اٹھا لیتا ہے مگر توقعات کا بوجھ نہیں سہار پاتا۔اور شاید اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان سرے سے اس المیے کو المیہ ماننے کو تیار ہی نہیں  ہیں۔ میں بھی اس وقت ایک ایسے ہی المیے سے دوچار ہوں۔  میں اس کو سمجھا کر تو لوٹ آیا مگر شاید بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ مجھے یقین ہے میرے جانے کے بعد اس نے خود ہی سوئی دھاگہ نکال لیا ہوگا جس کے نتیجے میں اسے سیپٹک ہوا ہوگا اور اس سے تنگ آکر اس نے خودکشی کرلی۔  خود تو چلا گیا مگر مجھ پر یہ بوجھ چھوڑ گیا کہ اگر میں آتے ہوئے اس کے پاس سے بھی سوئی دھاگہ اٹھا لے آتا تو نہ اسے سیپٹک ہوتا نہ وہ جان سے جاتا۔ افسوس!

بلاگ فالوورز

آمدورفت