جمعرات، 26 دسمبر، 2019

پھانس


چھوٹی کہلائی جانے والی باتیں انسان کو جتنا گہرا دکھ دیتی ہیں ، بڑی باتیں اس کا عشرِ عشیر بھی اثر انداز نہیں ہوتیں۔ یقین نہ آئے تو زندگی کی رفتار سے ایک موٹا سریا اپنے پیر پر مار کر دیکھ لیں اور اس کی آدھی رفتار سے ایک باریک پھانس اس ہی جگہ پر چبھا  لیں۔ فرق خود سمجھ آجائے گا۔
ایسی واہیات و بے سروپا باتیں میں نہیں کرتا ۔ میں تو صرف غریب کہانی کار ہوں اور اس کی یہ بھونڈی دلیل آپ تک پہنچا رہا ہوں۔ کیوں پہنچا رہا ہوں؟ میں نہیں جانتا۔ شاید تمہید باندھنے کے لئے ؟ یا شاید اس لئے کہ آج  جسم  میں پھانس چبھو بیٹھا ہوں اور اس سستے فلسفے سے جڑے کہیں زیادہ قیمتی اور عملی  فلسفے کا ادراک کر رہا ہوں؟ یا شاید اس لئے کیونکہ  میں تخلیق پر قدرت رکھتا ہوں اور ہر خالق  ہی کی طرح میں بھی اپنے اس اختیار کو بے جا استعمال کرنے کی عادت رکھتا ہوں؟  یا شاید اس لئے کیونکہ میں بھی بالآخر ایک انسان  ہوں اور  ہم انسان جس چیز کو بھولنا چاہیں اسے یاد کرنے کے بہانے غیر متعلق چیزوں میں سے بھی ڈھونڈ نکالتے ہیں؟  یا شاید یہ تمام وجوہات بیک وقت اس تحریر کا موجب بن رہی ہوں؟  اصل وجہ کیا ہے، میں نہیں جانتا!  میں بس یہ جانتا ہوں کہ میری اس کی یہ گفتگو جامعہ کے باغ  میں ہوئی تھی جہاں چلتے چلتے اس نے پیروں سے گرگابی اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی اور چار قدم چلنے کے بعد ہی کراہتی ہوئی نیچے بیٹھ کر پیر میں چبھنے والی پھانس نکالنے کے دوران اس نے مجھے یہ سستا فلسفہ سنایا تھا۔
انسانوں کے المیے کے لئے خود ان کا انسان ہونا ہی کافی تھا مگر ستم بالائے ستم یہ  کہ ہم اپنی انسانیت کی سمجھ دوسرے انسانوں پر بھی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ دوسروں سے کیا شکوہ کہ میں خود بھی ایک عمر تک اس ہی ذلیل حرکت کا مرتکب ہوتا رہا ہوں۔  سچ تو یہ ہے کہ یہ گفتگو بھی ایک ایسے ہی انسانی المیے کے نتیجے میں ہی وقوع پذیر ہوئی ۔
کہانی بہت معمولی ہے۔ ایک غریب سے ایک امیر زادی کا عشق اور اس کے لازمی نتیجے میں امیر زادی کے گھر والوں کا غریب کو یاد دلانا کہ ایسی شادیاں تو اب ہندوستانی سینما میں بھی نہیں دکھائی جاتیں  اور جتنی تمہاری آمدنی ہے اتنے تو ہمارے کتوں پر خرچ ہوجاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔  معمول کی کہانیوں کے اعتبار سے لڑکے کو اس سب کے بعد لڑکی کو بھگا کر لے جانا چاہئے جبکہ حقیقت پسند لکھاری شاید یہاں لڑکے کو قارئین کی سہولت کے اعتبار سے چند لاکھ یا ایک آدھا کروڑ دلوا کر چپ کروا دیں۔ مگر چونکہ فی زمانہ اینٹی کلائمیکس لکھنے کا رواج ہے اور یہ کہانی بھی نئے زمانے کی ہے سو یہاں  غریب زادہ بغیر پیسے لئے ہی اپنی اوقات پہچان لیتا ہے اور امیر زادی سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔ 
امیر زادی  نے چونکہ زندگی میں کبھی نہ نہیں سنا اس لئے وہ غریب زادے کے سادے سے انکار کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوجاتی ہے۔ تِس پہ یہ نوجوان اپنا دیوتا ؤں والا چوغہ نکالتا ہے اور امیر زادی کے سامنے ایک ایسے بھیانک انسان کے روپ میں آجاتا ہے کہ جس سے خدا کی ہر مخلوق گھن کھاجائے۔ امیر زادی عشق میں مبتلا ضرور تھی مگر ایک نفیس طبیعت کی مالک تھی۔ اول تو اس نے سب کو اپنا وہم یا سمجھ کی غلطی سمجھ کر ٹال دیا مگر جب غریب  نے مسلسل ڈھٹائی کے ساتھ چوغہ اوڑھے رکھا تو ناچار امیر زادی بھی گھن کھا کر خود ہی پسپا ہوگئی ۔ رخصت کی یہ آخری ملاقات جامعہ میں ہی ہوئی تھی کہ جہاں دونوں پڑھتے تھے۔ یہ آخری ملاقات ہر لحاظ سے آخری ملاقات تھی۔ اور جاتے سمے جامعہ کے باغ کی گھاس پر ہونے والی یہ گفتگو  ہم دونوں کے درمیان کی آخری گفتگو تھی۔  میں نے آخری ملاقات کی جگہ آخری گفتگو کا لفظ بہت سوچ سمجھ کر استعمال کیا ہے۔ کیونکہ ایسا نہیں کہ اس دن کے بعد ہماری کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہو۔
اس ایک ملاقات کے قریب گیارہ برس  بعد کل ہم دونوں دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے۔ اب میں بھی اتنا غریب نہیں رہا ہوں ۔ غربت کی وجہ سے عشق لٹانے والے اکثر مرد بعد میں کبھی غریب نہیں رہتے۔ ایک عام انسان کے مقابلے میں ایسے انسانوں کی ترقی کی بھوک سات گنا زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کھو دینے کا کرب جان جاتے ہیں۔شہر کے سب سے بڑے اور سب سے مہنگے شاپنگ مال میں گھومتے ہوئے کل وہ ایک بار پھر میرے سامنے آئی تھی ۔ اس بار وہ اکیلی نہیں تھی۔ ایک آٹھ سالہ حسینہ نے اس کی انگلی تھام رکھی تھی جبکہ ملازمہ سٹرالر میں ایک دو سالہ بچے کو لئے اس کے آگے چل رہی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ایک لحظہ کے لئے ٹھٹھکے  ضرور مگر پھر وہ خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔
اس ایک لمحے میں اس کی نگاہیں کئی ہزار لاکھ پھانسیں میرے پورے جسم میں پیوست کر گئی ہیں۔ اس کی آنکھوں میں میرے لئے جو نفرت اور حقارت تھی اس نے میرے دیوتائی چوغے کے تارو پود بکھیر دیے ہیں۔ میرا دل کیا تھا کہ میں دوڑ کر اس کو روک لوں اور اسے بتاؤں کہ میں اتنا مہان انسان ہوں جو تمہاری بہتر زندگی کے لئے اور تمہیں غربت سے جڑے آلام سے محفوظ رکھنے کے لئے خود تمہاری نظروں میں گرنے تک کے لئے تیار ہوگیا۔ جس نے تمہیں کبھی بھاپ تک نہ لگنے دی کہ وہ غلاظت کی دلدل میں محض اس لئے کود رہا ہے تاکہ تمہارے دامن پر کوئی چھینٹ نہ آئے۔ ایسے دیوتا تو پوجے جانے کے لائق ہوتے ہیں! کوئی ان سے نفرت کیسے کر سکتا ہے؟  مگر پھر یاد آیا کہ اس ہی لئے دیوتا ؤں کی جگہ آسمانوں میں ہوتی ہے۔ کسی وجہ سے ہی وہ انسانوں سے براہِ راست مخاطب نہیں ہوتے۔ انسانوں کے درمیان تعلق  بھی انسانوں والے ہی جچتے ہیں۔
کل سے اب تک چن چن کر جسم سے پھانس نکال رہا ہوں اور فلسفے کے نئے سبق سیکھ رہا ہوں۔ میں سیکھ رہا ہوں کہ پھانس بھی رشتوں کی طرح ہوتی ہے کہ اگر ڈھنگ سے کلوژر نہ کیا جائے تو چبھن مستقل ہوجاتی ہے۔ خواہ وہ رشتہ انسانوں سے ہو یا شہر سے یا کسی بھی دوسری مادی شے سے ۔ میں سیکھ رہا ہوں کہ پھانس کے چبھنے کا کرب اپنی جگہ مسلم صحیح مگر پھانس کے نکالنے کے اپنا ایک کرب ہے جس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔  میں سیکھ رہا ہوں کہ کچھ کہانیاں پھانس ہی کی طرح ہوتی ہیں کہ جن کا آغاز بھی تکلیف دہ ہوتا  ہے اور جب تک وہ جاری رہتی ہیں تکلیف پہنچاتی رہتی ہیں۔ اور پھر ایسی کہانیوں کا انجام بھی صرف ایک ہوتا ہے۔ اذیت!
میں ایک غریب کہانی کار ہوں اور میں سیکھ چکا ہوں کہ فلسفہ سستا صحیح مگر یہی حقیقت ہے کہ چھوٹی کہلائی جانے والی باتیں انسان کو جتنا گہرا دکھ دیتی ہیں ، بڑی باتیں اس کا عشرِ عشیر بھی اثر انداز نہیں ہوتیں۔ یقین نہ آئے تو زندگی کی رفتار سے ایک موٹا سریا اپنے پیر پر مار کر دیکھ لیں اور اس کی آدھی رفتار سے ایک باریک پھانس اس ہی جگہ پر چبھا  لیں۔ فرق خود سمجھ آجائے گا۔

جمعرات، 12 ستمبر، 2019

زبان دراز کی ڈائری - بدعتی


پیاری ڈائری
یوں تو فاؤنٹین ہیڈ لکھنے والی خالہ این رینڈ کہہ گئی ہیں کہ جس کام میں آپ مہارت رکھتے ہوں اسے کبھی مفت میں نہیں کرنا چاہئے مگر خالہ کا گزر کبھی برصغیر میں نہیں ہوا تھا ورنہ ہم بھی دیکھتے کہ وہ اس قسم کا جملہ کیوں کر کہتیں اور اگر کہہ دیتیں تو اس کے بعد ان کے محلے  اور خاندان کے بزرگ ان کا کیا حال کرتے ۔اور    چونکہ ہمارے محلے میں یہ بات مشہور ہے کہ ہماری دو کتابیں دکانوں پر پڑی گرد کھا رہی ہیں لہذا محلے داروں کو ہمارے بارے میں یہ غلط فہمی ہے کہ ہم اچھا لکھنا جانتے ہیں۔  اس بات کی دلیل وہ ہماری کتب کی فروخت یا عدم فروخت سے دیتے ہیں کہ اگر ہم اچھا نہ لکھتے تو ہماری کتابیں یوں گرد نہ کھا رہی ہوتیں اور ہم بھی دیگر شاہوں کی طرح کتب کے تیسویں ایڈیشن چھاپ رہے ہوتے۔ خدا ہماری کتب اور محلے داران دونوں پر رحم کرے۔ خیر! اتنی لمبی چوڑی تمہید اس لئے کہ آج پھر ہم ایک خط لکھوانے کے لئے دھر لئے گئے اور اس کے بعد سے پریشان گھوم رہے ہیں کہ کس دیوار سے جا کر اپنا سر ماریں تو سکون پائیں۔
تو ہوا کچھ یوں کہ  رات شامِ غریباں کی مجلس کے بعد ہم اپنے ہی جسم کے مزار پر اگربتی جلا رہے تھے (جسے بعض کم عقل لوگ سگریٹ نوشی سے تعبیر کرتے ہیں) کہ محلے کے ایک مشہور بزرگ نے ہمیں آلیا۔ چھوٹتے ہی کہنے لگے کہ جانتے ہو سگریٹ پینے سے کیا ہوتا ہے؟ ہم نے جوابا صدیوں پرانا لطیفہ انہیں بصد احترام سنا دیا کہ "اور کچھ ہو نہ ہو، محلے کے بزرگوں کو کیڑا ضرور کاٹ جاتا ہے اور وہ نصیحتیں شروع کر دیتے ہیں" ۔ بزرگوار اس وقت بزرگ سے زیادہ ضرورت مند تھے لہٰذا ہمارے اس براہ راست حملے کو نظرانداز کرتے ہوئے مدعے پر آگئے کہ وہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینا چاہ رہے ہیں اور خان صاحب کی سیاست سے متاثر ہوکر جوانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے انہیں سمجھایا کہ بزرگو! حکومت بنانے کے لئے جوانوں سے زیادہ ان کے بڑوں کی ہمدردیاں درکار ہوتی ہیں مگر وہ اپنی بات پر مصر تھے کہ وہ جوانوں کے مسائل حل کر کے  ہی آنے والے انتخابات کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ہم نے دریافت کیا کے ان کے نزدیک جوانان کے مسائل کیا ہیں اور اس سلسلے میں ہم ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟ تس پر انہوں نے ایک کاغذ کا پھرا نکالا اور سنجیدگی سے بولے کہ دنیا میں  دو  ہی چیزیں بکتی ہیں، ایک تبدیلی اور دوسرا مذہب۔ تبدیلی کے ٹریڈ مارک چونکہ پہلے ہی کسی اور کے پاس ہیں لہٰذا میں نے جوانان کے مذہبی مسائل کی ایک فہرست مرتب کی ہے ۔ اسی سلسلے میں ایک مشہور و معروف جریدے کو تاریخی کھلا خط وغیرہ لکھنا  چاہتا ہوں تاکہ پرسوں کے اخبار میں میرا بھی نام چھپ سکے اور شہر کے جوانوں کو خبر ہو کہ ان کے حقیقی مسائل پہچاننے والا ان کا لیڈر میدان میں آچکا ہے۔
خدا لگتی کہوں تو اب ہمیں بھی اشتیاق ہونے لگا تھا  سو  ہم نے فہرستِ مسائل کا وہ پھرّا ان کے ہاتھ سے اچک لیا جس میں سب سے اوپر درج تھا کہ شیعہ حضرات اکیلے اکیلے شامِ غریباں مناتے ہیں ۔ اہل سنت  بھی جذبات رکھتے ہیں  ان کا بھی خیال کیا جانا چاہئے۔ ہم نے لاحول پڑھ کر بزرگوار کی طرف دیکھا جو کمال معصومیت سے ہماری ہی سمت دیکھ رہے تھے۔  ہم نے اس مسئلے کی وضاحت طلب کی تو کہنے لگے کہ بھئی ہم نے تو یہ تک سنا ہے کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے بڑے ہوکر شیعہ ذاکر بنائے جاتے ہیں۔ اس بات کے ثبوت کے طور پر انہوں نے ہمیں نیپال اور چین وغیرہ کی کچھ مثالیں بھی گنوائیں۔   ہم نے بزرگوار کو یاد دلایا کہ پل کے دوسری طرف  بھی آم کھلانے والے سے لیکر حورین کی پنڈلیوں تک ہر قسم کی تفریح موجود ہے لہٰذا تفریح کو تفریح کی حد تک رکھنا چاہئے ۔ اس کی بنیاد پر ایک مکمل گروہ کو مطعون کرنا اچھی بات نہیں ہوتی۔ ویسے بھی بقول شاعرِ جنوب، چغد پالنے کا حق سب کو برابر کا ملنا چاہئے۔
بزرگوار ہماری بات سے بہت زیادہ مطمئن تو نہیں تھے مگر چونکہ ابھی تک ہم نے خط کا مضمون  لکھنا شروع نہیں کیا تھا لہٰذا وہ ہماری ناراضگی  کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ بولے آپ ایک نکتے کو پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ آگے پڑھئے۔ ترتیب کے اعتبار سے دوسرا نکتہ یہ تھا  عاشور و چہلم وغیرہ پر تمام سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں۔ بازار وغیرہ جبراً بند کروائے جاتے ہیں جس سے کاروبارِ زندگی کا حرج ہوتا ہے۔ یوں تو اس نکتے سے ہم بھی متفق تھے مگر نفسِ مضمون کے لئے ہم نے ان سے تفصیلات طلب کیں تو بزرگوار نے فرمایا کہ کراچی شہر کی معاشی شہ رگ ایم اے جناح روڈ ہے۔ ویسے تو یہ اچھی بات ہے  کہ جلوس کے اوقات میں یہ دکانیں بند رکھی جاتی ہیں ورنہ خدانخواستہ یہ دکاندار شیعہ حضرات کو اہلِ بیت کا نوحہ اور یزیدیت کے خلاف احتجاج کرتا دیکھتے تو عقائد میں بگاڑ پیدا ہوسکتا تھا ،مگر آپ یہ سوچیں کہ جب   محرم الحرام کے پہلے سات دن میں تبرکات و نذر و نیاز وغیرہ کے سلسلے میں بلا مبالغہ اربوں  روپے کی خریداری ہو سکتی ہے تو آخر کے تین دنوں میں دکانیں کھول کر مزید کتنا کاروبار کیا جا سکتا ہے۔  ہم نے انہیں یاد دلایا کہ تبرکات و نذر و نیاز کی خریداری کرنے والے زیادہ تر وہی لوگ ہوتے ہیں جو جلوس میں آرہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ جلوس بند کروا دئے جائیں گےتو تبرک و نیاز بٹے گی کہاں اور خریدے گا کون؟ بزرگوار جھلا کر بولے، آپ چونکہ جلوس کے راستے میں نہیں رہتے اور آپ کی کوئی دکان جلوس کی گزرگاہ میں نہیں ہے اس لئے آپ کٹ حجتی کر رہے ہیں۔ سوچیں اتنی بڑی ایم اے جناح روڈ ہے۔ چھٹی کا دن ہوتا ہے۔ اگر جلوس نہ نکلے تو نوجوان وہاں اطمینان سے کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔ جلوس کا کیا ہے؟ احتجاج ہی کرنا ہے تو وہ تو سپر ہائی وے پر بھی کیا جا سکتا ہے؟ اس کے لئے شہر کی تجارتی شاہراہ بند  کرنے کا کیا جواز؟ ویسے بھی شہر کے اندر احتجاج کرنے کا حق صرف صحیح العقیدہ سیاسی جماعتوں کو ہوتا ہے جو اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھیں کہ ان کے احتجاج سے یزیدِ وقت کے جذبات مجروح نہ ہوں۔  ہم نے کہا، بجا! آپ درست کہہ رہے ہیں۔ ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے کبھی چیزوں کو اس زاویے سے نہیں پرکھا تھا۔ ہماری شرمندگی دیکھ کر بزرگوار کچھ ٹھنڈے ہوئے اور اپنا منہ ہمارے کان کے قریب لا کر بولے، بیٹا! ان زیادتیوں کے خلاف کوئی بولتا نہیں ہے اس ہی لئے ہم سب یہ کچھ بھگت رہے ہیں۔ سال میں پانچ دن کی بات ہے  کہہ کر یہ لوگ ہمارا حق غصب کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ اب شاہرات سے نکل کر گلی محلے تک آچکا ہے۔ آج میں نے پوتی کی سالگرہ کرنے کے لئے گلی میں ٹینٹ لگانا تھا مگر مجلس کے نام پر مجھ سے پہلے یہ صاحب ٹینٹ لگا کر بیٹھ گئے۔ اب تمہارے سامنے ہی ساری گلی بند پڑی ہے۔ یہ کون سی انسانیت ہے؟ لوگوں کا آنا جانا دوبھر ہواگیا ہے!   انکار ممکن نہیں تھا لہٰذا ہم نے بزرگوار کی یہ بات بھی من و عن تسلیم کر لی۔
فہرست کے اعتبار سے تیسرا اور آخری مسئلہ یہ تھا کہ پرانے زمانے میں یہ لوگ پانی میں تھوک ملا کر دیا کرتے تھے جس سے بچاؤ کے لئے سبیل سے پانی و شربت نہیں پیا جاتا تھا۔ اب ان لوگوں نے اپنے کارندے حب ڈیم پر بٹھا دئے ہیں جہاں سے کراچی کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔ یہ کارندے آٹھ گھنٹے کی شفٹ کے حساب سے  چوبیس گھنٹے حب ڈیم کے کنارے بیٹھے ڈیم میں تھوکتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے انجانے میں تمام قوم ان کا جھوٹا پانی پینے پر مجبور ہے اور بچاؤ کا کوئی طریقہ ممکن نہیں ۔ یہ ایک نہایت مکروہ سازش ہے جس کی وجہ سے قوم کے نوجوان جھوٹا پانی پی کر اذلی دشمنی بھلا بیٹھے ہیں۔ سلسلہ یونہی جاری رہا تو بہت جلد ملک میں سوشی بچوں کی اکثریت ہوگی اور کوئی صحیح العقیدہ نہیں بچے گا۔
ہم نے بزرگوار کو تسلی دی کے ہم نے ان کے تمام مسائل تفصیل سے سن اور سمجھ لئے ہیں اور رات تک ایک اچھا سا خط لکھ کر ان کے نام سے جریدے کو ارسال کر دیں گے۔ ان کو روانہ کرکے جب لکھنے بیٹھا تو نجانے کیوں یہ خیال آگیا کہ میں  تو وہ ہوں جس کے بارے میں دنیا کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ ان اہلِ کوفہ میں سے تھا جنہوں نے پہلے حسین ابن علی کو خط لکھ کر بلوایا اور جب ابنِ زیاد نے شہر میں کرفیو لگایا تو حسین کی نصرت کو نکلنے کے بجائے گھر میں دبک کر بیٹھ گیا۔ پھر جب حسین شہید ہوگئے تو اپنی غلطی پر نادم ہوا  اور آج تک گریہ کرتا ہوں۔ بلاشبہ یہ بڑی بدبختی کی بات ہے۔ پھر یہ بھی خیال آیا کہ لوگوں کی یہ تہمت اگر درست بھی ہے تو بھی غلطی کا احساس ہوکر اس پر نادم ہوجانا خدا کا فضل ہے۔ اگر اس کی بجائے میں ان کوفیوں میں سے ہوجاتا جو یہ سوچتے تھے کہ حسین خوامخواہ اٹھ کر آگئے اور ان کی وجہ سے ہمارے شہر میں کرفیو نافذ ہوگیا ہے۔ نہ کہیں آسکتے ہیں نہ جا۔ سارے معمولاتِ زندگی برباد ہوکر رہ گئے  ہیں!
جب سے یہ آخری خیال آیا ہے سکون غارت ہوگیا ہے۔ سمجھ نہیں آرہا کہ کون سی دیوار سے جا کر سر ماروں تو سکون پاؤں۔    مگر پھر یہ بھی سوچتا ہوں کہ پریشانی و غم کی حالت میں سر پیٹنا بھی تو بدعت ہے۔جائیں تو کہاں جائیں؟
زبان دراز بدعتی

بلاگ فالوورز

آمدورفت