اتوار، 22 نومبر، 2020

جہنم


خدا کا تصور محض ایک مرد ہونے سے ہی محدود کیوں ہے؟    کبھی ہم اسے عورت  ہونے کے نقطہ نظر سے کیوں نہیں سوچ سکتے؟   جب وہ خود اپنی پہچان ایک ماں کے حوالے سے کراتا ہے تو ہم اسے زبردستی مردانہ حوالے سے کیوں سوچتے ہیں؟     نانی جھنجھلا کر نانا ابا سے بحث کرنے میں مصروف تھیں اور میں کونے میں بیٹھا خاموشی سے مونگ پھلی سے شغل کرنے میں مصروف تھا۔ یہ مباحثہ ہر دوسرے دن کا تھا۔ اور میں جانتا تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی بحث بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوجائے گی اور نانا ابا  اور نانی امی دونوں اپنے اپنے موقف پر جمے رہیں گے۔ 

نانا ابا کا ہمیشہ سے ماننا تھا کہ اللہ تعالٰی ہوتے ہیں جبکہ نانی امی انہیں قائل کرنے کی کوشش میں مگن رہتی تھیں کہ خدا اول تو جنس کی قید سے آزاد ہے اور اگر اسے جنس کے خانے میں رکھنا لازم ہی ہے تو محض صنف کرخت ہی کیوں؟  اللہ تعالیٰ ہوتی کیوں نہیں ہیں؟  اور یہ بحث محض خدا کی جنس تک محدود نہیں تھی۔ نانا ابا کا کہنا تھا  کہ خدا رحیم و کریم کے ساتھ قہار و جبار اور منتقم بھی ہے۔ دنیا میں جو کچھ اعمال ہم کر رہے ہیں وہ ہم سے ان کی جواب طلبی بھی کرے گا۔البتہ  نانی اماں اس معاملے میں ایک انوکھی منطق کی حامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ہستی رحمان کے ساتھ رحیم کا لفظ لگائے بغیر اپنے رحم کی تعریف مکمل  نہ سمجھتی ہو، وہ کسی کو بات نہ ماننے پر آگ میں کیسے ڈال سکتی ہے؟ یہ سب بحث میری ننھی سی سمجھدانی کے لئے بہت بڑی تھی۔ مجھے ان سب منطق و دلائل کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ میں خاموش تماشائی بنا بس ان دونوں کو بحث کرتا دیکھتا اور منتظر رہتا کہ کس دن فیصلہ ہو اور میں طے کر سکوں کہ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے یا ہوتی ہیں۔ بحث کا فیصلہ ہونے تک اللہ تعالیٰ میرے لئے بھی صنف کرخت ہی تھے کہ خدا کا اپنی جنس سے متعلق ہونا شاید مجھے بھی یہ احساس دلاتا تھا کہ جنس کی حد تک میں صحیح پیدا ہوچکا تھا اور تھوڑے سمے کی ہی بات تھی کہ جب آگے چل کر محدوود پیمانے پر میں بھی چند لوگوں کی زندگی  کی تقدیر کے فیصلے کر سکتا تھا۔  

خدا لگتی کہوں تو اکثر دماغ نانی امی کی دلیل سے زیادہ متفق ہوتا تھا  جو کہتی تھیں کہ "بڑے میاں! دعا کرو کہ خدا ویسا نکلے جیسا میں بتا رہی ہوں ۔ کیونکہ اگر خدا ویسا نکلا جیسا میں کہتی ہوں تو ہم دونوں کی بچت ہے۔ مگر خدا ویسا نکلا جیسا تم کہتے ہو تو یاد رکھو کہ جنت میں تم بھی نہیں جا رہے۔" مگر  نانی اماں کی دلیل کو ماننے میں جو مسائل تھے میں  ان کا ذکر پہلے ہی کر چکا ہوں سو  میں دماغ کو یہ کہہ کر تسلی دیتا کہ اگر یہ دلیل اتنی ہی موثر ہوتی تو اب تک نانا ابا بھی قائل ہوچکے ہوتے اور چونکہ وہ اب تک قائل نہیں ہوئے ہیں اور میں ان سے زیادہ نہیں جانتا لہٰذا مجھے بھی  اس دلیل کو نانا ابا ہی کی طرح مکمل رد کردینا چاہئے۔

دنیا میں کوئی بھی چیز متواتر نہیں رہتی سو یہ مباحثے بھی ایک دن دم توڑ گئے۔ نانا ابا اور نانی اماں کے قائل ہونے سے پہلے ہی ایک دن نانی اماں کی طبیعت بگڑ گئی اور ہسپتال پہنچنے سے پہلی ہی نانی اماں نے اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لئے موند لیں۔ بحث کرنے والی ہی نہ رہی تو اب مباحثہ کیا خاک رہتا؟ نانی اماں کے گزرنے کے بعد نانا ابا بھی بہت خاموش رہنے لگے۔ میں گو کہ ان کا چہیتا تھا مگر اب مجھ سے بھی گفتگو نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔  میں ان سے ملنے جاتا بھی تو وہ بستر پر خالی لیٹے رہتے ا ور مچان پر پڑے پردے کو تکتے رہتے کہ جیسے ابھی وہ پردہ ہٹے گا اور مچان میں سے کوئی دلچسپ چیز نکل کر باہر آجائے گی۔ میں بات کرنے کی کوشش کرتا تو بھی ہوں ہاں سے زیادہ جواب نہ دیتے۔ تنگ آ کر میں نے بھی ان کے پاس جانا بند کردیا۔

پھر ایک دن صبح سویرے مجھے آپا نے جھنجھوڑ کر جگایا کہ نانا ابا مجھے فورا یاد کر رہے ہیں۔ میں کم سن ہی تھا اور معاملات کو نہیں سمجھتا تھا۔ البتہ مجھے یہ ضرور علم تھا کہ معاملہ خیریت کا نہیں ہوسکتا تھا۔ نانا ابا نے اس طرح پہلے مجھے کبھی طلب نہیں کیا تھا۔ میں دوڑتا ہوا نانا ابا کے کمرے   میں گیا تو وہ بستر میں ہی دراز تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھے اور میرا ہاتھ تھام کر بولے،  تمہیں معلوم ہے نا کہ تمہاری نانی ایک نیک عورت تھیں؟  گو سوال میرے لئے غیر متوقع تھا مگر میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ انہیں شاید میرے جواب سے فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا، تم نے دیکھا تھا نا کہ وہ کس طرح مجھ سے بحث کرتی تھی؟ میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ میری بات سنتی ہی کب تھی؟  میں جانتا تھا  خدا کی ذات کو لے کر کی گئی اس کی بے ادبیوں کی سزا مجھے بھی ملے گی!  میں ان کی عجیب سے باتیں سن کر سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ مسلسل بولے جارہے تھے۔ کل رات میں نے تمہاری نانی کو خواب میں دیکھا۔ ہم دونوں حشر کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے۔ یہ بڑا سارا ایک باغ تھا۔کہیں نہریں بہہ رہ تھیں اور کہیں حسین و آراستہ محل نما عمارات تھیں۔ وہیں بہت سارے لوگ تھے ۔ سب اپنی باری کے منتظر۔ سامنے ایک بڑی سی میز تھی کہ جس کے سامنے جا کر ان میں سے ہر شخص کا حساب ہونا تھا۔ میں تمہاری نانی سے ماجرہ سمجھنے کی کوشش کر  ہی رہا تھا  کہ اچانک میرے نام کی پکار شروع ہوگئی۔ اس سے پہلےکہ میں کچھ سمجھتا، میں نے محسوس کیا کہ میرے قدم خود بخود چلنا شروع ہوگئے ہیں اور ایک ہی لمحے میں میں اس وسیع و عریض میز کے سامنے موجود تھا کہ جس کہ پیچھے  بے انتہا روشنی کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں پڑتا تھا۔  میں نے آواز لگائی کہ میرا وقت ابھی نہیں آیا اور یہ سب محض ایک خواب ہے۔ میں ابھی زندہ ہوں تو مجھ سے حساب کیسے ہوسکتا ہے؟  مگر سامنے سے جواب آیا کہ "وقت ہم ہیں! ہم طے کریں گے کہ کس کا حساب کب ہونا ہے!"  میں نے احتجاج میں منہ کھولنا چاہا تو میں نے محسوس کیا کہ زبان اپنی قوت گفتار کھو چکی ہے۔ میز کی دوسری طرف ایک ساعت کے لئے خاموشی رہی گویا وہ مجھے اپنی تشفی کرنے کا موقع دینا چاہتے ہوں کہ میں چاہوں بھی تو اپنی زبان کو نہیں ہلا سکتا۔  اور اس کے بعد جو آواز گونجی اس میں ایک عجیب سی مایوسی تھی۔ بالکل ویسی جیسی اماں کی آواز میں ہوتی تھی کہ جب ان کے بہت سمجھانے کے بعد بھی میں کوئی کام صحیح سے نہ کرپاتا تھا۔ میں نے سنا، "ہم نے تمہیں اتنا سمجھانے کی کوشش کی۔  کتابیں بھیجیں۔ لوگوں کو تمہاری زندگی میں  تمہاری سمجھ اور وقت کے اعتبار سے ترتیب وار بھیجا۔  اور اس سب اہتمام کے باجود بھی تم اتنی لمبی چوڑی زندگی میں ایک دن بھی ہمارے نہ ہوسکے؟ " میں نے محسوس کیا کہ میری قوت گویائی واپس لوٹ چکی ہے۔ میرے کانوں میں خود میری ہی گھبرائی ہوئی آواز گونجی، تو اب؟ کیا اب آپ مجھے آگ میں ڈال دیں گے؟  سامنے سے جواب آیا، تم جب دنیا میں ہمارے نہ ہوسکے تو یہاں ہمارے کیا ہوگے؟ اور جو ہمارا نہیں ہے ہم اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کا تردد بھی کیوں کریں؟  تم آزاد ہو۔ جیسی دنیا میں آزاد زندگی گزاری ویسی یہاں بھی گزارو! یہ محلات موجود ہیں۔ جس میں چاہو قیام کرو۔ نہریں بہہ رہی ہیں۔ جہاں سے چاہو، جتنا چاہو سیر ہو کر پیو۔ جو کرنا ہے کرو، بس آئندہ ہمیں اپنی شکل نہ دکھاؤ۔ ہمارا تمہارا کوئی تعلق دنیا میں نہ بن سکا۔ ہمارا تمہارا یہاں بھی کوئی تعلق نہیں بن سکتا۔ تمہاری ضروریات ہر طرح سے پوری کر دی جائیں گی۔ بس کبھی ہم سے تعلق بنانے یا بات کرنے کی کوشش نہ کرنا۔

میں پہلے تو ہکا بکا کھڑا اس آواز کو سنتا اور اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا اور جب ادراک کا در مجھ پر وا ہوا کہ میرے ساتھ کیا قیامت بیت چکی ہے تو میں بے ساختہ فریاد پر اتر آیا کہ یہ سزا بہت سخت ہے۔ مجھے کسی آگ کے گڑھے میں ڈال دیا جائے یا پھر پیپ پلائی جائے تاکہ میرا اور خدا کا حساب برابر ہوسکے مگر اس طرح مکمل ٹھکرا دینے والی سزا میرے لئے بہت سخت ہے۔ میں اس سب کے لئے تیار نہیں ہوں۔ ایسی کسی سزا کا ذکر قرآن یا حدیث کہیں نہیں ملتا۔ یہ سزا نصاب سے ہٹ کر ہے اور میرے ساتھ زیادتی ہے۔  میں وہیں کھڑا چیختا رہا یہاں تک کہ اپنے ہی شور سے میری آنکھ کھل گئی۔

نانا ابا اپنا خواب مکمل سنا کر اب ہانپ  رہے تھے اور میں مایوسی کے ساتھ ان کی گفتگو سن کر سوچ رہا تھا کہ بڑھاپے میں جاکر نانا ابا زندیق ہوگئے تھے اور اپنی تمام عمر کی عبادات کو ایک شیطانی خواب کے چکر میں مقدس کتابوں اور فلسفہ جنت و جہنم کی توہین کر کے  برباد کررہے تھے۔ میں اس گفتگو میں شریک ہوکر اپنا ایمان خراب نہیں کرسکتا تھا۔ میں نانا اباکو سلام کر کے کمرے سے اٹھ آیا۔

اس بات کو آج پینتالیس برس گزر چکے ہیں۔ پینتالیس برس قبل نانا ابا کے ساتھ ہوئی اس نشست کے چند ہی گھنٹوں بعد نانا ابا بھی نانی امی کی طرح ہی گھر سے ہسپتال اورپھر وہیں سےخدا کے پاس منتقل ہوگئے تھے۔ خدا جانے مرنے کے بعد انہیں جنت نصیب ہوئی یا جہنم۔ کل رات میں نے نانا ابا اور نانی امی دونوں کو ایک ساتھ خواب میں دیکھا۔ دونوں حشر کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے۔ یہ بڑا سارا ایک باغ تھا۔کہیں نہریں بہہ رہ تھیں اور کہیں حسین و آراستہ محل نما عمارات تھیں۔ وہیں بہت سارے لوگ تھے ۔ ہجوم کو دیکھ کر میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ اور کرتا بھی کیا؟ میرا ایمان  بہت کمزور ہے۔ میں جہنم میں جانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔  

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2020

گدھ - 4

 

بے لذت چیز گناہ ہو ہی نہیں سکتی۔ ایسا میں نہیں کہتا۔ یہ تو اس کا ماننا تھا۔  مگر اس کی باتوں کا کیا اعتبار؟ اس کا تو یہ بھی ماننا تھا کہ کوٹھے سے اگلا موڑجہنم کاہوتا ہےاور پھر  آج کی کہانی شروع ہی وہاں سے ہوتی ہے جب وہ خود کو تسلیاں دیتا ہوا  ایک کوٹھے کی جانب گامزن تھا۔

کردار  کے تعارف اور اس کے کناروں سے لپٹی ہوئی آپ کی کردار سے متعلق آراء کو پس انداز کرتے ہوئے، ہم کہانی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں جس میں وہ کوٹھے کی جانب گامزن تھا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا زینہ چڑھنے  کے تصور سے وہ اتنا  ہی گھبرایا ہوا تھا جتنا میں اور آپ کسی بھی معاشرتی طور  پرنفرت انگیز کام کو پہلی بار کرنے سے پہلے ہوتے ہیں۔  اول تو پہچانے جانے کا خوف   دامن گیر تھا مگر پھر یہ کہہ کر خود کو تسلی دی گئی کہ جو احباب وہاں پہچانیں گے وہ خودکون نیک کام کرنے آئے ہوں گے کہ ان سے شرمایا جائے؟  دوسرا خیال پولیس کے چھاپے کا تھا تو اس نے  جگہ کا انتخاب وہ کیا کہ جہاں  امرا ء و شرفاء کی آبادی ہو اور پولیس کا عمل دخل کم از کم ہو۔نکتہ چیں احباب کو امرا و شرفا کی ترتیب پر ضرور اعتراض ہوسکتا ہے مگر  مارکسی سوچ کا علاج تو خود حکیم مارکس کے پاس بھی موجود نہیں تھالہٰذا ہم کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

بتائی گئی مصروف سڑک  پر پہنچ کر اس نے پہلے اطراف  کے راہگیروں کی کی تسلی کی اور اس اطمینان  کے بعد کہ وہاں کسی جان پہچان والے کا گزر نہیں تھا، اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پر اس نائکہ کا نمبر ملا دیا جسے آج ہی اس کے ایک شوقین مزاج دوست نے متعارف کروایا تھا۔ فون کال کے تھوڑی ہی دیر بعد موٹرسائکل پر سوار ایک لڑکا اس کے پاس موجود تھا  جو اسے سمجھانے کے بعد کہ  اصل منزل ابھی چند قدم اور دور ہے اور اصل پتہ حفاظتی اقدامات کے تحت نئے گاہکوں کو نہیں بتایا جاسکتا، اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر مرکزی سڑک سے متصل گلیات میں داخل ہوگیا ۔ دل تو ایک مرتبہ پھر کانپا تھا مگر اس نے ہمت کر کے گاڑی اس موٹرسائکل کے پیچھے لگا دی اور چند ہی لمحوں میں وہ رہائشی علاقے میں واقع ایک عام سے گھر کے باہر موجود تھا۔

مکان کو دیکھ کر اول تو اس کا شک مزید پختہ ہوا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہو سکتا ہے کہ سامنے ایک مکمل رہائشی مکان موجود تھا کہ جس کے بارے میں کوئی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ یہاں کوئی کوٹھا ہوسکتا ہےمگر پھر دوسرا خیال آیا کہ اب مکان کے باہر فلاں فلاں وحشیا سروس کا بورڈ تو آویزاں ہونے سے رہا!  وحشیاؤں کے لئے مخصوص علاقوں کے ختم ہونے  کے بعد اب ان کی بقا کی واحد سبیل یہی تھی کہ رہائشی علاقوں میں مکمل رازداری  کے ساتھ کام کو چلایا جائے اور سامنے موجود مکان کو دیکھ کر اسے یہ تسلی ہونے  لگی تھی کہ اس کی میزبان وقت اور دھندے کے تقاضوں سے  مکمل آگاہ اور ہم آہنگ تھی۔

کانپتے قدموں کے ساتھ مکان کی دہلیز پار کرتے ہوئے حسب عادت اس نے خدا کو یاد کرنا چاہا  مگر  دعا کے درمیان میں ہی  کام کی نوعیت کا ادراک کرتے ہوئے وہ اپنے آپ میں ہی کھسیانا ہوگیا۔ خاموشی سے اس لڑکے کے پیچھے چلتے ہوئے  وہ ایک ہال میں داخل ہوگیا جہاں مختلف عمر کی پانچ لڑکیاں اور ایک تقریبا ادھیڑ عمر خاتون موجود تھی جو شاید اس کوٹھے کی نائکہ تھی۔ خاتون نے اس کو دیکھتے ہی چہرے پر ایک پیشہ ورانہ مسکراہٹ سجائی مگر اپنی نشست سے نہ ہلی۔ پانچوں لڑکیوں نے البتہ اسے مکمل دلچسپی سے دیکھا اور آپس میں ہنستے ہوئے کھسر پھسر کرنے لگیں۔  کھسیانا تو یہ پہلے ہی تھا، ان کے اس طرح ہنسنے پر شرمندگی کا اضافی بوجھ اس کے کاندھوں پر پڑ گیا اور وہ نظریں چرا کر اس ادھیڑ عمر خاتون کے نزدیک جا کر اس طرح کھڑا ہوگیا کہ لڑکیوں سے اس کا سامنا نہ ہوسکے۔

نائکہ جو بغور اس کی حرکات کا مطالعہ کر رہی تھی اس نے ایک دوستانہ مسکراہٹ اس کی سمت اچھالی اور نہایت نرم لہجے میں پوچھ بیٹھی کہ آیا وہ زندگی میں پہلی مرتبہ ایسی کسی جگہ آیا ہے۔ خود کو مضبوط دکھانے کے لئے اس نے سوچا کہ وہ جھوٹ بول دے مگر حلق تو گویا تھر کی صحرائی زمین ہوچلا تھا کہ جس نے برسوں سے نمی محسوس ہی نہ کی ہو۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اثبات میں سر ہلا بیٹھا۔ نائکہ نے تسلی آمیز لہجے میں اسے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور چونکہ پہلی مرتبہ آنے والے انسان کو بہت سی چیزوں کا اندازہ نہیں ہوتا لہٰذا وہ  اس کے ساتھ کسی ایسی معاملہ فہم لڑکی کو بھیجے گی جو معاملات کو خود بہتر سنبھال سکتی ہو اور اسے کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ ملے۔  یہ کہہ کر اس نے ایک بائیس سالہ لڑکی کو اشارہ کیا جو تعمیل میں  چیونگم چباتی ہوئی  اپنی نشست سے کھڑی  ہوئی اور آکر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ پیسے وصول کر   کمرے میں بھیجنے سے پہلے نائکہ نے بالخصوص اسے بتایا تھا کہ اس نے اپنا ہیرا اس کے ہمراہ کیا ہے جس نے ہر قسم کے گاہک کو مطمئن رکھا ہے اور آج تک کبھی کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملا ہے۔

مرکزی ہال سے کمرے تک کے سفر میں وہ محض یہ بات محسوس کر رہا تھا کہ نہایت نازک دکھنے والی اس دوشیزہ کے ہاتھ کسی محنت کش کے ہاتھ سے کم نہیں تھے۔ احساسات کی سب سے بڑی کمبختی یہی ہے کہ یہ اپنے ساتھ خیالات کا ایک  مکمل ریلا لے کر آتے ہیں اور ان میں سے اکثر خیالات پھر وہ ہوتے ہیں کہ جن سے جان چھڑانا ناممکن نہ سہی مگر دشوار ضرور ہوتا ہے۔ کمرے کا دروازہ بند ہونے تک وہ یہی سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکی محنت کرنے سے گریزاں ہرگز نہیں ہے مگر اس کے ساتھ جڑی مجبوری ضرور اس نوعیت کی رہی ہوگی کہ اسے مجبورا یہ برا کام کرنا پڑ رہا ہے۔  اور پھر اس خیال کے لازمی نتیجے میں آنے والا وہ خیال کہ وہ اپنی ہوس کی آگ میں ایک ایسی لڑکی کو استعمال کرنے لگا ہے کہ جو نہایت مجبوری کے عالم میں یہاں موجود ہے۔مگر پھر ایک اور سوچ   کہ اگر وہ یہاں  نہ بھی آئے تو بھی اس لڑکی نے اپنے ہوش و حواس میں اس پیشے کو چنا ہے اور اگر وہ نہ بھی ہو تو بھی اس کی جگہ کوئی اور مرد اس کی بے بسی کو بھنبھوڑ رہا ہوگا۔  شاید اس کے  دئے گئے پیسوں سے اس  کی وہ ضرورت پوری ہوجائے جس کی وجہ سے وہ یہاں موجود ہے؟ خیالات کا سلسلہ دراز تر ہوتا جا رہا تھا مگر اس لڑکی کی آواز نے اسے چونکا دیا جو اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نہایت مہربان لہجے میں اس سے پوچھ رہی تھی کہ آیا وہ محض  نظروں  سے ہی بھوک مٹانے آیا ہے یا کچھ کرے گا بھی۔  خیالات کی رو میں  وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس کی نگاہیں کافی دیر سے بیچاری پر ہی  مرکوز تھیں  ۔

اس نے چاہا کہ وہ خیالات کو جھٹک کر اپنا مقصد پورا کرے اور وہاں سے رخصت لے مگر خیالات  اور آزمائش کب کسی کے چاہنے سے ختم ہوئے ہیں؟  اس کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی ایک اور خیال اس کے دماغ  میں در آیا اور اس نے نظریں نیچی کرکے  اس لڑکی سے گزارش کردی کہ وہ یہاں زبردستی  کرنے نہیں آیا اور اگر وہ چاہے تو کسی بھی مرحلے پر اسے روکنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ لڑکی نے استعجابی نظروں سے اسے دیکھا اور بولی،  میں آپ کو کیوں روکوں گی صاحب؟ آپ مالک ہیں۔ جس طرح چاہیں برتیں!

بجائے اس کے کہ وہ مطمئن ہوکر اپنا مقصد حاصل کرتا، اب ایک احساس ندامت اس کے اندر گھِر کرنے لگا کہ وہ بیچاری اپنی ضرورت کے ہاتھوں کیسی مجبور ہے کہ اپنے جسم کے ساتھ اپنی مرضی  تک کو بیچنے چلی آئی ہے۔ اس نے نہایت شائستگی سے اسے  سمجھایا کہ انکار کرنا  ہر انسان کا حق ہے اور اس کے پیشے کے دستور کے برخلاف، یہ حق بہرحال اسے اپنے پاس رکھنا اور استعمال کرنا چاہئے کہ جب کبھی کوئی چیز اسے ناگوار گزرے تو وہ اسے وہیں روک دے۔  لڑکی کی آنکھوں کی حیرت اب الجھن میں تبدیل ہوچکی تھی۔  جب وہ گویا ہوئی تو اس کے لہجے میں دبی دبی جھنجھلاہٹ تھی۔ اس نے کہا، صاحب آپ نے ٹائم کے پیسے دیے ہیں۔ کیوں کھڑے کھڑے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ آپ کی جو خواہش ہے اسے پورا کریں ۔ اس کے بیچ میں میری خواہشات یا میرے جذبات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ 

اس کے بات سن  کر وہ احساسِ گناہ کی ایک نئی دلدل میں پھنس چکا تھا ۔ اسے لگا کہ وہ اس بند کمرے میں اس معصوم لڑکی کی عزت پائمال کرنے لگا ہے۔ اس کی نگاہیں  اب اپنے پیر کے انگوٹھوں پر مرکوز ہوچکیں تھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ جب وہ نگاہیں اٹھائے تو وہ کمرے سے جاچکی ہو۔ مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ  لڑکی اپنے کام سے مخلص تھی اور گاہک کی  تشفی کئے بغیر کمرے سے رخصت لینے والی نہیں تھی۔  اس نے اپنی ساری ہمت   جمع کی اور نگاہیں اٹھائے بغیر اس لڑکی کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ یہاں زبردستی کرنے نہیں آیا ہے اور اس تسلی کے بغیر  کہ جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہونے لگا  ہے اس میں نہ صرف دونوں کی رضا بلکہ دونوں کی خواہش بھی شامل ہے، وہ اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔

کمرے میں تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ لڑکی غیظ و جلال کی مجسم تصویر بنی ہوئی اسے گھور رہی تھی۔ اس کو نظریں اٹھاتا دیکھ کر وہ تیزی سے اس کی سمت لپکی اور اسے دھکیلتی ہوئی کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔

خود کو سنبھال کر  جب وہ باہر مرکزی ہال  میں پہنچا تو کسی گاہک کو شکایت کا موقع نہ دینے والی وہ لڑکی سرخ چہرہ لیے ، غصے میں کانپتی ہوئی نائکہ  پر چیخ رہی تھی کہ وہ یہاں محض  اپنا جسم بیچنے آتی ہے  اپنا دل نہیں! پیسے دے دیے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اب ہم حرامزادوں سے عشق بھی لڑائے!  بے لذت چیز گناہ نہیں  ہوسکتی۔ وہ یہاں نہ مزے لینے آتی ہے نہ گناہ کرنے !  آئندہ  اسے اس قسم کے کسی گاہک کے ساتھ بھیجا گیا تو وہ کسی اور نائکہ کے پاس بیٹھنا شروع کردے گی!

اس کی باتوں کو سن کر اس کے ذہن میں طوفانی جھکڑ چلنا شروع ہوگئے تھے۔ عرفان کی وہ گم گشتہ منزل کہ جس  میں وہ جان چکا تھا کہ گدھ کے حصے میں محض مردار گوشت ہی آسکتا ہے ، دوبارہ اس پر آشکار ہوچکی تھی۔ وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا اس لڑکی کے  سامنے جا کھڑا ہوا اور ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کرکے اسے گھسیٹتے ہوئے واپس کمرے میں لے گیا اور چٹخنی واپس چڑھا دی۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت