ہفتہ، 10 مارچ، 2018

مردود

ہر ذلیل ترین اپنے زمانے کا عزیز ترین رہا ہوتا ہے۔
کیا یہ لازم ہے؟
شاید! کیونکہ  دنیا تو برے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔  خود اپنے ایمان سے کہو کیا  کبھی ان میں سے کسی کو دیکھ کر تمہارے اندر غصے کی وہ لہر دوڑی ہے جو کسی سابقہ اپنے کو دیکھ کر دوڑتی ہے؟
نہیں!
اور کیا ایسا نہیں ہے کہ تعلق جتنا مضبوط رہا ہو، تاسف اتنا ہی شدید ہوتا ہے؟
شاید ایسا ہی ہے۔
تو مان کیوں نہیں لیتے کہ ہر ذلیل ترین اپنے زمانے کا عزیز ترین رہا ہوتا ہے؟
 میرے مان لینے سے کیا فرق پڑ جاتا ہے؟
فرق تو پڑتا ہے۔ ایک انسان کے قائل ہوجانے سے بھی فرق پڑتا ہے۔
اگر ایسا ہے تو تم نے لکھنا کیوں چھوڑا؟
کیونکہ کسی ایک کو بھی فرق نہیں پڑتا تھا۔
تو اب مجھے یہ کہانی کیوں سنا رہے ہو؟
کیونکہ تمہیں فرق پڑتا ہے۔ اور تمہیں فرق پڑنا بھی چاہئے کیونکہ اب سے تم اور میں ایک جیسے ہیں۔
میں اور تم ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں؟ مجھ اور تم میں کچھ بھی قدر مشترک نہیں ہے!
ایک قدر مشترک ہے۔
وہ کیا؟
ہاہاہاہاہاہاہا  ۔۔۔ ہم دونوں کے ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔
یہ ایک نہایت بے ہودہ مذاق ہے!
میرے پیارے! مذاق یہ نہیں ہے۔ مذاق تو وہ ہے جو تقدیر نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔
اب تقدیر کہاں سے آگئی؟
یہ بھی ایک کہانی ہے۔
مگر تم نے تو کہانی کہنا چھوڑ دی ہے؟
چھوڑ دی ہے مگر ایک مختصر کہانی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
اچھا؟
ہاں! توہوا کچھ یوں کہ خدا نے جب فرشتے بنائے  تو ان میں سے ہر ایک احسان شناسی کے تقاضوں کے تحت خدا کی عبادت کیا کرتا تھا اور خدا بھی قدر شناسی کے تقاضوں کے تحت ان کو محبوب رکھتا تھا۔ انسانوں کی طرح تمام فرشتے بھی ایک جیسے نہیں تھے۔ ان میں بھی وقت کے ساتھ طبقات وجود میں آگئے۔ اپنی عبادات کے خلوص اور کثرت کی وجہ سے عزازیل نامی ایک فرشتہ ترقی کے مدارج طے کرتا ہوا مقربین کی فہرست میں سب سے آگے پہنچ گیا اور سرداری کے منصب پر فائز کیا گیا۔سمے اپنی رفتار سے گزرتا گیا اور راوی چین ہی چین لکھتا رہا مگر پھر ایک دن خدا نے ان مقربین کے سامنے اپنے نائب یعنی انسان کو پیش کر دیا اور ان مقربین کو حکم ہوا کہ اس نائب کے آگے سر کو خم کر دیں۔
یہ کہانی میں نے سن رکھی ہے۔ سارے فرشتوں نے حکم مان لیا تھا سوائے ابلیس کے اور اس کے بعد سے وہ مردود ہوگیا تھا۔
جانتے ہو ابلیس نے ایسا کیوں کیا تھا؟
تکبر کی وجہ سے!
اور یہ تکبر کس بات کا تھا؟
کہ خدا نے اسے مٹی سے پیدا کیا ہے جبکہ مجھے آگ سے !
صرف یہی وجہ رہی ہوگی؟
قرآن میں تو یہی وجہ لکھی ہے
میں قرآن کے خلاف جانے کا تصور نہیں کر سکتا۔ قرآن میں لکھا ہے تو ٹھیک ہی لکھا ہوگا۔ مگر میری کہانی تھوڑی مختلف ہے ۔ میری کہانی کے ابلیس کا تکبر اس کے تعلق پر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس کا تعلق اتنا مستحکم اور اتنا منفرد ہے کہ تاعمر کبھی بھی کسی کو بھی مجھ پر فوقیت نہیں دی جا سکتی اور اس لئے جب انسان نے آکر اس کی جگہ لے لی تو ابلیس نے قسم کھائی کہ مالک کو دکھا کر چھوڑے گا کہ اس نے مجھے چھوڑ کر جس کو چنا ہے وہ کس حد کا گھٹیا اور رذیل ہے۔
تو نے لکھنا چھوڑ دیا تھا نا؟
ہاں! کیوں؟
اچھا کیا تھا۔

اتوار، 19 نومبر، 2017

زبان دراز کی ڈائری - دھرنا

پیاری ڈائری!
طویل غیر حاضری کی معذرت! ایسا نہیں کہ لکھنے ایسا کچھ نہ رہا ہومگر لکھنے پر طبیعت مائل ہی نہیں ہوتی۔ وہ کیا ہے نا کہ ڈائری لکھنے کے پیسے نہیں ملتے اور فن بے شک پیسوں کا محتاج نہ ہو مگر حقیقی فنکار ساری عمر پائی پائی کا محتاج ہوتا ہے۔
آج صبح سے ارادہ کر کے بیٹھا تھا کہ ڈائری لکھوں گا اور آج خلافِ معمول کوئی جلی کٹی نہیں لکھوں گا۔ کچھ پر امید لکھوں گا۔ جس طرح بالآخر خالہ کے جمشید سے بیاہی جانے والی دوشیزائیں شادی سے پہلے فواد خان کو تصور کر کے شاعری  بھرے مضامین لکھتی ہیں، ویسا کچھ! مگر برا ہو اس نئی نسل کا کہ انہوں نے اچھے خاصے مزاج کو مکدر کرکے رکھ دیا۔ بھئی گانوں کی حد تک تو ری مکس کی سمجھ آتی ہے مگر ہماری صدیوں پرانی لوک کہانیوں میں تضمین کرنا کون سی شرافت ہے؟
ہوا کچھ یوں کہ ہماری نواسی نے ہم سے کہانی سننے کی فرمائش کردی۔ ہم کافی دن سے دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے آج کے کام کو پرسوں پر ٹالنے کی روش پر گامزن تھیں کہ کل پر ٹالنا ان کے نزدیک بہت مین سٹریم تھا۔ سو ہم نے انہیں اپنے بچپن کی سنی ہوئی کہانی سنا دی کہ جس میں ایک چڑیا اپنے بچوں کے ساتھ کسی کھیت میں رہا کرتی تھی ۔ جب اور جہاں جی کرتا غیور مردوں کی طرح منہ مارتی پھرتی کہ جانتی تھی کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ایک دن چڑیا کے بچوں کے نے اسے بتایا کہ انہوں نے خود اپنے گناہگار کانوں سے کسان کو اسے گالیاں دیتے سنا ہے ۔ کسان نے پیٹ بھر کر گالیاں دینے کے بعد یہ بھی فرمایا ہے کہ اس نے اپنے بھائی سے بات کر لی ہے اور کل ہی وہ کھیت سے چڑیا کا خاتمہ کر لے گا۔ چڑیا سیاسی رہنما تو تھی نہیں کہ چھوٹوں کی باتوں میں آجاتی، اس نے بچوں کو تسلی دی کہ اس کی کسان کے بھائی کے ساتھ اچھی سیٹنگ ہے انشاءاللہ کچھ نہیں بگڑے گا۔ جہاں جی چاہے منہ مارو! 
 بچے بے فکر ہو کر ایک مرتبہ پھر کھیت اجاڑنے میں مشغول ہوگئے ۔ چند دن بعد بچوں نے پھر اطلاع دی کہ کسان اب کی مرتبہ زیادہ گندی گالیوں پر اتر آیا ہے اور کہتا ہے کہ کل وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ہمارا گھونسلہ اجاڑ دے گا۔ چڑیا نے بچوں کو ایک مرتبہ پھر دھنیا پلا کر سلا دیا اور اپنے معمولات میں مصروف ہوگئی۔
تیسری مرتبہ البتہ صورتحال بہت سنگین تھی۔ بچوں نے بتایا کہ کسان نے گھر میں انٹرنیٹ لگوا لیا ہے اور ایک مخصوص سیاسی جماعت میں شمولیت کے بعد خادم حسین رضوی جیسی گالیاں بکنے لگا ہے۔ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ آج خود اپنے ہاتھ سے ہمارا گھونسلہ اکھاڑ پھینکے گا۔
روایتی کہانی کے مطابق اب چڑیا کو بچوں کو سمجھانا تھا کہ بچو! سامان سمیٹ لو۔ اب یہ انسان کام کر کے ہی رہے گا کیونکہ یہ اس بار کسی پر منحصر نہیں ہے اور نہ ہی آج کا کام کل پر ٹال رہا ہے مگر اس سے پہلے کے ہم یہ انجام اس دس سالہ بچی کو سمجھاتے اس نے کہا، نانو! آگے کی کہانی مجھے پتہ ہے۔ اس چڑیا نے دس پندرہ چڑیاں اور اکٹھی کی ہوں گی اور کھیت میں دھرنا دے کر بیٹھ گئی ہوگی۔ اس کے بعد کسان کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے سارے نقصانات معاف کرے اور کھیت میں سے ایک حصہ ان چ٭٭یوں  ۔۔۔ (خادم حسین صاحب کے نام کی دہشت سے اب کمپیوٹر چڑیوں کو بھی سینسر کر رہا ہے۔ سبحان اللہ) کو بھی دینے پر مجبور ہوگیا ہوگا اور اس کے بعد سب یوں ہنسی خوشی رہنے لگے ہوں گے  جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
ہم نے تپ کر اس سے پوچھا اور جب آپ یہ سب جانتی ہی ہیں تو یہ بھی بتا دیں کہ کہانی کا حاصل کیا تھا؟ تس پر وہ بڑے رسان سے بولیں، دھرنے میں بڑی برکت ہے!
خود بتاؤ۔ اس قسم کی اولاد کے ہوتے ہوئے انسان کیسے شاعری بھرے مضامین لکھ سکتا ہے؟
والسلام
زبان دراز دھرنوی

بلاگ فالوورز

آمدورفت