منگل، 24 اکتوبر، 2017

نقاب

دن بھر کی مشقت کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو اتنا تھک چکا تھا کہ نقاب بدلے بغیر ہی سو گیا۔  رات کے پچھلے پہر اس کی بیٹی کی پیاس سے آنکھ کھلی تو پہلو میں باپ کی جگہ کسی انجان چہرے کو دیکھ کر گھبرا ہٹ میں چلا اٹھی۔ چپ کرانے کے لاکھ جتن کئے مگر وہ مان کر نہ دی۔ غریب کی عمر ہی کیا تھی کہ وہ باپ کی مجبوریاں سمجھتی؟ بڑی مشکل سے الماری سے گھر والا نقاب نکال کر لگایا تب جا کر اس معصوم کی جان میں جان آئی ۔ انسانوں اور بالخصوص بچوں کا المیہ یہی ہے کہ یہ اپنے پسندیدہ کرداروں کو کبھی اپنی مرضی کے روپ کے علاوہ دیکھ ہی نہیں سکتے۔ پھر چاہے وہ ان کی مرضی کا روپ محض ایک نقاب ہی ہو مگر وہ اصل پر اس من چاہی نقل کو فوقیت دیتے آئے ہیں۔
وہ کافی دیر بیٹی کے ساتھ جاگ کر اسے تسلیاں دیتا رہا اور جب اسے سلا کر فارغ ہوا تب احساس ہوا کہ اپنی نیند غائب ہوچکی ہے۔   اول تو یونہی دیر تک  کروٹیں بدلتا رہا مگر جب نیند کی جگہ جھنجھلاہٹ آنے لگی تو اٹھ کر خوابگاہ سے باہر آگیا۔ اسے رہ رہ کر اپنی حماقت پر غصہ آرہا تھا۔ کیا تھا اگر گھر میں گھسنے سے پہلے وہ گھر والا نقاب لگا لیتا؟  اس معصوم کا کیا قصور تھا کہ وہ اس کا یہ روپ دیکھتی؟  پھر سوچا آج نہیں تو کل کبھی تو اس نے یہ والا روپ بھی دیکھ ہی لینا تھا؟ تب کیا ہوتا؟ کل کا ہوتا آج سہی !  پھر خیال آیا تب تک وہ بڑی ہوچکی ہوتی اور شاید اس طرح نہ ڈرتی؟ سوچ  کا سلسلہ مسلسل دراز ہوتا چلا جا رہا تھا۔ ڈرنے سے اس کے دماغ میں ایک اور سوچ ابھر آئی۔ اس نے سوچا کیا میں اتنا  ہی بھیانک ہوں کہ میری اپنی اولاد تک مجھ سے خوف کھائے؟ پھر جوابی سوچ آئی کہ جو کچھ دیکھ کر وہ ڈری وہ میری اصل نہیں تھی۔ وہ تو محض حالات کی وجہ سے طاری کیا گیا ایک نقاب تھا۔ اصل پر طاری ہوا ایک نقاب۔ سوچ کے تسلسل میں چلتا ہوا وہ بے دھیانی میں شیشے کے سامنے جا کھڑا ہوا اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نقاب کو جانچنے لگا۔ اس وقت وہ ایک مکمل باپ تھا۔ شفیق اور  مہربان  ۔ چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خدا جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ اس نے نقاب کو یک بار گی اتار کر  پھینک دیا۔ نیچے سے برآمد ہونے والا چہرہ ایک شوہر کا تھا۔ محبت کی چمک سے بھرپور اور صبیح۔  اسے یاد آیا کہ یہ نقاب اس نے باپ والے نقاب سے پہلے پہنا تھا۔ اس نے اسے بھی نوچ کر پھینک دیا۔ وہ اب اس چہرے کی تلاش میں تھا جو اس کا اپنا چہرہ تھا۔ شوہر کے چہرے کے پیچھے ایک فرمانبردار بیٹے کا نقاب آویزاں تھا۔ اس کے ہاتھ اب میکانکی انداز میں چل رہے تھے۔ بیٹے کے بعد بھائی۔ بھائی کے بعد دوست۔ دوست کے بعد مزدور۔ ایک کے بعد ایک چہرہ آتا گیا اور وہ بغیر رکے ان نقابوں کو نوچتا چلا گیا یہاں تک کہ چہرے پر کوئی نقاب باقی نہ رہا۔اب اس کے سامنے  کوئی نقاب نہیں تھا۔ فقظ ایک چہرہ تھا۔ نقابوں کے بوجھ سے جھریوں زدہ۔ نقابوں کے ٹانکوں سے زخم آلود۔ وہ چہرہ کہیں سے بھی انسانی  چہرہ نہیں تھا۔ شیشے میں اس کے سامنے ایک عفریت کھڑی تھی۔ اس نے گھبرا کر نقاب دوبارہ لگانے چاہے تو احساس ہوا کہ جذبات میں آکر نقاب اتارنے کے دوران وہ ساری نقابیں پھاڑ بیٹھا ہے۔  شیشے میں موجود عفریت اب فلک شگاف قہقہے لگا رہی تھی۔ اس نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا اور جب قریب کوئی چیز نہ دکھی تو اپنا منہ شیشے پر دے مارا اور اس وقت تک مارتا رہا جب تک کے شیشہ کرچی کرچی ہوکر آدھا زمین اور باقی اس کے چہرے میں پیوست نہیں ہوگیا۔ اپنے چہرے سے جاری خون کی دھاروں کو وہ باقاعدہ محسوس کرسکتا تھا۔اسے نے بہتے ہوئے گرم سیال خون کو اپنے چہرے پر محسوس کیا تو گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔  اسے اٹھتا دیکھ کر اس کی معصوم بیٹی سہم کر بولی، بابا! میں تو آپ کو پیار کرنے آئی تھی مگر مجھ سے تھوڑا سا دودھ گر گیا۔ آئی ایم سوری۔ اس نے بے ساختہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور جب یقین ہوگیا کہ یہ سب کچھ محض ایک بھیانک خواب تھا اور نقاب چہرے پر سلامت موجود ہے تو بیٹی کا ماتھا چوم کر دوبارہ سونے لیٹ گیا۔

پیر، 4 ستمبر، 2017

بھیڑیا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک دو پیروں والا بھیڑیا رہتا تھا۔ میں مانتا ہوں کہ شہروں میں بسنے والے دو پیروں کے بھیڑیے کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے جنگل میں بھی دو پیر کے بھیڑیے پائے جا سکتے ہیں مگرکیا کریں کہ جس بھیڑیے کی یہ کہانی ہے وہ واقعی دو پیروں والا تھا اور جنگل میں ہی رہتا تھا۔  گو کہنے کو اس بھیڑیے کا ایک نام بھی تھا مگر اس نام  کو یہاں بتانے میں ایک مسئلہ ہے کہ نام سن کر آپ لوگ اس کا مذہب اور پھر اس مذہب کا مسلک ڈھونڈنے میں لگ جاتے ہیں تاکہ  کہانی کے اختتام کی بنیاد پر طے کر سکیں کہ وہ آیا واقعی آپ کے اپنے مسلک کا تھا یا دشمن کا ایجنٹ تھا جو آپ کےفرقے کو بدنام کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا لہٰذا ہم اس بھیڑیے کے نام کو یہیں چھوڑ کر کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

تو جیسا کہ کہانیوں میں ہوتا آیا ہے کہ  کہانی کا مرکزی کردار چند مشکل حالات میں زندگی شروع کرتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ قسمت اس کے دروازے پر دستک دیتی ہے اور اس کے بعد اس کے دن پھر جاتے ہیں اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔ ویسا ہی اس کہانی میں بھی ہوتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو؟ آخر کو لیکھک نے بھی تو وہی لکھنا ہے جو قارئین شوق سے پڑھتے ہیں۔ زندگی اور تقدیر کی مسلسل ٹھوکریں کھانے کے بعد ایسی کہانیوں کی افیم سے ہی تو انہیں یہ ڈھارس ملتی ہے کہ ان کی قسمت کا دروازہ بھی کسی دن کھل جائے گا۔   لیکھک یہ بات جانتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کامیابی مجمع  اکٹھا کرنے میں ہے اور مجمع اکٹھا کرنے کے لئے وہ باتیں کرنا ضروری ہے جو لوگ سننا چاہتے ہیں ناکہ وہ باتیں جو انہیں سننے کی ضرورت ہے۔مگر چونکہ نہ میں لیکھک ہوں اور نہ ہی دوراندیش لہٰذا آج کہانی وہاں سے شروع ہوگی جہاں پر کہانی ختم ہوتی آئی تھی۔

سو جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ کہانی سب کے ہنسی خوشی رہنے کے بعد شروع ہوتی ہے تو جب سب ہنسی خوشی رہنے لگے تو اس کے چند دن بعد انہیں یہ احساس ہوگیا کہ یہ ہنسی خوشی رہنا تو بہت بورنگ سی چیز ہے۔اب ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے منہ نوچنے لگیں اور پھر ہنسی خوشی رہنے لگیں مگر ہم نے ایسا کیا تو آپ کہیں گے کہ بھئی کیا عمدہ کہانی ہے   اور ہم محشر کے حساب اور قبر کے عذاب کے بعد سب سے زیادہ جس چیز سے ڈرتے ہیں وہ سخن ناشناس کی تعریف ہے۔ بخدا سخن شناس کی خاموشی اتنا نہیں کھَلتی جتنا سخن ناشناس کی تعریف سے جان جاتی ہے۔ تو کہانی کو بہرحال آگے بڑھنا ہے اور کہانی آگے بڑھتی ہے کہ جب سب لوگ ایک دوسرے کے منہ نوچ رہے تھے تب اس دو پیر کے بھیڑیے نے ایک چیز محسوس کی کہ وہ پنجے چلانے کے ساتھ ساتھ جبڑے بھی چلانا شروع ہو گیا ہے اور قریب آنے والے ہر  جانور کو بلاتخصیص کاٹنے لگا ہے۔ چونکہ وہ بھیڑیا   تھا اور اپنے خالہ زاد بھائی کی طرح اسے شہروں کی ہوا نہیں لگی تھی تو بجائے سب کو بھنبھوڑنے کی عادت پر فخر کرنے کے اس نے الٹا اس بات پر شرمندہ رہنا شروع کردیا۔  میں جانتا ہوں کہ شہروں میں بسنے والے دو پیروں کے بھیڑیے اس بات پر بھی جزبز ہورہے ہوں گے کہ عجیب احمق بھیڑیا ہے اور ہمارے نام پر دھبا ہے وغیرہ وغیرہ مگر کیا کریں؟  یہ ہماری کہانی ہے اور ہر کہانی کار کی طرح ہماری بھی مرضی کے اپنے تخلیق کردہ کردار سے جس طرح کے چاہے ڈرامے کروائیں۔ جیسے چاہیں اس کی زندگی رگید دیں۔ اور پھر اس کے بعد احسان بھی جتائیں ۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا ۔ تو ہوا یوں کہ ہوتے ہوتے اس کی شرم اتنی بڑھ گئی کہ اس نے  تمام جانوروں سے دور جا کر رہنے کا فیصلہ کرلیا۔

                                                                        باقی جانوروں پر تو اس کے اس فیصلے کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا مگر جو غریب اس سے محبت کرتے تھے وہ بہت ملول ہوگئے۔ انہوں نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ وقتی چیز ہے اور ختم ہوجائے گی مگر اس نے اول اول تو ان پر بھی پنجے جھاڑے اور بعد میں ان سے خود ہی کنارا کر لیا کہ وہ اب اپنے وحشی پن سے انہیں مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔

اس کے بعد کیا ہوا۔ کس طرح جب کوئی نہ بچا اور اس نے خود اپنے آپ کو نوچ نوچ کر مار ڈالا وغیرہ وغیرہ یہ سب غیر اہم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کے مرنے کے بعد سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

ختم شد

بلاگ فالوورز

آمدورفت