جمعہ، 9 نومبر، 2018

لنگڑا


ماضی اپنے وقت میں جیسا بھی رہا ہومگر ماضی بن جانے کے بعد خوشگوار ہو ہی جاتا ہے۔ البتہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی یاد داشت سے کھرچ نہیں پاتےاور وقت کی شیرینی بھی ان کی تلخیوں کو کم نہیں کرپاتی۔ انسان شاید ایسی ہی یادداشتوں کی بائے پروڈکٹ ہے۔
اچھے وقتوں کی بات ہے جب میں ابا کے میڈیکل سٹور پر دوپہریں کالی کیا کرتا تھا۔ یہ دکان کراچی کے ایک صنعتی علاقے سے ملحقہ آبادی میں واقع تھی سو گاہکوں کی اکثریت انہیں کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور خاندانوں کی ہوا کرتی تھی۔کراچی کے  اردو بولنے والوں کا خبطِ عظمت اس وقت تک قائم تھا سو ان کارخانوں میں کام کرنے والے یہ مزدور عام طور پر سرحدی علاقوں سے آنے والے محنت کش  ہوا کرتے تھے جو یہ بات جان چکے تھے کہ انا سے پیٹ نہیں بھرا جا سکتا۔  
گو اتنے عرصے سے بازار میں بیٹھ کر ابا اب اہلِ زبان کی طرح پشتو اور دیگر علاقائی زبانیں بول لیا کرتے تھے مگر پھر بھی بازار میں ہماری دکان کی پہچان مہاجروں کا میڈیکل سٹور کے نام سے ہی تھی۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی رہی ہو کہ بازار میں یہ واحد دکان تھی جسے کوئی ہندوستانی مہاجر چلا رہا تھا۔ ہماری دکان کے اطراف میں واقع ویلڈنگ والا، روئی والا، کریانہ والا اور موچی سب سرحدی علاقے سے تعلق رکھتے اور پشتو بولتے تھے۔ ولی ولی کو پہچانتا ہے سو ان دکانوں پر کام کرنے والے تمام لڑکے میری خباثت کے معترف  اور باقاعدہ مرید تھے۔  اس سے پہلے کہ آپ میری خباثتوں کے بارے میں غلط اندازے لگائیں، یہ کہانی اچھے دور کی ہے کہ جب ہماری حرکتوں سے ہڈیاں تو کئی ٹوٹی ہوں گی مگر کوئی دل کبھی نہیں ٹوٹا تھا۔ ہاں ہماری کسی حرکت سے معتوب ہو کر کوئی غریب انسانیت پر بھروسہ چھوڑ بیٹھے تو اور بات ہے۔ تو  فارغ وقت میں میری  دکان پر یہ  بیٹھک جمتی جہاں  وہ مجھ سے خباثت سیکھتے اور بدلے میں میں ان سے پشتو زبان کی مکروہ ترین گالیاں اور گنتی سیکھا کرتا تھا۔
تو ایسی ہی ایک بیٹھک کا ذکر ہے کہ کڑی دوپہر میں عبدالصمد نمودار ہوگیا۔ عبدالصمد اپنی ذات کا ایک منفرد کردار تھا۔ اس کی عمر کوئی سولہ سترہ برس رہی ہوگی مگر ابھی تک اس کی مسیں بھی نہیں پھوٹی تھیں۔ نہایت معصوم چہرہ  اور بہت ہی نازک نقوش۔ مگر  کہتے ہیں نا کہ قدرت کسی کو بھی سب کچھ نہیں دیتی۔  والدین کی لاپرواہی کی وجہ سے ہونے والے پولیو کے نتیجے میں عبدالصمد کی دونوں ٹانگیں بیکار ہوچکی تھیں۔  شاید کلاس میں بچوں کی تضحیک رہی تھی یا پھر کوئی اور وجہ مگر پانچویں کے بعد وہ کبھی اسکول نہیں گیا تھا۔ پڑھنے لکھنے سے زیادہ سیکھنے کا شوق رہا تھا لہٰذا گھر بیٹھ کر بھی وہ کوشش کرتا تھا کہ کتاب سے رشتہ نہ ٹوٹے۔ گھر سے باہر نکلنے کا یا تو شوق نہیں تھا یا پھر ٹانگوں کی مجبوری رہی تھی کہ وہ کتب خریدنے بازار نہیں جا سکتا تھا سو ابا جو کتابیں مہینے میں ایک بار پرانی کتب فروش سے لا دیتے یہ انہیں ہی چاٹ جاتا تھا۔ میں اس کے بارے میں اتنا سب کچھ اس لئے جانتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ ایسے وقتوں میں دکان پر آتا تھا کہ جب گاہکوں کا رش نہ ہو، اور ایسے اوقات میں بالعموم ابا مجھے دکان پر بٹھا کر خود گھر پر کمر سیدھی کرنے چلے جاتے تھے۔ پچھلے پانچ سال سے  وہ اپنی بیساکھی گھسیٹتا ہوا میری دکان پر آرہا  تھا اور اب دکانداری کے علاوہ بھی ہمارا ایک تعلق بن چکا تھا۔ میں اپنی پڑھی ہوئی اردو کتب اس کے لئے لے آیا کرتا تھا اور اکثر ہم دکان پر کھڑے کھڑے پانچ دس منٹ کی گپ بھی لگا لیا کرتے تھے۔ اسے میرا کپڑوں کا انتخاب اور بالوں کا انداز بہت پسند تھا اور وہ اکثر اپنی اس پسندیدگی کا اظہار بھی کر دیا کرتا تھا۔  میں اسے اکثر اوڑھنے پہننے کے آداب بھی سکھا دیا کرتا تھا۔ ہم اکثر کتابوں پر گفتگو بھی کر لیا کرتے تھے۔  میرا اس کا تعلق ہمدردی کا نہیں بلکہ دوستی کا بن چکا تھا۔ میں ہمیشہ کے لئے اس کو اپنا چھوٹا بھائی مان چکا تھا۔
تو اس دوپہر جب عبدالصمد دکان پر آیا تو خلافِ معمول بہت دیر نہیں رکا۔ وہ بہت گھبرایا ہوا معلوم ہورہا تھا۔ میں نے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا مگر میں نے محسوس  کر لیا کہ اس کی بدحواسی کی وجہ   دکان میں موجود میرے چیلے اور بالخصوص ڈھکن خان ہے۔ ڈھکن خان ویلڈنگ والے کا بیٹا تھا جس کا اصل نام سرپوش خان ہوا کرتا تھا مگر ترجمہ کرکے میں نے اس کا نام ڈھکن خان کردیا تھا اور اب پورا بازار اسے ڈھکن کے نام سے ہی پکارا کرتا تھا۔  میں نے محسوس کیا کہ ڈھکن خان نہایت تمسخرانہ  و ہوسناک نظروں سے عبدالصمد کو دیکھ رہا تھا۔ عبدالصمد تو دوائیاں لے کر رخصت ہوگیا مگر میں نے ڈھکن کو اس ذلیل حرکت پر پکڑ لیا۔  میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ ہماری خباثتوں میں اس وقت تک جنس کا گزر نہیں ہوا تھا اور یہ چیز میرے لئے ناقابلِ برداشت تھی کہ میرے مقدس آستانے پر بیٹھ کر کوئی اس قسم کی ذلیل حرکات کرے۔ میرے استفسار پر ڈھکن نہایت  ڈھٹائی سے گویا ہوا کہ استاد! تم   اسے جانتے نہیں ہو! تم کو لگتا اے ام اس کی لنگڑی ٹانگوں کا مذاق اڑا رہا تھا؟ یا تم کو لگتا ہے ہم بچہ باز ہے جو اس کو ایسے دیکھ رہا تھا؟ ام تم کو بتا تا اے۔ یہ عبدالصمد اماری چاچی کا بھانجی اے۔ خدا کا قسم یہ لڑکی اے! اسے بچپن میں پولیو ہو گیا تھا تو اسے کراچی جب لائے تو لڑکا لوگ کا کپڑا پہناتا اے تاکہ نئے شہر میں کوئی اس کا کمزوری کا فائدہ اٹھا کر عزت مزت پر ہاتھ نہ ڈالے۔ تم خود بتاؤ، پانچ سال سے تم اسے دیکھ رہا ہے۔ کبھی داڑھی مونچھ تو چھوڑو، منہ پر رواں بھی دیکھا ہے اس کے؟اس کا بال مال اتنا شائن کیسے مارتا ہے کبھی سوچا ہے؟امارے خاندان کا اے ام جانتا اے۔  چھوڑو استاد ام جاتا اے۔  یہ کہتے ہوئے  ڈھکن نے دکان سے باہر کی راہ لے لی اور ڈھکن خان اٹھا تو اس کے ساتھ پوری پلٹن بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
ان لوگوں کو رخصت کرنے کے بعد میں گزشتہ پانچ سال  کے واقعات کی فلم اپنے دماغ میں دوبارہ چلانے لگا اور عبدالصمد کا میرے بالوں کی تعریف کرنا، میرے لباس کو سراہنا، اس کے نازک نقوش جو دراصل زنانہ نقوش تھے، اس کی آواز کی نسوانیت وغیرہ سب میری نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔ حقیقت ہمیشہ سے میرے سامنے موجود تھی مگر میں ہی احمق بن کر اس پر پردہ ڈالے بیٹھا رہا تھا۔ عبدالصمد نہ صرف ایک لڑکی تھی بلکہ وہ مجھے پسند بھی کرتی تھی۔ میں نے اس دن سے ہی انتظار کرنا شروع کردیا کہ کب وہ دوبارہ دکان پر آئے اور میں اسے اس طرح دیکھ سکوں جیسے وہ دراصل تھی۔
میرا انتظار زیادہ طویل ثابت نہیں ہوا اور چار دن کے بعد ہی وہ ایک مرتبہ پھر دکان کے کاؤنٹر پر موجود تھی۔ دوائیوں کا پرچہ مجھے تھماتے ہوئے میرے ہاتھ اس کے ہاتھ سے ٹکڑائے اور پھر ایک عجیب  شے ہوئی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس سے پہلے اکثر اوقات ہم سلام علیک کرتے ہوئے باقاعدہ مصافحہ کیا کرتے تھے مگر آج جب میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھوا تو میرے پورے جسم میں ایک عجیب سی بجلی دوڑ گئی۔ شاید یہ بجلی کا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ عبدالصمد نے بھی اس کو محسوس کرلیا۔ اس کے چہرے کا رنگ بالکل فق ہوگیا۔ وہ جان گئی تھی کہ میں جان گیا ہوں ۔اور اس معرفت کے  نتیجے میں  میرایہ نیا  رویہ اس کی ذات میں زلزلوں کا باعث بن گیا  تھا۔ ہماری نگاہیں ملیں تو میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں قوسِ خزح کے رنگ دوڑ رہے تھے۔ درد کے رنگ، شکایت کے رنگ، ملامت کے رنگ۔ اس کی آنکھوں میں احترام کے علاوہ تمام رنگ موجود تھے اور وہ آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا،  اس نے دوائی کا پرچہ میرے ہاتھ سے چھینا اور بیساکھی گھسیٹتی ہوئی نکل گئی ۔ کبھی نہ واپس آنے کے لئے!
ماضی اپنے وقت میں جیسا بھی رہا ہومگر ماضی بن جانے کے بعد خوشگوار ہو ہی جاتا ہے۔ البتہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی یاد داشت سے کھرچ نہیں پاتےاور وقت کی شیرینی بھی ان کی تلخیوں کو کم نہیں کرپاتی۔ انسان شاید ایسی ہی یادداشتوں کی بائے پروڈکٹ ہے۔

اتوار، 21 اکتوبر، 2018

پینسل

لدھڑ  کپتان کا جگری دوست تھا۔ وہ کپتان سے چودہ سال کی عمر میں ملا تھا۔ یہ دونوں  اس وقت اسکول میں پڑھتے تھے۔لدھڑ بنیادی طور پر سادہ طبیعت کا حامل تھا اور ایک ایسے دور میں کہ جب اس کی عمر کے لوگ کرکٹ، ہاکی، پڑھائی  وغیرہ کے نشئی تھے، لدھڑ سیدھا سادہ نشئی تھا۔  اس کی یہی سادگی اسے کپتان کے نزدیک لے آئی تھی۔ ان دونوں کا دن ایک دوسرے سے ملاقات کے بغیر ادھورا رہتا تھا۔  یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ دونوں بڑے ہوکر پائلٹ بننا چاہتے تھے۔ یہ دونوں گھنٹوں ساتھ بیٹھ کر اس ہی تصور میں خود جہاز بنے رہتے تھے۔
ان دونوں کی یہ دوستی قریب تین سال اس ہی طرح جاری رہی مگر چونکہ کپتان اپنے والدین کی محنت کی بدولت  ایچ ای سِن میں تھا  اور ایچ ای سِن کے لڑکوں کو لدھڑ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا کیونکہ وہ دوستی میں کاروبار کا قائل نہیں تھا اور تین سو روپے گرام  کی چیز پانچ سو روپے میں بیچنے کا سخت مخالف تھا۔  کہتے ہیں کہ بڑا کپتان  وہ ہوتا ہے جو کان اور ازار کا کچا ہو۔ ان لوگوں نے اٹھتے بیٹھتے کپتان کے معصوم ذہن میں لدھڑ کے خلاف زہر بھرنا شروع کردیا اور ایک وقت آیا کہ دونوں دوستوں نے اپنے اپنے جہاز الگ کر لئے۔
لدھڑ اس دوستی کے یوں ختم ہوجانے پر شدید آزردہ ہوگیا۔  مایوسی نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ ایسے میں اس کے پاس صرف دو راستے بچتے تھے۔ ایک تو یہ کہ وہ ہمت ہار جائے اور ساری عمر کے لئے روگ لے کر تقدیر کو گالیاں دیا کرے۔ دوسرا راستہ یہ کہ وہ اس زخم کو اپنی طاقت بنا لے اور اس سے ہمت کشید کرتے ہوئے زندگی میں کچھ ایسا مقام حاصل کرلے  کہ دنیا کو اس کی اہمیت تسلیم کرنی پڑے۔  لدھڑ نے دوسرا راستہ چننے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ کپتان سے انتقام لے گا اور اسے اس کی غلطی کا احساس دلائے گا۔ 
 کپتان زندگی کے سفر میں آگے بڑھ چکا تھا اور لدھڑ کو قریب قریب بھول چکا تھا۔  اس نے کرکٹ کے نشے کو  بھی جاری رکھا ہوا تھا اور اللہ اور ماموں کی مہربانی سے اب قومی ٹیم کے لئے کھیلا کرتا تھا۔ وہ ایک مکمل آل راؤنڈر تھا۔ وہ بیٹنگ میں بھی چمپیئن تھا اور باؤلنگ میں بھی ۔ اس زمانے میں کہ جب قومی ٹیم کی فیلڈنگ نہایت زبوں حالی کا شکار تھی، کپتان اگر فائن لیگ پر کھڑا ہوجاتا تو بیٹسمین نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے سلپ میں کیچ دے کر آؤٹ ہوجانے میں عافیت محسوس کرتا تھا۔ کپتان ایک مکمل پیکج تھا۔ صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کو سراہا جاتا تھا۔ دنیا بھر کی خواتین کرکٹ ٹیم اس حسرت میں مری جاتی تھیں کہ کاش ان کے ملک میں بھی کوئی کپتان جیسا پلیئر ہوتا۔  مگر یہ مراتب ہر کسی کو کہاں نصیب ہوتے ہیں؟ 
کرکٹ ٹیم سے سیاست کا کورس کرنے کے بعد کپتان نے قومی سیاست کا رخ کیا مگر  کپتان کا وژن بہت آگے کا تھا اور قوم ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہوئی تھی کہ اس کی بات کو سمجھ سکے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب کوپن ہیگن میں  ایک شام میں بیٹھا ہوا ڈنمارک اور پاکستان کا تقابل کرتا ہوا اداس ہورہا تھا  اورتب  ایک نوجوان  خاتون نے مجھ سے آکر پوچھا تھا کہ آیا میرا تعلق پاکستان سے ہے؟  میرے لئے یہ بات شدید حیران کن تھی۔ ڈینمارک سکینڈے نیویا کے ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کی سب سے پرمسرت قوم ہیں۔ اس قوم کی خوشحالی کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ پاکستانیوں کی طرح دوسرے اینکرز کی کرسیوں پر نظریں لگا کر نہیں بیٹھتے۔ یہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔  یہ اپنی افواج کی عزت کرتے ہیں۔ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔   اپنے علاوہ کسی اور قوم کی پرواہ نہیں کرتے ۔ اس لئے اس خاتون کے منہ سے پاکستان کا نام سننا میرے لئے حیران کن تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں پاکستان سے ہوں؟  اس نے کہا جس طرح آپ مجھے دیکھ رہے تھے میں سمجھ گئی تھی کہ آپ پاکستان سے ہوں گے۔ میرا دل خوشی سے لبریز ہوگیا تھا۔ یہ احساس کہ میں پردیس میں پاکستان کی شناخت کا باعث بن رہا ہوں میرے لئے از حد قابلِ فخر تھا۔ مگر میں جاننا چاہتا تھاکہ اسے پاکستان کا نام کیسے معلوم ہوا؟  تب اس نے مجھے بتایا کہ وہ کپتان کی فین ہے اور میری آنکھیں یہ سوچ کر بھر آئیں  کہ کیسے ہمارے معاشرے میں ہیروں کو روندا جاتا ہے۔  مگر اندھیرے کبھی بھی دائمی نہیں ہوتے۔ جہالت کی تاریکیوں کے بعد بہرحال علم کی روشنی ضرور آتی ہے اور ان تاریکیوں کا سینہ و دیگر اعضا چیر کر اپنے وجود کو ثابت کردیتی ہے۔  تبدیلی کا علم اٹھائے کپتان نے جو سفر شروع کیا تھا اس میں کامیابی نے اس کے قدم چومے اور کپتان نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا۔
دوسری طرف لدھڑ بھی زندگی میں پیچھے نہیں رہا تھا۔ ڈنکی کے ذریعے یونان پہنچ کر اس نے پہلے تو  سرمایہ جمع کیا اور پھر خدا کا نام لے کر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ مسلسل محنت اور لگن کے ساتھ کام میں دن دوگنی اور رات سو گنی ترقی کرتا ہوا وہ اپنے کاروبار کو پھیلاتا چلا گیا اور اب اس کا کاروبار کولمبیا سے لے کر افغانستان تک پھیل چکا تھا۔
ملک کی ترقی کے لئے کپتان نے سمندر پار پاکستانیوں سے امداد کی اپیل کی اور اس ہی سلسلے میں لدھڑ کو بھی وزیرِ اعظم ہاؤس مدعو کیا گیا۔ کپتان معصوم نہیں جانتا تھا کہ لدھڑ آج بھی اس کے خلاف کس حد تک کینہ پال رہا تھا۔  یہ دونوں جب وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملے تو کپتان کو قطعاٗ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ملاقات پاکستان کے مستقبل کا رخ بدل دے گی۔ لدھڑ کو دیکھ کر جب کپتان نے بازو پھیلائے اور اسے سینے سے لگایا تو لدھڑ نے کپتان کے کان میں سرگوشی کی، بولو پینسل! کپتان اپنی سادگی میں کہہ اٹھا ، پینسل! لدھڑ نے کپتان کی آنکھوں میں جھانک کر سفاکی سے بولا، تبدیلی کینسل!
اب آپ کپتان پر لاکھ یو ٹرن کے الزام لگاتے رہیں۔ ہر غلطی کے لئے اسے خطاوار سمجھتےرہیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا الزام بھی اس پر دھر دیں مگر تاریخ کبھی نہ کبھی انصاف ضرور کرے گی۔ مورخ لکھے گا کہ  فساد کی جڑ یہ پینسل تھی اور اس ہی لئے ملک سے مخلص تمام ادارے قلم پر پابندی لگادینا چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ پینسل پاکستان کے لئے کس قدر تباہ کن ثابت ہوسکتی تھی۔ اگر مورخ کو قلم میسر ہوا تو مورخ ضرور لکھے گا۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت