جمعرات، 30 دسمبر، 2021

اژدھا

 دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ  کسی جنگل میں ایک راج ہنس کا ویسا ہی بچہ رہتا تھا جس  کی کہانیاں  آپ بچپن سے سنتے آئے ہیں۔  ویسا ہی بھدا، بد رنگا اور بطخ  کے دیگر بچوں سے جسامت میں کہیں بڑا۔ اچھے زمانے کی کہانی ہے جب فی زمانہ تعصب کے زمرے میں گنی جانی والی چیزوں کے بارے میں میں بیان کرنے پر بھی لیکھک متعصب نہیں ٹھہرائے جاتے تھے اور مکمل سہولت کے ساتھ اپنے سے مختلف دکھنے والوں کی رنگت وغیرہ پر یہ سوچ کر طنز  کیا جا سکتا تھا کہ جس مخلوق کا تقدیر ازل سے مذاق اڑاتی اور بناتی آئی ہو، اس کا آپس میں ایک دوسرے کی تضحیک پر برا ماننے کا تصور ہی مضحکہ خیز تھا۔ سو وہ دھڑلے سے ایک دوسرے کو بھدا، بد رنگا وغیرہ ٹھہراتے تھے اور ہنس کر آگے بڑھ جاتے تھے۔

شاید ازل سے کہانی کار ایک ہی رہا ہے سو  کہانی کے کردار نام اور مقام بدل کر اس ہی ایک کہانی کے تسلسل میں حصہ دار بنتے اور اپنے زعم کے غبارے میں ہوا بھرتے  آئے ہیں کہ وہ اس لامتناہی کائنات کی سب سے منفرد کہانی کا مرکز ی کردار ہیں۔ سو وہ ہنس کا بچہ بھی گزری تمام کہانیوں کی طرح بطخ کے بچوں کے بیچ میں رہتا، ان کے طعنوں کا نشانہ بنتا اور ان کی قامت بڑھانے کی جاں گسل محنت سے تھک کر  اپنی معصوم  سوچ  میں  اپنی قامت گھٹا کر خود کو  ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش میں جٹا رہتا  ۔   اور جب اس سعی لاحاصل سے مایوس ہو جاتا تو دنیا کے حصے کے الزام بھی اپنے سر لے کر ایک بار پھر کولہو کے بیل کی طرح دائرے کے سفر میں گامزن ہو جاتا، یہاں تک کہ پچھلی کہانی ہی کی طرح  اسے بھی اس بات پر مجبور کر دیا گیا کہ وہ شناخت کی تلاش میں گھر کہلانے والی جہنم سے فرار اختیار کرے اور انجانوں میں اپنے تلاش کرتا پھرے۔

پچھلی کہانی کے عین مطابق  یہ راج ہنس کا بچہ بھی فرار ہو کر اپنے جیسے کسی ایک، محض ایک کی تلاش میں تالاب تالاب گھومتا پھرا مگر  کسی نے چونکہ اس جیسی مخلوق کو دیکھنا تو دور، کبھی اس کے بارے میں سنا تک نہیں تھا لہٰذا ان تالابوں پر بھی اسے محض وہ مایوسی ہی ملی کہ جس  کی عادت کائنات میں کسی ذی روح کو آج تک نہ ہوسکی۔ اور اس ہی مایوسی سے گھبرا کر وہ شناخت کے سفر میں چلتا رہا یہاں تک کہ ایک   بظاہر مہربان عورت نے انڈوں کے لالچ میں اس پر ترس کھا کر اسے اٹھا کر اپنے گھر کی کوٹھری میں مقفل کردیا جہاں ایک مرغی اپنی نوکیلی چونچ اور اس سے کہیں زیادہ تیز زبان کے ساتھ اس  کی منتظر تھی۔ 

راج ہنس کو لگا تھا کہ اب اسے گھر اور گھر کا پیار میسر ہوجائے گا مگر شناخت کے سفر پر گامزن کسی بھی دیگر جاندار کی طرح  اس کی تخلیقی صلاحیتیں بھی کسی کے حکم کی تابع نہیں رہیں تھیں سو فرمائشی انڈوں کے معاملوں میں وہ غریب  بھی مکمل بانجھ ثابت ہوا اور جب مہربان بڑھیا کے گھر میں موجود مرغی کی چونچ اور بلے کی نیت  نے اسے نشانے پر رکھا تو اس راج ہنس نے وہاں سے بھی رخصت میں ہی عافیت سمجھی۔ اپنی سرمایہ کاری کے اس طرح ڈوبنے پر وہ مہربان بڑھیا کس طرح  غصہ ہوئی اور  کیسے اس نے وہاں سے گزرنے والے ہر جانور کو روک کر اس راج ہنس کی کم ظرفی کی کہانی سنائی، چونکہ اس بارے میں پچھلی کہانی خاموش تھی تو ہم بھی یہاں اس بڑھیا کا پردہ رکھتے ہوئے آج کی داستان کو راج ہنس پر ہی مرکوز رکھتے ہیں۔

داستان گو بتاتے ہیں کہ راج ہنس  نے بڑھیا کے پاس سے فرار اختیار کرنے  کے بعد تنہائی کے ایام میں اس راج ہنس نے کچھ وقت سرکنڈوں کے ایک ڈھیر کے بیچ میں بھی گزارا جہاں اس نے دور آسمان پر اڑتے ہوئے  ہنسوں کا ایک  جھنڈ دیکھا اور ایک بار دل میں تمنا کی کہ کاش وہ بھی کبھی ان جیسا ہو سکے۔ شاید وہ اس جملے سے تمام انسانوں کی ہوس کا بھرم رکھنا چاہتے ہیں کہ اپنے سے ارفع لوگوں سے منسلک ہونے کی ہوس  محض ہم انسانوں تک ہی محدود نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصواب

بتانے والے بتاتے ہیں کہ تنہائی کا وہ عرصہ اس ہنس کی زندگی کا ایک ایسا دور تھا کہ جس میں جسمانی ارتقا کے ساتھ ساتھ  اس کی سوچ  بھی ارتقا پا رہی تھی ۔ مگر انسان ہو یا ہنس، زندگی آزمائشوں کا دوسرا نام ہے لہٰذا وہ ایام بھی گزرے اور جاڑے نے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور  جب زمین کو سفیدی کی چادر نے اپنے اندر چھپا لیا تو  مجبورا اس ہنس کو  بھی غذا کی تلاش میں اپنے ٹھکانے سے باہر آنا پڑا۔  ہر طرف پھیلی برف کی چادر  گو نگاہوں کے لئے  بہت دلآویز  تھی مگر زمین  پر پائی جانے والی اکثر خوبصورت چیزوں کی طرح یہ بھی فیض سے مکمل عاری تھی۔  نظاروں سے دل بہلانے کے دوران جب بھوک کا احساس جاگا تو ذوق  نظارہ کے جانے کا کرب اور بھوک کی تکلیف کی آزمائش سے نڈھال ہو کر اس کہانی کا راج ہنس بھی بے ہوش ہو کر گر پڑا تھا۔

آنکھ کھلنے پر اس نے خود کو  ایک غریب کسان کے گھر میں پایا تھا جو بازار سے ہنس خرید کر پالنے کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے بخوشی زمین پر پڑے اس نیم مردہ ہنس کو اٹھا کر اپنے گھر لے آیا تھا تاکہ اس کے ننھے اور معصوم بچے اپنے پڑوس کے اپنی ہی طرح کے غریب بچوں پر   گھر میں ہنس ہونے کا رعب جھاڑ سکیں۔   مگر وقت کے ساتھ وہ ہنس اتنا بڑا ہو گیا کہ کسان کا جھونپڑا اس کے لئے چھوٹا پڑ گیا اور مجبورا کسان اسے دریا کے کنارے چھوڑ آیا  کہ جہاں اس جیسے ہی دیگر کئی ہنس  انسانوں اور دیگر کمتر مخلوقات سے مناسب فاصلہ  برقرار رکھتے ہوئے تیرنے میں مصروف تھے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ اس نووارد ہنس کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ تمام ہنس اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے اور یہ غریب اس وقت تک اس توجہ کی وجہ سمجھ نہیں پایا  تھا کہ جب تک اس نے خود پانی میں اپنا عکس دیکھا اور یہ جانا کہ  وہ کس حد کا خوبصوت راج ہنس بن چکا ہے۔

اصولی طور پر زندگی کو اب اس پر مہربان ہوجانا چاہئے تھا اور سب کے ہنسی خوشی رہنے پر کہانی ختم ہوجانی چاہئے تھی مگر یہ دوسری بار کا ذکر ہے اور دوسری بار کا ہنس اپنے ارتقا پر بہت نازاں تھا اور چاہتا تھا کہ ترقی کا یہ سفر جاری رہے لہٰذا چند ہی دنوں میں اس کی جسامت دریا میں موجود کسی بھی ہنس سے اضافی ہوچکی تھی اور ارتقا کا یہ سفر ابھی بھی ایک نامعلوم منزل کی طرف جاری تھا۔ دریا کے وہ تمام ہنس جو پہلے اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے، اب اس سے خائف ہو کر اپنا راستہ بدل لیا کرتے تھے۔اور پھر ایک دن  ،شناخت کے سفر کے اختتام پر اور اپنے جیسے سمجھے جانے والوں کے بیچ پہنچ کر بھی   یوں تنہائی کی زندگی گزارنے کی وحشت اس ہنس کو اس دریا سے نکال کر واپس جنگل میں لے آئی۔

بڑھتے بڑھتے اب اس کی قامت ایک شتر مرغ کے برابر ہوچکی تھی۔ وہ گردن اٹھا کر دیکھتا تو  مرغیوں اور بلیوں کو خود سے  گھبرا کر ادھر ادھر چھپتے دیکھ سکتا تھا۔ شاید کسی اور حالت میں یہ منظر اس کے لئے بہت خوش کن ہوتا مگر اندر موجود چنگاریوں اور ان کے دھویں کی وجہ سے ہونے والی بے دمی کی کیفیت اسے کسی بھی چیز سے محظوظ ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی۔ اس  نے تازہ ہوا کی جگہ بنانے کے لئے اندر موجود دھویں کو زوردار پھونکیں مار مار کر نکالنا شروع کردیا۔  تھوڑی ہی دیر میں  پھونکوں کے ساتھ نکلنے والی اس کے اندر کی آگ سے اردگرد کے درخت دھڑادھڑ جلنے لگے تھے۔

دور جنگل کے کنارے ، ایک درخت پر بیٹھا کہن سالہ و جہاں دیدہ الو تاسف سے سر ہلانے میں مصروف تھا۔ جنگل میں اژدھا (ڈریگن) واپس آگیا تھا۔

جمعرات، 26 اگست، 2021

گھناؤنا

 کہتے ہیں جس کے اپنے چھوٹ جائیں اسے غیر مل جاتے ہیں۔    یہ اور بات ہے کہ بعض انسان اپنوں کے دئے گئے تجربات کے زہر سے اتنے مردہ ہوچکے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی لاش کو کاندھا دینے والے پرایوں کے احسان تو دور، وجود  تک کا ادراک نہیں ہوتا۔  ان کی زندگی اس راوس مچھلی کے مصداق ہوتی ہے جو اپنی اصل کی تلاش میں سرگرداں، کھلے سمندروں سے بیزار ،واپس اس ندی کو جانا چاہتی ہو کہ جہاں اس نے جنم لیا تھا۔  مچھلی چونکہ بالعموم کم فہم جانور ہے لہٰذا اپنی جائے پیدائش کو ہی اپنی اصل سمجھ کر مطمئن ہوجاتی ہے جبکہ انسانوں میں سے جو تھوڑے ذی شعور ہوجاتے ہیں وہ یہ جان رکھتے ہیں کہ ان   کی اصل ان کی جائے پیدائش سے کہیں پرے ہے۔  اور پھر ان کی تلاش کا سفر ہی ان کی واپسی کا سفر بن جاتا ہے۔

      یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی انسان کی ہے جو واپسی کے سفر میں تیز قدم چلتا ہوا اس وقت سمندر کے اوپر موجود نیٹی جیٹی کے برج پر کھڑا ہوا خودکشی کے لئے چھلانگ لگانے ہی والا تھا۔ اگر وہ بروقت چھلانگ لگا دیتا تو آپ اس کہانی کی جگہ اخبار میں اس کے متعلق خبر پڑھ رہے ہوتے مگر جو انسان تقدیر کے ہاتھوں تنگ ہوکر زندگی ختم کردینے کی نہج پر پہنچ چکا ہو اس پر موت کے معاملے میں بھی تقدیر کیونکر مہربان ہوسکتی ہے؟  ابھی وہ  چھلانگ لگانے کے لئے پر تول ہی رہا تھا کہ اس ہی برج  کی کگر پر لیٹے ہوئے ایک افیمی نے لپک کر اس کی ٹانگیں پکڑ لیں  ۔ اول تو اسے لگا کہ تقدیر بالآخر اس پر مہربان ہوگئی ہے اور دنیا میں اجنبی اور افیمی ہی سہی مگر کوئی انسان ایسا بھی ہے کہ جسے اسکی موت سے فرق پڑتا ہے۔ جو نہیں چاہتا کہ وہ مایوس ہو کر ہمت چھوڑ بیٹھے۔ جو چاہتا ہے کہ وہ  لڑے اور دنیا  سے ہار نہ مانے۔ اس کی خوش فہمیوں کا سلسلہ کسی اکیسویں صدی کے شاعر کی بے وزنی گزل کی طرح دراز ہوتا  ہی جا رہا تھا کہ افیمی کی  آواز اسے حقیقت کی دنیا میں کھینچ لائی جو اس سے درخواست کر رہا تھا کہ اگر چھلانگ ہی لگانی ہے تو تھوڑا آگے پیچھے ہوکر لگا لے کیونکہ اگر اس نے اس کے برابر میں کھڑے ہو کر چھلانگ لگائی تو خدشہ ہے کہ چھپاکے سے پانی اوپر تک اچھل کر آئے گا اور بہت مشکل سے حاصل کردہ اس کے نشے کو برباد کر جائے گا۔ 

افیمی کی بات سن کر پہلے تو اس کا دل کیا کہ اپنی خودکشی سے پہلے اس خودغرض افیمی کو ہی اٹھا کر سمندر میں پھینک دے  مگر وہ فطرتا ایک انسان پرور آدمی تھا اور اپنے علاوہ کسی اور کی جان نہیں لے سکتا تھا۔ دوسرا خیال  جو فوری طور پر دماغ میں آیا وہ یہ تھا کہ برج سمندر سے اتنا بلند تھا کہ چھینٹوں کے اوپر تک پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر اس خیال کے آتے ہی افیمی کے حال اور اس کے منفرد خدشات پر بے ساختہ اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ افیمی جو آنکھوں کو میچ کر روشنی  سے لڑتے ہوئے اس کی جانب دیکھ رہا تھا ، اسے مسکراتا ہوا دیکھ کر اس  ہی کی ٹانگوں کا سہارا لے کر اس کے برابر میں کھڑا ہوگیا۔  اب صورتحال یہ تھی کہ برج کی کگر پر وہ دونوں کھڑے تھے اور دونوں نے  سہارے کے لئے ایک دوسرے کو تھام رکھا تھا۔ برج ویسے ہی خودکشی کے حوالے سے بدنام تھا تو  دو مردوں کو برج کی کگر پر کھڑا دیکھ کر آتی جاتی گاڑیاں اور موٹرسائکلیں بھی رکنا شروع ہوگئی تھیں۔  وہ ابھی معاملے کو سمجھنے کی کوشش  کر ہی رہا تھا کہ افیمی نے جھومتے ہوئے اسے یاد دلایا کہ  اگر وہ ایسے ہی  برج پر کھڑے رہے تو اقدام خودکشی کے مقدمے میں اندر ہوجائیں گے  ۔  پولیس کچہری سے زیادہ ایک افیمی کے ساتھ گرفتار ہونے اور اس سے جڑی افواہوں  اور ان افواہوں کے نتیجے میں ہونے والی اس  کے گھر والوں کی ممکنہ خفت  کے خیال سے وہ فورا افیمی کا ہاتھ تھام کر کگگر سے نیچے اتر آیا۔  خودکشی کے نتیجے میں جو کچھ  بدنامی ہوتی، اس کا معاملہ اور تھا کہ اسے دیکھنے اور سہنے کے لئے وہ خود موجود نہیں ہوتا مگر  گرفتاری کی صورت میں اس کا خودکشی کا منصوبہ ادھورا رہ جانا تھا اور وہ اپنی پہلے سے اذیت ناک زندگی میں مزید تلخیاں نہیں گھولنا چاہتا تھا۔

دونوں کو کگر سے نیچے اترتا  دیکھ کر راہگیر   ،بکتے جھکتے دوبارہ اپنی منزلوں کی جانب رواں ہونے لگے۔ افیمی  کہ جس کی آنکھیں اب کافی حد تک کھلنے لگی تھیں، نے بغور اس کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ وہ پینتیس برس کا ایک مضبوط قامت والا جوان تھا۔ جسم کسرتی نہ سہی مگر اضافی چربی کے بوجھ سے عاری تھا۔ چہرے پر بدسلیقی سے  ترشی ہوئی ہلکی داڑھی موجود تھی گویا وہ انسان خود ہی یا کسی نو آموز حجام سے داڑھی بنواتا  رہا ہو۔ اور ان سب عام سی پائی جانے والی تفصیلات  میں جو چیز اسے خاص بنا رہی تھی وہ اس کی قمیض کی آستینوں سے جھانکتی ہوئی اس کی مگرمچھ جیسی کھال تھی۔  افیمی نے اگر طب پڑھ رکھی ہوتی اور جان رکھتا کہ یہ سورائسز نامی بیماری کا شاخسانہ ہے جو محض چھونے سے نہیں پھیلتی، تب بھی شاید وہ اس ہی طرح گھبرا  اور گھن کھا کر پیچھے ہٹتا جیسے نیم نشے کی حالت میں اس  وقت وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا تھا۔

افیمی کے اس طرح پیچھے ہٹنے سے اسے یاد آگیا تھا کہ وہ یہا ں کیوں موجود تھا اور یہ بھی کہ اسے اب تک کیوں موجود نہیں ہونا چاہئے تھا۔  مگرکچھ بھی کرنے سے پیشتر،  برسہا برس کی عادت سے مجبور ہوکر بے ساختہ اس کے منہ سے یہ جملہ میکانکی انداز میں  نکل پڑا تھا کہ، گھبرائیے نہیں! یہ بیماری کسی کو چھونے یا اس کے قریب کھڑے ہونے سے نہیں پھیلتی۔  اور اس سے پہلے کہ وہ واپس کگر پر چڑھنے کے لئے قدم بڑھاتا ، افیمی نے    معذرت خواہانہ انداز میں  اس کے قریب آکر اس سے چھلانگ لگانے کا سبب دریافت کر لیا۔   شاید زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے کسی کو اپنی بیماری کے متعدی  نہ ہونے  کی بات  پر یقین کرتے دیکھا تھا   یا شاید   بہت مدت بعد اس میں یہ امید جاگی تھی کہ کوئی اسے سمجھنے کے لئے سنے گا ، وجہ بہرحال جو بھی رہی ہو، اس نے چاہا کہ وہ اس انجان افیمی سے اپنے دل کا احوال کہے سو اس نے   بلا کم و کاست اسے بتا دیا کہ زندگی  اور رشتوں سے ملنے والی تکالیف سے زچ ہوکر وہ اپنی زندگی کی  ریل کو یہیں روک دینا چاہتا ہے۔ جذبات کی رو میں اپنی داستان الم سناتے ہوئے اسے یہ دھیان بھی نہیں تھا کہ سوال کرنے کے بعد افیمی کا دھیان  اس پر سے ہٹ کر اپنے پھٹے ہوئے کرتے کی جیب پر چلا گیا ہے اور  وہ اس میں چیزیں نکال کر افیم کی پڑیا تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ جب وہ اپنی داستان سنا نے کے بعد دم لینے کے لئے رکا تو افیمی نے اسے دوبارہ مصروف کرنے کے  لئے ایک اور سوال داغ دیا کہ اتنی کم عمر میں اگر وہ دنیا سے جا  ہی رہا ہے تو کیا اس نے اپنی زندگی کی ساری حسرتیں پوری کر لیں؟ یا کم از کم وہ حسرتیں  کہ  جن کو پورا کرنا دسترس میں ہے ؟  افیمی کا سوال اس کے لئے غیر متوقع تھا  اور اس نوعیت کا سوال اگر متوقع ہو بھی تو اچھا خاصہ حاضر دماغ انسان بھی  جواب دینے سے پہلے چند  لمحات سوچتا ہے۔ اس نے بھی اپنے دل اور دماغ کے کونوں کو کھنگالا اور سچائی کے ساتھ بول دیا کہ ایسا نہیں تھا۔ زندگی میں چند ایسی حسرتیں بہرحال باقی تھیں کہ جن کی تکمیل کے لئے مزید کوشش کی جاسکتی تھی۔ افیمی کہ جو اتنی دیر میں سامان میں سے اپنی افیم کی پڑیا  کھوج چکا تھا ، یہ کہہ کر آگے بڑھا گیا کہ تو پھر مرنے کی اتنی جلدی کیا ہے؟ ایک مہینے تک اور کوشش کر لو۔ ہو سکتا ہے کم حسرتیں لے کر مرو؟  خودکشی کا کیا ہے؟ وہ تو تمہارے اپنے اختیار  میں ہے۔ آج نہیں تو تیس دن بعد کر لینا؟ تیس دن بعد کر لینے سے کون سا تمہیں زیادہ گناہ مل جائے گا؟

افیمی تو کہانی میں اپنا کردار مکمل کرکے  ویسے ہی آگے بڑھ گیا کہ جیسے ہماری زندگی کی کہانیوں میں بہت سے لوگ آتے ہیں کہ جن کے بارے میں سب کو یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ ہماری زندگی کے سب سے اہم کردار ثابت ہوں گے اور ان کی آمد سے لے کر ہماری زندگی  کے ناٹک کے اختتام تک ان کا کردار اس واہیات ناٹک میں مرکزی  حیثیت کا حامل رہے گا اور پھر وقت ثابت کرتا ہے کہ ان  کا کردار محض ایک افیمی کا تھا کہ جو اپنے نشے کی تلاش کے دورانیے تک ہماری زندگیوں میں شامل رہتا ہے اور نشہ میسر آتے ہی واپس کگر پر لیٹنے چلا جاتا ہےتاکہ کسی اور کے پیروں سے لپٹ سکے۔  مگر یہ سب فلسفے کی باتیں ہیں اور  فلسفہ محض مولانا روم یا  انگریزی زبان میں لکھنے والے ادیبوں پر سجتا ہے سو ہم اس سستے فلسفے کو یہیں چھوڑ کر واپس اپنی کہانی کی طرف لوٹ جاتے ہیں کہ جہاں ایک انسان اپنی خودکشی کو تیس دن  کے لئے موقوف کر کے زندگی سے جڑی اپنی حسرتوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔

طویل کہانیوں کے بارے میں میرا آج بھی یہی ماننا ہے کہ انہیں وہ غریب لکھتے ہیں کہ جو کم الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر نہیں جانتے سو مزید غیر ضروری تفصیلات کو  حذف کرتے ہوئے کہانی کے مرکزی خیال پر واپس آتے ہیں کہ اگر انسان کے پاس یہ اختیار موجود ہو کہ بیماری،  خوف اور بھوک سے نیاز ہو کر اگر وہ اپنی زندگی کی گھڑی کا وقت خود معین کر سکے تو کون سے ایسے کام ہوں گے جنہیں وہ کرنا چاہے گا؟ اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ اگر وہ کام واقعی اتنے اہم تھے تو اس سوال سے پہلے ہم انسانوں نے انہیں مکمل کیوں نہیں کیا تھا؟  چونکہ ان سوالات کے جواب  آپ کے پاس بھی نہیں ہیں اور میرے دئے گئے جوابات کتنے ہی سچے اور دل کو لگتے ہی کیوں نہ ہوں، مفت میں ملی ہوئی نصیحت کی انسانوں نے کبھی قدر نہیں کی لہٰذا ان واہیات اور کیپٹلزم سے نفرت دلاتے ان سوالات کو یہیں چھوڑ کر ہم واپس کہانی کی طرف جاتے ہیں کہ جہاں ایک انسان کی  زندگی کی پانچ بڑی حسرتوں میں سب سے بڑی حسرت یہ تھی کہ اس کی کھال پر آئے ہوئے ان چھلکوں کی وجہ سے شروع میں اپنی دوستوں کے سامنے  اور بعد میں گھر کے اندر بھی اس سے گھن کھانے والی اس کی اپنی دس سالہ  سگی بیٹی ، ایک مرتبہ، محض ایک مرتبہ، گھن کھائے بغیر اس کے گلے لگ سکے! 

جانتا ہوں کہ لٹریچر کسی بھی زبان کا ہو اس میں لیکھک کا قلم خون میں جتنا گہرا ڈوبے گا، لکھاری کا لقمہ اتنا ہی تر کرتا جائے گا مگر  رشتوں میں بے بس ایک باپ کی  لاش نوچ کر کھانے سے بہتر  ہے کہ میں کہانی کو مختصر کرتے ہوئے آپ کی تسلی کے لئے محض اتنا بتا دوں کہ جب اٹھائسویں دن بالآخر قسمت اس پر مہربان ہوگئی  اور دو دن بعد آنے والی حرام موت سے  اسے بچاتے ہوئے شدت غم سے جب اس کے دماغ کی شریان پھاڑ کر اسے دنیا سے خود ہی اٹھا لیا گیا۔ اور ہاں، جب جنازہ اٹھانے سے پہلے اس کی ننھی شہزادی کو بتایا گیا کہ بابا اب کبھی واپس نہیں آئیں گے تو وہ    دوڑتی ہوئی جا کر خوشی سے باپ کی لاش سے لپٹ گئی۔   جانتا ہوں کہ سورائسز موروثی بیماری ہے اور نسل در نسل منتقل ہوتی ہے مگر یہ کہانی پھر سہی۔ فی الحال وہ ننھی شہزادی خوش ہے اور بیٹیاں خوش ہی اچھی لگتی ہیں۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت