بدھ، 5 جنوری، 2022

گدھ - ششم

 ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ کسی جنگل میں نئے سال کا جشن بپا تھا اور اس ہی سلسلے میں تمام چرند اور پرند مرکزی اجتماع گاہ میں موجود تھے۔  شیر اور بکری کو محاورے کی زبان میں ایک گھاٹ پر پانی پلانے کے لئے دعوت سے پہلے ہی شیروں اور عقابوں کے میڈیا مینجرز نے  ان کے کچھاروں اور گھونسلوں میں ہی میمنے اور خرگوشوں کی پیٹ بھر رسد فراہم کر دی تھی تاکہ شیر اور بکری کے سال میں ایک بار ساتھ پانی پینے کی تصاویر اگلے چناؤ میں  استعمال کرکے بکریوں اور خرگوشوں کو اس بات پر قائل کیا جاسکے کہ جنگل کی حکمرانی کے اصل حقدار رحمدل ، پرخلوص اور رعایا پرور عقاب اور شیر ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے جنگل کے تمام جانور اس سکون کی نیند سو سکتے ہیں کہ پڑوسی جنگل سے آنے والے تمام درندوں سے حفاظت کے لئے ان کے یہ محافظ جاگ رہے ہیں۔

نئے سال کے اس جشن میں بھی حسب مراتب کا خاص خیال رکھا گیا تھا اور شیر اور عقاب اجتماع گاہ کے عین مرکز میں نشست جما کر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ دو موراپنے پنکھ پھیلائے چرندوں اور پرندوں کے ان بادشاہوں کو ہوا جھلنے میں مصروف تھے۔ بادشاہوں کے گرد، مرکزی پنڈال میں صرف درندوں کے لئے جگہ مخصوص تھی جبکہ  ان دردندوں  کے بعد گوشت خور جاندار، سینگ دار اور جسامت دار جاندار، اور ان سب کے بعد آخر میں سبزی خور بیچاروں کے لیے جگہ رکھی گئی تھی ۔

آج کا جشن گزشتہ تمام برسوں کے جشن سے تھوڑا مختلف تھا کہ اس برس عین جشن کے بیچ بھی جنگل کے بہت سے جانور، چچا  الو،  اور ان کے پٹھوں کے بہکاوے میں آکر جانورورں کے حقوق اور درندوں کے ہاتھوں ان کے ہونے والے استحصال جیسی نفرت انگیز باتوں میں مشغول تھے۔  جشن کے لوازمات تمام موجود تھے  مگر اب تک جشن کا ماحول تیار نہیں ہوسکا تھا۔ فضا میں ہر طرف چہ مگوئیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ اور ان ہی چہ مگوئیوں کے درمیان فضا میں اچانک ہی ایک  مکروہ خاموشی پھیل گئی۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مردار خور گدھ اور فضلہ خور سور خراماں خراماں چلتے چلے آرہے ہیں۔ وہ دونوں جہاں سے گزرتے ، چرند پرند کچھ گھبرا کر اور کچھ گھن کھا کر ان  سے بچنے کے لئے ادھر ادھر ہوجاتے اور یوں ان کے چلے آنے کے لئے راستہ آپ ہی آپ بنتا چلا جا رہا تھا۔  سبزی خور بیچاروں کو عبور کرکے جب یہ دونوں جسامت دار اور سینگ دار جانداروں کے درمیان پہنچے تو یہاں سے چہ مگوئیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا اور جب تک یہ دونوں درندوں کے درمیاں پہنچے تو چہ مگوئیوں کا شور اس درخت کے تنے کی تھاپ سے فزوں تر ہوچکا تھا جسے بندر جڑی بوٹیوں کے نشے میں مسلسل پیٹے چلے جا رہے تھے۔ادھر جانور ان دونوں سے نمٹنے کے طریقے پر باہمی مباحثے میں مصروف تھے اور ادھر  گدھ اور سور تمام جانوروں کی گھن اور نفرت سے بے نیاز  ہو کر بندر کی بجائی گئی تھاپ پر رقص کناں تھے۔

لومڑ کی رائے میں جشن اور چناؤ سے قطع نظرگدھ اور سور کو عین پنڈال میں ہی عبرت کا نشان بنا دینا چاہئے مگر گدھ سے منسوب وحشت کے کارن کوئی اس پر حملہ کرنے کو تیار نہیں تھا اور چیتے اور اس کے قبیل کے دیگر  درندے اپنے نئے ملبوسات کو بچانے کے لئے فضلے میں لت پت اس سور پر حملہ کرنے سے گریزاں تھے۔  نووارد بھی ان درندوں کی گفتگو سن چکے تھے لہٰذا اپنے رقص کو موقوف کر کے وہ بھی معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔ جشن کو یوں تھمتا دیکھ کر عقاب نے اپنا گلا کھکارا اور گدھ کو مخاطب کرکے گویا ہوا،مجھے شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ تمہارا جیسا رذیل پرندہ خدا نے ہم پرندوں کے بیچ میں پیدا کیا۔ تمہارا وجود کراہت کا ایک استعارہ ہے۔ اس ہی وجہ سے تمہیں تمام پرندوں سے دور رکھا جاتا ہے اور اگر تمہیں اپنے ان پروں کی ذرا بھی لاج ہے تو پرندوں کی برادری کی مزید رسوائی کئے بغیر فی الفور یہاں سے رخصت ہوجاؤ۔ ہم بھول جائیں گے کہ تم سے ایسی کوئی گستاخی ہوئی بھی تھی۔ آج جشن کا دن ہے ۔ اس خوشی میں ہم تمام لوگ تمہاری اس غلطی کو معاف کردیں گے۔ کیوں ساتھیو؟ کردو گے نا معاف؟ عقاب کی اس جذباتی تقریر پر تمام پرندوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ بے شک! بے شک! ہمارے دل آسمانوں کی طرح وسیع ہیں۔ ہم معاف کر دیں گے۔

عقاب کو اس طرح محفل لوٹتا دیکھ کر شیر کو بھی جوش آگیا۔ وہ بولا،  ہم چرند بھی کسی طرح پرندوں سے کم نہیں ہیں۔ ہماری سوچ بھی صندل کے درختوں کی طرح ہے ۔ خوشبودار اور بلند! اگر جنگلی سور اپنا بدبودار وجود لے کر فی الفور چلا جائے تو ہم بھی کسی قسم کی کوئی تاذیبی کاروائی نہیں کریں گے اور بالکل بھول جائیں گے کہ کس طرح ہمارے پاکیزہ جشن کو اس نے اپنے ناپاک وجود سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیوں ساتھیو؟ کردو گے نا معاف؟ پرندوں کی دیکھا دیکھی چرند بھی  بادشاہ کی آواز میں آواز ملا کر بولے، بے شک! بے شک!  ہماری سوچ صندل کی طرح بلند ہے ۔ ہم معاف کر دیں گے۔

گدھ اور سور نے اپنے اردگرد کے ماحول پر ایک متاسفانہ نگاہ کی اور پھر نظریں جھکا کر جس راہ  سے آئے تھے وہیں واپس پلٹ گئے۔  ان کو پلٹتا دیکھ کر تمام جانداروں نے شیر اور عقاب کے لئے ایک نعرہ تحسین بلند کیا اور اس وقت تک تالیاں پیٹتے رہے کہ جب تک گدھ اور سور مجمعے میں سے نکل کر نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئے۔ شیر اور عقاب نے ایک دوسرے  کی طرف مسکرا کر دیکھا اور ایک دوسرے کو جام تجویز کرنے لگے ۔ وہ دونوں  جانتے تھے کہ ان کے میڈیا مینجرز اپنی ذمہ داریاں بہت خوش اسلوبی سے نبھا رہے تھے اور ان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں تھا۔

شیر اور عقاب کے پیچھے موجود بزرگ مور اپنے جوان بیٹے کو سمجھا رہا تھا کہ زندگی کبھی مضبوط چونچ اور طاقتور پروں کے ساتھ  توانا پنجے عنایت کردے تو گدھ بن کر نیم مردہ جانوروں کی مشکلات آسان کرنے  جیسی احمقانہ سوچ رکھنے سے بہتر ہے کہ عقاب بن کر کسی جانور کے ہنسے کھیلتے نورِ نظر کو بھنبھوڑ دینا۔ شاعر تمہیں غیرت کا استعارہ ٹھہرائیں گے اور خود کو تمام مخلوقات میں افضل ترین سمجھنے والا انسان تک تمہاری مثال اپنے بچوں کو دے گا۔ سور بن کر جنگل کا گند کھانے سے پہلے یہ سوچ رکھنا کہ دنیا کی تمام مخلوقات گند صاف کرنے والے کو ہی گندگی کا استعارہ بنا بیٹھتی ہیں۔ جنگل میں گندگی سے زیادہ اسے صاف کرنے والے سے گھن کھائی جاتی ہے۔ ٹھیک سے پنکھ چلا! ان بادشاہوں کا سایہ ہمارے سر رہا تو  بس سانپوں کا ڈر ہے، باقی ہمارا مستقبل محفوظ ہے۔ سمجھا؟

جمعرات، 30 دسمبر، 2021

اژدھا

 دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ  کسی جنگل میں ایک راج ہنس کا ویسا ہی بچہ رہتا تھا جس  کی کہانیاں  آپ بچپن سے سنتے آئے ہیں۔  ویسا ہی بھدا، بد رنگا اور بطخ  کے دیگر بچوں سے جسامت میں کہیں بڑا۔ اچھے زمانے کی کہانی ہے جب فی زمانہ تعصب کے زمرے میں گنی جانی والی چیزوں کے بارے میں میں بیان کرنے پر بھی لیکھک متعصب نہیں ٹھہرائے جاتے تھے اور مکمل سہولت کے ساتھ اپنے سے مختلف دکھنے والوں کی رنگت وغیرہ پر یہ سوچ کر طنز  کیا جا سکتا تھا کہ جس مخلوق کا تقدیر ازل سے مذاق اڑاتی اور بناتی آئی ہو، اس کا آپس میں ایک دوسرے کی تضحیک پر برا ماننے کا تصور ہی مضحکہ خیز تھا۔ سو وہ دھڑلے سے ایک دوسرے کو بھدا، بد رنگا وغیرہ ٹھہراتے تھے اور ہنس کر آگے بڑھ جاتے تھے۔

شاید ازل سے کہانی کار ایک ہی رہا ہے سو  کہانی کے کردار نام اور مقام بدل کر اس ہی ایک کہانی کے تسلسل میں حصہ دار بنتے اور اپنے زعم کے غبارے میں ہوا بھرتے  آئے ہیں کہ وہ اس لامتناہی کائنات کی سب سے منفرد کہانی کا مرکز ی کردار ہیں۔ سو وہ ہنس کا بچہ بھی گزری تمام کہانیوں کی طرح بطخ کے بچوں کے بیچ میں رہتا، ان کے طعنوں کا نشانہ بنتا اور ان کی قامت بڑھانے کی جاں گسل محنت سے تھک کر  اپنی معصوم  سوچ  میں  اپنی قامت گھٹا کر خود کو  ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش میں جٹا رہتا  ۔   اور جب اس سعی لاحاصل سے مایوس ہو جاتا تو دنیا کے حصے کے الزام بھی اپنے سر لے کر ایک بار پھر کولہو کے بیل کی طرح دائرے کے سفر میں گامزن ہو جاتا، یہاں تک کہ پچھلی کہانی ہی کی طرح  اسے بھی اس بات پر مجبور کر دیا گیا کہ وہ شناخت کی تلاش میں گھر کہلانے والی جہنم سے فرار اختیار کرے اور انجانوں میں اپنے تلاش کرتا پھرے۔

پچھلی کہانی کے عین مطابق  یہ راج ہنس کا بچہ بھی فرار ہو کر اپنے جیسے کسی ایک، محض ایک کی تلاش میں تالاب تالاب گھومتا پھرا مگر  کسی نے چونکہ اس جیسی مخلوق کو دیکھنا تو دور، کبھی اس کے بارے میں سنا تک نہیں تھا لہٰذا ان تالابوں پر بھی اسے محض وہ مایوسی ہی ملی کہ جس  کی عادت کائنات میں کسی ذی روح کو آج تک نہ ہوسکی۔ اور اس ہی مایوسی سے گھبرا کر وہ شناخت کے سفر میں چلتا رہا یہاں تک کہ ایک   بظاہر مہربان عورت نے انڈوں کے لالچ میں اس پر ترس کھا کر اسے اٹھا کر اپنے گھر کی کوٹھری میں مقفل کردیا جہاں ایک مرغی اپنی نوکیلی چونچ اور اس سے کہیں زیادہ تیز زبان کے ساتھ اس  کی منتظر تھی۔ 

راج ہنس کو لگا تھا کہ اب اسے گھر اور گھر کا پیار میسر ہوجائے گا مگر شناخت کے سفر پر گامزن کسی بھی دیگر جاندار کی طرح  اس کی تخلیقی صلاحیتیں بھی کسی کے حکم کی تابع نہیں رہیں تھیں سو فرمائشی انڈوں کے معاملوں میں وہ غریب  بھی مکمل بانجھ ثابت ہوا اور جب مہربان بڑھیا کے گھر میں موجود مرغی کی چونچ اور بلے کی نیت  نے اسے نشانے پر رکھا تو اس راج ہنس نے وہاں سے بھی رخصت میں ہی عافیت سمجھی۔ اپنی سرمایہ کاری کے اس طرح ڈوبنے پر وہ مہربان بڑھیا کس طرح  غصہ ہوئی اور  کیسے اس نے وہاں سے گزرنے والے ہر جانور کو روک کر اس راج ہنس کی کم ظرفی کی کہانی سنائی، چونکہ اس بارے میں پچھلی کہانی خاموش تھی تو ہم بھی یہاں اس بڑھیا کا پردہ رکھتے ہوئے آج کی داستان کو راج ہنس پر ہی مرکوز رکھتے ہیں۔

داستان گو بتاتے ہیں کہ راج ہنس  نے بڑھیا کے پاس سے فرار اختیار کرنے  کے بعد تنہائی کے ایام میں اس راج ہنس نے کچھ وقت سرکنڈوں کے ایک ڈھیر کے بیچ میں بھی گزارا جہاں اس نے دور آسمان پر اڑتے ہوئے  ہنسوں کا ایک  جھنڈ دیکھا اور ایک بار دل میں تمنا کی کہ کاش وہ بھی کبھی ان جیسا ہو سکے۔ شاید وہ اس جملے سے تمام انسانوں کی ہوس کا بھرم رکھنا چاہتے ہیں کہ اپنے سے ارفع لوگوں سے منسلک ہونے کی ہوس  محض ہم انسانوں تک ہی محدود نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصواب

بتانے والے بتاتے ہیں کہ تنہائی کا وہ عرصہ اس ہنس کی زندگی کا ایک ایسا دور تھا کہ جس میں جسمانی ارتقا کے ساتھ ساتھ  اس کی سوچ  بھی ارتقا پا رہی تھی ۔ مگر انسان ہو یا ہنس، زندگی آزمائشوں کا دوسرا نام ہے لہٰذا وہ ایام بھی گزرے اور جاڑے نے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور  جب زمین کو سفیدی کی چادر نے اپنے اندر چھپا لیا تو  مجبورا اس ہنس کو  بھی غذا کی تلاش میں اپنے ٹھکانے سے باہر آنا پڑا۔  ہر طرف پھیلی برف کی چادر  گو نگاہوں کے لئے  بہت دلآویز  تھی مگر زمین  پر پائی جانے والی اکثر خوبصورت چیزوں کی طرح یہ بھی فیض سے مکمل عاری تھی۔  نظاروں سے دل بہلانے کے دوران جب بھوک کا احساس جاگا تو ذوق  نظارہ کے جانے کا کرب اور بھوک کی تکلیف کی آزمائش سے نڈھال ہو کر اس کہانی کا راج ہنس بھی بے ہوش ہو کر گر پڑا تھا۔

آنکھ کھلنے پر اس نے خود کو  ایک غریب کسان کے گھر میں پایا تھا جو بازار سے ہنس خرید کر پالنے کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے بخوشی زمین پر پڑے اس نیم مردہ ہنس کو اٹھا کر اپنے گھر لے آیا تھا تاکہ اس کے ننھے اور معصوم بچے اپنے پڑوس کے اپنی ہی طرح کے غریب بچوں پر   گھر میں ہنس ہونے کا رعب جھاڑ سکیں۔   مگر وقت کے ساتھ وہ ہنس اتنا بڑا ہو گیا کہ کسان کا جھونپڑا اس کے لئے چھوٹا پڑ گیا اور مجبورا کسان اسے دریا کے کنارے چھوڑ آیا  کہ جہاں اس جیسے ہی دیگر کئی ہنس  انسانوں اور دیگر کمتر مخلوقات سے مناسب فاصلہ  برقرار رکھتے ہوئے تیرنے میں مصروف تھے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ اس نووارد ہنس کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ تمام ہنس اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے اور یہ غریب اس وقت تک اس توجہ کی وجہ سمجھ نہیں پایا  تھا کہ جب تک اس نے خود پانی میں اپنا عکس دیکھا اور یہ جانا کہ  وہ کس حد کا خوبصوت راج ہنس بن چکا ہے۔

اصولی طور پر زندگی کو اب اس پر مہربان ہوجانا چاہئے تھا اور سب کے ہنسی خوشی رہنے پر کہانی ختم ہوجانی چاہئے تھی مگر یہ دوسری بار کا ذکر ہے اور دوسری بار کا ہنس اپنے ارتقا پر بہت نازاں تھا اور چاہتا تھا کہ ترقی کا یہ سفر جاری رہے لہٰذا چند ہی دنوں میں اس کی جسامت دریا میں موجود کسی بھی ہنس سے اضافی ہوچکی تھی اور ارتقا کا یہ سفر ابھی بھی ایک نامعلوم منزل کی طرف جاری تھا۔ دریا کے وہ تمام ہنس جو پہلے اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے، اب اس سے خائف ہو کر اپنا راستہ بدل لیا کرتے تھے۔اور پھر ایک دن  ،شناخت کے سفر کے اختتام پر اور اپنے جیسے سمجھے جانے والوں کے بیچ پہنچ کر بھی   یوں تنہائی کی زندگی گزارنے کی وحشت اس ہنس کو اس دریا سے نکال کر واپس جنگل میں لے آئی۔

بڑھتے بڑھتے اب اس کی قامت ایک شتر مرغ کے برابر ہوچکی تھی۔ وہ گردن اٹھا کر دیکھتا تو  مرغیوں اور بلیوں کو خود سے  گھبرا کر ادھر ادھر چھپتے دیکھ سکتا تھا۔ شاید کسی اور حالت میں یہ منظر اس کے لئے بہت خوش کن ہوتا مگر اندر موجود چنگاریوں اور ان کے دھویں کی وجہ سے ہونے والی بے دمی کی کیفیت اسے کسی بھی چیز سے محظوظ ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی۔ اس  نے تازہ ہوا کی جگہ بنانے کے لئے اندر موجود دھویں کو زوردار پھونکیں مار مار کر نکالنا شروع کردیا۔  تھوڑی ہی دیر میں  پھونکوں کے ساتھ نکلنے والی اس کے اندر کی آگ سے اردگرد کے درخت دھڑادھڑ جلنے لگے تھے۔

دور جنگل کے کنارے ، ایک درخت پر بیٹھا کہن سالہ و جہاں دیدہ الو تاسف سے سر ہلانے میں مصروف تھا۔ جنگل میں اژدھا (ڈریگن) واپس آگیا تھا۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت