Urdu Short Story لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Urdu Short Story لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 اپریل، 2017

مریض - 4

میرا نام عاطف علی ہے اور میں ایک مریض ہوں۔ میرا مرض عام لوگوں جیسا نہیں جس میں مریض خود تڑپتا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر ترس کھاتے ہیں۔ میرے مرض میں لوگ میری بیماری کی وجہ سے تکلیف سے تڑپتے ہیں اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

میں بچپن سے ایسا نہیں تھا۔ پہلے میں بھی عام لوگوں کی طرح ہنستا، گاتا اور مسکرا تا تھا۔ پھر میری اس معصومیت بھری پر کیف زندگی کو شاید  کسی کی نظر لگ گئی اور میں لڑکپن سے نکل کر مردانگی کی عمر کو پہنچ گیا۔ اب مجھے اٹھتے بیٹھتے خواتین کا خیال ستانے لگا۔ میں جہاں جاتا تھا میری خواہش ہوتی کہ میرے ارد گرد خواتین کی ایک بھیڑ ہو جن کی گفتگو اور زندگی کا محور صرف میری ذات ہو۔ میں جہاں کسی عورت کو دیکھتا اس سے بلا وجہ بات شروع کرنے کی کوشش میں لگ جاتا۔ گھر، محلہ، سوشل میڈیا ، ہر جگہ میری زندگی کا مقصد صرف خواتین کا قرب ہوتا تھا۔  میرے دوست احباب مجھے ٹھرکی بلاتے تھے ، میرے منہ پر مجھ پہ ہنستے تھے،  بہت سی خواتین مجھے دیکھ کر ادھر ادھر ہوجاتی تھیں، مگر مجھے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔

میں اپنی اس ٹھرک زدہ زندگی میں مگن تھا اور اپنی اس بیماری پر راضی تھا۔ میرے محلے دار البتہ میری اس صورتحال پر شدید پریشان تھے۔ محلے کی خواتین اللہ سے اتنا نہیں ڈرتی تھیں جتنا لال بیگ، چھپکلی اور مجھ سے ڈرتی تھیں۔ میری حرکات سے تنگ آ کر  محلے کی خواتین نے فیس بک کے کسی گروپ میں میری اس بیماری کا ذکر کیا اور  پھر وہاں سے ایک مشہور ڈاکٹر کا پتہ نکالا گیا جو نفسیاتی عوارض کے علاج کیلئے مشہور تھے۔  چونکہ علاج کی فکر بھی مجھ سے زیادہ  محلے داروں کو تھی لہٰذا علاج کا خرچ بھی ان کے ذمے رہا اور مجھے ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں پہنچا دیا گیا۔

جب میں کلینک میں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب  پہلے ہی کسی مریض کے ساتھ موجود تھے اور ان کی آواز باہر تک آرہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب اس مریض کو سمجھا رہے تھے کہ مرد دنیا کی مظلوم ترین اور شریف ترین مخلوق ہے۔ شریف ترین اس لیئے کہ اگر عورت ایک دفعہ کہہ دے کہ اس کے بچے کا باپ وہ ہے تو مرد بالعموم بغیر کسی ڈی این اے ٹیسٹ کے اس کی بات کو سچ مان لیتا ہے اورپھر  ساری عمر اس بچے کے اخراجات ہنسی خوشی محض اس لیئے برداشت کرتا ہے کیونکہ اس کی عورت نے ایک بار کہہ دیا ہوتا ہے کہ وہ  بچہ اس کا ہے۔ بعض خوش نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بچوں کی شکلیں ان سے ملتی ہوئی ہوتی ہیں جس سے دل کو تسلی رہتی ہے وگرنہ بصورت دیگر بھی مرد سوال کرنے کا مجاز نہیں۔ اب اس سے زیادہ اور کیا شرافت ہو سکتی ہے کہ محض کسی شخص کے کہنے پر آپ ایک بچے کو اپنا مان لیں؟ اور جہاں تک مظلومیت کا سوال ہے تو مظلوم اس لیئے کہ پیدائش کے ساتھ ہی اسے سکھا دیا جاتا ہے کہ مرد روتے نہیں ہیں۔

یہ بیچارہ اپنے تمام دکھ اپنی ذات میں سمیٹے  اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے۔  یہ چاہے بھی تو کسی سے اپنا غم نہیں کہہ سکتا کہ بچپن کے خوف ساری عمر انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

 مرد کی انا بہت بڑی ہوتی ہے۔  یہ ساری عمر اپنی انا کا بوجھ اٹھائے پھرتا رہتا ہے اور بسا اوقات اس ہی انا کے بوجھ تلے دب کر مر بھی جاتا ہے۔ اور یہ  انا  اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی دوسرے مرد کے سامنے اپنے دکھ کا اظہار کرسکے، روسکے! کیونکہ رونا تو کمزوری کی علامت ہے اور کمزوری مرد کیلئے وہ گالی ہے جو اس کی انا کبھی برداشت نہیں کرسکتی۔ محض اس گالی سے بچنے کیلئے وہ  صنفِ مخالف کا سہارا لیتا ہے۔

  میں نے صنف ِ نازک کا مروجہ لفظ اس لیئے استعمال نہیں کیا کیونکہ عورت بہت چالاک ہوتی ہے۔ اس نے ازل سے خود کو نازک مشہور کر کےمشقت طلب تمام کام مردوں کے ذمے ڈال دیئے ہیں۔ ایک انسانی جان کو دنیا میں لانے کیلئے جتنی طاقت اور برداشت چاہیئے وہ دو مرد مل کر بھی نہیں لا سکتے ، مگر پھر بھی صنف نازک کہلائے گی عورت ہی۔ ہم خود اپنی بیگمات کو پارلر لیکر جاتے ہیں جہاں وہ پیسے دیکر اپنے  بال نچواتی ہے۔ تصور بھی کرو ں کہ میرےجسم کے بال کوئی ایسے نوچ کے اکھاڑے تو  روح کانپ جاتی ہے ؟ پھر بھی صنف نازک کون ہے؟ عورت!

تھوڑی دیر تک کمرے میں خاموشی رہی اور پھر لائٹر کے جلنے کی آواز آئی۔ ڈاکٹر صاحب شاید جذباتی ہوگئی تھے اور اس جذباتی ہیجان کو سنبھالنے کیلئے تمباکو کا سہارا لے رہے تھے۔ میں ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھا تھا اور منتظر تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنی گفتگو دوبارہ شروع کریں۔ خاموشی تھوڑی دیر اور رہی پھر ڈاکٹر صاحب کی آواز دوبارہ ابھری۔ وہ کہہ رہے تھے کہ،  تو جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ مرد اپنی خود ساختہ انا کو بچاتے ہوئے اپنا غبار نکالنے  کیلئے اپنے دکھڑے صنفِ مخالف کو سنانا چاہتا ہے اور اس چیز کیلئے وہ عورت کے قر ب کا متلاشی ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ عورت کے قرب کی خواہش صرف اس ہی وجہ سے ہے۔ جسمانی و فطری تقاضے اپنی جگہ بالکل ویسے ہی موجود ہیں جیسے اول دن سے تھے۔ افزائش نسل ہر جانور کی فطرت ہے۔ اگر یہ چیز فطری نہ ہوتی تو میں اور آپ وجود ہی نہ رکھتے۔ تو وہ چیز بھی ہے اور بالکل ہے، مگر قرب کی خواہش کو صرف  افزائش نسل تک محدود کردینا بھی محض سطحیت اور حماقت ہے۔

ڈاکٹر صاحب! عورت کے قرب کی وجہ تو چلیں سمجھ میں آگئی ، مگر  وہ تو شادی  شدہ ہے؟ اس کے پاس ایک عورت موجود ہے جو اس کی فطری و نفسیاتی و  ۔۔۔۔  الغرض تمام ضروریات کو پورا کر سکتی ہے! مگر پھر بھی وہ خواتین کی طرف کیوں کھنچتا چلا جاتا ہے؟  کمرے میں سے ایک دوسری آواز ابھری ۔

ڈاکٹر صاحب کی جب آواز آئی تو مجھے لگا کہ وہ مسکرا رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ  بھوک ، پیاس اور دوسری بنیادی ضروریاتِ زندگی کی طرح یہ چیز  بھی عین فطری ہے۔ آپ کسی بھی جانور کو اگر دیکھتے ہیں تو وہ صرف ایک مادہ تک محدود نہیں ہوتا۔ ہاں مگر اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم بحیثیت انسان کس جگہ پر کھڑے ہیں۔ پیاس لگنا ایک فطری عمل ہے اور پانی اس پیاس کی تسکین کیلئے ہے۔ البتہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص جوہڑ میں سے بھی پانی پی کر تسکین پا جاتا ہے اور ایک شخص جب تک ایک مخصوص درجہ حرارت اور مخصوص نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا پانی نہ پیئے اسے تسکین نہیں ملتی۔ پیاس دونوں کی یکساں ہے، مگر ذاتی نفاست یہ طے کرے گی کہ تسکین کس درجے پر جاکر ملنی ہے۔ تو  اس سوال کا جواب بھی میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ آپ اس کا  درجۃ نفاست خود طے کریں کیونکہ وہ کہنے کی حد تک ہی سہی، مگر انسان ہےجبکہ جگہ جگہ منہ کتا مارا کرتا ہے۔

سوچ میں ڈوبی ہوئی دوسری آواز ابھری، مگر ڈاکٹر صاحب وہ کہتا ہے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے آپ کو خواتین کے قریب جانے سے نہیں روک پاتا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا  ہے کہ اپنی بیوی تک محدود رہے مگر شادی کے دس سال بعد ہم دونوں تقریباٗ بہن بھائی بن چکے ہیں۔ اسے تو اب یہ بھی یقین ہوگیا ہے کہ انجانے میں اگر اس کا ہاتھ کسی عورت کوچھو جائے اور جذبات میں کسی قسم کا کوئی تغیر نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی یعنی میں ہوں ۔ آپ خود بتائیں میں کیا کروں؟

 ڈاکٹر صاحب اب کی مرتبہ جب بولے تو ان کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ، ہم ایک جنس زدہ معاشرے میں رہتے ہیں۔  اسلامی اقدار کے نام پر ہم نے عورت کو تو پردے میں بٹھا دیا مگر اس ہی اسلام کے سکھائے ہوئے طریقے پر نکاح کو آسان کرنا بھول گئے۔  اب صورتحال یہ ہے کہ مرد اپنی فطرت کے مطابق  ساتھی کا متلاشی ہے اور ساتھی  بہت ساری وجوہات کی بنا  پر  گھر میں بند ہے۔طلب اور رسد کے اس بنیادی فرق کی وجہ سے معاشرہ اس حد تک گھٹن میں ہے کہ عورت کی ایک جھلک ، مرد کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کو کافی ہوچکی ہے۔ مرد  اپنی گھٹن نکالنا چاہتا ہے مگر نکال نہیں پا رہا ہے۔ یہاں تک پہنچ کر ڈاکٹر صاحب کی آواز بھرا گئی ۔ میں نے کان لگا کر سنا، ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے، ایسے میں اگر کوئی خوبصورت خاتون  آپ کے سامنے موجود ہو، جو حسن کے ساتھ شعور کے بھی اتنے بلند درجے پر ہو اور پھر بھی اپنے ٹھرکی شوہر کی حرکات سے تنگ ہو ، تو آپ اسے کیا مشورہ دے سکتے ہیں؟  میں تو یہی کہوں گا کہ وہ انسان آپ کے لائق ہے ہی نہیں۔  مگر آپ دل چھوٹا نہ کریں! خدا کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ آپ آج شام کو کیا کر رہی ہیں؟

میں ڈاکٹر صاحب کے کلینک سے اٹھا اور باہر آگیا۔ مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ میری بیماری ناقابل علاج ہے، یا کم سے کم اس عطار کے لونڈے کے پاس میر کی بیماری کا علاج ممکن نہیں۔

میرا نام  عاطف علی ہے اور آپ نے بالکل ٹھیک پہچانا، میں وہی مریض ہوں جو سگنل پر رکے ہوئے ہر رکشے کے اندر جھانک کر اپنی کسی کھوئی ہوئی بہن کو تلاش کر رہا ہوتا ہے۔

نوٹ: لاکھوں سال پرانی مردانہ ٹھرک کا علاج اگر آپ  تین صفحات کے کسی بلاگ میں ڈھونڈ رہے تھے تو ٹھرک سے پہلے آپ کو دماغ کا علاج کروانا چاہیئے۔ شکریہ

بدھ، 2 نومبر، 2016

23 اکتوبر

سر مجھے لگ رہا ہے کہ یہ جو بھی کچھ ہورہا ہے وہ محض اتفاقی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ضرور کوئی منصوبہ ساز زہن موجود ہے جو انتہائی صفائی اور مہارت سے یہ کام کر رہا ہے۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ وہ کیوں یہ کام کر رہا ہے مگر یہ جو ایک دو واقعات میں نے آپ کو بیان کیے ہیں تو سر  ان کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ ۔۔۔۔ سر آپ میری بات مانیں نہ مانیں یہ یقینا کوئی سیریل کلر ہے جو اتنا شاطر ہے کہ پولیس کی نظروں میں آئے بغیر گزشتہ پانچ سالوں سے یہ کام کر رہا ہے! سر آپ بس مجھے اجازت دیں تو میں باقاعدہ کیس فائل کرکے تحقیقات شروع کردوں؟ میرا ماتحت آفیسر اس وقت میرے سامنے بیٹھا نہایت جذباتی انداز میں تیز تیز اور مسلسل بول رہا تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرایا اور پانی پینے کو کہا۔ وہ پانی پی کر فارغ ہوا تو میں نے اسے سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کی وجہ سے جذباتی ہورہا ہے اور  معاملہ ایک بڑے ہسپتال اور اس کی ساکھ کا ہے۔ غلط کیس فائل ہوا اور میڈیا کو کیس فائل ہونے کی خبر مل گئی تو ہسپتال والے اتنے طاقتور ہیں کہ ہم دونوں کو اٹھوا کر گھر بھجوا دیں گے اور شہرت خراب کرنے پر ہتک عزت کا دعویٰ الگ ہوگا۔ بہتر یہی ہوگا کہ وہ  چند دن  دفتر نہ آئے اور باہر سے ہی اپنے طور پر یہ تحقیقات خفیہ طریقے سے جاری رکھے اور مجھے مطلع  کرے۔ مناسب ثبوت بہم ہوجانے پر ہم کیس فائل کرکے معاملے کو دیکھ لیں گے۔
اس کو وہاں سے رخصت کرنے کے بعد میں نے فون اٹھایا اور اس ہی ہسپتال میں کام کرنے والی اپنی چھوٹی بہن کو بھی خبردار کردیا کہ وہ  رازاداری کے ساتھ اردگرد نظر رکھے اور کسی بھی گڑبڑ کے نتیجے میں مجھے فوری طور پر مطلع کرے۔ فون کال نمٹا کر میں نے سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی اور تھانے کے احاطے میں کھڑا ہوکر سگریٹ پیتے ہوئے معاملے کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنے لگا۔
میرے ماتحت آفیسر کے بیان کے مطابق یہ معاملہ ابھی پولیس کی نظروں میں آیا ہی نہیں تھا جبکہ قتل کی یہ وارداتیں پچھلے پانچ سال سے جاری تھیں۔  اس کو بھی اس معاملے کی بھنک ایسے پڑی تھی کہ اس کی بیوی اس ہسپتال میں زچگی کے سلسلے میں گئی تھی اور جان کی بازی ہار گئی تھی۔ بیوی کی موت کے فورا بعد یعنی دو گھنٹوں میں ہی  ہسپتال والوں نے بچے کو بھی مردہ قرار دے دیا تھا۔ شاید کوئی اور ہوتا تو اس معاملے کو خدا کی مرضی قرار دے کر رو پیٹ لیتا مگر پولیس والوں اور بالخصوص تفتیشی افسران کا مزاج عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ میرے ماتحت کو یہ شک گزرا کہ یہ اموات جتنے عجیب انداز میں ہوئیں وہ طبعی موت نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا معاملہ تھا۔ ہسپتال کا نام بہت بڑا تھا اس لئے  مجرمانہ غفلت کا براہ راست الزام لگانے کے مضمرات سے وہ آگاہ تھا۔ کیس کو مضبوط کرنے کے لئے اس نے اپنے ذرائع سے تحقیقات کیں تو ایک عجیب سی خبر اس کے سامنے آئی کہ  زچہ و بچہ کی موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ پچھلے پانچ سال سے ہر سال اکتوبر کے مہینے میں اس قسم کے واقعات اس ہسپتال میں ہوتے آئے تھے ۔  یہ معلومات ملتے ہی وہ جذبات میں دوڑتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا تھا اور مجھ سے کیس درج کرنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ سگریٹ  ختم کرکے میں نے اس کیس کے سلسلے میں دماغ میں آنے والے تمام فالتو خیالات کو جھٹکا اور واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے طے کرلیا تھا کہ اب اس معاملے پر تب ہی سوچوں گا جب کچھ مزید اطلاعات میرے سامنے آئیں گی۔


اس بات کو گزرے چار دن  ہوگئے تھے اور میرا ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا۔ میں اپنی بہن سے بھی معاملے کی مسلسل سن گن لے رہا تھا مگر اس  نے بھی اردگرد کوئی غیرمعمولی چیز محسوس نہیں کی تھی۔ میں پچھلے دو دن سے مسلسل دفتر سے واپسی میں اس کے گھر جارہا تھا مگر ہر مرتبہ یہی معلوم ہوتا کہ وہ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے گھر سے نکلا ہے اور جب میں اس کے موبائل پر فون کرتا تو گھنٹی بجتی مگر کوئی جواب نہ آتا۔ میں نے اس کے گھر والوں کو بھی بول رکھا تھا کہ وہ جب بھی گھر آئے تو اسے مجھ سے رابطہ کرنے کو کہیں مگر یا تو گھر والے اسے میرا پیغام نہیں پہنچا رہے تھے یا وہ خود مجھ سے کترا رہا تھا۔ آج میں نے سوچ لیا تھا کہ دفتر سے واپسی میں میں اس کے گھر جاؤں گا اور وہیں بیٹھ کر اس وقت تک اس کا انتظار کروں گا جب تک وہ واپس نہیں آجاتا۔
دفتر میں بہت سے توجہ طلب امور تھے مگر میرا دھیان اس ہی میں اٹکا ہوا تھا۔ کافی دیر تک بھی جب میں کسی اور چیز پر توجہ مرکوز نہ کرسکا تو میں نے جھلا کر اسے کال کرنے کے لئے موبائل نکالا تو اس ہی وقت سکرین پر اس کا نام جگمگانے لگا۔ میں نے فورا کال اٹھائی اور اس سے پہلے کہ میں اسے پچھلے چار دن پر مغلظات سناتا اس کی نہایت پرجوش آواز ابھری، سر! میرا شک صحیح نکلا۔ آپ بس جلدی سے ہسپتال پہنچ جائیں میں ہسپتال کے  سامنے والے ہوٹل میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ باقی تفصیلات میں مل کر بتاتا ہوں۔
میں گاڑی اڑاتا ہوا سیدھا ہسپتال کے سامنے واقع ہوٹل پر پہنچ گیا۔ وہ ہوٹل کے باہر پڑی کرسی پر بیٹھا ہسپتال کے دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھا تھا۔ میں اتر کر اس کے پاس گیا تو اس نے عادتا مجھے سلوٹ کردیا۔ وہ اس وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا اور مجھے لگا کہ لوگ اس کے اس طرح مجھے سلوٹ کرنے پر چونکے ہیں مگر پھر مجھے خیال آیا کہ میں تو وردی میں موجود تھا اور یہ سراسیمگی میرے آنے کی وجہ سے پھیلی تھی۔ میں نے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے برابر میں موجود کرسی سنبھال لی اور اردگرد  کی کرسیوں پر موجود لوگوں کو اٹھنے کا اشارہ کردیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے گفتگو کوئی اور سنے اور لوگ تو ویسے ہی ہم سے دور بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں سو چند ہی لمحوں میں ہم دونوں اکیلے رہ گئے تھے۔
پہلے پانچ منٹ تو میرے اسے اس طرح غائب ہونے پر مغلظات سنانے میں لگ گئے مگر اس کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی ٹھوس چیز کے میرا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے فون پر بات کرنے میں متامل تھا۔  چار گالیاں اس احمقانہ سوچ پر مزید کھانے کے بعد وہ معاملے کی تفصیلات پر آگیا۔
میرے ماتحت کے مطابق اس نے اکتوبر کے مہینے سے جڑے ان حادثات کو کھوجنے کے لئے ہسپتال کے سٹاف کو کھنگالنے کی کوشش کی  کہ ان میں سے کس کس کا اس مہینے سے کوئی خاص تعلق ہوسکتا ہے۔  پہلے مرحلے میں اس نے ہسپتال کے ہیومن ریسورس مینجر کو اپنی نوکری کی دھونس جمائے بغیر محض بندوق دکھا کر تمام سٹاف کا ڈیٹا حاصل کیا اور اس میں سے اکتوبر کی تاریخ پیدائش والے تمام  افراد کی نشاندہی کر لی۔ اس کے شک کا دائرہ اب ہسپتال کے چار سو سٹاف سے سمٹ کر محض سینتیس لوگوں پر رہ گیا تھا  امگر ایک دو کی بات ہوتی تو ٹھیک تھا ، وہ ذاتی حیثیت میں سینتیس لوگوں کو شامل تفتیش نہیں کرسکتا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ اب معاملہ یہیں ختم ہوجائے گا مگر قدرت اس پر مہربان ہوگئی جب اس نے کل رات سوچوں کے درمیان  بے دھیانی میں ہسپتال سے ملنے والی اپنی بیوی کی کیس فائل کھولی اور اسے ڈاکٹر کے خانے میں جو نام دکھا وہ اکتوبر میں پیدا ہونے والے ان افراد کی فہرست میں موجود تھا۔ اس کے بقول وہ رات بھر سو نہیں سکا اور صبح ہی ہسپتال پہنچ کر اس ہی ہیومن ریسورس مینجر کے ساتھ موجود تھا جس نے اسے پہلے بھی ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ قسمت اس پر مسلسل مہربان تھی کہ وہ شخص ہیومن ریسورس مینجر  اور ایک توپ افسر ہونے کے ناطے ہسپتال کے تمام ستاف کی حاضری اور ہسپتال کے میڈیکل ریکارڈ دونوں تک رسائی رکھتا تھا۔ میرے ماتحت کے مطابق جیسے ہی اسے پتہ چلا  کہ پچھلے پانچ سال میں ہونے والی تمام زچہ و بچہ کی اموات کے وقت محض ایک شخص تھا جو ڈیوٹی پر موجود تھا تو اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس شخص کا نام وہ اپنی بیوی کے میڈیکل ریکارڈ میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔  وہ ڈاکٹر اس وقت بھی ہسپتال میں موجود تھی اور اب ہم دونوں ہسپتال میں تماشہ نہ بنانے کے لئے ہسپتال کے باہر اس کے منتظر تھے کہ وہ کب ڈیوٹی ختم کرکے نکلے اور ہم اسے اس کے گھر جا کر دھر لیں۔ میرا ماتحت ہسپتال کے ریکارڈ سے اس کا پتہ نکال لایا تھا مگر میں اپنی بہن کے حوالے سے میں اسے جانتا تھا  اور میں جانتا تھا کہ یہ ایک فرضی پتہ ہے۔ میں اس سفاک قاتل کا پتہ جانتا تھا جو ہسپتال سے پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی واقع ایک پوش علاقے میں مکین تھی لہٰذا میں نے اپنے ماتحت کو ساتھ لیا اور اس کے گھر کے سامنے والے پارک میں جا کر انتظار کرنے لگا ۔
شام پانچ بجے اس کی ڈیوٹی ختم ہوئی تھی اور ٹھیک پانچ بج کر سولہ منٹ پر وہ اپنے گھر کا دروازہ کھول رہی تھی کہ میں نے اپنے ماتحت کے ساتھ اسے جالیا۔ وہ مجھے میرے ماتحت کے ساتھ اور اس طرح وردی میں دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی تھی۔ میں نے اسے دروازہ کھول کر اندر چلنے کا اشارہ کیا۔
گھر میں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ ہم اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئے۔ میں نے اپنے ماتحت کو اشارہ کیا اور اس نے پورا معاملہ اس لڑکی کے سامنے رکھ دیا کہ کس طرح پولیس کو اب اس کی سفاک حرکات کا پتہ چل گیا ہے ۔ میرے ماتحت کی بات سن کر وہ بری طرح سے پھوٹ بہی مگر ہم دونوں وقت کے ساتھ اتنے پکے ہوچکے تھے کہ اب کسی  کے آنسو ہم پر اثرانداز نہیں ہوتے تھے۔ اس نے جرم سے انکار نہیں کیا اور دھیمے لہجے میں بولی کہ اب مجھے کیا کرنا ہوگا؟  مجھے لگا کہ میرا ماتحت بھی اس کے اتنی جلدی اقبال جرم کی امید نہیں کر رہا تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ اس کا ہر قتل کے وقت ہسپتال میں موجود ہونا اسے کسی بھی عدالت میں قاتل نہیں ثابت کرسکتا تھااور ایک معمولی وکیل بھی ہمارے مقدمے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا۔ اور جب یہ بات ہم دونوں جانتے تھے تو اتنی مہارت سے قتل کرنے والی وہ بظاہر معمصوم دکھنے والی شاطر لڑکی کیوں واقف نہیں ہوگی؟ وہ لڑکی مگر شاید اس وقت کسی شدید جذباتی کیفیت  کا شکار تھی اور اقبال جرم کربیٹھی تھی۔ میں نے کہا کہ ابھی لیڈی پولیس بلوا کر ہم آپ کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ میں آپ کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں مگر مجھے آپ سے اس بات کی امید نہیں تھی۔ آخر کیا وجہ تھی کہ آپ مسیحائی جیسے مقدس پیشے سے منسلک ہوکر بھی قاتل بن گئیں؟  میرا سوال سن کر اس نے رونا بند کر دیا اور نظریں میری نظروں میں گاڑ کر بولی، میں نے اپنے مقدس پیشے سے کبھی بے وفائی نہیں کی ہے! میرا کام انسانوں کو درد سے نجات دلانا ہے انسپکٹر صاحب! اس کی آنکھوں میں موجود آنسوؤں کی لالی اس وقت خون کی لالی لگ رہی تھی اور کے لہجے میں جو وحشت تھی میں نے محسوس کیا کہ اس سے میرا ماتحت کانپ اٹھا ہے۔  اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا اس نے اپنا بیان دوبارہ جاری کردیا۔  ایک پولیس والا کیسے محسوس کرسکتا ہے کہ درد کیا ہوتا ہے جبکہ اس کی ساری زندگی تفتیش کے نام پر دوسروں پر تشدد میں گزر جاتی ہے۔ میں ڈاکٹر ہیں۔ میں جانتی ہوں درد کیا ہوتا ہے۔ میں انسان ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ اس دنیا میں بن ماں کے بچوں کا کیا حال ہوتا ہے! میں ہی ہوں جو ان کا درد محسوس کرسکتی ہوں۔ میں ہی ہوں جس کی ماں اس ہی اکتوبر کے مہینے میں اسے پیدا کرتے ہوئے چل بسی تھی۔ خاندان بھر کے گھروں میں باری باری پلتے اور چاچا ماماؤں کے بچوں کی نوکری کرتے ہوئے جب میں ڈاکٹر اور پھر گائنی کی ماہر بنی تو اس کے پیچھے یہی سوچ تھی کہ میں  کسی ماں کو مرنے نہیں دوں گی۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ میں گائنی کی ماہر تو بن سکتی ہوں مگر خدا نہیں بن سکتی۔ میں انہیں مرنے سے نہیں بچا سکتی۔ مگر جو پیچھے بچ جائیں انہیں ضرور ان کی ماؤں تک پہنچا سکتی ہوں۔ آپ اسے سفاکی کہتے ہیں؟ میں تو احساس کی اس منزل پر ہوں جہاں آپ کبھی نہیں پہنچ سکتے! آپ کی ماں شاید ابھی زندہ ہے!-

اس کی باتیں سنتے سنتے میری بس ہوچکی تھی۔ میں نے کھڑے ہوکر اپنا سائلینسر لگا ذاتی ریوالور نکال لیا۔ وہ ڈاکٹرنی  مجھے کھڑا ہوتا دیکھ کر خود بھی کھڑی ہوگئی تھی اور اب بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑٰی تھی گویا اسے کسی بات کا ڈر نہ ہو۔ میرا ماتحت البتہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔ اسے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکنے کی کوشش کی کہ سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں مگر اس کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی میں نے اپنا ہاتھ چھڑا کر گولی چلا دی۔ وہ ڈاکٹرنی دوڑتی ہوئی آئی اور مجھ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ ہمارے قدموں میں میرے ماتحت کی لاش پڑی تھی۔ آج ہماری ماں کی برسی تھی۔ میرا ماتحت بیچارہ ناتجربہ کار تھا جو دروازے پر لگی تختی نہ پڑھ سکا جس پر بڑا بڑا انسپکٹر عاطف علی تحریر تھا!

جمعہ، 17 جولائی، 2015

عید کے رنگ

پہلا رنگ:
امی یہ عید کیا ہوتی ہے؟
 بیٹا یہ خوشیوں کا تہوار ہوتا ہے۔
امی ہم اس تہوار پر خوش کیوں نہیں ہوتے؟
بیٹا تہوار پیٹ بھروں کیلئے ہوتے ہیں۔

دوسرا رنگ:
عید مبارک امی!یہ جملہ سننے میں کتنا بھلا لگتا ہے ناں؟ کاش کبھی بولنے کا موقع بھی ملا ہوتا۔

تیسرا رنگ:
یار ایک تو عیدگاہ میں سب سے عید مل کر جو خوشی ہوتی ہے اس کا بھی جواب نہیں۔ ہمارے تہوار، ہمارے تہوار ہیں!
 نہ کر! تو سب سے گلے ملتا ہے؟
تو اور؟ رسمِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے۔
چل اب نماز کھڑی ہورہی ہے۔ خطبے کے بعد آج میں بھی سب سے گلے ملوں گا۔
ہاں چل! اور دیکھ عید کے بعد گیٹ پر نہ رکیو ورنہ وہ پولیس والا بھی گلے لگ جاتا ہے۔ صبح کی ہلکی سی دھوپ میں بھی پسینے کی دکان بنا کھڑا ہوتا ہے۔ ڈسگسٹنگ!
آخ  ۔۔۔۔چل نماز پڑھیں۔

چوتھا رنگ:
چل  لگا شرط آج بھی کوئی حرامزادہ عید ملنے کیلئے نہیں رکے گا۔
یار ایسے کیسے نہیں رکے گا۔ ہم ان کی حفاظت کی خاطر اپنی عید کی نماز تک چھوڑ دیتے ہیں۔ گھر بار بیوی بچوں کو چھوڑ کر یہاں ذلیل ہوتے ہیں۔ کوئی کیوں نہیں رکے گا۔
لگی پچاس کی؟
چل لگی!
نکال پچاس روپے!

پانچواں رنگ:
امی میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ عید پر آجاؤں۔ دیکھیں آپ روئیں نہیں۔
روؤں نہ تو اور کیا کروں؟ ایک تو مہنگائی نے موئی کمر توڑ رکھی ہے۔ تیرا آنا کون سا آسان ہے؟ پچاس ہزار کا تو ٹکٹ لگ جائے گا۔ پھر  بہنوں کے سسرال والوں کے اتنے بڑے کھلے ہوئے منہ کہ لڑکا دبئی سے آیا اور بہن بہنوئی بھانجے بھانجیوں کیلئے کچھ نہ لایا؟  تو میرے آنسوؤں کا خیال مت کر مجھے خدا نے بڑی ہمت دی ہے میں جیسے تیسے سنبھال ہی رہی ہوں اپنے کو، آگے بھی چلا ہی لوں گی۔
مگر امی ۔۔۔
اے جانتی ہوں تو میری محبت میں یہ سب کر رہا ہے مگر میں کوئی روایتی ماں تھوڑی ہوں کہ تیری کمر توڑ دوں۔ برداشت کرلوں گی۔ ایک عید ہی کی تو بات ہے۔
اچھا امی ۔۔۔
ہاں سن! ٹکٹ کیلئے جو پیسے جوڑے تھے اس کا سونا بھجوا دے۔ ایک تو یہ نحشی لڑکیاں بھی بانس کی طرح بڑھتی ہیں۔  ابھی میں بندے بنوا لوں گی بعد میں چھوٹی کی شادی پر کام آجائیں گے۔ چل اب فون رکھ ورنہ تیرا بل بنے گا۔

چھٹا رنگ:
شکر ہے عید کا چاند نظر آگیا۔
ہئے رمضان چلے گئے اور آپ کو خوشیاں سوجھ رہی ہیں؟
بیگم شکر اس بات کا ہے کہ کل سے شیطان آزاد ہوجائے گا اور انسانوں سے جان چھوٹے گی۔

ساتواں رنگ:
ابو یہ صدقہ فطر کیا ہوتا ہے؟
بیٹا روزوں میں جو کمی کوتاہی رہ گئی ہوتی ہے اس کی تلافی کیلئے عید کی نماز سے پہلے پہلے یہ صدقہ نکالا جاتا ہے۔
ابو ہم کب دیں گے یہ؟
ابھی تو پانچواں روزہ ہے۔ عید پڑھنے جب جائیں گے تو باہر کسیٖ غریب  کو دے دیں گے۔
تو ابھی کیوں نہیں؟
ابھی سے دے دیئے تو تو وہ خرچ کردے گا  نا!

آٹھواں رنگ:
امی ! ابو ہمارے ساتھ عید پر کیوں نہیں ہوتے؟
کیونکہ وہ ایک فوجی جوان ہیں اور سرحد کی حفاظت پر معمور ہیں۔
ابو سرحد کی حفاظت کیوں کر رہے ہیں امی؟
کیونکہ سرحد کے دونوں طرف، جرنیلوں  کی شروع کردہ جنگ میں جرنیل گولیاں نہیں کھا سکتے۔

نواں رنگ:
محترمی وزیر اعظم و وزیر اعلٰی صاحبان! جانتی ہوں کہ آپ کے آنے سے میرا بیٹا واپس نہیں آجائے گا مگر پھر بھی اگر آپ اس عید پر اپنے بیٹوں کو لیکر گھر آئیں تو مانو ڈھارس سی بندھ جائے گی۔
والسلام
145 میں سے ایک کی ماں

دسواں رنگ:
عید مبارک!
عید مبارک میرے دوست!
روزے کیسے گئے؟
بہترین! تیرے؟
میں نے بھی پورے رکھے!
ابھی کہاں جا رہا ہے؟
عید منانے!
چل عیش کر! پر بشیر کی دکان سے نہ لیجیو کچی بیچتا ہے سالا۔ پار سال بھی اس کے تین گاہک عید والے دن ہی نکل لیئے تھے۔

گیارہواں رنگ:
سنیں! شبر بھائی کے حالات برسوں سے اچھے نہیں چل رہے۔ بچوں کو بیس روپے سے زیادہ عیدی دیکر ان کی عادتیں خراب مت کیجئے گا۔
تو پھر یہ پانچ سو کے نوٹ کس لیئے رکھے ہیں؟
وہ واپسی میں شبیر بھائی کے پاس ڈیفینس بھی تو جانا ہے۔

بارہواں رنگ:
امی سارے بچے اپنے دادا دادی کے پاس عید منانے جاتے ہیں۔ ہم کیوں نہیں جاتے؟
بیٹا انہیں کبھی اولاد کی قدر ہی نہیں ہوئی۔ خیر! زیادہ دل کر رہا ہے تو  انٹرنیٹ ہے نا؟
پر امی ! انٹرنیٹ سے دادو ڈائون لوڈ تو نہیں ہوسکتیں؟

تیرہواں رنگ:
یار یہ مارک زکر برگ بھی انتہائی فضول آدمی ہے۔ فیس بک پر پوک کی جگہ ہگ کا بٹن بنا دیتا تو فالتو رشتے داروں سے عید ملنے نہیں جانا پڑتا۔
چودہواں رنگ:
یار یہ خشک میوہ اٹھائیں۔
واہ! کیا عمدہ کاجو ہیں۔ مدت بعد ایسے کاجو چکھے ہیں۔
ہاں  بھئی عمدہ کیوں نہ ہوں؟ سری لنکا سے منگوائے ہیں۔
اور سنائیں؟ فطرے کی پرچیوں پر بھی اس مرتبہ بھی سہی وبال رہا۔
ہاں یار۔ فطرے کے پیچھے ایسے بھوکوں کی طرح مرتے ہیں یہ لوگ،  اور پھر خدا جانے کن کاموں میں استعمال لاتے ہوں۔ بھئی میں نے تو پانچوں کے گن کر سو روپے کے حساب سے پورے پیسےمسجد میں جمع کرادیئے۔ بس اللہ عبادت قبول کرلے۔

پندرہواں رنگ:
مولوی صاحب عید کا وعظ سناتے ہوئے گویا ہوئے، آج خوشی کا دن ہے لہذا آج کے دن کے روزے کو خدا نے حرام قرار دیا ہے۔ آج کھانے اور کھلانے کا دن ہے۔
مولوی صاحب اگر کسی شخص کے پاس نہ کھانے کیلئے کچھ ہو اور نہ سوال کرنے کیلئے ہمت، تو کیا آج کے دن بھی بھوکا رہنے پر کوئی گناہ ہوگا؟ اور اگر ہاں تو وہ گناہ فاقہ کش کے سر ہوگا یا اہل علاقہ کے؟  میں نے سوال کرنا چاہا مگر خشک گلے سے الفاظ برآمد نہ ہوسکے۔

سولہواں رنگ:
ہائے وقت بھی کتنی تیزی سے بدلتا ہے۔ عید کارڈ کے بغیر بھی کوئی عید ہوتی تھی؟
موم! یہ عید کارڈ کیا ہوتا ہے؟

سترہواں رنگ:
ماشاءاللہ کتنی حسین لگ رہی ہیں آپ! ایسا لگتا ہے گویا چاند دن میں ہی ہمارے گھر اتر آیا ہو۔ یقین مانیں آپ کا یہ ساتھ  ہی میری اصل عید ہے۔
باجی ۔۔۔
ہاں؟
بھائی جان کے گزرنے کے بعد گھر میں کوئی مہمان آکر جھانکتا نہیں ہے اور آپ بلاوجہ مجھے عید والے دن بھی روک کر رکھتی ہیں۔ کوئی کام نہیں ہے تو میں گھر جاؤں؟

اٹھارہواں رنگ:
امی میری عیدی؟
یہ لیجئے آپ کی عیدی! آداب کیجئے؟
آداب!
اب ان پیسوں کا آپ کیا کریں گے ؟
باہر اونٹ والا آیا ہوا ہے۔ میں ان پیسوں سے اونٹ کی سواری کروں گا۔
بری بات! سارے پیسے اس طرح خرچ نہیں کرتے۔
پر امی اگر میں نے پیسے خرچ نہیں کیئے تو اونٹ والے کی عید کیسے ہوگی؟

انیسواں رنگ:
خدا غارت کرے ان بجلی والوں کو۔ ایک عید کا دن ہوتا ہے جب انسان سکون سے گھر میں بیٹھ کر ٹیلیویژن دیکھتا ہے اور آج بھی بجلی چلی گئی۔

بیسواں رنگ:
بھیا !  میں نہ کہتی تھی کہ قوم کو آپ کی قربانیوں کا احساس ہے۔  دیکھیں فیس بک پر پوسٹ لگی ہوئی ہے کہ "سلام ہے قوم کے ان بچوں پر جو عید کے دن بھی نئے کپڑوں کی جگہ پرانی وردی پہن کر قوم کے دفاع میں مصروف ہیں"۔
غور سے دیکھو پگلی، اس پوسٹ میں وردی کا رنگ سیاہ نہیں خاکی ہوگا۔

اکیسواں رنگ:
عید مبارک غفران بھائی!
خیر مبارک جبران بھائی!
کیا پلان ہے پھر آج کا؟
پلان کیا ہونا ہے؟ ابھی گھر پر چاند رات چل رہی ہوگی سو رات میں سکائپ پر کال کرلوں گا  بس۔   اچھا اب اجازت دیں جاکر ٹیکسی نکالنی ہے۔ دعا کریں کوئی اچھی سواری مل جائے۔ چار پیسے جمع ہوجائیں تو انشاءاللہ بڑی عید پر میں بھی پاکستان ہو آؤں گا۔

بائیسواں رنگ:
عید مبارک بھائی!
خیر مبارک!
کیا حال چال ہیں؟
دادا پوچھو مت! اس دفعہ تو لاٹری نکل آئی ہے۔ عامر بھائی کے پروگرام سے تیرا بھائی گاڑی، فرج، اے سی، اور کیو موبائل سب جیت کے لایا ہے۔ فردوس کے دو لان اس کے علاہ ہیں۔
دادا تیری تو عید سے پہلے ہی عید ہوگئی۔
بس یار اللہ کا کرم ہے۔ دو سال سے لگا ہوا تھا۔ اب جا کر کہیں پاس ملا  تھا۔
اللہ کے نام پر دیتا جا صاحب ۔۔۔ صاحب عید کا دن ہے صاحب!
بھاگو یہاں سے ۔۔۔ پتہ نہیں کہاں سے آجاتے ہیں منہ اٹھا کر۔۔۔ سالا یہ قوم ہی بھوکی ننگی ہے۔

تئیسواں رنگ:
بیگم میرے کپڑے؟
استری کرکے الماری میں ٹانگ دیئے ہیں۔
شلوار میں ازار ڈال دیا تھا؟
جی ڈال دیا تھا۔
اچھا میں نہا کر آتا ہوں۔ یہ گھر کی صفائی بعد میں کرتی رہنا پہلے شیر خرمہ تیار  کردو۔ گھنٹوں پکاتی رہتی ہواور اس چکر میں  کبھی نماز سے پہلے تیار نہیں ہوپاتا۔
جی وہ فجر میں اٹھی تھی تب ہی بنا دیا تھا۔ آپ جاکر نہالیں۔
بیگم میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔ واپسی میں قبرستان اوراس کے بعد  تایا ابا کے گھر سلام کرتا ہوا آئوں گا۔ سو نہیں جانا! ایک تو تم عورتوں کو عید والے دن بھی سونے سے فرصت نہیں ملتی۔

چوبیسواں رنگ:
رہ گیا اپنے گلے میں ڈال کر بانہیں غریب
عید کے دن جس کو غربت میں وطن یاد آگیا
- نامعلوم

پچیسواں رنگ:

امی یہ عید کیا ہوتی ہے؟
بیٹا عید خوشی کا دن ہوتا ہے۔ اس دن خوشیاں بانٹی جاتی ہیں۔
امی ہمارے گھر کوئی خوشی بانٹنے کیوں نہیں آتا؟
بیٹا ہمارا گھر شہر کے مضافات میں ہے۔ یہاں پہنچتے پہنچتے خوشیوں کا تھیلا خالی ہوجاتا ہے۔

ہفتہ، 6 دسمبر، 2014

کراچی نامہ

پیارے بچوں! تفریق کے جس سفر پر ہم لوگ مسلسل گامزن ہیں اس کے لازمی نتیجے میں ایک دن مطالعہ پاکستان ایک اختیاری مضمون ہوجائے گا جبکہ مطالعۃِ صوبہ اور پھر مطالعہ شہر لازمی قرار دیئے جائیں گے۔ مستقبل کی اس اہم ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ہم نے ابھی سے مطالعہ کراچی پر یہ مضمون لکھ مارا ہے۔ اگر حالات اس ہی نہج پر چلتے رہے تو بہت جلد ہم مطالعہ کلفٹن، مطالعہ ناظم آباد اور مطالعہ گلشن و جوہر بھی آپ کی خدمت میں پہنچا دیں گے۔ فی الحال مطالعہ کراچی پڑھیئے اور پڑھنے کے بعد جو ملے اس کا سر دھنیئے۔


 تاریخ:


ویسے تو کراچی ہمیشہ سے تاریخ کا حصہ رہا ہے اور اگر یہی حالات رہے تو ایک دن صرف تاریخ ہی کا حصہ رہ جائے گا مگر مطبوعہ تاریخ میں کراچی کا سب سے پہلے بیان سکندر اعظم کے حوالے سے آتا ہے جو ایک عظیم یونانی بادشاہ تھے اور کسی بھی عظیم بادشاہ کی طرح بلا کے لڑاکے اور جنگجو واقع ہوئے تھے۔ آپ احباب کی سہولت کیلئے ہم یہ وضاحت کرتے چلیں کہ یہ بیان ان ہی سکندرِ اعظم کا ہے جنہیں اردو میں الیگزینڈر دا گریٹ کہتے ہیں۔ نیز آپ لوگوں کی سہولت کیلئے یہ بات بھی ضروری ہے آئندہ اگر کوئی آپ سے نئی نسل کے تشدد پسند ہونے کا شکوہ کرے تو انہیں یاد دلادیجئے گا کہ تاریخ انسانی کے کم و بیش تمام بڑے انسان وہی تھے جو نہایت غصیلے اور جنگجو واقع ہوئے تھے۔ سو اگر نئی نسل بھی اجداد کے نقشِ قدم پر چل کر پچیس تیس ہزار انسانی جانیں لیکر تاریخ کے صفحات میں امر ہونا چاہتی ہے تو اس میں قصور ان بیچاروں کا نہیں بلکہ تاریخ دانوں کا ہے۔ مگر خیر یہ تو فلسفے کی باتیں ہیں اور فلسفے کی گفتگو محض چائے کے ہوٹل یا محلے کے چوباروں پر اچھی لگتی ہے۔ مصنفین کو فلسفے جیسی مکروہات، کتب میں نقل کرنے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ سکندر اعظم کے موضوع پر واپس آتے ہوئے ہم نہایت خوشی سے یہ بیان کرنا چاہیں گے کہ کراچی میں موجود منوڑہ کا جزیرہ ہزاروں سال پہلے سکندر اعظم کی میزبانی کا شرف بھی اٹھا چکا ہے۔ مگر اس زمانے میں چونکہ یہ شہر بلوچ آبادی کی اکثریت رکھتا تھا لہٰذا سکندر اعظم نے یہاں زیادہ عرصہ قیام کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اگر کو اس وقت بھی یہاں سندھی آبادی ہوتی تو بیچارہ گھوڑوں اور خچروں کا سواری کے علاوہ بھی ایک اور استعمال سیکھ جاتا جس سے اس کے لشکر میں پھوٹ نہ پڑتی کہ سپاہیوں کو گھر کی اس حد تک یاد نہ ستاتی۔ مگر خیر، ہونی شدنی! سکندر اعظم نے منوڑہ سے کوچ کیا اور موجودہ پاکستان کے بیشتر علاقوں کو فتح کرنے اور کھیوڑہ میں نمک کی کان دریافت کرنے کے بعد بابل چلے گئے اور مرکھپ گئے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ سکندر نے صرف نمک دریافت کیا تھا، اس نمک میں آئیوڈین ہم نے خود دریافت کیا ہے لہٰذا کھیوڑہ کی آئیوڈین ملے نمک کی کانیں اب پاکستانی قوم کی دریافت کہلانی چاہیئیں۔


بعض مورخین جو کراچی کے بچپن سے ہی ملٹی نیشنل ہونے سے جلتے آئے ہیں اور اردو بولنے والوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں، نے یہ بھی لکھا ہے یہ شہر مائی کولاچی نے آباد کیا تھا جن کا تعلق پڑوسی ملک، معذرت، صوبے بلوچستان کے شہر مکران سے تھا۔ یہ بات مگر بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے کہ کراچی جیسے اردو دان شہر میں بھی کبھی چی ڑے کی صدائیں بلند ہوا کرتی ہوں گی۔ مگر بعض مورخین مائی کولاچی والے واقعے کی توجیح اس بات سے بھی پیش کرتے ہیں کہ اردو زبان میں پکوڑے کا لفظ بھی ان ہی بلوچوں سے مستعار لیا گیا تھا جو بیسن کو تل کر کھاتے تھے اور جب اسے تلنے میں دیر لگتی تو پکو ڑے پکو ڑے کے نعرے بلند کیا کرتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ہمارے اطمینان کیلئے یہ بات بہت ہے کہ مکران سے ہی سہی، مگر مائی کولاچی ہجرت کرکے اس شہر میں آئی تھیں اور اس حساب سے اس شہر کی بنیاد ایک مہاجر نے ہی رکھی تھی۔


تاریخ میں کراچی مختلف ادوار سے گزرتا رہا ہے جن میں سب سے مشہور، مغل راج، برٹش راج، پاکستانی حکومت اور پھر اس کے بعد باپ کا راج اور چوپٹ راج وغیرہ شامل رہے ہیں۔ آج کل کراچی باقی پاکستان کی طرح چوپٹ راج اور باپ کے راج والے دور سے گزر رہا ہے۔ اگر یہ مضمون آپ اردو رسم الخط میں بذات خود پڑھ رہے ہیں تو اس بارے میں مزید بیان کرنا صرف آپ کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا جبکہ اگر یہ مضمون آپ اپنے کسی بوڑھے ملازم سے پڑھوا کر سن رہے ہیں تو تسلی رکھیئے اور باپ کے راج اور چوپٹ راج کے فیوض و برکات دونو ہاتھوں سے سمیٹتے رہیئے۔


جغرافیہ:


کراچی کے مغرب میں سمندر، شمال میں پہاڑیاں (کٹی اور ثابت دونوں)، جنوب میں بے تحاشہ آبادی، اور مشرق میں بحریہ ٹائون واقع ہے۔ کراچی بنیادی طور پر ایک میدانی علاقہ ہے اور اس شہر کی زمین اور خواتین دونوں ساخت کے حساب سے ہموار واقع ہوئی ہیں۔ کراچی کے ساتھ بحیرہ عرب کا ایک وسیع ساحل موجود ہے جو شادی زدہ جوڑوں کی سہولت کیلئے رکھا گیا ہے۔ کراچی کی نوے فیصد آبادی شادی کے فوراٗ بعد رومان کو بڑھانے، جبکہ شادی کے دوسرے سال کے بعد ہر سال شریک حیات کو ڈبونے کی کوشش کرنے کیلئے ان ہی ساحلوں کا رخ کرتی ہے۔


موسم:


کراچی ایک کاسموپولیٹن اور ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں کی عوام کسی بھی قسم کی لوکل چیز پسند نہیں کرتی۔ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بائیس ملین کی آبادی کے اس شہر پر حکومت کرنے کیلئے وہ شخص امپورٹ کیا جاتا ہے جسے کراچی کے باہر کے بیس ملین رائے دہندگان نے چنا ہوتا ہے۔ امپورٹد چیزوں سے یہ محبت صرف کارِ سرکار تک محدود نہیں اور ہر ضرورتِ زندگی کی طرح کراچی میں موسم بھی دوسرے شہروں سے امپورٹ کیا جاتا ہے۔ کراچی کے موسم کے بارے میں مزید معلومات کیلئے وکی پیڈیا پر جاکر کوئٹہ کے موسم کے بارے میں پڑھ لیجئے۔


معیشت:


کراچی خطے کا سب سے بڑا معاشی حب ہے۔ مملکتِ پاکستان کا ستر فی صد ریونیو اس ہی شہر سے جمع کیا جاتا ہے۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ ستر وہ محاورے والا مبالغہ آمیز ستر نہیں ہے بلکہ قرار واقعی ملک کا ستر فی صد ریونیو اس ہی شہر سے جمع کیا جاتا ہے۔ اس ستر فی صد کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بیشتر چوہدری اینڈ سنز جن کے کھیت کھلیان سے لیکر گھربار تک ملک کے دوسرے حصوں میں واقع ہیں وہ بھی اپنا سیلز آفس کراچی میں ہی کھولتے اور اہلیانِ کراچی کے خبط عظمت میں اضافہ کرتے ہیں کہ ملک کا ستر فی صد ریونیو وہ پیدا کرتے ہیں۔


ایسا نہیں کہ کراچی میں کوئی چیز تیار نہیں ہوتی۔ کراچی میں تیار ہونے والی اشیاء میں سب سے مشہور چیز سلیم کا گٹکا ہے جو اگر برآمدگی کی اجازت پا جائے تو اکیلا ہی اربوں ڈالرز زرِمبادلہ کا باعث بنے۔ معیشت کے باب میں آخری بیان یہ کہ کراچی میں ہر دوسرا شخص پان بناتا ہے۔ اس پان کی خاص بات یہ ہے کہ اس کیلئے دکان کا ہونا ضروری نہیں، اکثر پان فروش بغیر دکان اور بغیر پان کے بھی آپ کو چونا لگا جائیں گے۔


زبان/اقوام:


کراچی ایک کثیر قومی شہر ہے جس میں سندھی، پنجابی، پٹھان، بلوچی، سرائیکی، ہزارہ، دہلوی، بہاری، لکھنوی، امروہوی، حیدرآبادی، ملیح آبادی، بدایونی، میرٹھی اور چند دیگر اقوام آباد ہیں۔ رابطے کی سب سے بڑی زبان اردو سے ملتی جلتی ہے جو پورے شہر (علاوہ افغان بستی جہاں صرف عربی اور پشتو بولی جاتی ہے) میں سمجھی جاتی ہے۔


مشہور مقامات:


کراچی شہر کے سب سے مشہور مقامات میں، پرفیوم چوک، جناح گرائونڈ، نشتر پارک اور باغِ جناح واقع ہیں۔ کسی زمانے میں قائد اعظم کا مزار اور پاکستان میوزیم بھی مشہور مقامات ہوا کرتے تھے مگر حالیہ برسوں میں یہ صرف غیر شادی شدہ جوڑوں اور حسرت کے مارے بوڑھوں میں ہی مشہور رہ گئے ہیں۔


تفریحی مقامات:


کراچی میں ہر مقام تفریحی مقام سمجھا جاتا ہے۔ آپ کسی بھی جگہ کھڑے ہوجائیں اور کسی انسان کو لٹتے ہوئے دیکھ کر جی بھر کر محظوظ ہوں، کوئی برا نہیں مانے گا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جس دن آپ کی لٹنے کی باری ہو اس دن باقی اہلیانِ شہر بھی آپ سے اس ہی وسعتِ قلبی کی امید رکھیں گے۔


شہرِ قائد:


عروس البلاد، روشنیوں کا شہر، سٹی بائے دا سی، یہ سارے وہ القابات ہیں جو اس عظیم شہر کو حاصل ہیں۔ مگر ایک خطاب ایسا بھی ہے جو ان تمام خطابات پر بھاری ہے، شہرِ قائد۔ گو اب یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس شہرِ قائد میں قائد سے مراد کون ہے۔ جی ہاں! اصل قائد وہی ہیں، باقی باتیں لوگوں کو خوش کرنے کیلئے مشہور کی گئی ہیں۔


پیارے بچوں! مجھے یقین ہے کہ اس مختصر کلام سے آپ کی تشفی نہیں ہوئی ہوگی مگر یاد رکھیئے کہ اس مضمون کو لکھنے کے مجھے کوئی پیسے نہیں ملتے لہٰذا تھوڑے کو غنیمت جانیں بلکہ احسان مانیں! فرصت کے ساتھ اس مضمون کا اگلا حصہ پھر کبھی لکھا جائے گا جس میں کراچی کے دیگر پہلوئوں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ تب تک کیلئے اجازت۔

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2014

نفسیاتی

"عجیب نفسیاتی عورت ہیں آپ۔ نجانے کون لوگ ہیں جو ممتا کے قصیدے اور مائوں کی بےپناہ محبت کے فسانے ہر وقت الاپتے رہتے ہیں۔ مجھے تو آپ سے کبھی بھی سوائے سرد مہری کے کچھ نہیں ملا۔ یا تو وہ تمام لوگ جھوٹے ہیں یا آپ میں ہی کچھ کھوٹ ہے۔ یا پھر میں آپ کا خون نہیں بلکہ لےپالک بیٹا ہوں جو کبھی بھی آپ کی الفت کا حق دار نہیں بن سکتا۔" میں آج پھر دن بھر کا غصہ امی پر چنگھاڑ کر نکال رہا تھا اور وہ روز ہی کی طرح خاموش لیٹی مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔


لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ سن اور بول نہیں سکتی تھیں؛ مگر مجھے یہ بات کسی بھی طرح ہضم نہیں ہوتی تھی۔ جس سفاکی کے ساتھ وہ میری باتوں پر مسکراتی تھیں، مجھے لگتا تھا کہ وہ سن  اور بول دونوں سکتی ہیں مگر صرف مجھے زچ کرنے کیلئے اس طرح خاموشی سے لیٹی رہتی ہیں۔


کبھی کبھی مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ ایک کھیل سمجھ کرکرتی ہیں۔  وہ چاہتی ہیں کہ میں غصہ کروں، چلائوں، اور آخر میں زچ ہوکر روپڑوں اور اس طرح وہ مجھے احساس دلائیں کہ میں اب بھی وہی چھوٹا سا بچہ ہوں جو بات بات پر ضبط کھو بیٹھتا تھا۔ جو ان کی زرا سی ناراضگی پر اس وقت تک رویا کرتا تھا جب تک وہ خود اسے اپنی ممتا کی آغوش میں نہ چھپا لیتیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں اتنا بڑا ہونے کے بعد بھی ان کے ساتھ  بچوں ہی کی طرح برتائو کروں۔ ان کے آگے پیچھے گھوموں۔ اپنی ہر ضرورت کو ان سے جوڑ کر رکھوں۔ ان کے گلے میں جھولتا رہوں۔ ان سے فرمائشیں کروں۔ ناز دکھائوں اور لاڈ اٹھوائوں۔ ان کو دیکھتے ہی پہلے جیسا بچہ بن جائوں۔ مگر امی کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہے۔ اب میں بچہ نہیں رہا ہوں! اب میں انتیس سال کا جوان ہوں۔


اور یہ چیزیں تو میں نے اس وقت بھی نہیں کی تھیں جب میں واقعتاّ بچہ تھا۔ یہ نہیں کہ مجھے ان سب چیزوں کا شوق نہیں تھا، بات صرف اتنی  تھی کہ امی بہت  سفاک عورت تھیں۔ ایک تو میرے بچپن میں ہی مرگئیں اور  دوسرا جاتے ہوئے میرا بچپن بھی اپنے ساتھ لے گئیں۔ اوراب،  پچھلے چھبیس سال کی طرح آج بھی میں ان کی قبر پر بیٹھا انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ان کی یہ خواہشات فضول ہیں اور چونکہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی وہ دنیا سے چلی گئی تھیں لہٰذا میں چاہ کر بھی ایسے انسان سے محبت نہیں کرسکتا جس کو میں نے اپنے مکمل عقل و ہوش کی حالت میں نہ دیکھا ہو یا جس کے ساتھ میں نے وقت نہ گزارا ہو۔ اور پچھلے چھبیس سال کی طرح آج بھی امی قبر میں لیٹی میری باتیں سن کر ایسے مسکرا رہی ہیں جیسے انہیں میری باتوں کا یقین ہی نہ ہو۔ عجیب نفسیاتی عورت ہیں۔

بدھ، 1 اکتوبر، 2014

زبان دراز کی ڈائری - 18

نوٹ: ذیل کی تحریر بچوں کی ایک مشہور لوک کہانی سے ماخوذ ہے اور کسی بھی اتفاقیہ مماثلت کی صورت میں مصنف ذمہ دار نہیں ہوگا۔


!پیاری ڈائری


تمہیں پچھلی بار ہی بتادیا تھا کہ دادی گھر آئی ہوئی ہیں اور مصروفیات بے تحاشہ ہیں لہٰذا اس بار غیر حاضری کی معافی نہیں مانگوں گا۔ دادی پندرہ دن رہ کر گئیں اور یہ پندرہ دن کس طرح گزر گئے پتہ ہی نہیں چلا۔ اچھے وقت کی سب سے بری بات یہ ہوتی ہے کہ یہ بہت جلدی گزر جاتا ہے۔ یا شاید وقت کی رفتار  ہمیشہ یکساں رہتی ہے مگر حالات کے اعتبار سے ہمارے لیئے کبھی لمحے بھی صدیاں بن جاتے ہیں اور کبھی صدیاں بھی لمحوں کی طرح گزر جاتی ہیں۔ خیر یہ تو ایک فلسفیانہ گفتگو ہے اور تم جانتی ہو کہ اس ملک میں ہم فلسفیوں کو پاگلوں کی ہی ایک قسم  گردانتے ہیں لہٰذا مزید فلسفے سے گریز کرتا ہوا میں دن بھر کی روداد پر آجاتا ہوں۔


دادی نے آج صبح جانا تھا مگر ہم سب کل سے ہی اداس ہوکر بیٹھ گئے تھے۔ دادی کی محبت بھری جھڑکیاں، ہمارا بےتحاشہ خیال رکھنا، اور سب سے بڑھ کر روزانہ ایک نئی کہانی سنانا، یہ سب چیزیں دادی کے اگلی مرتبہ گھر آنے تک ہم سے چھن جانی ہیں اور یہ خیال ہم سب بہن بھائیوں کو بری طرح بےچین کر رہا تھا۔ کافی دیر ضبط کرنے کی کوشش کرنے کے بعد بالآخر میں نے دادی کی گود میں سر رکھ دیا اور پھوٹ بہا۔ دادی نے مسکراتے ہوئے میرے آنسو پونچھے اور یاد دلایا کہ خاندان کے باقی بچوں کا بھی ان پر اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا، لہٰذا ہمیں اپنے حصے کو غنیمت جانتے ہوئے ایثار سے کام لینا چاہیئے ورنہ ہمارا حال بھی ان بندروں جیسا ہی ہونا ہے جنہوں نے شدید بھوک کے عالم میں بھی زیادہ کے لالچ میں چنے ٹھکرا دیئے تھے۔ میں نے بندروں کی یہ کہانی پہلے نہیں سنی تھی تو دادی نے مجھے سمجھانے اور خوش کرنے کیلئے بندروں کی وہ کہانی سنا دی۔


دادی کا کہنا تھا کہ کسی جنگل میں دو بندر بھوکے گھوم رہے تھے۔ بیچاروں نے کئی دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ جنگل میں موجود تیسرے بندر نے جب ان بندروں اور ان کی مجبوری کو دیکھا تو اسے بڑا ترس آیا۔ ترس سے زیادہ اسے یہ ڈر تھا کہ اگر یہ بندر یہاں رزق کی تلاش میں روز آنے لگے تو جنگل میں اس کی یکطرفہ حکومت ختم ہوجائے گی اور اسے ان بندروں کو بھی اپنے کھانے میں سے حصہ دینا پڑے گا۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنے گھر میں موجود بھنے ہوئے چنے اٹھائے اور ان بندروں کے پاس جاپہنچا۔ اس نے اپنے پاس موجود چنوں کی چھ میں سے پانچ  ڈھیریاں ان دونوں بندروں کو پیش کردیں کہ وہ چاہیں تو ان سے اپنی بھوک مٹا لیں۔ بندر بھوکے تو بہت تھے مگر دونوں ہی بلا کے خوش فہم اور بےوقوف بھی تھے۔ ان دونوں نے سوچا کہ جب یہ پانچ ڈھیریاں دینے پر تیار ہوگیا ہے تو ذرا سا رعب اور جذبانی دبائو ڈال کر چھٹی ڈھیری بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔


ان دونوں نے اس تیسرے بندر کو غصے دیکھا اور چنے اٹھا کر زمین پر پھینکتے ہوئے بولے، ہم بھوکے ہیں مگر ہماری رگوں میں بادشاہ بندر کا خون دوڑ رہا ہے۔ ابھی اتنا برا وقت نہیں آیا کہ ہم تمہارا احسان لیں اور یہ بھنے ہوئے چنے کھائیں! بادشاہ زادے اب یہ چنے کھائیں گے؟ ویسے بھی اگر دینے ہی ہیں تو ہمیں چنے کی تمام چھ ڈھیریاں دو تاکہ ہم برابری کی بنیاد پر آپس میں بانٹ سکیں! ورنہ ہم تھوکتے ہیں ان چنوں پر۔


بندر نے حیرت سے ان کی شکل دیکھی اور انہیں سمجھایا کہ اس وقت چنوں کی ضرورت اس سے زیادہ ان دونوں کو ہے۔ اور اگر اس نے چھٹی ڈھیری بھی ان کو دے دی تو وہ خود کیا کھائے گا؟ اب اس بات پر بندروں کی بحث شروع ہوگئی۔ دونوں میں سے کوئی ایک بھی اپنے اصولی موقف سے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔ جنگل کے دوسرے جانوروں نے بیچ بچائو کرانے کی کوشش بھی کی مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ بندروں کے مابین یہ بحث پچاس منٹ تک جاری رہی اور آخر میں وہ دونوں  بندر ان چنوں پر تھوک کر، کچھ اور کھانے کی تلاش میں آگے بڑھ گئے۔


خدا تعالٰی کو ضد اور ہٹ دھرمی کبھی بھی پسند نہیں رہی، چاہے وہ کوئی بھی مخلوق کرے۔ ان ضدی بندروں کو ان کے کیئے کی سزا یہ ملی کہ پورا دن کھانے کی تلاش میں گھومنے کے باوجود انہیں کچھ بھی کھانے کو نہیں ملا۔ جنگل کے جس درخت پر پھل دکھتا اس پر پہلے سے کوئی اور جانور قبضہ کرکے بیٹھا ہوتا اور اگر اتفاق سے کوئی درخت خالی مل بھی جاتا تو اس کا پھل اتنا کسیلا اور زہریلا ہوتا کے وہ ایک لقمہ بھی نہیں لے پاتے۔ پورا دن جنگل میں گھومنے کے بعد بھوک اور تھکن سے نڈھال یہ دونوں بندر بالآخر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ روتے روتے ان کی نظر کچھ ہی فاصلے پر پڑے ان چنوں پر گئی جنہیں ٹھکرا کر وہ صبح یہاں سے آگے چلے گئے تھے۔ بھوک کے عالم میں یہ چنے جنت کے کسی میوے سے کم نہیں تھے۔ بندروں نے چاہا کہ بڑھ کر ان چنوں کو اٹھا لیں مگر پھر یاد آگیا کہ صبح وہ ان ہی چنوں پر تھوک کر آگے بڑھ گئے تھے۔ اب اگر کوئی ان دونوں کو یہ چنے کھاتا دیکھ لیتا تو وہ دونوں شرم کے مارے دوبارہ اس جنگل میں قدم رکھنے کے قابل نہیں رہتے۔


دونوں بندر حسرت سے ان چنوں کو دیکھنے اور اس وقت کو کوسنے لگے جب جذبات اور مزید پانے کے لالچ میں انہوں نے ان چنوں کو ٹھکرا دیا تھا۔ شدید بھوک کے عالم میں کھانا سامنے دیکھ کر ان بندروں کی وہی حالت تھی جو کسی ترقی پذیر ملک میں کئی سال اپوزیشن کرنے کے بعد حکومت میں آنے والی جماعت کی ملکی خزانے کو دیکھ کر ہوتی ہے۔


جب برداشت بالکل جواب دے گئی تو ان میں سے ایک بندر اٹھا اور ان چنوں کے پاس پہنچ گیا جو زمین پر اب تک بکھرے ہوئے تھے۔ اس کا دیکھا دیکھی دوسرا بندر بھی خاموشی سے اس کے برابر میں آکر کھڑا ہوگیا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ بندر بھوکے تھے اور چنے سامنے موجود تھے، مگر دونوں میں سے کوئی ایک بندر بھی پہلا چنا کھانے کی خفت اٹھانے کو تیار نہ تھا۔ کافی دیر اس ہی طرح گزر گئی تو بڑا بندر چنے کی ایک ڈھیری اٹھاتے ہوئے بولا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے اس والی ڈھیری پر نہیں تھوکا تھا۔ دوسرے بندر نے بھی فورا ایک ڈھیری اٹھائی اور بولا، یہ والی تو ویسے بھی دور جاکر گری تھی سو اس پر تو تھوکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پہلے بندر نے اب کی بار ایک ساتھ دو ڈھیریاں اٹھائیں اور انہیں منہ میں رکھتے ہوئے بولا، اور یہ تو بالکل خشک ہیں جیسے ان پر کبھی کوئی گیلی چیز پڑی ہی نہ ہو۔


ایک ایک کرکے تاویلات آتی گئیں اور ڈھیریاں کم ہوتی چلی گئیں۔ چند ہی لمحوں میں بندروں نے وہ پانچوں ڈھیریاں چٹ کرڈالیں جن پر کچھ وقت پہلے وہ خود تھوک کر آگے بڑھ گئے تھے۔ بھوک تو مٹ گئی مگر بندروں نے اس دن یہ سبق سیکھ لیا کہ عزت اس ہی بات میں ہے کہ اگر بھوک شدت اختیار کرجائے تو جتنا ملے اس کو غنیمت جان کر آگے بڑھ جانا چاہیئے۔ اگر  چھ میں سے پانچ ڈھیریاں اپنی مرضی کی مل رہی ہوں اور پھر بھی بندر ضد پر اڑے رہیں تو چھٹی ڈھیری کے چکر میں یا تو بندر پہلی پانچ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا بالآخر اپنا ہی تھوکا چاٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ دادی نے یہ کہہ کر کہانی ختم کی اور میرا ماتھا چوم کر سونے چلی گئیں۔


 صبح سو کر اٹھا تو پتہ چلا کہ دادی تایا ابو کے گھر کیلئے نکل گئی ہیں۔ دادی کے جانے کے بعد گھر میں اب کرنے کو کچھ ہے نہیں سو صبح سے بیٹھا یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ بندر والی کہانی میں نے چند ہی دن پہلے ٹیلیویژن کے کسی ڈرامے میں بھی دیکھی ہوئی ہے۔ ڈرامے کا نام یاد نہیں آرہا مگر جیسے ہی یاد آیا تو ضرور بتائوں گا۔ تب تک کیلئے اجازت۔


،تمہارا


زبان دراز

بلاگ فالوورز

آمدورفت