Media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 30 اگست، 2014

مریض

میرا نام عاطف علی ہے اور میں ایک مریض ہوں۔ میرا مرض عام لوگوں جیسا نہیں جس میں مریض خود تڑپتا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر ترس کھاتے ہیں۔ میرے مرض میں لوگ میری بیماری کی وجہ سے تکلیف سے تڑپتے ہیں اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

میں شروع سے ایسا نہیں تھا۔ اکیس سال کی عمر تک میں بھی آپ جیسا ایک عام سا ہی انسان تھا جو روزانہ صبح اٹھ کر ایک خاص عادمی کی نوکری کرتا تھا اور پھر پورا دن سہانے مستقبل کے خواب دیکھتا ہوا رات گئے اپنے ادھاروں کی گنتی کرتے ہوئے سو جاتا تھا۔ زندگی نے عجیب موڑ اس وقت لیا جب میں نے حب الوطنی کے کسی جرثومے کے زیرِاثر اپنی کمپنی کے ٹیکس کے گھپلوں کی رپورٹ ایک اخباری روزنامے کو بھجوادی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اس روزنامے کا مالک خود بھی ایک خاص آدمی اور ہماری کمپنی کے مالک کا دوست نکلے گا۔ رپورٹ گھوم کر واپس کمپنی میں پہنچ گئی اور میں گھما کر واپس گھر بھیج دیا گیا۔

بیروزگاری کے یہ دن شدید اذیت ناک تھے۔ جس ادارے میں بھی نوکری کیلئے جاتا وہاں یہ خبر پہلے سے پہنچ جاتی کہ اس لڑکے کو ایمانداری کی جان لیوا بیماری ہے۔ کمپنیز کو لگتا تھا کہ یہ چھوت کی بیماری ہے اور پھیل سکتی ہے لہٰذا کوئی بھی اب مجھے نوکری دینے کیلئے تیار نہ تھا۔ تین ماہ کی بیروزگاری میں جتنی بھی ایمانداری تھی وہ مناسب راستہ دیکھ کر جسم سے باہر نکل گئی تھی۔ اب میں چوری، ڈکیتی اور اجرت پر قتل تک کرنے کو تیار تھا مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ بد اچھا بدنام برا۔ شہر کے سارے چور اور ڈکیت مجھے پہچانتے تھے اور کوئی بھی مجھے گروہ میں شامل کرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھا کہ کیا پتہ کب پرانے جراثیم جاگ جائیں اور میں اپنے ساتھ انہیں بھی لے ڈوبوں۔

بیروزگاری کے ان تین ماہ میں میرے اندر ایک اور بہت بڑی تبدیلی آئی تھی۔ میں اب بلاتھکان اور بغیر سوچے سمجھے بولنا شروع ہوگیا تھا۔ مجھے احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں، کس سے بول رہا ہوں اور کیوں بول رہا ہوں؟ جو منہ میں آتا تھا بک دیتا تھا۔ لوگ اب مجھ سے ڈرنا شروع ہوگئے تھے۔ ان بیچاروں کو اب مجبوری میں میری عزت کرنی پڑتی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ اگر ایسا نہ کیا تو میں کہیں بھی کھڑا ہوکر ان کے بارے میں کچھ بھی بولنا شروع کردوں گا اور پھر ان کی ساری عمر اس کی وضاحت میں گزر جائے گی کہ معاملہ ایسا نہیں ایسا تھا۔ معاشرے کی یہ خوبی کہ اگلے سے منسوب ہر اچھائی کے بخیے ادھیڑ دو اور ہر برائی کو من و عن تسلیم کرلو، میرے بہت کام آرہی تھی۔

اب مجھے نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ میری ضروریات کا خیال رکھنے کیلئے محلے والے موجود تھے۔ جس کسی کو بھی کسی غریب سے دشمنی نکالنی ہوتی تھی وہ میرے گھر کچھ نذرانہ لیکر پہنچ جاتا اور میں ایک کے چار بنا کر اگلے دن محلے میں اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ دیتا تھا۔ زندگی اب سکون سے گزر رہی تھی مگر محلے والوں کو احساس ہوگیا کہ ایک ایک کرکے میرے ہاتھوں وہ سب ہی ذلیل ہورہے ہیں۔ محلہ کمیٹی کا اجلاس بیٹھا اور سب نے سر جوڑ کر بالآخر حل یہ نکالا کہ میری اس بیماری کا علاج کروایا جائے ورنہ میری بیماری کی وجہ سے بہت جلد محلے میں طلاقیں شروع ہوجائیں گی۔

اب میرے علاج کا مرحلہ شروع ہوا جس کا خرچہ محلے والوں نے بخوشی اٹھانے کا اعلان کردیا۔ خدا جانے کتنے حکیم، وید اور ڈاکٹر تھے جن کے پاس مجھے بھیجا گیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ طب یونانی سے لیکر طب مشرقی اور ایلوپیتھک سے لیکر ہومیو پیتھک تک کون سا طریقہ علاج تھا جو آزمایا نہ گیا ہو مگر میرا وہی حال تھا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ ان تمام روائتی طریقوں سے تنگ آکر پھر بابوں اور پیر فقیروں کا سلسلہ شروع ہوا مگر الحمدللہ میں جہاں بھی گیا وہاں موجود پیر کو اپنا مرید ہی بنا کر اٹھا۔ مجھے خود بھی اب اس سارے کھیل سے لطف آنے لگا تھا۔ محلے کا واحد بیروزگار ہونے کے باوجود محلے کا سب سے شاہانہ طرزِ زندگی میرا تھا۔ محلے والے اس حقیقت کو جانتے تھے مگر مجبور تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھی میرے علاج سے مایوس ہوگئے تھے۔ پھر ایک دن پتہ چلا کہ اخلاق صاحب نے جو محلہ کمیٹی کے سربراہ بھی تھے، ہمالیہ کی چوٹیوں پر موجود ایک سادھو کا پتہ لگایا ہے جو ہر اس بیماری کا علاج جانتا ہے جس کا علاج دنیا میں کہیں اور ممکن نہیں۔ چار دن کے بعد میں ہمالیہ کے برفاب پہاڑوں پر ان بابا کے سامنے بیٹھا تھا۔

اس سے پہلے کہ بابا مجھ سے کچھ پوچھتے اور کہتے میں ہمالیہ کی پگھلتی ہوئی برف اور انسانی آبادی کے اس پہاڑ پر اثرات کے سلسلے میں اپنی تقریر شروع کرچکا تھا۔ کوئی سات منٹ تک میں نے ان بابا کو ایران توران کے قصے سنائے اور تحقیق سے ثابت کیا کہ کس طرح وہ بابا اور انسانیت کے مسیحا کہلانے کے باوجود دراصل انسانیت کے مجرم ہیں۔ بابا خاموشی سے میری بات سنتے رہے اور جب میں سانس لینے کیلئے رکا تو انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کمال محبت سے میرے منہ پر ٹیپ لگادی۔ میں حیرانی سے ان کی شکل دیکھ رہا تھا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ انہوں نے میرے گال پر رسید کیا اور دھیمے لہجے میں گویا ہوئے کہ، ابے سالے! تیرے جیسوں کو میں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں۔ تیری یہ بیماری کوئی نئی نہیں بلکہ اولین انسانوں کے اندر بھی اس بیماری کے جراثیم پائے گئے تھے۔ یہ کل کے لونڈے جو ڈاکٹر بنے پھرتے ہیں اگر تاریخ انسانی اور نفسیات بھی پڑھ لیتے تو تجھے ہمالیہ تک ذلیل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ چل اب منہ پر سے ٹیپ ہٹا اور مزید سن۔ طب نے بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی تیری اس بیماری کی صرف دو قسمیں دریافت کی ہیں جو خونی اور بادی کہلاتی ہیں جبکہ تجھے اس بیماری کی تیسری اور سب سے خطرناک قسم لاحق ہے جسے ہزاروں سال پہلے ہمارے بزرگوں نے "منہ کے بواسیر" سے تعبیر کیا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ بیماری ہنوز ناقابل علاج  ہے۔ البتہ اگر تو چاہتا ہے کہ معاشرے میں تیری کھوئی ہوئی عزت دوبارہ بحال ہوجائے تو اپنا یہ منحوس کان میرے قریب لا اور میری بات سن۔ بابا نے اس کے بعد جو حل مجھے بتایا وہ یقینا قابل عمل بھی تھا ور کارآمد بھی۔ میں خوشی خوشی بابا کے پاس سے اٹھ کر واپس کراچی آگیا۔ مجھے اپنی بیماری کا حل معلوم ہوگیا تھا۔

میرا نام عاطف علی ہے اور آپ نے بالکل درست پہچانا، میں اب ایک مشہور ٹیلیویژن چینل پر دن میں مارننگ شو اور رات کو حالات حاظرہ کا پروگرام کرتا ہوں۔

جمعہ، 16 مئی، 2014

بھائی جلیل کا کتا ۔۔۔۔

(اس کہانی کے تمام نام، مقام اور کردار فرضی ہیں۔ کسی بھی کردار سے مماثلت محض اتفاقیہ یا آپ کی نیت کا فتور ہوسکتی ہے)۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گائوں میں انسان جانوروں اور جانور انسانوں کی ذبان سمجھ لیتے تھے۔ چھوٹا سا گائوں تھا اور سادہ سے لوگ۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش ہونے والے اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے والے۔ امیر اور غریب کے مابین کوئی خاص فرق نہیں ہوتا تھا اور امراء کی بھی کوشش ہوتی تھی کے بےجا ریاکاری سے پرہیز کیا جائے کہ اس سے ان کے غریب بھائیوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ سب کی زندگی بہت  سکون سے گذر رہی تھی کہ ایک دن گائوں کے چوہدری صاحب نے ایک انگریزی بولنے والا کتا پال لیا۔ گائوں والوں نے پوچھا کہ بھلا اس کی کیا ضرورت؟ تس پہ چوہدری صاحب نے فرمایا کہ ہر گائوں میں اس ہی طرح ایک کتا پالا جاتا ہے جس کا کام ادھر ادھر کی تمام خبریں اکٹھا کرنا اور پھر سب کو بتانا ہوتا ہے۔ گائوں والے بہت خوش ہوئے اور اس کتے کو اپنا لیا۔ اب کتا گائوں میں رہنے لگا اور دن بھر کی خبریں بھی سنانے لگا، مگر المیہ یہ تھا کہ یہ کتا خبریں انگریزی میں سناتا تھا اور گائوں میں صرف دو افراد کو انگریزی آتی تھی۔ گائوں والوں کے اندر پروان چڑھتے اس احساس محرومی کو دیکھ کر بھائی جلیل نے چوہدری صاحب سے اجازت طلب کی اور ایک اردو بولنے والا کتا بھی لے آئے۔ یہ نیا آنے والا کتا بے حد مرنجاں مرنج اور ملنسار واقع ہوا تھا۔ بغیر لگی لپٹی رکھے سچ سچ ہر بات گائوں والوں کو آکر بتا دیتا تھا۔ گائوں والے بھی اس کتے سے بہت خوش تھے کہ اب انہیں ارد گرد کی تمام اہم خبریں گھر بیٹھے مل جایا کرتی تھیں۔ کچھ عرصے میں چوہدری صاحب کا انتقال ہوگیا سو اب انکے انگریزی کتے کی کوئی خاص وقعت نہیں رہ گئی۔ چوہدری صاحب کا نام جڑا ہونے کی وجہ سے آج بھی لوگ دو چار ہڈیاں تو ڈال دیتے تھے مگر بھائی جلیل کے کتے کے آگے اب اس انگریزی کتے کی، کتے والی اوقات رہ گئی تھی۔ ادھر بھائی جلیل کے کتے نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ پر پرزے نکالنا شروع کردیے۔ اس کتے کو معلوم ہوگیا تھا کہ گائوں والے اب آپس کی بات سے زیادہ اس کی دی ہوئی خبر پر اعتبار کرتے ہیں۔ ہر شخص چاہتا تھا کہ اس کی خبر مثبت پہلو سے سامنے لائی جائے لہٰذا بھائی جلیل نے اب اس خدمت کو کاروبار بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کتا پالنا ایک محنت طلب کام ہے اور اس میں اخراجات بہت زیادہ ہیں اور وہ یہ سارے اخراجات اپنی جیب سے ادا نہیں کر سکتے۔ سو جن لوگوں کو اپنی خبریں دوسروں تک پہنچانی ہیں وہ اس کتے کے اخراجات میں بھی حصہ ڈالیں۔ کچھ لوگوں کو اس بات پر شدید اعتراض ہوا۔ انہوں نے بھائی جلیل کو کہا کہ کسی نے ان سے ہاتھ جوڑ کر درخواست نہیں کی تھی کہ اس کتے کو پالیں اور اگر وہ اس کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو اسے چوہدری کے حوالے کردیں جو بغیر کسی سے پیسے مانگے مفت میں یہ خبریں دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ اور ویسے بھی جب بھی یہ کتا کسی کو خبر سنانے پہنچتا تو ہڈی لیئے بغیر تو منہ کھولتا بھی نہیں ہے؟ تو مزید کس بات کا خرچہ؟ بھائی جلیل نے یہ باتیں ٹھنڈے دماغ سے سنیں اور اگلے دن ہی بھائی جلیل کے کتے نے ان کتوں کی اصلیت پورے گائوں پر کھول دی کہ وہ لوگ کس طرح پڑوسی گائوں والوں سے پیسے لے کر اس گائوں میں تفرقہ پھیلا رہے ہیں۔ ان سب غداروں کو اس ہی وقت گائوں سے نکال دیا گیا اور بھائی جلیل اور ان کے کتے کی اس عظیم ملی خدمت پر انہیں گائوں کا ایک بزرگ اور اہم ترین ستون مان لیا گیا۔ بھائی جلیل اور ان کے کتے کی یہ عزت بہت سارے لوگوں کو برداشت نہیں ہوئی اور انہوں نے اپنے اپنے کتے پالنے کی کوشش بھی کی مگر بھائی جلیل کے کتے کے آگے کسی کی ایک نہ چلی۔ کچھ بھوکے مر گئے اور باقی کو گائوں چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

بھائی جلیل نے وقت کے ساتھ ساتھ یہ چیز سیکھ لی تھی کہ چوہدری کوئی بھی ہو مگر گائوں کا اصل مالک مکھیا ہی ہے۔ انہوں نے شروع دن سے ہی مکھیا سے بنا کر رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ زندگی بہت خوبصورت تھی اور اب تو ان کے کتے نے بچے بھی دے دیئے تھے۔ ان کتے کے بچوں کے آنے سے بھائی جلیل مزید خوشحال ہوگئے تھے۔ اب ان کتے کے بچوں کی مختلف ڈیوٹیاں لگا دی گئی تھیں۔ کوئی صبح کی خبریں سناتا تھا تو کوئی شام کی ۔۔۔ کسی کا نام ہفت روزہ رکھ کر اسے ہفتے بھر کا منجن ایک ساتھ بیچنے پر لگادیا گیا تو کسی کو ماہنامہ کہہ کر مہینے بھر کی ساری تکالیف کو دوبارہ یاد دلانے پر لگا دیا۔

بھرپور زندگی گذارنے کے بعد بھائی جلیل کا ایک دن انتقال ہوگیا۔ کتا مگر دن بدن جوان اور طاقتور ہوتا جا رہا تھا۔ اب وہ بھائی جلیل کے بیٹے بھائی کفیل کیلئے کام کر رہا تھا۔ بیٹے باپ کی طرح موسم شناس نہ تھے مگر موقع پرست ضرور تھے۔ کتوں کا کاروبار دن بدن ترقی پذیر تھا جبکہ اس دوران گائوں کے چوہدری سے ہونے والی شدید لڑائی میں ایک آدھ بار کتے کے گائوں میں داخلے پر پابندی بھی لگی مگر کتا ہر مشکل سے مزید طاقتور ہوکر نکلتا گیا۔ چوہدری اور مکھیا کے کھیل میں ایک بار پھر مکھیا جیتا اور اس بار کتے کو خبریں جدید طریقے سے پہنچانے کا لائسنس بھی مل گیا۔ اب کتے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کی طاقت میں دن بدن اضافہ ہورہا تھا۔ اب گائوں میں 19 یا بیس کتے آچکے تھے مگر کوئی کتا بھی بھائی کفیل کے کتے کے مقابلے کا نہیں تھا۔ اِدھر گائوں کے کتوں نے بھی یہ بات سمجھ لی تھی کہ اگر گائوں میں عزت سے رہنا ہے تو اس سب سے بڑے کتے سے بنا کر رکھنی ہے۔ ادھر یہ سب سے بڑا کتا بھی جب دل کرتا کسی چھوٹے کتے کو پکڑ کر رگید دیتا اور بھنبھوڑنے کے دوران بڑے لاڈ سے اسے کہتا کہ "دے پپی" اور وہ غریب اپنی گد بنواتے ہوئے مجبوراٗ گردن موڑ کر بھائی کفیل کے کتے کو پپی بھی عنایت کرتا۔ بھائی کفیل

کا کتا اب ان گلی کے چھوٹے چھوٹے کتوں سے تنگ آچکا تھا۔ اسے اب وہ بورنگ لگتے تھے۔ اس بوریت سے تنگ آکر اور کچھ شرارت میں ایک دن بھائی کفیل کے کتے نے پلٹ کر مکھیا کے بیٹے کو کاٹ لیا اور وہاں سے بھاگ نکلا۔ بھائی کفیل کو جب پتہ چلا تو اپنے لاڈلے کی اس معصوم شرارت پر خوب ہنسے۔ وہ سمجھے تھے کہ ہر بار کی طرح مکھیا ان کی بات نہیں ٹالے گا اور ان کے لاڈلے سے درگزر کرے گا مگر وہ بھول بیٹھے تھے کے اس بار بات مکھیا کے اپنے بیٹے کی تھی۔ مکھیا نے گائوں کے باقی تمام کتوں کو جمع کیا اور اس شام سے ہی سارے کتے بھائی کفیل کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور بھونکنا شروع ہوگئے۔ شور سن کر بھائی کفیل کا کتا بھی باہر نکلا مگر تمام کتوں کو دیکھ کر جھٹ سے گھر کے اندر واپس گھس آیا۔ آج پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ تمام کتے کسی بات پر اکٹھے تھے اور وہ سارے آج اس سب سے بڑے کتے سے انتقام لینے کیلئے بےچین تھے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ بھائی کفیل کا کتا گھر سے بیٹھ کر بھونک رہا تھا اور باقی تمام کتے گائوں کے گھر گھر جاکر اس کے بارے میں بھونک رہے تھے۔ بھائی کفیل کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ گائوں کے تمام کتوں کو ہوا کیا ہے۔ ادھر مکھیا نے بھائی رزاق کو بلایا اور ان سے وعدہ کرلیا کہ وہ اگر اپنے کتے کے ذریعے بھائی کفیل کے کتے کو مروادے تو گائوں بھر سے جتنا گوشت بھائی کفیل کے گھر جاتا ہے وہ ان باقی کتا مالکان میں تقسیم ہوجائے گا۔ بھائی رزاق نے تمام کتا مالکان کو جمع کیا اور ایک سنگل پوائنٹ ایجنڈا منظور ہوا جسے "مشن کدو کٹے گا تو سب میں بٹے گا" کا نام دے دیا گیا۔

گائوں کے تمام کتے مل کر بھونک ہی رہے تھے مگر بھائی کفیل کا کتا اتنا پرانا اور مضبوط تھا کہ وہ برابر سے ان تمام کتوں کا مقابلہ کر رہا تھا۔ پچھلے بیس بائیس دن سے یہ محاصرہ اور مقابلہ جاری تھا اور اب گائوں والے بھی اس لڑائی سے بور ہو کر اس کے منطقی انجام کے منتظر تھے۔ ایک دن صبح صبح بھائی رزاق کے کتے نے عجیب منظر دیکھا کہ بھائی کفیل کا کتا مولوی صاحب کے گذرتے وقت بھونک رہا ہے۔ گائوں میں سے کسی نے اس بات کا نوٹس تک نہیں لیا کیوںکہ وہ سب ویسے ہی اپنے معمولات میں مگن اور مکھیا کی مہم کے بعد بھائی کفیل کے کتے سے ناراض تھے۔ بھائی رزاق کے کتے نے سب گائوں والوں کو جمع کیا اور مولوی صاحب پر دوبارہ بھونک بھونک کر لوگوں کو بتایا کہ بھائی کفیل کے کتے نے کس طرح ان پر بھونکنے کی گستاخی کی ہے۔ چونکہ مکھیا کا دست شفقت اب بھائی رزاق کے کتے پر تھا تو تمام گائوں والوں کو نہ صرف اس توہین کا یقین آگیا بلکہ انہیں یہ شعور بھی آگیا کہ بھائی رزاق کا کتا یہ حرکت صرف انہیں بتانے کیلئے کر رہا ہے اور اس کے اس طرح بھونکار دہرانے کے پیچھے مقصد صرف عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔

بھائی کفیل کے کتے کو مکھیا کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے یہ سزا سنائی گئی کہ صرف یہ والا کتا ناپاک جانور ہے لہٰذا اس سے ملنا، دیکھنا، سننا سب  حرام  ہے اور سزا کے طور پر جب تک مکھیا کو یقین نہ ہوجائے کہ یہ کتا سدھر گیا ہے اسے باقی کتوں کے آگے ڈال دیا جائے کہ وہ جو چاہے مناسب سلوک کریں۔ یہ فیصلہ آنا تھا کہ تمام کتے "کدو کٹے گا تو سب میں بٹے گا" کا نعرہ لگا کر اس بڑے کتے پر پل پڑے۔ تمام کتے اپنی اپنی اوقات کے مطابق اسے بھنبھوڑنے میں مصروف تھے کہ بھائی رزاق کے کتے نے لاڈ سے صدا لگائی ۔۔۔۔ پپی دے نا ۔۔۔۔ بھائی کفیل کا کتا سر جھکا کر بولا ۔۔۔۔

گردن مڑ رہی ہوتی تو تیری ۔۔۔۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت