Fiction لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Fiction لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 7 ستمبر، 2018

زبان دراز کی ڈائری - 3

 سب سے پہلے تو اس طویل غیر حاضری کی معذرت کہ ہمارے ہمسائے جناب حاجی مسلمان احمد نمازی و روزوی و زکٰوتی صاحب کے سلسلہ میں کچھ ایسی مصروفیت رہی کے لکھنے  لکھانے کا وقت ہی نہیں مل سکا۔ حاجی صاحب کے نام سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ جناب کس حد کے متقی اور عبادت گزار تھے۔ امت مسلمہ کا جتنا درد ان کے دل میں تھا، اگر کسی عام انسان کے ہوتا تو اب تک اٹھارہ بیس ہارٹ اٹیک کھا کر مر چکا ہوتا، مگر حاجی صاحب کو خدا نے کمال کے ضبط سے نوازا تھا۔ مسلمانوں کے مسائل کا درد رکھنے کی ایک اور مثال یہ بھی ہے کہ اگر آپ ان کے ساتھ دس منٹ بات کر لیں تو انشاءاللہ آپ کے بھی سر میں بھی درد ہو جائے گا۔ کسی کم فہم اور پکے جہنمی نے ایک دفعہ ان سے اس درد کا ذکر کیا تو آپ نے کمال ضبط و محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا گال سہلایا جسے بعد میں محلے کے یہودی ایجنٹوں نے تھپڑ کا نام دے دیا۔ مگر حاجی صاحب ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے ہرگز نہیں تھے سو اس اعلائے کلمۃ حق کا کام اس ہی خیر و خوبی سے جاری رکھا۔ 
بحث اور مناظرے میں حاجی صاحب یدِ طولٰی رکھتے تھے۔ ایک دفعہ میرے منہ سے غلطی سے نکل گیا کہ حاجی صاحب، مانا کہ اسلام دینِ حق ہے اور مسلمان آج بھی بہت سی اقوامِ دیگر سے بہتر ہیں مگر یہ کیا کہ صرف رٹو توتے کی طرح عربی کے چند لفظ رٹ کر صبح شام دہرانا اور یہ امید رکھنا کہ اس سے دنیا و آخرت سنور جائے گی؟ قرآن سمجھنے کی کتاب ہے نہ کے رٹنے کی، اور ویسے بھی مسلمان صاحبِ عزت صرف تب تک تھے جب تک تحقیق کے میدان میں آگے تھے آج اگر کفار خلقِ خدا کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے تو اللہ بھی عزت اسے ہی دے گا جو اس کی مخلوق کے کام آئے۔ جذبات کی رو میں بہک کر ہم بول تو گئے مگر ہم بھول گئے تھے کہ حاجی صاحب جب دلیل سے جواب دینے کے موڈ میں نہ ہوں تو اللہ کے دیئے ہوئے ہاتھ پیروں کا استعمال مباح سمجھتے تھے۔ پانچ منٹ بعد ہم زمین پر بے سدھ پڑے تھے اور حاجی صاحب فرما رہے تھے کہ دیکھو حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے اور تمہارا اس طرح زمین پر پڑا ہونا میرے غالب آنے اور برحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ مزید بحث کی نہ تاب تھی نہ گنجائش۔
پچھلے ہفتے امت مسلمہ کا درد رنگ لے آیا اور حاجی صاحب کو شہر کے مشہور امراضِ قلب کے ہسپتال لے کر بھاگنا پڑا کے دل کا دورہ بہت شدید تھا۔ ہسپتال میں داخل  رہے اور اس کافر نرس کو مسلمان کرنے کی کوشش کرتے رہے جو سوئے قسمت ان کی ڈیوٹی پر مامور تھی۔  ڈاکٹروں نے بتایا کے انجیو پلاسٹی ہوگی- نقاہت سے مجھ سے پوچھا یہ کیا ہوتی ہے؟ میں نے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں یہ اب بہت معمول کی چیز ہے۔ آپ کے جسم میں ایک سوئی جتنا سوراخ ہوگا اور اس کے زریعے جسم کی بند شریانوں کو کھول دیا جائے گا۔ ایک دم سے چہک اٹھے، آپ بڑے گن گاتے تھے نہ ان یہود و نصارا کے! دیکھیں جابر بن حیان کے انسانیت پر احسانات! سبحان اللہ ۔۔۔ ماشاءاللہ ۔۔۔۔ جزاک اللہ ۔۔۔ کیا اعلٰی چیز بنا گئے ہیں، خدا ان کو جوارِ رحمت میں جگہ دے! بھئی جابر بن حیان کے لیئے فاتحہ ہو جائے۔ جب ہم فاتحہ پڑھ کر فارٖغ ہوئے تو اس تقریباٗ یہودی ڈاکٹر نے منہ بنا کر کہا کہ یہ جابر بن حیان کی ایجاد نہیں۔ حاجی صاحب مسکرا کر بولے، شک تو مجھے بھی تھا۔ یہ البیرونی کا کام ہوگا! نہیں؟ ڈاکٹر نے سر ہلا کر کہا نہیں! الفارابی سے الکندی اور پھر ابن زہر سے الزہراوی تک پہنچتے پہنچتے آپ کا رنگ ہر نہیں کے ساتھ اترتا چلا گیا۔ اور جب پتہ چلا کہ یہ ساری تکنیک یہود و نصارٰی کی ہے تو قبلہ حاجی  صاحب نے بغیر علاج کروائے رخصت کا قصد کیا۔
 کل شب حاجی مسلمان احمد نمازی و روزوی و زکٰوتی صاحب مرحوم و مغفور کے سوئم سے فارغ ہوا ہوں تو آج ڈائری لکھنے بیٹھا ہوں۔ 

بدھ، 2 نومبر، 2016

23 اکتوبر

سر مجھے لگ رہا ہے کہ یہ جو بھی کچھ ہورہا ہے وہ محض اتفاقی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ضرور کوئی منصوبہ ساز زہن موجود ہے جو انتہائی صفائی اور مہارت سے یہ کام کر رہا ہے۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ وہ کیوں یہ کام کر رہا ہے مگر یہ جو ایک دو واقعات میں نے آپ کو بیان کیے ہیں تو سر  ان کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ ۔۔۔۔ سر آپ میری بات مانیں نہ مانیں یہ یقینا کوئی سیریل کلر ہے جو اتنا شاطر ہے کہ پولیس کی نظروں میں آئے بغیر گزشتہ پانچ سالوں سے یہ کام کر رہا ہے! سر آپ بس مجھے اجازت دیں تو میں باقاعدہ کیس فائل کرکے تحقیقات شروع کردوں؟ میرا ماتحت آفیسر اس وقت میرے سامنے بیٹھا نہایت جذباتی انداز میں تیز تیز اور مسلسل بول رہا تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرایا اور پانی پینے کو کہا۔ وہ پانی پی کر فارغ ہوا تو میں نے اسے سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کی وجہ سے جذباتی ہورہا ہے اور  معاملہ ایک بڑے ہسپتال اور اس کی ساکھ کا ہے۔ غلط کیس فائل ہوا اور میڈیا کو کیس فائل ہونے کی خبر مل گئی تو ہسپتال والے اتنے طاقتور ہیں کہ ہم دونوں کو اٹھوا کر گھر بھجوا دیں گے اور شہرت خراب کرنے پر ہتک عزت کا دعویٰ الگ ہوگا۔ بہتر یہی ہوگا کہ وہ  چند دن  دفتر نہ آئے اور باہر سے ہی اپنے طور پر یہ تحقیقات خفیہ طریقے سے جاری رکھے اور مجھے مطلع  کرے۔ مناسب ثبوت بہم ہوجانے پر ہم کیس فائل کرکے معاملے کو دیکھ لیں گے۔
اس کو وہاں سے رخصت کرنے کے بعد میں نے فون اٹھایا اور اس ہی ہسپتال میں کام کرنے والی اپنی چھوٹی بہن کو بھی خبردار کردیا کہ وہ  رازاداری کے ساتھ اردگرد نظر رکھے اور کسی بھی گڑبڑ کے نتیجے میں مجھے فوری طور پر مطلع کرے۔ فون کال نمٹا کر میں نے سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی اور تھانے کے احاطے میں کھڑا ہوکر سگریٹ پیتے ہوئے معاملے کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنے لگا۔
میرے ماتحت آفیسر کے بیان کے مطابق یہ معاملہ ابھی پولیس کی نظروں میں آیا ہی نہیں تھا جبکہ قتل کی یہ وارداتیں پچھلے پانچ سال سے جاری تھیں۔  اس کو بھی اس معاملے کی بھنک ایسے پڑی تھی کہ اس کی بیوی اس ہسپتال میں زچگی کے سلسلے میں گئی تھی اور جان کی بازی ہار گئی تھی۔ بیوی کی موت کے فورا بعد یعنی دو گھنٹوں میں ہی  ہسپتال والوں نے بچے کو بھی مردہ قرار دے دیا تھا۔ شاید کوئی اور ہوتا تو اس معاملے کو خدا کی مرضی قرار دے کر رو پیٹ لیتا مگر پولیس والوں اور بالخصوص تفتیشی افسران کا مزاج عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ میرے ماتحت کو یہ شک گزرا کہ یہ اموات جتنے عجیب انداز میں ہوئیں وہ طبعی موت نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا معاملہ تھا۔ ہسپتال کا نام بہت بڑا تھا اس لئے  مجرمانہ غفلت کا براہ راست الزام لگانے کے مضمرات سے وہ آگاہ تھا۔ کیس کو مضبوط کرنے کے لئے اس نے اپنے ذرائع سے تحقیقات کیں تو ایک عجیب سی خبر اس کے سامنے آئی کہ  زچہ و بچہ کی موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ پچھلے پانچ سال سے ہر سال اکتوبر کے مہینے میں اس قسم کے واقعات اس ہسپتال میں ہوتے آئے تھے ۔  یہ معلومات ملتے ہی وہ جذبات میں دوڑتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا تھا اور مجھ سے کیس درج کرنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ سگریٹ  ختم کرکے میں نے اس کیس کے سلسلے میں دماغ میں آنے والے تمام فالتو خیالات کو جھٹکا اور واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے طے کرلیا تھا کہ اب اس معاملے پر تب ہی سوچوں گا جب کچھ مزید اطلاعات میرے سامنے آئیں گی۔


اس بات کو گزرے چار دن  ہوگئے تھے اور میرا ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا۔ میں اپنی بہن سے بھی معاملے کی مسلسل سن گن لے رہا تھا مگر اس  نے بھی اردگرد کوئی غیرمعمولی چیز محسوس نہیں کی تھی۔ میں پچھلے دو دن سے مسلسل دفتر سے واپسی میں اس کے گھر جارہا تھا مگر ہر مرتبہ یہی معلوم ہوتا کہ وہ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے گھر سے نکلا ہے اور جب میں اس کے موبائل پر فون کرتا تو گھنٹی بجتی مگر کوئی جواب نہ آتا۔ میں نے اس کے گھر والوں کو بھی بول رکھا تھا کہ وہ جب بھی گھر آئے تو اسے مجھ سے رابطہ کرنے کو کہیں مگر یا تو گھر والے اسے میرا پیغام نہیں پہنچا رہے تھے یا وہ خود مجھ سے کترا رہا تھا۔ آج میں نے سوچ لیا تھا کہ دفتر سے واپسی میں میں اس کے گھر جاؤں گا اور وہیں بیٹھ کر اس وقت تک اس کا انتظار کروں گا جب تک وہ واپس نہیں آجاتا۔
دفتر میں بہت سے توجہ طلب امور تھے مگر میرا دھیان اس ہی میں اٹکا ہوا تھا۔ کافی دیر تک بھی جب میں کسی اور چیز پر توجہ مرکوز نہ کرسکا تو میں نے جھلا کر اسے کال کرنے کے لئے موبائل نکالا تو اس ہی وقت سکرین پر اس کا نام جگمگانے لگا۔ میں نے فورا کال اٹھائی اور اس سے پہلے کہ میں اسے پچھلے چار دن پر مغلظات سناتا اس کی نہایت پرجوش آواز ابھری، سر! میرا شک صحیح نکلا۔ آپ بس جلدی سے ہسپتال پہنچ جائیں میں ہسپتال کے  سامنے والے ہوٹل میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ باقی تفصیلات میں مل کر بتاتا ہوں۔
میں گاڑی اڑاتا ہوا سیدھا ہسپتال کے سامنے واقع ہوٹل پر پہنچ گیا۔ وہ ہوٹل کے باہر پڑی کرسی پر بیٹھا ہسپتال کے دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھا تھا۔ میں اتر کر اس کے پاس گیا تو اس نے عادتا مجھے سلوٹ کردیا۔ وہ اس وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا اور مجھے لگا کہ لوگ اس کے اس طرح مجھے سلوٹ کرنے پر چونکے ہیں مگر پھر مجھے خیال آیا کہ میں تو وردی میں موجود تھا اور یہ سراسیمگی میرے آنے کی وجہ سے پھیلی تھی۔ میں نے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے برابر میں موجود کرسی سنبھال لی اور اردگرد  کی کرسیوں پر موجود لوگوں کو اٹھنے کا اشارہ کردیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے گفتگو کوئی اور سنے اور لوگ تو ویسے ہی ہم سے دور بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں سو چند ہی لمحوں میں ہم دونوں اکیلے رہ گئے تھے۔
پہلے پانچ منٹ تو میرے اسے اس طرح غائب ہونے پر مغلظات سنانے میں لگ گئے مگر اس کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی ٹھوس چیز کے میرا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے فون پر بات کرنے میں متامل تھا۔  چار گالیاں اس احمقانہ سوچ پر مزید کھانے کے بعد وہ معاملے کی تفصیلات پر آگیا۔
میرے ماتحت کے مطابق اس نے اکتوبر کے مہینے سے جڑے ان حادثات کو کھوجنے کے لئے ہسپتال کے سٹاف کو کھنگالنے کی کوشش کی  کہ ان میں سے کس کس کا اس مہینے سے کوئی خاص تعلق ہوسکتا ہے۔  پہلے مرحلے میں اس نے ہسپتال کے ہیومن ریسورس مینجر کو اپنی نوکری کی دھونس جمائے بغیر محض بندوق دکھا کر تمام سٹاف کا ڈیٹا حاصل کیا اور اس میں سے اکتوبر کی تاریخ پیدائش والے تمام  افراد کی نشاندہی کر لی۔ اس کے شک کا دائرہ اب ہسپتال کے چار سو سٹاف سے سمٹ کر محض سینتیس لوگوں پر رہ گیا تھا  امگر ایک دو کی بات ہوتی تو ٹھیک تھا ، وہ ذاتی حیثیت میں سینتیس لوگوں کو شامل تفتیش نہیں کرسکتا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ اب معاملہ یہیں ختم ہوجائے گا مگر قدرت اس پر مہربان ہوگئی جب اس نے کل رات سوچوں کے درمیان  بے دھیانی میں ہسپتال سے ملنے والی اپنی بیوی کی کیس فائل کھولی اور اسے ڈاکٹر کے خانے میں جو نام دکھا وہ اکتوبر میں پیدا ہونے والے ان افراد کی فہرست میں موجود تھا۔ اس کے بقول وہ رات بھر سو نہیں سکا اور صبح ہی ہسپتال پہنچ کر اس ہی ہیومن ریسورس مینجر کے ساتھ موجود تھا جس نے اسے پہلے بھی ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ قسمت اس پر مسلسل مہربان تھی کہ وہ شخص ہیومن ریسورس مینجر  اور ایک توپ افسر ہونے کے ناطے ہسپتال کے تمام ستاف کی حاضری اور ہسپتال کے میڈیکل ریکارڈ دونوں تک رسائی رکھتا تھا۔ میرے ماتحت کے مطابق جیسے ہی اسے پتہ چلا  کہ پچھلے پانچ سال میں ہونے والی تمام زچہ و بچہ کی اموات کے وقت محض ایک شخص تھا جو ڈیوٹی پر موجود تھا تو اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس شخص کا نام وہ اپنی بیوی کے میڈیکل ریکارڈ میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔  وہ ڈاکٹر اس وقت بھی ہسپتال میں موجود تھی اور اب ہم دونوں ہسپتال میں تماشہ نہ بنانے کے لئے ہسپتال کے باہر اس کے منتظر تھے کہ وہ کب ڈیوٹی ختم کرکے نکلے اور ہم اسے اس کے گھر جا کر دھر لیں۔ میرا ماتحت ہسپتال کے ریکارڈ سے اس کا پتہ نکال لایا تھا مگر میں اپنی بہن کے حوالے سے میں اسے جانتا تھا  اور میں جانتا تھا کہ یہ ایک فرضی پتہ ہے۔ میں اس سفاک قاتل کا پتہ جانتا تھا جو ہسپتال سے پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی واقع ایک پوش علاقے میں مکین تھی لہٰذا میں نے اپنے ماتحت کو ساتھ لیا اور اس کے گھر کے سامنے والے پارک میں جا کر انتظار کرنے لگا ۔
شام پانچ بجے اس کی ڈیوٹی ختم ہوئی تھی اور ٹھیک پانچ بج کر سولہ منٹ پر وہ اپنے گھر کا دروازہ کھول رہی تھی کہ میں نے اپنے ماتحت کے ساتھ اسے جالیا۔ وہ مجھے میرے ماتحت کے ساتھ اور اس طرح وردی میں دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی تھی۔ میں نے اسے دروازہ کھول کر اندر چلنے کا اشارہ کیا۔
گھر میں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ ہم اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئے۔ میں نے اپنے ماتحت کو اشارہ کیا اور اس نے پورا معاملہ اس لڑکی کے سامنے رکھ دیا کہ کس طرح پولیس کو اب اس کی سفاک حرکات کا پتہ چل گیا ہے ۔ میرے ماتحت کی بات سن کر وہ بری طرح سے پھوٹ بہی مگر ہم دونوں وقت کے ساتھ اتنے پکے ہوچکے تھے کہ اب کسی  کے آنسو ہم پر اثرانداز نہیں ہوتے تھے۔ اس نے جرم سے انکار نہیں کیا اور دھیمے لہجے میں بولی کہ اب مجھے کیا کرنا ہوگا؟  مجھے لگا کہ میرا ماتحت بھی اس کے اتنی جلدی اقبال جرم کی امید نہیں کر رہا تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ اس کا ہر قتل کے وقت ہسپتال میں موجود ہونا اسے کسی بھی عدالت میں قاتل نہیں ثابت کرسکتا تھااور ایک معمولی وکیل بھی ہمارے مقدمے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا۔ اور جب یہ بات ہم دونوں جانتے تھے تو اتنی مہارت سے قتل کرنے والی وہ بظاہر معمصوم دکھنے والی شاطر لڑکی کیوں واقف نہیں ہوگی؟ وہ لڑکی مگر شاید اس وقت کسی شدید جذباتی کیفیت  کا شکار تھی اور اقبال جرم کربیٹھی تھی۔ میں نے کہا کہ ابھی لیڈی پولیس بلوا کر ہم آپ کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ میں آپ کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں مگر مجھے آپ سے اس بات کی امید نہیں تھی۔ آخر کیا وجہ تھی کہ آپ مسیحائی جیسے مقدس پیشے سے منسلک ہوکر بھی قاتل بن گئیں؟  میرا سوال سن کر اس نے رونا بند کر دیا اور نظریں میری نظروں میں گاڑ کر بولی، میں نے اپنے مقدس پیشے سے کبھی بے وفائی نہیں کی ہے! میرا کام انسانوں کو درد سے نجات دلانا ہے انسپکٹر صاحب! اس کی آنکھوں میں موجود آنسوؤں کی لالی اس وقت خون کی لالی لگ رہی تھی اور کے لہجے میں جو وحشت تھی میں نے محسوس کیا کہ اس سے میرا ماتحت کانپ اٹھا ہے۔  اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا اس نے اپنا بیان دوبارہ جاری کردیا۔  ایک پولیس والا کیسے محسوس کرسکتا ہے کہ درد کیا ہوتا ہے جبکہ اس کی ساری زندگی تفتیش کے نام پر دوسروں پر تشدد میں گزر جاتی ہے۔ میں ڈاکٹر ہیں۔ میں جانتی ہوں درد کیا ہوتا ہے۔ میں انسان ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ اس دنیا میں بن ماں کے بچوں کا کیا حال ہوتا ہے! میں ہی ہوں جو ان کا درد محسوس کرسکتی ہوں۔ میں ہی ہوں جس کی ماں اس ہی اکتوبر کے مہینے میں اسے پیدا کرتے ہوئے چل بسی تھی۔ خاندان بھر کے گھروں میں باری باری پلتے اور چاچا ماماؤں کے بچوں کی نوکری کرتے ہوئے جب میں ڈاکٹر اور پھر گائنی کی ماہر بنی تو اس کے پیچھے یہی سوچ تھی کہ میں  کسی ماں کو مرنے نہیں دوں گی۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ میں گائنی کی ماہر تو بن سکتی ہوں مگر خدا نہیں بن سکتی۔ میں انہیں مرنے سے نہیں بچا سکتی۔ مگر جو پیچھے بچ جائیں انہیں ضرور ان کی ماؤں تک پہنچا سکتی ہوں۔ آپ اسے سفاکی کہتے ہیں؟ میں تو احساس کی اس منزل پر ہوں جہاں آپ کبھی نہیں پہنچ سکتے! آپ کی ماں شاید ابھی زندہ ہے!-

اس کی باتیں سنتے سنتے میری بس ہوچکی تھی۔ میں نے کھڑے ہوکر اپنا سائلینسر لگا ذاتی ریوالور نکال لیا۔ وہ ڈاکٹرنی  مجھے کھڑا ہوتا دیکھ کر خود بھی کھڑی ہوگئی تھی اور اب بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑٰی تھی گویا اسے کسی بات کا ڈر نہ ہو۔ میرا ماتحت البتہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔ اسے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکنے کی کوشش کی کہ سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں مگر اس کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی میں نے اپنا ہاتھ چھڑا کر گولی چلا دی۔ وہ ڈاکٹرنی دوڑتی ہوئی آئی اور مجھ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ ہمارے قدموں میں میرے ماتحت کی لاش پڑی تھی۔ آج ہماری ماں کی برسی تھی۔ میرا ماتحت بیچارہ ناتجربہ کار تھا جو دروازے پر لگی تختی نہ پڑھ سکا جس پر بڑا بڑا انسپکٹر عاطف علی تحریر تھا!

بدھ، 17 دسمبر، 2014

زبان دراز کی ڈائری - سانحۃ پشاور

پیاری ڈائریً!


تم شاید سمجھ رہی ہوگی کہ میں خود کو بڑا ادیب سمجھنے لگا ہوں اس لیئے لکھنا کم کردیا ہے۔ یا شاید تم نے سوچا ہوگا کہ چونکہ مجھے اس ڈائری کو لکھنے کے کوئی پیسے نہیں ملتے اس وجہ سے میں نے تم سے باتیں کرنا چھوڑ دی ہیں۔ مگر یقین جانو یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں۔ تم شاید بھول بیٹھی ہو کہ میں قومیت کے اعتبار سے پاکستانی ہوں اور محض واقعات و سانحات پر چند لمحات کیلئے زندہ ہوتا ہوں ورنہ ہماری نیم مردہ زندگی تو اصحابِ کہف کی نیند کو پہنچنے لگی ہے۔ تو لکھنے کیلئے زندہ ہونا اور زندہ ہونے کیلئے کوئی سانحہ ضروری ہوتا ہے۔ سو آج ایک سانحہ سا ہوگیا ہے جس نے تمہارے زبان دراز کے مردہ جسم میں کچھ دیر کو روح پھونک دی ہے اور اس کچھ دیر کی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے قلم اٹھایا اور تمہارے پاس آگیا۔


اب تم سوچ رہی ہوگی کہ اتنی لمبی تمہید کیوں؟ اور مجھے یقین ہے کہ تم یہ بھی جاننا چاہتی ہو کہ آج ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میاں زبان دراز پھر ڈائری کھول کر بیٹھ گئےہیں؟ تو سنو! تم تو جانتی ہو کہ میں اب ایک مشہور آدمی ہوں اور مجھے دن رات لفافے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ جی نہیں! میری مراد وہ مروجہ محاورے والے لفافے نہیں بلکہ خطوط کے لفافے ہیں۔ کبھی کوئی اپنی ناکام محبت کی داستان لکھوانا چاہ رہا ہوتا ہے تو کبھی کسی کو اپنی ڈرامائی زندگی پر ٹیلیویژن کا ڈرامہ لکھوانا ہوتا ہے۔ اب تو میں نے ایک مستقل مسودہ تیار کر لیا ہے اور جوابی خط کے طور پر وہی مسودہ نقل کرکے بھیج دیتا ہوں۔ آج مگر مجھے ایک بہت عجیب سا خط ملا ہے۔ یہ نہ تو ناکام محبت کی داستان ہے نہ تباہ حال جوانی کا احوال۔ یہ خط کسی بچے نے لکھ بھیجا ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ عالمِ بالا میں موجود ہے۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ اس خط کا کیا جواب دوں۔ پھر سوچا کہ تمہیں بھی یہ خط سنائوں، ہو سکتا ہے تم کوئی جواب تجویز کردو۔ سو یہ خط ملاحظہ کرو اور میری مدد کرو۔


پیارے انکل


السلام علیکم! مجھے پتہ ہے کہ آپ اچھے حال میں ہیں اور میں اللہ میاں سے دعا کرتا ہوں کہ آپ سدا اچھے حال میں ہی رہیں۔ میرا نام ۔۔۔ مجھے یاد نہیں۔ مگر مجھے یہ یاد ہے کہ آج صبح تک میرا بہت اچھا سا نام ہوا کرتا تھا۔ وہ اچھا سا نام کیا تھا مجھے یاد نہیں، ہاں کل کے اخبار میں جب فہرست چھپے گی تو میں اس میں سے دیکھ کر آپ کو ضرور بتائوں گا۔ اللہ کا پکا والا وعدہ!


آپ پریشان ہو رہے ہونگے کہ میں نے آپ کو خط کیوں لکھا ہے؟ جب آپ مجھے جانتے تک نہیں ہیں اور آپ کو کیا، خود مجھے بھی اپنا نام تک یاد نہیں، تو میں آپ سے کیوں مخاطب ہوں؟ تو انکل بات یہ ہے کہ مجھے ابھی قائد اعظم انکل ملے تھے ۔ وہ ہم سب بچوں کو یہاں لینے کیلئے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں اپنے امی ابو تک کچھ باتیں پہنچانا چاہتا ہوں تو انہوں نے مجھے آپ کا پتہ بتا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ بھی پہلے آپ کو خطوط لکھتے رہے ہیں۔ اور آپ کی تحاریر تو اخبار میں بھی چھپتی ہیں، تو میں نے سوچا کہ میں آپ کو خط لکھوں تو شاید آپ میرا پیغام اخبار میں چھاپ دیں اور میرے امی ابو تک میرا پیغام پہنچ جائے۔ مجھے امید ہے آپ میرے لیئے یہ کام کر دیں گے۔ کرٰیں گے نا؟


افوہ! میں بھی کن باتوں میں لگ گیا۔ آپ کے سوالات ابھی تک وہیں کے وہیں ہیں اور میں اپنی فرمائشیں لیکر بیٹھ گیا ہوں۔ مگر میں نے آج تک کسی کو خط نہیں لکھا نا ۔۔۔ شاید اس لیئے مجھے صحیح سے خط لکھنا بھی نہیں آتا۔ اردو کے ٹیچر نے اگر یہ خط دیکھ لیا تو بہت غصہ ہوں گے۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ انسان اپنی تحریر اور گفتار سے پہچانا جاتا ہے۔ اور میں آپ کو ایک مزے کی بات بتائوں؟ مجھے گفتار کا مطلب ہی نہیں پتہ ۔۔۔۔ مگر آپ یہ بات اردو کے ٹیچر کو نہیں بتائیے گا۔ میں ہمیشہ ان کی بات سن کر ایسے سر ہلاتا تھا جیسے ساری بات سمجھ میں آگئی ہو۔ انہیں پتہ چلے گا کہ اتنے عرصے سے میں انہیں الو بنا رہا تھا تو وہ بہت خفا ہوں گے۔


تو انکل میں آپ کو بتارہا تھا کہ میرا نام ۔۔۔۔ مگر مجھے تو اپنا نام یاد ہی نہیں ہے؟ مجھے تو بس یہ یاد ہے کہ میں آج اپنے اسکول میں تھا اور کلاس میں دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ اچانک دروازے پر لات پڑی اور دو انکل کلاس میں گھس آئے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ پھر انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ اس کے فوراُ بعد مجھے ایسا لگا کہ کوئی کھولتی ہوئی چیز میرے پیٹ کو پھاڑتی ہوئی میرے جسم میں گھس گئی۔ مجھے لگا کہ جیسے میرے پورے جسم میں آگ لگ گئی ہو۔ مگر میں رویا نہیں۔ اگر آپ میرا خط اخبار میں چھاپیں تو امی کو بتا دیجئے گا کہ میں ان کا بہادر بیٹا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ بہادر بچے چوٹ لگنے پر روتے نہیں ہیں۔ تو میں کیسے رو سکتا تھا؟ میں تو امی کا بہادر بیٹا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ میں بہت زور سے روئوں مگر میں چپ رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ میرے جسم سے بہت سارا خون بہہ رہا تھا۔ میرا سارا یونیفارم بھی سرخ ہوگیا تھا۔ میں نے ہاتھ سے یونیفارم صاف کرنے کی کوشش کی مگر وہ صاف ہی نہیں ہوا۔ امی کو بولیئے گا کہ وہ غصہ نہ ہوں۔ میں اللہ میاں سے کہوں گا کہ وہ ہمارے گھر کے حالات بہتر کردیں اور امی گھر میں کام کرنے والی کوئی مددگار رکھ لیں۔ پھر امی کو میرا یونیفارم دھونے کیلئے ٹھنڈے پانی میں ہاتھ نیلے نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو انکل پھر آپ کو پتہ ہے کیا ہوا؟ مگر یہ تو مجھے بھی نہیں یاد کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ اس شدید ترین اذیت کے بعد میں بہت تھک گیا تھا اس لیئے میں وہیں سو گیا۔ آنکھ کھلی تو ہم سب کلاس کے بچے نئے کپڑے پہن کر یہاں موجود تھے۔ بہت سارے پیارے پیارے لوگ ہم سے ملنے کیلئے بھی آرہے تھے۔ میں نے یہیں قائد اعظم کو بھی دیکھا۔ تصویر میں تو وہ اتنے دبلے پتلے دکھتے ہیں مگر یہاں تو وہ اتنے صحت مند ہیں۔ پہلے تو میں انہیں پہچانا ہی نہیں۔ پھر مجھے میرے ایک دوست نے بتایا کہ یہ قائد اعظم محمد علی جناح ہیں۔ اور آپ کو پتہ ہے انکل؟ ہم اسکول میں سنتے تھے قائداعظم بہت بہادر انسان تھے مگر یہاں آکر میں نے خود دیکھا، قائد اعظم لڑکیوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ شیم شیم!!


ابو کہتے تھے کہ بڑوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے اس لیئے میں نے ان کے سامنے کچھ نہیں کہا۔ بعد میں ہم سارے دوست مل کر اتنا ہنسے ان پر۔ بیچارے قائد اعظم۔ ارے ابو سے یاد آیا مجھے ابو کو بھی سلام بولنا تھا۔ آپ میرے ابو کو جانتے ہیں؟ مگر آپ میرے ابو کو کیسے جان سکتے ہیں؟ میرے ابو کو تو صرف وہی جان سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے لخت جگر کو مٹی کے نیچے دفن ہوتے دیکھا ہو۔ مگر یہ تو بڑوں والی بات ہوگئی۔ ابو کہتے تھے بچوں کو اپنی عمر کے حساب سے باتیں کرنی چاہیئیں۔ سوری ابو! آپ کی اگر میرے ابو سے بات ہو تو انہیں یہ مت بتائیے گا کہ میرے پیٹ میں گولی لگی ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ایک دفعہ میں سیڑھیوں سے گر کر اپنا سر پھاڑ بیٹھا تھا۔ اس وقت گھر میں گاڑی نہیں تھی تو ابو مجھے پیدل ہی اٹھا کر چار کلومیٹر دور ہسپتال بھاگے تھے۔ بغیر رکے۔ میرے ابو بہت اچھے ایتھلیٹ ہیں۔ وہ روزانہ صبح دوڑنے باغ میں جاتے ہیں اور بغیر ہانپے میدان کے کئی چکر لگا لیتے ہیں۔ مجھے اتنی ہنسی آتی تھی جب وہ کہتے تھے کہ میں ان کا سہارا ہوں۔ بھلا بتائیں، ابو کو سہارے کی کیا ضرورت؟ وہ تو خود اتنے مضبوط اور طاقتور ہیں۔ تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ اس دن جب میرا سر پھٹا تھا تو ابو نے دفتر سے چھٹی لے لی تھی۔ جب تک میں بستر پر رہا، ابو میری چارپائی کے سرہانے لگے بیٹھے رہے۔ انہیں میری تکلیف کا پتہ چلے گا تو وہ بہت اداس ہوں گے۔ میں ابو سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میری وجہ سے اداس ہوں۔ آپ نہیں بتائیں گے نا؟؟


اور آخری بات مجھے آپ سے کرنی ہے۔ نجانے کیوں مجھے یہ لگتا ہے کہ جب میرے جانے کی خبر ٹیلیویژن پر آئے گی تو ملک بھر میں کہرام مچ جائے گا۔ سب لوگ مجھے مارنے والوں کو گالیاں دیں گے۔ احتجاج کیا جائے گا۔ میری یاد میں شمعیں روشن ہوں گی۔ آپ بھی ایسے ہی کسی پروگرام میں شریک ہوکر اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے بعد اگلے بچے کے مرنے تک مکمل خاموشی پھیل جائے گی۔ پیارے انکل! میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے نہیں جانتے! مگر نجانے کیوں میرا دل کر رہا ہے کہ میں آپ سے ایک ننھی سی فرمائش کردوں۔ کیا آپ میرے لیئے اتنا کر سکتے ہیں کہ کل خواہ کسی احتجاجی جلوس میں جائیں یا نہ جائیں، مگر مجھ اور میرے جیسے ایک سو تیس بچوں کیلئے ایک کام کردیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا دشمن اپنے ارادے میں کامیاب ہو! اس نے صرف میری جان نہیں لی، اس نے میرے پیارے پاکستان کو ایک سو تیس ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدانوں، فنکاروں، کھلاڑیوں سے محروم کردیا ہے جنہوں نے آگے چل کر پاکستان کا نام روشن کرنا تھا۔ کیا آپ کل کے احتجاج کیلئے استعمال ہونے والا پیٹرول، پلے کارڈ، موم بتی، وغیرہ کے پیسے بچا کر، پورے پاکستان میں کہیں بھی، کسی بھی ایک، صرف ایک بچے کے تعلیمی اخراجات کا ذمہ اٹھا سکتے ہیں؟ پلیز؟ پلیز؟ پلیز؟


والسلام


پیاری ڈائری! اب تم ہی بتائو کہ میں کیا جواب دوں؟




[caption id="attachment_622" align="aligncenter" width="492"]They went to school and never came back They went to school and never came back[/caption]

جمعہ، 16 مئی، 2014

بھائی جلیل کا کتا ۔۔۔۔

(اس کہانی کے تمام نام، مقام اور کردار فرضی ہیں۔ کسی بھی کردار سے مماثلت محض اتفاقیہ یا آپ کی نیت کا فتور ہوسکتی ہے)۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گائوں میں انسان جانوروں اور جانور انسانوں کی ذبان سمجھ لیتے تھے۔ چھوٹا سا گائوں تھا اور سادہ سے لوگ۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش ہونے والے اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے والے۔ امیر اور غریب کے مابین کوئی خاص فرق نہیں ہوتا تھا اور امراء کی بھی کوشش ہوتی تھی کے بےجا ریاکاری سے پرہیز کیا جائے کہ اس سے ان کے غریب بھائیوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ سب کی زندگی بہت  سکون سے گذر رہی تھی کہ ایک دن گائوں کے چوہدری صاحب نے ایک انگریزی بولنے والا کتا پال لیا۔ گائوں والوں نے پوچھا کہ بھلا اس کی کیا ضرورت؟ تس پہ چوہدری صاحب نے فرمایا کہ ہر گائوں میں اس ہی طرح ایک کتا پالا جاتا ہے جس کا کام ادھر ادھر کی تمام خبریں اکٹھا کرنا اور پھر سب کو بتانا ہوتا ہے۔ گائوں والے بہت خوش ہوئے اور اس کتے کو اپنا لیا۔ اب کتا گائوں میں رہنے لگا اور دن بھر کی خبریں بھی سنانے لگا، مگر المیہ یہ تھا کہ یہ کتا خبریں انگریزی میں سناتا تھا اور گائوں میں صرف دو افراد کو انگریزی آتی تھی۔ گائوں والوں کے اندر پروان چڑھتے اس احساس محرومی کو دیکھ کر بھائی جلیل نے چوہدری صاحب سے اجازت طلب کی اور ایک اردو بولنے والا کتا بھی لے آئے۔ یہ نیا آنے والا کتا بے حد مرنجاں مرنج اور ملنسار واقع ہوا تھا۔ بغیر لگی لپٹی رکھے سچ سچ ہر بات گائوں والوں کو آکر بتا دیتا تھا۔ گائوں والے بھی اس کتے سے بہت خوش تھے کہ اب انہیں ارد گرد کی تمام اہم خبریں گھر بیٹھے مل جایا کرتی تھیں۔ کچھ عرصے میں چوہدری صاحب کا انتقال ہوگیا سو اب انکے انگریزی کتے کی کوئی خاص وقعت نہیں رہ گئی۔ چوہدری صاحب کا نام جڑا ہونے کی وجہ سے آج بھی لوگ دو چار ہڈیاں تو ڈال دیتے تھے مگر بھائی جلیل کے کتے کے آگے اب اس انگریزی کتے کی، کتے والی اوقات رہ گئی تھی۔ ادھر بھائی جلیل کے کتے نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ پر پرزے نکالنا شروع کردیے۔ اس کتے کو معلوم ہوگیا تھا کہ گائوں والے اب آپس کی بات سے زیادہ اس کی دی ہوئی خبر پر اعتبار کرتے ہیں۔ ہر شخص چاہتا تھا کہ اس کی خبر مثبت پہلو سے سامنے لائی جائے لہٰذا بھائی جلیل نے اب اس خدمت کو کاروبار بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کتا پالنا ایک محنت طلب کام ہے اور اس میں اخراجات بہت زیادہ ہیں اور وہ یہ سارے اخراجات اپنی جیب سے ادا نہیں کر سکتے۔ سو جن لوگوں کو اپنی خبریں دوسروں تک پہنچانی ہیں وہ اس کتے کے اخراجات میں بھی حصہ ڈالیں۔ کچھ لوگوں کو اس بات پر شدید اعتراض ہوا۔ انہوں نے بھائی جلیل کو کہا کہ کسی نے ان سے ہاتھ جوڑ کر درخواست نہیں کی تھی کہ اس کتے کو پالیں اور اگر وہ اس کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو اسے چوہدری کے حوالے کردیں جو بغیر کسی سے پیسے مانگے مفت میں یہ خبریں دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ اور ویسے بھی جب بھی یہ کتا کسی کو خبر سنانے پہنچتا تو ہڈی لیئے بغیر تو منہ کھولتا بھی نہیں ہے؟ تو مزید کس بات کا خرچہ؟ بھائی جلیل نے یہ باتیں ٹھنڈے دماغ سے سنیں اور اگلے دن ہی بھائی جلیل کے کتے نے ان کتوں کی اصلیت پورے گائوں پر کھول دی کہ وہ لوگ کس طرح پڑوسی گائوں والوں سے پیسے لے کر اس گائوں میں تفرقہ پھیلا رہے ہیں۔ ان سب غداروں کو اس ہی وقت گائوں سے نکال دیا گیا اور بھائی جلیل اور ان کے کتے کی اس عظیم ملی خدمت پر انہیں گائوں کا ایک بزرگ اور اہم ترین ستون مان لیا گیا۔ بھائی جلیل اور ان کے کتے کی یہ عزت بہت سارے لوگوں کو برداشت نہیں ہوئی اور انہوں نے اپنے اپنے کتے پالنے کی کوشش بھی کی مگر بھائی جلیل کے کتے کے آگے کسی کی ایک نہ چلی۔ کچھ بھوکے مر گئے اور باقی کو گائوں چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

بھائی جلیل نے وقت کے ساتھ ساتھ یہ چیز سیکھ لی تھی کہ چوہدری کوئی بھی ہو مگر گائوں کا اصل مالک مکھیا ہی ہے۔ انہوں نے شروع دن سے ہی مکھیا سے بنا کر رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ زندگی بہت خوبصورت تھی اور اب تو ان کے کتے نے بچے بھی دے دیئے تھے۔ ان کتے کے بچوں کے آنے سے بھائی جلیل مزید خوشحال ہوگئے تھے۔ اب ان کتے کے بچوں کی مختلف ڈیوٹیاں لگا دی گئی تھیں۔ کوئی صبح کی خبریں سناتا تھا تو کوئی شام کی ۔۔۔ کسی کا نام ہفت روزہ رکھ کر اسے ہفتے بھر کا منجن ایک ساتھ بیچنے پر لگادیا گیا تو کسی کو ماہنامہ کہہ کر مہینے بھر کی ساری تکالیف کو دوبارہ یاد دلانے پر لگا دیا۔

بھرپور زندگی گذارنے کے بعد بھائی جلیل کا ایک دن انتقال ہوگیا۔ کتا مگر دن بدن جوان اور طاقتور ہوتا جا رہا تھا۔ اب وہ بھائی جلیل کے بیٹے بھائی کفیل کیلئے کام کر رہا تھا۔ بیٹے باپ کی طرح موسم شناس نہ تھے مگر موقع پرست ضرور تھے۔ کتوں کا کاروبار دن بدن ترقی پذیر تھا جبکہ اس دوران گائوں کے چوہدری سے ہونے والی شدید لڑائی میں ایک آدھ بار کتے کے گائوں میں داخلے پر پابندی بھی لگی مگر کتا ہر مشکل سے مزید طاقتور ہوکر نکلتا گیا۔ چوہدری اور مکھیا کے کھیل میں ایک بار پھر مکھیا جیتا اور اس بار کتے کو خبریں جدید طریقے سے پہنچانے کا لائسنس بھی مل گیا۔ اب کتے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کی طاقت میں دن بدن اضافہ ہورہا تھا۔ اب گائوں میں 19 یا بیس کتے آچکے تھے مگر کوئی کتا بھی بھائی کفیل کے کتے کے مقابلے کا نہیں تھا۔ اِدھر گائوں کے کتوں نے بھی یہ بات سمجھ لی تھی کہ اگر گائوں میں عزت سے رہنا ہے تو اس سب سے بڑے کتے سے بنا کر رکھنی ہے۔ ادھر یہ سب سے بڑا کتا بھی جب دل کرتا کسی چھوٹے کتے کو پکڑ کر رگید دیتا اور بھنبھوڑنے کے دوران بڑے لاڈ سے اسے کہتا کہ "دے پپی" اور وہ غریب اپنی گد بنواتے ہوئے مجبوراٗ گردن موڑ کر بھائی کفیل کے کتے کو پپی بھی عنایت کرتا۔ بھائی کفیل

کا کتا اب ان گلی کے چھوٹے چھوٹے کتوں سے تنگ آچکا تھا۔ اسے اب وہ بورنگ لگتے تھے۔ اس بوریت سے تنگ آکر اور کچھ شرارت میں ایک دن بھائی کفیل کے کتے نے پلٹ کر مکھیا کے بیٹے کو کاٹ لیا اور وہاں سے بھاگ نکلا۔ بھائی کفیل کو جب پتہ چلا تو اپنے لاڈلے کی اس معصوم شرارت پر خوب ہنسے۔ وہ سمجھے تھے کہ ہر بار کی طرح مکھیا ان کی بات نہیں ٹالے گا اور ان کے لاڈلے سے درگزر کرے گا مگر وہ بھول بیٹھے تھے کے اس بار بات مکھیا کے اپنے بیٹے کی تھی۔ مکھیا نے گائوں کے باقی تمام کتوں کو جمع کیا اور اس شام سے ہی سارے کتے بھائی کفیل کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور بھونکنا شروع ہوگئے۔ شور سن کر بھائی کفیل کا کتا بھی باہر نکلا مگر تمام کتوں کو دیکھ کر جھٹ سے گھر کے اندر واپس گھس آیا۔ آج پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ تمام کتے کسی بات پر اکٹھے تھے اور وہ سارے آج اس سب سے بڑے کتے سے انتقام لینے کیلئے بےچین تھے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ بھائی کفیل کا کتا گھر سے بیٹھ کر بھونک رہا تھا اور باقی تمام کتے گائوں کے گھر گھر جاکر اس کے بارے میں بھونک رہے تھے۔ بھائی کفیل کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ گائوں کے تمام کتوں کو ہوا کیا ہے۔ ادھر مکھیا نے بھائی رزاق کو بلایا اور ان سے وعدہ کرلیا کہ وہ اگر اپنے کتے کے ذریعے بھائی کفیل کے کتے کو مروادے تو گائوں بھر سے جتنا گوشت بھائی کفیل کے گھر جاتا ہے وہ ان باقی کتا مالکان میں تقسیم ہوجائے گا۔ بھائی رزاق نے تمام کتا مالکان کو جمع کیا اور ایک سنگل پوائنٹ ایجنڈا منظور ہوا جسے "مشن کدو کٹے گا تو سب میں بٹے گا" کا نام دے دیا گیا۔

گائوں کے تمام کتے مل کر بھونک ہی رہے تھے مگر بھائی کفیل کا کتا اتنا پرانا اور مضبوط تھا کہ وہ برابر سے ان تمام کتوں کا مقابلہ کر رہا تھا۔ پچھلے بیس بائیس دن سے یہ محاصرہ اور مقابلہ جاری تھا اور اب گائوں والے بھی اس لڑائی سے بور ہو کر اس کے منطقی انجام کے منتظر تھے۔ ایک دن صبح صبح بھائی رزاق کے کتے نے عجیب منظر دیکھا کہ بھائی کفیل کا کتا مولوی صاحب کے گذرتے وقت بھونک رہا ہے۔ گائوں میں سے کسی نے اس بات کا نوٹس تک نہیں لیا کیوںکہ وہ سب ویسے ہی اپنے معمولات میں مگن اور مکھیا کی مہم کے بعد بھائی کفیل کے کتے سے ناراض تھے۔ بھائی رزاق کے کتے نے سب گائوں والوں کو جمع کیا اور مولوی صاحب پر دوبارہ بھونک بھونک کر لوگوں کو بتایا کہ بھائی کفیل کے کتے نے کس طرح ان پر بھونکنے کی گستاخی کی ہے۔ چونکہ مکھیا کا دست شفقت اب بھائی رزاق کے کتے پر تھا تو تمام گائوں والوں کو نہ صرف اس توہین کا یقین آگیا بلکہ انہیں یہ شعور بھی آگیا کہ بھائی رزاق کا کتا یہ حرکت صرف انہیں بتانے کیلئے کر رہا ہے اور اس کے اس طرح بھونکار دہرانے کے پیچھے مقصد صرف عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔

بھائی کفیل کے کتے کو مکھیا کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے یہ سزا سنائی گئی کہ صرف یہ والا کتا ناپاک جانور ہے لہٰذا اس سے ملنا، دیکھنا، سننا سب  حرام  ہے اور سزا کے طور پر جب تک مکھیا کو یقین نہ ہوجائے کہ یہ کتا سدھر گیا ہے اسے باقی کتوں کے آگے ڈال دیا جائے کہ وہ جو چاہے مناسب سلوک کریں۔ یہ فیصلہ آنا تھا کہ تمام کتے "کدو کٹے گا تو سب میں بٹے گا" کا نعرہ لگا کر اس بڑے کتے پر پل پڑے۔ تمام کتے اپنی اپنی اوقات کے مطابق اسے بھنبھوڑنے میں مصروف تھے کہ بھائی رزاق کے کتے نے لاڈ سے صدا لگائی ۔۔۔۔ پپی دے نا ۔۔۔۔ بھائی کفیل کا کتا سر جھکا کر بولا ۔۔۔۔

گردن مڑ رہی ہوتی تو تیری ۔۔۔۔

جمعرات، 2 جنوری، 2014

The Divine Peace

Note 1: I swear upon Lord Devil that despite having references from Qur’an this is not about how to be a good or practicing Muslim. Nor this would ask you to offer Prayers or Pay your charity. Relax and Enjoy

Note 2: I intended to write a blog but on the course of writing I realized that it would be an injustice to the topic if I summarize this just for the sake of summarizing. The topic demanded more than just a blog and hence I have opted to write a book on this. Enjoy this prologue.

 

Image

The Divine Peace

It was not until last night that this verse of Quran revealed its brightest of aspect to me. Like any other Muslim I had heard this famous verse in the Muslim weddings, `؛ وخلقناکم ازواجاAnd We have created everything in pairs’ but it was never to be considered of importance. They said, “If you want to completely ignore something, put it in the syllabus”, well said.

It was just another restless night and the virtual world that I had created as rendezvous for likeminded crazy souls, was as deserted as the soul I bear within. Being bored of being bored is the most boring thing for me. And it was one of those nights when you are actually bored of being bored. Surfing through internet I came across a meme which read, ‘Google is the biggest search engine and it knows the whereabouts of almost everything’. So I searched for Peace as this was the most desirable and dearest thing that was missing in life. Google had so many answers for this single word query. I have always had these two confusions spoiling my life. Either, when I don’t get an answer or when I have more than two answers to choose from.

As I have always been doing in life, I made a random click out of the options displayed on my computer screen and it took me to a discussion forum. It had a question posted by a user which truly represented my situation. The questioner had sought help in acquiring the peace that was missing in his life and the panel experts had responded to him with a detailed answered starting with the Famous Quran verse of “Truly, it is by the Remembrance of Allah that hearts find rest." [Qur'an, 13.28]”. Unfortunately this only increased my misery as I had been offering my prayers, had not been rigid with his creations, had always tried to be thankful, had been to his house in Mecca and yet I was stranded in search of peace. Something was terribly mistaken about the translation of this verse. It couldn’t be just calling his name that would bring me to peace; it has to be something more than that. Peace for me is like paradise; (or maybe it would only be a paradise because it would give you a divine peace). And things of that caliber don’t come so cheap. It can’t be earned through chanting some holy names (irrespective if it is Om or Allah Ho).

The next weeks to come were very disturbing. I have this annoying habit of keeping my mind focused on something until I get a satisfactory answer for it. At times it is good but at the others it gets terrible. I was in a continuous cycle of thinking, evaluating, discarding and rethinking the probable meaning of that key to divine peace and then it came to me that it might mean that somewhere in the words of God lays the key to divine peace and I have to look beyond this verse and into the complete book.

What happened in this journey, what was the key to divine peace, did I manage to get that? Stay tuned for the book :)

بدھ، 25 دسمبر، 2013

قائد کے نام

نوٹ: یہ مضمون سالِ گذشتہ 25 دسمبر پر لکھا گیا تھا مگر ملکی حالات کے پیشِ نظر اسے مناسب ترمیم کے ساتھ دوبارہ پیش کر رہا ہوں۔

پیارے قائد! مجھے یقین ہے کہ آپ رب تعالٰی کی جنتوں میں کسی بہت بلند مقام پر ہوں گے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی 25 دسمبر کا  شور ہے۔ 14 اگست اور 23 مارچ وغیرہ کی طرح یہ دن بھی ان گنے چنے دنوں میں سے ایک ہے جب یہ قوم کرنسی نوٹوں کےعلاوہ بھی آپ کی تصویر دیکھتی ہے۔ ہر کوئی آپ کے بارے میں بات کرکے آپ سے اپنی انسیت اور عقیدت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ شاید میں بھی ان ہی لوگوں میں سے ایک پاکستانی ہوں۔

آج صبح سے ہی ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ چل رہا ہے اور ہر شخص آپ سے معذرت کے نام پر آپ کو احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہے کے آپ کا وطن کس حد تک بگڑ چکا ہے اور شاید ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ بھی کہ یہ ملک بنانا آپ کی کتنی بڑی غلطی تھی۔ ٹوئیٹر پر چھوٹی موٹی سیلیبریٹی تو قائد اب میں بھی ہوں۔ ہزار سے زائد فالوورز ہیں (اگر آپ کہیں تو اگلے جمعے آپکے لیئے سپیشل فرائڈے فالو مہم بھی چلوا سکتا ہوں) سو میں نے سوچا کے میں کیوں پیچھے رہوں؟ لہٰذا میرے حصے کا معذرت نامہ بھی حاظر ہے۔



قائد آپ بڑے انسان تھے اور اس بات کے ثبوت کیئے خود پاکستان کا وجود کافی ہے مگر آپکے بڑے ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک آج بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ آپ کا تعلق ہمارے مسلک اور تنظیم سے تھا۔ آجکے پاکستان میں اگر گاندھی جی اور کانگریس بھی جلسہ کریں تو بالیقین، سٹیج کے بیک ڈراپ پر انہوں نے بھی آپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کھچوائی گئی کوئی تصویر ہی لگانی ہے کہ اب آپ سے تعلق ثابت کرنا اس ملک کا نیا فیشن ہے۔ اس ملک میں یہ عزت آپ کے اور علامہ اقبال کے بعد شاید ہی کسی اور کے حصے میں آسکے۔



قائد! میں لکھنے تو بیٹھ گیا ہوں مگر مجھے نہیں معلوم کہ مجھے معافی کس بات کی مانگنی چاہیئے؟ کس بات پر کہوں کہ میں شرمندہ ہوں؟ قائد! مجھے اس بات پر کوئی شرمندگی نہیں ہے کہ آپ کا پاکستان اب فرقوں اور مسلکوں میں بٹا ہوا ہے کیونکہ آپ خود بھی جانتے ہیں کہ بیماری صرف چند تنگ نظر اور کم فہم لوگوں تک محدود ہے۔ آپ جانتے ہیں کے آپ کے پاکستان میں کسی سوالی کے سوال پر اس کا مذہب پوچھ کر مدد نہیں کی جاتی۔ آپ جانتے ہیں کے ہر دوسرے سنی کا سب سے قریبی دوست کوئی شیعہ ہے اور کسی شیعہ کا حلقہ احباب اہل سنت بھائی کی موجودگی کے بغیر مکمل نہیں۔ آپ جانتے ہیں کے ہم سب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور وقتی رنجشیں توخونی رشتوں میں بھی آ ہی جایا کرتی ہیں۔ ان کا مطلب دشمنی نہیں ہو سکتا!!! ہاں میں شرمندہ ہوں کے میں نے اپنا لیڈر وقتی طور پر ان لوگوں کو چن لیا تھا جن کی دکانیں ہی اس تفرقے سے چلتی ہیں مگر اللہ کے بعد میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کے میں کسی ایسی سازش کا شکار نہیں بنوں گا جو مجھے میرے بھائیوں سے دور کرے۔



قائد! مجھے تکلیف ضرور ہوتی ہے جب ایک اور سیاستدان اس ملک کی بوٹی نوچتا ہے مگر میں شرمندہ نہیں ہوں۔  میں کیونکر شرمندہ ہو سکتا ہوں جب میں دیکھتا ہوں کے میرے ملک کے لوگ اب ان کی اصلیت پہچاننے لگے ہیں۔ قائد آپ نے دیکھا کہ نتیجہ سے قطع نظر یہ لوگ اب صرف گھر میں بیٹھ کر بات کرنے کے بجائے باہر آکر اپنا ووٹ درج کراتے ہیں۔ اندھی تقلید جو کبھی اس قوم کے مزاج ایک حصہ تھی اب دم توڑتی جا رہی ہے۔ مجھے پتہ ہے آپ عملی انسان تھے اور شاعری سے کوئی خاص شغف نہیں رکھتے تھے مگر پھر یہ آپ کے دوست جناب علامہ ہی تو کہہ گئے ہیں کہ "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی" ۔۔۔ میں معذرت خواہ ہوں قائد کے مٹی کو نرم ہونے میں تھوڑی دیر لگی مگر قائد، یقین رکھیئے کے مٹی اب نرم ہونا شروع ہو گئی ہے۔



قائد! مجھے افسوس ضرور ہے کے جس فلاحی ریاست کے قیام کے لیئے آپ نے دن رات اور صحت کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذندگی لگا دی وہ سرکاری سطح پر قائم نہ ہو سکی۔ برا لگتا ہے جب سرمایہ دار اور وڈیرہ شاہی اکثریت کو اس ملک کے جمہور غریب عوام پر حکومت کرتا بلکہ شاید روندتا ہوا دیکھتا ہوں۔ مگر قائد مجھے یقین ہے کے آپ جانتے ہیں کہ اپنے محدود وسائل کے باوجود یہ پاکستانی دنیا بھر میں سب سے زیادہ چیرٹی کرنے والی قوم ہے۔ میرا سینہ فخر سے خودبخود پھول جاتا ہے جب میں ایدھی صاحب، ادیب رضوی، رمضان چھیپا اور ان جیسے بےشمار لوگوں کو بلاتفریق عام انسان کی خدمت کرتے دیکھتا ہوں۔ فلاحی حکومت کا معلوم نہیں مگر فلاحی معاشرہ بننے کے لیئے درکار تمام جزو اس قوم میں موجود ہیں۔



!پیارے قائد! میں شرمندہ تو ہوں مگر نا امید نہیں



اس امید کے ساتھ اجازت کے اگلے سال میں معذرت کے بجائے کسی خوشخبری کے ساتھ حاظر ہوں۔



آپ کا تابعدار



ایک پرعزم پاکستانی 

منگل، 24 دسمبر، 2013

تحفہ

(نوٹ: اس کہانی کے تمام نام، مقام اور کردار فرضی ہیں)

اچھے وقت کی سب سے بری چیز یہ ہوتی ہے کہ یہ بہت جلدی گذر جاتا ہے۔ کل ہی کی سی تو بات ہے جب میں خود اس ہی طرح رخصت ہو کر آئی تھی اور آج پچیس برس بعد ٹھیک اس ہی دن میں اپنی بیٹی کو رخصت کر کے آرہی ہوں، یقین ہی نہیں ہوتا! گاڑی کی سیٹ پر تقریباَ نیم دراز مسز حمید اپنی ہی سوچ پر مسکرا اٹھیں۔

مسٹر اور مسز حمید کا شمار ملک کے سب سے بڑے بزنس ٹائکونز میں ہوتا تھا مگر ان دونوں کی اصل وجہ شہرت ان کی کاروباری نہیں بلکہ نجی زندگی تھی۔ ان دونوں کے باہمی رشتے کی ایک دنیا مثال دیا کرتی تھی۔ پچیس سال کی اس رفاقت میں کبھی کسی رنجش کا نہ ہونا بذات خود اس رشتے اور تعلق کی نوعیت کا عکاس تھا۔ شادی کی شب ہی حمید صاحب کا کیا ہوا وعدہ کہ "آپ کے بعد میری زندگی میں اگر کبھی کوئی اور لڑکی آئی بھی تو وہ ہماری بیٹی ہو گی" کو حمید صاحب نے ہمیشہ نبھایا تھا۔ بیٹی کی شادی کا دن اپنی شادی کی سالگرہ کے دن کو منتخب کرنا بھی شاید اس ہی کی وجہ سے تھا۔

گاڑی کے ساتھ ساتھ یادوں کی ایک بارات بھی مسلسل رواں دواں تھی۔ عالیہ بختیار جو آج مسز عالیہ حمید کے نام سے جانی جاتیں تھیں نے آنکھیں بند کر کے اپنے آپ کو ان یادوں کے سپرد کر دیا۔

سیٹھ بختیار کا شمار خاندانی رئوسا میں ہوتا تھا اور عالیہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ کچھ تو اکلوتی ہونے کے ناتے اور زیادہ اپنی خوبصورتی اور حاضر دماغی کی وجہ سے وہ بچپن سے ہی ماں باپ کی لاڈلی تھی۔ بچے اگر چاندی کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں تو عالیہ شاید سونے کا ہیرے جڑا چمچ لے کر پیدا ہوئی تھی۔ بے تحاشہ وسائل، بے جا لاڈ اور مصروف والدین، ان میں سے ہر ایک چیز کسی بچے کو بگاڑنے کو کافی ہے اور جہاں یہ تینوں زہر قاتل اکٹھے ہو جائیں اسے عالیہ بختیار کہتے تھے۔
پی ٹی وی کے زمانوں میں بھی وہ صرف آٹھویں کلاس میں تھی جب اس نے سکول سے بھاگ کر پہلی ڈیٹ ماری تھی۔ اور اے لیول تک پہنچتے پہنچتے وہ اپنے عشاق اور ان سے کی گئی ان رومانوی ملاقاتوں کی تعداد تک بھول چکی تھی۔ زندگی اپنی رفتار میں مگن چل رہی تھی مگر پھر یونیورسٹی میں عالیہ کی ملاقات غضنفر سے ہوگئی۔ غضنفر کا تعلق انسانوں کے اس قبیلے سے تھا جو روزانہ کی بنیاد پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ جن کی زندگی میں کل، منصوبہ بندی، احتیاط وغیرہ جیسی کسی چیز کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ اور پھر عالیہ کو شائد زندگی میں پہلی بار اپنے علاوہ کسی اور سے محبت ہو گئی۔ اسے لگنے لگا کہ جس ہیرے کی تلاش میں وہ اب تک کنکر کھنگالتی رہی تھی وہ اسے مل گیا ہے۔ غضنفر کی شکل میں اس کو اپنا ہمزاد مل گیا تھا۔ دونوں زندگی میں قیود کے قائل نہیں تھے اور محبت نامی بلا تو ہمیشہ سے حدود کی منکر رہی ہے۔ خبر جب تک سیٹھ بختیار تک پہنچی تب تک پانی سر سے بہت اوپر جا چکا تھا۔ عالیہ جو اب ایلی کے نام سے جانی جاتی تھی، کسی صورت غضنفر سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھی۔

اس مسلسل ذہنی اذیت اور دبائو کا اثر ان کے بزنس اور صحت دونوں پر پڑ رہا تھا۔ بائیس سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ ان کے ادارے نے کسی ٹینڈر میں حصہ لیا ہو اور وہ ان کے نام نہ نکلا ہو۔ بختیار صاحب کو احساس ہوگیا تھا کہ دنیا فتح کرنے کے اس سفر میں گھر کہیں بہت دور رہ گیا تھا۔

حالات شاید خراب تر ہو جاتے اگر ذیشان نام کا وہ مسیحا ان کے ذاتی مددگار کی نوکری کا انٹرویو دینے ان کے دفتر نہ آتا۔ گو کہنے کو ذیشان ایک پسماندہ شہر کے یتیم خانے سے اٹھ کر آیا تھا مگر اس کے اطوار بتاتے تھے کے اس کی رگوں میں کسی نجیب انسان کا خون تھا۔ نرم گفتار اور نرم خو تو وہ شاید بچپن سے ہی تھا اور یتیم خانے کی سختیوں نے اسے صابر اور شاکر بھی بنا دیا تھا۔ یتیم خانے میں رہنے اور وہیں پلنے بڑھنے کے باوجود اس نے تعلیم سے اپنا رشتہ نہیں توڑا تھا۔ مسلسل محنت کے بعد وہ پرائیوٹ بی اے کر چکا تھا اور انگریزی پر اس کی مہارت سے لگتا نہیں تھا کہ اس کا تعلق معاشرے کے محروم طبقے سے تھا۔

نوکری کا انٹرویو لیتے ہوئے بھی بختیار صاحب کا دماغ عالیہ ہی کی طرف الجھا ہوا تھا۔ انٹرویو میں وہی معمول کے دہرائے جانے والے سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا۔ ازدواجی حیثیت کے سوال کے جواب میں ذیشان کا یہ کہنا تھا چونکہ اس کی نہ کوئی شناخت ہے نہ خاندان، لہٰذا شہر تو کیا پورے ملک میں اسے کوئی نہیں جانتا اور اسے اپنی بیٹی دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ شائد ان دونوں کو اس وقت انداذہ نہیں تھا کہ یہ معمول کا سوال آنے والے وقتوں میں کس طرح ان دونوں کی ذندگی تبدیل کر دے گا۔

بختیار صاحب ذیشان کی لگن اور آگے بڑھنے کا جذبہ دیکھتے ہوئے اسے ایک موقع دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اور ہر گذرتے دن کے ساتھ ذیشان نے ان کے فیصلے کو درست ثابت کر دیا۔ وہ ایک سادہ مگر سچا، ایمان دار اور اپنے کام سے مخلص انسان ثابت ہوا تھا۔ تین ماہ کے قلیل عرصے میں ہی اس نے بختیار صاحب کے دل میں گھر کر لیا تھا اور وہ کام کے حوالے سے اس پر آنکھ بند کر کے اعتماد کرنے لگے تھے۔ اسے آزمانے کے لیئے انہوں نے ذیشان کو کچھ ایسے کام بھی سونپے جن میں رقوم کا لین دین شامل تھا مگر وہ ہر بار بختیار صاحب کے اعتماد پر پورا اترا۔

وہ ایک معمول سا ہی دن تھا جب بختیار صاحب ظہرانے کے لیئے اپنے پسندیدہ ہوٹل پہنچے۔ اپنی مخصوص نشست پر بیٹھتے ہوئے ان کی نظر پیچھے والی نشست پر پڑی جہاں ایک رومانوی جوڑا ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر دنیا جہان سے بے نیاز ہو کر بیٹھا تھا۔ دل ہی دل میں ان کے والدین پر افسوس اور نوجوان نسل کی بے راہروی کو کوستے ہوئے وہ شائد بھول بیٹھے تھے کہ ان کی اپنی بیٹی اکثر اس ہی حالت میں پائی جاتی تھی۔ شاید ہم میں سے ہر ایک ہی اپنی غلطیوں کا بہترین وکیل اور دوسرے کی غلطیوں کا بہترین منصف ہوتا ہے- کھانے کا انتخاب کرتے ہوئے وہ ایک لحظہ کو ٹھٹکے جب پچھلی نشست سے ان کے نام کی آواز آئی۔ وہ لڑکا اس لڑکی سے ان کے متعلق کچھ بات کر رہا تھا۔ فطری طور پر اب بختیار صاحب کی توجہ کھانے سے زیادہ اس جوڑے کی گفتگو پر تھی۔ اگلے دس منٹ میں انہوں نے جو کچھ سنا وہ ان کے ہوش اڑانے کیلیئے کافی تھا۔ غضنفر نامی وہ نوجوان اس لڑکی کو یہ یقین دلانے میں مصروف تھا کہ اس نے شہر کے ایک بڑے رئیس بختیار صاحب کی اکلوتی بیٹی کو اپنے قابو میں کر لیا ہے اور بہت جلد اس سے شادی کر کے بختیار صاحب کی دولت ہتھیا لے گا۔ ایک دفعہ جائداد ہاتھ لگ گئی تو وہ عالی کو طلاق دے دے گا جس کے بعد وہ اس لڑکی کے ساتھ شادی کر لے گی۔

گفتگو کا ایک ایک لفظ ان کے کان میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اتر رہا تھا اور ان کے دماغ اس وقت شدید زلزلوں کی لپیٹ میں تھا مگر وہ ایک کامیاب کاروباری انسان تھے اور جانتے تھے کے جذبات میں کیئے گئے اکثر کام ندامت پر ختم ہوتے ہیں۔ بھوک تو کب کی اڑ چکی تھی سو انہوں نے کھانا کھائے بغیر ہی اٹھ جانے کا ارادہ کیا۔ واپسی کے راستے اور پھر پورا دن یہی چیز ان کے دماغ پر سوار رہی اور دفتر سے نکلتے وقت تک اک کا منصوبہ ساز زہن ایک شاندار ترکیب سوچ چکا تھا۔

رات کے کھانے پر انہوں نے اہتمام کیا تھا کے پوری فیملی اکٹھی ہو۔ بہت عرصہ بعد ایسا ہوا تھا کہ کھانے کی میز پر وہ تینوں اکٹھے تھے۔ کھانے کے دوران بختیار صاحب خلاف معمول عالیہ سے اس کے معمولات اور پڑھائی کے بارے میں پوچھتے رہے اور پھر باتوں باتوں میں وہ گفتگو عالیہ کی شادی اور مستقبل پر لے آئے۔ مسز بختیار اس گفتگو کا منطقی انجام جانتی تھیں سو اٹھ کھڑی ہوئیں، مگر بختیار صاحب نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں واپس بٹھا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عالیہ کے مستقبل کے لیئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس کا جاننا ان کے لیئے ضروری ہے۔ بختیار صاحب کا یہ کہنا کہ وہ عالیہ کی شادی غضنفر سے کرنے کیلیئے تیار ہیں، مسز بختیار اور عالیہ دونوں ہی کے لیئے حیران کن تھا۔ عالیہ تو ان کے گلے میں جھول ہی گئی۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ بختیار صاحب نے عالیہ کو کہا کے وہ غضنفر کو لیکر اگلے دن ان کے دفتر آجائے۔

اس رات عالیہ خوشی کی وجہ سے سو نہ سکی۔ غضنفر، ان دونوں کی شادی، ایک حسین مستقبل، یہ سارے خیالات اس کو رات بھر جگانے کے لئے کافی تھے۔ خواب کا بھی عجیب معاملہ ہے، یہ کبھی امیر اور غریب میں تفریق نہیں کرتے اور جب تک خواب رہیں ایک جیسی ہی کسک دیتے ہیں۔ ایک میٹھی سی آگ ہی تو ہوتے ہیں یہ کہ جو بڑھ جائے تو یا تو کندن بنا چھوڑتی ہے یا یکسر خاک کر دیتی ہے۔ صبح اس نے غضنفر کو ساتھ لیا اور سیدھی باپ کے دفتر جا پہنچی۔ بختیار صاحب خلاف توقع بہت گرم جوشی سے ملے۔ غضنفر کے ساتھ ان کی گرم جوشی خود عالیہ کے لیئے بھی حیران کن تھی مگر وہ خوش تھی کے بالآخر ان کو غضنفر کے ساتھ اس کی بے پناہ محبت کا احساس ہو گیا تھا۔

دورانِ گفتگو کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی اور خواجہ صاحب کمرے میں داخل ہو گئے۔ بیرسٹر خواجہ، بختیار صاحب کے پرانے وکیل تھے اور ان کے تمام قانونی امور وہی دیکھتے تھے۔ بختیار صاحب نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دوبارہ غضنفر سے گفتگو میں مصروف ہو گئے۔ عالیہ جو اب اس سوال و جواب سے اکتا چکی تھی وہ خواجہ صاحب کی طرف متوجہ ہوئی۔ عالیہ بچپن سے ہی خواجہ صاحب کی نہایت چہیتی تھی اور وہ خود بھی انہیں خاندان کے ایک بزرگ کی طرح عزت دیتی تھی۔ ان کی بیٹی سمیرا اس کی بچپن کی دوست تھی اور شادی کے بعد آج کل انگلینڈ میں ہوتی تھی۔ سمیرا کے حال احوال سے فارغ ہو کراس نے خواجہ صاحب سے گھر نہ آنے کا شکوہ کیا۔ خواجہ صاحب نے کہا کے بس آپ کے بابا کی پراپرٹی کی منتقلی کا کام ہی اتنا زیادہ ہے کہ کسی چیز کا وقت ہی نہیں مل پا رہا۔ کمرے میں تھوڑی دیر کے لیئے خاموشی پھیل گئی۔ اب غضنفر بھی اپنی گفتگو کو بھول کر اس طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ عالیہ نے کہا، بابا آپ کہاں جا رہے ہیں جو یہ سب کاروبار اور جائداد میرے نام منتقل کر رہے ہیں؟ بختیار صاحب مسکرا کر بولے بیٹا میں جانتا ہوں غضنفر سے تمہاری محبت کی وجہ اس کی خودداری ہے اور وہ مجھ سمیت کسی بھی شخص سے تمہارے لیئے ایک روپیہ لینا گوارا نہیں کرے گا۔ بس یہی سوچ کر میں نے یہ ساری جائداد مختلف فلاحی اداروں میں بانٹ دی ہے۔ میں نہیں چاہتا تھا کے میرے جانے کے بعد میری وجہ سے تمہارے رشتے میں کوئی تلخی آئے۔ غضنفر اپنی نشست پر بیٹھا شدید پیچ و تاب کھا رہا تھا مگر ماحول کو دیکھتے ہوئے سوائے مسکرانے کے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

اس ملاقات کے اگلے دن تمام ملکی اخبارات سیٹھ بختیار کا اپنی جائداد وقف کر دینے کا اعلان سرورق پر شائع کر رہے تھے۔ غضنفر کی رہی سہی امیدیں بھی اب دم توڑ گئی تھیں اور اب عالیہ کو برداشت کرنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا تھا۔ اس نے عالیہ سے مکمل طور پر ملنا چھوڑ دیا۔ یونیورسٹی میں اگر سامنہ ہو بھی جاتا تو وہ یوں انجان بن کر سامنے سے گذر جاتا جیسے کبھی جانتا ہی نہ ہو۔

شروع شروع تو عالیہ اُس کی اِس بے رخی کی وجہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہی مگراس ناکام کوشش کے بعد وہ مسلسل ٹوٹتی چلی گئی۔ ٹھکرائے جانے کا احساس تو فرشتے کو بھی شیطان میں تبدیل کردیتا ہے اور یہ تو پھر عالیہ بختیار تھی۔ وہ مسلسل بدلے کی آگ میں جل رہی تھی اور تب ہی اس کی ملاقات حمید نامی ایک نوجوان سے ہوئی۔

غضنفر کا اصل روپ جاننے کے بعد بختیار صاحب نے ذیشان اور خواجہ صاحب کو اعتماد میں لےکر یہ کھیل کھیلا تھا۔ وہ جانتے تھے کے عالیہ میں غضنفر کی دلچسپی کی واحد وجہ اس کی متوقع جائداد اور کاروبار تھا۔ اخبار میں چھپی اس جھوٹی خبر نے ان کا کھیل ان کی امید سے زیادہ آسان کر دیا تھا۔ کھیل کے اگلے حصے میں ذیشان کو ایک نئی شناخت حمید کے نام سے دی گئی اور اس کو عالیہ کے قریب کیا گیا۔ ذیشان اس سب کے لیئے شائد کبھی تیّار نہ ہوتا مگر ایک لاچار باپ کی فریاد جو اپنی بیٹی کو کھائی میں گرنے سے روکنا چاہتا تھا، اسے مجبور کر گئی۔

عالیہ شاید اپنے حصے کی محبت کر چکی تھی مگر حمید کے شائستہ اطوار، دھیمہ اور سچا لہجہ اور اس کی آنکھوں میں جھلکتی شرم، یہ سب وہ چیزیں تھیں جو عالیہ نے اس عمر کے کسی لڑکے میں اس سے پہلے نہیں دیکھی تھیں۔ ایک عجیب سے پراسراریت تھی اس میں، جیسے وہ بہت کچھ کہنا چاہتا ہو مگر عالیہ کے ساتھ وہ اچھا مقرر بننے کے بجائے اچھا سامع بنا رہتا۔ اس نے بتایا تھا کے اس کی فیملی امریکہ میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئی تھی اور وہ اپنا سب کچھ سمیٹ کر وطن واپس آگیا تھا۔ عالیہ کو یقین ہو چلا تھا کے دکھ سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں فرق صرف شدت کا ہوتا ہے۔ اس نے بھی عالیہ کی طرح کوئی اپنا کھویا تھا اور شاید یہی درد کا رشتہ اس وقت ان دونوں کو قریب لا رہا تھا۔

حمید کے ساتھ اس کی ملاقاتیں مسلسل بڑھتی جا رہی تھیں۔ ایک دن حمید عالیہ سے ملنے یونیورسٹی آ پہنچا۔ وہ دونوں یونیورسٹی کے لان میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب غضنفر کا وہاں سے گذر ہوا۔ عالیہ کی نظر اس پر پڑی اور دھوکہ نہیں کھا سکتی تھی، زندگی میں پہلی بار اس نے غضنفر کی آنکھوں میں جلن اور غصّہ دیکھا تھا۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب انتقام کی آگ میں اس نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ اگلے ہی ہفتے وہ عالیہ بختیار سے عالیہ حمید ہو چکی تھی۔

شادی کے بعد بھی وہ غضنفر کو بھلا نہیں پائی تھیں۔ ان کی شادی کے بعد غضنفر نے یونیورسٹی چھوڑ دی تھی۔ انہیں لگتا تھا وہ انہیں کسی اور سے منسوب ہونے کی اذیت سہہ نہیں پایا تھا۔ دوسری طرف حمید ان سے واقعی بے پناہ محبت کرتا تھا۔ حمید نے انہیں محبت کا ایک نیا روپ متعارف کروایا تھا جو کم و بیش پوجے جانے سے جا ملتا تھا۔ مگر کسی نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ پہلی محبت اس پینٹ کی طرح ہوتی ہے جس پر چونے کی جتنی تہیں چڑھا لو، آنسوئوں کی ایک بارش سے اندر کا اصل رنگ باہر آجاتا ہے۔

ان کی شادی کو دو سال ہو گئے تھے جب ایک دن ایک انجان نمبر سے پیغام آیا، غضنفر اس سے ملنا چاہتا تھا۔ دماغ کے بہت سمجھانے کے باوجود وہ خود کو روک نہیں پائیں۔ غضنفر بہت ابتر حال میں تھا۔ اس نے بتایا کے پولیس اسے دھوکہ دہی کے ایک جھوٹے مقدمے میں اٹھا کر لے گئی تھی اور پچھلے دو سال سے وہ ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہا تھا۔ قید کے ان دو سال نے اس سے عزت و گھربار دونوں چھین لیے تھے اور اب اس کے پاس نہ رہنے کو گھر تھا نہ جیب میں پیسے۔ عالیہ کو لگا کے وہ اپنے حصے کی سزا کاٹ چکا ہے۔ انہوں نے کھانے کا بل ادا کیا اور غضنفر کو ساتھ لے کر سیدھی اپنے ایک غیر آباد فلیٹ پر لے گئیں۔ فلیٹ کی صفائی اور راشن ڈلوانے کے بعد فلیٹ کی چابی اور کچھ پیسے غضنفر کے حوالے کیئے اور پھر آنے کا وعدہ کر کے رخصت ہو گئیں۔ محبت ایک واحد بیماری ہے جس میں انسان خوش ہو کر آنکھوں دیکھی مکھی نگل لیتا ہے۔

غضنفر کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ اب وہ روزانہ دن کا ایک حصہ غضنفر کے ساتھ گذارتی تھیں۔ حمید صاحب کو اپنے پیچھے اٹھنے والے اس طوفان کی خبر تک نہ تھی۔ وہ اب بھی اس ہی طرح عالیہ سے محبت کرتے تھے اور دفتر میں مصروف دن گذارنے کے بعد ان کو بھرپور توجہ دینے کی کوشش کرتے تھے۔ زندگی اس ہی طرح رواں تھی جب ایک دن خبر آئی کے غضنفر ایک پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔ عالیہ اس خبر کو سن کر بے ہوش ہو گئیں تھیں۔ جب ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں موجود تھیں۔ ڈاکٹر نے انہیں مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ کمزوری کی وجہ سے بےہوش ہو گئی تھیں اور انہیں اس حالت میں اپنا خصوصی خیال رکھنا چاہیئے۔ وہ ماں بننے والی ہیں۔

آنے والے دنوں میں انہیں غضنفر کی اصلیت کا بھی پتہ چل چکا تھا کہ وہ کس طرح دھوکہ دہی، اغوا برائے تاوان اور منشیات جیسی چیزوں کے کاروبار میں ملوث تھا اور جیل سے فرار ہو کر ان کی پناہ میں رہ رہا تھا۔ کسی کے ہاتھوں استعمال ہونے کا احساس شاید کسی کے ہاتھوں ٹھکرائے جانے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ عالیہ نے اب اپنی زندگی حمید صاحب اور اپنے آنے والے بچے کے نام کر دی تھی۔ حمید صاحب نے بھی اس خوشگوار تبدیلی کو محسوس کیا تھا اور ان کے التفات میں بھی واضح اضافہ ہو گیا تھا۔ اور پھر علیزہ ان کی زندگی میں آئی۔ جس دن وہ علیزہ کو لے کر گھر پہنچیں اس دن حمید صاحب نے ان سے دو وعدے کیے تھے۔ اول تو کہ ان کے بعد حمید صاحب کی زندگی میں کوئی لڑکی اگر قیمتی ہوئی تو وہ ان کی بیٹی ہوگی اور دوسرا یہ کہ علیزہ کی شادی والے دن وہ ان کی زندگی کا سب سے یادگار تحفہ دیں گے۔

زندگی کی کونسی نعمت یا خوشی ایسی تھی جوحمید صاحب نے ان کے قدموں میں نہ ڈھیر کی ہو۔ ہر مرتبہ مسز حمید کا یہی سوال ہوتا تھا کہ آیا یہی وہ تحفہ ہے جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا اور ہر مرتبہ وہ مسکرا کر یاد دلاتے کے آج علیزہ کی شادی نہیں ہے۔ اس ہی محبت بھری نوک جھونک میں بائیس برس بیت چکے تھے اور آج علیزہ کی شادی تھی۔ دیکھتے ہیں آج حمید صاحب کا سرپرائز اصل میں کیا نکلتا ہے۔ مسز حمید یادوں کی دنیا سے باہر آتے ہوئے ایک بار پھر مسکرا اٹھیں۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی جوّٰاد کا فون بجا تو اس نے ناگواری سے سوچا کہ کون احمق اس کی شادی کی رات کو تنگ کر رہا ہے مگر موبائل پر علیزہ کے گھر کا نمبر دیکھتے ہی اس نے کال اٹھا لی۔ دس منٹ بعد وہ اور علیزہ گھر کی طرف اڑے جا رہے تھے۔ گھرسے رحیم بابا کا فون تھا، حمید صاحب کا کچھ پتا نہیں چل رہا اور مسز حمید کمرے کا دروازہ نہیں کھول رہیں۔ جب تک وہ لوگ گھر پہنچتے رحیم بابا ڈپلیکیٹ چابی سے کمرے کا دروازہ کھول چکے تھے جہاں مسز حمید فرش پر بے ہوش پڑی تھیں۔ علیزہ نے دوڑ کر ان کو اٹھایا اور رحیم بابا کو پانی لانے کے لیئے بھیجا۔ جواد کی نظر اس کھلے ہو ئے گفٹ پیک پر پڑی جس میں سے کچھ کاغذ جھانک رہے تھے۔ جواد نے وہ دستاویز باہر نکالی اور ایک لحظہ کو خود بھی ہکا بکا رہ گیا۔ حمید صاحب نے یادگار تحفے کے طور پر عالیہ کو طلاق دے دی تھی۔ دماغ میں طوفانوں کے جھکڑ کے ساتھ وہ اس سب کی وجہ سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اس کی نظر طلاق نامے کے نیچے ایک اور کاغذ پر پڑی۔ یہ کسی ذیشان نامی شخص کی میڈیکل رپورٹ تھی جو پیدائشی بانجھ تھا۔

ختم شد۔

نوٹ: اس میں شاید ابھی کئی جھول ہیں- انشاءاللہ وقت نکال کر تصحیح کر دوں گا۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت