اتوار، 13 جنوری، 2019

ولن


نانا ابا ٹھیک ہی کہتے تھے کہ کہانی کبھی نہیں بدلتی، فقط کردار بدلتے ہیں! اور کردار  کی تبدیلی بھی کیا؟ فقط ان کے نام!
آج جب برسوں بعد وطن واپس لوٹا ہوں تو یہاں نانا ابا کے کمرے میں موجود ہر ہر چیز وہیں موجود ہے جہاں کبھی ہوا کرتی تھی۔ البتہ مسلسل جھاڑ پونچھ اور صفائی کے باوجود وقت چیزوں پر اپنے اثرات چھوڑ گیا ہے اور تمام اشیاء سالخوردہ معلوم ہوتی ہیں۔ شاید کراچی کی ہوا ہی ایسی ہے۔ یہ انسانوں اور رشتوں کو نہیں بخشتی تو چیزیں اگر کھوکھلی ہوجائیں تو تعجب کیسا؟میں بالعموم فلسفہ نہیں بکتا مگر اب نانا ابا کی لکھنے کی میز پر بیٹھا ہوں تو  کچھ تو اثر آنا بنتا ہے نا۔  
میں نے عمر کا ایک بہت بڑا حصہ اس ہی میز کی دوسری طرف گزارا ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا تھا نانا ابا کو بیشتر میز کے اس جانب بیٹھے لکھتا پایا تھا جہاں اس وقت میں براجمان تھا۔ نانا ابا اپنے وقت کے بہترین لکھاری تھے۔ ان کے فن کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ ان کی زندگی تو کجا ، ان کے گزرنے کے پندرہ سال بعد بھی وہ مشہور نہیں ہوسکے تھے۔ اس ہی میز پر بیٹھ کر نانا ابا نے وہ تمام شاہکار تراشے تھے جن کا آخری ٹھکانہ چولہا یا کوڑے دان ہوا کرتا تھا۔ انسانی نفسیات نانا ابا کا پسندیدہ موضوع ہوا کرتا تھا۔ وہ اس کی نئی نئی پرتیں دریافت کرکے اپنی کہانیوں کے ذریعے انہیں کھولنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ اگر عقدہ حل ہوجاتا تو اسے جلا دیتے اور اگر ناکام رہتے تو کسی بھی اخبار یا جریدے کو بھیج کر فرضی نام سے چھپوا دیا کرتے اور خوب خوب داد سمیٹتے۔چہیتا ہونے کی سزا کے طور پر وہ کہانیاں جلنے سے پہلے میرے  حصے میں آتیں اور بسا اوقات میں انہیں محض یہ سوچ کر برداشت کرلیتا تھا کہ انشاءاللہ اس کے بعد یہ کہانی اس ہی طرح جل کر راکھ ہوگی جیسے اس وقت میں اندر ہی اندر بھسم ہورہا ہوں۔
اس ہی میز کے دوسرے طرف بیٹھ کر میں نے نانا ابا سے وہ آخری کہانی بھی سنی تھی کہ جس کے بعد نانا ابا نے لکھنا چھوڑ دیا تھا۔ مجھے یاد ہے کس طرح اس دن ہم دونوں دیر تک بحث کرتے رہے تھے۔  نانا ابا کا کہنا تھا کہ کہانی ہمیشہ ہیرو کے نقطہ نظر سے لکھی جاتی رہی ہے۔ کبھی کسی نے ولن کا نقطہ نظر بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اور اگر کی بھی تو اس بھونڈے پن سے کہ کہانی کے آخر میں وہ ولن ہی ہیرو بن گیا۔ گویا وہ کہانی بھی ایک ہیرو کی ہی ہوئی کہ جسے زمانہ ولن سمجھتا رہا تھا۔ میرا ماننا  تھا کہ کہانیاں ہوتی ہی اصلاح کے لئے ہیں۔ ایسی کہانی کا فائدہ جس میں کوئی پیغام ہی نہ ہو  یا اس سے بھی بدتر کہ برا پیغام جائے؟  وہ کہانی تو نہ ہوئی، نری زبان کے چٹخارے کی مشق ہوئی ! نانا ابا کی جوابی دلیل یہ تھی کہ جسے اصلاح چاہئے وہ سر سید احمد خان کو پڑھے یا غامدی کو سنے ۔ جس کو ہو جان و دل عزیز میری گلی میں آئے کیوں؟  میں اس بات پر مُصِر تھا کہ لفاظی برطرف، کہانی کے اندر بہرحال مقصدیت ہونی چاہئے ورنہ کہانی لکھنے کا احسان نہیں کرنا چاہئے۔ گفتگو میں آوازیں اونچی نہیں ہوئیں تھیں مگر لفظ ادائیگی میں جس طرح چبائے جا رہے تھے وہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ  ہم دونوں  ہی سمجھتے تھے کہ ہم غلط ہیں مگر ہماری انا اس بات کے ثابت ہوجانے سے خائف تھی۔
نانا ابا کی اس آخری کہانی کے مطابق کسی گاؤں میں ایک نہایت کمینہ اور کم ظرف آدمی رہا کرتا تھا جو تمام انسانیت کے کام آتا تھا۔ دنیا اس کے ساتھ ہر طرح کے ناروا سلوک کرتی تھی۔  اس کی نیک نیتی پر سوال اٹھاتی تھی۔  اس کے فلاحی کاموں سے بھرپور فائدہ اٹھاتی اورساتھ اس ہی کے منہ  پر یہ بھی کہتی جاتی تھی کہ وہ یہ سب اپنی نیک نامی کے لئے کرتا ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے تھے کہ وہ دنیا کے طعنے اس لئے مسکرا کر برداشت کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی انا کا مریض ہے اور خود کو یہ سوچ کر تسلیاں دیتا ہے کہ دیکھو! ان کے اس حد کے نیچ رویے کے باوجود نہ میں نیکی کرنا چھوڑوں گا نہ ان طعنوں کا جواب دوں گا۔  یہ سلسلہ اس ہی طرح جاری رہا اور نہ لوگ اپنے طعنوں سے باز آئے اور نہ وہ اپنی نیکی سے۔  چونکہ ہر انسان کے اندر بہرحال ایک ولن چھپا ہی  ہوتا ہے سو اس کے اندر کا ولن بھی جاگ گیا اور چونکہ وہ ایک نہایت کمینہ اور کم ظرف آدمی تھا اس لئے اس سے پہلے کہ وہ ولن کام دکھاتا، اس نے خودکشی کر کے اپنا قصہ تمام کیا اور رہتی دنیا کے لئے احساسِ کمتری چھوڑ گیا کہ ایک انسان ایسا بھی تھا جو ساری عمر ہیرو رہا اور کبھی ولن نہیں بن پایا۔ آنے والے برسوں میں نجانے کتنے ہیرو امیدوں کے اس بوجھ سے ولن بن گئے کہ آیا ہم اس جیسے بن بھی پائیں گے یا نہیں۔
نانا ابا ٹھیک ہی کہتے تھے کہ کہانی کبھی نہیں بدلتی، فقط کردار بدلتے ہیں! اور کردار  کی تبدیلی بھی کیا؟ فقط ان کے نام! آج جب برسوں بعد وطن واپس لوٹا ہوں تو یہاں نانا ابا کے کمرے میں موجود ہر ہر چیز وہیں موجود ہے جہاں کبھی ہوا کرتی تھی۔ البتہ مسلسل جھاڑ پونچھ اور صفائی کے باوجود وقت چیزوں پر اپنے اثرات چھوڑ گیا ہے اور تمام اشیاء سالخوردہ معلوم ہوتی ہیں۔ شاید کراچی کی ہوا ہی ایسی ہے۔ یہ انسانوں اور رشتوں کو نہیں بخشتی تو چیزیں اگر کھوکھلی ہوجائیں تو تعجب کیسا؟ شاید اس ہی  کھوکھلے پن سے تنگ آ کر نانا ابا نے خودکشی کر لی تھی۔ میں بالعموم فلسفہ نہیں بکتا مگر اب نانا ابا کی لکھنے کی میز پر بیٹھا ہوں تو  کچھ تو اثر آنا بنتا ہے نا۔

ہفتہ، 29 دسمبر، 2018

درندے


اپنی مجروح انا کی تسکین اور لغت پر دسترس  نہ رکھنے کے عیب کو میں نے ہمیشہ یہ سوچ کر تسلی دی ہے کہ طویل افسانے وہ غریب لکھتے ہیں جنہیں کم الفاظ میں مدعا بیان کرنے کا ہنر نہیں آتا۔  میری کہانیوں میں درختوں کے پتے نہیں ہلتے۔  آسمان بس ایک جملے کا آسمان ہوتا ہے اور اس کی منظر نگاری  ایک مکمل  صفحہ نہیں کھا جاتی۔  موسم بس موسم ہوتے ہیں ، استعارے نہیں ہوتے ۔  شاید اس ہی وجہ سے میری تحاریر مختصر اور ادب کے مروجہ قاعدوں کے برخلاف ہیں۔ ان میں مترنم الفاظ کی چاشنی اور فلسفیانہ استعاروں کا گزر نہیں ہوپاتا۔ اور شاید اس ہی وجہ سے انہیں کوئی قاری یا کوئی ناقد گھاس بھی نہیں ڈالتا۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میری کہانیاں وہ سچی کہانیاں ہوتی ہیں جنہیں پڑھ کر  انسان محض خجل ہی ہو سکتا ہے۔ اردو ادب اور اس کی لطافتوں کے قصیدہ گو ان کہانیوں کو اپنی طبیعت کے لئے بوجھل پاتے ہیں اور اس لئے میرا تخلیق کیا گیا ادب، بے ادبی قرار پاتا ہے۔  اب جیسے اس کہانی کو ہی لے لیجئے۔ آپ احباب کی سہولت کے لئے میں نے اس میں تخیلاتی کردار شامل کر دئیے ہیں تاکہ کہانی مزاجِ لطیف پر گراں گزرے تو آپ ان ایک دو تخیلاتی واقعات کی بنیاد پر پوری کہانی کو ہی تخیلاتی قرار دے کر مصنف پر لعنت بھیجیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں ویسے ہی مگن ہو سکیں جیسے کہ اس کہانی کو پڑھنے سے 
پہلے تھے۔
تو ہوا کچھ یوں کہ کل رات میرے دروازے پر دستک ہوئی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو باہر مروجہ انسانی تعریف کی رو سے جانوروں کا ایک غول اکٹھا تھا۔ شیر، چیتے، بھیڑیے، ریچھ وغیرہ تو تھے ہی ساتھ میں سور، کتے اور بلیاں وغیرہ بھی چلی آئی تھیں۔ ظاہر ہے میں اردو زبان کا ایک لکھیک ہوں سو گھر میں اتنی جگہ نہیں رکھتا تھا کہ ان سب کو مدعو کرسکتا سو دروازے سے ہی مدعا دریافت کر لیا۔ ان جانوروں کے بیان کے مطابق انہیں ایک الو نے میرا تعارف بحیثیت ایک مصنف کے کروایا تھا اور وہ اس ہی الو کے پٹھے سے میرا پتہ پوچھ کر یہاں تک پہنچے تھے۔  وہ جانوروں کی طرف سے ہم انسانوں   کو صفائی پیش کرنے آئے تھے  اور چاہتے تھے کہ میں ان کی جانب سے یہ تحریری صفائی لکھ کر چھاپ دوں۔ ان جانوروں کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ایک شمالی قصبے حویلیاں  سے آئے تھے جہاں  تین چار دن قبل کوئی انسان اپنی تین سالہ دلہن کو لے کر جنگل کی طرف نکل آیا تھا اور شبِ زفاف منانے کے بعد اپنی اس تین سالہ معصوم کو وہیں جنگل میں خونم خون اور برہنہ چھوڑ گیا تھا۔ ان جانوروں کا کہنا تھا کہ  انسانوں کے نفسیاتی اور جسمانی گھاؤ سے بچ جانے والی وہ تین سال کی کم سن بچی منفی دو درجہ حرارت  سے نہیں بچ پائی تھی اور جم کر مر گئی تھی۔ وہ جانور یہ صفائی پیش کرنا چاہتے تھے کہ اس برہنہ تن بچی پر  کسی سور، کسی کتے، کسی بھیڑیے نے حملہ نہیں کیا  تھا اور نہ ہی اس کا گوشت نوچا تھا۔ لاش ان کے پاس سے صحیح سلامت اٹھی تھی کیونکہ بہرحال وہ انسان نہیں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں لکھ دوں کہ کہ جنگل کے کسی درندے نے  اس برہنہ بچی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جس کو پورے ملبوس میں دیکھ کر بھی کسی مرد کی انسانیت جاگ اٹھی تھی!

بلاگ فالوورز

آمدورفت