اتوار, نومبر 19, 2017

زبان دراز کی ڈائری - دھرنا

پیاری ڈائری!
طویل غیر حاضری کی معذرت! ایسا نہیں کہ لکھنے ایسا کچھ نہ رہا ہومگر لکھنے پر طبیعت مائل ہی نہیں ہوتی۔ وہ کیا ہے نا کہ ڈائری لکھنے کے پیسے نہیں ملتے اور فن بے شک پیسوں کا محتاج نہ ہو مگر حقیقی فنکار ساری عمر پائی پائی کا محتاج ہوتا ہے۔
آج صبح سے ارادہ کر کے بیٹھا تھا کہ ڈائری لکھوں گا اور آج خلافِ معمول کوئی جلی کٹی نہیں لکھوں گا۔ کچھ پر امید لکھوں گا۔ جس طرح بالآخر خالہ کے جمشید سے بیاہی جانے والی دوشیزائیں شادی سے پہلے فواد خان کو تصور کر کے شاعری  بھرے مضامین لکھتی ہیں، ویسا کچھ! مگر برا ہو اس نئی نسل کا کہ انہوں نے اچھے خاصے مزاج کو مکدر کرکے رکھ دیا۔ بھئی گانوں کی حد تک تو ری مکس کی سمجھ آتی ہے مگر ہماری صدیوں پرانی لوک کہانیوں میں تضمین کرنا کون سی شرافت ہے؟
ہوا کچھ یوں کہ ہماری نواسی نے ہم سے کہانی سننے کی فرمائش کردی۔ ہم کافی دن سے دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے آج کے کام کو پرسوں پر ٹالنے کی روش پر گامزن تھیں کہ کل پر ٹالنا ان کے نزدیک بہت مین سٹریم تھا۔ سو ہم نے انہیں اپنے بچپن کی سنی ہوئی کہانی سنا دی کہ جس میں ایک چڑیا اپنے بچوں کے ساتھ کسی کھیت میں رہا کرتی تھی ۔ جب اور جہاں جی کرتا غیور مردوں کی طرح منہ مارتی پھرتی کہ جانتی تھی کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ایک دن چڑیا کے بچوں کے نے اسے بتایا کہ انہوں نے خود اپنے گناہگار کانوں سے کسان کو اسے گالیاں دیتے سنا ہے ۔ کسان نے پیٹ بھر کر گالیاں دینے کے بعد یہ بھی فرمایا ہے کہ اس نے اپنے بھائی سے بات کر لی ہے اور کل ہی وہ کھیت سے چڑیا کا خاتمہ کر لے گا۔ چڑیا سیاسی رہنما تو تھی نہیں کہ چھوٹوں کی باتوں میں آجاتی، اس نے بچوں کو تسلی دی کہ اس کی کسان کے بھائی کے ساتھ اچھی سیٹنگ ہے انشاءاللہ کچھ نہیں بگڑے گا۔ جہاں جی چاہے منہ مارو! 
 بچے بے فکر ہو کر ایک مرتبہ پھر کھیت اجاڑنے میں مشغول ہوگئے ۔ چند دن بعد بچوں نے پھر اطلاع دی کہ کسان اب کی مرتبہ زیادہ گندی گالیوں پر اتر آیا ہے اور کہتا ہے کہ کل وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ہمارا گھونسلہ اجاڑ دے گا۔ چڑیا نے بچوں کو ایک مرتبہ پھر دھنیا پلا کر سلا دیا اور اپنے معمولات میں مصروف ہوگئی۔
تیسری مرتبہ البتہ صورتحال بہت سنگین تھی۔ بچوں نے بتایا کہ کسان نے گھر میں انٹرنیٹ لگوا لیا ہے اور ایک مخصوص سیاسی جماعت میں شمولیت کے بعد خادم حسین رضوی جیسی گالیاں بکنے لگا ہے۔ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ آج خود اپنے ہاتھ سے ہمارا گھونسلہ اکھاڑ پھینکے گا۔
روایتی کہانی کے مطابق اب چڑیا کو بچوں کو سمجھانا تھا کہ بچو! سامان سمیٹ لو۔ اب یہ انسان کام کر کے ہی رہے گا کیونکہ یہ اس بار کسی پر منحصر نہیں ہے اور نہ ہی آج کا کام کل پر ٹال رہا ہے مگر اس سے پہلے کے ہم یہ انجام اس دس سالہ بچی کو سمجھاتے اس نے کہا، نانو! آگے کی کہانی مجھے پتہ ہے۔ اس چڑیا نے دس پندرہ چڑیاں اور اکٹھی کی ہوں گی اور کھیت میں دھرنا دے کر بیٹھ گئی ہوگی۔ اس کے بعد کسان کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے سارے نقصانات معاف کرے اور کھیت میں سے ایک حصہ ان چ٭٭یوں  ۔۔۔ (خادم حسین صاحب کے نام کی دہشت سے اب کمپیوٹر چڑیوں کو بھی سینسر کر رہا ہے۔ سبحان اللہ) کو بھی دینے پر مجبور ہوگیا ہوگا اور اس کے بعد سب یوں ہنسی خوشی رہنے لگے ہوں گے  جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
ہم نے تپ کر اس سے پوچھا اور جب آپ یہ سب جانتی ہی ہیں تو یہ بھی بتا دیں کہ کہانی کا حاصل کیا تھا؟ تس پر وہ بڑے رسان سے بولیں، دھرنے میں بڑی برکت ہے!
خود بتاؤ۔ اس قسم کی اولاد کے ہوتے ہوئے انسان کیسے شاعری بھرے مضامین لکھ سکتا ہے؟
والسلام
زبان دراز دھرنوی

بدھ, نومبر 1, 2017

خانم بے حیائی

اس کا نام جو بھی کچھ رہا ہو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ سب کا ماننا تھا کہ وہ پیدائشی گونگی بہری ہے۔  بہری قوم یا افراد کو آپ جو جی چاہے لقب دے دیجئے ، پیار سے بلائیے یا دشنام سے نوازیے، ان کی صحت پر کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ تو اپنے حال میں مست رہتے اور رہتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں۔ سو اس کے نام سے بھی اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ مگر اس کے بہرے پن سے اب گھر والوں کو فرق پڑنے لگا تھا۔ خاندان، محلے کی کسی بھی تقریب میں جہاں چار لوگ جمع ہوتے، بلاوجہ ہمدردیاں جتانے لگتے۔ ہائے اللہ! کتنی پیاری بچی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی چن چن کر لوگوں کو آزماتا ہے۔ دیکھو معصوم اگر سن بول پاتی تو کیا چلا   جاتا کسی کا؟ مگر خیر! اللہ آپ لوگوں اور اس بچی کو صبر دے!  گھر والے شروع میں تو یہ باتیں سنتے  اور چپ ہو جاتے۔ پھر اس کے بعد ان باتوں کو سننے کے بعد جھلانے کا مرحلہ شروع ہوا اور بالآخر کسی بھی اور انسان کی طرح  اس کے گھر والوں کو بھی ہمدردی کی عادت پڑ گئی اور اگر آپ ان سے مل کر ہمدردی نہ جتائیں تو انہوں نے باقاعدہ اس بات کا برا منانا شروع کردیا۔
اسے ان تمام باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ اپنی زندگی میں مست تھی اوراس ہی مستی میں بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ اس کی عمر اب پندرہ برس ہوچلی تھی اور گھر والوں کو ہمدردی کے بادلوں کے پیچھے چھپا حقیقت کا سورج نظر آنے لگا تھا۔ مانا کہ تمازت ابھی اتنی نہ بڑھی تھی کہ  انسان جھلس جائے مگر آج نہیں تو کل اس حقیقت نے سامنے آجانا تھا۔ چار پانچ برس میں وہ معاشرے کی مروجہ شادی کی عمر کو پہنچنے والی تھی اور صورتحال یہ تھی کہ اس کے تمام شوق اب تک بچوں والے ہی تھے کہ گویا وہ محض جسمانی طور پر تو بڑھ رہی تھی مگر ذہنی طور پر وہ ایک پانچ سات سالہ بچی کی طرح ہو۔ علاج معالجے کا   مسئلہ یہ تھا کہ شہر چھوٹا تھااور بیماری بڑی۔ پہلے شہر کے بڑے ڈاکٹروں کو دکھایا گیا مگر جب لکھوکھا روپے کے نسخے اور آپریشن تجویز ہوئے تو واپس قصبے کے  حکیموں اور نیم حکیموں کی چوکھٹ چومی گئی۔  جب وہاں سے افاقہ نہ ہوا تو کسی نے مشورہ دے دیا کہ اسے ایران لے جاؤ۔ وہاں مشہد کے روزے پر سنا ہے کہ ہر قسم کی بیماری شفا پا جاتی ہے۔
چھوٹے شہر کے متوسط طبقے کے لوگ تھے جن کی زندگیوں کی معراج یہی تھی کہ لاہور یا کراچی دیکھ آئیں۔ قصبے میں چند گھر ایسے ضرور تھے  کہ جو خلیجی ممالک میں مزدوری کرتے تھے مگر ایران جانے کا تجربہ کسی کا بھی نہیں تھا۔ کہتے ہیں نا کہ ماں مرے ماسی جئے۔ خالہ اماں نے ذمہ داری اٹھائی کہ اگر بچی اور ان کے خاوند کا خرچہ گھر والے اٹھا لیں تو وہ اپنے میاں کے ساتھ اسے مشہد لے جائیں گی کہ اس ہی صدقے میں ان کی بھی زیارت ہو جائے گی۔ سودا برا نہیں تھا سو سفر کی تیاری شروع کر دی گئی اور اللہ اللہ کر کے خیر سے یہ لوگ مشہد پہنچ گئے۔
مشہد پہنچنے کے دو دن بعد خالہ کا ٹیلیفون آیا کہ معجزہ ہو گیا ہے۔ صبح جب وہ اسے روزے پر لے کر گئیں تو  روزے کے حکام نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ننگے سر حرم میں نہیں جا سکتیں ۔ پہلے جا کر روزے کے ساتھ موجود دفتر سے مفت میں  چادر وصول کریں اور پھر سر ڈھانپ کر آئیں۔ وہ مسلسل فارسی میں سمجھا رہے تھے، خانم ! بے حیائی! خانم! بے حیائی! ہماری تو خیر ہوئی کہ ہم نے دفتر سے جا کر چادر وصول کی اور حرم میں جا کر فاتحہ پڑھی اور واپس آگئے مگر جب حرم سے باہر نکلے تو  مجھے لگا کہ یہ کچھ بدبدا رہی ہے۔ غور کیا تو معلوم ہوا کہ معجزہ ہوگیا ہے۔ خیر سے ہماری شہزادی نہ صرف سن سکتی ہے بلکہ بول بھی سکتی ہے۔ وہ بدبدا رہی تھی، خانم بے حیائی۔ خانم بے حیائی! بھئی میں نے تو بے ساختہ ماتھا چوم لیا شہزادی کا۔ خیر سے وہیں بازار سے میوہ خریدا اور واپس جا کر حرم پر نیاز چڑھا آئی۔  تمہارے خالو تو خیر تہران چلے گئے ہیں اور یہ یہاں بیٹھی خانم بے حیائی کر کر کے میرا  سر کھا رہی ہے۔ میں نے پوچھا مطلب پتہ ہے اس بات کا  تو جواب میں کہتی ہے خانم بے حیائی کھی کھی کھی اب بتاؤ اس بات پر میں کیا بولتی۔ میں نے بے حیائی کا مطلب اشاروں میں سمجھایا  تو اب گانے کی طرح شروع ہوگئی ہے خانم م م م  ! بےےےے  حیااااااائی ۔۔۔ خانم م م م  ! بےےےے  حیااااااائی  ۔۔۔۔ یہ لو خود اس کے منہ سے سن لو!
پانچ دن کے بعد خالہ اسے لے کر خیر سے واپس گھر پہنچ گئیں ۔  گھر والے سارے اس کے گرد جمع تھے۔ سب بہت پراشتیاق تھے کہ  آج اس کو بولتا سنیں گے مگر خلاف معمول آج وہ بہت مضمحل لگ رہی تھی۔  خالہ سے پوچھا تو کہنے لگیں پرسوں تک اچھی خاصی تھی مگر خدا جانے پرسوں سے بالکل ویسے ہی چپ ہے جیسے کبھی بولی ہی نہ ہو۔ تم سب نے خود اسے فون پر بولتے سنا تھا ۔  میں خود سے کہہ رہی ہوتی کہ یہ بولی تھی تو تم شک کرتے مگر تم سب نے خود اسے فون پر بولتے سنا تھا۔ بیٹا بولو! شاباش بول کر دکھاؤ۔ بیٹا میں جانتی ہوں تم سن سکتی ہو اور سمجھ بھی سکتی ہو۔ دیکھو یہاں سب تمہارے اپنے ہیں۔ شاباش بول کر دکھاؤ۔  بولو خانم بے حیائی!
اس نے اپنے دامن پر سے نظریں اٹھائیں۔ سب کی طرف دیکھا۔ اس کی بائیں آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا اور وہ دھیرے سے بولی ۔۔۔۔  خالو بے حیائی!

بلاگ فالوورز

آمدورفت