ہفتہ، 6 اکتوبر، 2018

تھپڑ

منی بس میں حسب معمول شدید رش تھا اور میں نشست یا شاید زیادہ اپنی منزل کے انتظار میں کھڑا ٹریفک کی بے ہنگم صورتحال اور اس بظاہر نہ ختم ہونے والے سفر کو کوس رہا تھا۔ ان منی بسوں، سست ٹریفک اور نشست کے انتظار سے یوں تو پرانی آشنائی ہے مگر مصیبت کتنی ہی مسلسل کیوں نہ ہو اس کی عادت نہیں پڑتی جبکہ آسائش کتنی ہی مختصر وقفے کی ہو ساری عمر کے لیئے اپنی لت لگا جاتی ہے-
انتظار سے تنگ آکر میں نے ارد گرد نظر ڈالی تو بس کو ہر طرح کے لوگوں سے بھرا پایا۔ کراچی میں ساحل کے بعد میری سب سے پسندیدہ چیز اس شہر کی یہی وسعت قلبی تھی۔ دلی سے آنے والا مہاجر ہو یا سیالکوٹ سے آنے والا پنجابی، پشاور کا پٹھان ہو یا سکھر کا سندھی، اس شہر نے کبھی کسی آنے والے سے اس کا نام، مسلک یا ذات نہیں پوچھی۔ غریب کی ماں کا خطاب اس کو واقعی جچتا تھا۔ لیکن شاید خطاب دینے والے کے گمان میں بھی یہ نہیں آیا ہو گا کے غریب کی ماں کا پیٹ اکثر خالی اور آنکھ اکثر بھری رہتی ہے۔
دو بزرگ اپنے اپنے پیروں کی کرامات پر بحث میں اس طرح مصروف تھے کہ اگر ایک بزرگ کی منزل نہ آجاتی تو دوسرے والے ان سے اعتراف کروا چھوڑتے کے اسلام میں اللہ رسول اور اصحاب کے بعد سب سے برگزیدہ ہستی ان کے حضرت والا ہی ہیں۔ مجھے بچپن کی وہ بات یاد آگئی کے "پیر خود نہیں اٰڑتے، ان کے مرید اڑاتے ہیں"۔ ایک پٹھان بھائی ڈرون طیاروں اور ان کے شجرہ نسب پر روشنی ڈالنے میں مصروف تھے اور ڈرون کی والدہ سے متعلق ان کے بیان کردہ ارادوں سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ انسان اور مشین کے تعلقات بہیت جلد ایک نیا اور تاریخی موڑ لینے والے ہیں۔ ایک حضرت پاک-ایران گیس پائپ لائن کے فوائد اور خطے میں ایران اور سعودیہ کی جنگ پر اپنے زریں خیالات سے نواز رہے تھے اور ہر دلیل کے ساتھ اونچی ہوتی ان کی آواز مجھے یاد دلا رہی تھی کے جب دلیل کمزور ہو جائے تو آواز خودبخود اونچی ہو جاتی ہے۔
اگلے اسٹاپ پر ایک نشست خالی ہوئی تو میں تیزی سے اس کی طرف لپکا، جو صاحب اس نشست کے انتظار میں پہلے سے کھڑے تھے وہ پہلے تو تھوڑے ہچکچائے مگر پھر کمال مہربانی سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے "آپ مجھ سے زیادہ تھکے ہوئے ہیں، پہلا حق آپ کا ہے"۔ نشست کیا آئی، گویا جان میں جان آگئی۔ نشستوں پر بیٹھے تمام مسافر جو اس سے پہلے نہایت مطلبی، خودغرض اور بناوٹی لگ رہے تھے یکایک کھڑے ہوئے مسافروں سے بہتر لگنے لگے۔ اور کیوں نہ لگتے؟ جو مسافر اب تک کھڑے ہوئے تھے وہ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے گویا میں کوئی نہایت مطلبی، خودغرض اور بناوٹی انسان ہوں؟ اچھا ہوتا ہے جو ان کو نشست نہیں ملتی، ہیں ہی اس ہی قابل1 دل میں یہ سوچ کر میں اب ان صاحب کی طرف متوجہ ہوا اور رسما پوچھ لیا کہ انہوں نے یہ زحمت کیوں کی میرے لیئے؟ اس سے پہلے کے وہ کوئی کوڑھ مغز قسم کا جواب دیتے میں بات کا پہلو بدل کر امت مسلمہ کے موجودہ مسائل اور ان کے حل پر آگیا کہ یہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ اگلے بیس منٹ تک ہماری [زیادہ تر میری] گفتگو اسلام کی نشاط اول کے راست باز، قانون اور اصول پسند مسلمانوں پر رہی۔ ہم دونوں کا اتفاق تھا کہ مسلمان اگر صرف قانون پسندی ہی کر لے تو بھی ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہو سکتا ہے۔ گفتگو کچھ اور آگے چلتی تو میں ان صاحب کو مزید سکھاتا کے میری برسوں کی تحقیق کس طرح مسلمانوں کے کام آ سکتی ہے، مگر ان کی منزل آگئی تھی سو انہوں نے رخصت چاہی۔
اترنے سے پہلے کنڈکٹر کو روک کر کچھ پیسے دیے اور اسے یاد دلایا کے وہ ٹکٹ لینا بھول گیا تھا۔ میں نے کہا کہ بھول چوک اسلام میں معاف ہے، اگر وہ کرایہ لینا بھول گیا تھا تو آپ بھی بھول جاتے؟ وہ بس سے اترتے ہوئے آہستہ سے گویا ہوا "جی، میں مسلمان نہیں ہوں۔"
اس سرگوشی میں چھپے تھپڑ کی آواز آج تک مجھ میں گونجتی ہے۔

سید عاطف علی
11-12-2013

جمعہ، 7 ستمبر، 2018

انتقام - باب ہفتم


ڈھاکہ
شاہ گنج کے حالات کس طرح تبدیل ہوئے؟ پہلی گولی کہاں چلی؟  یہ سب گفتگو اضافی ہے۔ کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے جب ماموں کے بے حد اصرار، ماں کے واسطوں وسیلوں اور آس پڑوس سے آنے والے سانحات کی لرزہ خیز خبروں سے زچ ہوکر عاطف بادل نخواستہ شاہ گنج چھوڑنے  پر تیار ہوگیا۔ ماموں نے اچھے وقتوں میں ڈھاکہ میں ایک چھوٹا سا کارخانہ لگا چھوڑا تھا  اور خوش قسمتی سے ڈھاکہ پاکستان میں آتا تھا لہٰذا قریب کا لاہور چھوڑ کر دور کے ڈھاکہ کا قصد کیا گیا۔ شاہ گنج سے نکلتے وقت کس طرح ماموں کی طبیعت بگڑی اور عاطف کو انہیں اپنے کاندھوں پر اٹھا کر کئی میل چلنا پڑا۔ کس طرح سلون کے راستے ڈھاکہ جاتے ہوئے پانی کا سفر اس کشتی میں کرنا پڑا جس کو دیکھتے ہی عاطف قے کر بیٹھا تھا اور پھر ڈھاکہ پہنچنے تک سنبھل نہیں پایا تھا۔ یہ سب تکالیف ان تکالیف سے بہت چھوٹی تھیں جو لاہور کے مسافروں نے سہی تھیں۔ چونکہ آپ یہ کہانی اردو زبان میں پڑھ رہے ہیں اس لئے صرف آگرہ سے لاہور کا سفر خونی تھا۔ اگر کبھی یہی کہانی دیوناگری رسم الخط میں لکھی گئی تو لاہور سے آگرہ تک کا سفر خونریز لکھا جائے گا کیونکہ دونوں طرف کے عوام جذبہ حب الوطنی کے تحت محض اپنے حصے کے سچ کو سچ تسلیم کرتے ہیں۔ باقی سب دشمن کا پروپیگنڈہ ہوتا ہے۔ خیر یہ تو جملہء معترضہ تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ عاطف اپنے گھر والوں کے ساتھ بخیر ڈھاکہ پہنچ گیا تھا۔
ڈھاکہ پہنچنے تک عاطف کی طبیعت کی سنجیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ پہلے بھی وہ محض ضروری بات کیا کر تا تھا مگر اس بٹوارے کے بعد تو گویا اسے بالکل ہی چپ لگ گئی تھی۔ ایسا نہیں کہ اسے نئی جگہ میں مطابقت  پیدا کرنے کے لئے کوشش کرنی پڑ رہی تھی۔ وہ سمندر کی مچھلی تھا جو کسی بھی جگہ مطابقت پا سکتا تھا۔ سمندر کی مچھلی اور تالاب کی مچھلی میں یہی تو فرق ہوتا ہے۔ تالاب کی مچھلی یکساں ماحول کی عادی ہوتی ہے۔ اس کا خیال رکھنے کے لئے دیگر مخلوقات موجود ہوتی ہیں۔ خیال رکھا جاتا ہے کہ پانی کا درجہ حرارت ایک خاص حد سے زیادہ یا کم نہ ہوجائے۔ اس کو مناسب خوراک وقت پر ملتی رہے تاکہ اس کی نشو نما پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ تمام خطرات سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے تاکہ درست وقت پر مناسب گاہک  ملنے تک اس کی صحت اور زندگی یقینی بنائی جاسکے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اس کا ہر اس طرح سے خیال رکھا جاتا ہے جس طرح کسی عزت دار گھرانے میں لڑکی کا۔  دوسری طرف سمندر کی مچھلی ہوتی ہے ۔ ہر طرح کے خطرات سے اسے خود نمٹنا ہوتا ہے۔ اس کی زندگی روزانہ کی بنیاد پر بسر ہوتی ہے۔ روزانہ صبح اسے خود سے دو وعدے کرنے پڑتے ہیں۔ پہلا یہ کہ میں اپنے جینے کے لئے کسی اپنے سے کمتر مخلوق کو ضرور ڈھونڈوں گی۔ دوسرا یہ کہ میں آج اپنے سے برتر کسی مخلوق کا نوالہ نہیں بنوں گی۔  اور وہ یہ جانتی ہے کہ دونوں میں سے ایک بھی وعدہ وفا نہ کرنے کی صورت اس کی موت بھی ہوسکتی ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ سمندر کی مچھلی وہی زندگی گزارتی ہے جیسی کسی نجی ادارے  میں کام کرنے والا کوئی درمیانے درجے کا مینجر۔ اور روزانہ کی بنیاد پر یہ زندگی گزارنے والی مچھلی  کسی بھی نئے ماحول میں جا کر مطابقت حاصل کر لیتی ہے کیونکہ نئی جگہ کی زندگی بہرحال اس سمندر کی زندگی سے مشکل نہیں ہوسکتی۔ اور اگر اتنی طویل امثالات کے باوجود اگر آپ میری بات سمجھنے سے قاصر ہیں تو کسی بھی پسماندہ ملک سے اٹھ کر ترقی یافتہ ملک میں جا کر بسنے والے اپنے کسی عزیز کو فون ملا لیں وہ آپ کو زیادہ صراحت سے سمجھا دے گا۔ 
تو جیسا کہ میں عرض کر رہا تھا کہ عاطف سمندر کی مچھلی تھا۔اسے ڈھاکہ میں جا کر بسنے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی تھی۔ وقت گزاری کے لئے اس نےڈھاکہ  یونیورسٹی میں داخلہ لے  لیا تھا جہاں بہت جلد طلبہ کے اس گروہ نے اس کی توجہ حاصل کر لی تھی جس کے سربراہ کا نام مجیب تھا۔ یوں تو مجیب اور عاطف کی طبیعتوں میں بعد المشرقین تھا  مگر ایک چیز ان دونوں کے اندر مشترک تھی اور یہی ان دونوں کی دوستی کی اساس بن گئی تھی۔ وہ دونوں اپنے اندر جوالہ مکھی لے کر بیٹھے تھے۔ دونوں زندگی میں اپنے اپنے مخصوص عزائم رکھتے تھے۔ دنیا کو غلط ثابت کرنا چاہتے تھے۔ ان دونوں کی دوستی شاید ایک دن اتنی بڑی ہوجاتی کہ مورخ اس کے بارے میں کتابیں لکھتے مگر اس دوستی کے بالکل آغاز میں ہی عاطف نے یونیورسٹی کے کینٹین میں دوستوں کو پاکستان بھارت جنگ کے بارے میں باتیں کرتے سنا اور  اس نے ہمیشگی کے لئے یونیورسٹی کو خیر باد کہہ دیا۔
گھر پہنچ کر اس نے اعلان کر دیا کہ ڈھاکہ کی ہوا اسے راس نہیں آ رہی ہے اور وہ ہجرت کی کلفتوں اور اس نئے ماحول کی اجنبیت سے چھٹکارے کے لئے کچھ دنوں کے لئے  بھائی کے پاس راولپنڈی جانا چاہتا ہے۔ ماں ویسے تو اولاد کے ہر جھوٹ سے واقف ہوتی ہے مگر اکثر اوقات محض اولاد کو یہ خوشی دینے کے لئے کہ اس نے ایک جہاندیدہ عورت کو بے وقوف بنا دیا اور وہ کتنا چالاک ہے، اولاد کو یہ تاثر دے دیتی ہے کہ اسے اس کی تمام باتوں پر یقین ہے۔ مہدیہ خاتون بہرحال ایک نہایت محبت کرنے والی ماں تھیں۔ اگلے تین دن میں عاطف سامان باندھ کر راولپنڈی روانہ ہوچکا تھا۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت