اتوار، 15 اپریل، 2018

The Honest Code of Conduct


جنابِ گرامی،
ادارے میں خوش آمدید!  ادارے سے منسلک ہونے سے پہلے اس صفحے کو بغور پڑھنا اور یاد کرنا لازمی ہے۔ ابھی یاد کر کے اگر آپ بعد میں بھول بھی جائیں تو ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ شکریہ!
جنابِ گرامی! کوئی چیز اس وقت تک گناہ نہیں ہے جب تک کوئی طاقتور اسے انجام دے رہا ہے۔  آپ کا کام اپنے سے کمزوروں پر نظر رکھنا ہے۔ یہ کمزور لوگ بہت کمینے ہوتے ہیں ۔ طاقتور بننے کے شوق میں اکثر گناہ کے راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ آپ کا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی کمزور طاقتور بننے کی کوشش نہ کرے۔ اور ہاں، غلطی ہمیشہ انفرادی ہوتی ہے۔ جو گناہ ہجوم مل کر کرتا ہو اسے گناہ نہیں بلکہ کلچر کہتے ہیں۔ آپ کلچر سے لڑ نہیں سکتے۔ اگر آپ کلچر سے لڑنے یا اس کو تبدیل کرنے کی بات کریں گے تو آپ محض ایک کمزور سمجھے جائیں گے جو طاقتور بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے لوگوں   کے لئے ادارے کی پالیسی ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔
ادارے میں شامل ہونے سے پہلے چند دیگر ہدایات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ ادارے کے کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق 
1.            گالیاں صرف سینئر مینجر سے اوپر درجے کا سٹاف دے سکتا ہے۔ نچلے درجے کے سٹاف کی گالی گلوچ برداشت نہیں کی جائے  گی
2.            تمباکو نوشی مینجر کے درجے  سے نچلے سٹاف کی صحت کے لئے مضر ہے
a.       تمباکونوشی خواتین  کی صحت کے ساتھ ساتھ کردار کو بھی نقصان پہنچاتی ہے
3.            ادارہ مرد ملازمین کی عزت کی حفاظت کا ضامن ہے
a.       تمام خواتین سے گزارش ہے کہ چونکہ مرد تو ہوتے ہی ایسے ہیں لحاظہ وہ  خود خیال کریں
b.      ہراسگی  صرف مخالف جنس کی جانب سے ہو سکتی ہے۔ مرد، مردوں اور خواتین ، دیگر خواتین کے بارے میں فضول شکایات سے پرہیز کریں
4.            آپ کا لباس آ پ کے کردار کا آئینہ دار ہے۔
a.       ادارے کے کارکنان  محض ایک مخصوص لباس کی عزت کے عادی ہیں۔ مختلف کپڑے پہن کر کارکنان کو اپنے بارے میں بری رائے بنانے پر مجبور کرنا قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
5.            اگر آپ کے دن کا کم از کم ایک گھنٹہ کسی میٹنگ میں نہیں گزرتا تو یا آپ کا محکمہ کمزور ہے یا آپ کا عہدہ۔ دونوں صورتوں میں اوپر بیان کردہ تمام اصولوں میں سے کسی ایک اصول کی خلاف ورزی کی صورت میں نوکری تو نہیں جائے گی البتہ آپ کی زندگی ضرور جہنم بنا دی جائے گی!  شکریہ!
ادارہ ان تمام ہدایات کو بغور پڑھنے اور یاد رکھنے پر آپ کا مشکور ہے اور دل کی گہرائیوں سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہے!

ہفتہ، 10 مارچ، 2018

مردود

ہر ذلیل ترین اپنے زمانے کا عزیز ترین رہا ہوتا ہے۔
کیا یہ لازم ہے؟
شاید! کیونکہ  دنیا تو برے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔  خود اپنے ایمان سے کہو کیا  کبھی ان میں سے کسی کو دیکھ کر تمہارے اندر غصے کی وہ لہر دوڑی ہے جو کسی سابقہ اپنے کو دیکھ کر دوڑتی ہے؟
نہیں!
اور کیا ایسا نہیں ہے کہ تعلق جتنا مضبوط رہا ہو، تاسف اتنا ہی شدید ہوتا ہے؟
شاید ایسا ہی ہے۔
تو مان کیوں نہیں لیتے کہ ہر ذلیل ترین اپنے زمانے کا عزیز ترین رہا ہوتا ہے؟
 میرے مان لینے سے کیا فرق پڑ جاتا ہے؟
فرق تو پڑتا ہے۔ ایک انسان کے قائل ہوجانے سے بھی فرق پڑتا ہے۔
اگر ایسا ہے تو تم نے لکھنا کیوں چھوڑا؟
کیونکہ کسی ایک کو بھی فرق نہیں پڑتا تھا۔
تو اب مجھے یہ کہانی کیوں سنا رہے ہو؟
کیونکہ تمہیں فرق پڑتا ہے۔ اور تمہیں فرق پڑنا بھی چاہئے کیونکہ اب سے تم اور میں ایک جیسے ہیں۔
میں اور تم ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں؟ مجھ اور تم میں کچھ بھی قدر مشترک نہیں ہے!
ایک قدر مشترک ہے۔
وہ کیا؟
ہاہاہاہاہاہاہا  ۔۔۔ ہم دونوں کے ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔
یہ ایک نہایت بے ہودہ مذاق ہے!
میرے پیارے! مذاق یہ نہیں ہے۔ مذاق تو وہ ہے جو تقدیر نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔
اب تقدیر کہاں سے آگئی؟
یہ بھی ایک کہانی ہے۔
مگر تم نے تو کہانی کہنا چھوڑ دی ہے؟
چھوڑ دی ہے مگر ایک مختصر کہانی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
اچھا؟
ہاں! توہوا کچھ یوں کہ خدا نے جب فرشتے بنائے  تو ان میں سے ہر ایک احسان شناسی کے تقاضوں کے تحت خدا کی عبادت کیا کرتا تھا اور خدا بھی قدر شناسی کے تقاضوں کے تحت ان کو محبوب رکھتا تھا۔ انسانوں کی طرح تمام فرشتے بھی ایک جیسے نہیں تھے۔ ان میں بھی وقت کے ساتھ طبقات وجود میں آگئے۔ اپنی عبادات کے خلوص اور کثرت کی وجہ سے عزازیل نامی ایک فرشتہ ترقی کے مدارج طے کرتا ہوا مقربین کی فہرست میں سب سے آگے پہنچ گیا اور سرداری کے منصب پر فائز کیا گیا۔سمے اپنی رفتار سے گزرتا گیا اور راوی چین ہی چین لکھتا رہا مگر پھر ایک دن خدا نے ان مقربین کے سامنے اپنے نائب یعنی انسان کو پیش کر دیا اور ان مقربین کو حکم ہوا کہ اس نائب کے آگے سر کو خم کر دیں۔
یہ کہانی میں نے سن رکھی ہے۔ سارے فرشتوں نے حکم مان لیا تھا سوائے ابلیس کے اور اس کے بعد سے وہ مردود ہوگیا تھا۔
جانتے ہو ابلیس نے ایسا کیوں کیا تھا؟
تکبر کی وجہ سے!
اور یہ تکبر کس بات کا تھا؟
کہ خدا نے اسے مٹی سے پیدا کیا ہے جبکہ مجھے آگ سے !
صرف یہی وجہ رہی ہوگی؟
قرآن میں تو یہی وجہ لکھی ہے
میں قرآن کے خلاف جانے کا تصور نہیں کر سکتا۔ قرآن میں لکھا ہے تو ٹھیک ہی لکھا ہوگا۔ مگر میری کہانی تھوڑی مختلف ہے ۔ میری کہانی کے ابلیس کا تکبر اس کے تعلق پر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس کا تعلق اتنا مستحکم اور اتنا منفرد ہے کہ تاعمر کبھی بھی کسی کو بھی مجھ پر فوقیت نہیں دی جا سکتی اور اس لئے جب انسان نے آکر اس کی جگہ لے لی تو ابلیس نے قسم کھائی کہ مالک کو دکھا کر چھوڑے گا کہ اس نے مجھے چھوڑ کر جس کو چنا ہے وہ کس حد کا گھٹیا اور رذیل ہے۔
تو نے لکھنا چھوڑ دیا تھا نا؟
ہاں! کیوں؟
اچھا کیا تھا۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت