Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 اپریل، 2017

زبان دراز کی ڈائری - 10

پیاری ڈائری!
آج میرا ڈائری لکھنے کا قطعاّ کوئی ارادہ نہیں تھا مگر کیا کرتا۔ کچھ درد اگر قرطاس پر منتقل نہ کیئے جائیں تو جسم کے اندر ہی گھائو بنا کر بس جاتے ہیں اور پھر گھائو سے لاوہ بنتے انہیں کب دیر لگتی ہے؟ اور لاوے کی فطرت تو تم جانتی ہی ہو کہ یہ یا تو اندر ہی اندر چٹان کو کھاتا رہتا ہے یا پھر ایک ہی دفعہ باہر نکل کر سب کچھ برباد کر چھوڑتا ہے۔ بہتر ہے کہ درد کو درد ہی رہنے دیا جائے اور اسے رگوں سے نچوڑ کر قرطاس پر منتقل کردیا جائے۔
میں جانتا ہوں تمہیں ان سب سنجیدہ چیزوں کی عادت نہیں ہے اور مجھ سے یہ باتیں سننا تمہیں ضرور حیران بلکہ شاید کچھ حد تک پریشان  بھی کر رہا ہوگا۔ مگر میں کیا کروں کے آج کوشش کے باوجود بھی میں مسکرا نہیں پارہا۔ میں چاہتا ہوں کہ قلم سے شگوفے بکھیروں، تمہارے چہرے پر مسکراہٹ لائوں، طنز کے لطیف نشتر سے تمہیں گدگدائوں ۔۔۔ مگر آج کا زخم شاید نشتر کے بس کا نہیں ہے۔ اسے کسی معمولی نشتر کی نہیں بلکہ کاٹ دینے والی تلوار کی ضرورت ہے کہ اگر آج بھی تلوار نہ چلی تو اس زخم میں موجود زہر پورے جسم کو چاٹ جائے گا۔
پچھلے ایک ہفتے سے طبیعت بہت زیادہ ناساز تھی اور یہ موسمی بخار جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ دو ڈاکٹر بدل کر دیکھ لیئے مگر اس بخار نے جان نہیں چھوڑی۔ کل خالہ جان ملنے کیلئے آئیں تو جاتے ہوئے کہہ گئیں کہ بیٹا روائتی علاج اپنی جگہ سہی مگر ہوسکے تو گوشت کا صدقہ نکال دو۔ صدقہ بہت سی آفات و بلیات کو ٹال دیتا ہے۔ بات بھی کچھ مناسب تھی اور ویسے بھی بیماری و کمزوری میں انسان مذہب سے کچھ قریب ہوجاتا ہے سو آج صبح جاکر میں بھی حسب استطاعت ایک چھوٹا سا بکرا خرید کر لے آیا کہ گھر میں ہی صدقہ دلاکر گوشت مستحقین میں تقسیم کردوں۔
خیر سے بکرا بھی آگیا اور صدقہ بھی دے ڈالا۔ اب جب گوشت مستحقین کو دینے کی باری آئی تو میں نے اپنے دفتر کے ایک چپڑاسی کو فون کرکے بلا لیا۔ خدا بیچارے مشتاق کو خوش رکھے کہ وہ چپڑاسی ہونے کے باوجود ایک بڑے دل کا مالک ہے اور مجھے یقین تھا کہ اس کے علم میں کوئی نہ کوئی ایسا مستحق ضرور ہوگا جو صدقے کا یہ گوشت استعمال کرسکے۔
میں نے گوشت مشتاق کے حوالے کیا اور اس کو تاکید کی کہ کسی واقعی مستحق انسان تک اسے پہنچا دے۔ مشتاق نے گوشت کا تھیلا میرے ہاتھ سے لیا مگر اپنی جگہ سے ہلا نہیں۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو مشتاق نے بھرائی ہوئی آواز مٰیں ایک ایسا سوال کرڈالا کہ جس کا جواب میں اب تک ڈھونڈ رہا ہوں۔ مشتاق نے کہا کہ صاحب! میں سید ہوں لہٰذا صدقے کا گوشت مجھ پر حرام ہے؛ میری اپنی ذات پر اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا، پر صاحب میرے گھر والوں نے پچھلے تین سال سے بکرے کا گوشت نہیں کھایا ہے!! آپ تو مذہب جانتے ہیں، کیا کوئی ایسی صورت نہیں نکل سکتی کہ میں اس پورے تھیلے میں سے تین، چار بوٹیاں اپنے والدین کیلئے استعمال کرسکوں؟؟؟
پیاری ڈائری! مشتاق تو گوشت لیکر چلا گیا مگر میری طبیعت سنبھلنے کے بجائے مزید خراب ہوگئی ہے۔ دوپہر سے ٹیلیویژن کے آگے بیٹھا ہوں اور دماغ میں صرف ایک ہی بات چل رہی ہے؛
میاں صاحب کو ہرن نہیں کھانا چاہیئے تھا۔
والسلام
لٹا ہوا پاکستانی

زبان دراز کی ڈائری - 8

پیاری ڈائری!

زندگی میں کبھی یاوہ گوئی کی عادت نہیں رہی اور اب افسوس ہورہا ہے کہ کاش صحیح وقت پر کچھ مناسب گالیاں سیکھ لی ہوتیں تو اس شاعرِ جنوب کو ایک جوابی خط لکھ ڈالتا۔ مگر خیر جو ہوا سو ہوا۔

کل پاکستان سے کسی عاطف صاحب کا محبت نامہ ملا جس میں انہوں نے ملک کے حالات پر معافی مانگنے سے یکسر انکار کردیا تھا اور مُصِر تھے کے صرف شرمندگی سے ہی کام چلایا جائے۔ یقین ہوگیا کہ خط واقعی پاکستان سے ہی آیا ہے کیوںکہ اتنی گھٹیا اردو دنیا کے کسی اور کونے میں نہیں بولی جاتی۔

خط پڑھ کر بہرحال حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی؛ خوشی اس بات کی کہ آج بھی چند لوگ ہیں جو پر امید ہیں اور حیرت اس بات پر کہ پاکستان میں اب بھی لوگوں کو اردو لکھنی یاد ہے؟ یہاں تو اب جتنے بھی پاکستانی آتے ہیں وہ سب تو رومن میں لکھتے ہیں۔ زبان ہی کے تذکرے پر پرسوں علامہ صاحب فرما رہے تھے کہ اردو کی بقا کی واحد صورت یہ ہے کہ امریکہ اسے قومی زبان کے طور پر قبول کرلے۔ خیر علامہ کے فلسفے تو علامہ ہی جانیں۔ مجھے بہرحال خط پڑھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ میں نے پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ لیاقت علی خان نے سمجھایا تو انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ آج کل پاکستانی لیڈران کا سال میں ایک آدھ مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنا فیشن میں ہے۔ خیر جناب، اللہ میاں سے اجازت لی اور ٹہلتے ٹہلتے رات کے کسی پہر کراچی پہنچ گیا۔

مزار سے باہر نکلا تو موٹرسائیکل پر سوار چند لڑکے نما مخلوق زناٹے سے برابر سے گزری۔ اگر سن اڑتالیس میں وقت پر ایمبولینس آگئی ہوتی تو اس بغیر سائلینسر کی موٹر سائکل ریلی کی آوازوں سے سن دو ہزار چودہ میں ضرور کام ہوجاتا۔ دیر تک وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر حواس بحال کرتا رہا۔ ابھی بیٹھے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ایک موٹرسائکل برابر میں آکر رکی اور اس پر سوار دو لڑکوں میں سے ایک نے بندوق نکال کر موبائل مانگ لیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ اول تو میرے پاس موبائل نہیں ہے کہ جنت میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی اور دوسرا یہ کہ موبائل مانگنے کیلئے بندوق نکالنے کی کیا ضرورت؟ اگر آپ نے کسی کو کال ہی کرنی ہے تو مانگنے کے اور بھی عزت دار طریقے ہیں۔۔۔ حد ہوتی ہے!! نوجوان حیرت سے میری شکل دیکھ رہا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، اس کے پیچھے والے لڑکے نے اس کو کہنی مار کر کہا کہ "بڈھا خبطی ہے اور مجھے اس کی شکل جانی پہچانی لگ رہی ہے۔ خوامخواہ جان پہچان نکل گئی تو مسئلہ ہوگا، ٹائم کھوٹا نہ کر اور نکل"۔ پہلے والے نے جلدی سے موٹرسائکل کا گیئر ڈالا اور موٹرسائکل اڑا دی۔ عجیب نامعقول سے لڑکے تھے۔ اگر رک کر میری بات سن لیتے تو کیا پتہ ان ہی سے لفٹ مانگ کر آگے چلا جاتا۔

ان لڑکوں سے فارغ ہوا ہی تھا کہ ایک خاتون آکر گلے پڑ گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ میں کسی شاہ رخ خان سے ملتا ہوں اور اگر میں چاہوں تو یہیں "بابے کے مزار " کے ساتھ والے کمرے میں ان کے ساتھ جاسکتا ہوں۔ میں نے پہلے تو انہیں سمجھایا کہ یہ صرف پسینے کی وجہ سے میرا چہرا چمک رہا ہے اور ان کے خیال کے برعکس میں ویسا چکنا نہیں ہوں جیسا انہوں نے مجھے پکارا۔ دوسری بات یہ کہ میں اس ہی بابے کے مزار سے نکل کر آرہا ہوں اور یہیں ہوتا ہوں۔ وہ بیچاری پتہ نہیں کیا سمجھی اور کھسیانی ہو کر مجھے چند روپیے دینے کی کوشش کرنے لگی۔ میری تو خود یہ معاجرہ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر میں نے پھر بھی اسے سمجھایا کہ میں اس سے پیسے نہیں لے سکتا۔ وہ یہ کہتی ہوئی تیزی سے ایک طرف چلی گئی کہ بابو پتہ نہیں تھا آپ مینجمنٹ والے ہو آئندہ احتیاط کروں گی۔

ان ہی جھمیلوں میں اب رات کے بارہ بجنے والے تھے اور مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس شہر کو ہوکیا گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک مسلسل عجیب کردار ٹکرا رہے تھے۔ سر جھٹک کر میں نے توجہ مزار پر ڈالی تو میرا مزار برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا۔ تیرہ اگست کی رات تھی اور اب چودہ اگست شروع ہونے ہی والی تھی۔ میں خوشی سے اپنے مزار کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک فائرنگ کی بھیانک آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ مجھے لگا کہ شاید ہندوستان نے حملہ کردیا ہے، میں گاندھی کو کوستا ہوا واپس مزار کے اندر بھاگا تو اس مرتبہ گیٹ پر موجود گارڈ نے روک لیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ باہر اس طرح حملہ ہوگیا ہے اور اب اسے بھی مورچہ بند ہوجانا چاہیے تو اس مریض نے ایک طرف منہ میں بھرے خون کی کلی کری اور قمیض کے دامن سے منہ پونچھتے ہوئے بولا کہ چاچا پہلی بار چودہ اگست دیکھ رہے ہوکیا؟ میں نے اس سے کہا کہ میں جشن آزادی اور چودہ اگست کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوں مگر یہ حیوانوں کی طرح برتائو اور اس طرح اندھادھند فائرنگ سے کونسا جشن اور کون سی ملک کی خدمت کی جارہی ہے؟ جواب میں اس نے وہی خون آلود ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور بولا، چاچا، چودہ اگست کو صرف یہ ملک آزاد نہیں ہوا تھا۔ یہ سب درندے بھی آزاد ہوگئے تھے۔ اب جس درندے کے منہ میں اس ملک کے جسم کی جتنی بڑی بوٹی آتی ہے وہ اتنا ہی بڑا لقمہ نوچ لیتا ہے۔ میں نے پوچھا، کہ کوئی ان درندوں کو روکتا کیوں نہیں؟ اس نے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور ایک عجیب سا کتھئی رنگ کا مواد منہ میں رکھتے ہوئے بولا، چاچا، یہ ایک فلمی دنیا ہے۔ یہاں ہیرو ہیروئن بچانے کیلئے غنڈوں کو صرف اس لیئے روکتا ہے تاکہ پکچر کے اختتام پر وہی عزت وہ خود لوٹ سکے۔

اس ساری گفتگو کے دوران میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھ میں آنسو آگئے تھے۔ میں نے موضوع تبدیل کرنے کیلئے اس سے پوچھ لیا کہ یہاں تو قائد اعظم دفن ہیں تو یہاں اتنی بندوقوں کے ساتھ پہرے داری کرنے کی کیا ضرورت؟ وہ میرے قریب آیا اور میرے کان میں تقریباٗ پچکاری مارتے ہوئے بولا، چاچا، اگر یہ قائد غلطی سے بھی دوبارہ زندہ ہوگیا تو ملک کے حالات دیکھ کر انگریزوں کو ملک واپس کردے گا اور ساتھ میں معافی بھی مانگے گا۔ ہم بندوق لیکر اس ہی لیئے کھڑے ہیں کہ قائد نکل کر بھاگ نہ جائیں۔ ملک کی عزت کا سوال ہے، بڑی بدنامی ہوجائے گی۔

مجھے اب اس نامعقول انسان پر شدید غصہ آرہا تھا۔ میں نے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے اس کو جذباتی مار مارنے کی کوشش کی۔ میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس لوٹ مار اور درندگی کے کھیل کے خلاف تمہارے اندر کس قسم کے جذبات ہیں۔ سچ سچ بتانا، تم اس ملک کو لوٹنے والوں کے ذکر پر آبدیدہ کیوں ہوگئے تھے۔ اس کمینے سپاہی نے روہانسی آواز میں جواب دیا، روئوں نہیں تو کیا کروں؟ سب کھا رہے ہیں، ایک ہمیں ہی موقع نہیں مل رہا بس!!

میں اس مردود لمحے کو کوس ہی رہا تھا جب میں نے نیچے آنے کا فیصلہ کیا تھا کہ اچانک محل میں زلزلہ آگیا۔ اب جو دیکھا تو خود کو اپنے ہی محل میں بستر پر پایا۔ خوشی سے سجدہ شکر بجا لایا کہ یہ سب صرف خواب تھا۔ حوروں نے آکر بتایا کہ زلزلے کی وجہ کوئی جون ایلیاء نامی صاحب تھے جو دروازے پر لاتیں اور گھونسے برساتے ہوئے پوچھ رہے تھے کہ وہ علی گڑھ کا لونڈا یہیں رہتا ہے؟؟؟

جون صاحب کی ملاقات کا احوال پھر کبھی، فی الحال اجازت دو۔ کراچی سے جاتے جاتے ایک لفظ سیکھ کر آگیا ہوں، آئندہ کبھی کسی شاعر کا خط آیا تو میں بھی جواب میں لکھ بھیجوں گا ۔۔۔۔۔ کدو!!!

محمد علی

پیر، 20 فروری، 2017

پیر صاحب

جیل سے فرار ہوئے مجھے ایک ماہ سے اوپر ہوگیا تھا اور میں مسلسل بھاگتا پھر رہا تھا۔ گو کہ اس ایک ماہ میں میرا حلیہ کافی حد تک تبدیل ہوچکا تھا مگر مجھے ڈر تھا کہ پولیس نے میری تلاش میں اشتہارات نہ لگوا دیئے ہوں۔ پہچانے اور پھر دوبارہ پکڑے جانے کا خوف مجھے کسی بھی ایک جگہ زیادہ دن رکنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ اس ہی فرار کی حالت میں خدا معلوم کن رستوں سے ہوتا ہوا میں اس گائوں پہنچ گیا تھا۔
یہ ایک نہایت پسماندہ اور دور افتادہ گائوں تھا۔ بمشکل چند ہزار کی آبادی تھی اور سہولیات زندگی نہ ہونے کے برابر۔ آس پاس کے چار چار گائوں تک نہ کوئی سکول تھا نہ ہسپتال۔ گائوں کے لوگوں کو البتہ ان چیزوں سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ انہوں نے حالات کے ساتھ سمجھوتا کرلیا تھا اور اب وقت کے ساتھ اتنے سمجھدار ہوگئے تھے کہ کسی غریب کی طبیعت اگر زیادہ خراب ہو جاتی تو پیسے علاج پر خرچ کرنے کے بجائے تدفین کیلئے جوڑ لیئے جاتے تھے۔
سادہ سا گائوں تھا اور سادہ سے لوگ۔ یہاں ابھی تک ہاتھ باندھنے یا کھول کر نماز پڑھنے کے جھگڑے نہیں پہنچے تھے کہ یہ لڑائیاں وہاں ہوتیں جہاں نماز بھی ہوتی ہو۔ گائوں میں نہ کوئی مسجد تھی نہ مولوی! کبھی بھولا بھٹکا کوئی مولوی اگر آبھی جاتا تو ان گائوں والوں کی غربت دیکھتے ہوئے کسی ذیادہ منافع بخش جگہ کی تلاش میں آگے نکل جاتا تھا۔ شادی بیاہ اور میت کیلئے شہر سے مولانا صاحب بلائے جاتے تھے جبکہ روزمرہ کی زندگی کیلئے اللہ، رسول کے نام ان گائوں والوں کو معلوم تھے اور انکے لیئے یہی بہت تھے کہ مذہب ان کیلئے بس اتنا ہی اہم تھا کہ ان کے نزدیک جب زندگی میں کوئی راستہ نہ دکھے تو اللہ رسول کا نام لے کر رونے سے وہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو کچھ گائوں چھوڑ کر ایک پیر صاحب کا ڈیرہ تھا جہاں جاکر نذرانہ چڑھانے سے کام ہوجائے گا۔
جب میں گائوں میں داخل ہوا تو رات گہری ہوچکی تھی اور گائوں کے کتے تک سوچکے تھے۔ میں کچے پکے راستوں اور کھیتوں کے بیچ میں سے گزرتا ہوا گائوں کے وسط میں واقع ایک برگد کے نیچے جا کر لیٹ گیا۔ جسم پھوڑا بن چکا تھا اور تھکن کی وجہ سے مزید جاگنا محال تھا۔ میں نے چادر کاندھے پر سے اتاری اور منہ پر تان کر سو گیا۔
کب رات گزری اور کب صبح ہوئی مجھے احساس تک نہیں ہوا۔ جب آنکھ کھلی تو خود کو گائوں کے بوڑھوں اور بچوں میں گھرا پایا جو بڑی دلچسپی اور حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں ابھی تک نیم خوابی کے عالم میں ہی تھا اور کانونٹ کے دنوں کی بری عادت سے مجبور، بے دھیانی میں انگریزی میں ہی بات کرتا تھا۔
( میرا تعلق ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تھا اور اگر ریپ کے کیس میں پکڑا نہ جاتا تو آج میں بھی شہر میں ایک عزت دار زندگی گزار رہا ہوتا۔ تمام تر تعلیم اور تربیت کے بعد بھی میں اپنے اندر کے اس درندے کو روک نہیں پاتا تھا جو خواتین کو دیکھتے ہی میرے اندر بیدار ہوجاتا تھا۔ معاشرے کو بھی میری اس بیماری سے فرق نہیں پڑتا کہ میرے جرم کی اصل سزا یہ معاشرہ مجرم کو نہیں بلکہ جرم کا شکار ہونے والے مظلوم کو دیتا تھا۔ خودساختہ عزت بچانے کے ڈر سے کبھی کسی نے میرے خلاف رپورٹ نہیں کروائی تھی کہ اگر وہ غریب میرے خلاف تھانے جاتیں تو اول تو معاشرہ انہیں جینے نہیں دیتا اور دوسرا وہ بیچاری وہ چار گواہ کہاں سے لاتیں جو یہ کہتے کہ ہاں ہم نے بےغیرتوں کی طرح اس کی عزت لٹتے ہوئے دیکھی اور ہم نے اس وقت تو کچھ نہیں کیا مگر آج گواہی دینے آگئے ہیں۔ زندگی عیاشی میں گزر رہی تھی مگر غلطی سے میں نے ایک طاقتور کی بیٹی پر ہاتھ صاف کردیا۔ چار کی جگہ چار سو گواہ بھی آگئے اور کیس بھی اس لڑکی کے بجائے اس کی ملازمہ کی عزت لٹنے کا بنا۔ خود تو مردود صاف نکل گئی اور ہمیں عدالت نے سات سال کی بامشقت سزا سنادی۔)
میں نے انگریزی میں انہیں جھاڑا کہ تم یہاں کون سا تماشہ دیکھنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہو؟ میں کوئی چڑیا گھر کا جانور نہیں جسے اس طرح ہجوم بنا کر دیکھنے کیلئے تم لوگ یہاں جمع ہوئے ہو! دفع ہوجائو!!! گائوں والے سراسیمہ ہوکر اِدھر ادھر ہوگئے مگر تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ پہلے سے زیادہ بڑی تعداد میں واپس آگئے۔ اس بار ان سب کے ہاتھوں میں کھانے پینے کی چیزیں تھیں جو وہ میری خدمت میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ گائوں کے بزرگوں نے واپس جاکر گائوں بھر کو خوشخبری دے دی تھی کہ اب علاج کیلئے چار کوس دور پیر صاحب کے پاس نہیں جانا پڑے گا کیونکہ خود ہمارے گائوں میں ایک اللہ لوک بزرگ تشریف لے آئے ہیں جو جنات کی بولی بھی جانتے ہیں۔
آنے والے چند ہی دنوں میں میں ایک نیم پکے مکان میں منتقل ہوچکا تھا جو گائوں کے چوہدری صاحب نے بطور خاص میرے لیئے بنوایا تھا۔ چوہدری صاحب خود تو اس گائوں میں نہیں رہتے تھے مگر وہ جانتے تھے کہ گائوں والوں کو ان کی ذہنی اور جسمانی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے میں میں کتنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہوں۔ مجھے بھی انکی نوازشات پر کوئی اعتراض نہیں تھا کہ مجھے صرف کچھ وقت گزار کر یہاں سے آگے چلے جانا تھا۔ یہ پیری فقیری میرے بس کی چیز نہیں تھی اور کسی بھی دن اگر بھانڈہ پھوٹ جاتا تو لینے کے دینے پڑ جاتے۔
گائوں کے لوگوں کو اب ایک نیا شغل اور امید مل گئی تھی۔ پیر صاحب کیا آئے، زندگی کے ہر مسئلے کا حل ان کے ہاتھ آگیا۔ وہ اپنی ذندگی کے تمام مسائل کا رونا اب میرے پاس آکر رونے لگے۔ مجھے صرف تین وقت کے کھانے اور وقتی پناہ سے مطلب تھا سو میں ان کی اس بکواس کو اس کھانے کی قیمت سمجھ کر سن لیتا۔ گائوں والے مجھ سے بہت خوش تھے۔ اندر کی تمام بھڑاس نکالنے کے بعد وہ قدرتی طور پر بہتر محسوس کرتے اور اسے میری کرامت سے منسوب کردیا جاتا۔ دوسری چیز جو میرے حق میں گئی وہ یہ تھی کہ آس پاس کے گائوں والے بھی اب دعا کروانے میرے پاس آنے لگے تھے جس سے گائوں والی کی عزت میں بھی اضافہ ہوگیا تھا۔
دن ہفتوں میں بدل گئے اور اب میں اس تماشے سے اکتانے لگا۔ میں اب گائوں سے روانگی اور آگے کی منازل کے بارے میں سوچنے ہی لگا تھا کہ کل میرے پاس گائوں کا ایک بے اولاد جوڑا آگیا۔ وہ دونوں اولاد نہ ہونے کے غم سے پریشان تھے۔ میں نے تسلی سے ان کی بات سنی اور انہیں یقین دلایا کہ میں ان کیلئے خصوصی دعا کروں گا۔ وہ دونوں خوشی خوشی وہاں سے اٹھ کر جانے لگے تو بدقسمتی سے اس کی بیوی کے چہرے سے چادر کھسک گئی۔ میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو میں نے اس ہی وقت اپنا ارادہ تبدیل کردیا۔ میں نے اس کے شوہر کو کہا کہ کل وہ اپنی بیوی کو میرے حجرے پر چھوڑ جائے کہ یہ معاملہ دعا سے زیادہ دوا کا ہے۔ مجھے ایک مخصوص عمل کرنا ہوگا جس کے بعد تم دونوں کو اولاد کی نعمت نصیب ہوجائے گی۔ ان دونوں میاں بیوی کے چہرے خوشی سے چمک اٹھے۔ وہ اگلے دن اپنی بیوی کو لانے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
پوری رات میں صبح ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ اگلے دن میں نے صبح ہی اپنے خاص مرید کے ذریعے، آنے والے تمام لوگوں کو کہلوادیا کہ آج مرشد ایک خاص عمل کر رہے ہیں جس کیلئے انہیں تنہائی اور انہماک کی ضرورت ہے سو آپ لوگ اب کل آئیے گا۔ جب تمام مرید چلے گئے تو میں نے اس خاص خادم اور مرید کو بھی رخصت کردیا اور تیار ہوکر ان میاں بیوی کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر گزری ہوگی کہ وہ دونوں میاں بیوی بھی پہنچ گئے۔ میاں کو میں نے دروازے سے ہی رخصت کردیا اور اندر پہنچتے ہی اس عورت پر ٹوٹ پڑا۔ وہ بیچاری چپ چاپ سب کچھ سہتی رہی اور آخر میں اپنے آپ کو سنبھالتی، روتی ہوئی حجرے سے نکل کر بھاگ گئی۔
اس کے جانے کے بعد مجھے ہوش آیا کہ یہ میں کیا کر بیٹھا ہوں۔ اگر اس نے یہ بات اپنے شوہر کو بتادی تو وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ ان علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل ایک معمول کی بات تھی۔ میں تیزی سے باہر نکلا کہ اس سے پہلے وہ عورت جاکر اپنے شوہر کو یہ بات بتائے میں اسے پکڑ کر کسی طرح قائل کرلوں کہ یہ بات صرف ہم دونوں کے بیچ میں رہنی چاہیئے۔ جنت جہنم کی چار باتیں ان گائوں والوں کو ڈرانے اور للچانے کیلئے بہت تھیں کہ یہ لوگ جہنم سے بے انتہا ڈرتے تھے۔ میں بھاگتا ہوا جا رہا تھا کہ مجھے وہ عورت ایک کھیت میں داخل ہوتی ہوئی دکھی۔ میں تیزی سے اس کے پیچھے لپکا مگر اس سے پہلے کہ میں اس تک پہچتا وہ اپنے میاں تک پہنچ چکی تھی۔ میں وہیں پیچھے کھڑے ہوکر سننے لگا۔ وہ عورت رو رو کر اپنے شوہر کو بتا رہی تھی کہ اس سے ایک عظیم گناہ سرزد ہوچکا ہے اور اب وہ اس کے قابل نہیں رہی ہے۔ اس کے شوہر نے اس کو تسلی دیتے ہوئے پوچھا کہ ایسا کیا ہوگیا؟ اس عورت نے جواب دینے کی کوشش کی مگر سوائے ہچکیوں کے کوئی آواز نہیں نکل پائی۔ تھوڑی دیر وہ اس ہی طرح دھاڑیں مارتی رہی اور پھر بمشکل سسکیوں کے درمیان بولی کہ اب وہ جہنمی ہوگئی ہے اور اب اپنے شوہر تو کیا کسی  انسان کے بھی لائق نہیں رہی ہے۔
میں کھیت میں کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا اور میرا خود کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ گائوں میں رکتا تو گائوں والے مار ڈالتے اور اگر گائوں چھوڑ کر بھاگتا تو پولیس مجھے نہیں چھوڑتی۔ مجھے جو بھی فیصلہ کرنا تھا نہایت سوچ سمجھ کر کرنا تھا۔ میں تمام ممکنات کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس عورت کے شوہر کی آواز ایک مرتبہ پھر آئی جو اپنی بیوی کو سمجھا رہا تھا کہ رونے سے کچھ نہیں ہوگا اور اسے اپنے شوہر پر بھروسہ کرتے اسے اعتماد میں لینا چاہیئے۔ وہ عورت بمشکل خود پر ضبط کرتے ہوئے بولی، اب کچھ نہیں ہوسکتا! مجھے جہنم میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پیر صاحب جب عمل کر رہے تھے تو میری ناپاک ٹانگیں ان کی داڑھی مبارک پر لگ گئیں! تو خود بتا اب مجھے جہنم میں جانے سے کون روک سکتا ہے؟ میں دم بخود ان کی گفتگو سن رہا تھا اور پھر میری آنکھوں نے ایک حیران کن منظر دیکھا۔ اس کے شوہر نے اس کا ہاتھ تھاما اور بولا، پیر صاحب بہت پہنچی ہوئی ہستی ہیں! چل کر مل کر ان سے بات کریں گے تو مجھے یقین ہے وہ تجھے معاف کردیں گے۔ چل آجا مرشد سائیں سے معافی مانگ کر آئیں۔
میں نے ایک مرتبہ پھر دوڑ لگادی۔ اس مرتبہ میرا رخ واپس اپنے حجرے کی طرف تھا جہاں میں باقی کی پوری زندگی اطمینان سے گزار سکتاہوں۔

بدھ، 17 دسمبر، 2014

زبان دراز کی ڈائری - سانحۃ پشاور

پیاری ڈائریً!


تم شاید سمجھ رہی ہوگی کہ میں خود کو بڑا ادیب سمجھنے لگا ہوں اس لیئے لکھنا کم کردیا ہے۔ یا شاید تم نے سوچا ہوگا کہ چونکہ مجھے اس ڈائری کو لکھنے کے کوئی پیسے نہیں ملتے اس وجہ سے میں نے تم سے باتیں کرنا چھوڑ دی ہیں۔ مگر یقین جانو یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں۔ تم شاید بھول بیٹھی ہو کہ میں قومیت کے اعتبار سے پاکستانی ہوں اور محض واقعات و سانحات پر چند لمحات کیلئے زندہ ہوتا ہوں ورنہ ہماری نیم مردہ زندگی تو اصحابِ کہف کی نیند کو پہنچنے لگی ہے۔ تو لکھنے کیلئے زندہ ہونا اور زندہ ہونے کیلئے کوئی سانحہ ضروری ہوتا ہے۔ سو آج ایک سانحہ سا ہوگیا ہے جس نے تمہارے زبان دراز کے مردہ جسم میں کچھ دیر کو روح پھونک دی ہے اور اس کچھ دیر کی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے قلم اٹھایا اور تمہارے پاس آگیا۔


اب تم سوچ رہی ہوگی کہ اتنی لمبی تمہید کیوں؟ اور مجھے یقین ہے کہ تم یہ بھی جاننا چاہتی ہو کہ آج ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میاں زبان دراز پھر ڈائری کھول کر بیٹھ گئےہیں؟ تو سنو! تم تو جانتی ہو کہ میں اب ایک مشہور آدمی ہوں اور مجھے دن رات لفافے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ جی نہیں! میری مراد وہ مروجہ محاورے والے لفافے نہیں بلکہ خطوط کے لفافے ہیں۔ کبھی کوئی اپنی ناکام محبت کی داستان لکھوانا چاہ رہا ہوتا ہے تو کبھی کسی کو اپنی ڈرامائی زندگی پر ٹیلیویژن کا ڈرامہ لکھوانا ہوتا ہے۔ اب تو میں نے ایک مستقل مسودہ تیار کر لیا ہے اور جوابی خط کے طور پر وہی مسودہ نقل کرکے بھیج دیتا ہوں۔ آج مگر مجھے ایک بہت عجیب سا خط ملا ہے۔ یہ نہ تو ناکام محبت کی داستان ہے نہ تباہ حال جوانی کا احوال۔ یہ خط کسی بچے نے لکھ بھیجا ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ عالمِ بالا میں موجود ہے۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ اس خط کا کیا جواب دوں۔ پھر سوچا کہ تمہیں بھی یہ خط سنائوں، ہو سکتا ہے تم کوئی جواب تجویز کردو۔ سو یہ خط ملاحظہ کرو اور میری مدد کرو۔


پیارے انکل


السلام علیکم! مجھے پتہ ہے کہ آپ اچھے حال میں ہیں اور میں اللہ میاں سے دعا کرتا ہوں کہ آپ سدا اچھے حال میں ہی رہیں۔ میرا نام ۔۔۔ مجھے یاد نہیں۔ مگر مجھے یہ یاد ہے کہ آج صبح تک میرا بہت اچھا سا نام ہوا کرتا تھا۔ وہ اچھا سا نام کیا تھا مجھے یاد نہیں، ہاں کل کے اخبار میں جب فہرست چھپے گی تو میں اس میں سے دیکھ کر آپ کو ضرور بتائوں گا۔ اللہ کا پکا والا وعدہ!


آپ پریشان ہو رہے ہونگے کہ میں نے آپ کو خط کیوں لکھا ہے؟ جب آپ مجھے جانتے تک نہیں ہیں اور آپ کو کیا، خود مجھے بھی اپنا نام تک یاد نہیں، تو میں آپ سے کیوں مخاطب ہوں؟ تو انکل بات یہ ہے کہ مجھے ابھی قائد اعظم انکل ملے تھے ۔ وہ ہم سب بچوں کو یہاں لینے کیلئے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں اپنے امی ابو تک کچھ باتیں پہنچانا چاہتا ہوں تو انہوں نے مجھے آپ کا پتہ بتا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ بھی پہلے آپ کو خطوط لکھتے رہے ہیں۔ اور آپ کی تحاریر تو اخبار میں بھی چھپتی ہیں، تو میں نے سوچا کہ میں آپ کو خط لکھوں تو شاید آپ میرا پیغام اخبار میں چھاپ دیں اور میرے امی ابو تک میرا پیغام پہنچ جائے۔ مجھے امید ہے آپ میرے لیئے یہ کام کر دیں گے۔ کرٰیں گے نا؟


افوہ! میں بھی کن باتوں میں لگ گیا۔ آپ کے سوالات ابھی تک وہیں کے وہیں ہیں اور میں اپنی فرمائشیں لیکر بیٹھ گیا ہوں۔ مگر میں نے آج تک کسی کو خط نہیں لکھا نا ۔۔۔ شاید اس لیئے مجھے صحیح سے خط لکھنا بھی نہیں آتا۔ اردو کے ٹیچر نے اگر یہ خط دیکھ لیا تو بہت غصہ ہوں گے۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ انسان اپنی تحریر اور گفتار سے پہچانا جاتا ہے۔ اور میں آپ کو ایک مزے کی بات بتائوں؟ مجھے گفتار کا مطلب ہی نہیں پتہ ۔۔۔۔ مگر آپ یہ بات اردو کے ٹیچر کو نہیں بتائیے گا۔ میں ہمیشہ ان کی بات سن کر ایسے سر ہلاتا تھا جیسے ساری بات سمجھ میں آگئی ہو۔ انہیں پتہ چلے گا کہ اتنے عرصے سے میں انہیں الو بنا رہا تھا تو وہ بہت خفا ہوں گے۔


تو انکل میں آپ کو بتارہا تھا کہ میرا نام ۔۔۔۔ مگر مجھے تو اپنا نام یاد ہی نہیں ہے؟ مجھے تو بس یہ یاد ہے کہ میں آج اپنے اسکول میں تھا اور کلاس میں دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ اچانک دروازے پر لات پڑی اور دو انکل کلاس میں گھس آئے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ پھر انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ اس کے فوراُ بعد مجھے ایسا لگا کہ کوئی کھولتی ہوئی چیز میرے پیٹ کو پھاڑتی ہوئی میرے جسم میں گھس گئی۔ مجھے لگا کہ جیسے میرے پورے جسم میں آگ لگ گئی ہو۔ مگر میں رویا نہیں۔ اگر آپ میرا خط اخبار میں چھاپیں تو امی کو بتا دیجئے گا کہ میں ان کا بہادر بیٹا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ بہادر بچے چوٹ لگنے پر روتے نہیں ہیں۔ تو میں کیسے رو سکتا تھا؟ میں تو امی کا بہادر بیٹا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ میں بہت زور سے روئوں مگر میں چپ رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ میرے جسم سے بہت سارا خون بہہ رہا تھا۔ میرا سارا یونیفارم بھی سرخ ہوگیا تھا۔ میں نے ہاتھ سے یونیفارم صاف کرنے کی کوشش کی مگر وہ صاف ہی نہیں ہوا۔ امی کو بولیئے گا کہ وہ غصہ نہ ہوں۔ میں اللہ میاں سے کہوں گا کہ وہ ہمارے گھر کے حالات بہتر کردیں اور امی گھر میں کام کرنے والی کوئی مددگار رکھ لیں۔ پھر امی کو میرا یونیفارم دھونے کیلئے ٹھنڈے پانی میں ہاتھ نیلے نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو انکل پھر آپ کو پتہ ہے کیا ہوا؟ مگر یہ تو مجھے بھی نہیں یاد کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ اس شدید ترین اذیت کے بعد میں بہت تھک گیا تھا اس لیئے میں وہیں سو گیا۔ آنکھ کھلی تو ہم سب کلاس کے بچے نئے کپڑے پہن کر یہاں موجود تھے۔ بہت سارے پیارے پیارے لوگ ہم سے ملنے کیلئے بھی آرہے تھے۔ میں نے یہیں قائد اعظم کو بھی دیکھا۔ تصویر میں تو وہ اتنے دبلے پتلے دکھتے ہیں مگر یہاں تو وہ اتنے صحت مند ہیں۔ پہلے تو میں انہیں پہچانا ہی نہیں۔ پھر مجھے میرے ایک دوست نے بتایا کہ یہ قائد اعظم محمد علی جناح ہیں۔ اور آپ کو پتہ ہے انکل؟ ہم اسکول میں سنتے تھے قائداعظم بہت بہادر انسان تھے مگر یہاں آکر میں نے خود دیکھا، قائد اعظم لڑکیوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ شیم شیم!!


ابو کہتے تھے کہ بڑوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے اس لیئے میں نے ان کے سامنے کچھ نہیں کہا۔ بعد میں ہم سارے دوست مل کر اتنا ہنسے ان پر۔ بیچارے قائد اعظم۔ ارے ابو سے یاد آیا مجھے ابو کو بھی سلام بولنا تھا۔ آپ میرے ابو کو جانتے ہیں؟ مگر آپ میرے ابو کو کیسے جان سکتے ہیں؟ میرے ابو کو تو صرف وہی جان سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے لخت جگر کو مٹی کے نیچے دفن ہوتے دیکھا ہو۔ مگر یہ تو بڑوں والی بات ہوگئی۔ ابو کہتے تھے بچوں کو اپنی عمر کے حساب سے باتیں کرنی چاہیئیں۔ سوری ابو! آپ کی اگر میرے ابو سے بات ہو تو انہیں یہ مت بتائیے گا کہ میرے پیٹ میں گولی لگی ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ایک دفعہ میں سیڑھیوں سے گر کر اپنا سر پھاڑ بیٹھا تھا۔ اس وقت گھر میں گاڑی نہیں تھی تو ابو مجھے پیدل ہی اٹھا کر چار کلومیٹر دور ہسپتال بھاگے تھے۔ بغیر رکے۔ میرے ابو بہت اچھے ایتھلیٹ ہیں۔ وہ روزانہ صبح دوڑنے باغ میں جاتے ہیں اور بغیر ہانپے میدان کے کئی چکر لگا لیتے ہیں۔ مجھے اتنی ہنسی آتی تھی جب وہ کہتے تھے کہ میں ان کا سہارا ہوں۔ بھلا بتائیں، ابو کو سہارے کی کیا ضرورت؟ وہ تو خود اتنے مضبوط اور طاقتور ہیں۔ تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ اس دن جب میرا سر پھٹا تھا تو ابو نے دفتر سے چھٹی لے لی تھی۔ جب تک میں بستر پر رہا، ابو میری چارپائی کے سرہانے لگے بیٹھے رہے۔ انہیں میری تکلیف کا پتہ چلے گا تو وہ بہت اداس ہوں گے۔ میں ابو سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میری وجہ سے اداس ہوں۔ آپ نہیں بتائیں گے نا؟؟


اور آخری بات مجھے آپ سے کرنی ہے۔ نجانے کیوں مجھے یہ لگتا ہے کہ جب میرے جانے کی خبر ٹیلیویژن پر آئے گی تو ملک بھر میں کہرام مچ جائے گا۔ سب لوگ مجھے مارنے والوں کو گالیاں دیں گے۔ احتجاج کیا جائے گا۔ میری یاد میں شمعیں روشن ہوں گی۔ آپ بھی ایسے ہی کسی پروگرام میں شریک ہوکر اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے بعد اگلے بچے کے مرنے تک مکمل خاموشی پھیل جائے گی۔ پیارے انکل! میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے نہیں جانتے! مگر نجانے کیوں میرا دل کر رہا ہے کہ میں آپ سے ایک ننھی سی فرمائش کردوں۔ کیا آپ میرے لیئے اتنا کر سکتے ہیں کہ کل خواہ کسی احتجاجی جلوس میں جائیں یا نہ جائیں، مگر مجھ اور میرے جیسے ایک سو تیس بچوں کیلئے ایک کام کردیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا دشمن اپنے ارادے میں کامیاب ہو! اس نے صرف میری جان نہیں لی، اس نے میرے پیارے پاکستان کو ایک سو تیس ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدانوں، فنکاروں، کھلاڑیوں سے محروم کردیا ہے جنہوں نے آگے چل کر پاکستان کا نام روشن کرنا تھا۔ کیا آپ کل کے احتجاج کیلئے استعمال ہونے والا پیٹرول، پلے کارڈ، موم بتی، وغیرہ کے پیسے بچا کر، پورے پاکستان میں کہیں بھی، کسی بھی ایک، صرف ایک بچے کے تعلیمی اخراجات کا ذمہ اٹھا سکتے ہیں؟ پلیز؟ پلیز؟ پلیز؟


والسلام


پیاری ڈائری! اب تم ہی بتائو کہ میں کیا جواب دوں؟




[caption id="attachment_622" align="aligncenter" width="492"]They went to school and never came back They went to school and never came back[/caption]

جمعرات، 2 اکتوبر، 2014

19 - زبان دراز کی ڈائری

پیاری ڈائری!


زندگی عجیب مشکل کا شکار ہوگئی ہے۔ میرے دفتر کے احباب صحیح کہتے تھے کہ یہ مطالعے کی عادت ہی مجھے مروائے گی۔ پچھلے چار دن سے چھپتا پھر رہا ہوں کہ اگر کسی کو میرے محل وقوع کا پتہ چل گیا تو بڑی عید سے پہلے ہی میری بوٹیاں کردی جائیں گی۔


معاملہ بظاہر اتنا بڑا تھا نہیں جتنا اب بن چکا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم نے بدقسمتی سے کہیں حضرت عبداللہ بن مبارک کے حج کی داستان پڑھ لی تھی جس کے مطابق حضرت عبداللہ ابن مبارک ایک دن حرم کعبہ میں سو رہے تھے کہ خواب میں دو فرشتوں کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا۔ حرم میں پہنچ کر وہ دونوں فرشتے آپس میں بات چیت کرنے لگے۔ پہلے فرشتے نے دوسرے سے پوچھا کہ اس سال کتنے لوگ حج کرنے آئے تھے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ کم و بیش چھ لاکھ ۔ پہلے نے پھر پوچھا، ان میں سے کتنے افراد کا حج مقبول ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا، مجھے نہیں لگتا کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی حج قبول ہونے والا تھا۔


فرشوں کی یہ گفتگو سن کر عبداللہ ابن مبارک سوچ میں پڑگئے کہ اے اللہ! حج تو اس سال میں نے بھی کیا تھا۔ میرے علاوہ اور بھی نجانے کتنے لوگ تھے جو کتنے پہاڑ اور سمندر اور موسم کی سختیاں و دیگر مصائب عبور کرکے  تیری رضا اور تیرے گھر کی زیارت کیلئے حج کرنے آئے تھے۔ مالک! تو کبھی کسی کی محنت کو اس طرح رائگاں نہیں کرتا۔ کیا واقعی ہم تمام لوگ نامراد ٹھہرائے جائیں گے؟


عبداللہ ابن مبارک ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ پہلے فرشتے کی آواز دوبارہ ابھری جو دوسرے فرشتے سے کہہ رہا تھا کہ دمشق شہر میں علی بن المَفِق نامی ایک موچی رہتا ہے۔ وہ اس سال حج پر تو نہیں آسکا مگر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اس کی حج کی نیت قبول کرلی ہے بلکہ اس کی نیت کے صدقے ان تمام چھ لاکھ حجاج کی عبادت کو بھی منظور کرلیا ہے۔ عبداللہ ابن مبارک کی آنکھ کھل گئی اور آپ نے صبح ہوتے ہی دمشق کا قصد کیا کہ جاکر خدا کی اس برگزیدہ ہستی سے ملیں جس کی صرف نیت میں اتنا خلوص تھا کہ وہ چھ لاکھ افراد کے عمل کو مقبول کرواگئی۔


عبداللہ ابن مبارک دمشق پہنچے اور لوگوں سے پوچھتے ہوئے علی بن المفِق کے گھر پہنچ گئے۔ عبداللہ ابن مبارک اپنے وقت کے نہایت جلیل القدر عالم اور مشہور فقیہہ تھے۔ علی بن مفق آپ کا نام سنتے ہی حیران ہوگیا کہ وقت کا اتنا بڑا فقیہہ میرے دروازے پر کیا کررہا ہے؟ آپ نے اسے تسلی دی اور اس سے پوچھا کہ کیا آپ حج پر جانے کی نیت رکھتے تھے؟ علی بن مفِق نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ وہ پچھلے تیس سال سے اپنی محنت کی حلال کمائی سے ایک ایک پیسہ جوڑ کر حج پر جانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ اس سال اس کے پاس اتنا اسباب جمع ہوگیا تھا کہ وہ حج پر جاسکے مگر چونکہ خدا کو منظور نہیں تھا سو میں چاہ کر بھی اپنی نیت کو عملی جامہ نہیں پہنا پایا۔


عبداللہ ابن مبارک نے اس کی باتوں سے اس کی دل کی سچائی بھانپ لی تھی مگر اب بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ اس موچی میں ایسی کیا بات تھی جس کی بنیاد پر اس سال کے تمام حجاج کا حج محض اس کی وجہ سے قبول ہوا؟
عبداللہ ابن مبارک نے علی بن مفق سے سوال کیا کہ وہ حج پر کیوں نہ جا سکا؟ علی بن مفق اپنے جانے کی وجہ نہیں بیان کرنا چاہتا تھا۔ اس نے عبداللہ ابن مبارک کو یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی اور کہا، چونکہ مرضی خدا نہیں تھی۔ عبداللہ ابن مبارک اس کا جواب سن کر مسکرائے اور اپنا سوال پھر دہرا دیا۔ عبداللہ ابن مبارک کے  پیہم اصرار پر علی بن مفق نے بتایا کہ حج پر جانے سے پہلے وہ اپنے ایک پڑوسی سے ملنے اس کے گھر گیا تو اس کے گھر دسترخوان بچھا ہوا تھا اور تمام گھر والے کھانے کیلئے بیٹھے تھے۔ علی بن مفق نے سوچا کہ آدابِ میزبانی کے تحت وہ پڑوسی انہیں کھانے کی دعوت دے گا مگر اس شخص نے علی بن مفق کو دیکھ کر نظریں نیچی کرلیں۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعدوہ گویا ہوا کہ اے علی میں آپ کو کھانے پر ضرور دعوت دیتا مگر میں مجبور ہوں۔ پچھلے تین دن سے میرے گھر میں فاقہ ہے اور آج جب مجھ سے بچوں کی بھوک دیکھی نہ گئی تو میں کچرے کے ڈھیر میں پڑی ایک گدھے کی لاش سے گوشت لیکر آگیا کہ اپنے بچوں کی بھوک مٹائوں۔ میں تو انتہائی بھوک سے مجبور ہوں لہٰذا یہ مردار گوشت مجھ پر حلال ہے مگر یہ گوشت اور یہ کھانا چونکہ آپ کیلئے حرام ہے لہٰذا میں آپ کو اسے کھانے کی دعوت نہیں دے سکتا۔


علی بن مفق نے کہا کہ یہ سن کر میرا دل خون کے آنسو رونے لگا۔ میں گھر گیا اور جمع پونجی کے تمام تین ہزار درہم لاکر اس پڑوسی کے ہاتھ پر رکھ دیئے کہ وہ اس سے اپنے معاشی مسائل کو حل کرلے۔ میں نے وہ تین ہزار درہم بھوک برداشت کرکے حج کیلئے جمع کیئے تھے مگر مجھے لگا کہ اس بندہ خدا کو اس وقت ان پیسوں کی زیادہ ضرورت تھی۔ حج کرنے کی میری بےپناہ خواہش آج بھی زندہ اور اگر اللہ کریم نے چاہا تو وہ مجھے ضرور حج پر بلالے گا۔ یہ سن کر عبداللہ ابن مبارک کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے علی بن مفق کو اپنے خواب کا مکمل احوال سنا دیا۔


کہانی یہاں ختم نہیں بلکہ یہیں سے شروع ہوتی ہے کہ ہم نے یہ داستان پڑھی تو سوشل میڈیا پر یہ مہم شروع کردی کہ قربانی بالکل ایک فریضہ ہے مگر اسراف فرض نہیں بلکہ حرام ہے۔ خدا نے اگر استطاعت دی ہے تو ضرور قربانی کریں، مگر پچاس بیل اور دو سو بکرے خریدنے کے بجائے اگر ایک بیل یا ایک بکرا اللہ کے راستے میں قربان کرکے فریضہ ادا ہوسکتا ہے تو باقی پیسے ان محتاجوں پر خرچ کردیں جو سفید پوش ہیں اور کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے؟


ہماری یہ مہم ملک بھر میں ہر سطح پر بےحد مقبول ہوئی۔ عوام کی سطح پر اسے بطور اسلامی عبادات پر تنقید کے پذیرائی ملی۔ کاروباری طبقے کی سطح پر اسے بطور پیٹ پر لات اور چمڑے کی صنعت سے دشمنی کے پذیرائی ملی۔ سیاست دانوں کی سطح پر اسے کھال کا مال چھیننے کی ترکیب کے طور پر سراہا گیا۔ اور آخر میں پولیس کی سطح پر اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور دفعہ 295 اور اس کی چند ذیلی دفعات کی خلاف ورزی کے طور پر پہچانا گیا۔  اور ان سب پذیرائیوں کا حاصل حصول یہ نکلا کہ ہم پچھلے چار دن سے چھپتے اور احباب کے ذریعے معافی نامے جمع کراتے پھر رہے ہیں۔


 آج صبح کاشف بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا ان کی نصیحت سن رہا تھا کہ مجھے یہ کام سرے سے کرنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ میں نے کاشف بھائی کو سمجھایا کہ میں نے اپنے پاس سے کچھ بھی نہیں کہا بلکہ صرف اسلامی تاریخ کے مشہور فقیہہ کی حکایت بیان کی ہے۔ کاشف بھائی نے رحم آمیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے جواب دیا کہ، اے احمق انسان! عبداللہ ابن مبارک کے نام میں اصل گن چھپا ہے۔ اگر تیرا نام بھی زبان دراز بن منہ پھٹ قسم کا ہوتا تو آج تیری بیان کردہ حکایت پر تجھے یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔


کاشف بھائی کی اس نصیحت کو میں نے گرہ سے باندھ لیا ہے اور کل سے ٹوئیٹر پر "ایک سے زیادہ جانور قربان کرنے کے فضائل" پر درس دے رہا ہوں۔ امید ہے کچھ بہتری کی صورتحال نکل آئے گی۔ تب تک کیلئے اجازت دو۔


والسلام


زبان دراز ابن منہ پھٹ

اتوار، 21 ستمبر، 2014

بنیادی سائنس - جدید

نوٹ: اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری کی سوچ میں پیدا ہونے والی کسی تبدیلی کا ادارہ زمہ دار نہیں ہوگا۔


پیارے بچوں! آرٹس کی چھوٹی بہن کو سائنس کہتے ہیں۔ ویسے تو دنیا بھر میں یہ ترتیب الٹی ہے اور دنیا بھر میں سائنس کو بڑی بہن مانا جاتا ہے مگر چونکہ آرٹ میں ایک آرٹسٹک رومان جھلکتا ہے اور یہ کام اکثر گھر بیٹھے بھی ہوجاتے ہیں لہٰذا ہمارے ملک میں آرٹ کو ہمیشہ زیادہ عزت دی جاتی ہے اور بڑی بہن سمجھا جاتا ہے۔ الحمدللہ اس ہی لیئے ہمارے معاشرے میں فنکار ایک تعریف جبکہ سائنس دان ایک قسم کا طنزیہ لفظ سمجھا جاتا ہے۔


جہاں تک سائنس کی تعریف کا تعلق ہے تو اول تو سائنس کی تعریف ہم صرف وہاں تک کرسکتے ہیں جہاں تک مسلم سائنسدانوں کے نام آتے ہیں۔ اور ماضی قریب و بعید میں چونکہ ایسا کوئی سانحہ ہوا نہیں ہے جس میں مسلمانوں نے کوئی قابل ذکر سائنسی کارنامہ سر انجام دیا ہولہٰذا ہم اس مضمون میں سائنس کی تعریف سے اجتناب ہی کریں گے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نوبل انعام جیتنے والے پہلے مسلمان سائنسدان کے مرنے کے کچھ عرصے بعد ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام مسلمان نہیں بلکہ قادیانی تھے، لہٰذا مسلمانانِ پاکستان نے دینی غیرت کے تحت ان کی قبر کے کتبے سے لفظ مسلمان حذف کردیا ہے اور اب ان کا ذکر کرنا حرام اور کرنے والا ــــــــــــــــــــــــــ ہے٭۔  ایک اور اہم وضاحت اس باب میں یہ بھی ضروری ہے کہ حالیہ تاریخ میں ولید بن یوسف نامی عظیم مسلمان سائنس دان نے ستمبر گیارہ کو امریکہ کے مقام پر ایک ایسے کیمیکل کا عملی مظاہرہ کرکے دکھایا تھا جس سے کنکریٹ کے پہاڑ اور فولاد کے ڈھیر سے بنی عمارت تو پگھل گئی مگر اس کیمیکل کے زیرِ اثر معمولی پلاسٹک سے بنے ان کے چاروں کریڈٹ کارڈ نہیں جلے اور دنیا کو پتہ چل سکا کہ ستمبر گیارہ کے حملے کس نے کروائے۔ چونکہ ابھی تک دنیا محوِ حیرت ہے کہ یہ سائنس تھی یا آرٹ سو فی الحال ہم ولید بن یوسف کو یہیں چھوڑ کرآگے بڑھتے ہیں۔
٭ خالی جگہ پر کریں۔


سائنس کے بارے میں آپ کے سمجھنے کیلئے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہر وہ چیز جو ہزار کوشش کے باوجود کسی بھی طرح  آرٹ نہ بن سکے، ہم اسے سائنس کا نام دے دیتے ہیں۔ نیز ہر وہ چیز جس کو آپ سمجھ نہ پائیں آپ اسے بھی سائنس قرار دیکر شرمندگی سے بچ سکتے ہیں کہ جیسے ہی آپ کسی چیز کو سائنس قرار دے دیتے ہیں، مخاطب کی ہمدردیاں آپ کے ساتھ جڑ جاتی ہیں۔ وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگر آپ اس بات کو سمجھ نہیں پائے ہیں تو اس میں آپ کا قصور نہیں کہ یہ بات، محض ایک بات نہیں بلکہ سائنس ہے۔ ایسے مواقع پر آپ "بڑی سائنس ہے بھائی" قسم کے کلمات کہہ کر نہ صرف صاف بچ سکتے ہیں بلکہ سامنے والے شخص کے انا کے غبارے میں بھی مناسب مقدار میں ہوا بھر سکتے ہیں جو آگے چل کر آپ کے ہی کام آئے گی۔


پیارے بچوں! سائنس ہماری زندگی کا ایک بہت اہم جزو اور سیکھنے کیلئے بہت اہم موضوع ہے۔ اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دیگر تمام اہم موضوعات کی طرح ہم نے اس پر کبھی کام نہیں کیا اور یہی بات سائنس کی اہمیت کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے نے آرٹ کو تو فن اور کلا اور خدا جانے کیا کیا نام دے دیئے مگر سائنس کی اہمیت اور حرمت کا خیال رکھتے ہوئے اسے ہمیشہ صرف سائنس ہی کہا، سنا، اور لکھا۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے سائنس کو کوئی اردوانہ نام دے دیا تو یہ سائنس کا استحصال اور انگریزوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ جس طرح امریکہ و برطانیہ میں ٹیکسی چلانا صرف پاکستانی و ہندوستانی ڈاکٹروں اور انجینیئرز کا کام ہے اور کوئی فرنگی ہمارے اس کام میں مداخلت نہیں کرتا تو اس ہی طرح انسانیت اور احسان مندی کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم بھی سائنس والے ان کے کاموں میں دخل نہ دیں۔ یہ بات مگر اپنی جگہ ہے کہ کسی بھی موضوع کی بنیادی معلومات ہر انسان کا حق ہے اور کہنے کو ہی سہی مگر چونکہ سائنس آپ کے نصاب کا حصہ ہے لہٰذا ہم آج آپ کو چند بینادی سائنسی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے جو زندگی میں آپ کے کام آسکیں۔


سائنس کا اصل مقصد مادہ اور اس کے خواص پر ہونے والی تحقیق ہے۔ مادے کی دو بڑی اقسام ہیں جن کی اپنی مزید شاخیں ہیں۔ مادے کی یہ دو بڑی اقسام سادہ مادہ اور نر مادہ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ سادے مادے پر انسان بہت کچھ دریافت کر چکہ ہے مگر نر کی مادہ ہنوز تحقیق طلب ہے۔ ان دونوں مادوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سادہ مادہ اپنا مخصوص رویہ رکھتا ہے اور کسی مخصوص حالت میں اس کا ردعمل پہلے سے پتہ ہوتا ہے۔ نر کی مادہ البتہ اپنی فطرت اور رویوں دونوں میں آزاد ہے اور ایک جیسی صورتحال میں ہر بار الگ طریقے سے پیش آنے کے فن میں ماہر ہے۔ دونوں مادوں میں ایک اور بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ پہلے مادے سے مل کر تصویر کائنات بنی ہے جبکہ نر کی مادہ اس تصویرِ کائنات میں رنگ بھرنے کے کام آتی ہے۔ محاورے کی زبان میں جب کسی کو مادہ پرست انسان کہا جاتا ہے تو اس سے مراد یہی دوسری والی مادہ ہوتی ہے۔ نر کی مادہ کی سمجھ چونکہ آج تک کسی کو بھی نہیں ہوئی تو آپ کے بھی سمجھنے کے آثار کچھ ایسے روشن نہیں ہیں، لہٰذا آج ہم صرف کائنات کے مادے کے بارے میں بات کریں گے۔


جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ یہ کائنات مادے سے مل کر بنی ہے۔ جبکہ یہ مادہ خود لاکھوں کڑوڑوں ایٹم سے مل کر بنتا اور محض ایک ایٹم بم سے تباہ ہوجاتا ہے۔ ایٹم کے اپنے بھی چار جزو ہوتے ہیں جنہیں الیکٹرون، پروٹون، نیوٹرون اور مورونز کہا جاتا ہے۔ مورونز نامی حصہ سب سے طاقت ور ہوتا ہے اور طاقت کے بنیادی اصولوں کے تحت کسی بھی چیز میں طاقتور کا نام لینا فعل قبیح اور ناقابلِ معافی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں اس ہی اصول کے تحت حکومت گرنے کی ذمہ داری ہمیشہ فوج کے بجائے سیاستدانوں پر آتی ہے۔ اگر آپ اس موضوع پر تفصیل سے پڑھنا چاہتے ہوں تو مطالعہ پاکستان کی کتاب یا آج کا اخبار ملاحظہ کرلیں۔


مغربی ممالک میں سائنس کا دوسرا نام تحقیق بھی ہے۔ پیارے بچوں! تحقیق اپنے ساتھ سوچنے کی صلاحیت اور چیزوں کی اصل سمجھنے کی ایک جان لیوا بیماری ساتھ لاتی ہے لہٰذا ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم  اس تحقیق نامی بلا سے دور رہیں۔ ایڈز اور دوسری بیماریاں بلاوجہ بدنام ہیں ورنہ امت مسلمہ کو جتنا نقصان اس تحقیق نے پہنچایا ہے وہ آج تک تمام بیماریاں مل کر بھی نہیں پہنچا سکیں۔ نہ یہ مردود کفار تحقیق کی بیماری کا شکار ہوتے نہ یہ سائنسی ایجادات ہوتیں اور نہ ہم مسلمان آج دنیا بھر میں محکوم ہوتے۔ امت مسلمہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کفار سے لڑنے کیلئے بھی ہم ان ہی کفار کی دریافت کردہ ٹیکنالوجی اور ان ہی کے بنائے ہوئے اسلحے کے محتاج ہیں۔ تصور تو کیجیئے، آپ کے محلے کے مشہور مولوی اپنی ڈبل کیبن گاڑی میں اس طرح جارہے ہوں کہ پیچھے بیٹھے تمام مریدوں کے ہاتھ میں میخائل کلاشنکوف کی بندوق کے بجائے ہاتھ میں غلیل ہو اور اس غلیل کا ربڑ کھنچائو دیکھ کر مسلمان متعین کریں کہ حالات خراب ہیں یا صحیح؟ اور اگر تصور مزید اجازت دے تو ڈبل کیبن ہٹا کر وہاں ایک گھوڑا کھڑا کردیجئے اور محظوظ ہوئیے۔ یہ تو خیر مذاق کی بات تھی ورنہ مجھے زندگی سے بہت پیار ہے اور میں کسی بھی مسلک کے مولوی سے اس کا ڈبل کیبن گاڑی رکھنے کا حق چھیننے کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ آپ سے ایسے احمقانہ خیالات کی امید کرتا ہوں۔ اس بارے میں کبھی سوچ آ بھی جائے تو لعنت ان کفار پر ہی بھیجیئے گا جنہوں نے اسلحہ سازی پر اتنی تحقیق کی اور آج ان ہی کی وجہ سے مسلمان ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہیں ورنہ چاقو خنجر کے زمانے کے بارہ سو سال میں حرام ہے کہ کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کا خون بہایا ہو۔


پیارے بچوں!  شاید اللہ تعالٰی کو خود بھی منظور نہیں کہ ہم فتنے میں گرفتار ہوں اس لیئے کفار کی حرکات سے تنگ آکر اگر کبھی ہم مسلمانوں نے اس تحقیق کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا بھی تو ہمیں عبرت دلانے کیلئے ایسی عجیب خرافات کا شکار کردیا گیا جن کا علاج رہتی دنیا تک ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ایک دوست جناب عاطف علی المعروف زبان دراز کو بھی پچھلے سال یہ تحقیق نامی بیماری ہوئی تھی اور تب سے وہ عجیب بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ ہندو، عیسائی، سکھ، شیعہ، سنی اور احمدی سب کے خون کا رنگ ایک ہی جیسا ہوتا ہے اور اس خون کے بہنے پر سب کے گھر والوں کو ایک ہی جتنی تکلیف ہوتی ہے۔ نیز ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پٹھان، پنجابی، سندھی، بلوچی اور مہاجر خون بھی ایک جیسا ہی ہوتا ہے اور محض علاقائیت و لسانیت کی بنیاد پر کسی انسان کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔ لاحول ولا قوۃ!!!
تحقیق کے بارے میں یہ بیان بھی ضروری ہے کہ اس تحقیق کی وجہ سے ہی زیادہ تر مشہور مسلمان اپنے وقتوں میں دہریے کہلائے اور زیادہ تر غیر مسلم سائنس دان اس ہی تحقیق کے ذریعے خدا سے قریب ہوگئے۔ مسلمان سائنس دانوں کے مذہب سے لاتعلق رہنے کا البتہ یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مسلمانوں کے مسالک نے ان کو کبھی اپنایا نہیں اور آج ہمارے پاس شیعہ سائنسدان اور سنی سائنس دان کی تفریق نہیں ہے اور وہ بیچارے آج بھی معاشرے کے اس محروم طبقے میں موجود ہیں جومحض مسلمان ہی کہلاتے ہیں اور شیعہ، سنی جیسے قابل فخر اور باعثِ نجات القابات سے محروم ہیں۔ خدا ان بیچاروں کے حال پر رحم کرے۔


پیارے بچوں!  بنیادی سائنس کے سلسلے میں ہم نے تمام ضروری گزارشات عرض کردیں ہیں۔ اگر آپ اب بھی مزید تشنگی محسوس کریں تو ابنِ انشاء صاحب کی اردو کی آخری کتاب سے رجوع کرسکتے ہیں۔ اور اگر اس کتاب کے بارے میں نہیں جانتے تو مزید معلومات کیلئے اپنے والدین سے رجوع کریں۔ اگر شومئی قسمت انہوں نے بھی اس کتاب کے بارے میں نہیں سنا تو سب کام چھوڑ کر پہلے ان کے علاج کیلئے کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ہمیں اجازت دیں کہ اب آپ کیلئے بیسک اردو کی کتاب بھی لکھنی ہے۔


ہفتہ، 20 ستمبر، 2014

تاریخِ پاکستان - جدید

پیارے بچوں!  پاکستان کی بنیاد تو اس ہی دن پڑ گئی تھی جس دن برصغیر میں کسی مسلمان نے پہلا قدم رکھا تھا۔ یہ بات محض افواہ ہے کہ وہ پہلے مسلمان جو اس زمین پر پہنچے وہ اموی سلطنت کے مظالم سے تنگ آکر یہاں پناہ لینے پہنچے تھے۔ یہ سب پڑوسی ملک کی پھیلائی ہوئی افواہیں ہیں اور چونکہ مورخین بھی ذیادہ تر ہندو رہے ہیں اس لیئے وہ باآسانی ان افواہوں کا شکار ہوگئے اور یہ سب افواہیں حقیقت سمجھ کر تاریخ کی کتب میں رقم کردیں۔ خدا ان کے حال پر رحم کرے۔


آپ ان افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے سرکاری نصاب میں لکھی ہوئی بات پر یقین رکھیئے جس کے مطابق سندھ کے راجہ داہر نے چند مسلمانوں کو پکڑ کر قید کر لیا تھا جس پر امت مسلمہ کی غیرت جاگ اٹھی اور حضرت حجاج بن یوسف جو اپنی رحم دلی اور امت مسلمہ کے ساتھ نرم سلوک کیلئے مشہور تھے انہوں نے حضرت محمد بن قاسم کی سربراہی میں ایک لشکر بھیجا جس نے سندھ کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور اسلام کا بول بالا کردیا۔ جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اس زمانے کے تمام مورخ کینہ پرور ہندو تھے لہٰذا انہوں نے راجہ داہر کی بیٹیوں کو خلیفہ کی خدمت میں بطور تحفہ بھجوانے کا ذکر تو کردیا مگر کہیں ان مسلمان قیدیوں کا ذکر نہیں کیا جن کو چھڑانے حضرت محمد بن قاسم یہاں آائے تھے۔ وہ بیچارے زندہ بچے یا مارے گئے؟ اس بارے میں چونکہ تاریخ خاموش ہے لہٰذا آپ بھی خاموش رہیں۔ نیز وہ خزانہ لٹنے اور ہزارہا عورتوں کی عزتیں پامال ہونے والی بات بھی سراسر بہتان ہے۔ اگر آپ کو اس بات پر یقین نہیں ہے تو پاکستان ٹیلیویژن کا شہرہ آفاق ڈرامہ "لبیک" دیکھ لیں جس میں ایسا کچھ نہیں دکھایا گیا ہے۔ اور اگر اکا دکا واقعات ہوبھی گئے ہوں تو جنگ میں اتنا کچھ تو ہو ہی جاتا ہے۔ امریکی افواج نے عراق اور افغانستان میں جو کچھ کیا اس پر تو کبھی شور نہیں اٹھا؟ مسلمانوں کی دفعہ میں ہی سب کو اخلاقیات کا بھوت کیوں سوار ہوجاتا ہے؟


حضرت محمد بن قاسم کی سندھ میں شاندار کامیابیوں اور اسلام پھیلانے جیسی گرانقدر خدمات کے باوجود ان ہندو خواتین کی شکایت پر خلیفۃالمسلمین حضرت سلیمان بن عبدلملک نے انہیں ایک جانور کی کھال میں سلوا کر واپس دمشق بلوالیا۔ وہ کھال اپنی فطرت سے مجبور ہوکر گرمی پاکر سکڑتی رہی اور دمشق پہنچنے تک محمد بن قاسم جس پنچرے میں ڈال کر سندھ سے لےجائے گئے تھے، اس میں سے صرف زنجیریں اور بھوسے کا ڈھیر نکلا۔ اس بات کو یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ خود سمجھ جائیں کہ زندگی کے کسی موڑ پر اگر تاریخ کی کسی کتاب میں یہ واقعہ پڑھنے کو ملے تو آپ گھبرائیں نہیں اور آپ کو یاد رہے کہ یہ افواہ آپ پہلے بھی سن چکے ہیں۔ دوسری اور اہم نصیحت یہ ہے کہ اس واقعے سے ہندوئوں کا ہمارے ہیروز کےخلاف بغض سمجھیں اور حسب توفیق چچ نامہ لکھنے والے قاضی اسماعیل پر چار حروف بھیج کر آگے بڑھ جائیں کہ اگر یہ بات سچ بھی تھی تو مسلمان تو مسلمان کا پردہ رکھتا ہے؟ یہ کون سے مسلمان تھے جنہوں نے اتنے عظیم جھوٹ کو اتنے دھڑلے کے ساتھ چچ نامہ میں جگہ دے کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مکروہ سازش کی؟


پیارے بچوں! ہمیشہ یاد رکھیئے گا کہ آپ کا یہ ملک اور آپ کا یہ دین، ہمیشہ سے ہی کفار کی سازشوں کے نشانے پر رہا ہے۔ جب روائتی طریقوں سے کام نہ چل سکا اور مسلمانوں کا جذبہ ایمانی اس ہی طرح قائم رہا تو کفار نے ایک سازش کے طور پر ہمارے پاک وطن اور پڑوسی ناپاک وطن جو کبھی ہمارے اجداد کی سلطنت کا حصہ ہوتا تھا، میں مزارات کا ایک جال بچھا دیا اور اپنے کارندوں اور کمزور عقیدہ لوگوں کا ایک ہجوم ان مزارات پر جمع کردیا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ افواہ بھی اڑائی گئی کہ برصغیر میں اسلام دراصل ان مزرات میں مدفون بزرگانِ دین کی وجہ سے پھیلا ہے جنہوں نے اپنے کردار سے دنیا کو دکھایا کہ اسلام انسانیت کی بقاء کا ضامن اور سلامتی کا دین ہے۔ اس مذہب میں خلیفہ وقت اور ایک عام آدمی برابر ہوتے ہیں اور ذات، پات، رنگ، نسل کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ اور ان ہی افراد کے کردار سے متاثر ہوکر لوگ جوق در جوق مسلمان ہوتے چلے گئے تھے۔


پیارے بچوں! یہ بات آپ کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ یہ سب محض مسلمانوں کو جہاد سے دور کرنے کی سازش ہے ورنہ دنیا میں کون سا ایسا کام ہے جو طاقت کے زور پر نہ ہوسکتا ہو اور محبت سے ہوجائے؟ یہ سازش دراصل موہن داس کرم چند گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے کو پھیلانے کیلئے ان بزرگوں سے منسوب کی گئی ہیں ورنہ حضرت نظام الدین اپنے وقت کے بہترین تیر انداز اور محمد علی ہجویری ایک ماہر تلوار باز تھے۔ لعل شہباز کے نام سے مشہور جناب عثمان صاحب نے تو کئی جنگیں جیتی تھیں اور عبداللہ شاہ غازی نے تو ویسے ہی اپنے نیزے سے کراچی کے مقام پر سمندر کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔


تاریخِ پاکستان کے موضوع پر واپس آتے ہوئے اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ برصغیر کے مسلمان وقت کے ساتھ جہاد جیسی عظیم چیز کو بھلا بیٹھے تھے اور اس ہی لیئے ہندو ایک بار پھر ان پر مسلط ہوگئے۔ مسلمان محکومی کی اس زندگی سے تنگ تھے مگر اں کی دن رات کی عبادت مقبول ہوئی اور خدا نے اس زمین پر حضرت محمود غزنوی جیسا فرشتہ بھیج دیا۔ محمود غزنوی کو اسلام پھیلانے کا بہت شوق تھا۔ آپ کو جب کبھی اس بات کا علم ہوتا کہ کسی علاقے میں ہندوئوں نے مال جمع کرلیا ہے اور اسے ملت اسلامیہ کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ فورا غزنی سے آکر اس مال اسباب کو اپنے ساتھ لےجاتے تاکہ یہ مال مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کیلئے استعمال ہو۔ آپ نے ہندوستان میں سترہ مرتبہ اسلام پھیلایا۔ اگر کوئی ملک دشمن آپ سے یہ سوال کربیٹھے کہ اگر اسلام ہی پھیلانا تھا تو ایک دفعہ میں ہی رک کر اسلام پھیلاتے یا یہاں اپنا گورنر لگا جاتے جو آپ کی غیر موجودگی میں اسلام کی ترویج پر عمل کرتا؟ تو اس کی باتوں پر چنداں کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا یہ سوال ہی اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ وہ کس حد تک ہندوئوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہے۔ ایسے بندے سے بحث کرنا فضول ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اس کی شناخت سوشل میڈیا پر ڈال دی جائے تاکہ وقت کے محمود غزنوی اس کے گھر جاکر اسلام پھیلا سکیں۔


محمود غزنوی صاحب کے بعد بھی اللہ تعالٰی نے اس سر زمین پر اپنا خاص کرم رکھا اور ایک کے بعد ایک مسلم خاندان یہاں حکمرانی کرتا رہا۔ ہندو اس زمانے میں بھی حکومت چلانے سے زیادہ حکومت کو کھانے میں راحت محسوس کرتے تھے اور اس ہی لیئے حکومت کو زیادہ تر اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے مقابلہ کرنا پڑتا تھا جو ان کی جگہ خود کفار پر حکومت کرنے کا ثواب حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پڑوسی ملک کی فلموں سے متاثرہ لوگ  اسے اکثر محض حکومت کی ہوس، اور مسلمانوں کی باہمی چپقلش سے تعبیر  کرتے ہیں مگر انہیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ دونوں طرف مسلمانوں کے شیر بچے تھے۔ اب شیر کے بچے آپس میں پنچے نہ چلائیں تو کیا کتے بلیوں کی طرح ایک دوسرے کے منہ چاٹیں؟ اور ویسے بھی حکیم امت کے بقول یہ جھپٹنا، پلٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا محض خون گرم رکھنے کا بہانہ ہوا کرتا تھا۔ اب یہ کل کے لونڈے علامہ اقبال سے تو زیادہ نہیں جانتے ہوں گے نا؟


اس باہمی چپقلش کا اختتام بالآخر خاندانی حکمرانی کے سلسلے پر ہوا۔ برصغیر پر حکومت کرنے والے مسلم خاندانوں میں سب سے مشہور مغل خاندان تھا۔ آج بھی بہت سارے وہ لوگ جو خود مچھر تک نہیں مار سکتے، مغلوں کی بہادری اپنے ساتھ جوڑنے کیلئے اپنے نام کے ساتھ مرزا اور بیگ وغیرہ لگا لیتے ہیں کہ عزت کا بھرم رہ جائے اور شہزادے سمجھے جائیں۔


مغل شہنشاہوں میں سب سے مشہور اکبر تھا۔ اکبر کی شہرت کی سب سے بڑی وجہ پہلے خان آصف کی فلم "مغل اعظم" اور انارکلی تھی مگر حالیہ کچھ عرصے میں اکبر اعظم کہلانے والا یہ عظیم فرمانروا اب جودھا اکبر کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اکبر نے ایک شاندار تخلیقی ذہن پایا تھا اور جدت کو پسند کرتا تھا۔ اس کی اس کمزوری کو بیربل نامی ذات کے تیلی اور مذہب کے ہندو نے بھانپ لیا اور اسے غلط راستوں پر لگا لیا۔ بیربل کی ان حرکتوں کا جواب اللہ محشر میں اس سے لیں گے مگر  دنیا مین انتقام لینے کیلئے ہم نے مملکت اسلامی میں بیربل اور ملا دوپیازہ کی کہانیاں مشہور کرادی ہیں جن میں سے ہر ایک کے اختتام پر بیربل ہی ذلیل ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے دشمن اس ہی انجام کے لائق ہیں۔


اکبر اعظم کے بعد جہانگیر عرف شیخو المعروف انار کلی والی سرکار نے مغلیہ سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔ ویسے تو آپ بچپن سے ہی ولی عہد تھے اور اکبر کے انتقال پرملال کے بعد آپ نے ہی حکومت کرنی تھی مگر جب جہانگیر کو یہ پتہ چلا کہ اکبر اعظم نے اسے دھوکہ دیکر انارکلی کو دیوار میں چننے کے بجائے اس سے شادی کرلی ہے اور اسے لاہور میں مال روڈ کے قریب ایک گھر لیکر دے دیا ہے تو جہانگیر کو فطری طور پر غصہ آگیا۔ اس غصے اور انارکلی کی بےوفائی پر اٹھنے والے جذبات کو بعض حاسدین نے بغاوت کا بھی نام دیا مگر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے زندگی میں کبھی محبت کی ہی نہ ہو۔ اپنی ہی محبوبہ کو والدہ کے روپ میں دیکھنے کا کرب کوئی حضرت جہانگیر سے پوچھے جنہوں نے آگے چل کر تزک جہانگیری لکھنی اور مورخ کو کوڑے مار مار کر عدلِ جہانگیری مشہور کروانا تھا۔


جہانگیر کے مرنے کے بعد شاہجہاں نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ شاہ جہاں پیشے کے حساب سے سول انجینئر تھا اور اسے عمارات بنانے کا بہت شوق تھا۔ شاہجہاں ایک اچھا معمار ہونے کے علاوہ مستقبل پر گہری نظر رکھنے والا انسان تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک زمانے میں سیاحت عروج پکڑے گی اور اگر اس نے بھی عمارات تعمیر نہیں کیں تو آنے والے وقتوں میں کوئی ایسی چیز نہیں ہوگی جس پر ٹکٹ لگا کر پیسے کمائے جاسکیں۔ اس خیال کے آتے ہی شاہجہاں نے ملک بھر میں عمارات کا ایک جال بچھا دیا۔ مغلیہ سلطنت میں ہندوئوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سے اس نے کئی مندر تعمیر کروائے جو بٹوارے کے بعد ہندوستانی حکومت نے برباد کردیئے تاکہ شاہجہاں پر  رعایا کا خیال رکھنے والے حکمران کے بجائے صرف مسلمانوں کا خیال رکھنے والا حکمران کا الزام لگایا جاسکے۔ پیارے بچوں! زرا خود سوچو کہ جس رحم دل حکمران نے اپنے ہرن کے مرنے پر شیخوپورہ میں ہرن مینار کھڑا کردیا ہو اس نے اپنی اکثریت میں موجود رعایا کیلئے کوئی ایک مندر نہیں بنوایا ہوگا؟ اور اگر نہ بھی بنوایا ہو تو اس میں کوئی ایسا عیب نہیں۔ ہر حکمران اپنے ہی دین کو اپنی حکومت میں پروان چڑھاتا ہے ناکہ مخالف کے دین کو۔ اگر کوئی آپ سے یہ کہے کہ پھر ہمیں چین میں روزہ رکھنے پر پابندی پر بھی نہیں کڑھنا چاہیئے تو یہ جان رکھیئے گا کہ وہ طاغوت کا ایجنٹ اور ہمالہ سے اونچی اور بحر ہند سے گہری پاک چین دوستی خراب کرنا چاہتا ہے۔ ایسے انسان سے بحث تو کیا، سلام دعا بھی نہیں رکھنی چاہیئے۔ شاہجہاں کے بارے میں اگر لکھا جائے تو کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں مگر آپ تھوڑے کو غنیمت جانیں۔ شاہجہاں کے بارے میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ وہ ایک نہایت رحم دل، محبت کرنے والا انسان اور ایک سچا مسلمان تھا۔ اس کے دل میں رعایا کا بےحد درد تھا۔ بعض روایات میں تو یہ بھی آتا ہے کہ اس کی موت بھی ہارٹ اٹیک سے ہی ہوئی تھی۔ رعایا کیلئے اس کے درد کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک مرتبہ اس کی نظر ممتاز محل نامی ایک عورت پر پڑی جس کا شوہر اس کے ساتھ ناروا سلوک رکھتا تھا۔ رعایا کی محبت میں شاہجہاں نے اس عورت کے خاوند کی گردن اڑوادی۔ وہ بیچاری عورت اب آٹھ بچوں کے ساتھ بیوگی کا پہاڑ کیسے کاٹتی؟ شاہجہاں سے اس کی تکلیف دیکھی نہیں گئی لہٰذا صرف انسانی ہمدردی کے تحت اس نے ممتاز محل سے شادی کرلی۔ شادی کے بعد شاہجہاں نے اس عورت کو دنیا کی ہر خوشی دی اور اسے کبھی خالی پیٹ نہیں رکھا۔ مورخین کے مطابق شادی کے نو سال میں ان دونوں کے دس مزید بچے پیدا ہوچکے تھے۔ مذکورہ بالا جملے کے بعد شاہجہاں کا ممتاز محل کیلئے بےتحاشہ پیار کسی اور وضاحت کا محتاج نہیں۔ اٹھارہ بچوں کی فوج کھڑی کرنے کے بعد بھی شاہجہاں نے اپنے بیوی کو خالی پیٹ نہ رکھنے کے وعدے کی لاج رکھی جس سے اس کے راسخ العقیدہ مسلمان اور زبان کا پکا انسان ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ ممتاز محل مگر اس مرتبہ پیٹ کی کچی نکلیں اور انیسویں بچے کی دفعہ میں مرگئیں۔ شاہجہاں نے ان کے مرنے کے بعد تاج محل بنوایا جو بٹوارے کے وقت جلدی جلدی سامان سمیٹنے کے چکر میں ہندوستان میں ہی رہ گیا۔ اللہ زید حامد کو زندگی دے، کل پرسوں تک انشاءاللہ ہم تاج محل واپس پاکستان لے آئیں گے۔ تاج محل بنانے کے بعد بھی ممتاز  کیلئیے شاہجہاں کی محبت کم نہیں ہوئی تھی لہٰذا صرف اس بیوی کی یاد میں انہوں نے ممتاز کی چھوٹی بہن سے شادی کرلی۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اس مرتبہ شادی کرنے کیلئے شاہجہاں کو اس کے میاں کو کسی دور کے محاذ جنگ پر نہیں بھیجنا پڑا ہوگا۔


شاہجہاں کے بعد عنان اقتدار حضرت اورنگزیب کے پاس آگئی۔ اورنگزیب عالمگیر اپنے وقت میں ریڈ بل کے برانڈ ایمبیسیڈر تھے اور کسی نیک کام میں تاخیر کے قائل نہیں تھے۔ جب تیس سال گزرنے کے بعد بھی شاہجہاں کی حکومت ختم نہیں ہوئی تو آپ نے بوریت سے تنگ آکر اپنے والد ماجد کو ایک کوٹھڑی میں اللہ اللہ کرنے کیلئے بھیج دیا اور ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں خود اقتدار سنبھال لیا۔ آپ نہایت متقی اور پرہیزگار انسان تھے۔ آپ نے زندگی میں نہ کبھی کوئی نماز چھوڑی نہ اپنے کسی بھائی کو زندہ چھوڑا۔ نمازیں پھر بھی پانچ تھیں جبکہ بھائی سترہ تھے۔ مگر جیسے ہم نے پہلے عرض کیا کہ شیر کے بچے اگر پنچے نہیں ماریں گے تو ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا اورنگزیب ایک نہایت متقی انسان تھے۔ سلطنت سے ہونے والی تمام آمدنی آپ "مغل ویلفیئر ٹرسٹ" میں جمع کرادیتے تھے اور خود ٹوپیاں سی کر گزارہ کرتے تھے۔ بعض بد بختوں نے اس تاریخی جملے میں سے لفظ "سی" کو" دے" سے تبدیل کرکے، ٹوپیاں دے کر گزارہ کرتے تھے، کردیا ہے مگر ہم کتنی دفعہ عرض کریں کہ یہ سب محض ایک پروپیگنڈہ اور سوچی سمجھی سازش ہے؟ اورنگزیب جیسا فرشتہ صفت بادشاہ برصغیر میں نہ آیا نہ کبھی آئے گا۔ آپ کے طرزِ حکومت کے قریب اگر کوئی کبھی پہنچ سکا تو وہ صرف جنت مکانی ضیاء الحق صاحب تھے جن کا بیان آپ مطالعہ پاکستان کی کتاب میں ملاحظہ کریں گے۔ امت مسلمہ پر آپ کے احسانات کو یاد کرکے، اور آپکے دور میں شروع ہونے والی نیکیوں کی برکت سے آج بھی روزانہ کسی نہ کسی ماں کی آنکھوں میں آنسو آ ہی جاتے ہیں کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان ہر سال ماہِ محرم میں اٹھنے والے فساد کی ابتداء آپ ہی کے مبارک دور میں ہوئی تھی۔


پچاس سال حکومت کرنے کے بعد جب اورنگزیب عالمگیر دنیا سے رخصت ہوئے تو اتحاد بین المسلمین عروج پر تھا۔ شیعہ سنی اور دیوبندی بریلوی سب مل جل کر رہتے تھے۔ مورخین البتہ اس زمانے میں بھنگ کے عادی ہوگئی تھے اور نشے میں الٹی سیدھی باتیں لکھ جایا کرتے تھے۔ اس بھنگ کے نشے ہی کی وجہ سے آپ دربار میں مسلکی بنیادوں پر چپقلش، کاروبارِ ریاست سے بے تعلقی، راگ رنگ کی محافل جیسی چیزوں کے بارے میں سنتے ہیں۔ نیز محمد علی شاہ رنگیلا نامی کردار بھی اس ہی بھنگ کے نشے کی پیداوار ہے ورنہ مسلمان ہمیشہ سے ہی راگ رنگ اور خواتین کے چکروں سے دور رہے ہیں۔ اور یہ تو پھر مغل بچے تھے، جو پیدا ہی تلواروں کے سائے میں ہوتے تھے۔ ان سے اس قسم کی لغو باتیں منسوب کرنا محض کمینگی اور مسلمانوں سے بغض ہے۔ آئندہ آپ سے کوئی پوچھے کہ پھر انگریزوں کی حکومت کیونکر آئی تو انہیں بتا دیجیئے گا کہ مسلمان کی پہچان اس کی سخاوت سے ہے۔ ویسے بھی مغل اب اتنے عرصے حکومت کرکے تھک چکے تھے اور اب گوشہ نشینی کی زندگی چاہتے تھے لہٰذا جیسے ہی انہیں کوئی حکومت کرنے کا اہل طبقہ دکھا، انہوں نے تخت و تاج ترک کے ویرانوں کی راہ لی اور باقی عمر اللہ اللہ کرتے گزار دی۔


مغلوں کے جانے اور انگریز کے آنے کے بعد جو کچھ ہوا وہ آپ جدید مطالعہ پاکستان میں ملاحظہ فرمائیں گے۔

منگل، 16 ستمبر، 2014

زبان دراز کی ڈائری - 17

پیاری ڈائری!


طویل غیر حاضری کیلئے معذرت! جی تو بہت کرتا تھا کہ لکھنے بیٹھوں اور تمہیں اپنی روداد سنائوں مگر کیا کرتا کہ مصروفیات نے ایسا گھیرا رکھا تھا کہ بلا مبالغہ سر کھجانے کی فرصت نہیں تھی۔ یہ مصروفیت بھی کوئی معمولی مصروفیت نہیں تھی۔ دراصل ہوا یہ کہ میں طویل بیروزگاری سے تنگ آچکا تھا اور لکھنے کی عیاشی کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا تھا لہٰذا ساری توجہ کام کی تلاش پر مبذول کرکے قلم طاق پر رکھ دیا تھا اور نوکری کی تلاش میں مصروف تھا۔


عرصے کے بعد نوکری ڈھونڈنے نکلا تو احساس ہوا کہ نوکری ڈھونڈنا، آج کل کے معاشرے میں شریف انسان ڈھونڈنے کے بعد سب سے مشکل کام ہے۔ جہاں کہیں بھی گیا، سب لوگوں نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ کسی ایسے انسان کو وہ اپنے ادارے میں جگہ نہیں دے سکتے جس کا دماغ اور زبان ایک ساتھ چلتی ہو۔ خود سوچو، زبان دراز اگر زبان بند رکھنا سیکھ جائے تو زبان دراز کس بات کا؟ اور جہاں تک دماغ نہ چلانے کا تعلق ہے تو مطالعہ نامی بیماری کے بعد سے یہ مردود دماغ ہر چیز میں خودبخود چلنا شروع ہوجاتا ہے۔ بیچارہ زبان دراز جاتا تو کہاں جاتا؟


دوست احباب کو جب پریشانی کا علم ہوا تو اسد بھائی نے مشورہ دیا کہ مرغی کے کام میں سب سے زیادہ فائدہ ہے۔ آنکھیں بند کرکے یہ کام شروع کردو کہ سرمایہ بھی کم ہے اور مرغی کے گوشت کا تو ناغہ بھی نہیں ہوتا۔ دوسری اور اہم وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ انہوں نے کسی جاوید چوہدری صاحب کے کالم میں کہیں پڑھ رکھا ہے کہ مرغی سب سے بے ضرر مخلوق ہے۔ دڑبے میں ہاتھ ڈال کر مرغی کو ذبح کرنے کیلئے نکالو بھی تو باقی مرغیاں، توتے کی طرح کاٹنے کے بجائے ایک دوسرے کے پیچھے چھپنا شروع ہوجاتی ہیں کہ کسی طرح دوسرے کی باری آجائے اور ہم بچ جائیں۔ دن میں جتنی مرتبہ ضرورت پڑے، پنجرے میں ہاتھ ڈالو اور ایک مرغی کو دبوچ لو۔ یہ ایک ایک کرکے ساری ذبح ہوجائیں گی مگر پلٹ کر کچھ نہیں کہیں گی۔


میں نے بھی دل میں علامہ اقبال سے معذرت کرتے ہوئے سوچا کہ "یوں تو چھوٹی ہے ذات مرغی کی، دل کو لگتی ہے بات مرغی کی"۔ اور دوستوں سے سرمایہ لگا کر ایک مرغی کے گوشت کی دکان کھول لی۔ پچھلے تین دن اس ہی حوالے سے مصروفیت رہی۔ علی بھائی اور جاوید چوہدری صاحب دونوں صحیح کہتے تھے۔ کام کا بھی بےتحاشہ رش تھا اور منافع بھی چوکھا۔


دکان پر اکثر مجھے خیال آتا کہ ٹیلیویژن پر دن رات غربت کے رونے رونے والوں کو میں لاکر کھڑا کروں اور پوچھوں کے غربت کہاں ہے؟ جس ملک کی غربت کا رونا روتے ان کی زبان نہیں تھکتی وہاں لوگ اب بھی 100 فی صد منافع پر بکنے والی چیز تو خرید سکتے ہیں مگر اپنے نفس پر قابو کرنا نہیں سیکھ سکتے۔ کیا اس ہی کا نام غربت ہے؟۔ میں کس منہ سے انہیں غریب کہوں جب ایک وقت کے کھانے پر ہزاروں روپے لینے والے ریستوران کا مالک مجھ سے روزانہ سینکڑوں مرغیاں خریدتا ہو؟ طلب اور رسد کا بنیادی قانون یہی بتاتا تھا کہ ہزاروں روپے ایک وقت کے کھانے پر خرچ کرنے والے بے تحاشہ لوگ موجود ہیں تبھی وہ مجھ سے اتنی مرغیاں خریدتا ہے۔ مگر خیر، جانتا ہوں کہ ڈائری اور مرغیاں غیر سیاسی ہوتی ہیں سو اس بات کو یہیں رہنے دیتے ہیں۔ بلاوجہ کی نصیحت بھی ایک طرح کی زحمت ہی ہوتی ہے۔


یہ تو ہوا گزشتہ تین دن کا احوال۔ آج مگر ایک عجیب سا سانحہ ہوگیا جس کی وجہ سے مجھے دکان جلدی بند کرکے آنا پڑا۔ جلدی گھر آیا اور وقت بھی میسر ہوگیا تو یہ ڈائری لکھنے بیٹھا ہوا ہوں۔ ہوا کچھ یوں کہ آج بھی روز کی طرح گاہک آرہے تھے، مرغیاں کٹ رہی تھیں، گوشت بک رہا تھااور ہر چیز معمول کے مطابق تھی۔  جب جمال بھائی نے مجھے تین کلو مرغی تولنے کا کہا تو میں نے خوشی خوشی پنجرے میں ہاتھ ڈالا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ معمول کے بالکل برخلاف تھا۔ چونکہ ان مرغیوں نے کبھی کسی اخبار کا کالم نہیں پڑھا تھا اور نہ یہ اسد بھائی کو جانتی تھیں لہٰذا انہوں نے روز کے ضابطے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میرے اوپر حملہ کردیا۔ ہاں پیاری ڈائری میں جھوٹ نہیں کہتا۔ ان ساری مرغیوں نے ایک بار اکٹھے ہوکر میرے ہتھ پر چونچوں کی بارش کردی۔ میں نے گھبرا کر ہاتھ باہر کھینچ لیا۔


پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ ہوا کیا ہے۔ پھر میں نے اسے اتفاق سمجھتے ہوئے دوبارہ پنجرے کا دروازہ کھولا اور اپنے کاریگر کو مرغی پکڑنے کا کہا۔ مرغیوں نے نیا ہاتھ دیکھا تو پہلے تو کچھ نہ بولیں۔ مگر جیسے ہی اس غریب نے ایک مرغی کو پکڑنے کی کوشش کی، تمام مرغیاں کڑکڑاتے ہوئے بلند آواز کے ساتھ اس پر بھی حملہ آور ہوگئیں۔ میری دفعہ تو پھر بھی خیر رہی تھی، اس غریب کا تو انہوں نے ہاتھ ہی نوچ ڈالا۔


پیاری ڈائری! بھلا خود سوچو! ان مرغیوں کو دانہ دینے والا، میں! انہیں رہنے کیلئے جگہ دینے والا، میں! ان کا خیال رکھنے والا، میں! اور یہ میرے اوپر ہی پنجے جھاڑ کر پل پڑیں؟؟؟ کہاں کا انصاف اور کیسا قانون ہے یہ؟ صدیوں سے مروجہ قانون کا تقاضہ تو یہ تھا کہ یہ چپ کر کے ذبح ہوتی رہتیں! اور اگر اتنا ہی مسئلہ تھا تو اپنا ایک وفد اقوام متحدہ میں بھجوا کر قانون میں تبدیلی کرواتیں؟ مگر خدا سمجھے ان قانون شکن مرغیوں کو!


حد تو تب ہوئی جب وہاں کھڑے ہوئے جمال بھائی نے اس سارے منظر کی ویڈیو بنائی اور مرغیوں کے ہاتھوں میری اس شامت پر زور زور سے قہقہے لگانے لگے۔ میں نے جب مرغیوں پر اپنے احسانات اور ان کی احسان فراموشی کا ذکر کیا تو کہنے لگے، میاں! ان مرغیوں کو ذبح کرکے جو پیسے کماتے ہو، اس میں سے چار پیسے اگر واپس ان مرغیوں پر خرچ کردیتے ہو تو کوئی احسان نہیں کردیتے۔ میں آج ہی جاکر اس ویڈیو کو یوٹیوب پر ڈالوں گا کہ سب کو پتہ چل جائے اب اس ملک کی مرغیاں بیدار ہوگئی ہیں۔ بھلا بتائو، یہ بھی کوئی کرنے کی بات تھی؟ عجیب جانور نما انسان ہیں جمال بھائی!!!


وہ تو شکر ہے کہ شہرکو انٹرنیٹ مہیا کرنے والا میرا دوست ہے سو میں نے اس سے کہہ کر ایک کام اچھے وقتوں میں کروالیا تھا۔ اس وقت تو وہ بہت چیخا کہ بھائی یہ تو بے ضرر سی چیز ہے! اسے بند کرنے سے کیا فائدہ ہوجائے گا؟؟مگر آج اس عاقبت نا اندیش دوست کو بھی احساس ہورہا ہوگا کہ میں نے اچھے وقتوں میں ہی کتنا دوراندیش کام کیا تھا۔


پیاری ڈائری! خود سوچو، اگر ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ ہوجاتی تو ہم انسانوں کی ان مرغیوں کے آگے کیا عزت رہ جاتی؟؟؟


والسلام


زبان دراز مرغی فروش

پیر، 1 ستمبر، 2014

زبان دراز کی ڈائری - 15

پیاری ڈائری!

شاعر اور ادیب ہونا بھی کتنا مشکل کام ہے۔  خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں لکھنے سے لیکر رویئے تک کسی بھی چیز میں ادب کا نہ کوئی گزر ہو اور نہ قدر۔ اپنے ہم عمر لوگوں کو بتائو کہ آپ ادیب ہیں تو سوال آتا ہے کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ اور اگر بزرگوں سے اس بات کا ذکر کرو تو پوچھا جاتا ہے کہ لکھنا وکھنا تو ٹھیک ہے مگر کرتے کیا ہو؟ کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا۔
احباب میں کسی کو پتہ چل جائے کہ آپ شاعر ہیں تو رات کے تین بجے فون کرکے "جانی کوئی پوپٹ سا شعر تو بھیج، تیری بھابھی کو میسج کرنا ہے" کی فرمائش اٹھتی ہے اور کالم نویسی کا بیان ہو تو رازداری سے کان میں پوچھا جاتا ہے کہ کس سیاسی گروہ سے تعلق ہے؟ نیز یہ بھی کہ آج کل لفافے کا کیا بھائو ہے اور پیسے کام ہونے سے پہلے ملتے ہیں یا کام ہونے کے بعد؟؟؟ ہم تو اس لکھنے کے ہاتھوں مر چلے!!!

شام کو بیٹھا ایک کہانی مکمل کررہا تھا کہ بھابھی نے ہمارے بھتیجے کو ساتھ میں لاکر بٹھا دیا کہ فارغ تو بیٹھے ہو زرا اس کے ساتھ کھیل ہی لو۔ مجھے امی سے بات کرنی ہے اور صاحبزادے کو موبائل چاہیئے اپنے گیم کھیلنے کیلئے۔ جتنی دیر میں فون پر بات کر رہی ہوں زرا اس کے ساتھ بیٹھ جائو۔ ہمارے بھتیجے کی عمر کوئی آٹھ سال کے قریب ہے۔ ان کی عمر میں ہم شام کے وقت کھیلنے باہر جاتے تھے جبکے یہ صاحب کھیلنے کیلئے ایپ اسٹور یا پھر گوگل پلے اسٹور کا رخ کرتے ہیں۔ باقی کی رہی سہی کسر اس ٹیلیویژن نے پوری کردی ہے جسے دیکھ دیکھ کر وہ آدھے بقراط ویسے ہی بن چکے ہیں۔

بھتیجے صاحب نے ہمارے برابر میں بیٹھتے ہی سوال داغ دیا کہ چاچو کیا کر رہے ہیں؟ میں نے اسے بتایا کہ ایک کہانی لکھ رہا ہوں۔ ان کی ننھی سی بانچھیں کھل گئیں اور فورا سے کہانی سننے کی فرمائش داغ دی۔ میں نے اس سے جان چھڑانے کیلئے کہہ دیا کہ مجھے کوئی کہانی نہیں آتی۔ آتی ہوتی تو اب تک لکھ نہ چکا ہوتا؟ اتنی دیر سے بیٹھا ہی اس لیئے ہوں کہ کہانی آنے کا نام ہی نہیں لی رہی۔ ہمارے بھتیجے نے ٹٹولتی ہوئی نگاہوں سے ہمیں دیکھا تو ہم نے فورا چہرے پر معصومیت طاری کرلی۔ ایک لحظے کیلئے اس کے چہرے پر مایوسی آئی مگر پھر فورا ہی چہک کر بولا، کیا چاچو! آپ کو ایک سٹوری بھی نہیں آتی؟ چلیں میں آپ کو سٹوری سناتا ہوں۔
کہانی لکھنے سے زیادہ مشکل کام دوسروں کی کہانی سننا ہوتا ہے مگر کسی کا دل توڑنا سب سے مشکل کام ہے۔ آپ زندگی میں کتنے ہی سفاک کیوں نہ ہوجائیں، کسی کا دل توڑنے کیلئے ہر بار آپ کو محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس محنت کی مقدار کم اور زیادہ ہوسکتی ہے مگر انسانی فطرت کے مطابق دل توڑنے کیلئے محنت بہرحال درکار ہوتی ہے۔ میں نے اس کی معصوم خوشی کیلئے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔

ہمارے بھتیجے کے مطابق ایک بیچارے بھوکے کوے کو کہیں سے ایک چنے کا دانہ مل گیا۔ وہ اسے لیکر درخت پر بیٹھا ہی تھا کہ دانہ اس سے گر کر درخت میں چلا گیا۔ کوے نے درخت سے درخواست کی کے میرا چنا واپس کردو! درخت نے کہا جائو میاں! میں کیوں واپس کروں؟ کوے نے اسے دھمکایا کہ اگر درخت نے اس کا چنا واپس نہ کیا تو وہ لکڑہارے سے کہہ کر درخت کو کٹوا دے گا۔ درخت کو بھی اب غصہ آگیا، اس نے کہا کہ کیا کوا اور کیا کوے کا چنا، جا بھائی جو کرسکتا ہے کرلے! چنا تو اب نہیں ملنے والا۔ کوا طیش کے عالم میں اڑا اور لکڑہارے سے جاکر بولا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا تم درخت کو کاٹ دو۔ لکڑہارے نے کہا، درخت نے میرا کیا بگاڑا ہے؟ تس پہ کوے نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے درخت کو نہ کاٹا تو وہ لکڑہارے کی بیوی سے کہے گا کہ وہ اپنے میکے چلی جائے۔ لکڑہارے نے جواب دیا کہ جو بن سکتا ہے کر لو میں تو درخت نہیں کاٹتا۔ اب لکڑہارے کی بیوی کی باری تھی۔ کوے نے اپنا دکھڑا سنایا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، تم اس سے ناراض ہوکر میکے چلی جائو۔ لکڑہارے کی بیوی تنک کر بولی، لکڑہارے نے میرا کیا بگاڑا ہے؟ جائو جائو اپنا کام کرو۔ کوا وہاں سے ناکام ہوکر اڑا اور اب چوہے کے پاس پہنچا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، تم اس کی بیوی کے کپڑے کتر دو! چوہے نے انگڑائی لیکر کہا کہ کپڑے کترنے والے زمانے چلے گئے ہیں اور ویسے بھی لکڑہارے کی بیوی اب لان کے سوٹ پہنتی ہے جن میں کپڑے کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے سو میرا موڈ نہیں ہے۔ کوا وہاں سے جھنجھلا کر اب بلی کے پاس پہنچا اور بولا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، چوہا اس کے کپڑے نہیں کترتا، تم چوہے کو کھا جائو! بلی انسانوں کے ساتھ رہ کر انگریزی زدہ ہوچکی تھی سو جھرجھری لیکر بولی، چوہا کھالوں؟ اررر ڈسگسٹنگ!!! مجھ سے نہیں ہوگا میں صرف کیٹ فوڈ کھاتی ہوں۔
کوا اب غصے اور بھوک سے پاگل ہورہا تھا اس نے راہ چلتے ایک کتے کو پکڑا اور ہاتھ جوڑ کر بولا کہ بھائی میری مدد کرو! درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، چوہا اس کے کپڑے نہیں کترتا، بلی چوہے کو نہیں کھاتی، تم بلی کو کھا جائو؟ کتے نے کوے کو سر سے پائوں تک دیکھا اور بولا کہ کوے ہو کوے رہو! کتے نہ بنو! یہ سب انسانوں کی اڑائی ہوئی افواہیں ہیں۔ لڑائی جھگڑا اپنی جگہ مگر آج تک تم نے کسی کتے کو کسی بلے کو کھاتے دیکھا ہے جو میں یہ کام کروں؟  کوا اپنے پر نوچتا ہوا ایک ڈنڈے کے پاس پہنچا اور اس سے بولا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، چوہا اس کے کپڑے نہیں کترتا، بلی چوہے کو نہیں کھاتی، کتا بلی کو نہیں مارتا، تم کتے کی پٹائی کردو؟ اتفاق سے یہ ڈنڈا گاندھی جی کا پیروکار تھا اور اہنسا میں یقین رکھتا تھا۔ اس نے کوے کو بٹھا کر ایک تفصیلی لیکچر دیا اور کسی بھی قسم کے تشدد سے معذرت کرلی۔

کوا اس کے بعد ڈنڈے کو جلانے آگ کے پاس اور پھر آگ کو بجھانے کیلئے پانی کے پاس پہنچا مگر نتیجہ ہر بار اس کی امید کے برخلاف ہی تھا۔ بہت ساری امیدیں لیکر کوے نے اس بار ہاتھی کا رخ کیا جو جنگل کا چوکیدار بھی تھا اور اس کی جسامت کی وجہ سے سب اسے ڈرتے بھی تھے۔ کوے نے ہاتھی کے سامنے ایک لمبی تمہید باندھی کہ وہ جانتا ہے ہاتھی کو پانی کی کس قدر ضرورت ہوتی ہے اور اگر وہ چاہے تو اس کا اور کوے کا باہمی مفاد اس ہی میں ہے کہ آگ کو نہ بچھانے کی سزا دیتے ہوئے وہ پانی کو پی جائے۔ ہاتھی نے اسے محبت سے سمجھایا کہ اس کا جنگل والوں سے معاہدہ ہے اور اب وہ اس تالاب سے پانی نہیں پی سکتا۔ اگر کسی نے اسے پانی پیتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کی بڑی سبکی ہوگی اور وہ بڑی مشکل سے بحال کی گئی اپنی عزت ایک کوے کے چکر میں نہیں کھوئے گا۔

کوا سب طرف سے مایوس ہوکر زمین پر بیٹھ گیا اور رونے لگا۔ اتفاق سے وہاں ایک چیونٹی کا گزر ہوا جس کی بہن اس ہی درخت کی ٹہنی گرنے سے دب کر ہلاک ہوگئی تھی۔ اس نے کوے سے پوچھا کہ ماجرہ کیا ہے؟ کوے نے اسے روتے ہوئے جواب دیا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، چوہا اس کے کپڑے نہیں کترتا، بلی چوہے کو نہیں کھاتی، کتا بلی کو نہیں مارتا، ڈنڈا کتے کی پٹائی نہیں کرتا، آگ ڈنڈے کو نہیں جلاتی، پانی آگ کو نہیں بچھاتا اور اب یہ ہاتھی بھی اس پانی کو پینے سے انکاری ہے۔ اب تم خود بتائو میں کیا کروں؟

چیونٹی کو جلال آگیا۔ اس نے کوے کو ساتھ لیا اور ہاتھی کے پاس پہنچ گئی کے اگر اس نے اب بھی پانی نہ پیا تو وہ اس کی سونڈ میں گھس کر اسے مار ڈالے گی۔ ہاتھی کی اپنی جان پر بنی تو وہ گھبرا کر بولا کہ نہیں نہیں میری سونڈ میں نہ گھسنا، میں ابھی پانی پیتا ہوں۔ پانی نے کہا نہیں نہیں مجھے مت پینا میں ابھی آگ کو بجھاتا ہوں۔ آگ نے کہا مجھے مت بجھائو میں ابھی ڈنڈے کو جلاتی ہوں۔ ڈنڈا بولا مجھے مت جلانا میں ابھی کتے کو سبق سکھاتا ہوں۔ کتے نے کہا مجھے مت مارو میں ابھی بلی پر حملہ کرتا ہوں۔ بلی گھبرا کر بولی مجھے چھوڑ دو میں ابھی چوہے کو کھاتی ہوں۔ چوہے نے فریاد کی کہ مجھے مت کھانا میں ابھی لکڑہارے کی بیوی کے کپڑے کترتا ہوں۔ لکڑہارے کی بیوی چلائی میں لعنت بھیجتی ہوں لکڑہارے پر، میرے کپڑے نہیں کترنا۔ لکڑہارے نے کہا کہ ایسی کی تیسی درخت کی، مجھے چھوڑ کر مت جانا۔ درخت گھبرا کر بولا کہ بھائی کوے! تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ آئو بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ یہ رہا آپ کا چنا اور اس کے علاوہ اگر آپ چاہیں تو میں سب سے آرام دہ شاخ پر آپ کو ایک گھونسلہ اور اپنے سب سے رسیلے پھل اگلے تین سال تک آپ کو مفت دوں گا۔ کوا خود بھی اس سب سے تھک چکا تھا سو اس نے بھی درخت کی پیشکش خوشی خوشی قبول کرلی اور اس کے بعد سب ہنسی خوشی رہنے لگے،

بھتیجے صاحب تو کہانی سنا کر دوبارہ اپنے کھیل کود میں مصروف ہوگئے مگر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ کہانی کچھ سنی سنی سی لگ رہی ہے۔ خدا معلوم کہاں سنی تھی، یاد آیا تو تمہیں بھی ضرور بتائوں گا۔ تب تک کیلئے اجازت۔

والسلام

زبان دراز

اتوار، 31 اگست، 2014

زبان دراز کی ڈائری – 14

پیاری ڈائری!

تمہیں تو معلوم ہے کہ کل سے گھر میں دادی آئی ہوئی ہیں سو تمام تر مصروفیات موقوف ہیں۔ انسان کتنا بھی بڑا ہوجائے بزرگوں کے نزدیک ہمیشہ بچہ ہی رہتا ہے۔ دادی کے نزدیک بھی ہم بہن بھائی اب تک بچے ہی ہیں۔ ان کی یہ ہر وقت کی بزرگی بچپن میں کھَلتی تھی مگر نوجوانی میں آکر اس ہی بزرگی کی قدر ہوگئی ہے کہ کچھ ہی تو رشتے ہیں جو بدلے کی پرواہ کیئے بغیر سراسر خلوص ہوتے ہیں۔ وہی ڈانٹ ڈپٹ جو بچپن میں ایک بوجھ لگتی تھی اب اس احساس میں بدل چکی ہے کہ صحیح غلط برطرف، یہ بزرگ اپنے تئیں ہماری بہتری کیلئے ہی ہمیں ٹوکتے ہیں ورنہ باقی دنیا نے تو گویا نپولین کے اس قول کو حدیث ہی سمجھ لیا ہے کہ دشمن کو غلطی کرتے دیکھو تو ٹوکو مت!!

کل سے دادی گھر میں ہیں اور موبائل اور انٹرنیٹ گھر سے باہر۔ شاید اس ہی وجہ سے کل بہت مدت بعد کھانے کی میز پر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کی۔ کھانے کی میز پر اکٹھا ہونے والی یہ کہانی بھی خوب رہی کہ کل جب کھانا لگا اور حسب معمول امی کا واٹس ایپ پر میسج آیا کہ کھانا کھا لو تو میں اسے نظر انداز کرکے دوبارہ ٹوئیٹر پر مشغول ہوگیا کہ ملک کے سیاسی مستقبل پر ایک نہایت دلچسپ مکالمہ جاری تھا۔ میں ابھی اپنی جوابی ٹوئیٹ بھیجنے ہی لگا تھا کہ اچانک وائے فائے بند ہوگیا۔ میں وائے فائے رائوٹر کو کوستا ہوا نیچے اترا تو دیکھا کہ وائے فائے کا تار نکلا ہوا ہے اور دادی صاحبہ بہت اطمینان سے اسے ہاتھ میں پکڑے کھڑی ہیں۔ میں نے التجائیہ نظروں سے امی کی طرف دیکھا تو انہوں نے مسکرا کر کاندھے اچکا دیئے۔ پانچ منٹ میں گھر کے تمام افراد کھانے کے کمرے میں جمع تھے کیونکہ بدقسمتی سے وائے فائے رائوٹر بھی اس ہی کمرے میں موجود تھا۔ دادی اماں نے فیصلہ سنا دیا کہ بہو نے مجھے سب بتا دیا ہے! کھانے کے اوقات میں یہ نگوڑ مارا بند ہی رہے گا، غضب خدا کا! ایک گھر میں رہتے ہوئے تم لوگ کھانے کی میز تک پر اکٹھے نہیں ہوسکتے؟ کچھ ان سیاستدانوں سے ہی سبق سیکھ لو جو کھانے کے وقت تمام چیزیں بھلا کر ایک میز پر جمع ہوجاتے ہیں۔ لاحول ولا قوۃ

 دادی اس مرتبہ کئی سال بعد آئی ہیں اور ان کے آنے کے بعد سے ہم گھر والوں پر حیران کن انکشافات کا ایک حسین سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ کل سے اب تک مجھے معلوم ہوا ہے کہ اگر موبائل فون ایک طرف رکھ کر کھانا کھایا جائے تو امی نہایت لذید کھانا بناتی ہیں۔ نیز زندگی ٹوئیٹر اور فیس بک کے بغیر بھی گزاری جاسکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اگر گھر میں گھر والوں کو وقت دیا جائے تو انسان کو انٹرنیٹ پر منہ بولے رشتے بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ خدا کے بنائے ہوئے رشتے اپنے آپ میں خود ہی بہت حسین ہیں۔

کل تو دادی بہت تھکی ہوئی تھیں سو جلدی ہی سوگئیں مگر آج ہم بہن بھائیوں نے دادی کو گھیر لیا اور کہانی کی فرمائش کردی۔ بچپن میں ہم دادی سے روز کہانی سنا کرتے تھے اور اس وقت کی حسین یادیں ہم سب ہی دہرانا چاہتے تھے۔ پہلے تو دادی نے ٹال مٹول سے کام لیا کہ، اے نوج! اتنے بڑے گھوڑے ہو رہے ہو سب کے سب۔ اب اس عمر میں جن، پریوں اور شیر، بندر کی کہانیاں سنتے ہوئے  اچھے لگو گے؟ مگر ہماری مسلسل ضد کے آگے بالآخر دادی نے ہتھیار ڈال ہی دیئے اور بندر اور بلیوں کی وہی کہانی سنادی جسے ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ کہانی کے مطابق تین بھوکی اور ندیدی بلیوں کے ہاتھ کہیں سے تین روٹیاں لگ گئیں۔ اصولی طور پر تو ان بلیوں کو ایک ایک روٹی بانٹ کر کھالینی چاہیئے تھی مگر چونکے وہ بھوکی کے ساتھ ساتھ ندیدی بھی تھیں تو تینوں ہی ان روٹیوں پر لڑ پڑیں کہ کس کو کتنا حصہ ملنا چاہیئے۔ قریب بیٹھا ایک بندر جو پچھلے پانچ سال سے بھوکا تھا یہ سب کاروائی دیکھ رہا تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ تینوں بلیاں بلا کی جذباتی اور پرلے درجے کی احمق ہیں۔ ویسے بھی شیر ہو، چیتا ہو یا بلی، عقل تو تینوں میں جانور والی ہی ہوتی ہے۔ جہاں تک بندر کا تعلق ہے تو بقول ڈارون یہ وہ انسان ہیں جو ارتقاء کے عمل میں پیچھے رہ گئے ہیں اور انشاءاللہ کچھ عرصے بعد یہ بھی انسان بن ہی جائیں گے۔ سو بندر نے اپنی تقریباؔ انسانی عقل کا استعمال کرتے ہوئے ان تینوں بلیوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ چاہیں تو وہ ان کے بیچ ثالثی کروا سکتا ہے۔ بلیاں ہنسی خوشی راضی ہوگئیں۔

بندر نے روٹیاں ایک کے اوپر ایک رکھیں اور ان کے تین ٹکڑے کر  دیئے۔ ٹکڑے کرنے کے بعد بندر نے افسوس سے سر ہلایا کہ ایک ٹکڑا تھوڑا بڑا رہ گیا تھا۔ انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے کیلئے بندر نے اس بڑے ٹکڑے میں سے ایک ٹکڑا توڑا اور بلیوں سے اجازت چاہی کہ چونکہ یہ ٹکڑا اضافی ہے اور ان کے درمیان فساد کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا یہ ٹکڑا اسے کھانے دیا جائے۔ بلیوں کی نظریں بڑے ٹکڑوں پر تھیں اور اتنا سا ٹکڑا لینا تو بہرحال بندر کا بھی حق تھا کہ وہ ثالثی جیسا کارِخیر انجام دے رہا تھا سو بلیوں نے اسے بخوشی اجازت دے دی۔ بندر نے روٹی کا ٹکڑا کھایا اور اب باقی روٹیوں کی طرف متوجہ ہوا جہاں اب دو بڑے ٹکڑے اور ایک چھوٹا ٹکڑا اس کا منتظر تھا۔ اس مرتبہ دونوں بڑے ٹکڑوں سے انصاف کیا گیا اور اضافی ٹکڑے ایک مرتبہ پھر بندر کے ہی حصے میں آئے۔ روٹیوں میں سے یہ چھوٹی چھوٹی کٹوتی کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ تینوں روٹیاں بندر کے پیٹ میں چلی گئیں اور بلیاں آخر میں ایک دوسرے کی شکل دیکھتی رہ گئیں۔

دادی تو کہانی سنا کر سو گئیں اور اب میں ان کے برابر میں بیٹھا یہ ڈائری لکھتا ہوا سوچ رہا ہوں کہ کاش ان بلیوں کی بھی کوئی دادی ہوتیں جو یہ ہزار مرتبہ سنی ہوئی کہانی انہیں بھی سنا دیتی کہ بلیوں کی آپس کی لڑائی میں بندر کو الجھانے سے فائدہ صرف بندر کا ہوتا ہے۔

والسلام

زبان دراز

ہفتہ، 30 اگست، 2014

مریض

میرا نام عاطف علی ہے اور میں ایک مریض ہوں۔ میرا مرض عام لوگوں جیسا نہیں جس میں مریض خود تڑپتا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر ترس کھاتے ہیں۔ میرے مرض میں لوگ میری بیماری کی وجہ سے تکلیف سے تڑپتے ہیں اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

میں شروع سے ایسا نہیں تھا۔ اکیس سال کی عمر تک میں بھی آپ جیسا ایک عام سا ہی انسان تھا جو روزانہ صبح اٹھ کر ایک خاص عادمی کی نوکری کرتا تھا اور پھر پورا دن سہانے مستقبل کے خواب دیکھتا ہوا رات گئے اپنے ادھاروں کی گنتی کرتے ہوئے سو جاتا تھا۔ زندگی نے عجیب موڑ اس وقت لیا جب میں نے حب الوطنی کے کسی جرثومے کے زیرِاثر اپنی کمپنی کے ٹیکس کے گھپلوں کی رپورٹ ایک اخباری روزنامے کو بھجوادی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اس روزنامے کا مالک خود بھی ایک خاص آدمی اور ہماری کمپنی کے مالک کا دوست نکلے گا۔ رپورٹ گھوم کر واپس کمپنی میں پہنچ گئی اور میں گھما کر واپس گھر بھیج دیا گیا۔

بیروزگاری کے یہ دن شدید اذیت ناک تھے۔ جس ادارے میں بھی نوکری کیلئے جاتا وہاں یہ خبر پہلے سے پہنچ جاتی کہ اس لڑکے کو ایمانداری کی جان لیوا بیماری ہے۔ کمپنیز کو لگتا تھا کہ یہ چھوت کی بیماری ہے اور پھیل سکتی ہے لہٰذا کوئی بھی اب مجھے نوکری دینے کیلئے تیار نہ تھا۔ تین ماہ کی بیروزگاری میں جتنی بھی ایمانداری تھی وہ مناسب راستہ دیکھ کر جسم سے باہر نکل گئی تھی۔ اب میں چوری، ڈکیتی اور اجرت پر قتل تک کرنے کو تیار تھا مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ بد اچھا بدنام برا۔ شہر کے سارے چور اور ڈکیت مجھے پہچانتے تھے اور کوئی بھی مجھے گروہ میں شامل کرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھا کہ کیا پتہ کب پرانے جراثیم جاگ جائیں اور میں اپنے ساتھ انہیں بھی لے ڈوبوں۔

بیروزگاری کے ان تین ماہ میں میرے اندر ایک اور بہت بڑی تبدیلی آئی تھی۔ میں اب بلاتھکان اور بغیر سوچے سمجھے بولنا شروع ہوگیا تھا۔ مجھے احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں، کس سے بول رہا ہوں اور کیوں بول رہا ہوں؟ جو منہ میں آتا تھا بک دیتا تھا۔ لوگ اب مجھ سے ڈرنا شروع ہوگئے تھے۔ ان بیچاروں کو اب مجبوری میں میری عزت کرنی پڑتی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ اگر ایسا نہ کیا تو میں کہیں بھی کھڑا ہوکر ان کے بارے میں کچھ بھی بولنا شروع کردوں گا اور پھر ان کی ساری عمر اس کی وضاحت میں گزر جائے گی کہ معاملہ ایسا نہیں ایسا تھا۔ معاشرے کی یہ خوبی کہ اگلے سے منسوب ہر اچھائی کے بخیے ادھیڑ دو اور ہر برائی کو من و عن تسلیم کرلو، میرے بہت کام آرہی تھی۔

اب مجھے نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ میری ضروریات کا خیال رکھنے کیلئے محلے والے موجود تھے۔ جس کسی کو بھی کسی غریب سے دشمنی نکالنی ہوتی تھی وہ میرے گھر کچھ نذرانہ لیکر پہنچ جاتا اور میں ایک کے چار بنا کر اگلے دن محلے میں اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ دیتا تھا۔ زندگی اب سکون سے گزر رہی تھی مگر محلے والوں کو احساس ہوگیا کہ ایک ایک کرکے میرے ہاتھوں وہ سب ہی ذلیل ہورہے ہیں۔ محلہ کمیٹی کا اجلاس بیٹھا اور سب نے سر جوڑ کر بالآخر حل یہ نکالا کہ میری اس بیماری کا علاج کروایا جائے ورنہ میری بیماری کی وجہ سے بہت جلد محلے میں طلاقیں شروع ہوجائیں گی۔

اب میرے علاج کا مرحلہ شروع ہوا جس کا خرچہ محلے والوں نے بخوشی اٹھانے کا اعلان کردیا۔ خدا جانے کتنے حکیم، وید اور ڈاکٹر تھے جن کے پاس مجھے بھیجا گیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ طب یونانی سے لیکر طب مشرقی اور ایلوپیتھک سے لیکر ہومیو پیتھک تک کون سا طریقہ علاج تھا جو آزمایا نہ گیا ہو مگر میرا وہی حال تھا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ ان تمام روائتی طریقوں سے تنگ آکر پھر بابوں اور پیر فقیروں کا سلسلہ شروع ہوا مگر الحمدللہ میں جہاں بھی گیا وہاں موجود پیر کو اپنا مرید ہی بنا کر اٹھا۔ مجھے خود بھی اب اس سارے کھیل سے لطف آنے لگا تھا۔ محلے کا واحد بیروزگار ہونے کے باوجود محلے کا سب سے شاہانہ طرزِ زندگی میرا تھا۔ محلے والے اس حقیقت کو جانتے تھے مگر مجبور تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھی میرے علاج سے مایوس ہوگئے تھے۔ پھر ایک دن پتہ چلا کہ اخلاق صاحب نے جو محلہ کمیٹی کے سربراہ بھی تھے، ہمالیہ کی چوٹیوں پر موجود ایک سادھو کا پتہ لگایا ہے جو ہر اس بیماری کا علاج جانتا ہے جس کا علاج دنیا میں کہیں اور ممکن نہیں۔ چار دن کے بعد میں ہمالیہ کے برفاب پہاڑوں پر ان بابا کے سامنے بیٹھا تھا۔

اس سے پہلے کہ بابا مجھ سے کچھ پوچھتے اور کہتے میں ہمالیہ کی پگھلتی ہوئی برف اور انسانی آبادی کے اس پہاڑ پر اثرات کے سلسلے میں اپنی تقریر شروع کرچکا تھا۔ کوئی سات منٹ تک میں نے ان بابا کو ایران توران کے قصے سنائے اور تحقیق سے ثابت کیا کہ کس طرح وہ بابا اور انسانیت کے مسیحا کہلانے کے باوجود دراصل انسانیت کے مجرم ہیں۔ بابا خاموشی سے میری بات سنتے رہے اور جب میں سانس لینے کیلئے رکا تو انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کمال محبت سے میرے منہ پر ٹیپ لگادی۔ میں حیرانی سے ان کی شکل دیکھ رہا تھا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ انہوں نے میرے گال پر رسید کیا اور دھیمے لہجے میں گویا ہوئے کہ، ابے سالے! تیرے جیسوں کو میں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں۔ تیری یہ بیماری کوئی نئی نہیں بلکہ اولین انسانوں کے اندر بھی اس بیماری کے جراثیم پائے گئے تھے۔ یہ کل کے لونڈے جو ڈاکٹر بنے پھرتے ہیں اگر تاریخ انسانی اور نفسیات بھی پڑھ لیتے تو تجھے ہمالیہ تک ذلیل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ چل اب منہ پر سے ٹیپ ہٹا اور مزید سن۔ طب نے بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی تیری اس بیماری کی صرف دو قسمیں دریافت کی ہیں جو خونی اور بادی کہلاتی ہیں جبکہ تجھے اس بیماری کی تیسری اور سب سے خطرناک قسم لاحق ہے جسے ہزاروں سال پہلے ہمارے بزرگوں نے "منہ کے بواسیر" سے تعبیر کیا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ بیماری ہنوز ناقابل علاج  ہے۔ البتہ اگر تو چاہتا ہے کہ معاشرے میں تیری کھوئی ہوئی عزت دوبارہ بحال ہوجائے تو اپنا یہ منحوس کان میرے قریب لا اور میری بات سن۔ بابا نے اس کے بعد جو حل مجھے بتایا وہ یقینا قابل عمل بھی تھا ور کارآمد بھی۔ میں خوشی خوشی بابا کے پاس سے اٹھ کر واپس کراچی آگیا۔ مجھے اپنی بیماری کا حل معلوم ہوگیا تھا۔

میرا نام عاطف علی ہے اور آپ نے بالکل درست پہچانا، میں اب ایک مشہور ٹیلیویژن چینل پر دن میں مارننگ شو اور رات کو حالات حاظرہ کا پروگرام کرتا ہوں۔

زبان دراز کی ڈائری - 13

پیاری ڈائری!

اب تم تو مجھ سے ناراض ہوکر نہ بیٹھو! میں نے کہا تھا نا کہ فارغ ہوتے ہی پوری رام کتھا سنائوں گی سو لو میں حاضر ۔۔۔ پہلے کہانی سن لو پھر اس کے بعد بھی روٹھنا چاہو تو میں شکوہ نہیں کروں گی۔ تم تو خیر نئی ہو اس لیئے شروع سے ہی کہانی بیان کردیتی ہوں تاکہ تمہیں سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہ تو تم جانتی ہو کہ جوائنٹ فیملی کے گھر میں رہتی ہوں جہاں کمائی ایک ہے اور کھانے والے پیٹ ہزار۔ وہی لگے بندھے وسائل اور وہی ان وسائل پر اختیار کی گھریلو رنجشیں۔ شروع میں یہ نظام طے ہوگیا تھا کہ ہر کچھ عرصے بعد گھر کا انتظام ایک شخص کے ہاتھ سے لیکر دوسرے کے ہاتھ میں دے دیا جاتا تھا کہ اس طرح جوابدہی اور زمہ داری کا احساس سب لوگوں میں قائم رہے۔ میں تو چھوٹی تھی سو جتنے پیسے چاہیئے ہوتے تھے لے لیتی تھی۔ نہ جوابدہی کا خوف تھا نہ کسی اور چیز کا ڈر۔ گھر کے سب لوگ مجھ سے اتنا پیار جو کرتے تھے۔ ایک دفعہ غلطی سے گھر کا انتظام میں نے لینے کی خواہش ظاہر کردی۔ گھر والوں کی چہیتی تو تھی ہی لہٰذا کسی نے اعتراض بھی نہیں کیا۔ سارے وسائل میرے قبضے میں آئے۔ بہت سے گھر پہ لگائے باقی یاروں میں اڑائے۔ شروع میں تو کسی نے کچھ نہیں کہا مگر کچھ عرصے بعد گھر میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں اور گھر کا انتظام مجھ سے واپس لے لیا گیا۔ سارے وسائل کا اختیار میں ہونا اتنا لطف انگیز نہیں تھا جتنا ان اختیارات کا چلے جانا تکلیف دہ ثابت ہوا۔ خیر میں نے بھی اس وقت تو برداشت کیا مگر موقع ملتے ہی گھر کا کنٹرول ایک بار پھر سنبھال لیا۔

وقت کا پہیہ چلتا رہا اور اختیار و بے اختیاری کا کھیل بھی جاری رہا۔ کچھ دنوں پہلے مگر جب آخری مرتبہ اختیار میرے ہاتھ سے گیا تو میرے دونوں چچا زاد بھائیوں نے دادا ابو سے کہہ کر یہ تحریری معاہدہ کروا لیا کہ اب اگلے پندرہ ماہ تک میں گھر کے امور میں مداخلت نہیں کروں گی اور خاموشی سے اپنی ضرورت کی چیزیں ان چچا زاد بھائیوں اور دادا ابو سے لیتی رہوں گی۔ اس وقت تو مجبوری تھی کہ سامنے دادا ابو تھے اور گھر کے بیشتر وسائل ان ہی کی مرہون منت تھے۔ میں ان سے اختلاف کی جسارت نہیں کرسکتی تھی۔ مرتی کیا نہ کرتی میں نے بھی معاہدے پر ستخط کردیئے۔

پہلے پانچ ماہ تو جیسے تیسے کرکے کاٹ دیئے مگر اختیار اور طاقت کا نشہ تو افیم سے بھی زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ کچھ نشہ بھی ٹوٹنے لگا تھا اور کچھ اس بات کا بھی غصہ تھا اب ان دونوں چچا زاد بھائیوں میں سے اختیار اس بھائی کے ہاتھ میں آگیا تھا جس کی مجھے کبھی بھی شکل پسند نہیں آئی تھی۔ مجھے بچپن سے یہ بات سکھا دی گئی تھی کہ اس گھر کی سب سے حسین فرد میں ہوں سو اس اعتبار سے انا و غرور بھی صرف مجھ پر ہی جچتا تھا۔ یہ چچازاد بھائی اس بات کو سمجھنے کو تیار نہیں تھا۔ ایک تو عجیب موٹا اور گنجا سا انسان اور اوپر سے انا ایسی جیسے گھر کا اصل چہیتا وہی ہو۔ خیر میں پھر بھی اسے برداشت کرلیتی اگر اس نے آتے ہی اپنی اوقات نہ دکھا دی ہوتی۔ سب سے پہلے تو اس نے کھلے کمینے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوس والی رشیدہ کی شادی میں شرکت کا فیصلہ کرلیا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ رشیدہ سے مجھے کتنی چڑ ہے۔ میں پھر بھی برداشت کرگئی۔ میری اس برداشت کو کمزوری سمجھتے ہوئے اس گنجے نے دوسرا کام یہ کیا کہ میرے لیئے کام کرنے والی کریمن کو نوکری سے نکالنے اور پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کیا ہوا اگر گھر کے سودے میں سے چار پیسے رکھ لیتی تھی غریب؟ گویا خود تو اس نے کبھی چوری کی ہی نہیں؟ اور جب وہ جانتا تھا کہ کریمن میری خاص ہے اور اس کی تمام حرکات میرے علم میں بھی ہیں تو جب میں نے اسے پولیس کے حوالے نہیں کیا تو یہ کون ہوتا تھا یہ فیصلہ کرنے والا؟

کریمن والے واقعے کے بعد سے میری بس ہوگئی تھی اور میں اب مناسب موقع کے انتظار میں تھی۔ اس گنجے چچا زاد کی واحد اچھی چیز یہ تھی کہ یہ مجھے کبھی مایوس نہیں کرتا تھا۔ جب جب میں نے اس سے کسی حماقت کی امید کی، اس نے الحمدللہ میری امیدوں کی لاج رکھی۔ ہوا یوں کہ گھر میں دیمک لگ گئی جو سارے دروازوں کھڑکیوں کو مسلسل چاٹنے لگی۔ گھر میں سب لوگ اسے کہتے رہے کہ مجھ سے کہہ کر یہ دیمک مار دوائی ڈلوا دو کہ گھر کی صفائی میرے ذمے تھی۔ گنجے نے مگر ایک نہ سنی۔ ایک دن تنگ آکر میں نے خود اسپرے اٹھایا اور صفائی میں لگ گئی۔ تب یہ صاحب بھاگتے ہوئے اور سب گھر والوں کو جمع کرکے بتانے لگے کہ کس طرح ان کے کہنے پر میں یہ صفائی کرنے لگی ہوں۔ میں دل ہی دل میں مسکرارہی تھی کیوںکہ گھر میں اب کوئی بچہ نہیں رہا تھا جسے معلوم نہ ہو کہ کون سا کام کس کے کہنے پر اور کون کر رہا ہے۔ میری منزل اب آسان تھی۔ گھر والوں کی نظر میں میری عزت اب بحال ہوگئی تھی۔ اب صرف آخری وار کرنا باقی تھا۔

میں نے اپنے تایا کے دونوں بیٹوں کو بلایا اور ان کو یقین دلوا دیا کہ اگر وہ چاہیں تو میں گھر کے وسائل اور زمام اختیار ان کے حوالے کروا سکتی ہوں۔ وہ دونوں بیچارے سیدھے سادھے فوراّ میری مدد کرنے پر رضامند ہوگئے۔ اب گھر کے اندر روزانہ ایک فصیحتہ کھڑا ہونے لگا۔ دونوں تایازاد کچن کے دروازے پر بیٹھ گئے کہ نہ خود کھائیں گے اور نہ کسی کو کھانے دیں گے۔  ایک عجیب افراتفری کا عالم ہوگیا تھا۔ گھر کے سارے افراد پریشان تھے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہوگا؟ بات اب گھر سے نکل کر محلے بھر میں پھیل چکی تھی اور گھر والے مسلسل بدنام ہورہے تھے۔ میں نے سوچا تھا کہ گنجا اس طرح دبائو کا شکار ہوکر میرے پاس آئے گا اور پھر میں اپنی مرضی کی شرائط پر مک مکا کروالوں گی۔ گنجا مگر اس مرتبہ ہوشیار نکلا۔ اسے معلوم تھا کہ دادا ابو کے ہوتے ہوئے اور اس تحریری معاہدے کے بعد میں چاہ کر بھی بذات خود ایک فریق نہیں بن سکتی تھی، اس نے دونوں تایا زاد بھائیوں کو ہر لحاظ سے زچ کرنا شروع کردیا۔ تایا زاد بھائی روزانہ رات کو میرے کاندھے پر سر رکھ کر روتے مگر میں ان کو تسلی دلوا کر واپس بھیج دیتی۔ ان بیچاروں کو اب یہ فکر لگ گئی تھی کہ اب اگر اپنا مطالبہ منوائے بغیر اٹھ گئے تو گھر کا انتظام کبھی بھی نہیں سنبھال پائیں گے اور جگ ہنسائی الگ۔ میری الگ مجبوری کہ میں بذات خود فریق نہیں بن سکتی تھی کہ دادا ابو کو پتہ چلتا تو بہت مار پڑنی تھی اور خرچہ پانی الگ بند ہوجاتا۔

اس ہی کشمکش میں پندرہ بیس دن ہوگئے تھے اور سب کے اعصاب جواب دے رہے تھے۔ میں نے چچازاد گنجے کو کہا کہ اگر وہ چاہے تو میں ان دونوں تایازاد سے بات کرکے معاملہ رفع دفع کروائوں؟ اس نے بخوشی ہامی بھر لی۔ تایازاد جو اپنی چھوٹی سی انا کی وجہ سے اب چچازاد سے براہ راست مل نہیں سکتے تھے اور کسی باعزت واپسی کا ویسے ہی راستہ ڈھونڈ رہے تھے، ان کو جیسے ہی پتہ چلا کہ چچازاد نے معاملات سنبھالنے کا اختیار مجھے سونپ دیا ہے وہ ناچتے گاتے فورا میرے کمرے میں آپہنچے۔ معافی تلافی ہوئی اور اگلی بار بہتر تیاری کے ساتھ آنے کے عزم مصمم کے ساتھ وہ لوگ باہر نکلے تو گھر  کے تمام لوگ بشمول ان کے اپنے بچے ان پر تھو تھو کر رہے تھے کہ اب سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس سارے ہنگامے میں کہیں نہ کہیں میرا بھی ہاتھ تھا۔ اب کوئی میرے اوپر تو انگلی اٹھا نہیں سکتا تھا  لہٰذا ساری لعنت ملامت ان دونوں غریب تایازاد پر آگئی۔ جلے پر نمک اس وقت پڑا جب گنجے چچازاد نے بھی گھر بھر کو جمع کرکے ان دونوں تایازاد کو خوب لتاڑا کہ کس طرح وہ میری مدد لیکر اس سے اختیارات چھیننا چاہ رہے تھے۔ جذبات کی رو میں وہ یہ بھی کہہ گیا کہ کسی کو اگر شک ہے تو مجھ سے تصدیق کرلے۔

بیچارے گنجے کو جوش میں ہوش نہیں کھونا چاہیئے تھا۔ اب چونکہ ساری توپوں کا رخ میری طرف تھا۔ اور یہ ویسے بھی واضح تھا کہ اس ڈرامے کا انجام چچازاد کے جانے پر نہیں بلکہ کچھ اختیارات میرے پاس آجانے پر ہی ہونا ہے سو میرے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا۔ ہم تو ڈوبے ہین صنم کا ورد کرتے ہوئے میں نے گھر والوں کو جمع کیا اور سب گھر والوں کو یقین دلا دیا کہ اصل سازش چچازاد گنجے کی رچائی ہوئی ہے اور اس ہی کے کہنے پر میں تایازاد سے ملی تھی ورنہ میں تو ان لوگوں کے نام تک نہیں جانتی تھی۔ اور ویسے بھی، ان لوگوں سے میرا کیا لینا دینا؟؟

خیر سے میری پوزیشن اب گھر میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اگر گنجے کو ہٹا کر گھر کا انتظام بھی سنبھال لوں تو بھی اب کسی کو اعتراض نہیں ہوگا مگر الحال میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کیوںکہ پیچھے بیٹھ کر حکم چلانا سامنے آکر گالی کھانے سے زیادہ آسان اور مزیدار کام ہے۔ باقی رہے تایازاد، تو جب وہ ایک چچازاد کے نہیں ہوسکتے تو دوسری چچازاد کے کیسے ہونگے؟ میں بھی موقع دیکھ کر ان پر لعنت بھیج دوں گی۔ اب خود بتائو؟ اتنا کچھ چل رہا ہو گھر میں تو ڈائری خاک لکھتی؟

تمہاری

آب-پاری

 

جمعہ، 29 اگست، 2014

زبان دراز کی ڈائری - 12

!پیاری ڈائری 

آج سے پہلے میں تمہیں اپنی ہی کہانیاں سناتا رہا کہ ڈائری انسان لکھتا ہی یاد داشت کیلیئے ہے۔ آج مگر میں تمہیں ایک پرائی کہانی سنانا چاہتا ہوں۔ زندگی کے کسی موڑ پر شاید مجھے اس کہانی کو دوبارہ دہرانے کی ضرورت پڑے سو بہتر ہے کہ اسے قرطاس پر منتقل کردوں تاکہ بوقت ضرورت حوالہ رہے۔

دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں ایک بہت بڑا مظلوم طبقہ بستا تھا۔ یہ بیچارے ہر لحاظ سے استحصال کا شکار  لوگ تھے اور زندگی کی سختیوں سے شدید تنگ آچکے تھے۔ وہ صبح شام گڑگڑا کر کائنات کے مالک سے دعائیں کرتے کہ ان کیلئے کسی نجات دہندہ کو بھیج دے۔ ایک دن خدائے بزرگوار نے ان محکوموں کی دعائیں سن لیں اور ان کے درمیان ایک ایسے شخص کو بھیج دیا جس نے ان کے متفرق گروہوں کو جوڑ کر ایک ملت ہونے کا احساس دوبارہ ان میں زندہ کردیا۔ اس فرشتہ صفت انسان نے نہ صرف انہیں ان کی شناخت لوٹائی بلکہ انہیں ایک الگ ملک بھی لے کر دے دیا کہ وہ وہاں رہ کر اپنی اس شناخت کا لوہا منوا سکیں اور دنیا کو دکھا سکیں کہ وہ کس قدر باصلاحیت قوم ہیں۔

جب تک وہ محسن ان لوگوں کے درمیان رہا تب تک یہ لوگ بھی بےپناہ خوش رہے۔ ایک عجیب جذبہ تھا جو اس نے ان لوگوں میں پیدا کردیا تھا۔ ان میں سے ہر ایک شخص ایثار اور محنت کی مثال بن کر اس نئے ملک کو آگے لے جانا چاہتا تھا۔ محدود وسائل کے باوجود وہ سب لوگ اس نئی مملکت کے حصول سے خوش تھے۔ مملکت اب ایک سال کی ہوگئی تھی اور تیزی سے استحکام کی طرف جا ہی رہی تھی کہ خدا نے اس عظیم انسان کو واپس اپنے پاس بلا لیا۔ یہ پوری قوم اس سانحے پر بہت روئی مگر اس قوم نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری اور یکسوئی اور محنت کے ساتھ ترقی کا سفر جاری رکھا۔

جس طرح گھر کے بڑے کے گزنے کے بعد اکثر گھر سلامت نہیں رہ پاتے اس ہی طرح اس ملک میں بھی کچھ ہی عرصے بعد لوگوں کو یہ احساس ستانے لگا کہ "ایک قوم" کے دلفریب نعرے میں الجھ کر وہ اپنی سابقہ اور اصل شناخت کھو بیٹھے ہیں۔ اس احساس کے ہوتے ہی لوگوں نے اپنی ان تمام شناخت کو جنہیں وہ برسوں پہلے دبا آئے تھے، دوبارہ کھود کر نکال لیا۔ اب وہ ایک قوم کے بجائے بہت ساری صوبائی، معاشی، فرقہ وارانہ اور لسانی بنیادوں پر تقسیم اقوام بن کر  رہنے لگے۔ تقسیم کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ یہ مسلسل ہوتی ہے۔ تقسیم کا منحوس سلسلہ اگر ایک بار شروع ہوجائے تو یہ ایک ایسا  لامتناہی سلسلہ بن جاتا ہے جس میں انسان ہر دوسرے انسان سے اپنی شناخت الگ کرتے کرتے بالآخر مکمل اکیلا رہ جاتا ہے۔ تقسیم کے اس سفر میں ہوتے ہوتے ملک بھی تقسیم ہوگیا مگر تقسیم کی ہوس کسی طرح بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

وقت کا پہیہ بھی چلتا رہا اور زوال کا زینہ بھی بخوبی طے ہوتا رہا۔ ملک میں ایک دستور سا بن گیا تھا کہ ہر وہ چیز جس پر آپ یقین رکھتے ہیں وہ بہترین ہے اور جس چیز کے آپ مخالف ہیں، روئے زمین پر اس سے زیادہ گھٹیا کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ تقسیم کی عادت سے جو عدم برداشت کی آگ معاشرے میں پیدا ہوئی تھی وہ اب سب کے گھروں کو چاٹ رہی تھی۔ کہیں لسانیت کی بنیاد پر دنگا تھا تو کہیں مسلک اور مذہب کے نام پر فساد۔ معاشرے کی ایک بڑی تعداد مگر اب بھی اس سب صورتحال سے تنگ تھی۔ وہ اب اس سارے سلسلے سے نجات چاہتی تھی۔ طلب اور رسد کے قانون کے تحت بہت جلد ایک نیا گروہ تبدیلی کا نعرہ لیکر میدان میں آگیا۔

اس نئے گروہ کو نئی نسل نے خاص طور پر  پزیرائی بخشی کہ وہ ملک کے دگرگوں حالات سے تنگ تھے اور اب واقعی بہتری چاہتے تھے۔ ملک میں انتخابات ہوئے تو اس نوجوان طبقے کو امید تھی کہ شاید ہرکوئی ان ہی کی طرح سوچتا ہوگا مگر کسی بھی حقیقی معاشرے میں تمام افراد کبھی بھی یکساں سوچ نہیں رکھتے۔  نتیجہ ان نوجوانوں کی مرضی کے خلاف آیا تو بیچارے وقتی طور پر تو گم سم ہوکر رہ گئے۔ وقت کے ساتھ مگر جب اوسان بحال ہوئے تو حواس کے ساتھ ساتھ تفریق اور نفرت کا وہ جذبہ بھی بیدار ہوگیا کہ جس کی نفرت میں وہ خود میدان میں آئے تھے۔ اس بار نوجوانوں کے ساتھ ساتھ مذہبی طبقہ بھی سڑکوں پر آگیا۔ مطالبہ دونوں کا یہی تھا کہ موجودہ حکمران طبقہ جابر اور بدعنوان ہے لہٰذا حقِ حکمرانی کھو چکا ہے۔

ملک اب کی بار ایک نئی قسم کی تفریق سے دوچار تھا۔ اس مرتبہ یہ محض فرق نہیں بلکہ باقاعدہ نفرت تھی۔ سیاسی اختلافات اب باقاعدہ دشمنیوں میں بدل رہے تھے۔ کل کے دوست، آج کی سیاسی وفاداریوں کی وجہ سے ایک دوسرے کا نام تک سننے کے روادار نہیں رہے تھے۔ قوم کی نفسیات اب یہ ہوچکی تھی کہ محفل میں دوسرے کا گریبان اور گھر میں اپنے بال نوچتے تھے۔ ایک دوسرے کا سامنہ ہوجاتا تو منہ سے کف بہنا شروع ہوجاتا اور آوازیں خودبخود اونچی ہوجاتیں۔ جان اور مال کا تو پہلے ہی اللہ حافظ تھا مگر اب تو خیر سے عزتیں بھی محفوظ نہیں رہی تھیں۔ وہ لوگ بھول گئے تھے کہ اختلاف کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور ہدف تنقید بھی ان کا اپنا پاکستانی بھائی ہی ہے جو ان ہی کی طرح سگنل تو توڑ سکتا ہے مگر ملک پر آنچ آنے کی بات آئے تو اپنی جان بھی دے سکتا ہے۔

پیاری ڈائری! اس سے آگے مجھے نہیں پتہ کہ کیا ہوا؟ اس کہانی کا انجام کیا تھا؟ ان تمام فریقوں میں سے کون حق تھا اور کون ناحق؟ کس کی جیت ہوئی اور کس کی ہار؟ میں ان میں سے کسی سوال کا جواب نہیں جانتا۔

پیاری ڈائری!  ایک بات البتہ ضرور اور بالیقین کہہ سکتا ہوں کہ جس وقت ان تمام لوگوں کے پیروکار ایک دوسرے کی عزتیں اچھال رہے تھے، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی یہ تمام لیڈران ایک دوسرے کے گلوں میں بانہیں ڈال کر بلند و بانگ قہقہے لگا رہے تھے۔

والسلام

ایک تفریق زدہ پاکستانی

بدھ، 27 اگست، 2014

بیچارے افضل

بعض خواب اگر پورے نہ ہوں تو انسان بہت پرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔ میرا نام افضل شیخ ہے اور میں اتنا پیارا افضل نہیں ہوں جتنا آپ سمجھے ہیں۔ اگر کبھی میری زندگی پر کوئی ڈرامہ بن بھی جاتا تو اس کا نام پیارے افضل نہیں بیچارے افضل ہوتا۔ اس میں ڈرامہ بنانے والے کا قصور نہیں، میرے حصے میں آنے والا زندگی کا اسکرپٹ ہی ایسا تھا۔ زندگی کبھی بھی مجھ پر کھل کر مہربان ہوئی ہی نہیں۔ اگر ہو جاتی تو شاید آپ آج یہ کہانی نہیں پڑھ رہے ہوتے اور میں توسیع کے بعد اب بھی کسی بڑئے عہدے پر براجمان ہوتا۔

ایک چھوٹے سے گائوں نما شہر میں پیدا ہونے کے اپنے ہی مسائل ہوتے ہیں۔ آپ شاید کبھی اس بات کا اندازہ اس لیئے نہیں کرپاتے کیونکہ آپ خود ہمیشہ کسی بڑے شہر میں رہے ہیں۔ چھوٹا شہر اپنے محدود کلچر کی وجہ سے محدود مشاہدہ پیدا کرتا ہے اور پھر جب کوئی اس محدود مشاہدے کے ساتھ دنیا فتح کرنے نکلتا ہے تو اس کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو میرے ساتھ ہوا۔ بچپن سے صحافت کا شوق تھا لحاظہ میں نے ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک صحافتی ادارے سے منسلک ہوگیا اور زندگی کے بہت سے قیمتی سال اس ہی غم میں برباد کردیئے۔ یہ دور صحافت کا برا دور تھا۔ حکمرانوں کے خلاف لکھو تو کوڑے کھائو اور اگر حق میں لکھو تو بھی کوئی خاص انعام نہیں پائو۔ ان تلخ ایام کی حقیقت کو میں نے اپنے پلو سے باندھ لیا اور قسم کھائی کے آئندہ صحافت میں قدم نہیں رکھوں گا۔ فائدہ ایسے کام کا جہاں انسان کے ضمیر کی مناسب قیمت بھی نہ مل سکے؟

صحافت چھوڑی تو پہلے تو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کیا جائے؟ پھر زمانہ صحافت کے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایک اہم قومی ادارے میں جگہ بنوائی اور سکون سے زندگی بسر کرنے لگا۔ کہنے کو اس قومی ادارے کی ضرورت ہر 5 سال بعد پیش آنی چاہیئے تھی مگر خدا بھلا کرے جمہوریت کا کہ جس کے حسن کی وجہ سے ہر دو سال بعد ہمارے بھائو بڑھ جاتے اور پورا ملک ہماری طرف دیکھنے لگتا۔ زندگی اپنی رفتار سے گزر رہی تھی۔ زمانہ ملازمت میں کئی آمریت، کئی نیم جمہوریت اور ایک آدھی مکمل جمہوریت بھی بھگتا دی مگر چھوٹے شہر کا بڑا آدمی بننے کا میرا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوپایا تھا۔ اس بات کی خلش نے میری رات کی نیندیں اور دن کا سکون سب برباد کردیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ اب میری مدت ملازمت ختم ہورہی ہے اور شاید آخری مرتبہ میرے اس ادارے کو ٹیلی وژن پر آنے کا موقع مل رہا ہے۔ میں نے سر دھڑ کی بازی لگادی کہ کسی طرح اس بار میں کوئی ایسا کام کرجاؤں کہ میں اپنے اس چھوٹے شہر میں ایک بڑا آدمی بن کر لوٹ سکوں۔ میں نے وزراء سے مائک چھینے، صحافیوں کو للکارا، چیف جسٹس سے ملاقاتیں کیں، مگر کوئی چیز بھی ایسی نہ نکلی جو مجھے شہرت کے اس دوام پر پہنچا دیتی جس کے میں نے بچپن سے خواب دیکھے تھے۔

وقت بھی نکل گیا اور نوکری کی مدت بھی ختم ہوگئی۔ اب میں گھر میں بیٹھ کر اس اچھے وقت کے خواب دیکھتا تھا جو کبھی آیا ہی نہیں۔ زندگی میں ایک عجیب سی مایوسی آگئی تھی اور اب میں شدید اکتاہٹ کا شکار تھا۔ مگر وہ کہتے ہیں نہ کا خدا شکر خورے کو شکر دے ہی دیتا ہے سو میری زندگی میں بھی وہ دن آ ہی گیا جب میں مشہور ہوسکتا تھا۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے میرے سابقہ ادارے کی بدعنوانیوں کےخلاف ایک ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا۔ میں نے اس جماعت کے سرکردہ رہنمائوں سے رابطے کی کوششیں شروع کردیں اور خود بھی اس احتجاجی تحریک کا حصہ بن گیا۔ میری کوششیں رنگ لے آئیں اور میری ملاقات اس تحریک کی قیادت سے بھی ہوگئی۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے تمام تر الزامات درست ہیں اور میرا سابقہ ادارہ سنگین بدعنوانیوں میں ملوث ہے۔ ان کم ظرف لوگوں نے میری بات سنی تو سہی مگر اس بات کے ثبوت بھی مانگ لیئے۔ اب میں ثبوت کہاں سے لاتا؟ مایوس ہوکر میں جلسے سے باہر آگیا۔

اگلے دو دن اس ہی مایوسی میں گزرے۔ کسی کام میں دل نہیں لگا۔ قدرت نے یہ ایک آخری موقع دیا تھا جسے میں اپنے ہاتھ سے گنوا بیٹھا تھا۔ تیسرے دن البتہ میرے پاس ایک گمنام کال آئی۔ فون اٹھا کر بات کی تو دوسری طرف موجود شخص نے مجھ سے وہ سوال کیا جس کا مجھے صدیوں سے انتطار تھا۔ اس شخص نے مجھ سے پوچھا، پیارے افضل! کیا تم مشہور ہونا چاہتے ہو؟ مجھ پر تو گویا شادی مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی اور میں نے فی الفور ملاقات کی خواہش کردی۔ اس انجان شخص نے مجھ سے پوچھا کہ جو باتیں میں ان لیڈران سے کرکے آیا ہوں کیا میں وہی باتیں ٹیلی وژن پر بھی دہرا سکتا ہوں؟ میں نے بخوشی ہامی بھر لی۔ جب اس ملک میں پیارے افضل مشہور ہو سکتا ہے تو بیچارے افضل نے کیا بگاڑا ہے؟ کیا میں کسی بھی طرح پیارے افضل سے کم تھا؟؟

ٹیلی وژن پر بھی آگیا، سب باتیں بھی کہہ ڈالیں، دل کا بوجھ بھی اتر گیا، مگر پروگرام کے اختتام پر اس میزبان نے بھی وہی سوال داغ دیا کہ آیا میرے پاس ان سب باتوں کا کوئی ثبوت ہے؟ دل تو کیا میں چیخ چیخ کر رو پڑوں مگر میں نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میرے بچپن کا خواب پورا ہوگیا ہے۔ احتجاجی دھرنوں سے لیکر گلی چوباروں تک ہر کوئی اس نئے پیارے افضل کے بارے میں بات کررہا تھا۔ گاؤں گاؤں اور شہر شہر ہر ایک کے لب پر اب میرا ہی نام تھا۔

بعض خواب اگر پورے نہ ہوں تو انسان بہت پرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔ میرا نام افضل شیخ ہے اور میں اتنا پیارا افضل نہیں ہوں جتنا میں سمجھا تھا۔ اگر کبھی میری زندگی پر کوئی ڈرامہ بن بھی جاتا تو اس کا نام پیارے افضل نہیں بیچارے افضل ہوتا۔ کل رات یہ خواب پورا ہونے کے بعد سے میں سکون سے سو نہیں پایا ہوں اور اس بےخوابی کی وجہ میرے ارادوں اور خوابوں کی تکمیل کی خوشی نہیں ہے۔

کل رات سے محض ایک ہی خیال رہ رہ کر دماغ میں گھوم رہا ہے کہ ڈرامے کے اختتام پر کچھ بدلے یا نہ بدلے، پیارے افضل کو گولی ماردی جاتی ہے۔

 (اس کہانی کے تمام نام، مقام، واقعات اور کردار فرضی ہیں۔ کسی اتفاقیہ مماثلت کی صورت  میں مصنف زمہ دار نہیں ہوگا۔)

منگل، 12 اگست، 2014

بھوک

میں:
جاننا چاہتی ہیں میں کون ہوں؟
سنیئے مادام!!!
میں بہت عام سا اک فرد ہوں اِن کے جیسا ۔۔۔ !!!

وہ:
وہ جنہیں تابِ گراں باریٰ ایام نہیں؟

میں:
جی نہیں! وہ تو بڑے لوگ تھے جن پر اکثر
فیض و جالب سے کئی،
نظم لکھا کرتے تھے
اب مگر دور دِگر ہے میری پیاری مادام۔۔!!!
اس نئے دور کا عنوان ہے
جسموں کی ہوس ۔۔۔!!!
اب کوئی ہم پہ غزل ۔۔۔ جانے دیں!!!
ہم انہی بھوک زدہ، خوف زدہ، ننگ زدہ لوگوں کی اولاد ہیں جو ۔۔۔
خیر ، اب چھوڑیئے؛ اس بات کو ہی جانے دیں!!!

میں:
کیا کہا؟؟ جاننا چاہیں گی میرے بارے میں؟؟
میرے بارے میں بتانے کیلئے کچھ بھی نہیں
میرا ماضی نری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں!
میں نے بولا نا بہت عام سا اک فرد ہوں میں
اک نظر دیکھیئے، ہر شخص میں دکھ جائوں گا!!
دیکھیئے ایک نظر گرتے ہوئے بوڑھوں پر
جن کے بارے میں کہا تھا یہ کبھی فیض نے ہی
"وہ جنہیں تابِ گراں باری ایام نہٰیں"
دیکھیئے ایک نظر غور سے پیاری مادام
اپنے سینے کو چھپاتی یہ سسکتی عورت
روز بکتی ہے جو اس شہر کے بازاروں میں
اس کے پہلو میں یہ لیٹا ہوا بیمار بدن
آیا تھا زد میں دھماکے کی کئی سال گئے ۔۔۔
اور یہ بچے ۔۔۔۔
میں نے بولا نا ۔۔۔ بہت عام سا اک فرد ہوں میں
ان میں جس شخص میں دیکھیں گی تو دکھ جائوں گا

وہ:
مگر یہ سب ۔۔۔؟؟؟
خداوندا ۔۔۔!!!
یہ غربت، غلاظت، یہ عصمت فروشی؟
یہ سب کیا ہے، کیوں ہے؟ میں کیسے بتائوں؟
وہ ساحر کا جملہ میں کس کو سنائوں
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کو لائوں،
یہ گلیاں یہ کوچے یہ منظر دکھائوں!!

میں:
یہ بستی، یہ قریہ
یہ گلیاں، یہ کوچے
جوانوں کے لاشے
یہ رسوا بڑھاپے
یہ کمزور بچے
یہ ادھ ننگی عورت
یہ عصمت دریدہ
نہیں جس کو پرواہ
کے بھٹو جیئے یا کہ عمران آئے
میاں جی رکیں یا حکومت ہی جائے
اسے بس فکر ہے تو اتنی سی میڈم
کہ کل سے ہے دھندے میں ہفتے کا ناغہ
اور اس ایک ہفتے
بڑی والی بیٹی کو اک بار پھر سے ۔۔۔۔

میں نے نظم مکمل کرکے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور ڈرائیور کو اےسی تیز کر نے کا کہہ کر اپنی نئی کرولا کی نشست پر نیم دراز ہوگیا۔ مجھے یقین تھا کہ بھوک، سیاست، اور غربت پر لکھے ہوئی یہ نظم بہت مشہور ہوگی۔

سید عاطف علی
12-August-2014

اتوار، 27 جولائی، 2014

فیصلہ

لو آج یہ دامن چاک کیا ۔۔۔
لو آج یہ قصہ پاک کیا ۔۔۔
لو آج یہ رشتہ توڑ دیا ۔۔۔
لو آج قلم یہ توڑ دیا ۔۔۔۔
کیوں لکھوں میں اس بستی میں؟

جس بستی کے اندھے بہرے
گز بھر کی زبانیں رکھتے ہیں
جو سچ سننے سے عاری ہیں
جو اندھیاروں کے عادی ہیں
(جو سورج سے گھبراتے ہیں)
اپنوں کی جان کے دشمن ہیں
غیروں کیلئے چلاتے ہیں ۔۔۔

کیوں لکھوں ان کی خاطر میں؟

میں کیوں لکھوں ان کی خاطر؟
میں کیا لکھوں ان کی خاطر؟

کیا عشق ہے کیا مجبوری ہے؟
کیا وصل ہے کیا مہجوری ہے؟
یہ موضوع میرے ہو نہ سکے!!!

اس اندھی بہری بستی میں
میں روز کھڑا چلاتا تھا ۔۔
بازارِ سیاست کیا ہے یہ؟
بدحال ریاست کیا ہے یہ؟
کیوں لاشوں کے انبار یہاں؟
کیوں فاقوں کے انبار یہاں؟
کیوں چادر کھینچی جاتی ہے؟
کیوں عصمت بیچی جاتی ہے؟
یہ سارے موضوع میرے تھے ۔۔۔
پر ان کا سامع کوئی نہیں!!!

اب کیا لکھوں؟ اور کیوں لکھوں؟

اے میرے پیارے سب اندھوں!
اے چیخنے والے سب بہروں!!
نہ حزن کرو، نہ فکر کرو!!
تکلیف کے دن اب ختم ہوئے!!!

الفاظ مرے، اشعار مرے
اقوال مرے، ہذیان مرے
تم اندھے بہرے لوگوں میں
بیچارے زندہ رہ نہ سکے

اور تنگ آکر کل شب میں نے ۔۔۔
ایک آخری نوحہ لکھ ڈالا ۔۔۔
جس کے آخر میں شاعر نے ۔۔۔
اپنا یہ دامن چاک کیا ۔۔۔
آخر یہ قصہ پاک کیا ۔۔۔
کل رات یہ رشتہ توڑ دیا ۔۔۔
کل رات قلم یہ توڑ دیا ۔۔۔۔

کل رات سے جینا چھوڑ دیا!!!!

سید عاطف علی

جمعرات، 19 جون، 2014

زبان دراز کی ڈائری – 6

یہ دن بھی دیکھنے تھے کہ کرنے کو کچھ نہیں ہے سو مجبوراٗ ڈائری لکھنی پڑ رہی ہے۔

پیاری ڈائری! قصہ کچھ یوں ہے کہ پرسوں سے محلے میں میڈیا کا پہرہ ہے اور ہم اس بڑھی ہوئی داڑھی کے ساتھ ان کے سامنے جا نہیں سکتے کہ پھسٹ امپریسن لاسٹ امپریسن والی بات ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ یہ مجمع ٹلے تو ہم بھی باہر نکلیں اور ہوا کھائیں۔ سنا ہے کہ یہ سب ہمارے پڑوس میں رہنے والے گلو بھائی کے سلسلے میں یہاں جمع ہیں۔

گلو بھائی بھی خوب انسان ہیں ویسے۔ وزیر بننا ان کا بچپن کا خواب ہے۔ کہتے ہیں کہ جب گلو بھائی پیدا ہوئے تو ان کی ماں مر گئی، تس پر ان کے باپ جو ایک پہنچے ہوئے نائی تھے، نے پیش گوئی کی کہ چونکہ یہ پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو کھا گیا ہے سو یہ انشاءاللہ بڑا ہوکر کم سے کم وزیر بنے گا۔ لوگوں نے پوچھا کہ ماں کو مارنے سے وزیر بننے کا کیا تعلق تو اس پہنچی ہوئی ہستی نے وضاحت کی کہ جس ملک میں امیر بیوی کو مارکر صدر بنا جا سکتا ہو وہاں غریب ماں کو مار کر کم سے کم وزیر بننا تو انکے بیٹے کا حق ہے۔ خیر بڑے میاں کی خرافات تو بڑے میاں جانیں، ویسے بھی ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہٰں والا لطیفہ ہم سب نے سن ہی رکھا ہے۔

گلو میاں کے بارے میں اس سے بہتر کیا بیان کروں کہ ڈائری میری، قلم میرا اور گلو میاں مفت میں در آئے۔ ویسے ہی جیسے دفتر کسی کا، بیریئر کسی کے، پولیس کسی کی، آرڈر کسی کا، مگر گلو بھائی کہ جن کو نہ پولیس، نہ لیگ، نہ پارٹی، کوئی بھی اپنانے کو تیار نہیں مگر یہ ہیں کہ پوری کاروائی میں سب سے آگے آگے ہیں۔ اُن کے اِن ہی اوصافِ جمیلہ کی بنیاد پر محلے میں سب گلو بھائی سے بنا کر رکھتے ہیں کہ جس قسم کے خبطی یہ ہیں، کچھ بعید نہیں کہ آگے چل کر صوبے کے وزیرِ قانون لگ جائیں۔ برا وقت ویسے بھی کونسا بتا کر آتا ہے، اور غریبوں کے معاملے میں تو ایک دفعہ آجائے تو ہمیشہ کیلئے بس جاتا ہے۔ سو گلو بھائی بچپن سے ہی محلے کے سیاستدان تھے۔ ٹین ڈبے کی دکان سے انہوں نے کام شروع کیا اور ٹین ڈبوں کی چوری سے ٹرین کے ڈبوں کی چوری تک کا سفر بڑی کامیابی کے ساتھ طے کرتے چلے گئے۔ پیاری ڈائری تم جانتی ہو کہ میں یہ رائیونڈ والے گلو کی نہیں، اپنے محلے کے گلو کی بات کر رہا ہوں!! وقت کے ساتھ ساتھ گلو بھائی نے سیکھ لیا تھا کہ اس شخص سے بڑا احمق کوئی نہیں جس کے پاس کھانے کیلئے پورا ملک پڑا ہو اور وہ لوہے کے کارخانے ہڑپنے میں وقت ضائع کرتا رہے۔ سو گلو بھائی اب سارے فالتو کام دھندے چھوڑ کر ملک اور جیب سنوارنے کے اس ہی کارخیر میں مصروف تھے کہ پرسوں حکم ملا کہ ماڈل ٹائون میں جاکر کچھ سکریپ کی گاڑیاں توڑ دو۔ گلو بھائی نے مرشد کے حکم پر جاکر گاڑیاں توڑ دیں اور جیسے کے صوبے کی روایت ہے، کام ریکارڈ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچادیا۔ تس کے بعد آپ نے گرم موسم میں ٹھنڈی کوک لی، خود بھی پی، پولیسیوں کو بھی پلائی اور ناچتے گاتے گھر آگئے۔ شام گئے بڑی سرکار کا فون آیا کہ گرفتاری پیش کردی جائے سو گلو بھائی نے خیر سے گرفتاری بھی پیش کردی اور عدالت میں پیشی کے موقع پر پٹ بھی آئے۔ تب سے اب تک یہ میڈیا یہاں موجود ہے اور گلی میں موجود کھمبے کو مسلسل پیٹے جارہا ہے اور خدا معلوم کب تک پیٹتا رہے گا۔

میری پیاری ڈائری! یہ سب باتیں تمہیں سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اب خیر منائو۔ جس ملک کا میڈیا اور تمام افراد 11 انسانوں کے قاتل کو بھول کر 4 گاڑیوں کو شہید کرنے والے پر پچھلے دو دن سے کوریج دے رہے ہوں وہاں کا اللہ ہی حافظ ہے۔

تمہارا خیر خواہ

زبان دراز
19- جون - 2014

آج کا شعر:
بستی جلی ، خبر ہوئی شائع کچھ اس طرح
آتش زنوں کے تیل کا نقصان ہوگیا

بلاگ فالوورز

آمدورفت