اتوار، 27 جولائی، 2014
فیصلہ
لو آج یہ قصہ پاک کیا ۔۔۔
لو آج یہ رشتہ توڑ دیا ۔۔۔
لو آج قلم یہ توڑ دیا ۔۔۔۔
کیوں لکھوں میں اس بستی میں؟
جس بستی کے اندھے بہرے
گز بھر کی زبانیں رکھتے ہیں
جو سچ سننے سے عاری ہیں
جو اندھیاروں کے عادی ہیں
(جو سورج سے گھبراتے ہیں)
اپنوں کی جان کے دشمن ہیں
غیروں کیلئے چلاتے ہیں ۔۔۔
کیوں لکھوں ان کی خاطر میں؟
میں کیوں لکھوں ان کی خاطر؟
میں کیا لکھوں ان کی خاطر؟
کیا عشق ہے کیا مجبوری ہے؟
کیا وصل ہے کیا مہجوری ہے؟
یہ موضوع میرے ہو نہ سکے!!!
اس اندھی بہری بستی میں
میں روز کھڑا چلاتا تھا ۔۔
بازارِ سیاست کیا ہے یہ؟
بدحال ریاست کیا ہے یہ؟
کیوں لاشوں کے انبار یہاں؟
کیوں فاقوں کے انبار یہاں؟
کیوں چادر کھینچی جاتی ہے؟
کیوں عصمت بیچی جاتی ہے؟
یہ سارے موضوع میرے تھے ۔۔۔
پر ان کا سامع کوئی نہیں!!!
اب کیا لکھوں؟ اور کیوں لکھوں؟
اے میرے پیارے سب اندھوں!
اے چیخنے والے سب بہروں!!
نہ حزن کرو، نہ فکر کرو!!
تکلیف کے دن اب ختم ہوئے!!!
الفاظ مرے، اشعار مرے
اقوال مرے، ہذیان مرے
تم اندھے بہرے لوگوں میں
بیچارے زندہ رہ نہ سکے
اور تنگ آکر کل شب میں نے ۔۔۔
ایک آخری نوحہ لکھ ڈالا ۔۔۔
جس کے آخر میں شاعر نے ۔۔۔
اپنا یہ دامن چاک کیا ۔۔۔
آخر یہ قصہ پاک کیا ۔۔۔
کل رات یہ رشتہ توڑ دیا ۔۔۔
کل رات قلم یہ توڑ دیا ۔۔۔۔
کل رات سے جینا چھوڑ دیا!!!!
سید عاطف علی
پیر، 7 جولائی، 2014
وصیت
میں پهوٹ بہوں ... تو ہنسیو مت !!!
میں خوں تهوکوں ... تو ہنسیو مت !!!
اقرار کروں ... تو ہنسیو مت !!!
انکار کروں ... تو ہنسیو مت !!!
میں ریزہ ریزہ خاک بنوں
اک جیتی جاگتی لاش بنوں
پیہم آزار سے تهک جائوں
پهر سچ مچ لاشہ بن جائوں
تب ساری دنیا کی مانند
تم بهی دل کهول کے ہنس لینا
پر اس سے پہلے ...
#عاطفیت
جمعرات، 3 جولائی، 2014
بلا عنوان ۔۔۔
آج مدت کے بعد یاد آیا
یاد ہے تم کو وہ گھنیری شام
تم نے مجھ سے کہا سرِ ہجراں
عشق سے بھوک تو نہیں مٹتی؟
شعر سے پیٹ تو نہیں بھرتا؟
دیکھیئے رحم کھائیے مجھ پر
میری آنکھوں میں خواب بستے ہیں
اور یہ چھوٹے موٹے خواب میرے
ایک شاعر کے بس کے خواب نہیں
آپ کا عشق بےمثال سہی
عشق سے پیٹ تو نہیں بھرتا؟؟
جانتی ہوں کہ آپ شاعر ہیں
بے تحاشہ دلوں کی دھڑکن ہیں
آپ کے شعر میں روانی ہے
کل کو مشہور بھی بہت ہونگے
ہاں مگر یہ بھی جانتی ہوں میں
داد سے پیٹ تو نہیں بھرتا؟؟
دیکھیئے اب مجھے اجازت دیں
وہ میری راہ دیکھتا ہو گا
شعر، تمثیل، عاشقی اظہار
کیا ہے گر اس کو سب کا شوق نہیں؟
ذوق اتنی بڑی دلیل نہیں!!!
ذوق سے پیٹ تو نہیں بھرتا؟؟
آج دیکھا تمہیں سر محفل
زیوروں کے حسین بوجھ تلے
کھوکھلی سی ہنسی کے پردے میں
اپنے آنسو چھپائے بیٹھیں تھیں
دل میں آیا کہ پوچھ لوں تم سے
اب تو یہ پیٹ بھر گیا ہے نا؟؟؟؟
سید عاطف علی
تین - جولائی - 2014
جمعہ، 14 مارچ، 2014
یادش بخیر
بہت غزلیں لکھیں اس نے
بہت نظمیں کہیں اس نے
بڑے اشعار کہتا تھا
بہت مشہور شاعر تھا
پڑھا ہو گا بہت تم نے
سنا ہوگا بہت تم نے
بہت الفاظ تھے نادر
بہت سچا سا لہجہ تھا
بہت مشہور شاعر تھا
عجب اک درد تھا اس میں
عجب الجھن میں رہتا تھا
عجب رنگ تھا، عجب خو تھی
ہمیشہ کل میں رہتا تھا
بہت مشہور شاعر تھا
سر محفل جو ہنستا تھا
وہ تنہائی میں روتا تھا
نظم میں خوں رلاتا تھا
نثر میں گدگداتا تھا
بہت مشہور شاعر تھا
بہت مشہور قصہ ہے)
(مگر قصہ تو قصہ ہے
فشارِ خون کا لاوہ
سنا ہے پھٹ گیا کل شب
جو خوں کاغذ پہ بہتا تھا
وہ سچ مچ بہہ گیا کل شب
سنا ہے ۔۔۔۔۔ مرگیا کل شب
!!!بہت مشہور شاعر تھا
- سید عاطف علی
14- مارچ - 2014
بدھ، 5 مارچ، 2014
یادِ گم گشتہ
بہت سالوں کا قصہ ہے
ادھورا یاد ہے اب بھی
وہ شاید اک نومبر تھا
کراچی جل رہا تھا ان دنوں، ہر سال کی مانند
(کسی نے فیس بک پر (یا سماجی رابطے کے اور زریعہ پر
مجھے درخواست بھیجی تھی
کوئی تحریک تھی شاید
یا پھر دھرنا رہا ہوگا
کہ "ہم سب ظلم کے آگے کھڑے ہیں، آپ بھی آئیں"
میں پڑھ کر ہنس دیا تھا وہ
مگر سوچا،
چلو اس بار چل کر دیکھ لیتے ہیں!!!
ادھورا یاد ہے کچھ کچھ ۔۔۔۔
بہت سالوں کا قصہ ہے
وہ دھرنا تھا کہ جلسہ تھا
بہت پرجوش تھا لیکن!
مقرر زور دے کر کہہ رہے تھے کس طرح ان کا ستم پچھلوں سے کم ہوگا
بڑا پرجوش مجمع تھا
بڑے پرجوش نعرے تھے
ادھورا یاد ہے سب کچھ
بہت سالوں کا قصہ ہے
پر اتنا یاد ہے اب بھی
وہیں میں نے تمہیں دیکھا
یہ بالکل یاد ہے مجھ کو
بہت پر جوش تھیں تم بھی
تمہارے سرخ چہرے پر
پسینہ یوں چمکتا تھا
کہ جیسے چند موتی گر گئے ہوں اک انگارے پر
تمہارے کان کا آویزہ
ہر نعرے کی لے پر رقص کرتا تھا
تمہاری زلف
کوڑا بن کے ہلتی تھی
تمہارے ہاتھ ۔۔۔۔
بہت ہی خوبصورت ہاتھ تھے وہ
پر ۔۔۔
میں شاید بھول بیٹھا ہوں!!!
بہت مدت کی باتیں ہیں
بہت مدت کی باتیں، اس طرح کب یاد رہتی ہیں!!
ارے ہاں، یاد آیا
تمہاری آنکھ میں اس دن بھی کچھ الجھن رہی ہوگی
یا شاید اور کچھ جذبے
جنہیں تم روکنا چاہتیں تھیں
مگر جذبے کہاں پابند؟
اشاروں میں، کنایوں میں
یہ باہر آ ہی جاتے ہیں
یہ اپنا رنگ دکھاتے ہیں
بہت مدت کی باتیں ہیں
کہاں اب یاد رہنی ہیں
مگر ایک بات تو طے ہے
سنو معصوم سی لڑکی
تمہاری جھیل آنکھوں میں
اداسی تب بھی بستی تھی!!!
سید عاطف علیٓ -
5-3-2014
اتوار، 16 فروری، 2014
تعارف
مجھ سے ملیئے
میں شاعر ہوں
میں لیکھک ہوں
میں دلبر ہوں
میں عاطف ہوں
میں حاضر دور کا انشاء ہوں
اور سب سے اہم
میں جھوٹا ہوں!!
سچ پوچھو تو۔۔۔۔۔
معلوم نہیں میں کیا کچھ ہوں
اور یہ بھی نہیں
کہ کیوں کچھ ہوں
یا کب سے ہوں
اور کب تک ہوں
یا کیسا ہوں
اور جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں؟
ہاں خوب کہا ۔۔۔
میں شاعر ہوں
لفظوں کے تیر چلاتا ہوں
الفاظ کے گورکھ دھندے میں
سپنوں کے جال بچھاتا ہوں
اور جال میں خود پھنس جاتا ہوں
پھر لفظوں میں رہ جاتا ہوں۔۔۔۔۔
اور رات گئے
اٹھ بیٹھتا ہوں
اور چیختا ہوں
چنگھاڑتا ہوں
بے سود مگر
یاں کوئی صدا
سنتا ہی نہیں
پھر فجر گئے
میں پوچھتا ہوں
اے ربِّ جہاں
اتنا تو بتا ۔۔۔
میں چیخ اٹھوں؟
یا ضبط کروں؟
کیاکوئی صدا
یاکوئی فغاں
کوئی نوحہ
یا گریہ یا فریاد کوئی
تو سنتا ہے؟
اے ربِ جہاں
میرے مولا
خاموش خدا
اتنا تو بتا!
کہ کون ہوں میں؟
مجذوب ہوں میں
یا دانا ہوں؟
بہلول ہوں میں؟
منصور ہوں میں؟
یا میں ہوں فقط، مردودِ حرم!
یہ میں ہی ہوں؟
یا اور کوئی؟
کیا مجھ میں ہے کوئی پریت چھپا؟؟
کیوں ہوں ایسا؟
کب تک ایسا؟
کیا کوئی دوا۔۔۔
تعویزِ شفا ۔۔
دم، دارو، ٹونا
کوئی نہیں؟
کوئی تنتر، آیت، وِرد، دعا
کوئی، کچھ تو ہو
جو پردے سارے اٹھوا دے
جو مجھ کو مجھ سے ملوا دے!!!
سید عاطف علی
15- فروری - 2014
منگل، 10 دسمبر، 2013
شجر راہ
,اداسی، رات، بارش
روز جیسے تھے ۔۔۔
ٹویٹر پر کسی انجان لڑکی نے
مجھے پیغام بھیجا کہ
مگر یہ بے تعلق ہے کہ اس نے کیا لکھا مجھ کو
!!!اہم یہ ہے ۔۔.. وہ اک کمزور لمحہ تھا۔۔۔
....کہانی مختصر،
قصہ بڑھا آگے
یہ قصہ وہ نہیں حضرت)
(جو قصہ آپ سمجھے ہیں
تعارف بے شناسا تھے
تعلق بے ارادہ تھے
کہانی کچھ نہ تھی ہمدم
مگر پھر ایک دن صاحب۔۔۔
مگر یہ بے تعلق ہے
کے اس دن کیا ہوا ہوگا ۔۔
اہم یہ ہےکہ اس کے بعد ہم دونوں
!!فقط اک جان ٹھرے تھے!
ہر ایک تکلیف تھی سانجھی
سبھی دکھ ایک جیسے تھے
ہمارے درد تھے یکساں
سبھی رنج ایک جیسے تھے
مگر میں بھول بیٹھا تھا ۔۔۔
کہ شجر راہ تھا میں تو ۔۔۔
جو تھک کر گرنے والے ہر مسافر کیلیئےسایہ تو دیتا ہے
مگر قیمت نہیں لیتا۔۔۔
جو ہر واماندہ ء قسمت کا ہی مطلوب ہوتا ہے
مگر
وہ راستوں کا ایک ساتھی ہے، فقط
وہ سنگی ہے، وہ ساتھی ہے)
وہ راہرو ہے، وہ راہی ہے
وہ سب کچھ ہے ۔۔۔۔ مگر
(منزل سے نسبت پا نہیں سکتا
سو ہر انجام کی مانند
(سو ہر اک بار کی مانند)
مسافر چل پڑا پا کر حلاوٹ، اپنی منزل کو
اور وہ شجر
ہر بار کی مانند
کھڑا اب کوستا ہے
اس گھڑی، کمزور لمحے کو
مگر یہ بے تعلق ہے
کے گریہ کب لکھی تقدیر میں تحریف کرتا ہے
اہم یہ ہے.
کے کل شب
!!اس شجر کا پھر کوئی کمزور لمحہ تھا
سید عاطف علی
۱۱-August- ۲۰۱۳
[polldaddy poll=7629240]
پیر، 9 دسمبر، 2013
لفظ ۔۔۔
اگر شاعر پیسوں سے نہیں الفاظ سے غریب ہوتا تو آج شاید میرا دیوالیہ نکلا ہوا ہے ۔ ٹوٹی پھوٹی کاوش اس دعا کے ساتھ آپ کے نام ، کہ خدا کرے آپ کو اس نظم میں اپنا عکس نہ دکھائی دے۔
کچھ کہوں؟
کیا کہوں؟
خیر، ۔۔۔ جانے بھی دو
لفظ کب تھے میرے؟
[شاعری۔۔۔
ساحری۔۔۔
میرے بس کی نہیں ۔۔۔
چھوڑو ضد نہ کرو۔۔۔
دیکھو جانے بھی دو۔۔]
لفظ ہیں معجزہ
وقت پر مستعمل ہو سکیں یہ اگر
مردہ لاشوں میں بھی جان یہ ڈال دیں
لفظ قاتل بھی ہیں
یہ وہ سفاک قاتل ہیں جن کا ہنر
ہر زمانے سے تھا
ہر زمانے میں ہے ۔۔۔ صورت بے مثل
زخم جس کا کبھی
لگ کے بھرتا نہیں
یہ وہ ہتھیار ہیں
لفظ آزار ہیں
یہ کہاں ۔۔ میں کہاں؟
کیا کہوں؟ کیوں کہوں؟
گر جو چاہوں بھی تو
تم سے کیوںکر کہوں؟؟
میں نے سوچا ہے کہ
اب میں چپ ہی رہوں
عاطف علی
دسمبر- ۹ - 2013
[polldaddy poll=7629240]
