Poetry لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Poetry لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 اکتوبر، 2016

(اس عنوان پر) آخری نظم

مجھے معلوم ہے تم منتظر ہو
کہ ہر سال گذشتہ کی طرح سے
رسم اک بار پھر دہرائی جائے
تخیل کی حسیں وادی میں جا کر
خیالی وصل کے لمحوں کی راحت
وفا کے باب کے سارے فسانے
مثالی اک تعلق سوچ کر میں
حسیں الفاظ کے قالب میں ڈھالوں
تمہارے نام پہ غزلیں تراشوں
حسیں عنوان کے روشن سے قصے
تمہارے نام سے منسوب کر کے
جہاں کو پھر سے یہ احساس دوں کہ
یہ رشتہ کس قدر کا معتبر ہے ۔۔۔۔


میری جاں اب مگر میں تھک چکا ہوں


یہ چوبیس سال کی دوری ہے جاناں)
(قرار واقعی میں تھک چکا ہوں


میں لکھوں کس طرح تم ہی بتائو
گذشتہ شب سے ہی یہ سانحہ ہے
تخیل کی بلندی سرنگوں ہے
قلم اب تاب کھوتا جا رہا ہے
فقط الفاظ باقی رہ گئے ہیں
ہر ایک احساس مٹتا جا رہا ہے


میں تیرے ساتھ اس دن مر گیا تھا
اور اب اندر کا شاعر مر گیا ہے


سید عاطف علی

23-Oct-2013

منگل، 26 اگست، 2014

نظم

مجھ سے ملیئے میں ایک شاعر ہوں!!!

میری نظموں میں چوڑیوں کی کھنک

میرے گیتوں میں پایلوں کی چھنک

میری غزلوں میں کنگنوں کا بیاں

میرے دوہوں میں آنچلوں کا ذکر
میں نے چاہا ۔۔۔ مگر میں لا نہ سکا!!!

 

میری نظمیں تھیں جاگتی نظمیں

میری نظمیں تھیں زندگی کا بیاں

 

میرے نغموں میں زیست بوجھ بنی

میرے گیتوں میں سانس روگ بنی

میری غزلیں تھیں حسرتوں کی کسک
میرے دوہوں میں خون تھوکا گیا

 

x------------------x------------------x------------------x------------------x------------------x------------------x

 

میں نے چاہا کہ میں بھی وہ لکھوں

جس طرح اور لوگ لکھتے ہیں

وصل و چاہت کے شوخ افسانے

ہجر کے دردخیز افسانے

میں نے چاہا ۔۔۔ مگر میں لکھ نہ سکا!!!

 

میرے موضوع شروع سے ہیں انساں

کاروبارِ سیاستِ دوراں

بھوکے بچوں کی موت اور انساں

 

اب مگر سوچتا ہوں جانے کیوں؟

اتنا بے ربط سوچتا ہوں کیوں؟

میرے دکھ سب سے مختلف ہیں کیوں؟

 

مجھ سے ملیئے میں ایک شاعر ہوں!

اس لیئے خون تھوکتا ہوں میں ۔۔۔

آئیے ترس کھائیے مجھ پر!!!

منگل، 12 اگست، 2014

بھوک

میں:
جاننا چاہتی ہیں میں کون ہوں؟
سنیئے مادام!!!
میں بہت عام سا اک فرد ہوں اِن کے جیسا ۔۔۔ !!!

وہ:
وہ جنہیں تابِ گراں باریٰ ایام نہیں؟

میں:
جی نہیں! وہ تو بڑے لوگ تھے جن پر اکثر
فیض و جالب سے کئی،
نظم لکھا کرتے تھے
اب مگر دور دِگر ہے میری پیاری مادام۔۔!!!
اس نئے دور کا عنوان ہے
جسموں کی ہوس ۔۔۔!!!
اب کوئی ہم پہ غزل ۔۔۔ جانے دیں!!!
ہم انہی بھوک زدہ، خوف زدہ، ننگ زدہ لوگوں کی اولاد ہیں جو ۔۔۔
خیر ، اب چھوڑیئے؛ اس بات کو ہی جانے دیں!!!

میں:
کیا کہا؟؟ جاننا چاہیں گی میرے بارے میں؟؟
میرے بارے میں بتانے کیلئے کچھ بھی نہیں
میرا ماضی نری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں!
میں نے بولا نا بہت عام سا اک فرد ہوں میں
اک نظر دیکھیئے، ہر شخص میں دکھ جائوں گا!!
دیکھیئے ایک نظر گرتے ہوئے بوڑھوں پر
جن کے بارے میں کہا تھا یہ کبھی فیض نے ہی
"وہ جنہیں تابِ گراں باری ایام نہٰیں"
دیکھیئے ایک نظر غور سے پیاری مادام
اپنے سینے کو چھپاتی یہ سسکتی عورت
روز بکتی ہے جو اس شہر کے بازاروں میں
اس کے پہلو میں یہ لیٹا ہوا بیمار بدن
آیا تھا زد میں دھماکے کی کئی سال گئے ۔۔۔
اور یہ بچے ۔۔۔۔
میں نے بولا نا ۔۔۔ بہت عام سا اک فرد ہوں میں
ان میں جس شخص میں دیکھیں گی تو دکھ جائوں گا

وہ:
مگر یہ سب ۔۔۔؟؟؟
خداوندا ۔۔۔!!!
یہ غربت، غلاظت، یہ عصمت فروشی؟
یہ سب کیا ہے، کیوں ہے؟ میں کیسے بتائوں؟
وہ ساحر کا جملہ میں کس کو سنائوں
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کو لائوں،
یہ گلیاں یہ کوچے یہ منظر دکھائوں!!

میں:
یہ بستی، یہ قریہ
یہ گلیاں، یہ کوچے
جوانوں کے لاشے
یہ رسوا بڑھاپے
یہ کمزور بچے
یہ ادھ ننگی عورت
یہ عصمت دریدہ
نہیں جس کو پرواہ
کے بھٹو جیئے یا کہ عمران آئے
میاں جی رکیں یا حکومت ہی جائے
اسے بس فکر ہے تو اتنی سی میڈم
کہ کل سے ہے دھندے میں ہفتے کا ناغہ
اور اس ایک ہفتے
بڑی والی بیٹی کو اک بار پھر سے ۔۔۔۔

میں نے نظم مکمل کرکے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور ڈرائیور کو اےسی تیز کر نے کا کہہ کر اپنی نئی کرولا کی نشست پر نیم دراز ہوگیا۔ مجھے یقین تھا کہ بھوک، سیاست، اور غربت پر لکھے ہوئی یہ نظم بہت مشہور ہوگی۔

سید عاطف علی
12-August-2014

منگل، 29 جولائی، 2014

چاند رات

عجب الجھن سی ہے دل میں
رگ و پے میں اذیت ہے
بہت بے چین ہوں کل سے
اداسی ہے ۔۔۔ مسلسل ہے!!!
مگر بے جا نہیں کچھ بھی ۔۔۔

سنا ہے اہلِ ایماں نے
جلا ڈالی ہے اک بستی
جہاں کچھ عورتیں، بچے ۔۔۔۔
مگر وہ قادیانی تھے،
قصور ان کا رہا ہوگا!!!

یا پھر وہ قتل و غارت کا
عجب اک سلسلہ جو ہے
ہمارے شہرِ قائد میں ۔۔۔
مگر یہ عام باتیں ہیں،
حکومت معاوضہ دے گی
سو اس پر کیا گلہ کرنا؟

تو پھر شاید یہ نوحہ ہے
غزہ کی بے نوائی کا
برستے آگ و آہن کا
سسکتے ننھے بچوں کا
مگر ان کا تو ٹھیکہ مذہبی تنظیم رکھتی ہیں
میں ان کا کیوں برا مانوں؟
کہ میں تو ایک لبرل ہوں!!!

یہ سب بکواس باتیں ہیں
دراصل ماجرہ یوں ہے
بہت ناشاد ہوں کل سے
بہت بے چین ہوں کل سے ۔۔
کہ میرے عید کا جوڑا
ابھی تک سل نہیں پایا
اداسی ہے ۔۔۔ مسلسل ہے ۔۔

چلو شاپنگ پہ چلتے ہیں!!!!

سید عاطف علی
29 جولائی

اتوار، 27 جولائی، 2014

فیصلہ

لو آج یہ دامن چاک کیا ۔۔۔
لو آج یہ قصہ پاک کیا ۔۔۔
لو آج یہ رشتہ توڑ دیا ۔۔۔
لو آج قلم یہ توڑ دیا ۔۔۔۔
کیوں لکھوں میں اس بستی میں؟

جس بستی کے اندھے بہرے
گز بھر کی زبانیں رکھتے ہیں
جو سچ سننے سے عاری ہیں
جو اندھیاروں کے عادی ہیں
(جو سورج سے گھبراتے ہیں)
اپنوں کی جان کے دشمن ہیں
غیروں کیلئے چلاتے ہیں ۔۔۔

کیوں لکھوں ان کی خاطر میں؟

میں کیوں لکھوں ان کی خاطر؟
میں کیا لکھوں ان کی خاطر؟

کیا عشق ہے کیا مجبوری ہے؟
کیا وصل ہے کیا مہجوری ہے؟
یہ موضوع میرے ہو نہ سکے!!!

اس اندھی بہری بستی میں
میں روز کھڑا چلاتا تھا ۔۔
بازارِ سیاست کیا ہے یہ؟
بدحال ریاست کیا ہے یہ؟
کیوں لاشوں کے انبار یہاں؟
کیوں فاقوں کے انبار یہاں؟
کیوں چادر کھینچی جاتی ہے؟
کیوں عصمت بیچی جاتی ہے؟
یہ سارے موضوع میرے تھے ۔۔۔
پر ان کا سامع کوئی نہیں!!!

اب کیا لکھوں؟ اور کیوں لکھوں؟

اے میرے پیارے سب اندھوں!
اے چیخنے والے سب بہروں!!
نہ حزن کرو، نہ فکر کرو!!
تکلیف کے دن اب ختم ہوئے!!!

الفاظ مرے، اشعار مرے
اقوال مرے، ہذیان مرے
تم اندھے بہرے لوگوں میں
بیچارے زندہ رہ نہ سکے

اور تنگ آکر کل شب میں نے ۔۔۔
ایک آخری نوحہ لکھ ڈالا ۔۔۔
جس کے آخر میں شاعر نے ۔۔۔
اپنا یہ دامن چاک کیا ۔۔۔
آخر یہ قصہ پاک کیا ۔۔۔
کل رات یہ رشتہ توڑ دیا ۔۔۔
کل رات قلم یہ توڑ دیا ۔۔۔۔

کل رات سے جینا چھوڑ دیا!!!!

سید عاطف علی

پیر، 7 جولائی، 2014

وصیت

میں چیخ اٹهوں ... تو ہنسیو مت !!!
میں پهوٹ بہوں ... تو ہنسیو مت !!!
میں خوں تهوکوں ... تو ہنسیو مت !!!
اقرار کروں ... تو ہنسیو مت !!!
انکار کروں ... تو ہنسیو مت !!!

میں ریزہ ریزہ خاک بنوں
اک جیتی جاگتی لاش بنوں
پیہم آزار سے تهک جائوں
پهر سچ مچ لاشہ بن جائوں
تب ساری دنیا کی مانند
تم بهی دل کهول کے ہنس لینا

پر اس سے پہلے ... ہنسیو مت !!!
#عاطفیت

جمعرات، 3 جولائی، 2014

بلا عنوان ۔۔۔

آج دیکھا تمہیں سرِ محفل
آج مدت کے بعد یاد آیا

یاد ہے تم کو وہ گھنیری شام
تم نے مجھ سے کہا سرِ ہجراں
عشق سے بھوک تو نہیں مٹتی؟
شعر سے پیٹ تو نہیں بھرتا؟

دیکھیئے رحم کھائیے مجھ پر
میری آنکھوں میں خواب بستے ہیں
اور یہ چھوٹے موٹے خواب میرے
ایک شاعر کے بس کے خواب نہیں
آپ کا عشق بےمثال سہی
عشق سے پیٹ تو نہیں بھرتا؟؟

جانتی ہوں کہ آپ شاعر ہیں
بے تحاشہ دلوں کی دھڑکن ہیں
آپ کے شعر میں روانی ہے
کل کو مشہور بھی بہت ہونگے
ہاں مگر یہ بھی جانتی ہوں میں
داد سے پیٹ تو نہیں بھرتا؟؟

دیکھیئے اب مجھے اجازت دیں
وہ میری راہ دیکھتا ہو گا
شعر، تمثیل، عاشقی اظہار
کیا ہے گر اس کو سب کا شوق نہیں؟
ذوق اتنی بڑی دلیل نہیں!!!
ذوق سے پیٹ تو نہیں بھرتا؟؟

آج دیکھا تمہیں سر محفل
زیوروں کے حسین بوجھ تلے
کھوکھلی سی ہنسی کے پردے میں
اپنے آنسو چھپائے بیٹھیں تھیں
دل میں آیا کہ پوچھ لوں تم سے
اب تو یہ پیٹ بھر گیا ہے نا؟؟؟؟

سید عاطف علی
تین - جولائی - 2014

اتوار، 29 جون، 2014

دائرہ

جب پہلی بار سنا میں نے ۔۔۔
!!میں اب مر جانا چاہتا ہوں
میں چونک پڑا ۔۔۔


کچھ ذیادہ پرانی بات نہیں
تب موت بھیانک شے تھی ایک
مایوسی کفر تھی تب شاید
جب میں نے پہلی بار سنا ۔۔
!!اب میں مر جانا چاہتا ہوں

اور جب یہ پہلی بار سنا ۔۔۔
میں خوب ہنسا ۔۔۔
ہنستا ہی گیا ۔۔۔
ہنستا ہی گیا ۔۔۔
یہ بات ہی ایسی تھی جس پر
اب خیر ۔۔  بھلا تم خود سوچو
کیا کوئی پیاری دنیا سے
اتنا بھی خفا ہوسکتا ہے؟


یہ جیون کی دلکش گھڑیاں
ہم جن کو گزارا کرتے ہیں
کیا ان سے کنارہ ممکن ہے؟؟


الفت سے بھرے سب لوگ یہاں
جو جلتی دھوپ کے لمحوں میں ۔۔
رشتوں کی گھنیری چھائوں ہیں جو
کیا ان سے جدائی ممکن ہے؟؟

ہم پہروں اس دن بیٹھے رہے
اور گھنٹوں تک یہ بحث رہی
کہ جینا غیر ضروری ہے ۔۔۔

وہ جون کے مصرعے پڑھتا گیا
میں رومی کو دہراتا گیا

وہ مجھ کو یہ سمجھاتا تھا
دنیا اک کوڑا دان ہے بس
اور ہم سب اس کے کیڑے ہیں

اور میں اس سے یہ کہتا تھا
دنیا تو سوچ کا پرتو ہے
جیسا برتو گے دنیا کو
دنیا کو ویسا پائو گے
۔۔۔۔
دنیا پر جون نے خوں تھوکا
دنیا نے جون پہ تھوک دیا
یہ تو اک سادہ منطق ہے

وہ مجھ سے پھر یہ کہتا تھا
کہ جون نے خون یہ کیوں تھوکا؟
دنیا کے ستم تھے تب ہی تو
وہ خون کی کلی کرتا تھا؟

میں اس کو پھر سمجھاتا تھا
کہ جون تو خود یہ کہتا تھا
"میں بزدل ہوں
تنہائی کا مارہ، آزردہ،
ایک اونچے باپ کا بیٹا جو
چاہ کر بھی کبھی
علامہ ایلیاٰء بن نہ سکا"
 اور اس قضیے میں دیکھو تو 
!!دنیا کا کوئی دوش نہیں

ہم دونوں گھنٹوں لڑتے رہے
!!!اور آخر میں، میں جیت گیا


اس شخص نے یہ تسلیم کیا
یہ دنیا بےحد پیاری ہے
یہ جیون بےحد دلکش ہے
مایوسی بالکل کفر ہے اور
یہ موت بہت گھٹیا شے ہے

لیکن اس بحث کے بعد سے اب
ایک چھوٹا سا مسئلہ یہ ہے
اب میں اکثر یہ سوچتا ہوں
کہ جون نے خون یہ کیوں تھوکا؟

میں گھنٹوں بیٹھ کے سوچتا ہوں
اور تنگ آکر چلاتا ہوں
!!!بکواس ہے سب
!!میں اب مر جانا چاہتا ہوں

اور لطف یہ ہے کہ یہ سن کر
کچھ لوگ ہیں جو ہنس پڑتے ہیں
اور چاہتے ہیں کہ بحث کریں
!!!کہ دنیا کتنی دلکش ہے ۔۔۔۔

سید عاطف علی
29 - 06 - 2014 

ہفتہ، 26 اپریل، 2014

شاعر کا المیہ

اب تو باز آجائو
یاسیت نہ پھیلائو

زیست خوبصورت ہے
صبح کتنی روشن ہے
چاند کتنا اچھا ہے
رات کتنی پیاری ہے

تم جو مجھ سے کہتی ہو
!!کتنا جھوٹ کہتی ہو

کیسے نہ لکھوں جاناں

وقت کے مصائب سب
جبر کے مراحل سب
امن، جنگ کے قصے
ذات، رنگ کے قصے
کیسے لوگ بٹتے ہیں
کیسے دین بکتے ہیں
کیسے مرد گرتے ہیں
کیسے جسم بکتے ہیں
کیسے روح سسکتی ہے
کیسے جاں نکلتی ہے
کیسے بھوک پلتی ہے

 کیسے نہ لکھوں یہ میں؟؟؟
چپ رہوں تو کیونکر میں؟؟؟ 

تم جو مجھ سے کہتی ہو

آج کے زمانے میں
شعر میں، فسانے میں
کوئی سچ نہیں سنتا
کوئی سچ نہیں لکھتا
سب ہی جھوٹ بکتے ہیں
سب ہی جھوٹ لکھتے ہیں
تم بھی جھوٹ لکھ ڈالو

تم جو مجھ سے کہتی ہو

جھیل جیسی آنکھیں وہ
مرمریں سا آہنگ وہ
شبنمی سا آنچل وہ
زلف جیسے بادل وہ
گال مثلِ خوباں سے
چال ۔۔ بھاڑ میں جائے

مجھ سے یہ نہیں ہوگا
باخدا نہیں ہوگا!!!

 روز جس کے آنگن میں
بھوک گشت کرتی ہے
روز جس کی گلیوں میں
موت رقص کرتی ہے
جس کے شہر میں ہر سو
بےحسی جھلکتی ہے
خون کیوں نہ تھوکے وہ؟
بال کیوں نہ نوچے وہ؟
چیخ کیوں نہ مارے وہ؟

ضبط وہ کرے کیونکر؟
جھوٹ وہ لکھے کیونکر؟ 

-سید عاطف علی
2013-اپریل-26

اتوار، 30 مارچ، 2014

گڑیا





بہت نازک سی گڑیا تھی

..


مثالی نقش تھے اس کے
نہ آنکھیں جھیل جیسی تھیں
بہت ہی عام سی زلفیں
بہت ہی عام سا چہرہ
بہت ہی عام سے چتون
بہت ہی عام سا آہنگ
بہت ہی عام سی تھی وہ
یہی بس خاص تھا اس میں


وہ گڑیا کس کی گڑیا تھی؟)
وہ گڑیا کیسی گڑیا تھی؟
بھلا کیا نام تھا اس کا؟
یہاں کیا کام ہے اس کا؟
حکایت مجھ کو کہنے دو ۔۔۔۔
(سنو! تفصیل رہنے دو!!


پھر ایک دن وہ بھی آیا جب
بہت مغرور سے بچے ۔۔۔۔
ہوس سے چور کچھ بچے ۔۔۔۔
۔۔۔۔
وہ گڑیا تھی ۔۔۔۔
یہ شیطاں تھے ۔۔۔
بہت تڑپی ۔۔۔
بہت روئی ۔۔۔
یہ جو ٹوٹے ہوئے ٹکڑے ۔۔۔۔
بہت نازک سی گڑیا تھی!!!


سید عاطف علی
29- مارچ -2014







جمعہ، 14 مارچ، 2014

یادش بخیر

بہت مشہور شاعر تھا

بہت غزلیں لکھیں اس نے
بہت نظمیں کہیں اس نے
بڑے اشعار کہتا تھا
بہت مشہور شاعر تھا

پڑھا ہو گا بہت تم نے
سنا ہوگا بہت تم نے
بہت الفاظ تھے نادر
بہت سچا سا لہجہ تھا
بہت مشہور شاعر تھا

عجب اک درد تھا اس میں
عجب الجھن میں رہتا تھا
عجب رنگ تھا، عجب خو تھی
ہمیشہ کل میں رہتا تھا
بہت مشہور شاعر تھا

سر محفل جو ہنستا تھا
وہ تنہائی میں روتا تھا
نظم میں خوں رلاتا تھا
نثر میں گدگداتا تھا
بہت مشہور شاعر تھا

بہت مشہور قصہ ہے)
(مگر قصہ تو قصہ ہے

فشارِ خون کا لاوہ
سنا ہے پھٹ گیا کل شب
جو خوں کاغذ پہ بہتا تھا
وہ سچ مچ بہہ گیا کل شب
سنا ہے ۔۔۔۔۔ مرگیا کل شب

!!!بہت مشہور شاعر تھا

- سید عاطف علی
14- مارچ - 2014

بدھ، 5 مارچ، 2014

یادِ گم گشتہ

بہت سالوں کا قصہ ہے
ادھورا یاد ہے اب بھی
وہ شاید اک نومبر تھا
کراچی جل رہا تھا ان دنوں، ہر سال کی مانند
(کسی نے فیس بک پر (یا سماجی رابطے کے اور زریعہ پر
مجھے درخواست بھیجی تھی
کوئی تحریک تھی شاید
یا پھر دھرنا رہا ہوگا
کہ "ہم سب ظلم کے آگے کھڑے ہیں، آپ بھی آئیں"
میں پڑھ کر ہنس دیا تھا وہ
مگر سوچا،
چلو اس بار چل کر دیکھ لیتے ہیں!!!

ادھورا یاد ہے کچھ کچھ ۔۔۔۔
بہت سالوں کا قصہ ہے
وہ دھرنا تھا کہ جلسہ تھا
بہت پرجوش تھا لیکن!
مقرر زور دے کر کہہ رہے تھے کس طرح ان کا ستم پچھلوں سے کم ہوگا
بڑا پرجوش مجمع تھا
بڑے پرجوش نعرے تھے
ادھورا یاد ہے سب کچھ
بہت سالوں کا قصہ ہے
پر اتنا یاد ہے اب بھی
وہیں میں نے تمہیں دیکھا
یہ بالکل یاد ہے مجھ کو
بہت پر جوش تھیں تم بھی
تمہارے سرخ چہرے پر
پسینہ یوں چمکتا تھا
کہ جیسے چند موتی گر گئے ہوں اک انگارے پر
تمہارے کان کا آویزہ
ہر نعرے کی لے پر رقص کرتا تھا
تمہاری زلف
کوڑا بن کے ہلتی تھی
تمہارے ہاتھ ۔۔۔۔
بہت ہی خوبصورت ہاتھ تھے وہ
پر ۔۔۔
میں شاید بھول بیٹھا ہوں!!!
بہت مدت کی باتیں ہیں
بہت مدت کی باتیں، اس طرح کب یاد رہتی ہیں!!
ارے ہاں، یاد آیا
تمہاری آنکھ میں اس دن بھی کچھ الجھن رہی ہوگی
یا شاید اور کچھ جذبے
جنہیں تم روکنا چاہتیں تھیں
مگر جذبے کہاں پابند؟
اشاروں میں، کنایوں میں
یہ باہر آ ہی جاتے ہیں
یہ اپنا رنگ دکھاتے ہیں
بہت مدت کی باتیں ہیں
کہاں اب یاد رہنی ہیں
مگر ایک بات تو طے ہے
سنو معصوم سی لڑکی
تمہاری جھیل آنکھوں میں
اداسی تب بھی بستی تھی!!!

سید عاطف علیٓ -
5-3-2014

اتوار، 16 فروری، 2014

تعارف

مجھ سے ملیئے

میں شاعر ہوں
میں لیکھک ہوں
میں دلبر ہوں
میں عاطف ہوں
میں حاضر دور کا انشاء ہوں
اور سب سے اہم
میں جھوٹا ہوں!!

سچ پوچھو تو۔۔۔۔۔
معلوم نہیں میں کیا کچھ ہوں
اور یہ بھی نہیں
کہ کیوں کچھ ہوں
یا کب سے ہوں
اور کب تک ہوں
یا کیسا ہوں
اور جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں؟
ہاں خوب کہا ۔۔۔
میں شاعر ہوں
لفظوں کے تیر چلاتا ہوں
الفاظ کے گورکھ دھندے میں
سپنوں کے جال بچھاتا ہوں
اور جال میں خود پھنس جاتا ہوں
پھر لفظوں میں رہ جاتا ہوں۔۔۔۔۔
اور رات گئے
اٹھ بیٹھتا ہوں
اور چیختا ہوں
چنگھاڑتا ہوں
بے سود مگر
یاں کوئی صدا
سنتا ہی نہیں
پھر فجر گئے
میں پوچھتا ہوں
اے ربِّ جہاں
اتنا تو بتا ۔۔۔
میں چیخ اٹھوں؟
یا ضبط کروں؟
کیاکوئی صدا
یاکوئی فغاں
کوئی نوحہ
یا گریہ یا فریاد کوئی
تو سنتا ہے؟
اے ربِ جہاں
میرے مولا
خاموش خدا
اتنا تو بتا!
کہ کون ہوں میں؟
مجذوب ہوں میں
یا دانا ہوں؟
بہلول ہوں میں؟
منصور ہوں میں؟
یا میں ہوں فقط، مردودِ حرم!
یہ میں ہی ہوں؟
یا اور کوئی؟
کیا مجھ میں ہے کوئی پریت چھپا؟؟
کیوں ہوں ایسا؟
کب تک ایسا؟
کیا کوئی دوا۔۔۔
تعویزِ شفا ۔۔
دم، دارو، ٹونا
کوئی نہیں؟
کوئی تنتر، آیت، وِرد، دعا
کوئی، کچھ تو ہو
جو پردے سارے اٹھوا دے
جو مجھ کو مجھ سے ملوا دے!!!

سید عاطف علی
15- فروری - 2014

Image

منگل، 10 دسمبر، 2013

شجر راہ

وہ اک معمول سی شب تھی
,اداسی، رات، بارش
روز جیسے تھے ۔۔۔

ٹویٹر پر کسی انجان لڑکی نے
مجھے پیغام بھیجا کہ
مگر یہ بے تعلق ہے کہ اس نے کیا لکھا مجھ کو

!!!اہم یہ ہے ۔۔.. وہ اک کمزور لمحہ تھا۔۔۔

....کہانی مختصر،
قصہ بڑھا آگے

یہ قصہ وہ نہیں حضرت)
(جو قصہ آپ سمجھے ہیں

تعارف بے شناسا تھے
تعلق بے ارادہ تھے
کہانی کچھ نہ تھی ہمدم
مگر پھر ایک دن صاحب۔۔۔
مگر یہ بے تعلق ہے
کے اس دن کیا ہوا ہوگا ۔۔
اہم یہ ہےکہ اس کے بعد ہم دونوں
!!فقط اک جان ٹھرے تھے!

ہر ایک تکلیف تھی سانجھی
سبھی دکھ ایک جیسے تھے
ہمارے درد تھے یکساں
سبھی رنج ایک جیسے تھے
مگر میں بھول بیٹھا تھا ۔۔۔
کہ شجر راہ تھا میں تو ۔۔۔

جو تھک کر گرنے والے ہر مسافر کیلیئےسایہ تو دیتا ہے
مگر قیمت نہیں لیتا۔۔۔
جو ہر واماندہ ء قسمت کا ہی مطلوب ہوتا ہے
مگر
وہ راستوں کا ایک ساتھی ہے، فقط

وہ سنگی ہے، وہ ساتھی ہے)
وہ راہرو ہے، وہ راہی ہے
وہ سب کچھ ہے ۔۔۔۔ مگر
(منزل سے نسبت پا نہیں سکتا

سو ہر انجام کی مانند
(سو ہر اک بار کی مانند)
مسافر چل پڑا پا کر حلاوٹ، اپنی منزل کو
اور وہ شجر
ہر بار کی مانند
کھڑا اب کوستا ہے
اس گھڑی، کمزور لمحے کو

مگر یہ بے تعلق ہے
کے گریہ کب لکھی تقدیر میں تحریف کرتا ہے
اہم یہ ہے.
کے کل شب
!!اس شجر کا پھر کوئی کمزور لمحہ تھا

سید عاطف علی
۱۱-August- ۲۰۱۳

[polldaddy poll=7629240]

پیر، 9 دسمبر، 2013

لفظ ۔۔۔

کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتے وقت نیت یہ تھی کے کچھ ایسا ادب تخلیق کیا جائے جو اس مشکل زندگی میں سے آپ کے لیئے مسکراہٹ بھرے چند لمحے چرا لائے- میں شرمندہ ہوں کے ایسا نہ کر سکا!!!

اگر شاعر پیسوں سے نہیں الفاظ سے غریب ہوتا تو آج شاید میرا دیوالیہ نکلا ہوا ہے ۔ ٹوٹی پھوٹی کاوش اس دعا کے ساتھ آپ کے نام ، کہ خدا کرے آپ کو اس نظم میں اپنا عکس نہ دکھائی دے۔

کچھ کہوں؟
کیا کہوں؟
خیر، ۔۔۔ جانے بھی دو
لفظ کب تھے میرے؟

[شاعری۔۔۔
ساحری۔۔۔
میرے بس کی نہیں ۔۔۔
چھوڑو ضد نہ کرو۔۔۔
دیکھو جانے بھی دو۔۔]
لفظ ہیں معجزہ
وقت پر مستعمل ہو سکیں یہ اگر
مردہ لاشوں میں بھی جان یہ ڈال دیں

لفظ قاتل بھی ہیں
یہ وہ سفاک قاتل ہیں جن کا ہنر
ہر زمانے سے تھا
ہر زمانے میں ہے ۔۔۔ صورت بے مثل

زخم جس کا کبھی
لگ کے بھرتا نہیں
یہ وہ ہتھیار ہیں
لفظ آزار ہیں

یہ کہاں ۔۔ میں کہاں؟
کیا کہوں؟ کیوں کہوں؟
گر جو چاہوں بھی تو
تم سے کیوںکر کہوں؟؟

میں نے سوچا ہے کہ
اب میں چپ ہی رہوں

عاطف علی
دسمبر- ۹ - 2013

[polldaddy poll=7629240]

بلاگ فالوورز

آمدورفت