#PeshawarAttack لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
#PeshawarAttack لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 17 جولائی، 2015

عید کے رنگ

پہلا رنگ:
امی یہ عید کیا ہوتی ہے؟
 بیٹا یہ خوشیوں کا تہوار ہوتا ہے۔
امی ہم اس تہوار پر خوش کیوں نہیں ہوتے؟
بیٹا تہوار پیٹ بھروں کیلئے ہوتے ہیں۔

دوسرا رنگ:
عید مبارک امی!یہ جملہ سننے میں کتنا بھلا لگتا ہے ناں؟ کاش کبھی بولنے کا موقع بھی ملا ہوتا۔

تیسرا رنگ:
یار ایک تو عیدگاہ میں سب سے عید مل کر جو خوشی ہوتی ہے اس کا بھی جواب نہیں۔ ہمارے تہوار، ہمارے تہوار ہیں!
 نہ کر! تو سب سے گلے ملتا ہے؟
تو اور؟ رسمِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے۔
چل اب نماز کھڑی ہورہی ہے۔ خطبے کے بعد آج میں بھی سب سے گلے ملوں گا۔
ہاں چل! اور دیکھ عید کے بعد گیٹ پر نہ رکیو ورنہ وہ پولیس والا بھی گلے لگ جاتا ہے۔ صبح کی ہلکی سی دھوپ میں بھی پسینے کی دکان بنا کھڑا ہوتا ہے۔ ڈسگسٹنگ!
آخ  ۔۔۔۔چل نماز پڑھیں۔

چوتھا رنگ:
چل  لگا شرط آج بھی کوئی حرامزادہ عید ملنے کیلئے نہیں رکے گا۔
یار ایسے کیسے نہیں رکے گا۔ ہم ان کی حفاظت کی خاطر اپنی عید کی نماز تک چھوڑ دیتے ہیں۔ گھر بار بیوی بچوں کو چھوڑ کر یہاں ذلیل ہوتے ہیں۔ کوئی کیوں نہیں رکے گا۔
لگی پچاس کی؟
چل لگی!
نکال پچاس روپے!

پانچواں رنگ:
امی میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ عید پر آجاؤں۔ دیکھیں آپ روئیں نہیں۔
روؤں نہ تو اور کیا کروں؟ ایک تو مہنگائی نے موئی کمر توڑ رکھی ہے۔ تیرا آنا کون سا آسان ہے؟ پچاس ہزار کا تو ٹکٹ لگ جائے گا۔ پھر  بہنوں کے سسرال والوں کے اتنے بڑے کھلے ہوئے منہ کہ لڑکا دبئی سے آیا اور بہن بہنوئی بھانجے بھانجیوں کیلئے کچھ نہ لایا؟  تو میرے آنسوؤں کا خیال مت کر مجھے خدا نے بڑی ہمت دی ہے میں جیسے تیسے سنبھال ہی رہی ہوں اپنے کو، آگے بھی چلا ہی لوں گی۔
مگر امی ۔۔۔
اے جانتی ہوں تو میری محبت میں یہ سب کر رہا ہے مگر میں کوئی روایتی ماں تھوڑی ہوں کہ تیری کمر توڑ دوں۔ برداشت کرلوں گی۔ ایک عید ہی کی تو بات ہے۔
اچھا امی ۔۔۔
ہاں سن! ٹکٹ کیلئے جو پیسے جوڑے تھے اس کا سونا بھجوا دے۔ ایک تو یہ نحشی لڑکیاں بھی بانس کی طرح بڑھتی ہیں۔  ابھی میں بندے بنوا لوں گی بعد میں چھوٹی کی شادی پر کام آجائیں گے۔ چل اب فون رکھ ورنہ تیرا بل بنے گا۔

چھٹا رنگ:
شکر ہے عید کا چاند نظر آگیا۔
ہئے رمضان چلے گئے اور آپ کو خوشیاں سوجھ رہی ہیں؟
بیگم شکر اس بات کا ہے کہ کل سے شیطان آزاد ہوجائے گا اور انسانوں سے جان چھوٹے گی۔

ساتواں رنگ:
ابو یہ صدقہ فطر کیا ہوتا ہے؟
بیٹا روزوں میں جو کمی کوتاہی رہ گئی ہوتی ہے اس کی تلافی کیلئے عید کی نماز سے پہلے پہلے یہ صدقہ نکالا جاتا ہے۔
ابو ہم کب دیں گے یہ؟
ابھی تو پانچواں روزہ ہے۔ عید پڑھنے جب جائیں گے تو باہر کسیٖ غریب  کو دے دیں گے۔
تو ابھی کیوں نہیں؟
ابھی سے دے دیئے تو تو وہ خرچ کردے گا  نا!

آٹھواں رنگ:
امی ! ابو ہمارے ساتھ عید پر کیوں نہیں ہوتے؟
کیونکہ وہ ایک فوجی جوان ہیں اور سرحد کی حفاظت پر معمور ہیں۔
ابو سرحد کی حفاظت کیوں کر رہے ہیں امی؟
کیونکہ سرحد کے دونوں طرف، جرنیلوں  کی شروع کردہ جنگ میں جرنیل گولیاں نہیں کھا سکتے۔

نواں رنگ:
محترمی وزیر اعظم و وزیر اعلٰی صاحبان! جانتی ہوں کہ آپ کے آنے سے میرا بیٹا واپس نہیں آجائے گا مگر پھر بھی اگر آپ اس عید پر اپنے بیٹوں کو لیکر گھر آئیں تو مانو ڈھارس سی بندھ جائے گی۔
والسلام
145 میں سے ایک کی ماں

دسواں رنگ:
عید مبارک!
عید مبارک میرے دوست!
روزے کیسے گئے؟
بہترین! تیرے؟
میں نے بھی پورے رکھے!
ابھی کہاں جا رہا ہے؟
عید منانے!
چل عیش کر! پر بشیر کی دکان سے نہ لیجیو کچی بیچتا ہے سالا۔ پار سال بھی اس کے تین گاہک عید والے دن ہی نکل لیئے تھے۔

گیارہواں رنگ:
سنیں! شبر بھائی کے حالات برسوں سے اچھے نہیں چل رہے۔ بچوں کو بیس روپے سے زیادہ عیدی دیکر ان کی عادتیں خراب مت کیجئے گا۔
تو پھر یہ پانچ سو کے نوٹ کس لیئے رکھے ہیں؟
وہ واپسی میں شبیر بھائی کے پاس ڈیفینس بھی تو جانا ہے۔

بارہواں رنگ:
امی سارے بچے اپنے دادا دادی کے پاس عید منانے جاتے ہیں۔ ہم کیوں نہیں جاتے؟
بیٹا انہیں کبھی اولاد کی قدر ہی نہیں ہوئی۔ خیر! زیادہ دل کر رہا ہے تو  انٹرنیٹ ہے نا؟
پر امی ! انٹرنیٹ سے دادو ڈائون لوڈ تو نہیں ہوسکتیں؟

تیرہواں رنگ:
یار یہ مارک زکر برگ بھی انتہائی فضول آدمی ہے۔ فیس بک پر پوک کی جگہ ہگ کا بٹن بنا دیتا تو فالتو رشتے داروں سے عید ملنے نہیں جانا پڑتا۔
چودہواں رنگ:
یار یہ خشک میوہ اٹھائیں۔
واہ! کیا عمدہ کاجو ہیں۔ مدت بعد ایسے کاجو چکھے ہیں۔
ہاں  بھئی عمدہ کیوں نہ ہوں؟ سری لنکا سے منگوائے ہیں۔
اور سنائیں؟ فطرے کی پرچیوں پر بھی اس مرتبہ بھی سہی وبال رہا۔
ہاں یار۔ فطرے کے پیچھے ایسے بھوکوں کی طرح مرتے ہیں یہ لوگ،  اور پھر خدا جانے کن کاموں میں استعمال لاتے ہوں۔ بھئی میں نے تو پانچوں کے گن کر سو روپے کے حساب سے پورے پیسےمسجد میں جمع کرادیئے۔ بس اللہ عبادت قبول کرلے۔

پندرہواں رنگ:
مولوی صاحب عید کا وعظ سناتے ہوئے گویا ہوئے، آج خوشی کا دن ہے لہذا آج کے دن کے روزے کو خدا نے حرام قرار دیا ہے۔ آج کھانے اور کھلانے کا دن ہے۔
مولوی صاحب اگر کسی شخص کے پاس نہ کھانے کیلئے کچھ ہو اور نہ سوال کرنے کیلئے ہمت، تو کیا آج کے دن بھی بھوکا رہنے پر کوئی گناہ ہوگا؟ اور اگر ہاں تو وہ گناہ فاقہ کش کے سر ہوگا یا اہل علاقہ کے؟  میں نے سوال کرنا چاہا مگر خشک گلے سے الفاظ برآمد نہ ہوسکے۔

سولہواں رنگ:
ہائے وقت بھی کتنی تیزی سے بدلتا ہے۔ عید کارڈ کے بغیر بھی کوئی عید ہوتی تھی؟
موم! یہ عید کارڈ کیا ہوتا ہے؟

سترہواں رنگ:
ماشاءاللہ کتنی حسین لگ رہی ہیں آپ! ایسا لگتا ہے گویا چاند دن میں ہی ہمارے گھر اتر آیا ہو۔ یقین مانیں آپ کا یہ ساتھ  ہی میری اصل عید ہے۔
باجی ۔۔۔
ہاں؟
بھائی جان کے گزرنے کے بعد گھر میں کوئی مہمان آکر جھانکتا نہیں ہے اور آپ بلاوجہ مجھے عید والے دن بھی روک کر رکھتی ہیں۔ کوئی کام نہیں ہے تو میں گھر جاؤں؟

اٹھارہواں رنگ:
امی میری عیدی؟
یہ لیجئے آپ کی عیدی! آداب کیجئے؟
آداب!
اب ان پیسوں کا آپ کیا کریں گے ؟
باہر اونٹ والا آیا ہوا ہے۔ میں ان پیسوں سے اونٹ کی سواری کروں گا۔
بری بات! سارے پیسے اس طرح خرچ نہیں کرتے۔
پر امی اگر میں نے پیسے خرچ نہیں کیئے تو اونٹ والے کی عید کیسے ہوگی؟

انیسواں رنگ:
خدا غارت کرے ان بجلی والوں کو۔ ایک عید کا دن ہوتا ہے جب انسان سکون سے گھر میں بیٹھ کر ٹیلیویژن دیکھتا ہے اور آج بھی بجلی چلی گئی۔

بیسواں رنگ:
بھیا !  میں نہ کہتی تھی کہ قوم کو آپ کی قربانیوں کا احساس ہے۔  دیکھیں فیس بک پر پوسٹ لگی ہوئی ہے کہ "سلام ہے قوم کے ان بچوں پر جو عید کے دن بھی نئے کپڑوں کی جگہ پرانی وردی پہن کر قوم کے دفاع میں مصروف ہیں"۔
غور سے دیکھو پگلی، اس پوسٹ میں وردی کا رنگ سیاہ نہیں خاکی ہوگا۔

اکیسواں رنگ:
عید مبارک غفران بھائی!
خیر مبارک جبران بھائی!
کیا پلان ہے پھر آج کا؟
پلان کیا ہونا ہے؟ ابھی گھر پر چاند رات چل رہی ہوگی سو رات میں سکائپ پر کال کرلوں گا  بس۔   اچھا اب اجازت دیں جاکر ٹیکسی نکالنی ہے۔ دعا کریں کوئی اچھی سواری مل جائے۔ چار پیسے جمع ہوجائیں تو انشاءاللہ بڑی عید پر میں بھی پاکستان ہو آؤں گا۔

بائیسواں رنگ:
عید مبارک بھائی!
خیر مبارک!
کیا حال چال ہیں؟
دادا پوچھو مت! اس دفعہ تو لاٹری نکل آئی ہے۔ عامر بھائی کے پروگرام سے تیرا بھائی گاڑی، فرج، اے سی، اور کیو موبائل سب جیت کے لایا ہے۔ فردوس کے دو لان اس کے علاہ ہیں۔
دادا تیری تو عید سے پہلے ہی عید ہوگئی۔
بس یار اللہ کا کرم ہے۔ دو سال سے لگا ہوا تھا۔ اب جا کر کہیں پاس ملا  تھا۔
اللہ کے نام پر دیتا جا صاحب ۔۔۔ صاحب عید کا دن ہے صاحب!
بھاگو یہاں سے ۔۔۔ پتہ نہیں کہاں سے آجاتے ہیں منہ اٹھا کر۔۔۔ سالا یہ قوم ہی بھوکی ننگی ہے۔

تئیسواں رنگ:
بیگم میرے کپڑے؟
استری کرکے الماری میں ٹانگ دیئے ہیں۔
شلوار میں ازار ڈال دیا تھا؟
جی ڈال دیا تھا۔
اچھا میں نہا کر آتا ہوں۔ یہ گھر کی صفائی بعد میں کرتی رہنا پہلے شیر خرمہ تیار  کردو۔ گھنٹوں پکاتی رہتی ہواور اس چکر میں  کبھی نماز سے پہلے تیار نہیں ہوپاتا۔
جی وہ فجر میں اٹھی تھی تب ہی بنا دیا تھا۔ آپ جاکر نہالیں۔
بیگم میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔ واپسی میں قبرستان اوراس کے بعد  تایا ابا کے گھر سلام کرتا ہوا آئوں گا۔ سو نہیں جانا! ایک تو تم عورتوں کو عید والے دن بھی سونے سے فرصت نہیں ملتی۔

چوبیسواں رنگ:
رہ گیا اپنے گلے میں ڈال کر بانہیں غریب
عید کے دن جس کو غربت میں وطن یاد آگیا
- نامعلوم

پچیسواں رنگ:

امی یہ عید کیا ہوتی ہے؟
بیٹا عید خوشی کا دن ہوتا ہے۔ اس دن خوشیاں بانٹی جاتی ہیں۔
امی ہمارے گھر کوئی خوشی بانٹنے کیوں نہیں آتا؟
بیٹا ہمارا گھر شہر کے مضافات میں ہے۔ یہاں پہنچتے پہنچتے خوشیوں کا تھیلا خالی ہوجاتا ہے۔

بدھ، 17 دسمبر، 2014

زبان دراز کی ڈائری - سانحۃ پشاور

پیاری ڈائریً!


تم شاید سمجھ رہی ہوگی کہ میں خود کو بڑا ادیب سمجھنے لگا ہوں اس لیئے لکھنا کم کردیا ہے۔ یا شاید تم نے سوچا ہوگا کہ چونکہ مجھے اس ڈائری کو لکھنے کے کوئی پیسے نہیں ملتے اس وجہ سے میں نے تم سے باتیں کرنا چھوڑ دی ہیں۔ مگر یقین جانو یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں۔ تم شاید بھول بیٹھی ہو کہ میں قومیت کے اعتبار سے پاکستانی ہوں اور محض واقعات و سانحات پر چند لمحات کیلئے زندہ ہوتا ہوں ورنہ ہماری نیم مردہ زندگی تو اصحابِ کہف کی نیند کو پہنچنے لگی ہے۔ تو لکھنے کیلئے زندہ ہونا اور زندہ ہونے کیلئے کوئی سانحہ ضروری ہوتا ہے۔ سو آج ایک سانحہ سا ہوگیا ہے جس نے تمہارے زبان دراز کے مردہ جسم میں کچھ دیر کو روح پھونک دی ہے اور اس کچھ دیر کی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے قلم اٹھایا اور تمہارے پاس آگیا۔


اب تم سوچ رہی ہوگی کہ اتنی لمبی تمہید کیوں؟ اور مجھے یقین ہے کہ تم یہ بھی جاننا چاہتی ہو کہ آج ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میاں زبان دراز پھر ڈائری کھول کر بیٹھ گئےہیں؟ تو سنو! تم تو جانتی ہو کہ میں اب ایک مشہور آدمی ہوں اور مجھے دن رات لفافے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ جی نہیں! میری مراد وہ مروجہ محاورے والے لفافے نہیں بلکہ خطوط کے لفافے ہیں۔ کبھی کوئی اپنی ناکام محبت کی داستان لکھوانا چاہ رہا ہوتا ہے تو کبھی کسی کو اپنی ڈرامائی زندگی پر ٹیلیویژن کا ڈرامہ لکھوانا ہوتا ہے۔ اب تو میں نے ایک مستقل مسودہ تیار کر لیا ہے اور جوابی خط کے طور پر وہی مسودہ نقل کرکے بھیج دیتا ہوں۔ آج مگر مجھے ایک بہت عجیب سا خط ملا ہے۔ یہ نہ تو ناکام محبت کی داستان ہے نہ تباہ حال جوانی کا احوال۔ یہ خط کسی بچے نے لکھ بھیجا ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ عالمِ بالا میں موجود ہے۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ اس خط کا کیا جواب دوں۔ پھر سوچا کہ تمہیں بھی یہ خط سنائوں، ہو سکتا ہے تم کوئی جواب تجویز کردو۔ سو یہ خط ملاحظہ کرو اور میری مدد کرو۔


پیارے انکل


السلام علیکم! مجھے پتہ ہے کہ آپ اچھے حال میں ہیں اور میں اللہ میاں سے دعا کرتا ہوں کہ آپ سدا اچھے حال میں ہی رہیں۔ میرا نام ۔۔۔ مجھے یاد نہیں۔ مگر مجھے یہ یاد ہے کہ آج صبح تک میرا بہت اچھا سا نام ہوا کرتا تھا۔ وہ اچھا سا نام کیا تھا مجھے یاد نہیں، ہاں کل کے اخبار میں جب فہرست چھپے گی تو میں اس میں سے دیکھ کر آپ کو ضرور بتائوں گا۔ اللہ کا پکا والا وعدہ!


آپ پریشان ہو رہے ہونگے کہ میں نے آپ کو خط کیوں لکھا ہے؟ جب آپ مجھے جانتے تک نہیں ہیں اور آپ کو کیا، خود مجھے بھی اپنا نام تک یاد نہیں، تو میں آپ سے کیوں مخاطب ہوں؟ تو انکل بات یہ ہے کہ مجھے ابھی قائد اعظم انکل ملے تھے ۔ وہ ہم سب بچوں کو یہاں لینے کیلئے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں اپنے امی ابو تک کچھ باتیں پہنچانا چاہتا ہوں تو انہوں نے مجھے آپ کا پتہ بتا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ بھی پہلے آپ کو خطوط لکھتے رہے ہیں۔ اور آپ کی تحاریر تو اخبار میں بھی چھپتی ہیں، تو میں نے سوچا کہ میں آپ کو خط لکھوں تو شاید آپ میرا پیغام اخبار میں چھاپ دیں اور میرے امی ابو تک میرا پیغام پہنچ جائے۔ مجھے امید ہے آپ میرے لیئے یہ کام کر دیں گے۔ کرٰیں گے نا؟


افوہ! میں بھی کن باتوں میں لگ گیا۔ آپ کے سوالات ابھی تک وہیں کے وہیں ہیں اور میں اپنی فرمائشیں لیکر بیٹھ گیا ہوں۔ مگر میں نے آج تک کسی کو خط نہیں لکھا نا ۔۔۔ شاید اس لیئے مجھے صحیح سے خط لکھنا بھی نہیں آتا۔ اردو کے ٹیچر نے اگر یہ خط دیکھ لیا تو بہت غصہ ہوں گے۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ انسان اپنی تحریر اور گفتار سے پہچانا جاتا ہے۔ اور میں آپ کو ایک مزے کی بات بتائوں؟ مجھے گفتار کا مطلب ہی نہیں پتہ ۔۔۔۔ مگر آپ یہ بات اردو کے ٹیچر کو نہیں بتائیے گا۔ میں ہمیشہ ان کی بات سن کر ایسے سر ہلاتا تھا جیسے ساری بات سمجھ میں آگئی ہو۔ انہیں پتہ چلے گا کہ اتنے عرصے سے میں انہیں الو بنا رہا تھا تو وہ بہت خفا ہوں گے۔


تو انکل میں آپ کو بتارہا تھا کہ میرا نام ۔۔۔۔ مگر مجھے تو اپنا نام یاد ہی نہیں ہے؟ مجھے تو بس یہ یاد ہے کہ میں آج اپنے اسکول میں تھا اور کلاس میں دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ اچانک دروازے پر لات پڑی اور دو انکل کلاس میں گھس آئے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ پھر انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ اس کے فوراُ بعد مجھے ایسا لگا کہ کوئی کھولتی ہوئی چیز میرے پیٹ کو پھاڑتی ہوئی میرے جسم میں گھس گئی۔ مجھے لگا کہ جیسے میرے پورے جسم میں آگ لگ گئی ہو۔ مگر میں رویا نہیں۔ اگر آپ میرا خط اخبار میں چھاپیں تو امی کو بتا دیجئے گا کہ میں ان کا بہادر بیٹا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ بہادر بچے چوٹ لگنے پر روتے نہیں ہیں۔ تو میں کیسے رو سکتا تھا؟ میں تو امی کا بہادر بیٹا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ میں بہت زور سے روئوں مگر میں چپ رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ میرے جسم سے بہت سارا خون بہہ رہا تھا۔ میرا سارا یونیفارم بھی سرخ ہوگیا تھا۔ میں نے ہاتھ سے یونیفارم صاف کرنے کی کوشش کی مگر وہ صاف ہی نہیں ہوا۔ امی کو بولیئے گا کہ وہ غصہ نہ ہوں۔ میں اللہ میاں سے کہوں گا کہ وہ ہمارے گھر کے حالات بہتر کردیں اور امی گھر میں کام کرنے والی کوئی مددگار رکھ لیں۔ پھر امی کو میرا یونیفارم دھونے کیلئے ٹھنڈے پانی میں ہاتھ نیلے نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو انکل پھر آپ کو پتہ ہے کیا ہوا؟ مگر یہ تو مجھے بھی نہیں یاد کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ اس شدید ترین اذیت کے بعد میں بہت تھک گیا تھا اس لیئے میں وہیں سو گیا۔ آنکھ کھلی تو ہم سب کلاس کے بچے نئے کپڑے پہن کر یہاں موجود تھے۔ بہت سارے پیارے پیارے لوگ ہم سے ملنے کیلئے بھی آرہے تھے۔ میں نے یہیں قائد اعظم کو بھی دیکھا۔ تصویر میں تو وہ اتنے دبلے پتلے دکھتے ہیں مگر یہاں تو وہ اتنے صحت مند ہیں۔ پہلے تو میں انہیں پہچانا ہی نہیں۔ پھر مجھے میرے ایک دوست نے بتایا کہ یہ قائد اعظم محمد علی جناح ہیں۔ اور آپ کو پتہ ہے انکل؟ ہم اسکول میں سنتے تھے قائداعظم بہت بہادر انسان تھے مگر یہاں آکر میں نے خود دیکھا، قائد اعظم لڑکیوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ شیم شیم!!


ابو کہتے تھے کہ بڑوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے اس لیئے میں نے ان کے سامنے کچھ نہیں کہا۔ بعد میں ہم سارے دوست مل کر اتنا ہنسے ان پر۔ بیچارے قائد اعظم۔ ارے ابو سے یاد آیا مجھے ابو کو بھی سلام بولنا تھا۔ آپ میرے ابو کو جانتے ہیں؟ مگر آپ میرے ابو کو کیسے جان سکتے ہیں؟ میرے ابو کو تو صرف وہی جان سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے لخت جگر کو مٹی کے نیچے دفن ہوتے دیکھا ہو۔ مگر یہ تو بڑوں والی بات ہوگئی۔ ابو کہتے تھے بچوں کو اپنی عمر کے حساب سے باتیں کرنی چاہیئیں۔ سوری ابو! آپ کی اگر میرے ابو سے بات ہو تو انہیں یہ مت بتائیے گا کہ میرے پیٹ میں گولی لگی ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ایک دفعہ میں سیڑھیوں سے گر کر اپنا سر پھاڑ بیٹھا تھا۔ اس وقت گھر میں گاڑی نہیں تھی تو ابو مجھے پیدل ہی اٹھا کر چار کلومیٹر دور ہسپتال بھاگے تھے۔ بغیر رکے۔ میرے ابو بہت اچھے ایتھلیٹ ہیں۔ وہ روزانہ صبح دوڑنے باغ میں جاتے ہیں اور بغیر ہانپے میدان کے کئی چکر لگا لیتے ہیں۔ مجھے اتنی ہنسی آتی تھی جب وہ کہتے تھے کہ میں ان کا سہارا ہوں۔ بھلا بتائیں، ابو کو سہارے کی کیا ضرورت؟ وہ تو خود اتنے مضبوط اور طاقتور ہیں۔ تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ اس دن جب میرا سر پھٹا تھا تو ابو نے دفتر سے چھٹی لے لی تھی۔ جب تک میں بستر پر رہا، ابو میری چارپائی کے سرہانے لگے بیٹھے رہے۔ انہیں میری تکلیف کا پتہ چلے گا تو وہ بہت اداس ہوں گے۔ میں ابو سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میری وجہ سے اداس ہوں۔ آپ نہیں بتائیں گے نا؟؟


اور آخری بات مجھے آپ سے کرنی ہے۔ نجانے کیوں مجھے یہ لگتا ہے کہ جب میرے جانے کی خبر ٹیلیویژن پر آئے گی تو ملک بھر میں کہرام مچ جائے گا۔ سب لوگ مجھے مارنے والوں کو گالیاں دیں گے۔ احتجاج کیا جائے گا۔ میری یاد میں شمعیں روشن ہوں گی۔ آپ بھی ایسے ہی کسی پروگرام میں شریک ہوکر اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے بعد اگلے بچے کے مرنے تک مکمل خاموشی پھیل جائے گی۔ پیارے انکل! میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے نہیں جانتے! مگر نجانے کیوں میرا دل کر رہا ہے کہ میں آپ سے ایک ننھی سی فرمائش کردوں۔ کیا آپ میرے لیئے اتنا کر سکتے ہیں کہ کل خواہ کسی احتجاجی جلوس میں جائیں یا نہ جائیں، مگر مجھ اور میرے جیسے ایک سو تیس بچوں کیلئے ایک کام کردیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا دشمن اپنے ارادے میں کامیاب ہو! اس نے صرف میری جان نہیں لی، اس نے میرے پیارے پاکستان کو ایک سو تیس ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدانوں، فنکاروں، کھلاڑیوں سے محروم کردیا ہے جنہوں نے آگے چل کر پاکستان کا نام روشن کرنا تھا۔ کیا آپ کل کے احتجاج کیلئے استعمال ہونے والا پیٹرول، پلے کارڈ، موم بتی، وغیرہ کے پیسے بچا کر، پورے پاکستان میں کہیں بھی، کسی بھی ایک، صرف ایک بچے کے تعلیمی اخراجات کا ذمہ اٹھا سکتے ہیں؟ پلیز؟ پلیز؟ پلیز؟


والسلام


پیاری ڈائری! اب تم ہی بتائو کہ میں کیا جواب دوں؟




[caption id="attachment_622" align="aligncenter" width="492"]They went to school and never came back They went to school and never came back[/caption]

بلاگ فالوورز

آمدورفت