Afsana لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Afsana لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 اپریل، 2017

مریض - 4

میرا نام عاطف علی ہے اور میں ایک مریض ہوں۔ میرا مرض عام لوگوں جیسا نہیں جس میں مریض خود تڑپتا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر ترس کھاتے ہیں۔ میرے مرض میں لوگ میری بیماری کی وجہ سے تکلیف سے تڑپتے ہیں اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

میں بچپن سے ایسا نہیں تھا۔ پہلے میں بھی عام لوگوں کی طرح ہنستا، گاتا اور مسکرا تا تھا۔ پھر میری اس معصومیت بھری پر کیف زندگی کو شاید  کسی کی نظر لگ گئی اور میں لڑکپن سے نکل کر مردانگی کی عمر کو پہنچ گیا۔ اب مجھے اٹھتے بیٹھتے خواتین کا خیال ستانے لگا۔ میں جہاں جاتا تھا میری خواہش ہوتی کہ میرے ارد گرد خواتین کی ایک بھیڑ ہو جن کی گفتگو اور زندگی کا محور صرف میری ذات ہو۔ میں جہاں کسی عورت کو دیکھتا اس سے بلا وجہ بات شروع کرنے کی کوشش میں لگ جاتا۔ گھر، محلہ، سوشل میڈیا ، ہر جگہ میری زندگی کا مقصد صرف خواتین کا قرب ہوتا تھا۔  میرے دوست احباب مجھے ٹھرکی بلاتے تھے ، میرے منہ پر مجھ پہ ہنستے تھے،  بہت سی خواتین مجھے دیکھ کر ادھر ادھر ہوجاتی تھیں، مگر مجھے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔

میں اپنی اس ٹھرک زدہ زندگی میں مگن تھا اور اپنی اس بیماری پر راضی تھا۔ میرے محلے دار البتہ میری اس صورتحال پر شدید پریشان تھے۔ محلے کی خواتین اللہ سے اتنا نہیں ڈرتی تھیں جتنا لال بیگ، چھپکلی اور مجھ سے ڈرتی تھیں۔ میری حرکات سے تنگ آ کر  محلے کی خواتین نے فیس بک کے کسی گروپ میں میری اس بیماری کا ذکر کیا اور  پھر وہاں سے ایک مشہور ڈاکٹر کا پتہ نکالا گیا جو نفسیاتی عوارض کے علاج کیلئے مشہور تھے۔  چونکہ علاج کی فکر بھی مجھ سے زیادہ  محلے داروں کو تھی لہٰذا علاج کا خرچ بھی ان کے ذمے رہا اور مجھے ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں پہنچا دیا گیا۔

جب میں کلینک میں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب  پہلے ہی کسی مریض کے ساتھ موجود تھے اور ان کی آواز باہر تک آرہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب اس مریض کو سمجھا رہے تھے کہ مرد دنیا کی مظلوم ترین اور شریف ترین مخلوق ہے۔ شریف ترین اس لیئے کہ اگر عورت ایک دفعہ کہہ دے کہ اس کے بچے کا باپ وہ ہے تو مرد بالعموم بغیر کسی ڈی این اے ٹیسٹ کے اس کی بات کو سچ مان لیتا ہے اورپھر  ساری عمر اس بچے کے اخراجات ہنسی خوشی محض اس لیئے برداشت کرتا ہے کیونکہ اس کی عورت نے ایک بار کہہ دیا ہوتا ہے کہ وہ  بچہ اس کا ہے۔ بعض خوش نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بچوں کی شکلیں ان سے ملتی ہوئی ہوتی ہیں جس سے دل کو تسلی رہتی ہے وگرنہ بصورت دیگر بھی مرد سوال کرنے کا مجاز نہیں۔ اب اس سے زیادہ اور کیا شرافت ہو سکتی ہے کہ محض کسی شخص کے کہنے پر آپ ایک بچے کو اپنا مان لیں؟ اور جہاں تک مظلومیت کا سوال ہے تو مظلوم اس لیئے کہ پیدائش کے ساتھ ہی اسے سکھا دیا جاتا ہے کہ مرد روتے نہیں ہیں۔

یہ بیچارہ اپنے تمام دکھ اپنی ذات میں سمیٹے  اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے۔  یہ چاہے بھی تو کسی سے اپنا غم نہیں کہہ سکتا کہ بچپن کے خوف ساری عمر انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

 مرد کی انا بہت بڑی ہوتی ہے۔  یہ ساری عمر اپنی انا کا بوجھ اٹھائے پھرتا رہتا ہے اور بسا اوقات اس ہی انا کے بوجھ تلے دب کر مر بھی جاتا ہے۔ اور یہ  انا  اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی دوسرے مرد کے سامنے اپنے دکھ کا اظہار کرسکے، روسکے! کیونکہ رونا تو کمزوری کی علامت ہے اور کمزوری مرد کیلئے وہ گالی ہے جو اس کی انا کبھی برداشت نہیں کرسکتی۔ محض اس گالی سے بچنے کیلئے وہ  صنفِ مخالف کا سہارا لیتا ہے۔

  میں نے صنف ِ نازک کا مروجہ لفظ اس لیئے استعمال نہیں کیا کیونکہ عورت بہت چالاک ہوتی ہے۔ اس نے ازل سے خود کو نازک مشہور کر کےمشقت طلب تمام کام مردوں کے ذمے ڈال دیئے ہیں۔ ایک انسانی جان کو دنیا میں لانے کیلئے جتنی طاقت اور برداشت چاہیئے وہ دو مرد مل کر بھی نہیں لا سکتے ، مگر پھر بھی صنف نازک کہلائے گی عورت ہی۔ ہم خود اپنی بیگمات کو پارلر لیکر جاتے ہیں جہاں وہ پیسے دیکر اپنے  بال نچواتی ہے۔ تصور بھی کرو ں کہ میرےجسم کے بال کوئی ایسے نوچ کے اکھاڑے تو  روح کانپ جاتی ہے ؟ پھر بھی صنف نازک کون ہے؟ عورت!

تھوڑی دیر تک کمرے میں خاموشی رہی اور پھر لائٹر کے جلنے کی آواز آئی۔ ڈاکٹر صاحب شاید جذباتی ہوگئی تھے اور اس جذباتی ہیجان کو سنبھالنے کیلئے تمباکو کا سہارا لے رہے تھے۔ میں ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھا تھا اور منتظر تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنی گفتگو دوبارہ شروع کریں۔ خاموشی تھوڑی دیر اور رہی پھر ڈاکٹر صاحب کی آواز دوبارہ ابھری۔ وہ کہہ رہے تھے کہ،  تو جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ مرد اپنی خود ساختہ انا کو بچاتے ہوئے اپنا غبار نکالنے  کیلئے اپنے دکھڑے صنفِ مخالف کو سنانا چاہتا ہے اور اس چیز کیلئے وہ عورت کے قر ب کا متلاشی ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ عورت کے قرب کی خواہش صرف اس ہی وجہ سے ہے۔ جسمانی و فطری تقاضے اپنی جگہ بالکل ویسے ہی موجود ہیں جیسے اول دن سے تھے۔ افزائش نسل ہر جانور کی فطرت ہے۔ اگر یہ چیز فطری نہ ہوتی تو میں اور آپ وجود ہی نہ رکھتے۔ تو وہ چیز بھی ہے اور بالکل ہے، مگر قرب کی خواہش کو صرف  افزائش نسل تک محدود کردینا بھی محض سطحیت اور حماقت ہے۔

ڈاکٹر صاحب! عورت کے قرب کی وجہ تو چلیں سمجھ میں آگئی ، مگر  وہ تو شادی  شدہ ہے؟ اس کے پاس ایک عورت موجود ہے جو اس کی فطری و نفسیاتی و  ۔۔۔۔  الغرض تمام ضروریات کو پورا کر سکتی ہے! مگر پھر بھی وہ خواتین کی طرف کیوں کھنچتا چلا جاتا ہے؟  کمرے میں سے ایک دوسری آواز ابھری ۔

ڈاکٹر صاحب کی جب آواز آئی تو مجھے لگا کہ وہ مسکرا رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ  بھوک ، پیاس اور دوسری بنیادی ضروریاتِ زندگی کی طرح یہ چیز  بھی عین فطری ہے۔ آپ کسی بھی جانور کو اگر دیکھتے ہیں تو وہ صرف ایک مادہ تک محدود نہیں ہوتا۔ ہاں مگر اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم بحیثیت انسان کس جگہ پر کھڑے ہیں۔ پیاس لگنا ایک فطری عمل ہے اور پانی اس پیاس کی تسکین کیلئے ہے۔ البتہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص جوہڑ میں سے بھی پانی پی کر تسکین پا جاتا ہے اور ایک شخص جب تک ایک مخصوص درجہ حرارت اور مخصوص نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا پانی نہ پیئے اسے تسکین نہیں ملتی۔ پیاس دونوں کی یکساں ہے، مگر ذاتی نفاست یہ طے کرے گی کہ تسکین کس درجے پر جاکر ملنی ہے۔ تو  اس سوال کا جواب بھی میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ آپ اس کا  درجۃ نفاست خود طے کریں کیونکہ وہ کہنے کی حد تک ہی سہی، مگر انسان ہےجبکہ جگہ جگہ منہ کتا مارا کرتا ہے۔

سوچ میں ڈوبی ہوئی دوسری آواز ابھری، مگر ڈاکٹر صاحب وہ کہتا ہے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے آپ کو خواتین کے قریب جانے سے نہیں روک پاتا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا  ہے کہ اپنی بیوی تک محدود رہے مگر شادی کے دس سال بعد ہم دونوں تقریباٗ بہن بھائی بن چکے ہیں۔ اسے تو اب یہ بھی یقین ہوگیا ہے کہ انجانے میں اگر اس کا ہاتھ کسی عورت کوچھو جائے اور جذبات میں کسی قسم کا کوئی تغیر نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی یعنی میں ہوں ۔ آپ خود بتائیں میں کیا کروں؟

 ڈاکٹر صاحب اب کی مرتبہ جب بولے تو ان کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ، ہم ایک جنس زدہ معاشرے میں رہتے ہیں۔  اسلامی اقدار کے نام پر ہم نے عورت کو تو پردے میں بٹھا دیا مگر اس ہی اسلام کے سکھائے ہوئے طریقے پر نکاح کو آسان کرنا بھول گئے۔  اب صورتحال یہ ہے کہ مرد اپنی فطرت کے مطابق  ساتھی کا متلاشی ہے اور ساتھی  بہت ساری وجوہات کی بنا  پر  گھر میں بند ہے۔طلب اور رسد کے اس بنیادی فرق کی وجہ سے معاشرہ اس حد تک گھٹن میں ہے کہ عورت کی ایک جھلک ، مرد کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کو کافی ہوچکی ہے۔ مرد  اپنی گھٹن نکالنا چاہتا ہے مگر نکال نہیں پا رہا ہے۔ یہاں تک پہنچ کر ڈاکٹر صاحب کی آواز بھرا گئی ۔ میں نے کان لگا کر سنا، ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے، ایسے میں اگر کوئی خوبصورت خاتون  آپ کے سامنے موجود ہو، جو حسن کے ساتھ شعور کے بھی اتنے بلند درجے پر ہو اور پھر بھی اپنے ٹھرکی شوہر کی حرکات سے تنگ ہو ، تو آپ اسے کیا مشورہ دے سکتے ہیں؟  میں تو یہی کہوں گا کہ وہ انسان آپ کے لائق ہے ہی نہیں۔  مگر آپ دل چھوٹا نہ کریں! خدا کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ آپ آج شام کو کیا کر رہی ہیں؟

میں ڈاکٹر صاحب کے کلینک سے اٹھا اور باہر آگیا۔ مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ میری بیماری ناقابل علاج ہے، یا کم سے کم اس عطار کے لونڈے کے پاس میر کی بیماری کا علاج ممکن نہیں۔

میرا نام  عاطف علی ہے اور آپ نے بالکل ٹھیک پہچانا، میں وہی مریض ہوں جو سگنل پر رکے ہوئے ہر رکشے کے اندر جھانک کر اپنی کسی کھوئی ہوئی بہن کو تلاش کر رہا ہوتا ہے۔

نوٹ: لاکھوں سال پرانی مردانہ ٹھرک کا علاج اگر آپ  تین صفحات کے کسی بلاگ میں ڈھونڈ رہے تھے تو ٹھرک سے پہلے آپ کو دماغ کا علاج کروانا چاہیئے۔ شکریہ

بدھ، 2 نومبر، 2016

23 اکتوبر

سر مجھے لگ رہا ہے کہ یہ جو بھی کچھ ہورہا ہے وہ محض اتفاقی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ضرور کوئی منصوبہ ساز زہن موجود ہے جو انتہائی صفائی اور مہارت سے یہ کام کر رہا ہے۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ وہ کیوں یہ کام کر رہا ہے مگر یہ جو ایک دو واقعات میں نے آپ کو بیان کیے ہیں تو سر  ان کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ ۔۔۔۔ سر آپ میری بات مانیں نہ مانیں یہ یقینا کوئی سیریل کلر ہے جو اتنا شاطر ہے کہ پولیس کی نظروں میں آئے بغیر گزشتہ پانچ سالوں سے یہ کام کر رہا ہے! سر آپ بس مجھے اجازت دیں تو میں باقاعدہ کیس فائل کرکے تحقیقات شروع کردوں؟ میرا ماتحت آفیسر اس وقت میرے سامنے بیٹھا نہایت جذباتی انداز میں تیز تیز اور مسلسل بول رہا تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرایا اور پانی پینے کو کہا۔ وہ پانی پی کر فارغ ہوا تو میں نے اسے سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کی وجہ سے جذباتی ہورہا ہے اور  معاملہ ایک بڑے ہسپتال اور اس کی ساکھ کا ہے۔ غلط کیس فائل ہوا اور میڈیا کو کیس فائل ہونے کی خبر مل گئی تو ہسپتال والے اتنے طاقتور ہیں کہ ہم دونوں کو اٹھوا کر گھر بھجوا دیں گے اور شہرت خراب کرنے پر ہتک عزت کا دعویٰ الگ ہوگا۔ بہتر یہی ہوگا کہ وہ  چند دن  دفتر نہ آئے اور باہر سے ہی اپنے طور پر یہ تحقیقات خفیہ طریقے سے جاری رکھے اور مجھے مطلع  کرے۔ مناسب ثبوت بہم ہوجانے پر ہم کیس فائل کرکے معاملے کو دیکھ لیں گے۔
اس کو وہاں سے رخصت کرنے کے بعد میں نے فون اٹھایا اور اس ہی ہسپتال میں کام کرنے والی اپنی چھوٹی بہن کو بھی خبردار کردیا کہ وہ  رازاداری کے ساتھ اردگرد نظر رکھے اور کسی بھی گڑبڑ کے نتیجے میں مجھے فوری طور پر مطلع کرے۔ فون کال نمٹا کر میں نے سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی اور تھانے کے احاطے میں کھڑا ہوکر سگریٹ پیتے ہوئے معاملے کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنے لگا۔
میرے ماتحت آفیسر کے بیان کے مطابق یہ معاملہ ابھی پولیس کی نظروں میں آیا ہی نہیں تھا جبکہ قتل کی یہ وارداتیں پچھلے پانچ سال سے جاری تھیں۔  اس کو بھی اس معاملے کی بھنک ایسے پڑی تھی کہ اس کی بیوی اس ہسپتال میں زچگی کے سلسلے میں گئی تھی اور جان کی بازی ہار گئی تھی۔ بیوی کی موت کے فورا بعد یعنی دو گھنٹوں میں ہی  ہسپتال والوں نے بچے کو بھی مردہ قرار دے دیا تھا۔ شاید کوئی اور ہوتا تو اس معاملے کو خدا کی مرضی قرار دے کر رو پیٹ لیتا مگر پولیس والوں اور بالخصوص تفتیشی افسران کا مزاج عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ میرے ماتحت کو یہ شک گزرا کہ یہ اموات جتنے عجیب انداز میں ہوئیں وہ طبعی موت نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا معاملہ تھا۔ ہسپتال کا نام بہت بڑا تھا اس لئے  مجرمانہ غفلت کا براہ راست الزام لگانے کے مضمرات سے وہ آگاہ تھا۔ کیس کو مضبوط کرنے کے لئے اس نے اپنے ذرائع سے تحقیقات کیں تو ایک عجیب سی خبر اس کے سامنے آئی کہ  زچہ و بچہ کی موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ پچھلے پانچ سال سے ہر سال اکتوبر کے مہینے میں اس قسم کے واقعات اس ہسپتال میں ہوتے آئے تھے ۔  یہ معلومات ملتے ہی وہ جذبات میں دوڑتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا تھا اور مجھ سے کیس درج کرنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ سگریٹ  ختم کرکے میں نے اس کیس کے سلسلے میں دماغ میں آنے والے تمام فالتو خیالات کو جھٹکا اور واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے طے کرلیا تھا کہ اب اس معاملے پر تب ہی سوچوں گا جب کچھ مزید اطلاعات میرے سامنے آئیں گی۔


اس بات کو گزرے چار دن  ہوگئے تھے اور میرا ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا۔ میں اپنی بہن سے بھی معاملے کی مسلسل سن گن لے رہا تھا مگر اس  نے بھی اردگرد کوئی غیرمعمولی چیز محسوس نہیں کی تھی۔ میں پچھلے دو دن سے مسلسل دفتر سے واپسی میں اس کے گھر جارہا تھا مگر ہر مرتبہ یہی معلوم ہوتا کہ وہ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے گھر سے نکلا ہے اور جب میں اس کے موبائل پر فون کرتا تو گھنٹی بجتی مگر کوئی جواب نہ آتا۔ میں نے اس کے گھر والوں کو بھی بول رکھا تھا کہ وہ جب بھی گھر آئے تو اسے مجھ سے رابطہ کرنے کو کہیں مگر یا تو گھر والے اسے میرا پیغام نہیں پہنچا رہے تھے یا وہ خود مجھ سے کترا رہا تھا۔ آج میں نے سوچ لیا تھا کہ دفتر سے واپسی میں میں اس کے گھر جاؤں گا اور وہیں بیٹھ کر اس وقت تک اس کا انتظار کروں گا جب تک وہ واپس نہیں آجاتا۔
دفتر میں بہت سے توجہ طلب امور تھے مگر میرا دھیان اس ہی میں اٹکا ہوا تھا۔ کافی دیر تک بھی جب میں کسی اور چیز پر توجہ مرکوز نہ کرسکا تو میں نے جھلا کر اسے کال کرنے کے لئے موبائل نکالا تو اس ہی وقت سکرین پر اس کا نام جگمگانے لگا۔ میں نے فورا کال اٹھائی اور اس سے پہلے کہ میں اسے پچھلے چار دن پر مغلظات سناتا اس کی نہایت پرجوش آواز ابھری، سر! میرا شک صحیح نکلا۔ آپ بس جلدی سے ہسپتال پہنچ جائیں میں ہسپتال کے  سامنے والے ہوٹل میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ باقی تفصیلات میں مل کر بتاتا ہوں۔
میں گاڑی اڑاتا ہوا سیدھا ہسپتال کے سامنے واقع ہوٹل پر پہنچ گیا۔ وہ ہوٹل کے باہر پڑی کرسی پر بیٹھا ہسپتال کے دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھا تھا۔ میں اتر کر اس کے پاس گیا تو اس نے عادتا مجھے سلوٹ کردیا۔ وہ اس وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا اور مجھے لگا کہ لوگ اس کے اس طرح مجھے سلوٹ کرنے پر چونکے ہیں مگر پھر مجھے خیال آیا کہ میں تو وردی میں موجود تھا اور یہ سراسیمگی میرے آنے کی وجہ سے پھیلی تھی۔ میں نے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے برابر میں موجود کرسی سنبھال لی اور اردگرد  کی کرسیوں پر موجود لوگوں کو اٹھنے کا اشارہ کردیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے گفتگو کوئی اور سنے اور لوگ تو ویسے ہی ہم سے دور بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں سو چند ہی لمحوں میں ہم دونوں اکیلے رہ گئے تھے۔
پہلے پانچ منٹ تو میرے اسے اس طرح غائب ہونے پر مغلظات سنانے میں لگ گئے مگر اس کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی ٹھوس چیز کے میرا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے فون پر بات کرنے میں متامل تھا۔  چار گالیاں اس احمقانہ سوچ پر مزید کھانے کے بعد وہ معاملے کی تفصیلات پر آگیا۔
میرے ماتحت کے مطابق اس نے اکتوبر کے مہینے سے جڑے ان حادثات کو کھوجنے کے لئے ہسپتال کے سٹاف کو کھنگالنے کی کوشش کی  کہ ان میں سے کس کس کا اس مہینے سے کوئی خاص تعلق ہوسکتا ہے۔  پہلے مرحلے میں اس نے ہسپتال کے ہیومن ریسورس مینجر کو اپنی نوکری کی دھونس جمائے بغیر محض بندوق دکھا کر تمام سٹاف کا ڈیٹا حاصل کیا اور اس میں سے اکتوبر کی تاریخ پیدائش والے تمام  افراد کی نشاندہی کر لی۔ اس کے شک کا دائرہ اب ہسپتال کے چار سو سٹاف سے سمٹ کر محض سینتیس لوگوں پر رہ گیا تھا  امگر ایک دو کی بات ہوتی تو ٹھیک تھا ، وہ ذاتی حیثیت میں سینتیس لوگوں کو شامل تفتیش نہیں کرسکتا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ اب معاملہ یہیں ختم ہوجائے گا مگر قدرت اس پر مہربان ہوگئی جب اس نے کل رات سوچوں کے درمیان  بے دھیانی میں ہسپتال سے ملنے والی اپنی بیوی کی کیس فائل کھولی اور اسے ڈاکٹر کے خانے میں جو نام دکھا وہ اکتوبر میں پیدا ہونے والے ان افراد کی فہرست میں موجود تھا۔ اس کے بقول وہ رات بھر سو نہیں سکا اور صبح ہی ہسپتال پہنچ کر اس ہی ہیومن ریسورس مینجر کے ساتھ موجود تھا جس نے اسے پہلے بھی ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ قسمت اس پر مسلسل مہربان تھی کہ وہ شخص ہیومن ریسورس مینجر  اور ایک توپ افسر ہونے کے ناطے ہسپتال کے تمام ستاف کی حاضری اور ہسپتال کے میڈیکل ریکارڈ دونوں تک رسائی رکھتا تھا۔ میرے ماتحت کے مطابق جیسے ہی اسے پتہ چلا  کہ پچھلے پانچ سال میں ہونے والی تمام زچہ و بچہ کی اموات کے وقت محض ایک شخص تھا جو ڈیوٹی پر موجود تھا تو اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس شخص کا نام وہ اپنی بیوی کے میڈیکل ریکارڈ میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔  وہ ڈاکٹر اس وقت بھی ہسپتال میں موجود تھی اور اب ہم دونوں ہسپتال میں تماشہ نہ بنانے کے لئے ہسپتال کے باہر اس کے منتظر تھے کہ وہ کب ڈیوٹی ختم کرکے نکلے اور ہم اسے اس کے گھر جا کر دھر لیں۔ میرا ماتحت ہسپتال کے ریکارڈ سے اس کا پتہ نکال لایا تھا مگر میں اپنی بہن کے حوالے سے میں اسے جانتا تھا  اور میں جانتا تھا کہ یہ ایک فرضی پتہ ہے۔ میں اس سفاک قاتل کا پتہ جانتا تھا جو ہسپتال سے پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی واقع ایک پوش علاقے میں مکین تھی لہٰذا میں نے اپنے ماتحت کو ساتھ لیا اور اس کے گھر کے سامنے والے پارک میں جا کر انتظار کرنے لگا ۔
شام پانچ بجے اس کی ڈیوٹی ختم ہوئی تھی اور ٹھیک پانچ بج کر سولہ منٹ پر وہ اپنے گھر کا دروازہ کھول رہی تھی کہ میں نے اپنے ماتحت کے ساتھ اسے جالیا۔ وہ مجھے میرے ماتحت کے ساتھ اور اس طرح وردی میں دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی تھی۔ میں نے اسے دروازہ کھول کر اندر چلنے کا اشارہ کیا۔
گھر میں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ ہم اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئے۔ میں نے اپنے ماتحت کو اشارہ کیا اور اس نے پورا معاملہ اس لڑکی کے سامنے رکھ دیا کہ کس طرح پولیس کو اب اس کی سفاک حرکات کا پتہ چل گیا ہے ۔ میرے ماتحت کی بات سن کر وہ بری طرح سے پھوٹ بہی مگر ہم دونوں وقت کے ساتھ اتنے پکے ہوچکے تھے کہ اب کسی  کے آنسو ہم پر اثرانداز نہیں ہوتے تھے۔ اس نے جرم سے انکار نہیں کیا اور دھیمے لہجے میں بولی کہ اب مجھے کیا کرنا ہوگا؟  مجھے لگا کہ میرا ماتحت بھی اس کے اتنی جلدی اقبال جرم کی امید نہیں کر رہا تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ اس کا ہر قتل کے وقت ہسپتال میں موجود ہونا اسے کسی بھی عدالت میں قاتل نہیں ثابت کرسکتا تھااور ایک معمولی وکیل بھی ہمارے مقدمے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا۔ اور جب یہ بات ہم دونوں جانتے تھے تو اتنی مہارت سے قتل کرنے والی وہ بظاہر معمصوم دکھنے والی شاطر لڑکی کیوں واقف نہیں ہوگی؟ وہ لڑکی مگر شاید اس وقت کسی شدید جذباتی کیفیت  کا شکار تھی اور اقبال جرم کربیٹھی تھی۔ میں نے کہا کہ ابھی لیڈی پولیس بلوا کر ہم آپ کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ میں آپ کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں مگر مجھے آپ سے اس بات کی امید نہیں تھی۔ آخر کیا وجہ تھی کہ آپ مسیحائی جیسے مقدس پیشے سے منسلک ہوکر بھی قاتل بن گئیں؟  میرا سوال سن کر اس نے رونا بند کر دیا اور نظریں میری نظروں میں گاڑ کر بولی، میں نے اپنے مقدس پیشے سے کبھی بے وفائی نہیں کی ہے! میرا کام انسانوں کو درد سے نجات دلانا ہے انسپکٹر صاحب! اس کی آنکھوں میں موجود آنسوؤں کی لالی اس وقت خون کی لالی لگ رہی تھی اور کے لہجے میں جو وحشت تھی میں نے محسوس کیا کہ اس سے میرا ماتحت کانپ اٹھا ہے۔  اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا اس نے اپنا بیان دوبارہ جاری کردیا۔  ایک پولیس والا کیسے محسوس کرسکتا ہے کہ درد کیا ہوتا ہے جبکہ اس کی ساری زندگی تفتیش کے نام پر دوسروں پر تشدد میں گزر جاتی ہے۔ میں ڈاکٹر ہیں۔ میں جانتی ہوں درد کیا ہوتا ہے۔ میں انسان ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ اس دنیا میں بن ماں کے بچوں کا کیا حال ہوتا ہے! میں ہی ہوں جو ان کا درد محسوس کرسکتی ہوں۔ میں ہی ہوں جس کی ماں اس ہی اکتوبر کے مہینے میں اسے پیدا کرتے ہوئے چل بسی تھی۔ خاندان بھر کے گھروں میں باری باری پلتے اور چاچا ماماؤں کے بچوں کی نوکری کرتے ہوئے جب میں ڈاکٹر اور پھر گائنی کی ماہر بنی تو اس کے پیچھے یہی سوچ تھی کہ میں  کسی ماں کو مرنے نہیں دوں گی۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ میں گائنی کی ماہر تو بن سکتی ہوں مگر خدا نہیں بن سکتی۔ میں انہیں مرنے سے نہیں بچا سکتی۔ مگر جو پیچھے بچ جائیں انہیں ضرور ان کی ماؤں تک پہنچا سکتی ہوں۔ آپ اسے سفاکی کہتے ہیں؟ میں تو احساس کی اس منزل پر ہوں جہاں آپ کبھی نہیں پہنچ سکتے! آپ کی ماں شاید ابھی زندہ ہے!-

اس کی باتیں سنتے سنتے میری بس ہوچکی تھی۔ میں نے کھڑے ہوکر اپنا سائلینسر لگا ذاتی ریوالور نکال لیا۔ وہ ڈاکٹرنی  مجھے کھڑا ہوتا دیکھ کر خود بھی کھڑی ہوگئی تھی اور اب بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑٰی تھی گویا اسے کسی بات کا ڈر نہ ہو۔ میرا ماتحت البتہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔ اسے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکنے کی کوشش کی کہ سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں مگر اس کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی میں نے اپنا ہاتھ چھڑا کر گولی چلا دی۔ وہ ڈاکٹرنی دوڑتی ہوئی آئی اور مجھ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ ہمارے قدموں میں میرے ماتحت کی لاش پڑی تھی۔ آج ہماری ماں کی برسی تھی۔ میرا ماتحت بیچارہ ناتجربہ کار تھا جو دروازے پر لگی تختی نہ پڑھ سکا جس پر بڑا بڑا انسپکٹر عاطف علی تحریر تھا!

بدھ، 17 دسمبر، 2014

زبان دراز کی ڈائری - سانحۃ پشاور

پیاری ڈائریً!


تم شاید سمجھ رہی ہوگی کہ میں خود کو بڑا ادیب سمجھنے لگا ہوں اس لیئے لکھنا کم کردیا ہے۔ یا شاید تم نے سوچا ہوگا کہ چونکہ مجھے اس ڈائری کو لکھنے کے کوئی پیسے نہیں ملتے اس وجہ سے میں نے تم سے باتیں کرنا چھوڑ دی ہیں۔ مگر یقین جانو یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں۔ تم شاید بھول بیٹھی ہو کہ میں قومیت کے اعتبار سے پاکستانی ہوں اور محض واقعات و سانحات پر چند لمحات کیلئے زندہ ہوتا ہوں ورنہ ہماری نیم مردہ زندگی تو اصحابِ کہف کی نیند کو پہنچنے لگی ہے۔ تو لکھنے کیلئے زندہ ہونا اور زندہ ہونے کیلئے کوئی سانحہ ضروری ہوتا ہے۔ سو آج ایک سانحہ سا ہوگیا ہے جس نے تمہارے زبان دراز کے مردہ جسم میں کچھ دیر کو روح پھونک دی ہے اور اس کچھ دیر کی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے قلم اٹھایا اور تمہارے پاس آگیا۔


اب تم سوچ رہی ہوگی کہ اتنی لمبی تمہید کیوں؟ اور مجھے یقین ہے کہ تم یہ بھی جاننا چاہتی ہو کہ آج ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میاں زبان دراز پھر ڈائری کھول کر بیٹھ گئےہیں؟ تو سنو! تم تو جانتی ہو کہ میں اب ایک مشہور آدمی ہوں اور مجھے دن رات لفافے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ جی نہیں! میری مراد وہ مروجہ محاورے والے لفافے نہیں بلکہ خطوط کے لفافے ہیں۔ کبھی کوئی اپنی ناکام محبت کی داستان لکھوانا چاہ رہا ہوتا ہے تو کبھی کسی کو اپنی ڈرامائی زندگی پر ٹیلیویژن کا ڈرامہ لکھوانا ہوتا ہے۔ اب تو میں نے ایک مستقل مسودہ تیار کر لیا ہے اور جوابی خط کے طور پر وہی مسودہ نقل کرکے بھیج دیتا ہوں۔ آج مگر مجھے ایک بہت عجیب سا خط ملا ہے۔ یہ نہ تو ناکام محبت کی داستان ہے نہ تباہ حال جوانی کا احوال۔ یہ خط کسی بچے نے لکھ بھیجا ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ عالمِ بالا میں موجود ہے۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ اس خط کا کیا جواب دوں۔ پھر سوچا کہ تمہیں بھی یہ خط سنائوں، ہو سکتا ہے تم کوئی جواب تجویز کردو۔ سو یہ خط ملاحظہ کرو اور میری مدد کرو۔


پیارے انکل


السلام علیکم! مجھے پتہ ہے کہ آپ اچھے حال میں ہیں اور میں اللہ میاں سے دعا کرتا ہوں کہ آپ سدا اچھے حال میں ہی رہیں۔ میرا نام ۔۔۔ مجھے یاد نہیں۔ مگر مجھے یہ یاد ہے کہ آج صبح تک میرا بہت اچھا سا نام ہوا کرتا تھا۔ وہ اچھا سا نام کیا تھا مجھے یاد نہیں، ہاں کل کے اخبار میں جب فہرست چھپے گی تو میں اس میں سے دیکھ کر آپ کو ضرور بتائوں گا۔ اللہ کا پکا والا وعدہ!


آپ پریشان ہو رہے ہونگے کہ میں نے آپ کو خط کیوں لکھا ہے؟ جب آپ مجھے جانتے تک نہیں ہیں اور آپ کو کیا، خود مجھے بھی اپنا نام تک یاد نہیں، تو میں آپ سے کیوں مخاطب ہوں؟ تو انکل بات یہ ہے کہ مجھے ابھی قائد اعظم انکل ملے تھے ۔ وہ ہم سب بچوں کو یہاں لینے کیلئے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں اپنے امی ابو تک کچھ باتیں پہنچانا چاہتا ہوں تو انہوں نے مجھے آپ کا پتہ بتا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ بھی پہلے آپ کو خطوط لکھتے رہے ہیں۔ اور آپ کی تحاریر تو اخبار میں بھی چھپتی ہیں، تو میں نے سوچا کہ میں آپ کو خط لکھوں تو شاید آپ میرا پیغام اخبار میں چھاپ دیں اور میرے امی ابو تک میرا پیغام پہنچ جائے۔ مجھے امید ہے آپ میرے لیئے یہ کام کر دیں گے۔ کرٰیں گے نا؟


افوہ! میں بھی کن باتوں میں لگ گیا۔ آپ کے سوالات ابھی تک وہیں کے وہیں ہیں اور میں اپنی فرمائشیں لیکر بیٹھ گیا ہوں۔ مگر میں نے آج تک کسی کو خط نہیں لکھا نا ۔۔۔ شاید اس لیئے مجھے صحیح سے خط لکھنا بھی نہیں آتا۔ اردو کے ٹیچر نے اگر یہ خط دیکھ لیا تو بہت غصہ ہوں گے۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ انسان اپنی تحریر اور گفتار سے پہچانا جاتا ہے۔ اور میں آپ کو ایک مزے کی بات بتائوں؟ مجھے گفتار کا مطلب ہی نہیں پتہ ۔۔۔۔ مگر آپ یہ بات اردو کے ٹیچر کو نہیں بتائیے گا۔ میں ہمیشہ ان کی بات سن کر ایسے سر ہلاتا تھا جیسے ساری بات سمجھ میں آگئی ہو۔ انہیں پتہ چلے گا کہ اتنے عرصے سے میں انہیں الو بنا رہا تھا تو وہ بہت خفا ہوں گے۔


تو انکل میں آپ کو بتارہا تھا کہ میرا نام ۔۔۔۔ مگر مجھے تو اپنا نام یاد ہی نہیں ہے؟ مجھے تو بس یہ یاد ہے کہ میں آج اپنے اسکول میں تھا اور کلاس میں دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ اچانک دروازے پر لات پڑی اور دو انکل کلاس میں گھس آئے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ پھر انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ اس کے فوراُ بعد مجھے ایسا لگا کہ کوئی کھولتی ہوئی چیز میرے پیٹ کو پھاڑتی ہوئی میرے جسم میں گھس گئی۔ مجھے لگا کہ جیسے میرے پورے جسم میں آگ لگ گئی ہو۔ مگر میں رویا نہیں۔ اگر آپ میرا خط اخبار میں چھاپیں تو امی کو بتا دیجئے گا کہ میں ان کا بہادر بیٹا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ بہادر بچے چوٹ لگنے پر روتے نہیں ہیں۔ تو میں کیسے رو سکتا تھا؟ میں تو امی کا بہادر بیٹا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ میں بہت زور سے روئوں مگر میں چپ رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ میرے جسم سے بہت سارا خون بہہ رہا تھا۔ میرا سارا یونیفارم بھی سرخ ہوگیا تھا۔ میں نے ہاتھ سے یونیفارم صاف کرنے کی کوشش کی مگر وہ صاف ہی نہیں ہوا۔ امی کو بولیئے گا کہ وہ غصہ نہ ہوں۔ میں اللہ میاں سے کہوں گا کہ وہ ہمارے گھر کے حالات بہتر کردیں اور امی گھر میں کام کرنے والی کوئی مددگار رکھ لیں۔ پھر امی کو میرا یونیفارم دھونے کیلئے ٹھنڈے پانی میں ہاتھ نیلے نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو انکل پھر آپ کو پتہ ہے کیا ہوا؟ مگر یہ تو مجھے بھی نہیں یاد کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ اس شدید ترین اذیت کے بعد میں بہت تھک گیا تھا اس لیئے میں وہیں سو گیا۔ آنکھ کھلی تو ہم سب کلاس کے بچے نئے کپڑے پہن کر یہاں موجود تھے۔ بہت سارے پیارے پیارے لوگ ہم سے ملنے کیلئے بھی آرہے تھے۔ میں نے یہیں قائد اعظم کو بھی دیکھا۔ تصویر میں تو وہ اتنے دبلے پتلے دکھتے ہیں مگر یہاں تو وہ اتنے صحت مند ہیں۔ پہلے تو میں انہیں پہچانا ہی نہیں۔ پھر مجھے میرے ایک دوست نے بتایا کہ یہ قائد اعظم محمد علی جناح ہیں۔ اور آپ کو پتہ ہے انکل؟ ہم اسکول میں سنتے تھے قائداعظم بہت بہادر انسان تھے مگر یہاں آکر میں نے خود دیکھا، قائد اعظم لڑکیوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ شیم شیم!!


ابو کہتے تھے کہ بڑوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے اس لیئے میں نے ان کے سامنے کچھ نہیں کہا۔ بعد میں ہم سارے دوست مل کر اتنا ہنسے ان پر۔ بیچارے قائد اعظم۔ ارے ابو سے یاد آیا مجھے ابو کو بھی سلام بولنا تھا۔ آپ میرے ابو کو جانتے ہیں؟ مگر آپ میرے ابو کو کیسے جان سکتے ہیں؟ میرے ابو کو تو صرف وہی جان سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے لخت جگر کو مٹی کے نیچے دفن ہوتے دیکھا ہو۔ مگر یہ تو بڑوں والی بات ہوگئی۔ ابو کہتے تھے بچوں کو اپنی عمر کے حساب سے باتیں کرنی چاہیئیں۔ سوری ابو! آپ کی اگر میرے ابو سے بات ہو تو انہیں یہ مت بتائیے گا کہ میرے پیٹ میں گولی لگی ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ایک دفعہ میں سیڑھیوں سے گر کر اپنا سر پھاڑ بیٹھا تھا۔ اس وقت گھر میں گاڑی نہیں تھی تو ابو مجھے پیدل ہی اٹھا کر چار کلومیٹر دور ہسپتال بھاگے تھے۔ بغیر رکے۔ میرے ابو بہت اچھے ایتھلیٹ ہیں۔ وہ روزانہ صبح دوڑنے باغ میں جاتے ہیں اور بغیر ہانپے میدان کے کئی چکر لگا لیتے ہیں۔ مجھے اتنی ہنسی آتی تھی جب وہ کہتے تھے کہ میں ان کا سہارا ہوں۔ بھلا بتائیں، ابو کو سہارے کی کیا ضرورت؟ وہ تو خود اتنے مضبوط اور طاقتور ہیں۔ تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ اس دن جب میرا سر پھٹا تھا تو ابو نے دفتر سے چھٹی لے لی تھی۔ جب تک میں بستر پر رہا، ابو میری چارپائی کے سرہانے لگے بیٹھے رہے۔ انہیں میری تکلیف کا پتہ چلے گا تو وہ بہت اداس ہوں گے۔ میں ابو سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میری وجہ سے اداس ہوں۔ آپ نہیں بتائیں گے نا؟؟


اور آخری بات مجھے آپ سے کرنی ہے۔ نجانے کیوں مجھے یہ لگتا ہے کہ جب میرے جانے کی خبر ٹیلیویژن پر آئے گی تو ملک بھر میں کہرام مچ جائے گا۔ سب لوگ مجھے مارنے والوں کو گالیاں دیں گے۔ احتجاج کیا جائے گا۔ میری یاد میں شمعیں روشن ہوں گی۔ آپ بھی ایسے ہی کسی پروگرام میں شریک ہوکر اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے بعد اگلے بچے کے مرنے تک مکمل خاموشی پھیل جائے گی۔ پیارے انکل! میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے نہیں جانتے! مگر نجانے کیوں میرا دل کر رہا ہے کہ میں آپ سے ایک ننھی سی فرمائش کردوں۔ کیا آپ میرے لیئے اتنا کر سکتے ہیں کہ کل خواہ کسی احتجاجی جلوس میں جائیں یا نہ جائیں، مگر مجھ اور میرے جیسے ایک سو تیس بچوں کیلئے ایک کام کردیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا دشمن اپنے ارادے میں کامیاب ہو! اس نے صرف میری جان نہیں لی، اس نے میرے پیارے پاکستان کو ایک سو تیس ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدانوں، فنکاروں، کھلاڑیوں سے محروم کردیا ہے جنہوں نے آگے چل کر پاکستان کا نام روشن کرنا تھا۔ کیا آپ کل کے احتجاج کیلئے استعمال ہونے والا پیٹرول، پلے کارڈ، موم بتی، وغیرہ کے پیسے بچا کر، پورے پاکستان میں کہیں بھی، کسی بھی ایک، صرف ایک بچے کے تعلیمی اخراجات کا ذمہ اٹھا سکتے ہیں؟ پلیز؟ پلیز؟ پلیز؟


والسلام


پیاری ڈائری! اب تم ہی بتائو کہ میں کیا جواب دوں؟




[caption id="attachment_622" align="aligncenter" width="492"]They went to school and never came back They went to school and never came back[/caption]

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2014

نفسیاتی

"عجیب نفسیاتی عورت ہیں آپ۔ نجانے کون لوگ ہیں جو ممتا کے قصیدے اور مائوں کی بےپناہ محبت کے فسانے ہر وقت الاپتے رہتے ہیں۔ مجھے تو آپ سے کبھی بھی سوائے سرد مہری کے کچھ نہیں ملا۔ یا تو وہ تمام لوگ جھوٹے ہیں یا آپ میں ہی کچھ کھوٹ ہے۔ یا پھر میں آپ کا خون نہیں بلکہ لےپالک بیٹا ہوں جو کبھی بھی آپ کی الفت کا حق دار نہیں بن سکتا۔" میں آج پھر دن بھر کا غصہ امی پر چنگھاڑ کر نکال رہا تھا اور وہ روز ہی کی طرح خاموش لیٹی مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔


لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ سن اور بول نہیں سکتی تھیں؛ مگر مجھے یہ بات کسی بھی طرح ہضم نہیں ہوتی تھی۔ جس سفاکی کے ساتھ وہ میری باتوں پر مسکراتی تھیں، مجھے لگتا تھا کہ وہ سن  اور بول دونوں سکتی ہیں مگر صرف مجھے زچ کرنے کیلئے اس طرح خاموشی سے لیٹی رہتی ہیں۔


کبھی کبھی مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ ایک کھیل سمجھ کرکرتی ہیں۔  وہ چاہتی ہیں کہ میں غصہ کروں، چلائوں، اور آخر میں زچ ہوکر روپڑوں اور اس طرح وہ مجھے احساس دلائیں کہ میں اب بھی وہی چھوٹا سا بچہ ہوں جو بات بات پر ضبط کھو بیٹھتا تھا۔ جو ان کی زرا سی ناراضگی پر اس وقت تک رویا کرتا تھا جب تک وہ خود اسے اپنی ممتا کی آغوش میں نہ چھپا لیتیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں اتنا بڑا ہونے کے بعد بھی ان کے ساتھ  بچوں ہی کی طرح برتائو کروں۔ ان کے آگے پیچھے گھوموں۔ اپنی ہر ضرورت کو ان سے جوڑ کر رکھوں۔ ان کے گلے میں جھولتا رہوں۔ ان سے فرمائشیں کروں۔ ناز دکھائوں اور لاڈ اٹھوائوں۔ ان کو دیکھتے ہی پہلے جیسا بچہ بن جائوں۔ مگر امی کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہے۔ اب میں بچہ نہیں رہا ہوں! اب میں انتیس سال کا جوان ہوں۔


اور یہ چیزیں تو میں نے اس وقت بھی نہیں کی تھیں جب میں واقعتاّ بچہ تھا۔ یہ نہیں کہ مجھے ان سب چیزوں کا شوق نہیں تھا، بات صرف اتنی  تھی کہ امی بہت  سفاک عورت تھیں۔ ایک تو میرے بچپن میں ہی مرگئیں اور  دوسرا جاتے ہوئے میرا بچپن بھی اپنے ساتھ لے گئیں۔ اوراب،  پچھلے چھبیس سال کی طرح آج بھی میں ان کی قبر پر بیٹھا انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ان کی یہ خواہشات فضول ہیں اور چونکہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی وہ دنیا سے چلی گئی تھیں لہٰذا میں چاہ کر بھی ایسے انسان سے محبت نہیں کرسکتا جس کو میں نے اپنے مکمل عقل و ہوش کی حالت میں نہ دیکھا ہو یا جس کے ساتھ میں نے وقت نہ گزارا ہو۔ اور پچھلے چھبیس سال کی طرح آج بھی امی قبر میں لیٹی میری باتیں سن کر ایسے مسکرا رہی ہیں جیسے انہیں میری باتوں کا یقین ہی نہ ہو۔ عجیب نفسیاتی عورت ہیں۔

بدھ، 10 ستمبر، 2014

ہیجڑا

اس ہجوم میں پھنسے ہوئے مجھے اب بیس منٹ ہونے کو آرہے تھے مگرٹریفک تھا کہ ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آج دن ہی خراب تھا۔ میرے دفتر کے ساتھی عاطف صاحب جو خیر سے کروڑوں نہیں تو لاکھوں کے گھپلوں میں ملوث ہیں آج ترقی پاکر مجھ سے اوپر آگئے ہیں۔ ہم دونوں  ایک ہی ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں اور جب ان کی ترقی ہورہی تھی تو ادارے کے ڈائریکٹر نے مجھ سے بھی ان کے بارے میں رائے مانگی تھی کہ گھپلوں کی کچھ اڑتی اڑتی شکایات اس تک بھی پہنچی تھیں۔ میرا دل تو کیا کہ میں سارا کچا چٹھہ کھول کر رکھ دوں مگر پھر یہ سوچ کر چپ ہوگیا کہ اگر بات باہر نکلی تو بلاوجہ کی دشمنی ہوجائے گی اور کراچی جیسے شہر میں کسی کا کیا بھروسہ؟ ہوسکتا ہے کہ آپ کسی شخص کو معمولی سمجھتے ہوں اور اس کے تعلقات کسی برائے نام کالعدم تنظیم سے ہوں؟ یا پھر وہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہو جو کل کو آپ سے مخاصمت پال لے؟ میں نے ڈائریکٹر صاحب کو کہہ دیا کہ میں نے عاطف صاحب میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ عاطف صاحب نہ صرف اس انکوائری سے باعزت باہر آگئے بلکہ کمپنی نے مزید بزمدگی سے بچنے کیلئے زر تلافی کے طور پر ان کی ترقی وقت سے پہلے ہی کردی۔ آج ہی پتہ چلا ہے کہ اگلے مہینے کی یکم تاریخ سے اب وہ میرے بوس ہونگے۔
صبح صبح یہ خبر سن کر ویسے ہی دماغ کی بتی بجھ گئی تھی اوپر سے جھوٹے منہ عاطف صاحب کو مبارک باد اور ان کے ناکردہ کارناموں کی تعریف بھی کرنی پڑ گئی۔ جب تک لنچ کا ٹائم آتا تب تک میرا موڈ مکمل طور پر خراب ہوچکا تھا۔ لنچ کے دوران سلمان صاحب اور احمد بھائی کے درمیان کی وہی فرقہ وارانہ بحث دوبارہ شروع ہوگئی کہ دونوں میں سے کس کا مسلک زیادہ مظلوم ہے اور کس نے اب تک زیادہ نقصانات اٹھائے ہیں۔ ایک شام میں ہونے والے مظالم پر گریہ کناں تھا تو دوسرے کو بحرین کے مسلمانوں کا غم کھائے جارہا تھا۔ دل تو کیا کہ پوچھ لوں کہ آیا ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے آج فجر کی نماز پڑھی ہے؟ پھر مگر خیال آیا کہ یہ ان دونوں کی ذاتی بحث ہے اور ایسے مباحثوں میں پڑ کر سوائے نقصان کے کچھ نہیں ملنا۔ اگر غلطی سے بھی سلمان صاحب کے حق میں بول دیا تو احمد صاحب ناراض ہوجاتے اور اگر احمد صاحب کی کسی بات کی تائید کردیتا تو سلمان صاحب سے تعلقات منقطع کرنے پڑجاتے۔ بہتری جان کر میں خاموش ہورہا ورنہ دل تو یہ بھی کر رہا تھا ان دونوں کو قرآن کی وہ آیت یاد دلائوں جس میں مالکِ کائنات تمام غیر مسلموں کو یہ پیشکش کررہا ہے کہ آئو ہم تم (کم سے کم) ان باتوں پر متفق ہوجائیں جو ہم میں تم میں یکساں ہیں۔ ایک طرف دین غیر مسلموں سے مشترک چیزیں ڈھونڈ کر ایک جگہ اکٹھا ہونے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف دیندار ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ چیزیں جمع کرتے پھرتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ یہ ایک ہی مذہب کے دو مختلف مسالک نہیں بلکہ سراسر دو الگ ادیان ہیں۔ جتنی محنت ہم ایک دوسرے کو کافر ٹھہرانے میں کرتے ہیں اس کی آدھی محنت سے پوری دنیا مسلمان ہوسکتی تھی۔
بحث کے کثیف ماحول میں کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں کھایا گیا۔ واپس اپنی میز آگیا اور اس پریزنٹیشن پر کام کرنے لگا جو عاطف صاحب نے باس بننے کی پیشگی قسط کے طور پر میرے متھے مار دی تھی۔ تین گھنٹے کی عرق ریزی کے بعد جاکر وہ پریزنٹیشن تیار ہوہی گئی تھی کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ پاورجنریٹر کے زریعے بجلی بحال ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ میں فائل کو محفوظ کرنا بھول چکا ہوں اور کمپیوٹر مٰیں اب اس فائل کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے جس کے پیچھے میں نے اپنی پوری دوپہر کالی کی تھی۔ بال نوچتے ہوئے نئے سرے سے کام کرنا شروع کردیا اور پھر کام ختم کرنے کیلئے دفتر میں بھی دیر تک رکنا پڑا۔
دفتر سے گھر پہنچا تو شدید بھوک لگی تھی۔ کافی عرصے سے گھر والوں کو بھی کھانے پر کہیں باہر نہیں لیکر گیا تھا اور یہ خیال بھی تھا کہ شاید باہر جاکر سب کے ساتھ اس طرح بیٹھ کر کھانے سے پورے دن کی کلفت دور ہوجائے گی۔ میں بیوی بچوں کو لیکر کھانا کھانے آگیا۔ کھانا بہت شاندار تھا اور واقعی سارے دن کی کلفتیں مٹاگیا۔ واپسی میں البتہ یہ ٹریفک ایک مرتبہ پھر میرا منہ چڑا رہا تھا جس میں میں اب گزشتہ بیس منٹ سے پھنسا ہوا تھا اور اگلے بیس منٹ تک بھی اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں تھے۔
جب گاڑی میں بیٹھے بیٹھے تنگ آگیا تو میں نے اتر کر صورتحال خود دیکھنے کا فیصلہ کرلیا۔  گاڑیوں کی طویل قطار کو عبور کرتا ہوا میں لوگوں کے اس ہجوم میں پہنچ گیا جو گھیرا بنا کر  کھڑے ہوئے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ ہجوم کے گھیرے میں ایک وڈیرہ نما انسان شراب کے نشے میں مخمور ایک زنخے کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے اپنی بیش قیمت پجارو میں بٹھانے کی کوشش کررہا تھا جبکہ اس مریل سے زنخے نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر اسے کوسنے دے رہا تھا اور اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا تھا مگر اس وڈیرے پر اس کی چیخ و پکار کا کوئی اثر نہیں تھا۔ وہ اسے بالوں سے پکڑ کر گاڑی کی جانب گھسیٹتا اور جواب میں وہ زنخا اپنی پوری جان لگا کر زمین سے چمٹنے کی کوشش کرتا اور بالوں کی تکلیف سے بےنیاز گاڑی سے دور جانے کیلئے اپنا پور زور لگا دیتا۔
معاملہ ویسے تو بالکل واضح تھا مگر میں نے ہجوم میں شامل ہونے کی روایت نبھاتے ہوئے برابر میں کھڑے شخص سے معاملہ پوچھا تھا تو اس نے بتایا کہ یہ ملک کے ایک نامور جاگیردار  ہیں جو اس وقت رنگین پانی کے خمار میں رنگین ہوگئے ہین۔   اشارے پر اس زنخے نے ان کے آگے دست سوال دراز کیا تھا اور اس دست سوال کے جواب میں جاگیردار صاحب دست درازی پر اتر آئے ہیں۔ میں  نے معصوم بنتے ہوئے پوچھا کہ کوئی ان صاحب کو روکتا کیوں نہیں؟ کچھ بولتا کیوں نہیں؟ اس شخص نے غصے سے مجھے دیکھا اور بولا کہ اتنی محبت جاگ رہی ہے تو تم روک لو؟ تم بول دو؟ ہم کم سے کم دل سے تو برا جان رہے ہیں اس برائی کو، اور بھلے کمتر سہی مگر یہ بھی ایمان کا ایک درجہ ہے۔ مزید کچھ کہہ کر میں مزید بے عزت نہیں ہونا چاہتا تھا سو میں بھی خاموشی سے ہجوم کے بیچ کھڑا تماشہ دیکھنے لگا۔
جاگیردار اور زنخا دونوں ہی تھک چکے تھے مگر دونوں ہی ہار ماننے کو تیار نہیں تھے، زاویہ الگ تھا مگر بات اب دونوں کی عزت کی تھی سو کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ ان دونوں کی زور آزمائی جاری ہی تھی اچانک ہجوم میں ہلچل ہوئی اور ہجوم کو چیرتے ہوئے ایک اور زنخا اپنے ساتھی کی مدد کیلئے میدان میں کود پڑا۔ دو اور ایک کی لڑائی میں فتح دو کی ہی ہوئی اور نئے آنے والے زنخے نے نہ صرف اپنے ساتھی کو چھڑایا بلکہ اس جاگیردار کی بھی طبیعت صاف کردی۔ وہ جاگیردار اچھی خاصی مرمت کروانے کے بعد برے انجام کی دھمکی دیتا ہوا گاڑی میں سوار ہوکر بھاگ گیا۔
ہجوم چھٹنا شروع ہوا تو میں بھی بھاگ کر گاؑڑی میں سوار ہوگیا اور ہجوم کے مکمل چھٹنے کے بعد آہستہ آہستہ ٹریفک کے ساتھ چلنا شروع ہوگیا۔  جب گاڑی اس اشارے  پر پہنچی جہاں یہ سب فساد ہورہا تھا تو اشارہ ایک بار پھر سرخ ہوگیا۔ میں اشارہ کھلنے کا انتطار کر ہی رہا تھا کہ شیشے پر دستک ہوئی۔ میں نے نظر پھیر کر دیکھا تو باہر سے آنے والا دوسرا زنخا بھیک کا طلب گار تھا۔ میں نے خاموشی سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور بیس کا ایک نوٹ اسے نکال کر دے دیا۔ جب وہ جانے لگا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اسے ڈر نہیں لگتا؟ کل کو وہ جاگیردار اپنے گرگے لیکر آگیا تو؟ تمہارا تو یہ روز کا ٹھکانہ ہے، وہ کسی بھی دن موقع دیکھ کر بدلہ لے لے گا! اس زنخے نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور بولا، صاحب! ڈرنے کیلئے ایک اللہ کی ذات کافی ہے! ان جیسے کتوں کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر ڈرو گے تو اور بھونکے گا اور اگر پلٹ کر پتھر مارو گے تو دم دبا کر بھاگ جائے گا۔ روز ہی کسی جاگیردار اور غنڈے سے نمٹتے ہیں، اب کیا ان سے ڈر کر روز مرتے رہیں؟ ایک دفعہ کی تکلیف روز روز کے عذاب سے بہتر ہوتی ہے۔
اشارہ کھل گیا اور وہ زنخا بھی واپس فٹ پاتھ پر جاکر دوبارہ اشارہ بند ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ میں شاید ساری عمر ہی وہاں دم بخود کھڑا رہ جاتا مگر پیچھے سے آنے والے ہارن کے مسلسل شور سے میں چونک گیا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ گاڑی آگے بڑھی تو پیچھے والی سیٹ سے میرا نو سال کا بیٹا اپنی معلومات کا رعب جھاڑنے کیلئے سوالیہ انداز میں بولا، بابا یہ ہیجڑا تھا نا؟ میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سچ بولنے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے جواب دیا، بیٹا یہ ہیجڑا نہیں تھا، یہی تو واحد مرد تھا!! ہیجڑے تو ہم ہیں!!!

بلاگ فالوورز

آمدورفت