Urdu Story لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Urdu Story لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 اپریل، 2017

مریض - 4

میرا نام عاطف علی ہے اور میں ایک مریض ہوں۔ میرا مرض عام لوگوں جیسا نہیں جس میں مریض خود تڑپتا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر ترس کھاتے ہیں۔ میرے مرض میں لوگ میری بیماری کی وجہ سے تکلیف سے تڑپتے ہیں اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

میں بچپن سے ایسا نہیں تھا۔ پہلے میں بھی عام لوگوں کی طرح ہنستا، گاتا اور مسکرا تا تھا۔ پھر میری اس معصومیت بھری پر کیف زندگی کو شاید  کسی کی نظر لگ گئی اور میں لڑکپن سے نکل کر مردانگی کی عمر کو پہنچ گیا۔ اب مجھے اٹھتے بیٹھتے خواتین کا خیال ستانے لگا۔ میں جہاں جاتا تھا میری خواہش ہوتی کہ میرے ارد گرد خواتین کی ایک بھیڑ ہو جن کی گفتگو اور زندگی کا محور صرف میری ذات ہو۔ میں جہاں کسی عورت کو دیکھتا اس سے بلا وجہ بات شروع کرنے کی کوشش میں لگ جاتا۔ گھر، محلہ، سوشل میڈیا ، ہر جگہ میری زندگی کا مقصد صرف خواتین کا قرب ہوتا تھا۔  میرے دوست احباب مجھے ٹھرکی بلاتے تھے ، میرے منہ پر مجھ پہ ہنستے تھے،  بہت سی خواتین مجھے دیکھ کر ادھر ادھر ہوجاتی تھیں، مگر مجھے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔

میں اپنی اس ٹھرک زدہ زندگی میں مگن تھا اور اپنی اس بیماری پر راضی تھا۔ میرے محلے دار البتہ میری اس صورتحال پر شدید پریشان تھے۔ محلے کی خواتین اللہ سے اتنا نہیں ڈرتی تھیں جتنا لال بیگ، چھپکلی اور مجھ سے ڈرتی تھیں۔ میری حرکات سے تنگ آ کر  محلے کی خواتین نے فیس بک کے کسی گروپ میں میری اس بیماری کا ذکر کیا اور  پھر وہاں سے ایک مشہور ڈاکٹر کا پتہ نکالا گیا جو نفسیاتی عوارض کے علاج کیلئے مشہور تھے۔  چونکہ علاج کی فکر بھی مجھ سے زیادہ  محلے داروں کو تھی لہٰذا علاج کا خرچ بھی ان کے ذمے رہا اور مجھے ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں پہنچا دیا گیا۔

جب میں کلینک میں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب  پہلے ہی کسی مریض کے ساتھ موجود تھے اور ان کی آواز باہر تک آرہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب اس مریض کو سمجھا رہے تھے کہ مرد دنیا کی مظلوم ترین اور شریف ترین مخلوق ہے۔ شریف ترین اس لیئے کہ اگر عورت ایک دفعہ کہہ دے کہ اس کے بچے کا باپ وہ ہے تو مرد بالعموم بغیر کسی ڈی این اے ٹیسٹ کے اس کی بات کو سچ مان لیتا ہے اورپھر  ساری عمر اس بچے کے اخراجات ہنسی خوشی محض اس لیئے برداشت کرتا ہے کیونکہ اس کی عورت نے ایک بار کہہ دیا ہوتا ہے کہ وہ  بچہ اس کا ہے۔ بعض خوش نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بچوں کی شکلیں ان سے ملتی ہوئی ہوتی ہیں جس سے دل کو تسلی رہتی ہے وگرنہ بصورت دیگر بھی مرد سوال کرنے کا مجاز نہیں۔ اب اس سے زیادہ اور کیا شرافت ہو سکتی ہے کہ محض کسی شخص کے کہنے پر آپ ایک بچے کو اپنا مان لیں؟ اور جہاں تک مظلومیت کا سوال ہے تو مظلوم اس لیئے کہ پیدائش کے ساتھ ہی اسے سکھا دیا جاتا ہے کہ مرد روتے نہیں ہیں۔

یہ بیچارہ اپنے تمام دکھ اپنی ذات میں سمیٹے  اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے۔  یہ چاہے بھی تو کسی سے اپنا غم نہیں کہہ سکتا کہ بچپن کے خوف ساری عمر انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

 مرد کی انا بہت بڑی ہوتی ہے۔  یہ ساری عمر اپنی انا کا بوجھ اٹھائے پھرتا رہتا ہے اور بسا اوقات اس ہی انا کے بوجھ تلے دب کر مر بھی جاتا ہے۔ اور یہ  انا  اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی دوسرے مرد کے سامنے اپنے دکھ کا اظہار کرسکے، روسکے! کیونکہ رونا تو کمزوری کی علامت ہے اور کمزوری مرد کیلئے وہ گالی ہے جو اس کی انا کبھی برداشت نہیں کرسکتی۔ محض اس گالی سے بچنے کیلئے وہ  صنفِ مخالف کا سہارا لیتا ہے۔

  میں نے صنف ِ نازک کا مروجہ لفظ اس لیئے استعمال نہیں کیا کیونکہ عورت بہت چالاک ہوتی ہے۔ اس نے ازل سے خود کو نازک مشہور کر کےمشقت طلب تمام کام مردوں کے ذمے ڈال دیئے ہیں۔ ایک انسانی جان کو دنیا میں لانے کیلئے جتنی طاقت اور برداشت چاہیئے وہ دو مرد مل کر بھی نہیں لا سکتے ، مگر پھر بھی صنف نازک کہلائے گی عورت ہی۔ ہم خود اپنی بیگمات کو پارلر لیکر جاتے ہیں جہاں وہ پیسے دیکر اپنے  بال نچواتی ہے۔ تصور بھی کرو ں کہ میرےجسم کے بال کوئی ایسے نوچ کے اکھاڑے تو  روح کانپ جاتی ہے ؟ پھر بھی صنف نازک کون ہے؟ عورت!

تھوڑی دیر تک کمرے میں خاموشی رہی اور پھر لائٹر کے جلنے کی آواز آئی۔ ڈاکٹر صاحب شاید جذباتی ہوگئی تھے اور اس جذباتی ہیجان کو سنبھالنے کیلئے تمباکو کا سہارا لے رہے تھے۔ میں ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھا تھا اور منتظر تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنی گفتگو دوبارہ شروع کریں۔ خاموشی تھوڑی دیر اور رہی پھر ڈاکٹر صاحب کی آواز دوبارہ ابھری۔ وہ کہہ رہے تھے کہ،  تو جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ مرد اپنی خود ساختہ انا کو بچاتے ہوئے اپنا غبار نکالنے  کیلئے اپنے دکھڑے صنفِ مخالف کو سنانا چاہتا ہے اور اس چیز کیلئے وہ عورت کے قر ب کا متلاشی ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ عورت کے قرب کی خواہش صرف اس ہی وجہ سے ہے۔ جسمانی و فطری تقاضے اپنی جگہ بالکل ویسے ہی موجود ہیں جیسے اول دن سے تھے۔ افزائش نسل ہر جانور کی فطرت ہے۔ اگر یہ چیز فطری نہ ہوتی تو میں اور آپ وجود ہی نہ رکھتے۔ تو وہ چیز بھی ہے اور بالکل ہے، مگر قرب کی خواہش کو صرف  افزائش نسل تک محدود کردینا بھی محض سطحیت اور حماقت ہے۔

ڈاکٹر صاحب! عورت کے قرب کی وجہ تو چلیں سمجھ میں آگئی ، مگر  وہ تو شادی  شدہ ہے؟ اس کے پاس ایک عورت موجود ہے جو اس کی فطری و نفسیاتی و  ۔۔۔۔  الغرض تمام ضروریات کو پورا کر سکتی ہے! مگر پھر بھی وہ خواتین کی طرف کیوں کھنچتا چلا جاتا ہے؟  کمرے میں سے ایک دوسری آواز ابھری ۔

ڈاکٹر صاحب کی جب آواز آئی تو مجھے لگا کہ وہ مسکرا رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ  بھوک ، پیاس اور دوسری بنیادی ضروریاتِ زندگی کی طرح یہ چیز  بھی عین فطری ہے۔ آپ کسی بھی جانور کو اگر دیکھتے ہیں تو وہ صرف ایک مادہ تک محدود نہیں ہوتا۔ ہاں مگر اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم بحیثیت انسان کس جگہ پر کھڑے ہیں۔ پیاس لگنا ایک فطری عمل ہے اور پانی اس پیاس کی تسکین کیلئے ہے۔ البتہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص جوہڑ میں سے بھی پانی پی کر تسکین پا جاتا ہے اور ایک شخص جب تک ایک مخصوص درجہ حرارت اور مخصوص نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا پانی نہ پیئے اسے تسکین نہیں ملتی۔ پیاس دونوں کی یکساں ہے، مگر ذاتی نفاست یہ طے کرے گی کہ تسکین کس درجے پر جاکر ملنی ہے۔ تو  اس سوال کا جواب بھی میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ آپ اس کا  درجۃ نفاست خود طے کریں کیونکہ وہ کہنے کی حد تک ہی سہی، مگر انسان ہےجبکہ جگہ جگہ منہ کتا مارا کرتا ہے۔

سوچ میں ڈوبی ہوئی دوسری آواز ابھری، مگر ڈاکٹر صاحب وہ کہتا ہے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے آپ کو خواتین کے قریب جانے سے نہیں روک پاتا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا  ہے کہ اپنی بیوی تک محدود رہے مگر شادی کے دس سال بعد ہم دونوں تقریباٗ بہن بھائی بن چکے ہیں۔ اسے تو اب یہ بھی یقین ہوگیا ہے کہ انجانے میں اگر اس کا ہاتھ کسی عورت کوچھو جائے اور جذبات میں کسی قسم کا کوئی تغیر نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی یعنی میں ہوں ۔ آپ خود بتائیں میں کیا کروں؟

 ڈاکٹر صاحب اب کی مرتبہ جب بولے تو ان کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ، ہم ایک جنس زدہ معاشرے میں رہتے ہیں۔  اسلامی اقدار کے نام پر ہم نے عورت کو تو پردے میں بٹھا دیا مگر اس ہی اسلام کے سکھائے ہوئے طریقے پر نکاح کو آسان کرنا بھول گئے۔  اب صورتحال یہ ہے کہ مرد اپنی فطرت کے مطابق  ساتھی کا متلاشی ہے اور ساتھی  بہت ساری وجوہات کی بنا  پر  گھر میں بند ہے۔طلب اور رسد کے اس بنیادی فرق کی وجہ سے معاشرہ اس حد تک گھٹن میں ہے کہ عورت کی ایک جھلک ، مرد کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کو کافی ہوچکی ہے۔ مرد  اپنی گھٹن نکالنا چاہتا ہے مگر نکال نہیں پا رہا ہے۔ یہاں تک پہنچ کر ڈاکٹر صاحب کی آواز بھرا گئی ۔ میں نے کان لگا کر سنا، ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے، ایسے میں اگر کوئی خوبصورت خاتون  آپ کے سامنے موجود ہو، جو حسن کے ساتھ شعور کے بھی اتنے بلند درجے پر ہو اور پھر بھی اپنے ٹھرکی شوہر کی حرکات سے تنگ ہو ، تو آپ اسے کیا مشورہ دے سکتے ہیں؟  میں تو یہی کہوں گا کہ وہ انسان آپ کے لائق ہے ہی نہیں۔  مگر آپ دل چھوٹا نہ کریں! خدا کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ آپ آج شام کو کیا کر رہی ہیں؟

میں ڈاکٹر صاحب کے کلینک سے اٹھا اور باہر آگیا۔ مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ میری بیماری ناقابل علاج ہے، یا کم سے کم اس عطار کے لونڈے کے پاس میر کی بیماری کا علاج ممکن نہیں۔

میرا نام  عاطف علی ہے اور آپ نے بالکل ٹھیک پہچانا، میں وہی مریض ہوں جو سگنل پر رکے ہوئے ہر رکشے کے اندر جھانک کر اپنی کسی کھوئی ہوئی بہن کو تلاش کر رہا ہوتا ہے۔

نوٹ: لاکھوں سال پرانی مردانہ ٹھرک کا علاج اگر آپ  تین صفحات کے کسی بلاگ میں ڈھونڈ رہے تھے تو ٹھرک سے پہلے آپ کو دماغ کا علاج کروانا چاہیئے۔ شکریہ

بدھ، 2 نومبر، 2016

23 اکتوبر

سر مجھے لگ رہا ہے کہ یہ جو بھی کچھ ہورہا ہے وہ محض اتفاقی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ضرور کوئی منصوبہ ساز زہن موجود ہے جو انتہائی صفائی اور مہارت سے یہ کام کر رہا ہے۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ وہ کیوں یہ کام کر رہا ہے مگر یہ جو ایک دو واقعات میں نے آپ کو بیان کیے ہیں تو سر  ان کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ ۔۔۔۔ سر آپ میری بات مانیں نہ مانیں یہ یقینا کوئی سیریل کلر ہے جو اتنا شاطر ہے کہ پولیس کی نظروں میں آئے بغیر گزشتہ پانچ سالوں سے یہ کام کر رہا ہے! سر آپ بس مجھے اجازت دیں تو میں باقاعدہ کیس فائل کرکے تحقیقات شروع کردوں؟ میرا ماتحت آفیسر اس وقت میرے سامنے بیٹھا نہایت جذباتی انداز میں تیز تیز اور مسلسل بول رہا تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرایا اور پانی پینے کو کہا۔ وہ پانی پی کر فارغ ہوا تو میں نے اسے سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کی وجہ سے جذباتی ہورہا ہے اور  معاملہ ایک بڑے ہسپتال اور اس کی ساکھ کا ہے۔ غلط کیس فائل ہوا اور میڈیا کو کیس فائل ہونے کی خبر مل گئی تو ہسپتال والے اتنے طاقتور ہیں کہ ہم دونوں کو اٹھوا کر گھر بھجوا دیں گے اور شہرت خراب کرنے پر ہتک عزت کا دعویٰ الگ ہوگا۔ بہتر یہی ہوگا کہ وہ  چند دن  دفتر نہ آئے اور باہر سے ہی اپنے طور پر یہ تحقیقات خفیہ طریقے سے جاری رکھے اور مجھے مطلع  کرے۔ مناسب ثبوت بہم ہوجانے پر ہم کیس فائل کرکے معاملے کو دیکھ لیں گے۔
اس کو وہاں سے رخصت کرنے کے بعد میں نے فون اٹھایا اور اس ہی ہسپتال میں کام کرنے والی اپنی چھوٹی بہن کو بھی خبردار کردیا کہ وہ  رازاداری کے ساتھ اردگرد نظر رکھے اور کسی بھی گڑبڑ کے نتیجے میں مجھے فوری طور پر مطلع کرے۔ فون کال نمٹا کر میں نے سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی اور تھانے کے احاطے میں کھڑا ہوکر سگریٹ پیتے ہوئے معاملے کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنے لگا۔
میرے ماتحت آفیسر کے بیان کے مطابق یہ معاملہ ابھی پولیس کی نظروں میں آیا ہی نہیں تھا جبکہ قتل کی یہ وارداتیں پچھلے پانچ سال سے جاری تھیں۔  اس کو بھی اس معاملے کی بھنک ایسے پڑی تھی کہ اس کی بیوی اس ہسپتال میں زچگی کے سلسلے میں گئی تھی اور جان کی بازی ہار گئی تھی۔ بیوی کی موت کے فورا بعد یعنی دو گھنٹوں میں ہی  ہسپتال والوں نے بچے کو بھی مردہ قرار دے دیا تھا۔ شاید کوئی اور ہوتا تو اس معاملے کو خدا کی مرضی قرار دے کر رو پیٹ لیتا مگر پولیس والوں اور بالخصوص تفتیشی افسران کا مزاج عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ میرے ماتحت کو یہ شک گزرا کہ یہ اموات جتنے عجیب انداز میں ہوئیں وہ طبعی موت نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا معاملہ تھا۔ ہسپتال کا نام بہت بڑا تھا اس لئے  مجرمانہ غفلت کا براہ راست الزام لگانے کے مضمرات سے وہ آگاہ تھا۔ کیس کو مضبوط کرنے کے لئے اس نے اپنے ذرائع سے تحقیقات کیں تو ایک عجیب سی خبر اس کے سامنے آئی کہ  زچہ و بچہ کی موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ پچھلے پانچ سال سے ہر سال اکتوبر کے مہینے میں اس قسم کے واقعات اس ہسپتال میں ہوتے آئے تھے ۔  یہ معلومات ملتے ہی وہ جذبات میں دوڑتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا تھا اور مجھ سے کیس درج کرنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ سگریٹ  ختم کرکے میں نے اس کیس کے سلسلے میں دماغ میں آنے والے تمام فالتو خیالات کو جھٹکا اور واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے طے کرلیا تھا کہ اب اس معاملے پر تب ہی سوچوں گا جب کچھ مزید اطلاعات میرے سامنے آئیں گی۔


اس بات کو گزرے چار دن  ہوگئے تھے اور میرا ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا۔ میں اپنی بہن سے بھی معاملے کی مسلسل سن گن لے رہا تھا مگر اس  نے بھی اردگرد کوئی غیرمعمولی چیز محسوس نہیں کی تھی۔ میں پچھلے دو دن سے مسلسل دفتر سے واپسی میں اس کے گھر جارہا تھا مگر ہر مرتبہ یہی معلوم ہوتا کہ وہ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے گھر سے نکلا ہے اور جب میں اس کے موبائل پر فون کرتا تو گھنٹی بجتی مگر کوئی جواب نہ آتا۔ میں نے اس کے گھر والوں کو بھی بول رکھا تھا کہ وہ جب بھی گھر آئے تو اسے مجھ سے رابطہ کرنے کو کہیں مگر یا تو گھر والے اسے میرا پیغام نہیں پہنچا رہے تھے یا وہ خود مجھ سے کترا رہا تھا۔ آج میں نے سوچ لیا تھا کہ دفتر سے واپسی میں میں اس کے گھر جاؤں گا اور وہیں بیٹھ کر اس وقت تک اس کا انتظار کروں گا جب تک وہ واپس نہیں آجاتا۔
دفتر میں بہت سے توجہ طلب امور تھے مگر میرا دھیان اس ہی میں اٹکا ہوا تھا۔ کافی دیر تک بھی جب میں کسی اور چیز پر توجہ مرکوز نہ کرسکا تو میں نے جھلا کر اسے کال کرنے کے لئے موبائل نکالا تو اس ہی وقت سکرین پر اس کا نام جگمگانے لگا۔ میں نے فورا کال اٹھائی اور اس سے پہلے کہ میں اسے پچھلے چار دن پر مغلظات سناتا اس کی نہایت پرجوش آواز ابھری، سر! میرا شک صحیح نکلا۔ آپ بس جلدی سے ہسپتال پہنچ جائیں میں ہسپتال کے  سامنے والے ہوٹل میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ باقی تفصیلات میں مل کر بتاتا ہوں۔
میں گاڑی اڑاتا ہوا سیدھا ہسپتال کے سامنے واقع ہوٹل پر پہنچ گیا۔ وہ ہوٹل کے باہر پڑی کرسی پر بیٹھا ہسپتال کے دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھا تھا۔ میں اتر کر اس کے پاس گیا تو اس نے عادتا مجھے سلوٹ کردیا۔ وہ اس وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا اور مجھے لگا کہ لوگ اس کے اس طرح مجھے سلوٹ کرنے پر چونکے ہیں مگر پھر مجھے خیال آیا کہ میں تو وردی میں موجود تھا اور یہ سراسیمگی میرے آنے کی وجہ سے پھیلی تھی۔ میں نے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے برابر میں موجود کرسی سنبھال لی اور اردگرد  کی کرسیوں پر موجود لوگوں کو اٹھنے کا اشارہ کردیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے گفتگو کوئی اور سنے اور لوگ تو ویسے ہی ہم سے دور بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں سو چند ہی لمحوں میں ہم دونوں اکیلے رہ گئے تھے۔
پہلے پانچ منٹ تو میرے اسے اس طرح غائب ہونے پر مغلظات سنانے میں لگ گئے مگر اس کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی ٹھوس چیز کے میرا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے فون پر بات کرنے میں متامل تھا۔  چار گالیاں اس احمقانہ سوچ پر مزید کھانے کے بعد وہ معاملے کی تفصیلات پر آگیا۔
میرے ماتحت کے مطابق اس نے اکتوبر کے مہینے سے جڑے ان حادثات کو کھوجنے کے لئے ہسپتال کے سٹاف کو کھنگالنے کی کوشش کی  کہ ان میں سے کس کس کا اس مہینے سے کوئی خاص تعلق ہوسکتا ہے۔  پہلے مرحلے میں اس نے ہسپتال کے ہیومن ریسورس مینجر کو اپنی نوکری کی دھونس جمائے بغیر محض بندوق دکھا کر تمام سٹاف کا ڈیٹا حاصل کیا اور اس میں سے اکتوبر کی تاریخ پیدائش والے تمام  افراد کی نشاندہی کر لی۔ اس کے شک کا دائرہ اب ہسپتال کے چار سو سٹاف سے سمٹ کر محض سینتیس لوگوں پر رہ گیا تھا  امگر ایک دو کی بات ہوتی تو ٹھیک تھا ، وہ ذاتی حیثیت میں سینتیس لوگوں کو شامل تفتیش نہیں کرسکتا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ اب معاملہ یہیں ختم ہوجائے گا مگر قدرت اس پر مہربان ہوگئی جب اس نے کل رات سوچوں کے درمیان  بے دھیانی میں ہسپتال سے ملنے والی اپنی بیوی کی کیس فائل کھولی اور اسے ڈاکٹر کے خانے میں جو نام دکھا وہ اکتوبر میں پیدا ہونے والے ان افراد کی فہرست میں موجود تھا۔ اس کے بقول وہ رات بھر سو نہیں سکا اور صبح ہی ہسپتال پہنچ کر اس ہی ہیومن ریسورس مینجر کے ساتھ موجود تھا جس نے اسے پہلے بھی ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ قسمت اس پر مسلسل مہربان تھی کہ وہ شخص ہیومن ریسورس مینجر  اور ایک توپ افسر ہونے کے ناطے ہسپتال کے تمام ستاف کی حاضری اور ہسپتال کے میڈیکل ریکارڈ دونوں تک رسائی رکھتا تھا۔ میرے ماتحت کے مطابق جیسے ہی اسے پتہ چلا  کہ پچھلے پانچ سال میں ہونے والی تمام زچہ و بچہ کی اموات کے وقت محض ایک شخص تھا جو ڈیوٹی پر موجود تھا تو اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس شخص کا نام وہ اپنی بیوی کے میڈیکل ریکارڈ میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔  وہ ڈاکٹر اس وقت بھی ہسپتال میں موجود تھی اور اب ہم دونوں ہسپتال میں تماشہ نہ بنانے کے لئے ہسپتال کے باہر اس کے منتظر تھے کہ وہ کب ڈیوٹی ختم کرکے نکلے اور ہم اسے اس کے گھر جا کر دھر لیں۔ میرا ماتحت ہسپتال کے ریکارڈ سے اس کا پتہ نکال لایا تھا مگر میں اپنی بہن کے حوالے سے میں اسے جانتا تھا  اور میں جانتا تھا کہ یہ ایک فرضی پتہ ہے۔ میں اس سفاک قاتل کا پتہ جانتا تھا جو ہسپتال سے پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی واقع ایک پوش علاقے میں مکین تھی لہٰذا میں نے اپنے ماتحت کو ساتھ لیا اور اس کے گھر کے سامنے والے پارک میں جا کر انتظار کرنے لگا ۔
شام پانچ بجے اس کی ڈیوٹی ختم ہوئی تھی اور ٹھیک پانچ بج کر سولہ منٹ پر وہ اپنے گھر کا دروازہ کھول رہی تھی کہ میں نے اپنے ماتحت کے ساتھ اسے جالیا۔ وہ مجھے میرے ماتحت کے ساتھ اور اس طرح وردی میں دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی تھی۔ میں نے اسے دروازہ کھول کر اندر چلنے کا اشارہ کیا۔
گھر میں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ ہم اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئے۔ میں نے اپنے ماتحت کو اشارہ کیا اور اس نے پورا معاملہ اس لڑکی کے سامنے رکھ دیا کہ کس طرح پولیس کو اب اس کی سفاک حرکات کا پتہ چل گیا ہے ۔ میرے ماتحت کی بات سن کر وہ بری طرح سے پھوٹ بہی مگر ہم دونوں وقت کے ساتھ اتنے پکے ہوچکے تھے کہ اب کسی  کے آنسو ہم پر اثرانداز نہیں ہوتے تھے۔ اس نے جرم سے انکار نہیں کیا اور دھیمے لہجے میں بولی کہ اب مجھے کیا کرنا ہوگا؟  مجھے لگا کہ میرا ماتحت بھی اس کے اتنی جلدی اقبال جرم کی امید نہیں کر رہا تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ اس کا ہر قتل کے وقت ہسپتال میں موجود ہونا اسے کسی بھی عدالت میں قاتل نہیں ثابت کرسکتا تھااور ایک معمولی وکیل بھی ہمارے مقدمے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا۔ اور جب یہ بات ہم دونوں جانتے تھے تو اتنی مہارت سے قتل کرنے والی وہ بظاہر معمصوم دکھنے والی شاطر لڑکی کیوں واقف نہیں ہوگی؟ وہ لڑکی مگر شاید اس وقت کسی شدید جذباتی کیفیت  کا شکار تھی اور اقبال جرم کربیٹھی تھی۔ میں نے کہا کہ ابھی لیڈی پولیس بلوا کر ہم آپ کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ میں آپ کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں مگر مجھے آپ سے اس بات کی امید نہیں تھی۔ آخر کیا وجہ تھی کہ آپ مسیحائی جیسے مقدس پیشے سے منسلک ہوکر بھی قاتل بن گئیں؟  میرا سوال سن کر اس نے رونا بند کر دیا اور نظریں میری نظروں میں گاڑ کر بولی، میں نے اپنے مقدس پیشے سے کبھی بے وفائی نہیں کی ہے! میرا کام انسانوں کو درد سے نجات دلانا ہے انسپکٹر صاحب! اس کی آنکھوں میں موجود آنسوؤں کی لالی اس وقت خون کی لالی لگ رہی تھی اور کے لہجے میں جو وحشت تھی میں نے محسوس کیا کہ اس سے میرا ماتحت کانپ اٹھا ہے۔  اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا اس نے اپنا بیان دوبارہ جاری کردیا۔  ایک پولیس والا کیسے محسوس کرسکتا ہے کہ درد کیا ہوتا ہے جبکہ اس کی ساری زندگی تفتیش کے نام پر دوسروں پر تشدد میں گزر جاتی ہے۔ میں ڈاکٹر ہیں۔ میں جانتی ہوں درد کیا ہوتا ہے۔ میں انسان ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ اس دنیا میں بن ماں کے بچوں کا کیا حال ہوتا ہے! میں ہی ہوں جو ان کا درد محسوس کرسکتی ہوں۔ میں ہی ہوں جس کی ماں اس ہی اکتوبر کے مہینے میں اسے پیدا کرتے ہوئے چل بسی تھی۔ خاندان بھر کے گھروں میں باری باری پلتے اور چاچا ماماؤں کے بچوں کی نوکری کرتے ہوئے جب میں ڈاکٹر اور پھر گائنی کی ماہر بنی تو اس کے پیچھے یہی سوچ تھی کہ میں  کسی ماں کو مرنے نہیں دوں گی۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ میں گائنی کی ماہر تو بن سکتی ہوں مگر خدا نہیں بن سکتی۔ میں انہیں مرنے سے نہیں بچا سکتی۔ مگر جو پیچھے بچ جائیں انہیں ضرور ان کی ماؤں تک پہنچا سکتی ہوں۔ آپ اسے سفاکی کہتے ہیں؟ میں تو احساس کی اس منزل پر ہوں جہاں آپ کبھی نہیں پہنچ سکتے! آپ کی ماں شاید ابھی زندہ ہے!-

اس کی باتیں سنتے سنتے میری بس ہوچکی تھی۔ میں نے کھڑے ہوکر اپنا سائلینسر لگا ذاتی ریوالور نکال لیا۔ وہ ڈاکٹرنی  مجھے کھڑا ہوتا دیکھ کر خود بھی کھڑی ہوگئی تھی اور اب بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑٰی تھی گویا اسے کسی بات کا ڈر نہ ہو۔ میرا ماتحت البتہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔ اسے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکنے کی کوشش کی کہ سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں مگر اس کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی میں نے اپنا ہاتھ چھڑا کر گولی چلا دی۔ وہ ڈاکٹرنی دوڑتی ہوئی آئی اور مجھ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ ہمارے قدموں میں میرے ماتحت کی لاش پڑی تھی۔ آج ہماری ماں کی برسی تھی۔ میرا ماتحت بیچارہ ناتجربہ کار تھا جو دروازے پر لگی تختی نہ پڑھ سکا جس پر بڑا بڑا انسپکٹر عاطف علی تحریر تھا!

بدھ، 17 دسمبر، 2014

زبان دراز کی ڈائری - سانحۃ پشاور

پیاری ڈائریً!


تم شاید سمجھ رہی ہوگی کہ میں خود کو بڑا ادیب سمجھنے لگا ہوں اس لیئے لکھنا کم کردیا ہے۔ یا شاید تم نے سوچا ہوگا کہ چونکہ مجھے اس ڈائری کو لکھنے کے کوئی پیسے نہیں ملتے اس وجہ سے میں نے تم سے باتیں کرنا چھوڑ دی ہیں۔ مگر یقین جانو یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں۔ تم شاید بھول بیٹھی ہو کہ میں قومیت کے اعتبار سے پاکستانی ہوں اور محض واقعات و سانحات پر چند لمحات کیلئے زندہ ہوتا ہوں ورنہ ہماری نیم مردہ زندگی تو اصحابِ کہف کی نیند کو پہنچنے لگی ہے۔ تو لکھنے کیلئے زندہ ہونا اور زندہ ہونے کیلئے کوئی سانحہ ضروری ہوتا ہے۔ سو آج ایک سانحہ سا ہوگیا ہے جس نے تمہارے زبان دراز کے مردہ جسم میں کچھ دیر کو روح پھونک دی ہے اور اس کچھ دیر کی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے قلم اٹھایا اور تمہارے پاس آگیا۔


اب تم سوچ رہی ہوگی کہ اتنی لمبی تمہید کیوں؟ اور مجھے یقین ہے کہ تم یہ بھی جاننا چاہتی ہو کہ آج ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میاں زبان دراز پھر ڈائری کھول کر بیٹھ گئےہیں؟ تو سنو! تم تو جانتی ہو کہ میں اب ایک مشہور آدمی ہوں اور مجھے دن رات لفافے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ جی نہیں! میری مراد وہ مروجہ محاورے والے لفافے نہیں بلکہ خطوط کے لفافے ہیں۔ کبھی کوئی اپنی ناکام محبت کی داستان لکھوانا چاہ رہا ہوتا ہے تو کبھی کسی کو اپنی ڈرامائی زندگی پر ٹیلیویژن کا ڈرامہ لکھوانا ہوتا ہے۔ اب تو میں نے ایک مستقل مسودہ تیار کر لیا ہے اور جوابی خط کے طور پر وہی مسودہ نقل کرکے بھیج دیتا ہوں۔ آج مگر مجھے ایک بہت عجیب سا خط ملا ہے۔ یہ نہ تو ناکام محبت کی داستان ہے نہ تباہ حال جوانی کا احوال۔ یہ خط کسی بچے نے لکھ بھیجا ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ عالمِ بالا میں موجود ہے۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ اس خط کا کیا جواب دوں۔ پھر سوچا کہ تمہیں بھی یہ خط سنائوں، ہو سکتا ہے تم کوئی جواب تجویز کردو۔ سو یہ خط ملاحظہ کرو اور میری مدد کرو۔


پیارے انکل


السلام علیکم! مجھے پتہ ہے کہ آپ اچھے حال میں ہیں اور میں اللہ میاں سے دعا کرتا ہوں کہ آپ سدا اچھے حال میں ہی رہیں۔ میرا نام ۔۔۔ مجھے یاد نہیں۔ مگر مجھے یہ یاد ہے کہ آج صبح تک میرا بہت اچھا سا نام ہوا کرتا تھا۔ وہ اچھا سا نام کیا تھا مجھے یاد نہیں، ہاں کل کے اخبار میں جب فہرست چھپے گی تو میں اس میں سے دیکھ کر آپ کو ضرور بتائوں گا۔ اللہ کا پکا والا وعدہ!


آپ پریشان ہو رہے ہونگے کہ میں نے آپ کو خط کیوں لکھا ہے؟ جب آپ مجھے جانتے تک نہیں ہیں اور آپ کو کیا، خود مجھے بھی اپنا نام تک یاد نہیں، تو میں آپ سے کیوں مخاطب ہوں؟ تو انکل بات یہ ہے کہ مجھے ابھی قائد اعظم انکل ملے تھے ۔ وہ ہم سب بچوں کو یہاں لینے کیلئے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں اپنے امی ابو تک کچھ باتیں پہنچانا چاہتا ہوں تو انہوں نے مجھے آپ کا پتہ بتا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ بھی پہلے آپ کو خطوط لکھتے رہے ہیں۔ اور آپ کی تحاریر تو اخبار میں بھی چھپتی ہیں، تو میں نے سوچا کہ میں آپ کو خط لکھوں تو شاید آپ میرا پیغام اخبار میں چھاپ دیں اور میرے امی ابو تک میرا پیغام پہنچ جائے۔ مجھے امید ہے آپ میرے لیئے یہ کام کر دیں گے۔ کرٰیں گے نا؟


افوہ! میں بھی کن باتوں میں لگ گیا۔ آپ کے سوالات ابھی تک وہیں کے وہیں ہیں اور میں اپنی فرمائشیں لیکر بیٹھ گیا ہوں۔ مگر میں نے آج تک کسی کو خط نہیں لکھا نا ۔۔۔ شاید اس لیئے مجھے صحیح سے خط لکھنا بھی نہیں آتا۔ اردو کے ٹیچر نے اگر یہ خط دیکھ لیا تو بہت غصہ ہوں گے۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ انسان اپنی تحریر اور گفتار سے پہچانا جاتا ہے۔ اور میں آپ کو ایک مزے کی بات بتائوں؟ مجھے گفتار کا مطلب ہی نہیں پتہ ۔۔۔۔ مگر آپ یہ بات اردو کے ٹیچر کو نہیں بتائیے گا۔ میں ہمیشہ ان کی بات سن کر ایسے سر ہلاتا تھا جیسے ساری بات سمجھ میں آگئی ہو۔ انہیں پتہ چلے گا کہ اتنے عرصے سے میں انہیں الو بنا رہا تھا تو وہ بہت خفا ہوں گے۔


تو انکل میں آپ کو بتارہا تھا کہ میرا نام ۔۔۔۔ مگر مجھے تو اپنا نام یاد ہی نہیں ہے؟ مجھے تو بس یہ یاد ہے کہ میں آج اپنے اسکول میں تھا اور کلاس میں دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ اچانک دروازے پر لات پڑی اور دو انکل کلاس میں گھس آئے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ پھر انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ اس کے فوراُ بعد مجھے ایسا لگا کہ کوئی کھولتی ہوئی چیز میرے پیٹ کو پھاڑتی ہوئی میرے جسم میں گھس گئی۔ مجھے لگا کہ جیسے میرے پورے جسم میں آگ لگ گئی ہو۔ مگر میں رویا نہیں۔ اگر آپ میرا خط اخبار میں چھاپیں تو امی کو بتا دیجئے گا کہ میں ان کا بہادر بیٹا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ بہادر بچے چوٹ لگنے پر روتے نہیں ہیں۔ تو میں کیسے رو سکتا تھا؟ میں تو امی کا بہادر بیٹا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ میں بہت زور سے روئوں مگر میں چپ رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ میرے جسم سے بہت سارا خون بہہ رہا تھا۔ میرا سارا یونیفارم بھی سرخ ہوگیا تھا۔ میں نے ہاتھ سے یونیفارم صاف کرنے کی کوشش کی مگر وہ صاف ہی نہیں ہوا۔ امی کو بولیئے گا کہ وہ غصہ نہ ہوں۔ میں اللہ میاں سے کہوں گا کہ وہ ہمارے گھر کے حالات بہتر کردیں اور امی گھر میں کام کرنے والی کوئی مددگار رکھ لیں۔ پھر امی کو میرا یونیفارم دھونے کیلئے ٹھنڈے پانی میں ہاتھ نیلے نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو انکل پھر آپ کو پتہ ہے کیا ہوا؟ مگر یہ تو مجھے بھی نہیں یاد کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ اس شدید ترین اذیت کے بعد میں بہت تھک گیا تھا اس لیئے میں وہیں سو گیا۔ آنکھ کھلی تو ہم سب کلاس کے بچے نئے کپڑے پہن کر یہاں موجود تھے۔ بہت سارے پیارے پیارے لوگ ہم سے ملنے کیلئے بھی آرہے تھے۔ میں نے یہیں قائد اعظم کو بھی دیکھا۔ تصویر میں تو وہ اتنے دبلے پتلے دکھتے ہیں مگر یہاں تو وہ اتنے صحت مند ہیں۔ پہلے تو میں انہیں پہچانا ہی نہیں۔ پھر مجھے میرے ایک دوست نے بتایا کہ یہ قائد اعظم محمد علی جناح ہیں۔ اور آپ کو پتہ ہے انکل؟ ہم اسکول میں سنتے تھے قائداعظم بہت بہادر انسان تھے مگر یہاں آکر میں نے خود دیکھا، قائد اعظم لڑکیوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ شیم شیم!!


ابو کہتے تھے کہ بڑوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے اس لیئے میں نے ان کے سامنے کچھ نہیں کہا۔ بعد میں ہم سارے دوست مل کر اتنا ہنسے ان پر۔ بیچارے قائد اعظم۔ ارے ابو سے یاد آیا مجھے ابو کو بھی سلام بولنا تھا۔ آپ میرے ابو کو جانتے ہیں؟ مگر آپ میرے ابو کو کیسے جان سکتے ہیں؟ میرے ابو کو تو صرف وہی جان سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے لخت جگر کو مٹی کے نیچے دفن ہوتے دیکھا ہو۔ مگر یہ تو بڑوں والی بات ہوگئی۔ ابو کہتے تھے بچوں کو اپنی عمر کے حساب سے باتیں کرنی چاہیئیں۔ سوری ابو! آپ کی اگر میرے ابو سے بات ہو تو انہیں یہ مت بتائیے گا کہ میرے پیٹ میں گولی لگی ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ایک دفعہ میں سیڑھیوں سے گر کر اپنا سر پھاڑ بیٹھا تھا۔ اس وقت گھر میں گاڑی نہیں تھی تو ابو مجھے پیدل ہی اٹھا کر چار کلومیٹر دور ہسپتال بھاگے تھے۔ بغیر رکے۔ میرے ابو بہت اچھے ایتھلیٹ ہیں۔ وہ روزانہ صبح دوڑنے باغ میں جاتے ہیں اور بغیر ہانپے میدان کے کئی چکر لگا لیتے ہیں۔ مجھے اتنی ہنسی آتی تھی جب وہ کہتے تھے کہ میں ان کا سہارا ہوں۔ بھلا بتائیں، ابو کو سہارے کی کیا ضرورت؟ وہ تو خود اتنے مضبوط اور طاقتور ہیں۔ تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ اس دن جب میرا سر پھٹا تھا تو ابو نے دفتر سے چھٹی لے لی تھی۔ جب تک میں بستر پر رہا، ابو میری چارپائی کے سرہانے لگے بیٹھے رہے۔ انہیں میری تکلیف کا پتہ چلے گا تو وہ بہت اداس ہوں گے۔ میں ابو سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میری وجہ سے اداس ہوں۔ آپ نہیں بتائیں گے نا؟؟


اور آخری بات مجھے آپ سے کرنی ہے۔ نجانے کیوں مجھے یہ لگتا ہے کہ جب میرے جانے کی خبر ٹیلیویژن پر آئے گی تو ملک بھر میں کہرام مچ جائے گا۔ سب لوگ مجھے مارنے والوں کو گالیاں دیں گے۔ احتجاج کیا جائے گا۔ میری یاد میں شمعیں روشن ہوں گی۔ آپ بھی ایسے ہی کسی پروگرام میں شریک ہوکر اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے بعد اگلے بچے کے مرنے تک مکمل خاموشی پھیل جائے گی۔ پیارے انکل! میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے نہیں جانتے! مگر نجانے کیوں میرا دل کر رہا ہے کہ میں آپ سے ایک ننھی سی فرمائش کردوں۔ کیا آپ میرے لیئے اتنا کر سکتے ہیں کہ کل خواہ کسی احتجاجی جلوس میں جائیں یا نہ جائیں، مگر مجھ اور میرے جیسے ایک سو تیس بچوں کیلئے ایک کام کردیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا دشمن اپنے ارادے میں کامیاب ہو! اس نے صرف میری جان نہیں لی، اس نے میرے پیارے پاکستان کو ایک سو تیس ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدانوں، فنکاروں، کھلاڑیوں سے محروم کردیا ہے جنہوں نے آگے چل کر پاکستان کا نام روشن کرنا تھا۔ کیا آپ کل کے احتجاج کیلئے استعمال ہونے والا پیٹرول، پلے کارڈ، موم بتی، وغیرہ کے پیسے بچا کر، پورے پاکستان میں کہیں بھی، کسی بھی ایک، صرف ایک بچے کے تعلیمی اخراجات کا ذمہ اٹھا سکتے ہیں؟ پلیز؟ پلیز؟ پلیز؟


والسلام


پیاری ڈائری! اب تم ہی بتائو کہ میں کیا جواب دوں؟




[caption id="attachment_622" align="aligncenter" width="492"]They went to school and never came back They went to school and never came back[/caption]

جمعرات، 20 نومبر، 2014

مہاجر

بہت سال پرانی  گفتگو آج پھر میرے دماغ میں گونج رہی ہے۔ سامنے ٹیلیویژن پر ایم کیو ایم کے لیڈران خورشید شاہ پر غصہ ہورہے ہیں  اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ خورشید شاہ نے کون سی غلط بات کردی ہے؟ اس ملک میں مہاجر ہونا کیا واقعی گالی نہیں ہے؟


"اوئے گندے مہاجر!" زندگی میں پہلی مرتبہ جب یہ جملہ سنا تو اس وقت میری عمر کوئی سات یا آٹھ سال رہی ہوگی۔  میں اس وقت گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول میں درجہ سوئم   کا ایک طالب علم تھا اور یہ جملہ سنانے والے کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے سندھی کے نئے استاد تھے۔  کلاس میں ان کا پہلا دن تھا اور پہلے ہی دن انہوں نے ہمیں ایک نئی اور ایسی شناخت عطا کردی تھی جس نے ساری عمر ہمارا پیچھا کرنا تھا۔ خیال رہے کہ یہ اسکول لاڑکانہ یا دادو کا نہیں بلکہ عروس البلاد کراچی میں واقع تھا جہاں میرے جیسے "گندے مہاجروں" کی اکثریت آج بھی مقیم ہے۔


اس وقت تو ہمیں نہیں پتہ تھا کہ مہاجر اور فرزندِ زمین کون ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور معلوم ہوگیا تھا کہ  یہ مہاجر اسکول کے باہر دیوار پر جئے مہاجر اور اسکول کے اندر سندھی کی کلاس میں گندے مہاجر ہوتا ہے۔ لاعلمی واقعی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ جب تک ہمیں مہاجر کا مطلب نہیں پتہ تھا ہم اس بات کا برا بھی نہیں مناتے تھے۔ پھر ایک دن خدا جانے کس دھن میں ہم اپنے دوست وقاص بھائی سے پوچھ بیٹھے کہ یہ مہاجر کیا  ہوتاہے؟ اور اس کے معنی میں ایسا کون سا لطیفہ چھپا ہے جسے سن کر پوری کلاس اس وقت ہنس پڑتی ہے جب ہمیں گندے مہاجر کہا جا رہا ہوتا ہے؟ وقاص بھائی عمر میں ہم سے محض ایک سال بڑے تھے  مگر یو پی کی تہذیب میں ایک سال بڑا بھی بڑا ہی مانا جاتا ہے۔ سو  وقاص بھائی کو بڑا مان کر ہم نے مدعا ان کے سامنے رکھ دیا کہ ہمیں لفظ مہاجر کی معنیٰ بتائے جائیں۔ وقاص بھائی نے  "چوکو فور " کا ریپر پھاڑتے ہوئے کمال شفقت سے ہماری جانب دیکھا اور بزرگانہ انداز میں گویا ہوئے کہ " ایم کیو ایم " کا کارکن مہاجر کہلاتا ہے۔ ہم نے وقاص بھائی  کی بات سن کر سکون کا سانس لیا اور ہنسی خوشی گھر لوٹ آئے کہ ہمارے والد تو جماعت اسلامی کے کارکن تھے، ہم کیسے مہاجر ہو سکتے ہیں؟


اگلے دن سندھی کی کلاس میں ہم مسلسل خوشی سے پھدک رہے تھے۔ سندھی کے استاد نے اس تبدیلی کو محسوس کرلیا اور ہمیں اپنے پاس بلا کر محبت سے ہمارا کان تھاما اور پوری طاقت سے مروڑتے ہوئے گویا ہوئے،  چھا گالھ آں؟  کیوں پھدک رہا ہے؟ ہم نے تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹیچر کو بتایا کہ انہیں غلظ فہمی ہوئی تھی کہ ہم مہاجر ہیں۔ دراصل ہمارے والد تو جماعت اسلامی کے ایک سرگرم کارکن ہیں اور ہمارا ایم کیو ایم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ٹیچر نے ہمیں اوپر سے نیچے تک گھور کر دیکھا اور کان کے نیچے ایک جھانپڑ رسید کرتے ہوئے بولے، جماعتی ہو یا  کوئی اور ، ہے تو گندا مہاجر ہی نا؟  چل سیٹ پر بیٹھ! ہم کان اور گدی  سہلاتے ہوئے واپس  سیٹ پر آگئے اوردل ہی دل میں وقاص بھائی کو جتنی بھی گالیاں یاد تھیں سنا ڈالیں۔


 گھر آنے کے بعد بھی میں اداس رہا اور کافی دیر بھٹکی ہوئی آتما کی طرح گھر کے اندر ہی گھومتا رہا۔ نانا ابا  گھر آئے ہوئے تھے اور میری اس بےچینی کو دیکھ رہے تھے۔ ظہر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے اپنے پاس بلالیا اور اس بے چینی کی وجہ پوچھی۔ پہلے تو میں ہچکچایا مگر پھر پورا ماجرا ان کے سامنے رکھ دیا۔ نانا ابا نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولے، تو عاطف میاں! آپ جاننا چاہتے ہیں کہ مہاجر کون ہوتا ہے؟ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ نانا ابا نے بتایا کہ کسی بھی مقصد سے اپنا وطن چھوڑ کر کسی اورجگہ منتقل ہونے والے کو مہاجر کہتے ہیں۔ میں ہونقوں کی طرح نانا ابا کی شکل دیکھنے لگا۔ نانا ابا کی بتائی ہوئی تعریف کی رو سے مہاجر ہونے میں کوئی قابلِ تضحیک پہلو نہیں تھا جبکہ ہماری کلاس میں ہر بار اس لفظ کی پکار پر کلاس کے اکثریت میں موجود بچے ایک بلند قہقہہ لگاتے تھے۔  پھر میں نے سوچا کہ شاید لطیفہ اس اچھے اور گندے مہاجر میں چھپا ہو، لہٰذا میں نے نانا ابا سے اچھے مہاجر اور گندے مہاجر کا فرق پوچھ لیا۔نانا ابا میرے اس سوال پر کچھ کھسیانے سے ہوگئے۔ کہنے لگے کہ اس سوال کا جواب تو میرے پاس نہیں مگر تم کہو تو ایک کہانی تمہیں ضرور سنا سکتا ہوں۔


میرا اس وقت کہانی سننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر نانا ابا بڑے تھے اور آپا کہتی تھیں کہ بڑوں کی ہر بات ماننی چاہیئے سو میں نانا ابا کو انکار نہیں کرسکا۔ نانا ابا نے بتایا کہ بیٹا کچھ لوگ تھے جو ہندوستان نامی ایک ملک میں رہا کرتے تھے۔ ہندوستان پر اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی مگر  ہندوستانی یہ چاہتے تھے کہ انگریز ان کا ملک چھوڑ کر واپس انگلستان چلے جائیں۔ ہندوستان کے مسلمان بھی اس جدوجہد میں شامل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اگر انگریز چلے گئے اور اکثریتی آبادی کی بنیاد پر اقتدار ہنود کے ہاتھ آگیا تو وہ مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیں گے۔  اس ہی خیال سے ہندوستان کے مسلمانوں نے "تقسیم کرو اور چھوڑو" کا نعرہ اپنایا اور ایک علیحدہ مسلم مملکت کی مانگ کردی۔


مسلمانوں کا خلوص رنگ لایا اور سن سینتالیس میں پاکستان وجود میں آگیا۔ بہت سارے مسلمان جو ہندوستان کے ان علاقوں میں مقیم تھے جو پاکستان کا حصہ نہیں بننا تھے، وہ بھی اس جدوجہد میں شامل تھے۔ کوئی ان مسلمانوں سے جب پوچھتا کہ پاکستان بن بھی جائے تو تمہارا کیا مفاد؟ تم نے تو ہندوستان میں ہی رہنا ہے! تو وہ جوابا صرف یہی کہتے کہ کم از کم ان مسلمانوں کو تو عزت سے جینے کی آزادی مل جائے جو مجوزہ پاکستان میں مقیم ہیں۔


ان دیوانوں کی بےلوث محنت اور قائد اعظمؒ کی شاندار قیادت سے ہم نے یہ آزاد وطن حاصل کرلیا۔  الگ وطن حاصل کرنے کے بعد بھی اس ملک میں بےشمار مسائل تھے۔ حکومت کہنے کو قائم ہوگئی تھی مگر اس حکومت کو چلانے کیلئے تجربہ کار لوگوں کا فقدان تھا۔ قائد اعظم ؒ نے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں سے اپیل کی کہ آئیں اور نئے ملک کا انتظام چلانے میں مددگار بنیں۔ قائد کی اس پکار پر ہندوستان کے طول و عرض میں موجود مسلمانوں نے لبیک کہا اور اپنے مکان و کاروبار چھوڑ کر اس نئے ملک کے دست و بازو بننے پاکستان آگئے۔ ہجرت کے اس سفر میں کتنوں کے گلے کٹے، کتنوں کی عصمتیں پامال ہوئیں، کتنے اپنے پیاروں سے بچھڑے۔ آج تک اس کے درست اعداد وشمار سامنے نہیں آسکے۔ مگر یہ تعداد بلا مبالغہ بھی لاکھوں میں تھی۔


میں علیگڑھ یونیورسٹی کا گریجویٹ تھا۔  علیگڑھ میں ہی ایک چھوٹی سی زمین تھی ہماری اور اس کے علاوہ دلی میں ایک گھر تھا۔ میں دلی میں ہی نوکری کرتا تھا جب بٹوارے کا اعلان ہوا۔ میں نے ضروری سامان ساتھ لیا اور تمہاری نانی، ماں، اور بڑی خالہ کے ساتھ پاکستان کیلئے نکل پڑا۔ زمین اور گھر میں نے اللہ کے حوالے کردیئے تھے کہ ان  چیزوں کو بیچنے کیلئے رکنا پڑتا اور میں پہلی فرصت میں پاکستان پہنچنا چاہتا تھا۔ لٹتے ، مرتے، کٹتے جب ہم لاہور پہنچے تو مکان ، زمین، نقدی کے ساتھ ساتھ ہم تمہاری بڑی خالہ عصمت کو بھی کھو چکے تھے۔ ٹرین پر بلوائیوں نے حملہ کیا تھا اور اس بھگدڑ میں خداجانے عصمت کا ہاتھ کب تمہاری نانی کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔  نانا ابا کی آنکھوں سے آنسو مسلسل رواں تھے اور وہ  کہانی سناتے سناتے خود ماضی میں پہنچ گئے تھے۔ میں نانا ابا کی کہانی سن رہا تھا اور چشم تصور سے ایک پانچ سال کی بچی کو لاشوں کے ڈھیر میں اپنے ماں باپ کو ڈھونڈتے دیکھ رہا تھا۔ پتہ نہیں کب اور کیسے میری بھی آنکھ سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔


نانا ابا نے میرے آنسو پونچھے اور بولے، جب لاہور پہنچے تو پتہ چلا کہ دارالخلافہ کراچی ہے اور پڑھی لکھی افرادی قوت کی سب سے زیادہ ضرورت وہیں ہے۔ ہم نے بچپن سے لاہور کے قصے سن رکھے تھے اور ہمارے لیئے لاہور ہی بڑا شہر تھا مگر یہاں آکر پتہ چلا کہ ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ابھی ہمیں کراچی پہنچنا ہے۔ کراچی کیلئے نکلنے سے پہلے کچھ دن والٹن کیمپ میں رک کر عصمت کا انتظار کیا مگر جب کافی دن تک کوئی خبر نہین آئی تو ہم نے خود کو سمجھانے کیلئے اس کو مردہ تصور کر لیا۔ آزاد وطن اتنے آرام سے تو نہیں ملتےنا  بیٹا؟ وہ اور ہی خوش نصیب ہوتے ہیں جو صبح سو کر اٹھیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک آزاد وطن کا حصہ ہیں۔ ان کے گھروں کو آگ نہیں لگائی جاتی۔ ان کی بہن بیٹیوں کی ان کے سامنے عزتیں نہیں لوٹی جاتیں۔ ہم ایسے خوش نصیب نہیں تھے بیٹا، ہمیں آزاد وطن کی قیمت چکانی تھی سو ہم نے عصمت کو اس آزاد وطن کی قیمت سمجھ کر صبر کرلیا۔


عصمت پر فاتحہ پڑھنے کے بعد لاہور میں رکنے کا جواز نہیں بنتا تھا سو ہم وہاں سے کراچی کیلئے چل پڑے۔ راستے میں بہت سے لوگوں  سے ملاقات ہوئی اور ہر کسی نے یہی مشورہ دیا کہ کراچی پہنچ جائو۔ کراچی پہنچ کر پتہ چلا کہ کراچی اس لیئے بھیجا جا رہا تھا کہ اس کے آگے سمندر تھا۔ اگر اس سے آگے بھی کوئی شہر ہوتا تو یہ لوگ ہمیں وہاں تک پہنچا دیتے۔ کراچی جو تم آج دیکھتے ہو اس وقت ایسا نہیں تھا۔  اس وقت یہ جنگل ہوا کرتا تھا۔ پھر ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں نے اس شہر کو بسانا شروع کردیا۔  اس شہر کو وہ شہر بنایا جسے تم آج دیکھتے ہو۔  جو غریب کی ماں کہلاتا ہے۔ جس کے دروازے ہر نئے آنے والے کیلئے کھلے ہیں۔ وقت گزرتا گیا اور یہ ملک اور یہ شہر ترقی کرتا گیا۔ اس شہر کے ساتھ ساتھ ہم لوگ بھی ترقی کرتے گئے۔ مگر  پھر اس ترقی کے سفر کو کسی کی نظر لگ گئی۔ سب کچھ چھوڑ کر اس ملک میں آنے اور اس ملک کو اپنانے کے برسوسوں بعد ایک دن ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے ساتھ ایک بہت بڑا ہاتھ ہوگیا ہے۔ ہم سے ہمارا شہر  چھین لیا گیا۔ ہمیں یہ کہا گیا کہ چونکہ سندھ کے باقی شہروں میں رہنے والے نہیں چاہتے کہ کراچی میں  اقتدار نچلی سطح پر تقسیم ہو اس لیئے ہم کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروا سکتے۔ چونکہ باقی شہر ترقی کے معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں لہٰذا کراچی کو بھی ترقی کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ چونکہ کراچی کی بدقسمتی ہے کہ وہ صوبہ سندھ کا حصہ ہے لہٰذا ہم عددی اکثریت کی بنا پر کراچی کے باگ ڈور ایسے افراد کے حوالے کرتے رہیں گے جو کراچی صرف گھومنے کیلئے آتے ہیں۔


بات صرف وسائل و ترقی کی ہوتی تو خیر تھی،مگر ہمارے ساتھ جو دوسرا ہاتھ ہوا وہ بہت شدید تھا۔ میرے بچے! ہم سے ہماری شناخت چھین لی گئی۔ ہندوستان سے آنے والے وہ لوگ جو لاہور رک گئے تھے عقلمند نکلے۔ پنجاب کے بھائیوں نے انہیں اپنایا اور اپنی شناخت میں حصے دار بنا لیا۔ جب کہ وہ بدقسمت جو کراچی آگئے تھے اب اپنی شناخت کیلئے پریشان تھے۔ اگر ہم اندرون سندھ جاکر اپنے آپ کو سندھی کہتے تو سندھی ہم پر ہنستے تھے۔ اگر ہم کسی اور شہر جاکر اپنے آپ کو مہاجر کہتے تھے تو لوگ ہم پر تھو تھو کرتے تھے۔ ہم پاکستانی کی شناخت پر مطمئن ہونا چاہتے تھے تو ہمیں یاد دلایا جاتا تھا کہ دراصل ہماری جڑیں ہندوستان میں ہیں ۔ ہم سندھ میں رہتے تھے مگر سندھی نہیں تھے۔ پاکستان کے شہری تھے مگر غدار کہلاتے تھے۔ لے دے کر ہمارے پاس ایک مہاجر کی شناخت بچی تھی کہ یہ ہمارا فخر تھا۔ مہاجر کا مطلب تھا وہ انسان جس نے اس ملک کیلئے  اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ہو اور صعوبتیں برداشت کرکے اس ملک کا حصہ بنا ہو۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شناخت بھی ہم سے اب چھین لی جائے گی۔میرے بیٹے! تم نے پوچھا تھا نا کہ گندے مہاجر کون ہوتے ہیں؟ میرے بچے! ہندوستان سے پاکستان اور پاکستان میں کراچی آکر اپنا  گھربار، عزت و ناموس، جائیداد، جان و مال، اور آخر میں اپنی شناخت تک گنوا دینے والے مہاجرین کو گندے مہاجر کہتے ہیں۔


بہت سال پرانی یہ گفتگو آج پھر میرے دماغ میں گونج رہی ہے۔ سامنے ٹیلیویژن پر ایم کیو ایم کے لیڈران خورشید شاہ پر غصہ ہورہے ہیں  اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ خورشید شاہ نے کون سی غلط بات کردی ہے؟ اس ملک میں مہاجر ہونا کیا واقعی گالی نہیں ہے؟


کافی دیر تک یونہی بیٹھا سوچتا اور اداس ہوتا رہا اور پھر تنگ آکر نانا ابا کی ڈائری اٹھا لی۔ میں جب بھی بہت زیادہ اداس ہوتا ہوں تو نانا ابا کی ڈئری اٹھا لیتا ہوں۔غمزدہ ماحول میں عمدہ شاعری ایک بہترین سہارا ہوتی ہے اور  اشعار کے انتخاب میں میں نے نانا ابا سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔  ڈائری کھولتے ہی جس صفحے پر نظر پڑی اس پر منور رانا صاحب کے یہ اشعار درج تھے۔۔۔


مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے، ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں


کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر ، اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں


نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
پرانے گھر کی دہلیزوں کو سونا چھوڑ آئے ہیں


عقیدت سے کلائی پر جو اک بچے نے باندھی تھی
وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں، وہ رشتہ توڑ آئے ہیں


جو اک پتلی سڑک  یاں سے گھر کی اور جاتی تھی
وہیں حسرت کے خوابوں کو بھٹکتا چھوڑ آئے ہیں


یقیں آتا نہیں ، لگتا ہے  کچی نیند میں شاید
ہم اپنے گھر، گلی، اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں


میں نے ڈائری بند کی اور کرسی کی پشت پر آنکھیں موند کر ٹیک لگا لی۔ کان میں سندھی کے اس استاد کا جملہ مسلسل گونج رہا تھا ۔۔۔ گندے مہاجر ۔۔۔ گندے مہاجر ۔۔۔۔ گندے مہاجر!!!!

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2014

نفسیاتی

"عجیب نفسیاتی عورت ہیں آپ۔ نجانے کون لوگ ہیں جو ممتا کے قصیدے اور مائوں کی بےپناہ محبت کے فسانے ہر وقت الاپتے رہتے ہیں۔ مجھے تو آپ سے کبھی بھی سوائے سرد مہری کے کچھ نہیں ملا۔ یا تو وہ تمام لوگ جھوٹے ہیں یا آپ میں ہی کچھ کھوٹ ہے۔ یا پھر میں آپ کا خون نہیں بلکہ لےپالک بیٹا ہوں جو کبھی بھی آپ کی الفت کا حق دار نہیں بن سکتا۔" میں آج پھر دن بھر کا غصہ امی پر چنگھاڑ کر نکال رہا تھا اور وہ روز ہی کی طرح خاموش لیٹی مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔


لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ سن اور بول نہیں سکتی تھیں؛ مگر مجھے یہ بات کسی بھی طرح ہضم نہیں ہوتی تھی۔ جس سفاکی کے ساتھ وہ میری باتوں پر مسکراتی تھیں، مجھے لگتا تھا کہ وہ سن  اور بول دونوں سکتی ہیں مگر صرف مجھے زچ کرنے کیلئے اس طرح خاموشی سے لیٹی رہتی ہیں۔


کبھی کبھی مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ ایک کھیل سمجھ کرکرتی ہیں۔  وہ چاہتی ہیں کہ میں غصہ کروں، چلائوں، اور آخر میں زچ ہوکر روپڑوں اور اس طرح وہ مجھے احساس دلائیں کہ میں اب بھی وہی چھوٹا سا بچہ ہوں جو بات بات پر ضبط کھو بیٹھتا تھا۔ جو ان کی زرا سی ناراضگی پر اس وقت تک رویا کرتا تھا جب تک وہ خود اسے اپنی ممتا کی آغوش میں نہ چھپا لیتیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں اتنا بڑا ہونے کے بعد بھی ان کے ساتھ  بچوں ہی کی طرح برتائو کروں۔ ان کے آگے پیچھے گھوموں۔ اپنی ہر ضرورت کو ان سے جوڑ کر رکھوں۔ ان کے گلے میں جھولتا رہوں۔ ان سے فرمائشیں کروں۔ ناز دکھائوں اور لاڈ اٹھوائوں۔ ان کو دیکھتے ہی پہلے جیسا بچہ بن جائوں۔ مگر امی کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہے۔ اب میں بچہ نہیں رہا ہوں! اب میں انتیس سال کا جوان ہوں۔


اور یہ چیزیں تو میں نے اس وقت بھی نہیں کی تھیں جب میں واقعتاّ بچہ تھا۔ یہ نہیں کہ مجھے ان سب چیزوں کا شوق نہیں تھا، بات صرف اتنی  تھی کہ امی بہت  سفاک عورت تھیں۔ ایک تو میرے بچپن میں ہی مرگئیں اور  دوسرا جاتے ہوئے میرا بچپن بھی اپنے ساتھ لے گئیں۔ اوراب،  پچھلے چھبیس سال کی طرح آج بھی میں ان کی قبر پر بیٹھا انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ان کی یہ خواہشات فضول ہیں اور چونکہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی وہ دنیا سے چلی گئی تھیں لہٰذا میں چاہ کر بھی ایسے انسان سے محبت نہیں کرسکتا جس کو میں نے اپنے مکمل عقل و ہوش کی حالت میں نہ دیکھا ہو یا جس کے ساتھ میں نے وقت نہ گزارا ہو۔ اور پچھلے چھبیس سال کی طرح آج بھی امی قبر میں لیٹی میری باتیں سن کر ایسے مسکرا رہی ہیں جیسے انہیں میری باتوں کا یقین ہی نہ ہو۔ عجیب نفسیاتی عورت ہیں۔

جمعرات، 2 اکتوبر، 2014

19 - زبان دراز کی ڈائری

پیاری ڈائری!


زندگی عجیب مشکل کا شکار ہوگئی ہے۔ میرے دفتر کے احباب صحیح کہتے تھے کہ یہ مطالعے کی عادت ہی مجھے مروائے گی۔ پچھلے چار دن سے چھپتا پھر رہا ہوں کہ اگر کسی کو میرے محل وقوع کا پتہ چل گیا تو بڑی عید سے پہلے ہی میری بوٹیاں کردی جائیں گی۔


معاملہ بظاہر اتنا بڑا تھا نہیں جتنا اب بن چکا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم نے بدقسمتی سے کہیں حضرت عبداللہ بن مبارک کے حج کی داستان پڑھ لی تھی جس کے مطابق حضرت عبداللہ ابن مبارک ایک دن حرم کعبہ میں سو رہے تھے کہ خواب میں دو فرشتوں کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا۔ حرم میں پہنچ کر وہ دونوں فرشتے آپس میں بات چیت کرنے لگے۔ پہلے فرشتے نے دوسرے سے پوچھا کہ اس سال کتنے لوگ حج کرنے آئے تھے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ کم و بیش چھ لاکھ ۔ پہلے نے پھر پوچھا، ان میں سے کتنے افراد کا حج مقبول ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا، مجھے نہیں لگتا کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی حج قبول ہونے والا تھا۔


فرشوں کی یہ گفتگو سن کر عبداللہ ابن مبارک سوچ میں پڑگئے کہ اے اللہ! حج تو اس سال میں نے بھی کیا تھا۔ میرے علاوہ اور بھی نجانے کتنے لوگ تھے جو کتنے پہاڑ اور سمندر اور موسم کی سختیاں و دیگر مصائب عبور کرکے  تیری رضا اور تیرے گھر کی زیارت کیلئے حج کرنے آئے تھے۔ مالک! تو کبھی کسی کی محنت کو اس طرح رائگاں نہیں کرتا۔ کیا واقعی ہم تمام لوگ نامراد ٹھہرائے جائیں گے؟


عبداللہ ابن مبارک ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ پہلے فرشتے کی آواز دوبارہ ابھری جو دوسرے فرشتے سے کہہ رہا تھا کہ دمشق شہر میں علی بن المَفِق نامی ایک موچی رہتا ہے۔ وہ اس سال حج پر تو نہیں آسکا مگر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اس کی حج کی نیت قبول کرلی ہے بلکہ اس کی نیت کے صدقے ان تمام چھ لاکھ حجاج کی عبادت کو بھی منظور کرلیا ہے۔ عبداللہ ابن مبارک کی آنکھ کھل گئی اور آپ نے صبح ہوتے ہی دمشق کا قصد کیا کہ جاکر خدا کی اس برگزیدہ ہستی سے ملیں جس کی صرف نیت میں اتنا خلوص تھا کہ وہ چھ لاکھ افراد کے عمل کو مقبول کرواگئی۔


عبداللہ ابن مبارک دمشق پہنچے اور لوگوں سے پوچھتے ہوئے علی بن المفِق کے گھر پہنچ گئے۔ عبداللہ ابن مبارک اپنے وقت کے نہایت جلیل القدر عالم اور مشہور فقیہہ تھے۔ علی بن مفق آپ کا نام سنتے ہی حیران ہوگیا کہ وقت کا اتنا بڑا فقیہہ میرے دروازے پر کیا کررہا ہے؟ آپ نے اسے تسلی دی اور اس سے پوچھا کہ کیا آپ حج پر جانے کی نیت رکھتے تھے؟ علی بن مفِق نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ وہ پچھلے تیس سال سے اپنی محنت کی حلال کمائی سے ایک ایک پیسہ جوڑ کر حج پر جانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ اس سال اس کے پاس اتنا اسباب جمع ہوگیا تھا کہ وہ حج پر جاسکے مگر چونکہ خدا کو منظور نہیں تھا سو میں چاہ کر بھی اپنی نیت کو عملی جامہ نہیں پہنا پایا۔


عبداللہ ابن مبارک نے اس کی باتوں سے اس کی دل کی سچائی بھانپ لی تھی مگر اب بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ اس موچی میں ایسی کیا بات تھی جس کی بنیاد پر اس سال کے تمام حجاج کا حج محض اس کی وجہ سے قبول ہوا؟
عبداللہ ابن مبارک نے علی بن مفق سے سوال کیا کہ وہ حج پر کیوں نہ جا سکا؟ علی بن مفق اپنے جانے کی وجہ نہیں بیان کرنا چاہتا تھا۔ اس نے عبداللہ ابن مبارک کو یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی اور کہا، چونکہ مرضی خدا نہیں تھی۔ عبداللہ ابن مبارک اس کا جواب سن کر مسکرائے اور اپنا سوال پھر دہرا دیا۔ عبداللہ ابن مبارک کے  پیہم اصرار پر علی بن مفق نے بتایا کہ حج پر جانے سے پہلے وہ اپنے ایک پڑوسی سے ملنے اس کے گھر گیا تو اس کے گھر دسترخوان بچھا ہوا تھا اور تمام گھر والے کھانے کیلئے بیٹھے تھے۔ علی بن مفق نے سوچا کہ آدابِ میزبانی کے تحت وہ پڑوسی انہیں کھانے کی دعوت دے گا مگر اس شخص نے علی بن مفق کو دیکھ کر نظریں نیچی کرلیں۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعدوہ گویا ہوا کہ اے علی میں آپ کو کھانے پر ضرور دعوت دیتا مگر میں مجبور ہوں۔ پچھلے تین دن سے میرے گھر میں فاقہ ہے اور آج جب مجھ سے بچوں کی بھوک دیکھی نہ گئی تو میں کچرے کے ڈھیر میں پڑی ایک گدھے کی لاش سے گوشت لیکر آگیا کہ اپنے بچوں کی بھوک مٹائوں۔ میں تو انتہائی بھوک سے مجبور ہوں لہٰذا یہ مردار گوشت مجھ پر حلال ہے مگر یہ گوشت اور یہ کھانا چونکہ آپ کیلئے حرام ہے لہٰذا میں آپ کو اسے کھانے کی دعوت نہیں دے سکتا۔


علی بن مفق نے کہا کہ یہ سن کر میرا دل خون کے آنسو رونے لگا۔ میں گھر گیا اور جمع پونجی کے تمام تین ہزار درہم لاکر اس پڑوسی کے ہاتھ پر رکھ دیئے کہ وہ اس سے اپنے معاشی مسائل کو حل کرلے۔ میں نے وہ تین ہزار درہم بھوک برداشت کرکے حج کیلئے جمع کیئے تھے مگر مجھے لگا کہ اس بندہ خدا کو اس وقت ان پیسوں کی زیادہ ضرورت تھی۔ حج کرنے کی میری بےپناہ خواہش آج بھی زندہ اور اگر اللہ کریم نے چاہا تو وہ مجھے ضرور حج پر بلالے گا۔ یہ سن کر عبداللہ ابن مبارک کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے علی بن مفق کو اپنے خواب کا مکمل احوال سنا دیا۔


کہانی یہاں ختم نہیں بلکہ یہیں سے شروع ہوتی ہے کہ ہم نے یہ داستان پڑھی تو سوشل میڈیا پر یہ مہم شروع کردی کہ قربانی بالکل ایک فریضہ ہے مگر اسراف فرض نہیں بلکہ حرام ہے۔ خدا نے اگر استطاعت دی ہے تو ضرور قربانی کریں، مگر پچاس بیل اور دو سو بکرے خریدنے کے بجائے اگر ایک بیل یا ایک بکرا اللہ کے راستے میں قربان کرکے فریضہ ادا ہوسکتا ہے تو باقی پیسے ان محتاجوں پر خرچ کردیں جو سفید پوش ہیں اور کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے؟


ہماری یہ مہم ملک بھر میں ہر سطح پر بےحد مقبول ہوئی۔ عوام کی سطح پر اسے بطور اسلامی عبادات پر تنقید کے پذیرائی ملی۔ کاروباری طبقے کی سطح پر اسے بطور پیٹ پر لات اور چمڑے کی صنعت سے دشمنی کے پذیرائی ملی۔ سیاست دانوں کی سطح پر اسے کھال کا مال چھیننے کی ترکیب کے طور پر سراہا گیا۔ اور آخر میں پولیس کی سطح پر اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور دفعہ 295 اور اس کی چند ذیلی دفعات کی خلاف ورزی کے طور پر پہچانا گیا۔  اور ان سب پذیرائیوں کا حاصل حصول یہ نکلا کہ ہم پچھلے چار دن سے چھپتے اور احباب کے ذریعے معافی نامے جمع کراتے پھر رہے ہیں۔


 آج صبح کاشف بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا ان کی نصیحت سن رہا تھا کہ مجھے یہ کام سرے سے کرنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ میں نے کاشف بھائی کو سمجھایا کہ میں نے اپنے پاس سے کچھ بھی نہیں کہا بلکہ صرف اسلامی تاریخ کے مشہور فقیہہ کی حکایت بیان کی ہے۔ کاشف بھائی نے رحم آمیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے جواب دیا کہ، اے احمق انسان! عبداللہ ابن مبارک کے نام میں اصل گن چھپا ہے۔ اگر تیرا نام بھی زبان دراز بن منہ پھٹ قسم کا ہوتا تو آج تیری بیان کردہ حکایت پر تجھے یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔


کاشف بھائی کی اس نصیحت کو میں نے گرہ سے باندھ لیا ہے اور کل سے ٹوئیٹر پر "ایک سے زیادہ جانور قربان کرنے کے فضائل" پر درس دے رہا ہوں۔ امید ہے کچھ بہتری کی صورتحال نکل آئے گی۔ تب تک کیلئے اجازت دو۔


والسلام


زبان دراز ابن منہ پھٹ

بلاگ فالوورز

آمدورفت