Pakstan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Pakstan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 اپریل، 2017

3 - مریض

میرا نام عاطف علی ہے اور میں ایک مریض ہوں۔ میرا مرض عام لوگوں جیسا نہیں جس میں مریض خود تڑپتا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر ترس کھاتے ہیں۔ میرے مرض میں لوگ میری بیماری کی وجہ سے تکلیف سے تڑپتے ہیں اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

میں شروع سے ایسا نہیں تھا۔ پہلے میں بھی آپ لوگوں کی طرح ہنستا، گاتا، مسکراتا، اور زندگی سے بھرپور لطف کشید کرتا تھا۔ میری لکھی گئی نظمیں اور کہانیاں زبان زد عام ہوا کرتی تھیں۔ میری تحاریر زندگی سے بھرپور ہوتی تھیں۔ میرا کام مسکراہٹیں بکھیرنا تھا۔ میں اپنی تحریر سے لوگوں کو گدگداتا تھا۔ زندگی کے آلام میں انہیں تصویرِ زیست کے وہ درخشندہ پہلو دکھاتا تھا جو ان کی زندگی میں زندگی بھر دیتے تھے۔ میری یہ تحاریر لوگوں کو جینا سکھاتی تھیں۔ مسکرانا سکھاتی تھیں۔ احساس جگاتی تھیں۔ میں اپنے وقت کا ایک کامیاب مصنف و شاعر تھا۔ پھر ایک دن میری خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی اور مجھے احساس نامی جان لیوا بیماری لاحق ہوگئی۔

ہوا کچھ یوں کہ میری تحریر اور اس تحریر میں موجود ظرافت کو دیکھتے ہوئے ایک ٹیلیویژن ڈرامہ بنانے والے ادارے نے مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے لیئے مزاح لکھوں۔ شاید ایک فن کار کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اس کے وجود کا ادراک، اس کے کام کی افادیت تسلیم کیا جانا ہوتا ہے۔ ڈرامہ لکھنے کی یہ درخواست میرے لیئے ایک بڑے اعزاز کی بات تھی سو میں نے فوراٗ اس کام کیلئے ہامی بھر لی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ ڈرامہ لکھنا میری زندگی میں وہ تبدیلی لائے گا جس کے بعد، میں لوگوں کو ہنسانا تو درکنار، خود بھی ہنسنا بھول جائوں گا۔

میں جب مزاح لکھنے بیٹھا تو مجھے احساس ہوا کہ قلم مجھ سے روٹھ چکا ہے۔ میں ہزار کوشش کے باجود بھی لکھ نہیں پارہا۔ میں، سید عاطف علی، وہ انسان جو یہ دعویٰ رکھتا تھا کہ الفاظ اس کی باندی ہیں، تہی دامن کھڑا تھا۔ لفظ مجھ سے روٹھ چکے تھے۔ میں نے لاکھ چاہا کہ زبردستی قلم کو گھسیٹوں اور کچھ لکھ ڈالوں، مگر قلم نے میری ایک نہ سنی۔ میں نے اس کی بارہا خوشامد کی کہ مجھے اس طرح اکیلا نہ چھوڑے مگر قلم کا ایک ہی جواب تھا، مٰیں تمہارے لیئے کام نہیں کر سکتا، تم بےحس ہو۔

میرے لیئے یہ بےحسی کی گالی بہت تکلیف دہ تھی۔ میں نے اپنے تئیں اس بے حسی کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا شروع کردی۔ اس ہی کوشش میں، میں نے معاشرے پر نظر دوڑائی تو مجھے احساس ہوا کہ میں کس گندگی کے ڈھیر میں جی رہا ہوں!  جس معاشرے اور مثبت پہلوئے زندگی پر میں کہانیاں تراشتا تھا دراصل اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ جس اتحاد و اتفاق کی مثالیں میں دیا کرتا تھا وہ کہیں سیاست کے نام پر اور کہیں مذہب و مسلک کے نام پر چیتھڑوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ جس مثبت خیالی اور عظم و حوصلے کی طرف میں لوگوں کو بلاتا تھا وہ خود میرے اندر عنقا تھا۔ جو معاشرہ رات کے کھانے کے بعد اگلے دن کی بھوک کے تصور سے رات بھر جاگتا ہو اس معاشرے میں مثبت خیالی زندہ رہ بھی کیسے سکتی تھی؟ میں نے محسوس کیا کہ جس زندگی کی تعریف میں میں ہمیشہ رطب اللسان رہا ہوں وہ دراصل کتنی بھیانک ہے۔ جن رشتوں کی تعریف میں میں نے کہانیوں اور افسانوں کے انبار لگا دیئے ہیں وہ دراصل کتنے کھوکھلے ہیں۔ احساس کے دریچے مجھ پر کھلتے گئے اور زیست میرے لئے دشوار تر ہوتی چلی گئی۔ مگر اب یہ اطمینان ضرور تھا کہ قلم سے ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جڑگیا تھا۔

میں احساس کی دولت سمیٹ کر واپس اپنی لکھنے والی میز پر آگیا۔ قلم نے مسکرا کر میرا استقبال کیا۔ مجھے لگا کہ وہ مجھے شاباش دے رہا ہو۔ میں مسکرایا اور لکھنا شروع ہوگیا۔ مگر لکھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ قلم میرے ساتھ ہاتھ کر گیا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ مزاح لکھوں مگر قرطاس پر صرف خون منتقل ہوتا نظر آرہا تھا۔ معصوم پاکستانیوں کی امیدوں کا گاڑھا سرخ خون۔ میں اس خون کو دیکھ کر لرز اٹھا اور چاہا کہ قلم چھوڑ دوں مگر تب مجھے احساس ہوا کہ میں اب چاہ کر بھی اس خوں ریز قلم سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ مجبوری کی حالت میں ہی سہی مگر میں لکھتا چلا گیا۔ جب دوات خالی ہوتی، میں معاشرے کے اندر کوئی چھپا ہوا گھائو ڈھونڈتا اور قلم کی نوک اس میں گاڑ کر اس میں سے مزید روشنائی حاصل کرلیتا۔ میرے اس فعل سے معاشرے کے وہ گھائو جنہیں قدرت نے کمال مہربانی سے چھپا رکھا تھا، لوگوں کے سامنے آنا شروع ہوگئے۔ ماحول مکدر تر ہوتا چلا گیا مگر میں کیا کرتا؟ میں مجبور تھا کہ اب مجھے اس خون کی لت لگ چکی تھی۔ میری تحاریر پڑھ کر لوگ بلبلاتے تھے، کڑھتے تھے، دھاڑیں مارتے تھے، مگر میں کیا کرتا؟ میں جب تک انہیں تڑپا نہیں لیتا تھا، میں خود تڑپتا رہتا تھا۔

وقت گزرتا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ مجھے یہ احساس ہوگیا کہ میں اتنے عرصے امید و مثبت خیالی کے نام پر جھک مارتا رہا تھا۔ اس اذیت پسند معاشرے میں میری یہ نوچنے اور کاٹنے کی بیماری ایک نعمت سے کم نہیں تھی۔

اب میں پہلے سے زیادہ کہانیاں لکھتا ہوں اور پہلے سے زیادہ مطمئن زندگی گزارتا ہوں۔ میں کہ جو کسی زمانے میں ایک ٹھیلہ بھی لگا چکا ہوں اب خود کے چھ پیٹرول پمپ رکھتا ہوں۔ ایکڑوں پر محیط میری اراضی ہے۔ سیاسی جماعتیں میری چوکھٹ چومتی ہیں کہ میں ان کے حق میں کالم لکھوں۔ تصور تو کیجئے، اگر میں بھی دوسروں کی طرح مثبت خیالی کا پرچار کرتا رہتا تو آج زیادہ سے زیادہ کسی اخبار میں جنرل مینجر بن جاتا؟ جبکہ آج بیسیوں اخبارات کے جنرل مینجر میرا سفارشی رقعہ لینے کیلئے میرے آگے پیچھے گھومتے ہیں۔

میرا نام عاطف علی ہے اور آپ نے بالکل صحیح پہچانا، میں ایک مشہور اخبار کیلئے کالم اور اس ہی ادارے کے ٹیلیویژن چینل کیلئے حالات حاظرہ پر تبصرے کا ایک پروگرام کرتا ہوں۔

جمعرات، 20 نومبر، 2014

مہاجر

بہت سال پرانی  گفتگو آج پھر میرے دماغ میں گونج رہی ہے۔ سامنے ٹیلیویژن پر ایم کیو ایم کے لیڈران خورشید شاہ پر غصہ ہورہے ہیں  اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ خورشید شاہ نے کون سی غلط بات کردی ہے؟ اس ملک میں مہاجر ہونا کیا واقعی گالی نہیں ہے؟


"اوئے گندے مہاجر!" زندگی میں پہلی مرتبہ جب یہ جملہ سنا تو اس وقت میری عمر کوئی سات یا آٹھ سال رہی ہوگی۔  میں اس وقت گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول میں درجہ سوئم   کا ایک طالب علم تھا اور یہ جملہ سنانے والے کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے سندھی کے نئے استاد تھے۔  کلاس میں ان کا پہلا دن تھا اور پہلے ہی دن انہوں نے ہمیں ایک نئی اور ایسی شناخت عطا کردی تھی جس نے ساری عمر ہمارا پیچھا کرنا تھا۔ خیال رہے کہ یہ اسکول لاڑکانہ یا دادو کا نہیں بلکہ عروس البلاد کراچی میں واقع تھا جہاں میرے جیسے "گندے مہاجروں" کی اکثریت آج بھی مقیم ہے۔


اس وقت تو ہمیں نہیں پتہ تھا کہ مہاجر اور فرزندِ زمین کون ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور معلوم ہوگیا تھا کہ  یہ مہاجر اسکول کے باہر دیوار پر جئے مہاجر اور اسکول کے اندر سندھی کی کلاس میں گندے مہاجر ہوتا ہے۔ لاعلمی واقعی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ جب تک ہمیں مہاجر کا مطلب نہیں پتہ تھا ہم اس بات کا برا بھی نہیں مناتے تھے۔ پھر ایک دن خدا جانے کس دھن میں ہم اپنے دوست وقاص بھائی سے پوچھ بیٹھے کہ یہ مہاجر کیا  ہوتاہے؟ اور اس کے معنی میں ایسا کون سا لطیفہ چھپا ہے جسے سن کر پوری کلاس اس وقت ہنس پڑتی ہے جب ہمیں گندے مہاجر کہا جا رہا ہوتا ہے؟ وقاص بھائی عمر میں ہم سے محض ایک سال بڑے تھے  مگر یو پی کی تہذیب میں ایک سال بڑا بھی بڑا ہی مانا جاتا ہے۔ سو  وقاص بھائی کو بڑا مان کر ہم نے مدعا ان کے سامنے رکھ دیا کہ ہمیں لفظ مہاجر کی معنیٰ بتائے جائیں۔ وقاص بھائی نے  "چوکو فور " کا ریپر پھاڑتے ہوئے کمال شفقت سے ہماری جانب دیکھا اور بزرگانہ انداز میں گویا ہوئے کہ " ایم کیو ایم " کا کارکن مہاجر کہلاتا ہے۔ ہم نے وقاص بھائی  کی بات سن کر سکون کا سانس لیا اور ہنسی خوشی گھر لوٹ آئے کہ ہمارے والد تو جماعت اسلامی کے کارکن تھے، ہم کیسے مہاجر ہو سکتے ہیں؟


اگلے دن سندھی کی کلاس میں ہم مسلسل خوشی سے پھدک رہے تھے۔ سندھی کے استاد نے اس تبدیلی کو محسوس کرلیا اور ہمیں اپنے پاس بلا کر محبت سے ہمارا کان تھاما اور پوری طاقت سے مروڑتے ہوئے گویا ہوئے،  چھا گالھ آں؟  کیوں پھدک رہا ہے؟ ہم نے تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹیچر کو بتایا کہ انہیں غلظ فہمی ہوئی تھی کہ ہم مہاجر ہیں۔ دراصل ہمارے والد تو جماعت اسلامی کے ایک سرگرم کارکن ہیں اور ہمارا ایم کیو ایم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ٹیچر نے ہمیں اوپر سے نیچے تک گھور کر دیکھا اور کان کے نیچے ایک جھانپڑ رسید کرتے ہوئے بولے، جماعتی ہو یا  کوئی اور ، ہے تو گندا مہاجر ہی نا؟  چل سیٹ پر بیٹھ! ہم کان اور گدی  سہلاتے ہوئے واپس  سیٹ پر آگئے اوردل ہی دل میں وقاص بھائی کو جتنی بھی گالیاں یاد تھیں سنا ڈالیں۔


 گھر آنے کے بعد بھی میں اداس رہا اور کافی دیر بھٹکی ہوئی آتما کی طرح گھر کے اندر ہی گھومتا رہا۔ نانا ابا  گھر آئے ہوئے تھے اور میری اس بےچینی کو دیکھ رہے تھے۔ ظہر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے اپنے پاس بلالیا اور اس بے چینی کی وجہ پوچھی۔ پہلے تو میں ہچکچایا مگر پھر پورا ماجرا ان کے سامنے رکھ دیا۔ نانا ابا نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولے، تو عاطف میاں! آپ جاننا چاہتے ہیں کہ مہاجر کون ہوتا ہے؟ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ نانا ابا نے بتایا کہ کسی بھی مقصد سے اپنا وطن چھوڑ کر کسی اورجگہ منتقل ہونے والے کو مہاجر کہتے ہیں۔ میں ہونقوں کی طرح نانا ابا کی شکل دیکھنے لگا۔ نانا ابا کی بتائی ہوئی تعریف کی رو سے مہاجر ہونے میں کوئی قابلِ تضحیک پہلو نہیں تھا جبکہ ہماری کلاس میں ہر بار اس لفظ کی پکار پر کلاس کے اکثریت میں موجود بچے ایک بلند قہقہہ لگاتے تھے۔  پھر میں نے سوچا کہ شاید لطیفہ اس اچھے اور گندے مہاجر میں چھپا ہو، لہٰذا میں نے نانا ابا سے اچھے مہاجر اور گندے مہاجر کا فرق پوچھ لیا۔نانا ابا میرے اس سوال پر کچھ کھسیانے سے ہوگئے۔ کہنے لگے کہ اس سوال کا جواب تو میرے پاس نہیں مگر تم کہو تو ایک کہانی تمہیں ضرور سنا سکتا ہوں۔


میرا اس وقت کہانی سننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر نانا ابا بڑے تھے اور آپا کہتی تھیں کہ بڑوں کی ہر بات ماننی چاہیئے سو میں نانا ابا کو انکار نہیں کرسکا۔ نانا ابا نے بتایا کہ بیٹا کچھ لوگ تھے جو ہندوستان نامی ایک ملک میں رہا کرتے تھے۔ ہندوستان پر اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی مگر  ہندوستانی یہ چاہتے تھے کہ انگریز ان کا ملک چھوڑ کر واپس انگلستان چلے جائیں۔ ہندوستان کے مسلمان بھی اس جدوجہد میں شامل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اگر انگریز چلے گئے اور اکثریتی آبادی کی بنیاد پر اقتدار ہنود کے ہاتھ آگیا تو وہ مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیں گے۔  اس ہی خیال سے ہندوستان کے مسلمانوں نے "تقسیم کرو اور چھوڑو" کا نعرہ اپنایا اور ایک علیحدہ مسلم مملکت کی مانگ کردی۔


مسلمانوں کا خلوص رنگ لایا اور سن سینتالیس میں پاکستان وجود میں آگیا۔ بہت سارے مسلمان جو ہندوستان کے ان علاقوں میں مقیم تھے جو پاکستان کا حصہ نہیں بننا تھے، وہ بھی اس جدوجہد میں شامل تھے۔ کوئی ان مسلمانوں سے جب پوچھتا کہ پاکستان بن بھی جائے تو تمہارا کیا مفاد؟ تم نے تو ہندوستان میں ہی رہنا ہے! تو وہ جوابا صرف یہی کہتے کہ کم از کم ان مسلمانوں کو تو عزت سے جینے کی آزادی مل جائے جو مجوزہ پاکستان میں مقیم ہیں۔


ان دیوانوں کی بےلوث محنت اور قائد اعظمؒ کی شاندار قیادت سے ہم نے یہ آزاد وطن حاصل کرلیا۔  الگ وطن حاصل کرنے کے بعد بھی اس ملک میں بےشمار مسائل تھے۔ حکومت کہنے کو قائم ہوگئی تھی مگر اس حکومت کو چلانے کیلئے تجربہ کار لوگوں کا فقدان تھا۔ قائد اعظم ؒ نے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں سے اپیل کی کہ آئیں اور نئے ملک کا انتظام چلانے میں مددگار بنیں۔ قائد کی اس پکار پر ہندوستان کے طول و عرض میں موجود مسلمانوں نے لبیک کہا اور اپنے مکان و کاروبار چھوڑ کر اس نئے ملک کے دست و بازو بننے پاکستان آگئے۔ ہجرت کے اس سفر میں کتنوں کے گلے کٹے، کتنوں کی عصمتیں پامال ہوئیں، کتنے اپنے پیاروں سے بچھڑے۔ آج تک اس کے درست اعداد وشمار سامنے نہیں آسکے۔ مگر یہ تعداد بلا مبالغہ بھی لاکھوں میں تھی۔


میں علیگڑھ یونیورسٹی کا گریجویٹ تھا۔  علیگڑھ میں ہی ایک چھوٹی سی زمین تھی ہماری اور اس کے علاوہ دلی میں ایک گھر تھا۔ میں دلی میں ہی نوکری کرتا تھا جب بٹوارے کا اعلان ہوا۔ میں نے ضروری سامان ساتھ لیا اور تمہاری نانی، ماں، اور بڑی خالہ کے ساتھ پاکستان کیلئے نکل پڑا۔ زمین اور گھر میں نے اللہ کے حوالے کردیئے تھے کہ ان  چیزوں کو بیچنے کیلئے رکنا پڑتا اور میں پہلی فرصت میں پاکستان پہنچنا چاہتا تھا۔ لٹتے ، مرتے، کٹتے جب ہم لاہور پہنچے تو مکان ، زمین، نقدی کے ساتھ ساتھ ہم تمہاری بڑی خالہ عصمت کو بھی کھو چکے تھے۔ ٹرین پر بلوائیوں نے حملہ کیا تھا اور اس بھگدڑ میں خداجانے عصمت کا ہاتھ کب تمہاری نانی کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔  نانا ابا کی آنکھوں سے آنسو مسلسل رواں تھے اور وہ  کہانی سناتے سناتے خود ماضی میں پہنچ گئے تھے۔ میں نانا ابا کی کہانی سن رہا تھا اور چشم تصور سے ایک پانچ سال کی بچی کو لاشوں کے ڈھیر میں اپنے ماں باپ کو ڈھونڈتے دیکھ رہا تھا۔ پتہ نہیں کب اور کیسے میری بھی آنکھ سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔


نانا ابا نے میرے آنسو پونچھے اور بولے، جب لاہور پہنچے تو پتہ چلا کہ دارالخلافہ کراچی ہے اور پڑھی لکھی افرادی قوت کی سب سے زیادہ ضرورت وہیں ہے۔ ہم نے بچپن سے لاہور کے قصے سن رکھے تھے اور ہمارے لیئے لاہور ہی بڑا شہر تھا مگر یہاں آکر پتہ چلا کہ ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ابھی ہمیں کراچی پہنچنا ہے۔ کراچی کیلئے نکلنے سے پہلے کچھ دن والٹن کیمپ میں رک کر عصمت کا انتظار کیا مگر جب کافی دن تک کوئی خبر نہین آئی تو ہم نے خود کو سمجھانے کیلئے اس کو مردہ تصور کر لیا۔ آزاد وطن اتنے آرام سے تو نہیں ملتےنا  بیٹا؟ وہ اور ہی خوش نصیب ہوتے ہیں جو صبح سو کر اٹھیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک آزاد وطن کا حصہ ہیں۔ ان کے گھروں کو آگ نہیں لگائی جاتی۔ ان کی بہن بیٹیوں کی ان کے سامنے عزتیں نہیں لوٹی جاتیں۔ ہم ایسے خوش نصیب نہیں تھے بیٹا، ہمیں آزاد وطن کی قیمت چکانی تھی سو ہم نے عصمت کو اس آزاد وطن کی قیمت سمجھ کر صبر کرلیا۔


عصمت پر فاتحہ پڑھنے کے بعد لاہور میں رکنے کا جواز نہیں بنتا تھا سو ہم وہاں سے کراچی کیلئے چل پڑے۔ راستے میں بہت سے لوگوں  سے ملاقات ہوئی اور ہر کسی نے یہی مشورہ دیا کہ کراچی پہنچ جائو۔ کراچی پہنچ کر پتہ چلا کہ کراچی اس لیئے بھیجا جا رہا تھا کہ اس کے آگے سمندر تھا۔ اگر اس سے آگے بھی کوئی شہر ہوتا تو یہ لوگ ہمیں وہاں تک پہنچا دیتے۔ کراچی جو تم آج دیکھتے ہو اس وقت ایسا نہیں تھا۔  اس وقت یہ جنگل ہوا کرتا تھا۔ پھر ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں نے اس شہر کو بسانا شروع کردیا۔  اس شہر کو وہ شہر بنایا جسے تم آج دیکھتے ہو۔  جو غریب کی ماں کہلاتا ہے۔ جس کے دروازے ہر نئے آنے والے کیلئے کھلے ہیں۔ وقت گزرتا گیا اور یہ ملک اور یہ شہر ترقی کرتا گیا۔ اس شہر کے ساتھ ساتھ ہم لوگ بھی ترقی کرتے گئے۔ مگر  پھر اس ترقی کے سفر کو کسی کی نظر لگ گئی۔ سب کچھ چھوڑ کر اس ملک میں آنے اور اس ملک کو اپنانے کے برسوسوں بعد ایک دن ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے ساتھ ایک بہت بڑا ہاتھ ہوگیا ہے۔ ہم سے ہمارا شہر  چھین لیا گیا۔ ہمیں یہ کہا گیا کہ چونکہ سندھ کے باقی شہروں میں رہنے والے نہیں چاہتے کہ کراچی میں  اقتدار نچلی سطح پر تقسیم ہو اس لیئے ہم کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروا سکتے۔ چونکہ باقی شہر ترقی کے معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں لہٰذا کراچی کو بھی ترقی کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ چونکہ کراچی کی بدقسمتی ہے کہ وہ صوبہ سندھ کا حصہ ہے لہٰذا ہم عددی اکثریت کی بنا پر کراچی کے باگ ڈور ایسے افراد کے حوالے کرتے رہیں گے جو کراچی صرف گھومنے کیلئے آتے ہیں۔


بات صرف وسائل و ترقی کی ہوتی تو خیر تھی،مگر ہمارے ساتھ جو دوسرا ہاتھ ہوا وہ بہت شدید تھا۔ میرے بچے! ہم سے ہماری شناخت چھین لی گئی۔ ہندوستان سے آنے والے وہ لوگ جو لاہور رک گئے تھے عقلمند نکلے۔ پنجاب کے بھائیوں نے انہیں اپنایا اور اپنی شناخت میں حصے دار بنا لیا۔ جب کہ وہ بدقسمت جو کراچی آگئے تھے اب اپنی شناخت کیلئے پریشان تھے۔ اگر ہم اندرون سندھ جاکر اپنے آپ کو سندھی کہتے تو سندھی ہم پر ہنستے تھے۔ اگر ہم کسی اور شہر جاکر اپنے آپ کو مہاجر کہتے تھے تو لوگ ہم پر تھو تھو کرتے تھے۔ ہم پاکستانی کی شناخت پر مطمئن ہونا چاہتے تھے تو ہمیں یاد دلایا جاتا تھا کہ دراصل ہماری جڑیں ہندوستان میں ہیں ۔ ہم سندھ میں رہتے تھے مگر سندھی نہیں تھے۔ پاکستان کے شہری تھے مگر غدار کہلاتے تھے۔ لے دے کر ہمارے پاس ایک مہاجر کی شناخت بچی تھی کہ یہ ہمارا فخر تھا۔ مہاجر کا مطلب تھا وہ انسان جس نے اس ملک کیلئے  اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ہو اور صعوبتیں برداشت کرکے اس ملک کا حصہ بنا ہو۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شناخت بھی ہم سے اب چھین لی جائے گی۔میرے بیٹے! تم نے پوچھا تھا نا کہ گندے مہاجر کون ہوتے ہیں؟ میرے بچے! ہندوستان سے پاکستان اور پاکستان میں کراچی آکر اپنا  گھربار، عزت و ناموس، جائیداد، جان و مال، اور آخر میں اپنی شناخت تک گنوا دینے والے مہاجرین کو گندے مہاجر کہتے ہیں۔


بہت سال پرانی یہ گفتگو آج پھر میرے دماغ میں گونج رہی ہے۔ سامنے ٹیلیویژن پر ایم کیو ایم کے لیڈران خورشید شاہ پر غصہ ہورہے ہیں  اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ خورشید شاہ نے کون سی غلط بات کردی ہے؟ اس ملک میں مہاجر ہونا کیا واقعی گالی نہیں ہے؟


کافی دیر تک یونہی بیٹھا سوچتا اور اداس ہوتا رہا اور پھر تنگ آکر نانا ابا کی ڈائری اٹھا لی۔ میں جب بھی بہت زیادہ اداس ہوتا ہوں تو نانا ابا کی ڈئری اٹھا لیتا ہوں۔غمزدہ ماحول میں عمدہ شاعری ایک بہترین سہارا ہوتی ہے اور  اشعار کے انتخاب میں میں نے نانا ابا سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔  ڈائری کھولتے ہی جس صفحے پر نظر پڑی اس پر منور رانا صاحب کے یہ اشعار درج تھے۔۔۔


مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے، ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں


کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر ، اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں


نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
پرانے گھر کی دہلیزوں کو سونا چھوڑ آئے ہیں


عقیدت سے کلائی پر جو اک بچے نے باندھی تھی
وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں، وہ رشتہ توڑ آئے ہیں


جو اک پتلی سڑک  یاں سے گھر کی اور جاتی تھی
وہیں حسرت کے خوابوں کو بھٹکتا چھوڑ آئے ہیں


یقیں آتا نہیں ، لگتا ہے  کچی نیند میں شاید
ہم اپنے گھر، گلی، اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں


میں نے ڈائری بند کی اور کرسی کی پشت پر آنکھیں موند کر ٹیک لگا لی۔ کان میں سندھی کے اس استاد کا جملہ مسلسل گونج رہا تھا ۔۔۔ گندے مہاجر ۔۔۔ گندے مہاجر ۔۔۔۔ گندے مہاجر!!!!

بدھ، 1 اکتوبر، 2014

زبان دراز کی ڈائری - 18

نوٹ: ذیل کی تحریر بچوں کی ایک مشہور لوک کہانی سے ماخوذ ہے اور کسی بھی اتفاقیہ مماثلت کی صورت میں مصنف ذمہ دار نہیں ہوگا۔


!پیاری ڈائری


تمہیں پچھلی بار ہی بتادیا تھا کہ دادی گھر آئی ہوئی ہیں اور مصروفیات بے تحاشہ ہیں لہٰذا اس بار غیر حاضری کی معافی نہیں مانگوں گا۔ دادی پندرہ دن رہ کر گئیں اور یہ پندرہ دن کس طرح گزر گئے پتہ ہی نہیں چلا۔ اچھے وقت کی سب سے بری بات یہ ہوتی ہے کہ یہ بہت جلدی گزر جاتا ہے۔ یا شاید وقت کی رفتار  ہمیشہ یکساں رہتی ہے مگر حالات کے اعتبار سے ہمارے لیئے کبھی لمحے بھی صدیاں بن جاتے ہیں اور کبھی صدیاں بھی لمحوں کی طرح گزر جاتی ہیں۔ خیر یہ تو ایک فلسفیانہ گفتگو ہے اور تم جانتی ہو کہ اس ملک میں ہم فلسفیوں کو پاگلوں کی ہی ایک قسم  گردانتے ہیں لہٰذا مزید فلسفے سے گریز کرتا ہوا میں دن بھر کی روداد پر آجاتا ہوں۔


دادی نے آج صبح جانا تھا مگر ہم سب کل سے ہی اداس ہوکر بیٹھ گئے تھے۔ دادی کی محبت بھری جھڑکیاں، ہمارا بےتحاشہ خیال رکھنا، اور سب سے بڑھ کر روزانہ ایک نئی کہانی سنانا، یہ سب چیزیں دادی کے اگلی مرتبہ گھر آنے تک ہم سے چھن جانی ہیں اور یہ خیال ہم سب بہن بھائیوں کو بری طرح بےچین کر رہا تھا۔ کافی دیر ضبط کرنے کی کوشش کرنے کے بعد بالآخر میں نے دادی کی گود میں سر رکھ دیا اور پھوٹ بہا۔ دادی نے مسکراتے ہوئے میرے آنسو پونچھے اور یاد دلایا کہ خاندان کے باقی بچوں کا بھی ان پر اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا، لہٰذا ہمیں اپنے حصے کو غنیمت جانتے ہوئے ایثار سے کام لینا چاہیئے ورنہ ہمارا حال بھی ان بندروں جیسا ہی ہونا ہے جنہوں نے شدید بھوک کے عالم میں بھی زیادہ کے لالچ میں چنے ٹھکرا دیئے تھے۔ میں نے بندروں کی یہ کہانی پہلے نہیں سنی تھی تو دادی نے مجھے سمجھانے اور خوش کرنے کیلئے بندروں کی وہ کہانی سنا دی۔


دادی کا کہنا تھا کہ کسی جنگل میں دو بندر بھوکے گھوم رہے تھے۔ بیچاروں نے کئی دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ جنگل میں موجود تیسرے بندر نے جب ان بندروں اور ان کی مجبوری کو دیکھا تو اسے بڑا ترس آیا۔ ترس سے زیادہ اسے یہ ڈر تھا کہ اگر یہ بندر یہاں رزق کی تلاش میں روز آنے لگے تو جنگل میں اس کی یکطرفہ حکومت ختم ہوجائے گی اور اسے ان بندروں کو بھی اپنے کھانے میں سے حصہ دینا پڑے گا۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنے گھر میں موجود بھنے ہوئے چنے اٹھائے اور ان بندروں کے پاس جاپہنچا۔ اس نے اپنے پاس موجود چنوں کی چھ میں سے پانچ  ڈھیریاں ان دونوں بندروں کو پیش کردیں کہ وہ چاہیں تو ان سے اپنی بھوک مٹا لیں۔ بندر بھوکے تو بہت تھے مگر دونوں ہی بلا کے خوش فہم اور بےوقوف بھی تھے۔ ان دونوں نے سوچا کہ جب یہ پانچ ڈھیریاں دینے پر تیار ہوگیا ہے تو ذرا سا رعب اور جذبانی دبائو ڈال کر چھٹی ڈھیری بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔


ان دونوں نے اس تیسرے بندر کو غصے دیکھا اور چنے اٹھا کر زمین پر پھینکتے ہوئے بولے، ہم بھوکے ہیں مگر ہماری رگوں میں بادشاہ بندر کا خون دوڑ رہا ہے۔ ابھی اتنا برا وقت نہیں آیا کہ ہم تمہارا احسان لیں اور یہ بھنے ہوئے چنے کھائیں! بادشاہ زادے اب یہ چنے کھائیں گے؟ ویسے بھی اگر دینے ہی ہیں تو ہمیں چنے کی تمام چھ ڈھیریاں دو تاکہ ہم برابری کی بنیاد پر آپس میں بانٹ سکیں! ورنہ ہم تھوکتے ہیں ان چنوں پر۔


بندر نے حیرت سے ان کی شکل دیکھی اور انہیں سمجھایا کہ اس وقت چنوں کی ضرورت اس سے زیادہ ان دونوں کو ہے۔ اور اگر اس نے چھٹی ڈھیری بھی ان کو دے دی تو وہ خود کیا کھائے گا؟ اب اس بات پر بندروں کی بحث شروع ہوگئی۔ دونوں میں سے کوئی ایک بھی اپنے اصولی موقف سے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔ جنگل کے دوسرے جانوروں نے بیچ بچائو کرانے کی کوشش بھی کی مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ بندروں کے مابین یہ بحث پچاس منٹ تک جاری رہی اور آخر میں وہ دونوں  بندر ان چنوں پر تھوک کر، کچھ اور کھانے کی تلاش میں آگے بڑھ گئے۔


خدا تعالٰی کو ضد اور ہٹ دھرمی کبھی بھی پسند نہیں رہی، چاہے وہ کوئی بھی مخلوق کرے۔ ان ضدی بندروں کو ان کے کیئے کی سزا یہ ملی کہ پورا دن کھانے کی تلاش میں گھومنے کے باوجود انہیں کچھ بھی کھانے کو نہیں ملا۔ جنگل کے جس درخت پر پھل دکھتا اس پر پہلے سے کوئی اور جانور قبضہ کرکے بیٹھا ہوتا اور اگر اتفاق سے کوئی درخت خالی مل بھی جاتا تو اس کا پھل اتنا کسیلا اور زہریلا ہوتا کے وہ ایک لقمہ بھی نہیں لے پاتے۔ پورا دن جنگل میں گھومنے کے بعد بھوک اور تھکن سے نڈھال یہ دونوں بندر بالآخر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ روتے روتے ان کی نظر کچھ ہی فاصلے پر پڑے ان چنوں پر گئی جنہیں ٹھکرا کر وہ صبح یہاں سے آگے چلے گئے تھے۔ بھوک کے عالم میں یہ چنے جنت کے کسی میوے سے کم نہیں تھے۔ بندروں نے چاہا کہ بڑھ کر ان چنوں کو اٹھا لیں مگر پھر یاد آگیا کہ صبح وہ ان ہی چنوں پر تھوک کر آگے بڑھ گئے تھے۔ اب اگر کوئی ان دونوں کو یہ چنے کھاتا دیکھ لیتا تو وہ دونوں شرم کے مارے دوبارہ اس جنگل میں قدم رکھنے کے قابل نہیں رہتے۔


دونوں بندر حسرت سے ان چنوں کو دیکھنے اور اس وقت کو کوسنے لگے جب جذبات اور مزید پانے کے لالچ میں انہوں نے ان چنوں کو ٹھکرا دیا تھا۔ شدید بھوک کے عالم میں کھانا سامنے دیکھ کر ان بندروں کی وہی حالت تھی جو کسی ترقی پذیر ملک میں کئی سال اپوزیشن کرنے کے بعد حکومت میں آنے والی جماعت کی ملکی خزانے کو دیکھ کر ہوتی ہے۔


جب برداشت بالکل جواب دے گئی تو ان میں سے ایک بندر اٹھا اور ان چنوں کے پاس پہنچ گیا جو زمین پر اب تک بکھرے ہوئے تھے۔ اس کا دیکھا دیکھی دوسرا بندر بھی خاموشی سے اس کے برابر میں آکر کھڑا ہوگیا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ بندر بھوکے تھے اور چنے سامنے موجود تھے، مگر دونوں میں سے کوئی ایک بندر بھی پہلا چنا کھانے کی خفت اٹھانے کو تیار نہ تھا۔ کافی دیر اس ہی طرح گزر گئی تو بڑا بندر چنے کی ایک ڈھیری اٹھاتے ہوئے بولا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے اس والی ڈھیری پر نہیں تھوکا تھا۔ دوسرے بندر نے بھی فورا ایک ڈھیری اٹھائی اور بولا، یہ والی تو ویسے بھی دور جاکر گری تھی سو اس پر تو تھوکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پہلے بندر نے اب کی بار ایک ساتھ دو ڈھیریاں اٹھائیں اور انہیں منہ میں رکھتے ہوئے بولا، اور یہ تو بالکل خشک ہیں جیسے ان پر کبھی کوئی گیلی چیز پڑی ہی نہ ہو۔


ایک ایک کرکے تاویلات آتی گئیں اور ڈھیریاں کم ہوتی چلی گئیں۔ چند ہی لمحوں میں بندروں نے وہ پانچوں ڈھیریاں چٹ کرڈالیں جن پر کچھ وقت پہلے وہ خود تھوک کر آگے بڑھ گئے تھے۔ بھوک تو مٹ گئی مگر بندروں نے اس دن یہ سبق سیکھ لیا کہ عزت اس ہی بات میں ہے کہ اگر بھوک شدت اختیار کرجائے تو جتنا ملے اس کو غنیمت جان کر آگے بڑھ جانا چاہیئے۔ اگر  چھ میں سے پانچ ڈھیریاں اپنی مرضی کی مل رہی ہوں اور پھر بھی بندر ضد پر اڑے رہیں تو چھٹی ڈھیری کے چکر میں یا تو بندر پہلی پانچ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا بالآخر اپنا ہی تھوکا چاٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ دادی نے یہ کہہ کر کہانی ختم کی اور میرا ماتھا چوم کر سونے چلی گئیں۔


 صبح سو کر اٹھا تو پتہ چلا کہ دادی تایا ابو کے گھر کیلئے نکل گئی ہیں۔ دادی کے جانے کے بعد گھر میں اب کرنے کو کچھ ہے نہیں سو صبح سے بیٹھا یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ بندر والی کہانی میں نے چند ہی دن پہلے ٹیلیویژن کے کسی ڈرامے میں بھی دیکھی ہوئی ہے۔ ڈرامے کا نام یاد نہیں آرہا مگر جیسے ہی یاد آیا تو ضرور بتائوں گا۔ تب تک کیلئے اجازت۔


،تمہارا


زبان دراز

بلاگ فالوورز

آمدورفت