Tragedy لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Tragedy لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 20 فروری، 2017

پیر صاحب

جیل سے فرار ہوئے مجھے ایک ماہ سے اوپر ہوگیا تھا اور میں مسلسل بھاگتا پھر رہا تھا۔ گو کہ اس ایک ماہ میں میرا حلیہ کافی حد تک تبدیل ہوچکا تھا مگر مجھے ڈر تھا کہ پولیس نے میری تلاش میں اشتہارات نہ لگوا دیئے ہوں۔ پہچانے اور پھر دوبارہ پکڑے جانے کا خوف مجھے کسی بھی ایک جگہ زیادہ دن رکنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ اس ہی فرار کی حالت میں خدا معلوم کن رستوں سے ہوتا ہوا میں اس گائوں پہنچ گیا تھا۔
یہ ایک نہایت پسماندہ اور دور افتادہ گائوں تھا۔ بمشکل چند ہزار کی آبادی تھی اور سہولیات زندگی نہ ہونے کے برابر۔ آس پاس کے چار چار گائوں تک نہ کوئی سکول تھا نہ ہسپتال۔ گائوں کے لوگوں کو البتہ ان چیزوں سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ انہوں نے حالات کے ساتھ سمجھوتا کرلیا تھا اور اب وقت کے ساتھ اتنے سمجھدار ہوگئے تھے کہ کسی غریب کی طبیعت اگر زیادہ خراب ہو جاتی تو پیسے علاج پر خرچ کرنے کے بجائے تدفین کیلئے جوڑ لیئے جاتے تھے۔
سادہ سا گائوں تھا اور سادہ سے لوگ۔ یہاں ابھی تک ہاتھ باندھنے یا کھول کر نماز پڑھنے کے جھگڑے نہیں پہنچے تھے کہ یہ لڑائیاں وہاں ہوتیں جہاں نماز بھی ہوتی ہو۔ گائوں میں نہ کوئی مسجد تھی نہ مولوی! کبھی بھولا بھٹکا کوئی مولوی اگر آبھی جاتا تو ان گائوں والوں کی غربت دیکھتے ہوئے کسی ذیادہ منافع بخش جگہ کی تلاش میں آگے نکل جاتا تھا۔ شادی بیاہ اور میت کیلئے شہر سے مولانا صاحب بلائے جاتے تھے جبکہ روزمرہ کی زندگی کیلئے اللہ، رسول کے نام ان گائوں والوں کو معلوم تھے اور انکے لیئے یہی بہت تھے کہ مذہب ان کیلئے بس اتنا ہی اہم تھا کہ ان کے نزدیک جب زندگی میں کوئی راستہ نہ دکھے تو اللہ رسول کا نام لے کر رونے سے وہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو کچھ گائوں چھوڑ کر ایک پیر صاحب کا ڈیرہ تھا جہاں جاکر نذرانہ چڑھانے سے کام ہوجائے گا۔
جب میں گائوں میں داخل ہوا تو رات گہری ہوچکی تھی اور گائوں کے کتے تک سوچکے تھے۔ میں کچے پکے راستوں اور کھیتوں کے بیچ میں سے گزرتا ہوا گائوں کے وسط میں واقع ایک برگد کے نیچے جا کر لیٹ گیا۔ جسم پھوڑا بن چکا تھا اور تھکن کی وجہ سے مزید جاگنا محال تھا۔ میں نے چادر کاندھے پر سے اتاری اور منہ پر تان کر سو گیا۔
کب رات گزری اور کب صبح ہوئی مجھے احساس تک نہیں ہوا۔ جب آنکھ کھلی تو خود کو گائوں کے بوڑھوں اور بچوں میں گھرا پایا جو بڑی دلچسپی اور حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں ابھی تک نیم خوابی کے عالم میں ہی تھا اور کانونٹ کے دنوں کی بری عادت سے مجبور، بے دھیانی میں انگریزی میں ہی بات کرتا تھا۔
( میرا تعلق ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تھا اور اگر ریپ کے کیس میں پکڑا نہ جاتا تو آج میں بھی شہر میں ایک عزت دار زندگی گزار رہا ہوتا۔ تمام تر تعلیم اور تربیت کے بعد بھی میں اپنے اندر کے اس درندے کو روک نہیں پاتا تھا جو خواتین کو دیکھتے ہی میرے اندر بیدار ہوجاتا تھا۔ معاشرے کو بھی میری اس بیماری سے فرق نہیں پڑتا کہ میرے جرم کی اصل سزا یہ معاشرہ مجرم کو نہیں بلکہ جرم کا شکار ہونے والے مظلوم کو دیتا تھا۔ خودساختہ عزت بچانے کے ڈر سے کبھی کسی نے میرے خلاف رپورٹ نہیں کروائی تھی کہ اگر وہ غریب میرے خلاف تھانے جاتیں تو اول تو معاشرہ انہیں جینے نہیں دیتا اور دوسرا وہ بیچاری وہ چار گواہ کہاں سے لاتیں جو یہ کہتے کہ ہاں ہم نے بےغیرتوں کی طرح اس کی عزت لٹتے ہوئے دیکھی اور ہم نے اس وقت تو کچھ نہیں کیا مگر آج گواہی دینے آگئے ہیں۔ زندگی عیاشی میں گزر رہی تھی مگر غلطی سے میں نے ایک طاقتور کی بیٹی پر ہاتھ صاف کردیا۔ چار کی جگہ چار سو گواہ بھی آگئے اور کیس بھی اس لڑکی کے بجائے اس کی ملازمہ کی عزت لٹنے کا بنا۔ خود تو مردود صاف نکل گئی اور ہمیں عدالت نے سات سال کی بامشقت سزا سنادی۔)
میں نے انگریزی میں انہیں جھاڑا کہ تم یہاں کون سا تماشہ دیکھنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہو؟ میں کوئی چڑیا گھر کا جانور نہیں جسے اس طرح ہجوم بنا کر دیکھنے کیلئے تم لوگ یہاں جمع ہوئے ہو! دفع ہوجائو!!! گائوں والے سراسیمہ ہوکر اِدھر ادھر ہوگئے مگر تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ پہلے سے زیادہ بڑی تعداد میں واپس آگئے۔ اس بار ان سب کے ہاتھوں میں کھانے پینے کی چیزیں تھیں جو وہ میری خدمت میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ گائوں کے بزرگوں نے واپس جاکر گائوں بھر کو خوشخبری دے دی تھی کہ اب علاج کیلئے چار کوس دور پیر صاحب کے پاس نہیں جانا پڑے گا کیونکہ خود ہمارے گائوں میں ایک اللہ لوک بزرگ تشریف لے آئے ہیں جو جنات کی بولی بھی جانتے ہیں۔
آنے والے چند ہی دنوں میں میں ایک نیم پکے مکان میں منتقل ہوچکا تھا جو گائوں کے چوہدری صاحب نے بطور خاص میرے لیئے بنوایا تھا۔ چوہدری صاحب خود تو اس گائوں میں نہیں رہتے تھے مگر وہ جانتے تھے کہ گائوں والوں کو ان کی ذہنی اور جسمانی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے میں میں کتنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہوں۔ مجھے بھی انکی نوازشات پر کوئی اعتراض نہیں تھا کہ مجھے صرف کچھ وقت گزار کر یہاں سے آگے چلے جانا تھا۔ یہ پیری فقیری میرے بس کی چیز نہیں تھی اور کسی بھی دن اگر بھانڈہ پھوٹ جاتا تو لینے کے دینے پڑ جاتے۔
گائوں کے لوگوں کو اب ایک نیا شغل اور امید مل گئی تھی۔ پیر صاحب کیا آئے، زندگی کے ہر مسئلے کا حل ان کے ہاتھ آگیا۔ وہ اپنی ذندگی کے تمام مسائل کا رونا اب میرے پاس آکر رونے لگے۔ مجھے صرف تین وقت کے کھانے اور وقتی پناہ سے مطلب تھا سو میں ان کی اس بکواس کو اس کھانے کی قیمت سمجھ کر سن لیتا۔ گائوں والے مجھ سے بہت خوش تھے۔ اندر کی تمام بھڑاس نکالنے کے بعد وہ قدرتی طور پر بہتر محسوس کرتے اور اسے میری کرامت سے منسوب کردیا جاتا۔ دوسری چیز جو میرے حق میں گئی وہ یہ تھی کہ آس پاس کے گائوں والے بھی اب دعا کروانے میرے پاس آنے لگے تھے جس سے گائوں والی کی عزت میں بھی اضافہ ہوگیا تھا۔
دن ہفتوں میں بدل گئے اور اب میں اس تماشے سے اکتانے لگا۔ میں اب گائوں سے روانگی اور آگے کی منازل کے بارے میں سوچنے ہی لگا تھا کہ کل میرے پاس گائوں کا ایک بے اولاد جوڑا آگیا۔ وہ دونوں اولاد نہ ہونے کے غم سے پریشان تھے۔ میں نے تسلی سے ان کی بات سنی اور انہیں یقین دلایا کہ میں ان کیلئے خصوصی دعا کروں گا۔ وہ دونوں خوشی خوشی وہاں سے اٹھ کر جانے لگے تو بدقسمتی سے اس کی بیوی کے چہرے سے چادر کھسک گئی۔ میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو میں نے اس ہی وقت اپنا ارادہ تبدیل کردیا۔ میں نے اس کے شوہر کو کہا کہ کل وہ اپنی بیوی کو میرے حجرے پر چھوڑ جائے کہ یہ معاملہ دعا سے زیادہ دوا کا ہے۔ مجھے ایک مخصوص عمل کرنا ہوگا جس کے بعد تم دونوں کو اولاد کی نعمت نصیب ہوجائے گی۔ ان دونوں میاں بیوی کے چہرے خوشی سے چمک اٹھے۔ وہ اگلے دن اپنی بیوی کو لانے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
پوری رات میں صبح ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ اگلے دن میں نے صبح ہی اپنے خاص مرید کے ذریعے، آنے والے تمام لوگوں کو کہلوادیا کہ آج مرشد ایک خاص عمل کر رہے ہیں جس کیلئے انہیں تنہائی اور انہماک کی ضرورت ہے سو آپ لوگ اب کل آئیے گا۔ جب تمام مرید چلے گئے تو میں نے اس خاص خادم اور مرید کو بھی رخصت کردیا اور تیار ہوکر ان میاں بیوی کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر گزری ہوگی کہ وہ دونوں میاں بیوی بھی پہنچ گئے۔ میاں کو میں نے دروازے سے ہی رخصت کردیا اور اندر پہنچتے ہی اس عورت پر ٹوٹ پڑا۔ وہ بیچاری چپ چاپ سب کچھ سہتی رہی اور آخر میں اپنے آپ کو سنبھالتی، روتی ہوئی حجرے سے نکل کر بھاگ گئی۔
اس کے جانے کے بعد مجھے ہوش آیا کہ یہ میں کیا کر بیٹھا ہوں۔ اگر اس نے یہ بات اپنے شوہر کو بتادی تو وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ ان علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل ایک معمول کی بات تھی۔ میں تیزی سے باہر نکلا کہ اس سے پہلے وہ عورت جاکر اپنے شوہر کو یہ بات بتائے میں اسے پکڑ کر کسی طرح قائل کرلوں کہ یہ بات صرف ہم دونوں کے بیچ میں رہنی چاہیئے۔ جنت جہنم کی چار باتیں ان گائوں والوں کو ڈرانے اور للچانے کیلئے بہت تھیں کہ یہ لوگ جہنم سے بے انتہا ڈرتے تھے۔ میں بھاگتا ہوا جا رہا تھا کہ مجھے وہ عورت ایک کھیت میں داخل ہوتی ہوئی دکھی۔ میں تیزی سے اس کے پیچھے لپکا مگر اس سے پہلے کہ میں اس تک پہچتا وہ اپنے میاں تک پہنچ چکی تھی۔ میں وہیں پیچھے کھڑے ہوکر سننے لگا۔ وہ عورت رو رو کر اپنے شوہر کو بتا رہی تھی کہ اس سے ایک عظیم گناہ سرزد ہوچکا ہے اور اب وہ اس کے قابل نہیں رہی ہے۔ اس کے شوہر نے اس کو تسلی دیتے ہوئے پوچھا کہ ایسا کیا ہوگیا؟ اس عورت نے جواب دینے کی کوشش کی مگر سوائے ہچکیوں کے کوئی آواز نہیں نکل پائی۔ تھوڑی دیر وہ اس ہی طرح دھاڑیں مارتی رہی اور پھر بمشکل سسکیوں کے درمیان بولی کہ اب وہ جہنمی ہوگئی ہے اور اب اپنے شوہر تو کیا کسی  انسان کے بھی لائق نہیں رہی ہے۔
میں کھیت میں کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا اور میرا خود کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ گائوں میں رکتا تو گائوں والے مار ڈالتے اور اگر گائوں چھوڑ کر بھاگتا تو پولیس مجھے نہیں چھوڑتی۔ مجھے جو بھی فیصلہ کرنا تھا نہایت سوچ سمجھ کر کرنا تھا۔ میں تمام ممکنات کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس عورت کے شوہر کی آواز ایک مرتبہ پھر آئی جو اپنی بیوی کو سمجھا رہا تھا کہ رونے سے کچھ نہیں ہوگا اور اسے اپنے شوہر پر بھروسہ کرتے اسے اعتماد میں لینا چاہیئے۔ وہ عورت بمشکل خود پر ضبط کرتے ہوئے بولی، اب کچھ نہیں ہوسکتا! مجھے جہنم میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پیر صاحب جب عمل کر رہے تھے تو میری ناپاک ٹانگیں ان کی داڑھی مبارک پر لگ گئیں! تو خود بتا اب مجھے جہنم میں جانے سے کون روک سکتا ہے؟ میں دم بخود ان کی گفتگو سن رہا تھا اور پھر میری آنکھوں نے ایک حیران کن منظر دیکھا۔ اس کے شوہر نے اس کا ہاتھ تھاما اور بولا، پیر صاحب بہت پہنچی ہوئی ہستی ہیں! چل کر مل کر ان سے بات کریں گے تو مجھے یقین ہے وہ تجھے معاف کردیں گے۔ چل آجا مرشد سائیں سے معافی مانگ کر آئیں۔
میں نے ایک مرتبہ پھر دوڑ لگادی۔ اس مرتبہ میرا رخ واپس اپنے حجرے کی طرف تھا جہاں میں باقی کی پوری زندگی اطمینان سے گزار سکتاہوں۔

بدھ، 2 نومبر، 2016

23 اکتوبر

سر مجھے لگ رہا ہے کہ یہ جو بھی کچھ ہورہا ہے وہ محض اتفاقی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ضرور کوئی منصوبہ ساز زہن موجود ہے جو انتہائی صفائی اور مہارت سے یہ کام کر رہا ہے۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ وہ کیوں یہ کام کر رہا ہے مگر یہ جو ایک دو واقعات میں نے آپ کو بیان کیے ہیں تو سر  ان کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ ۔۔۔۔ سر آپ میری بات مانیں نہ مانیں یہ یقینا کوئی سیریل کلر ہے جو اتنا شاطر ہے کہ پولیس کی نظروں میں آئے بغیر گزشتہ پانچ سالوں سے یہ کام کر رہا ہے! سر آپ بس مجھے اجازت دیں تو میں باقاعدہ کیس فائل کرکے تحقیقات شروع کردوں؟ میرا ماتحت آفیسر اس وقت میرے سامنے بیٹھا نہایت جذباتی انداز میں تیز تیز اور مسلسل بول رہا تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرایا اور پانی پینے کو کہا۔ وہ پانی پی کر فارغ ہوا تو میں نے اسے سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کی وجہ سے جذباتی ہورہا ہے اور  معاملہ ایک بڑے ہسپتال اور اس کی ساکھ کا ہے۔ غلط کیس فائل ہوا اور میڈیا کو کیس فائل ہونے کی خبر مل گئی تو ہسپتال والے اتنے طاقتور ہیں کہ ہم دونوں کو اٹھوا کر گھر بھجوا دیں گے اور شہرت خراب کرنے پر ہتک عزت کا دعویٰ الگ ہوگا۔ بہتر یہی ہوگا کہ وہ  چند دن  دفتر نہ آئے اور باہر سے ہی اپنے طور پر یہ تحقیقات خفیہ طریقے سے جاری رکھے اور مجھے مطلع  کرے۔ مناسب ثبوت بہم ہوجانے پر ہم کیس فائل کرکے معاملے کو دیکھ لیں گے۔
اس کو وہاں سے رخصت کرنے کے بعد میں نے فون اٹھایا اور اس ہی ہسپتال میں کام کرنے والی اپنی چھوٹی بہن کو بھی خبردار کردیا کہ وہ  رازاداری کے ساتھ اردگرد نظر رکھے اور کسی بھی گڑبڑ کے نتیجے میں مجھے فوری طور پر مطلع کرے۔ فون کال نمٹا کر میں نے سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی اور تھانے کے احاطے میں کھڑا ہوکر سگریٹ پیتے ہوئے معاملے کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنے لگا۔
میرے ماتحت آفیسر کے بیان کے مطابق یہ معاملہ ابھی پولیس کی نظروں میں آیا ہی نہیں تھا جبکہ قتل کی یہ وارداتیں پچھلے پانچ سال سے جاری تھیں۔  اس کو بھی اس معاملے کی بھنک ایسے پڑی تھی کہ اس کی بیوی اس ہسپتال میں زچگی کے سلسلے میں گئی تھی اور جان کی بازی ہار گئی تھی۔ بیوی کی موت کے فورا بعد یعنی دو گھنٹوں میں ہی  ہسپتال والوں نے بچے کو بھی مردہ قرار دے دیا تھا۔ شاید کوئی اور ہوتا تو اس معاملے کو خدا کی مرضی قرار دے کر رو پیٹ لیتا مگر پولیس والوں اور بالخصوص تفتیشی افسران کا مزاج عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ میرے ماتحت کو یہ شک گزرا کہ یہ اموات جتنے عجیب انداز میں ہوئیں وہ طبعی موت نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا معاملہ تھا۔ ہسپتال کا نام بہت بڑا تھا اس لئے  مجرمانہ غفلت کا براہ راست الزام لگانے کے مضمرات سے وہ آگاہ تھا۔ کیس کو مضبوط کرنے کے لئے اس نے اپنے ذرائع سے تحقیقات کیں تو ایک عجیب سی خبر اس کے سامنے آئی کہ  زچہ و بچہ کی موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ پچھلے پانچ سال سے ہر سال اکتوبر کے مہینے میں اس قسم کے واقعات اس ہسپتال میں ہوتے آئے تھے ۔  یہ معلومات ملتے ہی وہ جذبات میں دوڑتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا تھا اور مجھ سے کیس درج کرنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ سگریٹ  ختم کرکے میں نے اس کیس کے سلسلے میں دماغ میں آنے والے تمام فالتو خیالات کو جھٹکا اور واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے طے کرلیا تھا کہ اب اس معاملے پر تب ہی سوچوں گا جب کچھ مزید اطلاعات میرے سامنے آئیں گی۔


اس بات کو گزرے چار دن  ہوگئے تھے اور میرا ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا۔ میں اپنی بہن سے بھی معاملے کی مسلسل سن گن لے رہا تھا مگر اس  نے بھی اردگرد کوئی غیرمعمولی چیز محسوس نہیں کی تھی۔ میں پچھلے دو دن سے مسلسل دفتر سے واپسی میں اس کے گھر جارہا تھا مگر ہر مرتبہ یہی معلوم ہوتا کہ وہ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے گھر سے نکلا ہے اور جب میں اس کے موبائل پر فون کرتا تو گھنٹی بجتی مگر کوئی جواب نہ آتا۔ میں نے اس کے گھر والوں کو بھی بول رکھا تھا کہ وہ جب بھی گھر آئے تو اسے مجھ سے رابطہ کرنے کو کہیں مگر یا تو گھر والے اسے میرا پیغام نہیں پہنچا رہے تھے یا وہ خود مجھ سے کترا رہا تھا۔ آج میں نے سوچ لیا تھا کہ دفتر سے واپسی میں میں اس کے گھر جاؤں گا اور وہیں بیٹھ کر اس وقت تک اس کا انتظار کروں گا جب تک وہ واپس نہیں آجاتا۔
دفتر میں بہت سے توجہ طلب امور تھے مگر میرا دھیان اس ہی میں اٹکا ہوا تھا۔ کافی دیر تک بھی جب میں کسی اور چیز پر توجہ مرکوز نہ کرسکا تو میں نے جھلا کر اسے کال کرنے کے لئے موبائل نکالا تو اس ہی وقت سکرین پر اس کا نام جگمگانے لگا۔ میں نے فورا کال اٹھائی اور اس سے پہلے کہ میں اسے پچھلے چار دن پر مغلظات سناتا اس کی نہایت پرجوش آواز ابھری، سر! میرا شک صحیح نکلا۔ آپ بس جلدی سے ہسپتال پہنچ جائیں میں ہسپتال کے  سامنے والے ہوٹل میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ باقی تفصیلات میں مل کر بتاتا ہوں۔
میں گاڑی اڑاتا ہوا سیدھا ہسپتال کے سامنے واقع ہوٹل پر پہنچ گیا۔ وہ ہوٹل کے باہر پڑی کرسی پر بیٹھا ہسپتال کے دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھا تھا۔ میں اتر کر اس کے پاس گیا تو اس نے عادتا مجھے سلوٹ کردیا۔ وہ اس وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا اور مجھے لگا کہ لوگ اس کے اس طرح مجھے سلوٹ کرنے پر چونکے ہیں مگر پھر مجھے خیال آیا کہ میں تو وردی میں موجود تھا اور یہ سراسیمگی میرے آنے کی وجہ سے پھیلی تھی۔ میں نے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے برابر میں موجود کرسی سنبھال لی اور اردگرد  کی کرسیوں پر موجود لوگوں کو اٹھنے کا اشارہ کردیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے گفتگو کوئی اور سنے اور لوگ تو ویسے ہی ہم سے دور بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں سو چند ہی لمحوں میں ہم دونوں اکیلے رہ گئے تھے۔
پہلے پانچ منٹ تو میرے اسے اس طرح غائب ہونے پر مغلظات سنانے میں لگ گئے مگر اس کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی ٹھوس چیز کے میرا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے فون پر بات کرنے میں متامل تھا۔  چار گالیاں اس احمقانہ سوچ پر مزید کھانے کے بعد وہ معاملے کی تفصیلات پر آگیا۔
میرے ماتحت کے مطابق اس نے اکتوبر کے مہینے سے جڑے ان حادثات کو کھوجنے کے لئے ہسپتال کے سٹاف کو کھنگالنے کی کوشش کی  کہ ان میں سے کس کس کا اس مہینے سے کوئی خاص تعلق ہوسکتا ہے۔  پہلے مرحلے میں اس نے ہسپتال کے ہیومن ریسورس مینجر کو اپنی نوکری کی دھونس جمائے بغیر محض بندوق دکھا کر تمام سٹاف کا ڈیٹا حاصل کیا اور اس میں سے اکتوبر کی تاریخ پیدائش والے تمام  افراد کی نشاندہی کر لی۔ اس کے شک کا دائرہ اب ہسپتال کے چار سو سٹاف سے سمٹ کر محض سینتیس لوگوں پر رہ گیا تھا  امگر ایک دو کی بات ہوتی تو ٹھیک تھا ، وہ ذاتی حیثیت میں سینتیس لوگوں کو شامل تفتیش نہیں کرسکتا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ اب معاملہ یہیں ختم ہوجائے گا مگر قدرت اس پر مہربان ہوگئی جب اس نے کل رات سوچوں کے درمیان  بے دھیانی میں ہسپتال سے ملنے والی اپنی بیوی کی کیس فائل کھولی اور اسے ڈاکٹر کے خانے میں جو نام دکھا وہ اکتوبر میں پیدا ہونے والے ان افراد کی فہرست میں موجود تھا۔ اس کے بقول وہ رات بھر سو نہیں سکا اور صبح ہی ہسپتال پہنچ کر اس ہی ہیومن ریسورس مینجر کے ساتھ موجود تھا جس نے اسے پہلے بھی ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ قسمت اس پر مسلسل مہربان تھی کہ وہ شخص ہیومن ریسورس مینجر  اور ایک توپ افسر ہونے کے ناطے ہسپتال کے تمام ستاف کی حاضری اور ہسپتال کے میڈیکل ریکارڈ دونوں تک رسائی رکھتا تھا۔ میرے ماتحت کے مطابق جیسے ہی اسے پتہ چلا  کہ پچھلے پانچ سال میں ہونے والی تمام زچہ و بچہ کی اموات کے وقت محض ایک شخص تھا جو ڈیوٹی پر موجود تھا تو اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس شخص کا نام وہ اپنی بیوی کے میڈیکل ریکارڈ میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔  وہ ڈاکٹر اس وقت بھی ہسپتال میں موجود تھی اور اب ہم دونوں ہسپتال میں تماشہ نہ بنانے کے لئے ہسپتال کے باہر اس کے منتظر تھے کہ وہ کب ڈیوٹی ختم کرکے نکلے اور ہم اسے اس کے گھر جا کر دھر لیں۔ میرا ماتحت ہسپتال کے ریکارڈ سے اس کا پتہ نکال لایا تھا مگر میں اپنی بہن کے حوالے سے میں اسے جانتا تھا  اور میں جانتا تھا کہ یہ ایک فرضی پتہ ہے۔ میں اس سفاک قاتل کا پتہ جانتا تھا جو ہسپتال سے پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی واقع ایک پوش علاقے میں مکین تھی لہٰذا میں نے اپنے ماتحت کو ساتھ لیا اور اس کے گھر کے سامنے والے پارک میں جا کر انتظار کرنے لگا ۔
شام پانچ بجے اس کی ڈیوٹی ختم ہوئی تھی اور ٹھیک پانچ بج کر سولہ منٹ پر وہ اپنے گھر کا دروازہ کھول رہی تھی کہ میں نے اپنے ماتحت کے ساتھ اسے جالیا۔ وہ مجھے میرے ماتحت کے ساتھ اور اس طرح وردی میں دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی تھی۔ میں نے اسے دروازہ کھول کر اندر چلنے کا اشارہ کیا۔
گھر میں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ ہم اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئے۔ میں نے اپنے ماتحت کو اشارہ کیا اور اس نے پورا معاملہ اس لڑکی کے سامنے رکھ دیا کہ کس طرح پولیس کو اب اس کی سفاک حرکات کا پتہ چل گیا ہے ۔ میرے ماتحت کی بات سن کر وہ بری طرح سے پھوٹ بہی مگر ہم دونوں وقت کے ساتھ اتنے پکے ہوچکے تھے کہ اب کسی  کے آنسو ہم پر اثرانداز نہیں ہوتے تھے۔ اس نے جرم سے انکار نہیں کیا اور دھیمے لہجے میں بولی کہ اب مجھے کیا کرنا ہوگا؟  مجھے لگا کہ میرا ماتحت بھی اس کے اتنی جلدی اقبال جرم کی امید نہیں کر رہا تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ اس کا ہر قتل کے وقت ہسپتال میں موجود ہونا اسے کسی بھی عدالت میں قاتل نہیں ثابت کرسکتا تھااور ایک معمولی وکیل بھی ہمارے مقدمے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا۔ اور جب یہ بات ہم دونوں جانتے تھے تو اتنی مہارت سے قتل کرنے والی وہ بظاہر معمصوم دکھنے والی شاطر لڑکی کیوں واقف نہیں ہوگی؟ وہ لڑکی مگر شاید اس وقت کسی شدید جذباتی کیفیت  کا شکار تھی اور اقبال جرم کربیٹھی تھی۔ میں نے کہا کہ ابھی لیڈی پولیس بلوا کر ہم آپ کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ میں آپ کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں مگر مجھے آپ سے اس بات کی امید نہیں تھی۔ آخر کیا وجہ تھی کہ آپ مسیحائی جیسے مقدس پیشے سے منسلک ہوکر بھی قاتل بن گئیں؟  میرا سوال سن کر اس نے رونا بند کر دیا اور نظریں میری نظروں میں گاڑ کر بولی، میں نے اپنے مقدس پیشے سے کبھی بے وفائی نہیں کی ہے! میرا کام انسانوں کو درد سے نجات دلانا ہے انسپکٹر صاحب! اس کی آنکھوں میں موجود آنسوؤں کی لالی اس وقت خون کی لالی لگ رہی تھی اور کے لہجے میں جو وحشت تھی میں نے محسوس کیا کہ اس سے میرا ماتحت کانپ اٹھا ہے۔  اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا اس نے اپنا بیان دوبارہ جاری کردیا۔  ایک پولیس والا کیسے محسوس کرسکتا ہے کہ درد کیا ہوتا ہے جبکہ اس کی ساری زندگی تفتیش کے نام پر دوسروں پر تشدد میں گزر جاتی ہے۔ میں ڈاکٹر ہیں۔ میں جانتی ہوں درد کیا ہوتا ہے۔ میں انسان ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ اس دنیا میں بن ماں کے بچوں کا کیا حال ہوتا ہے! میں ہی ہوں جو ان کا درد محسوس کرسکتی ہوں۔ میں ہی ہوں جس کی ماں اس ہی اکتوبر کے مہینے میں اسے پیدا کرتے ہوئے چل بسی تھی۔ خاندان بھر کے گھروں میں باری باری پلتے اور چاچا ماماؤں کے بچوں کی نوکری کرتے ہوئے جب میں ڈاکٹر اور پھر گائنی کی ماہر بنی تو اس کے پیچھے یہی سوچ تھی کہ میں  کسی ماں کو مرنے نہیں دوں گی۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ میں گائنی کی ماہر تو بن سکتی ہوں مگر خدا نہیں بن سکتی۔ میں انہیں مرنے سے نہیں بچا سکتی۔ مگر جو پیچھے بچ جائیں انہیں ضرور ان کی ماؤں تک پہنچا سکتی ہوں۔ آپ اسے سفاکی کہتے ہیں؟ میں تو احساس کی اس منزل پر ہوں جہاں آپ کبھی نہیں پہنچ سکتے! آپ کی ماں شاید ابھی زندہ ہے!-

اس کی باتیں سنتے سنتے میری بس ہوچکی تھی۔ میں نے کھڑے ہوکر اپنا سائلینسر لگا ذاتی ریوالور نکال لیا۔ وہ ڈاکٹرنی  مجھے کھڑا ہوتا دیکھ کر خود بھی کھڑی ہوگئی تھی اور اب بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑٰی تھی گویا اسے کسی بات کا ڈر نہ ہو۔ میرا ماتحت البتہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔ اسے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکنے کی کوشش کی کہ سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں مگر اس کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی میں نے اپنا ہاتھ چھڑا کر گولی چلا دی۔ وہ ڈاکٹرنی دوڑتی ہوئی آئی اور مجھ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ ہمارے قدموں میں میرے ماتحت کی لاش پڑی تھی۔ آج ہماری ماں کی برسی تھی۔ میرا ماتحت بیچارہ ناتجربہ کار تھا جو دروازے پر لگی تختی نہ پڑھ سکا جس پر بڑا بڑا انسپکٹر عاطف علی تحریر تھا!

جمعرات، 20 نومبر، 2014

مہاجر

بہت سال پرانی  گفتگو آج پھر میرے دماغ میں گونج رہی ہے۔ سامنے ٹیلیویژن پر ایم کیو ایم کے لیڈران خورشید شاہ پر غصہ ہورہے ہیں  اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ خورشید شاہ نے کون سی غلط بات کردی ہے؟ اس ملک میں مہاجر ہونا کیا واقعی گالی نہیں ہے؟


"اوئے گندے مہاجر!" زندگی میں پہلی مرتبہ جب یہ جملہ سنا تو اس وقت میری عمر کوئی سات یا آٹھ سال رہی ہوگی۔  میں اس وقت گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول میں درجہ سوئم   کا ایک طالب علم تھا اور یہ جملہ سنانے والے کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے سندھی کے نئے استاد تھے۔  کلاس میں ان کا پہلا دن تھا اور پہلے ہی دن انہوں نے ہمیں ایک نئی اور ایسی شناخت عطا کردی تھی جس نے ساری عمر ہمارا پیچھا کرنا تھا۔ خیال رہے کہ یہ اسکول لاڑکانہ یا دادو کا نہیں بلکہ عروس البلاد کراچی میں واقع تھا جہاں میرے جیسے "گندے مہاجروں" کی اکثریت آج بھی مقیم ہے۔


اس وقت تو ہمیں نہیں پتہ تھا کہ مہاجر اور فرزندِ زمین کون ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور معلوم ہوگیا تھا کہ  یہ مہاجر اسکول کے باہر دیوار پر جئے مہاجر اور اسکول کے اندر سندھی کی کلاس میں گندے مہاجر ہوتا ہے۔ لاعلمی واقعی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ جب تک ہمیں مہاجر کا مطلب نہیں پتہ تھا ہم اس بات کا برا بھی نہیں مناتے تھے۔ پھر ایک دن خدا جانے کس دھن میں ہم اپنے دوست وقاص بھائی سے پوچھ بیٹھے کہ یہ مہاجر کیا  ہوتاہے؟ اور اس کے معنی میں ایسا کون سا لطیفہ چھپا ہے جسے سن کر پوری کلاس اس وقت ہنس پڑتی ہے جب ہمیں گندے مہاجر کہا جا رہا ہوتا ہے؟ وقاص بھائی عمر میں ہم سے محض ایک سال بڑے تھے  مگر یو پی کی تہذیب میں ایک سال بڑا بھی بڑا ہی مانا جاتا ہے۔ سو  وقاص بھائی کو بڑا مان کر ہم نے مدعا ان کے سامنے رکھ دیا کہ ہمیں لفظ مہاجر کی معنیٰ بتائے جائیں۔ وقاص بھائی نے  "چوکو فور " کا ریپر پھاڑتے ہوئے کمال شفقت سے ہماری جانب دیکھا اور بزرگانہ انداز میں گویا ہوئے کہ " ایم کیو ایم " کا کارکن مہاجر کہلاتا ہے۔ ہم نے وقاص بھائی  کی بات سن کر سکون کا سانس لیا اور ہنسی خوشی گھر لوٹ آئے کہ ہمارے والد تو جماعت اسلامی کے کارکن تھے، ہم کیسے مہاجر ہو سکتے ہیں؟


اگلے دن سندھی کی کلاس میں ہم مسلسل خوشی سے پھدک رہے تھے۔ سندھی کے استاد نے اس تبدیلی کو محسوس کرلیا اور ہمیں اپنے پاس بلا کر محبت سے ہمارا کان تھاما اور پوری طاقت سے مروڑتے ہوئے گویا ہوئے،  چھا گالھ آں؟  کیوں پھدک رہا ہے؟ ہم نے تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹیچر کو بتایا کہ انہیں غلظ فہمی ہوئی تھی کہ ہم مہاجر ہیں۔ دراصل ہمارے والد تو جماعت اسلامی کے ایک سرگرم کارکن ہیں اور ہمارا ایم کیو ایم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ٹیچر نے ہمیں اوپر سے نیچے تک گھور کر دیکھا اور کان کے نیچے ایک جھانپڑ رسید کرتے ہوئے بولے، جماعتی ہو یا  کوئی اور ، ہے تو گندا مہاجر ہی نا؟  چل سیٹ پر بیٹھ! ہم کان اور گدی  سہلاتے ہوئے واپس  سیٹ پر آگئے اوردل ہی دل میں وقاص بھائی کو جتنی بھی گالیاں یاد تھیں سنا ڈالیں۔


 گھر آنے کے بعد بھی میں اداس رہا اور کافی دیر بھٹکی ہوئی آتما کی طرح گھر کے اندر ہی گھومتا رہا۔ نانا ابا  گھر آئے ہوئے تھے اور میری اس بےچینی کو دیکھ رہے تھے۔ ظہر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے اپنے پاس بلالیا اور اس بے چینی کی وجہ پوچھی۔ پہلے تو میں ہچکچایا مگر پھر پورا ماجرا ان کے سامنے رکھ دیا۔ نانا ابا نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولے، تو عاطف میاں! آپ جاننا چاہتے ہیں کہ مہاجر کون ہوتا ہے؟ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ نانا ابا نے بتایا کہ کسی بھی مقصد سے اپنا وطن چھوڑ کر کسی اورجگہ منتقل ہونے والے کو مہاجر کہتے ہیں۔ میں ہونقوں کی طرح نانا ابا کی شکل دیکھنے لگا۔ نانا ابا کی بتائی ہوئی تعریف کی رو سے مہاجر ہونے میں کوئی قابلِ تضحیک پہلو نہیں تھا جبکہ ہماری کلاس میں ہر بار اس لفظ کی پکار پر کلاس کے اکثریت میں موجود بچے ایک بلند قہقہہ لگاتے تھے۔  پھر میں نے سوچا کہ شاید لطیفہ اس اچھے اور گندے مہاجر میں چھپا ہو، لہٰذا میں نے نانا ابا سے اچھے مہاجر اور گندے مہاجر کا فرق پوچھ لیا۔نانا ابا میرے اس سوال پر کچھ کھسیانے سے ہوگئے۔ کہنے لگے کہ اس سوال کا جواب تو میرے پاس نہیں مگر تم کہو تو ایک کہانی تمہیں ضرور سنا سکتا ہوں۔


میرا اس وقت کہانی سننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر نانا ابا بڑے تھے اور آپا کہتی تھیں کہ بڑوں کی ہر بات ماننی چاہیئے سو میں نانا ابا کو انکار نہیں کرسکا۔ نانا ابا نے بتایا کہ بیٹا کچھ لوگ تھے جو ہندوستان نامی ایک ملک میں رہا کرتے تھے۔ ہندوستان پر اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی مگر  ہندوستانی یہ چاہتے تھے کہ انگریز ان کا ملک چھوڑ کر واپس انگلستان چلے جائیں۔ ہندوستان کے مسلمان بھی اس جدوجہد میں شامل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اگر انگریز چلے گئے اور اکثریتی آبادی کی بنیاد پر اقتدار ہنود کے ہاتھ آگیا تو وہ مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیں گے۔  اس ہی خیال سے ہندوستان کے مسلمانوں نے "تقسیم کرو اور چھوڑو" کا نعرہ اپنایا اور ایک علیحدہ مسلم مملکت کی مانگ کردی۔


مسلمانوں کا خلوص رنگ لایا اور سن سینتالیس میں پاکستان وجود میں آگیا۔ بہت سارے مسلمان جو ہندوستان کے ان علاقوں میں مقیم تھے جو پاکستان کا حصہ نہیں بننا تھے، وہ بھی اس جدوجہد میں شامل تھے۔ کوئی ان مسلمانوں سے جب پوچھتا کہ پاکستان بن بھی جائے تو تمہارا کیا مفاد؟ تم نے تو ہندوستان میں ہی رہنا ہے! تو وہ جوابا صرف یہی کہتے کہ کم از کم ان مسلمانوں کو تو عزت سے جینے کی آزادی مل جائے جو مجوزہ پاکستان میں مقیم ہیں۔


ان دیوانوں کی بےلوث محنت اور قائد اعظمؒ کی شاندار قیادت سے ہم نے یہ آزاد وطن حاصل کرلیا۔  الگ وطن حاصل کرنے کے بعد بھی اس ملک میں بےشمار مسائل تھے۔ حکومت کہنے کو قائم ہوگئی تھی مگر اس حکومت کو چلانے کیلئے تجربہ کار لوگوں کا فقدان تھا۔ قائد اعظم ؒ نے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں سے اپیل کی کہ آئیں اور نئے ملک کا انتظام چلانے میں مددگار بنیں۔ قائد کی اس پکار پر ہندوستان کے طول و عرض میں موجود مسلمانوں نے لبیک کہا اور اپنے مکان و کاروبار چھوڑ کر اس نئے ملک کے دست و بازو بننے پاکستان آگئے۔ ہجرت کے اس سفر میں کتنوں کے گلے کٹے، کتنوں کی عصمتیں پامال ہوئیں، کتنے اپنے پیاروں سے بچھڑے۔ آج تک اس کے درست اعداد وشمار سامنے نہیں آسکے۔ مگر یہ تعداد بلا مبالغہ بھی لاکھوں میں تھی۔


میں علیگڑھ یونیورسٹی کا گریجویٹ تھا۔  علیگڑھ میں ہی ایک چھوٹی سی زمین تھی ہماری اور اس کے علاوہ دلی میں ایک گھر تھا۔ میں دلی میں ہی نوکری کرتا تھا جب بٹوارے کا اعلان ہوا۔ میں نے ضروری سامان ساتھ لیا اور تمہاری نانی، ماں، اور بڑی خالہ کے ساتھ پاکستان کیلئے نکل پڑا۔ زمین اور گھر میں نے اللہ کے حوالے کردیئے تھے کہ ان  چیزوں کو بیچنے کیلئے رکنا پڑتا اور میں پہلی فرصت میں پاکستان پہنچنا چاہتا تھا۔ لٹتے ، مرتے، کٹتے جب ہم لاہور پہنچے تو مکان ، زمین، نقدی کے ساتھ ساتھ ہم تمہاری بڑی خالہ عصمت کو بھی کھو چکے تھے۔ ٹرین پر بلوائیوں نے حملہ کیا تھا اور اس بھگدڑ میں خداجانے عصمت کا ہاتھ کب تمہاری نانی کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔  نانا ابا کی آنکھوں سے آنسو مسلسل رواں تھے اور وہ  کہانی سناتے سناتے خود ماضی میں پہنچ گئے تھے۔ میں نانا ابا کی کہانی سن رہا تھا اور چشم تصور سے ایک پانچ سال کی بچی کو لاشوں کے ڈھیر میں اپنے ماں باپ کو ڈھونڈتے دیکھ رہا تھا۔ پتہ نہیں کب اور کیسے میری بھی آنکھ سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔


نانا ابا نے میرے آنسو پونچھے اور بولے، جب لاہور پہنچے تو پتہ چلا کہ دارالخلافہ کراچی ہے اور پڑھی لکھی افرادی قوت کی سب سے زیادہ ضرورت وہیں ہے۔ ہم نے بچپن سے لاہور کے قصے سن رکھے تھے اور ہمارے لیئے لاہور ہی بڑا شہر تھا مگر یہاں آکر پتہ چلا کہ ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ابھی ہمیں کراچی پہنچنا ہے۔ کراچی کیلئے نکلنے سے پہلے کچھ دن والٹن کیمپ میں رک کر عصمت کا انتظار کیا مگر جب کافی دن تک کوئی خبر نہین آئی تو ہم نے خود کو سمجھانے کیلئے اس کو مردہ تصور کر لیا۔ آزاد وطن اتنے آرام سے تو نہیں ملتےنا  بیٹا؟ وہ اور ہی خوش نصیب ہوتے ہیں جو صبح سو کر اٹھیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک آزاد وطن کا حصہ ہیں۔ ان کے گھروں کو آگ نہیں لگائی جاتی۔ ان کی بہن بیٹیوں کی ان کے سامنے عزتیں نہیں لوٹی جاتیں۔ ہم ایسے خوش نصیب نہیں تھے بیٹا، ہمیں آزاد وطن کی قیمت چکانی تھی سو ہم نے عصمت کو اس آزاد وطن کی قیمت سمجھ کر صبر کرلیا۔


عصمت پر فاتحہ پڑھنے کے بعد لاہور میں رکنے کا جواز نہیں بنتا تھا سو ہم وہاں سے کراچی کیلئے چل پڑے۔ راستے میں بہت سے لوگوں  سے ملاقات ہوئی اور ہر کسی نے یہی مشورہ دیا کہ کراچی پہنچ جائو۔ کراچی پہنچ کر پتہ چلا کہ کراچی اس لیئے بھیجا جا رہا تھا کہ اس کے آگے سمندر تھا۔ اگر اس سے آگے بھی کوئی شہر ہوتا تو یہ لوگ ہمیں وہاں تک پہنچا دیتے۔ کراچی جو تم آج دیکھتے ہو اس وقت ایسا نہیں تھا۔  اس وقت یہ جنگل ہوا کرتا تھا۔ پھر ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں نے اس شہر کو بسانا شروع کردیا۔  اس شہر کو وہ شہر بنایا جسے تم آج دیکھتے ہو۔  جو غریب کی ماں کہلاتا ہے۔ جس کے دروازے ہر نئے آنے والے کیلئے کھلے ہیں۔ وقت گزرتا گیا اور یہ ملک اور یہ شہر ترقی کرتا گیا۔ اس شہر کے ساتھ ساتھ ہم لوگ بھی ترقی کرتے گئے۔ مگر  پھر اس ترقی کے سفر کو کسی کی نظر لگ گئی۔ سب کچھ چھوڑ کر اس ملک میں آنے اور اس ملک کو اپنانے کے برسوسوں بعد ایک دن ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے ساتھ ایک بہت بڑا ہاتھ ہوگیا ہے۔ ہم سے ہمارا شہر  چھین لیا گیا۔ ہمیں یہ کہا گیا کہ چونکہ سندھ کے باقی شہروں میں رہنے والے نہیں چاہتے کہ کراچی میں  اقتدار نچلی سطح پر تقسیم ہو اس لیئے ہم کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروا سکتے۔ چونکہ باقی شہر ترقی کے معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں لہٰذا کراچی کو بھی ترقی کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ چونکہ کراچی کی بدقسمتی ہے کہ وہ صوبہ سندھ کا حصہ ہے لہٰذا ہم عددی اکثریت کی بنا پر کراچی کے باگ ڈور ایسے افراد کے حوالے کرتے رہیں گے جو کراچی صرف گھومنے کیلئے آتے ہیں۔


بات صرف وسائل و ترقی کی ہوتی تو خیر تھی،مگر ہمارے ساتھ جو دوسرا ہاتھ ہوا وہ بہت شدید تھا۔ میرے بچے! ہم سے ہماری شناخت چھین لی گئی۔ ہندوستان سے آنے والے وہ لوگ جو لاہور رک گئے تھے عقلمند نکلے۔ پنجاب کے بھائیوں نے انہیں اپنایا اور اپنی شناخت میں حصے دار بنا لیا۔ جب کہ وہ بدقسمت جو کراچی آگئے تھے اب اپنی شناخت کیلئے پریشان تھے۔ اگر ہم اندرون سندھ جاکر اپنے آپ کو سندھی کہتے تو سندھی ہم پر ہنستے تھے۔ اگر ہم کسی اور شہر جاکر اپنے آپ کو مہاجر کہتے تھے تو لوگ ہم پر تھو تھو کرتے تھے۔ ہم پاکستانی کی شناخت پر مطمئن ہونا چاہتے تھے تو ہمیں یاد دلایا جاتا تھا کہ دراصل ہماری جڑیں ہندوستان میں ہیں ۔ ہم سندھ میں رہتے تھے مگر سندھی نہیں تھے۔ پاکستان کے شہری تھے مگر غدار کہلاتے تھے۔ لے دے کر ہمارے پاس ایک مہاجر کی شناخت بچی تھی کہ یہ ہمارا فخر تھا۔ مہاجر کا مطلب تھا وہ انسان جس نے اس ملک کیلئے  اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ہو اور صعوبتیں برداشت کرکے اس ملک کا حصہ بنا ہو۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شناخت بھی ہم سے اب چھین لی جائے گی۔میرے بیٹے! تم نے پوچھا تھا نا کہ گندے مہاجر کون ہوتے ہیں؟ میرے بچے! ہندوستان سے پاکستان اور پاکستان میں کراچی آکر اپنا  گھربار، عزت و ناموس، جائیداد، جان و مال، اور آخر میں اپنی شناخت تک گنوا دینے والے مہاجرین کو گندے مہاجر کہتے ہیں۔


بہت سال پرانی یہ گفتگو آج پھر میرے دماغ میں گونج رہی ہے۔ سامنے ٹیلیویژن پر ایم کیو ایم کے لیڈران خورشید شاہ پر غصہ ہورہے ہیں  اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ خورشید شاہ نے کون سی غلط بات کردی ہے؟ اس ملک میں مہاجر ہونا کیا واقعی گالی نہیں ہے؟


کافی دیر تک یونہی بیٹھا سوچتا اور اداس ہوتا رہا اور پھر تنگ آکر نانا ابا کی ڈائری اٹھا لی۔ میں جب بھی بہت زیادہ اداس ہوتا ہوں تو نانا ابا کی ڈئری اٹھا لیتا ہوں۔غمزدہ ماحول میں عمدہ شاعری ایک بہترین سہارا ہوتی ہے اور  اشعار کے انتخاب میں میں نے نانا ابا سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔  ڈائری کھولتے ہی جس صفحے پر نظر پڑی اس پر منور رانا صاحب کے یہ اشعار درج تھے۔۔۔


مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے، ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں


کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر ، اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں


نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
پرانے گھر کی دہلیزوں کو سونا چھوڑ آئے ہیں


عقیدت سے کلائی پر جو اک بچے نے باندھی تھی
وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں، وہ رشتہ توڑ آئے ہیں


جو اک پتلی سڑک  یاں سے گھر کی اور جاتی تھی
وہیں حسرت کے خوابوں کو بھٹکتا چھوڑ آئے ہیں


یقیں آتا نہیں ، لگتا ہے  کچی نیند میں شاید
ہم اپنے گھر، گلی، اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں


میں نے ڈائری بند کی اور کرسی کی پشت پر آنکھیں موند کر ٹیک لگا لی۔ کان میں سندھی کے اس استاد کا جملہ مسلسل گونج رہا تھا ۔۔۔ گندے مہاجر ۔۔۔ گندے مہاجر ۔۔۔۔ گندے مہاجر!!!!

بدھ، 27 اگست، 2014

بیچارے افضل

بعض خواب اگر پورے نہ ہوں تو انسان بہت پرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔ میرا نام افضل شیخ ہے اور میں اتنا پیارا افضل نہیں ہوں جتنا آپ سمجھے ہیں۔ اگر کبھی میری زندگی پر کوئی ڈرامہ بن بھی جاتا تو اس کا نام پیارے افضل نہیں بیچارے افضل ہوتا۔ اس میں ڈرامہ بنانے والے کا قصور نہیں، میرے حصے میں آنے والا زندگی کا اسکرپٹ ہی ایسا تھا۔ زندگی کبھی بھی مجھ پر کھل کر مہربان ہوئی ہی نہیں۔ اگر ہو جاتی تو شاید آپ آج یہ کہانی نہیں پڑھ رہے ہوتے اور میں توسیع کے بعد اب بھی کسی بڑئے عہدے پر براجمان ہوتا۔

ایک چھوٹے سے گائوں نما شہر میں پیدا ہونے کے اپنے ہی مسائل ہوتے ہیں۔ آپ شاید کبھی اس بات کا اندازہ اس لیئے نہیں کرپاتے کیونکہ آپ خود ہمیشہ کسی بڑے شہر میں رہے ہیں۔ چھوٹا شہر اپنے محدود کلچر کی وجہ سے محدود مشاہدہ پیدا کرتا ہے اور پھر جب کوئی اس محدود مشاہدے کے ساتھ دنیا فتح کرنے نکلتا ہے تو اس کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو میرے ساتھ ہوا۔ بچپن سے صحافت کا شوق تھا لحاظہ میں نے ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک صحافتی ادارے سے منسلک ہوگیا اور زندگی کے بہت سے قیمتی سال اس ہی غم میں برباد کردیئے۔ یہ دور صحافت کا برا دور تھا۔ حکمرانوں کے خلاف لکھو تو کوڑے کھائو اور اگر حق میں لکھو تو بھی کوئی خاص انعام نہیں پائو۔ ان تلخ ایام کی حقیقت کو میں نے اپنے پلو سے باندھ لیا اور قسم کھائی کے آئندہ صحافت میں قدم نہیں رکھوں گا۔ فائدہ ایسے کام کا جہاں انسان کے ضمیر کی مناسب قیمت بھی نہ مل سکے؟

صحافت چھوڑی تو پہلے تو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کیا جائے؟ پھر زمانہ صحافت کے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایک اہم قومی ادارے میں جگہ بنوائی اور سکون سے زندگی بسر کرنے لگا۔ کہنے کو اس قومی ادارے کی ضرورت ہر 5 سال بعد پیش آنی چاہیئے تھی مگر خدا بھلا کرے جمہوریت کا کہ جس کے حسن کی وجہ سے ہر دو سال بعد ہمارے بھائو بڑھ جاتے اور پورا ملک ہماری طرف دیکھنے لگتا۔ زندگی اپنی رفتار سے گزر رہی تھی۔ زمانہ ملازمت میں کئی آمریت، کئی نیم جمہوریت اور ایک آدھی مکمل جمہوریت بھی بھگتا دی مگر چھوٹے شہر کا بڑا آدمی بننے کا میرا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوپایا تھا۔ اس بات کی خلش نے میری رات کی نیندیں اور دن کا سکون سب برباد کردیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ اب میری مدت ملازمت ختم ہورہی ہے اور شاید آخری مرتبہ میرے اس ادارے کو ٹیلی وژن پر آنے کا موقع مل رہا ہے۔ میں نے سر دھڑ کی بازی لگادی کہ کسی طرح اس بار میں کوئی ایسا کام کرجاؤں کہ میں اپنے اس چھوٹے شہر میں ایک بڑا آدمی بن کر لوٹ سکوں۔ میں نے وزراء سے مائک چھینے، صحافیوں کو للکارا، چیف جسٹس سے ملاقاتیں کیں، مگر کوئی چیز بھی ایسی نہ نکلی جو مجھے شہرت کے اس دوام پر پہنچا دیتی جس کے میں نے بچپن سے خواب دیکھے تھے۔

وقت بھی نکل گیا اور نوکری کی مدت بھی ختم ہوگئی۔ اب میں گھر میں بیٹھ کر اس اچھے وقت کے خواب دیکھتا تھا جو کبھی آیا ہی نہیں۔ زندگی میں ایک عجیب سی مایوسی آگئی تھی اور اب میں شدید اکتاہٹ کا شکار تھا۔ مگر وہ کہتے ہیں نہ کا خدا شکر خورے کو شکر دے ہی دیتا ہے سو میری زندگی میں بھی وہ دن آ ہی گیا جب میں مشہور ہوسکتا تھا۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے میرے سابقہ ادارے کی بدعنوانیوں کےخلاف ایک ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا۔ میں نے اس جماعت کے سرکردہ رہنمائوں سے رابطے کی کوششیں شروع کردیں اور خود بھی اس احتجاجی تحریک کا حصہ بن گیا۔ میری کوششیں رنگ لے آئیں اور میری ملاقات اس تحریک کی قیادت سے بھی ہوگئی۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے تمام تر الزامات درست ہیں اور میرا سابقہ ادارہ سنگین بدعنوانیوں میں ملوث ہے۔ ان کم ظرف لوگوں نے میری بات سنی تو سہی مگر اس بات کے ثبوت بھی مانگ لیئے۔ اب میں ثبوت کہاں سے لاتا؟ مایوس ہوکر میں جلسے سے باہر آگیا۔

اگلے دو دن اس ہی مایوسی میں گزرے۔ کسی کام میں دل نہیں لگا۔ قدرت نے یہ ایک آخری موقع دیا تھا جسے میں اپنے ہاتھ سے گنوا بیٹھا تھا۔ تیسرے دن البتہ میرے پاس ایک گمنام کال آئی۔ فون اٹھا کر بات کی تو دوسری طرف موجود شخص نے مجھ سے وہ سوال کیا جس کا مجھے صدیوں سے انتطار تھا۔ اس شخص نے مجھ سے پوچھا، پیارے افضل! کیا تم مشہور ہونا چاہتے ہو؟ مجھ پر تو گویا شادی مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی اور میں نے فی الفور ملاقات کی خواہش کردی۔ اس انجان شخص نے مجھ سے پوچھا کہ جو باتیں میں ان لیڈران سے کرکے آیا ہوں کیا میں وہی باتیں ٹیلی وژن پر بھی دہرا سکتا ہوں؟ میں نے بخوشی ہامی بھر لی۔ جب اس ملک میں پیارے افضل مشہور ہو سکتا ہے تو بیچارے افضل نے کیا بگاڑا ہے؟ کیا میں کسی بھی طرح پیارے افضل سے کم تھا؟؟

ٹیلی وژن پر بھی آگیا، سب باتیں بھی کہہ ڈالیں، دل کا بوجھ بھی اتر گیا، مگر پروگرام کے اختتام پر اس میزبان نے بھی وہی سوال داغ دیا کہ آیا میرے پاس ان سب باتوں کا کوئی ثبوت ہے؟ دل تو کیا میں چیخ چیخ کر رو پڑوں مگر میں نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میرے بچپن کا خواب پورا ہوگیا ہے۔ احتجاجی دھرنوں سے لیکر گلی چوباروں تک ہر کوئی اس نئے پیارے افضل کے بارے میں بات کررہا تھا۔ گاؤں گاؤں اور شہر شہر ہر ایک کے لب پر اب میرا ہی نام تھا۔

بعض خواب اگر پورے نہ ہوں تو انسان بہت پرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔ میرا نام افضل شیخ ہے اور میں اتنا پیارا افضل نہیں ہوں جتنا میں سمجھا تھا۔ اگر کبھی میری زندگی پر کوئی ڈرامہ بن بھی جاتا تو اس کا نام پیارے افضل نہیں بیچارے افضل ہوتا۔ کل رات یہ خواب پورا ہونے کے بعد سے میں سکون سے سو نہیں پایا ہوں اور اس بےخوابی کی وجہ میرے ارادوں اور خوابوں کی تکمیل کی خوشی نہیں ہے۔

کل رات سے محض ایک ہی خیال رہ رہ کر دماغ میں گھوم رہا ہے کہ ڈرامے کے اختتام پر کچھ بدلے یا نہ بدلے، پیارے افضل کو گولی ماردی جاتی ہے۔

 (اس کہانی کے تمام نام، مقام، واقعات اور کردار فرضی ہیں۔ کسی اتفاقیہ مماثلت کی صورت  میں مصنف زمہ دار نہیں ہوگا۔)

منگل، 26 اگست، 2014

زبان دراز کی ڈائری – 10

پیاری ڈائری!

آج میرا ڈائری لکھنے کا قطعاّ کوئی ارادہ نہیں تھا مگر کیا کرتا۔ کچھ درد اگر قرطاس پر منتقل نہ کیئے جائیں تو جسم کے اندر ہی گھائو بنا کر بس جاتے ہیں اور پھر گھائو سے لاوہ بنتے انہیں کب دیر لگتی ہے؟ اور لاوے کی فطرت تو تم جانتی ہی ہو کہ یہ یا تو اندر ہی اندر چٹان کو کھاتا رہتا ہے یا پھر ایک ہی دفعہ باہر نکل کر سب کچھ برباد کر چھوڑتا ہے۔ بہتر ہے کہ درد کو درد ہی رہنے دیا جائے اور اسے رگوں سے نچوڑ کر قرطاس پر منتقل کردیا جائے۔

میں جانتا ہوں تمہیں ان سب سنجیدہ چیزوں کی عادت نہیں ہے اور مجھ سے یہ باتیں سننا تمہیں ضرور حیران بلکہ شاید کچھ حد تک پریشان  بھی کر رہا ہوگا۔ مگر میں کیا کروں کے آج کوشش کے باوجود بھی میں مسکرا نہیں پارہا۔ میں چاہتا ہوں کہ قلم سے شگوفے بکھیروں، تمہارے چہرے پر مسکراہٹ لائوں، طنز کے لطیف نشتر سے تمہیں گدگدائوں ۔۔۔ مگر آج کا زخم شاید نشتر کے بس کا نہیں ہے۔ اسے کسی معمولی نشتر کی نہیں بلکہ کاٹ دینے والی تلوار کی ضرورت ہے کہ اگر آج بھی تلوار نہ چلی تو اس زخم میں موجود زہر پورے جسم کو چاٹ جائے گا۔

پچھلے ایک ہفتے سے طبیعت بہت زیادہ ناساز تھی اور یہ موسمی بخار جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ دو ڈاکٹر بدل کر دیکھ لیئے مگر اس بخار نے جان نہیں چھوڑی۔ کل خالہ جان ملنے کیلئے آئیں تو جاتے ہوئے کہہ گئیں کہ بیٹا روائتی علاج اپنی جگہ سہی مگر ہوسکے تو گوشت کا صدقہ نکال دو۔ صدقہ بہت سی آفات و بلیات کو ٹال دیتا ہے۔ بات بھی کچھ مناسب تھی اور ویسے بھی بیماری و کمزوری میں انسان مذہب سے کچھ قریب ہوجاتا ہے سو آج صبح جاکر میں بھی حسب استطاعت ایک چھوٹا سا بکرا خرید کر لے آیا کہ گھر میں ہی صدقہ دلاکر گوشت مستحقین میں تقسیم کردوں گا۔

خیر سے بکرا بھی آگیا اور صدقہ بھی دے ڈالا۔ اب جب گوشت مستحقین کو دینے کی باری آئی تو میں نے اپنے دفتر کے ایک چپڑاسی کو فون کرکے بلا لیا۔ خدا بیچارے مشتاق کو خوش رکھے کہ وہ چپڑاسی ہونے کے باوجود ایک بڑے دل کا مالک ہے اور مجھے یقین تھا کہ اس کے علم میں کوئی نہ کوئی ایسا مستحق ضرور ہوگا جو صدقے کا یہ گوشت استعمال کرسکے۔

میں نے گوشت مشتاق کے حوالے کیا اور اس کو تاکید کی کہ کسی واقعی مستحق انسان تک اسے پہنچا دے۔ مشتاق نے گوشت کا تھیلا میرے ہاتھ سے لیا مگر اپنی جگہ سے ہلا نہیں۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو مشتاق نے بھرائی ہوئی آواز مٰیں ایک ایسا سوال کرڈالا کہ جس کا جواب میں اب تک ڈھونڈ رہا ہوں۔ مشتاق نے کہا کہ صاحب! میں سید ہوں لہٰذا صدقے کا گوشت مجھ پر حرام ہے؛ میری اپنی ذات پر اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا، پر صاحب میرے گھر والوں نے پچھلے تین سال سے بکرے کا گوشت نہیں کھایا ہے!! آپ تو مذہب جانتے ہیں، کیا کوئی ایسی صورت نہیں نکل سکتی کہ میں اس پورے تھیلے میں سے تین، چار بوٹیاں اپنے والدین کیلئے استعمال کرسکوں؟؟؟

پیاری ڈائری! مشتاق تو گوشت لیکر چلا گیا مگر میری طبیعت سنبھلنے کے بجائے مزید خراب ہوگئی ہے۔ دوپہر سے ٹیلیویژن کے آگے بیٹھا ہوں اور دماغ میں صرف ایک ہی بات چل رہی ہے؛

میاں صاحب کو ہرن نہیں کھانا چاہیئے تھا۔

والسلام

لٹا ہوا پاکستانی

منگل، 12 اگست، 2014

بھوک

میں:
جاننا چاہتی ہیں میں کون ہوں؟
سنیئے مادام!!!
میں بہت عام سا اک فرد ہوں اِن کے جیسا ۔۔۔ !!!

وہ:
وہ جنہیں تابِ گراں باریٰ ایام نہیں؟

میں:
جی نہیں! وہ تو بڑے لوگ تھے جن پر اکثر
فیض و جالب سے کئی،
نظم لکھا کرتے تھے
اب مگر دور دِگر ہے میری پیاری مادام۔۔!!!
اس نئے دور کا عنوان ہے
جسموں کی ہوس ۔۔۔!!!
اب کوئی ہم پہ غزل ۔۔۔ جانے دیں!!!
ہم انہی بھوک زدہ، خوف زدہ، ننگ زدہ لوگوں کی اولاد ہیں جو ۔۔۔
خیر ، اب چھوڑیئے؛ اس بات کو ہی جانے دیں!!!

میں:
کیا کہا؟؟ جاننا چاہیں گی میرے بارے میں؟؟
میرے بارے میں بتانے کیلئے کچھ بھی نہیں
میرا ماضی نری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں!
میں نے بولا نا بہت عام سا اک فرد ہوں میں
اک نظر دیکھیئے، ہر شخص میں دکھ جائوں گا!!
دیکھیئے ایک نظر گرتے ہوئے بوڑھوں پر
جن کے بارے میں کہا تھا یہ کبھی فیض نے ہی
"وہ جنہیں تابِ گراں باری ایام نہٰیں"
دیکھیئے ایک نظر غور سے پیاری مادام
اپنے سینے کو چھپاتی یہ سسکتی عورت
روز بکتی ہے جو اس شہر کے بازاروں میں
اس کے پہلو میں یہ لیٹا ہوا بیمار بدن
آیا تھا زد میں دھماکے کی کئی سال گئے ۔۔۔
اور یہ بچے ۔۔۔۔
میں نے بولا نا ۔۔۔ بہت عام سا اک فرد ہوں میں
ان میں جس شخص میں دیکھیں گی تو دکھ جائوں گا

وہ:
مگر یہ سب ۔۔۔؟؟؟
خداوندا ۔۔۔!!!
یہ غربت، غلاظت، یہ عصمت فروشی؟
یہ سب کیا ہے، کیوں ہے؟ میں کیسے بتائوں؟
وہ ساحر کا جملہ میں کس کو سنائوں
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کو لائوں،
یہ گلیاں یہ کوچے یہ منظر دکھائوں!!

میں:
یہ بستی، یہ قریہ
یہ گلیاں، یہ کوچے
جوانوں کے لاشے
یہ رسوا بڑھاپے
یہ کمزور بچے
یہ ادھ ننگی عورت
یہ عصمت دریدہ
نہیں جس کو پرواہ
کے بھٹو جیئے یا کہ عمران آئے
میاں جی رکیں یا حکومت ہی جائے
اسے بس فکر ہے تو اتنی سی میڈم
کہ کل سے ہے دھندے میں ہفتے کا ناغہ
اور اس ایک ہفتے
بڑی والی بیٹی کو اک بار پھر سے ۔۔۔۔

میں نے نظم مکمل کرکے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور ڈرائیور کو اےسی تیز کر نے کا کہہ کر اپنی نئی کرولا کی نشست پر نیم دراز ہوگیا۔ مجھے یقین تھا کہ بھوک، سیاست، اور غربت پر لکھے ہوئی یہ نظم بہت مشہور ہوگی۔

سید عاطف علی
12-August-2014

اتوار، 29 جون، 2014

دائرہ

جب پہلی بار سنا میں نے ۔۔۔
!!میں اب مر جانا چاہتا ہوں
میں چونک پڑا ۔۔۔


کچھ ذیادہ پرانی بات نہیں
تب موت بھیانک شے تھی ایک
مایوسی کفر تھی تب شاید
جب میں نے پہلی بار سنا ۔۔
!!اب میں مر جانا چاہتا ہوں

اور جب یہ پہلی بار سنا ۔۔۔
میں خوب ہنسا ۔۔۔
ہنستا ہی گیا ۔۔۔
ہنستا ہی گیا ۔۔۔
یہ بات ہی ایسی تھی جس پر
اب خیر ۔۔  بھلا تم خود سوچو
کیا کوئی پیاری دنیا سے
اتنا بھی خفا ہوسکتا ہے؟


یہ جیون کی دلکش گھڑیاں
ہم جن کو گزارا کرتے ہیں
کیا ان سے کنارہ ممکن ہے؟؟


الفت سے بھرے سب لوگ یہاں
جو جلتی دھوپ کے لمحوں میں ۔۔
رشتوں کی گھنیری چھائوں ہیں جو
کیا ان سے جدائی ممکن ہے؟؟

ہم پہروں اس دن بیٹھے رہے
اور گھنٹوں تک یہ بحث رہی
کہ جینا غیر ضروری ہے ۔۔۔

وہ جون کے مصرعے پڑھتا گیا
میں رومی کو دہراتا گیا

وہ مجھ کو یہ سمجھاتا تھا
دنیا اک کوڑا دان ہے بس
اور ہم سب اس کے کیڑے ہیں

اور میں اس سے یہ کہتا تھا
دنیا تو سوچ کا پرتو ہے
جیسا برتو گے دنیا کو
دنیا کو ویسا پائو گے
۔۔۔۔
دنیا پر جون نے خوں تھوکا
دنیا نے جون پہ تھوک دیا
یہ تو اک سادہ منطق ہے

وہ مجھ سے پھر یہ کہتا تھا
کہ جون نے خون یہ کیوں تھوکا؟
دنیا کے ستم تھے تب ہی تو
وہ خون کی کلی کرتا تھا؟

میں اس کو پھر سمجھاتا تھا
کہ جون تو خود یہ کہتا تھا
"میں بزدل ہوں
تنہائی کا مارہ، آزردہ،
ایک اونچے باپ کا بیٹا جو
چاہ کر بھی کبھی
علامہ ایلیاٰء بن نہ سکا"
 اور اس قضیے میں دیکھو تو 
!!دنیا کا کوئی دوش نہیں

ہم دونوں گھنٹوں لڑتے رہے
!!!اور آخر میں، میں جیت گیا


اس شخص نے یہ تسلیم کیا
یہ دنیا بےحد پیاری ہے
یہ جیون بےحد دلکش ہے
مایوسی بالکل کفر ہے اور
یہ موت بہت گھٹیا شے ہے

لیکن اس بحث کے بعد سے اب
ایک چھوٹا سا مسئلہ یہ ہے
اب میں اکثر یہ سوچتا ہوں
کہ جون نے خون یہ کیوں تھوکا؟

میں گھنٹوں بیٹھ کے سوچتا ہوں
اور تنگ آکر چلاتا ہوں
!!!بکواس ہے سب
!!میں اب مر جانا چاہتا ہوں

اور لطف یہ ہے کہ یہ سن کر
کچھ لوگ ہیں جو ہنس پڑتے ہیں
اور چاہتے ہیں کہ بحث کریں
!!!کہ دنیا کتنی دلکش ہے ۔۔۔۔

سید عاطف علی
29 - 06 - 2014 

اتوار، 30 مارچ، 2014

گڑیا





بہت نازک سی گڑیا تھی

..


مثالی نقش تھے اس کے
نہ آنکھیں جھیل جیسی تھیں
بہت ہی عام سی زلفیں
بہت ہی عام سا چہرہ
بہت ہی عام سے چتون
بہت ہی عام سا آہنگ
بہت ہی عام سی تھی وہ
یہی بس خاص تھا اس میں


وہ گڑیا کس کی گڑیا تھی؟)
وہ گڑیا کیسی گڑیا تھی؟
بھلا کیا نام تھا اس کا؟
یہاں کیا کام ہے اس کا؟
حکایت مجھ کو کہنے دو ۔۔۔۔
(سنو! تفصیل رہنے دو!!


پھر ایک دن وہ بھی آیا جب
بہت مغرور سے بچے ۔۔۔۔
ہوس سے چور کچھ بچے ۔۔۔۔
۔۔۔۔
وہ گڑیا تھی ۔۔۔۔
یہ شیطاں تھے ۔۔۔
بہت تڑپی ۔۔۔
بہت روئی ۔۔۔
یہ جو ٹوٹے ہوئے ٹکڑے ۔۔۔۔
بہت نازک سی گڑیا تھی!!!


سید عاطف علی
29- مارچ -2014







بلاگ فالوورز

آمدورفت