Thriller لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Thriller لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 2 نومبر، 2016

23 اکتوبر

سر مجھے لگ رہا ہے کہ یہ جو بھی کچھ ہورہا ہے وہ محض اتفاقی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ضرور کوئی منصوبہ ساز زہن موجود ہے جو انتہائی صفائی اور مہارت سے یہ کام کر رہا ہے۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ وہ کیوں یہ کام کر رہا ہے مگر یہ جو ایک دو واقعات میں نے آپ کو بیان کیے ہیں تو سر  ان کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ ۔۔۔۔ سر آپ میری بات مانیں نہ مانیں یہ یقینا کوئی سیریل کلر ہے جو اتنا شاطر ہے کہ پولیس کی نظروں میں آئے بغیر گزشتہ پانچ سالوں سے یہ کام کر رہا ہے! سر آپ بس مجھے اجازت دیں تو میں باقاعدہ کیس فائل کرکے تحقیقات شروع کردوں؟ میرا ماتحت آفیسر اس وقت میرے سامنے بیٹھا نہایت جذباتی انداز میں تیز تیز اور مسلسل بول رہا تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرایا اور پانی پینے کو کہا۔ وہ پانی پی کر فارغ ہوا تو میں نے اسے سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کی وجہ سے جذباتی ہورہا ہے اور  معاملہ ایک بڑے ہسپتال اور اس کی ساکھ کا ہے۔ غلط کیس فائل ہوا اور میڈیا کو کیس فائل ہونے کی خبر مل گئی تو ہسپتال والے اتنے طاقتور ہیں کہ ہم دونوں کو اٹھوا کر گھر بھجوا دیں گے اور شہرت خراب کرنے پر ہتک عزت کا دعویٰ الگ ہوگا۔ بہتر یہی ہوگا کہ وہ  چند دن  دفتر نہ آئے اور باہر سے ہی اپنے طور پر یہ تحقیقات خفیہ طریقے سے جاری رکھے اور مجھے مطلع  کرے۔ مناسب ثبوت بہم ہوجانے پر ہم کیس فائل کرکے معاملے کو دیکھ لیں گے۔
اس کو وہاں سے رخصت کرنے کے بعد میں نے فون اٹھایا اور اس ہی ہسپتال میں کام کرنے والی اپنی چھوٹی بہن کو بھی خبردار کردیا کہ وہ  رازاداری کے ساتھ اردگرد نظر رکھے اور کسی بھی گڑبڑ کے نتیجے میں مجھے فوری طور پر مطلع کرے۔ فون کال نمٹا کر میں نے سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی اور تھانے کے احاطے میں کھڑا ہوکر سگریٹ پیتے ہوئے معاملے کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنے لگا۔
میرے ماتحت آفیسر کے بیان کے مطابق یہ معاملہ ابھی پولیس کی نظروں میں آیا ہی نہیں تھا جبکہ قتل کی یہ وارداتیں پچھلے پانچ سال سے جاری تھیں۔  اس کو بھی اس معاملے کی بھنک ایسے پڑی تھی کہ اس کی بیوی اس ہسپتال میں زچگی کے سلسلے میں گئی تھی اور جان کی بازی ہار گئی تھی۔ بیوی کی موت کے فورا بعد یعنی دو گھنٹوں میں ہی  ہسپتال والوں نے بچے کو بھی مردہ قرار دے دیا تھا۔ شاید کوئی اور ہوتا تو اس معاملے کو خدا کی مرضی قرار دے کر رو پیٹ لیتا مگر پولیس والوں اور بالخصوص تفتیشی افسران کا مزاج عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ میرے ماتحت کو یہ شک گزرا کہ یہ اموات جتنے عجیب انداز میں ہوئیں وہ طبعی موت نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا معاملہ تھا۔ ہسپتال کا نام بہت بڑا تھا اس لئے  مجرمانہ غفلت کا براہ راست الزام لگانے کے مضمرات سے وہ آگاہ تھا۔ کیس کو مضبوط کرنے کے لئے اس نے اپنے ذرائع سے تحقیقات کیں تو ایک عجیب سی خبر اس کے سامنے آئی کہ  زچہ و بچہ کی موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ پچھلے پانچ سال سے ہر سال اکتوبر کے مہینے میں اس قسم کے واقعات اس ہسپتال میں ہوتے آئے تھے ۔  یہ معلومات ملتے ہی وہ جذبات میں دوڑتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا تھا اور مجھ سے کیس درج کرنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ سگریٹ  ختم کرکے میں نے اس کیس کے سلسلے میں دماغ میں آنے والے تمام فالتو خیالات کو جھٹکا اور واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے طے کرلیا تھا کہ اب اس معاملے پر تب ہی سوچوں گا جب کچھ مزید اطلاعات میرے سامنے آئیں گی۔


اس بات کو گزرے چار دن  ہوگئے تھے اور میرا ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا۔ میں اپنی بہن سے بھی معاملے کی مسلسل سن گن لے رہا تھا مگر اس  نے بھی اردگرد کوئی غیرمعمولی چیز محسوس نہیں کی تھی۔ میں پچھلے دو دن سے مسلسل دفتر سے واپسی میں اس کے گھر جارہا تھا مگر ہر مرتبہ یہی معلوم ہوتا کہ وہ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے گھر سے نکلا ہے اور جب میں اس کے موبائل پر فون کرتا تو گھنٹی بجتی مگر کوئی جواب نہ آتا۔ میں نے اس کے گھر والوں کو بھی بول رکھا تھا کہ وہ جب بھی گھر آئے تو اسے مجھ سے رابطہ کرنے کو کہیں مگر یا تو گھر والے اسے میرا پیغام نہیں پہنچا رہے تھے یا وہ خود مجھ سے کترا رہا تھا۔ آج میں نے سوچ لیا تھا کہ دفتر سے واپسی میں میں اس کے گھر جاؤں گا اور وہیں بیٹھ کر اس وقت تک اس کا انتظار کروں گا جب تک وہ واپس نہیں آجاتا۔
دفتر میں بہت سے توجہ طلب امور تھے مگر میرا دھیان اس ہی میں اٹکا ہوا تھا۔ کافی دیر تک بھی جب میں کسی اور چیز پر توجہ مرکوز نہ کرسکا تو میں نے جھلا کر اسے کال کرنے کے لئے موبائل نکالا تو اس ہی وقت سکرین پر اس کا نام جگمگانے لگا۔ میں نے فورا کال اٹھائی اور اس سے پہلے کہ میں اسے پچھلے چار دن پر مغلظات سناتا اس کی نہایت پرجوش آواز ابھری، سر! میرا شک صحیح نکلا۔ آپ بس جلدی سے ہسپتال پہنچ جائیں میں ہسپتال کے  سامنے والے ہوٹل میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ باقی تفصیلات میں مل کر بتاتا ہوں۔
میں گاڑی اڑاتا ہوا سیدھا ہسپتال کے سامنے واقع ہوٹل پر پہنچ گیا۔ وہ ہوٹل کے باہر پڑی کرسی پر بیٹھا ہسپتال کے دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھا تھا۔ میں اتر کر اس کے پاس گیا تو اس نے عادتا مجھے سلوٹ کردیا۔ وہ اس وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا اور مجھے لگا کہ لوگ اس کے اس طرح مجھے سلوٹ کرنے پر چونکے ہیں مگر پھر مجھے خیال آیا کہ میں تو وردی میں موجود تھا اور یہ سراسیمگی میرے آنے کی وجہ سے پھیلی تھی۔ میں نے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے برابر میں موجود کرسی سنبھال لی اور اردگرد  کی کرسیوں پر موجود لوگوں کو اٹھنے کا اشارہ کردیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے گفتگو کوئی اور سنے اور لوگ تو ویسے ہی ہم سے دور بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں سو چند ہی لمحوں میں ہم دونوں اکیلے رہ گئے تھے۔
پہلے پانچ منٹ تو میرے اسے اس طرح غائب ہونے پر مغلظات سنانے میں لگ گئے مگر اس کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی ٹھوس چیز کے میرا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے فون پر بات کرنے میں متامل تھا۔  چار گالیاں اس احمقانہ سوچ پر مزید کھانے کے بعد وہ معاملے کی تفصیلات پر آگیا۔
میرے ماتحت کے مطابق اس نے اکتوبر کے مہینے سے جڑے ان حادثات کو کھوجنے کے لئے ہسپتال کے سٹاف کو کھنگالنے کی کوشش کی  کہ ان میں سے کس کس کا اس مہینے سے کوئی خاص تعلق ہوسکتا ہے۔  پہلے مرحلے میں اس نے ہسپتال کے ہیومن ریسورس مینجر کو اپنی نوکری کی دھونس جمائے بغیر محض بندوق دکھا کر تمام سٹاف کا ڈیٹا حاصل کیا اور اس میں سے اکتوبر کی تاریخ پیدائش والے تمام  افراد کی نشاندہی کر لی۔ اس کے شک کا دائرہ اب ہسپتال کے چار سو سٹاف سے سمٹ کر محض سینتیس لوگوں پر رہ گیا تھا  امگر ایک دو کی بات ہوتی تو ٹھیک تھا ، وہ ذاتی حیثیت میں سینتیس لوگوں کو شامل تفتیش نہیں کرسکتا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ اب معاملہ یہیں ختم ہوجائے گا مگر قدرت اس پر مہربان ہوگئی جب اس نے کل رات سوچوں کے درمیان  بے دھیانی میں ہسپتال سے ملنے والی اپنی بیوی کی کیس فائل کھولی اور اسے ڈاکٹر کے خانے میں جو نام دکھا وہ اکتوبر میں پیدا ہونے والے ان افراد کی فہرست میں موجود تھا۔ اس کے بقول وہ رات بھر سو نہیں سکا اور صبح ہی ہسپتال پہنچ کر اس ہی ہیومن ریسورس مینجر کے ساتھ موجود تھا جس نے اسے پہلے بھی ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ قسمت اس پر مسلسل مہربان تھی کہ وہ شخص ہیومن ریسورس مینجر  اور ایک توپ افسر ہونے کے ناطے ہسپتال کے تمام ستاف کی حاضری اور ہسپتال کے میڈیکل ریکارڈ دونوں تک رسائی رکھتا تھا۔ میرے ماتحت کے مطابق جیسے ہی اسے پتہ چلا  کہ پچھلے پانچ سال میں ہونے والی تمام زچہ و بچہ کی اموات کے وقت محض ایک شخص تھا جو ڈیوٹی پر موجود تھا تو اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس شخص کا نام وہ اپنی بیوی کے میڈیکل ریکارڈ میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔  وہ ڈاکٹر اس وقت بھی ہسپتال میں موجود تھی اور اب ہم دونوں ہسپتال میں تماشہ نہ بنانے کے لئے ہسپتال کے باہر اس کے منتظر تھے کہ وہ کب ڈیوٹی ختم کرکے نکلے اور ہم اسے اس کے گھر جا کر دھر لیں۔ میرا ماتحت ہسپتال کے ریکارڈ سے اس کا پتہ نکال لایا تھا مگر میں اپنی بہن کے حوالے سے میں اسے جانتا تھا  اور میں جانتا تھا کہ یہ ایک فرضی پتہ ہے۔ میں اس سفاک قاتل کا پتہ جانتا تھا جو ہسپتال سے پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی واقع ایک پوش علاقے میں مکین تھی لہٰذا میں نے اپنے ماتحت کو ساتھ لیا اور اس کے گھر کے سامنے والے پارک میں جا کر انتظار کرنے لگا ۔
شام پانچ بجے اس کی ڈیوٹی ختم ہوئی تھی اور ٹھیک پانچ بج کر سولہ منٹ پر وہ اپنے گھر کا دروازہ کھول رہی تھی کہ میں نے اپنے ماتحت کے ساتھ اسے جالیا۔ وہ مجھے میرے ماتحت کے ساتھ اور اس طرح وردی میں دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی تھی۔ میں نے اسے دروازہ کھول کر اندر چلنے کا اشارہ کیا۔
گھر میں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ ہم اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئے۔ میں نے اپنے ماتحت کو اشارہ کیا اور اس نے پورا معاملہ اس لڑکی کے سامنے رکھ دیا کہ کس طرح پولیس کو اب اس کی سفاک حرکات کا پتہ چل گیا ہے ۔ میرے ماتحت کی بات سن کر وہ بری طرح سے پھوٹ بہی مگر ہم دونوں وقت کے ساتھ اتنے پکے ہوچکے تھے کہ اب کسی  کے آنسو ہم پر اثرانداز نہیں ہوتے تھے۔ اس نے جرم سے انکار نہیں کیا اور دھیمے لہجے میں بولی کہ اب مجھے کیا کرنا ہوگا؟  مجھے لگا کہ میرا ماتحت بھی اس کے اتنی جلدی اقبال جرم کی امید نہیں کر رہا تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ اس کا ہر قتل کے وقت ہسپتال میں موجود ہونا اسے کسی بھی عدالت میں قاتل نہیں ثابت کرسکتا تھااور ایک معمولی وکیل بھی ہمارے مقدمے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا۔ اور جب یہ بات ہم دونوں جانتے تھے تو اتنی مہارت سے قتل کرنے والی وہ بظاہر معمصوم دکھنے والی شاطر لڑکی کیوں واقف نہیں ہوگی؟ وہ لڑکی مگر شاید اس وقت کسی شدید جذباتی کیفیت  کا شکار تھی اور اقبال جرم کربیٹھی تھی۔ میں نے کہا کہ ابھی لیڈی پولیس بلوا کر ہم آپ کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ میں آپ کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں مگر مجھے آپ سے اس بات کی امید نہیں تھی۔ آخر کیا وجہ تھی کہ آپ مسیحائی جیسے مقدس پیشے سے منسلک ہوکر بھی قاتل بن گئیں؟  میرا سوال سن کر اس نے رونا بند کر دیا اور نظریں میری نظروں میں گاڑ کر بولی، میں نے اپنے مقدس پیشے سے کبھی بے وفائی نہیں کی ہے! میرا کام انسانوں کو درد سے نجات دلانا ہے انسپکٹر صاحب! اس کی آنکھوں میں موجود آنسوؤں کی لالی اس وقت خون کی لالی لگ رہی تھی اور کے لہجے میں جو وحشت تھی میں نے محسوس کیا کہ اس سے میرا ماتحت کانپ اٹھا ہے۔  اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا اس نے اپنا بیان دوبارہ جاری کردیا۔  ایک پولیس والا کیسے محسوس کرسکتا ہے کہ درد کیا ہوتا ہے جبکہ اس کی ساری زندگی تفتیش کے نام پر دوسروں پر تشدد میں گزر جاتی ہے۔ میں ڈاکٹر ہیں۔ میں جانتی ہوں درد کیا ہوتا ہے۔ میں انسان ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ اس دنیا میں بن ماں کے بچوں کا کیا حال ہوتا ہے! میں ہی ہوں جو ان کا درد محسوس کرسکتی ہوں۔ میں ہی ہوں جس کی ماں اس ہی اکتوبر کے مہینے میں اسے پیدا کرتے ہوئے چل بسی تھی۔ خاندان بھر کے گھروں میں باری باری پلتے اور چاچا ماماؤں کے بچوں کی نوکری کرتے ہوئے جب میں ڈاکٹر اور پھر گائنی کی ماہر بنی تو اس کے پیچھے یہی سوچ تھی کہ میں  کسی ماں کو مرنے نہیں دوں گی۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ میں گائنی کی ماہر تو بن سکتی ہوں مگر خدا نہیں بن سکتی۔ میں انہیں مرنے سے نہیں بچا سکتی۔ مگر جو پیچھے بچ جائیں انہیں ضرور ان کی ماؤں تک پہنچا سکتی ہوں۔ آپ اسے سفاکی کہتے ہیں؟ میں تو احساس کی اس منزل پر ہوں جہاں آپ کبھی نہیں پہنچ سکتے! آپ کی ماں شاید ابھی زندہ ہے!-

اس کی باتیں سنتے سنتے میری بس ہوچکی تھی۔ میں نے کھڑے ہوکر اپنا سائلینسر لگا ذاتی ریوالور نکال لیا۔ وہ ڈاکٹرنی  مجھے کھڑا ہوتا دیکھ کر خود بھی کھڑی ہوگئی تھی اور اب بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑٰی تھی گویا اسے کسی بات کا ڈر نہ ہو۔ میرا ماتحت البتہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔ اسے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکنے کی کوشش کی کہ سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں مگر اس کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی میں نے اپنا ہاتھ چھڑا کر گولی چلا دی۔ وہ ڈاکٹرنی دوڑتی ہوئی آئی اور مجھ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ ہمارے قدموں میں میرے ماتحت کی لاش پڑی تھی۔ آج ہماری ماں کی برسی تھی۔ میرا ماتحت بیچارہ ناتجربہ کار تھا جو دروازے پر لگی تختی نہ پڑھ سکا جس پر بڑا بڑا انسپکٹر عاطف علی تحریر تھا!

بدھ، 29 جنوری، 2014

تعاقب

ہ دسمبر کی ایک سرد رات تھی، وہ کانپتی ہوئی اٹھ بیٹھی؛ شکر ہے یہ سب صرف ایک بھیانک خواب تھا

اس کا نام قانتہ تھا۔ وہ چوبیس سال کی ایک خوبصورت لڑکی تھی جو کراچی کے ایک پوش علاقے میں تنہا رہتی تھی۔ گذشتہ تین سال سے وہ ایک ایونٹ مینجمنٹ کمپنی میں بطور "پریزنٹیشن اسپیشلسٹ" اور "میٹنگ فیسیلٹیٹر" کام کر رہی تھی۔ ویسے تو اس کا تعلق اسلام آباد سے تھا مگر کمپنی کا دفتر اور پھر کلائنٹس کی اکثریت کے کراچی میں ہونے کی وجہ سے اسے کراچی میں رہنا پڑ رہا تھا۔  اسلام آباد کے سکون سے کراچی کے شور تک کا سفر اس کیلئے آسان نہ تھا۔ بھیانک خوابوں کا یہ سلسلہ بھی شائد اس کے دماغ ہی کی کوئی سازش تھی تاکہ وہ ڈر کر ہی سہی مگر اپنے شہر کو واپس لوٹ جائے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس نے اس شہر کی پرہنگام زندگی کو اپنا لیا تھا اور اب اسے اسلام آباد کا سکون سناٹے جیسا لگنے لگا تھا۔

زندگی اپنی تمام تر رنگینیوں اور بھرپور رفتار سے رواں دواں تھی جب وہ دن آیا۔ وہ ملک کے ایک بہت بڑے اور معروف ادارے کی سیلز کانفرنس کی میزبانی کر رہی تھی۔ سیلز کانفرنس کی میزبانی ہمیشہ سے اس کیلئے بڑا چیلنج رہا تھا۔ مرد اور ان کی ہوس بھری نگاہوں کی اب تک اسے عادت ہو چکی تھی مگر یہ سیلز والے ہمیشہ اسے اس کی برداشت سے باہر ہو جاتے تھے۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ سیلز کے لوگوں کو صرف نمبرز اور کمیشن ہی کی ہوس نہیں ہوتی، ان کی ہوس ایک درجہ اوپر ہوتی ہے اور یہ ہوس صرف ایک چیز کی ہوتی ہے؛ ہر چیز۔ وہ اپنے غصے کو قابو کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پروگرام کو جاری رکھے ہوئے تھی جب ہال میں وہ نوجوان داخل ہوا۔ وہ ایک تیس یا بتیس سال کا خیرہ کن حسن کا مالک نوجوان تھا۔ لمبا قد، یونانی نقوش، کسرتی جسم اور اس پر سرمئی رنگ کا ارمانی کا سوٹ پہنے ہوئے وہ نوجوان کسی یونانی دیوتا ہی کی طرح پر وقار طریقے سے اس کے سامنے سے ہوتا ہوا آکر سٹیج پر بیٹھ گیا۔

وہ چاہ کر بھی اس کی چہرے سے نظر نہیں ہٹا پا ئی تھی اور شاید نو وارد نے بھی اس کی غیر معمولی توجہ کو محسوس کر لیا تھا۔ وہ اس کی جانب دیکھ کر مسکرایا تو وہ ایک لحظہ کیلئے جھینپ سی گئی۔ آنے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ اس سیلز کانفرنس کروانے والے ادارے کا مالک اسد نامی جوان تھا۔ پروگرام کے دوران، وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس پر سے توجہ ہٹا نہیں پائی تھی۔ کچھ عجیب سا سحر تھا اس شخص میں، یا پھر وہ آنکھیں، اس نے اس سے پہلے ایسی آنکھیں کبھی نہیں دیکھیں تھیں۔ اتنے خوبصورت نقوش کے ساتھ ایسی خالی آنکھیں اس نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھیں تھیں۔ ان آنکھوں میں زندگی اور جذبات نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔  یوں لگتا تھا جیسے وہ آنکھیں کھول کر سو رہا ہو۔ اس کی آنکھوں کی پہیلی حل کرتے ہوئے اسے انداذہ نہیں ہوا کہ وہ بار بار اس کی آنکھوں میں جھانک رہی ہے اور اسد یہ بات محسوس کر چکا تھا۔

سیلز کانفرنس ختم ہوئی اور وہ اپنی زندگی کی مصروفیات میں دوبارہ مگن ہو گئی تھی جب اچانک وہ ہولناک حادثہ ہوا۔ اس کا منگیتر ایک کار حادثے میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ وہ بہت شدت سے ٹوٹ گئی تھی۔  پہلے پہل تو اس نے خود کو دنیا سے الگ کر دیا تھا۔ سگریٹ کے دھویں میں وہ اپنے غموں کو اڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ جنید جو پچھلے تین سال سے اس کے ساتھ کام کر رہا تھا اس صورتحال سے بہت پریشان تھا۔ وہ قانتہ سے دل و جان سے محبت کرتا تھا مگر اس کے منگنی شدہ ہونے کی وجہ سے اس نے کبھی اس محبت کا اقرار قانتہ سے نہیں کیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ قانتہ زندگی کی طرف واپس آئے اور اس ہی لیئے وہ اب روزانہ اس سے ملنے اور اس کا حوصلہ بندھانے وہ اس سے ملنے آنے لگا۔ وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔ اب قانتہ کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ جانے والوں کے پیچھے زندگی ترک نہیں کی جاتی۔ وہ زندگی کی طرف پلٹنا شروع ہو گئی۔ اس نے آفس بھی دوبارہ جوائن کر لیا تھا اور اکثر اس کی شامیں جنید کے ساتھ ساحل پر گذرنے لگیں تھیں۔ وہ دونوں بہت تیزی سے قریب آرہے تھے۔ جنید تو پہلے ہی اس سے محبت کرتا تھا مگر قانتہ کو بھی اب اس کے جذبات کی قدر اور احساس ہو رہا تھا۔ وہ اس دوسری زندگی کے لئے جنید کی مشکور تھی۔

پچھلے کچھ دنوں سے قانتہ کو محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی شخص اس کا مسلسل تعقب کر رہا ہو۔ شروع میں تو اس نے اس کو اپنا وہم سمجھا مگر اس دن جب وہ دفتر سے گھر پہنچی تو اس کا شک یقین میں بدل گیا۔ گھر کے دروازے پر ایک لفافہ اس کا منتظر تھا جس میں  درج تحریر نے اس کے اوسان خطا کر دئے۔ یہ کوئی معمولی خط نہیں تھا۔ بھیجنے والے نے اپنا نام نہیں لکھا تھا مگر یہ خط اس نے خون سے تحریر کیا تھا۔ اس نامعلوم شخص نے اسے خبردار کیا تھا کہ احمر بھی محض اس سے تعلق کی بنیاد پر اپنی جان سے گیا تھا اور اگر اس نے جنید سے فاصلہ اختیار نہ کیا یا اس خط کے بارے میں کسی کو بھی اطلاع کی تو جنید اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ قانتہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ کتابوں اور افسانوں میں پڑھے ہوئے اس قسم کے نفسیاتی کردار اصل زندگی میں بھی وجود رکھتے ہوں گے۔ اب اس کے سامنے صرف دو راستے تھے۔ یا تو وہ پولیس کو مطلع کرکے جنید کی جان خطرے میں ڈال دے جبکہ محض ایک خط کی بنیاد پر پولیس بھی کوئی کاروائی نہیں کر پاتی کیونکہ احمر کی موت کے تمام چشم دید گواہ پہلے ہی اسے محض ایک حادثہ قرار دے چکے تھے اور یہ خط پولیس کے پاس لے جانے سے بھی نہ احمر کو انصاف مل پاتا نہ جنید کی حفاظت کی کوئی زمہ داری۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ اس خط کو محض ایک بھونڈہ مذاق سمجھ کر بھول جائے۔ زندگی بھر فلسفے اور منطق کے درس دینے والے اکثر وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں خود ان لیکچرز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس نے اس خط کو اگنور کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اگلے کچھ دن وہ جان بوجھ کر آفس کے باہر جنید سے ملنے سے کتراتی رہی۔ جنید نے اس تبدیلی کو محسوس کر لیا مگر اس کے بار بار پوچھنے پر قانتہ نے اس سے مصروفیت کا بہانہ کر لیا۔  پہلے اور دوسرے خط کے درمیان چار دن کا وقفہ تھا۔ وہ آفس سے گھر پہنچی تو دروازے پر لفافہ دیکھ کر اس کے جسم سے جان نکل گئی۔ وہ جانتی تھی اس سرخ لفافے میں پھر کوئی طوفان چھپا ہوگا۔ اس نامعلوم شخص نے اس بار پھر سیاہی کو زحمت نہیں دی تھی۔ اس سے بےپناہ محبت کے اظہار کے بعد اس شخص نے قانتہ کا شکریہ ادا کیا تھا کہ وہ جنید سے دور ہوگئی تھی اور اس کو ایک اور قتل کی مشقت سے بچا لیا تھا۔ قانتہ کا اس وقت یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس نے جنید کا نمبر ملایا اور ایک ہی سانس میں اسے پوری کہانی بیان کردی۔ جنید نے اس کو حوصلہ رکھنے کی تلقین کی اور سیدھا اس سے ملنے گھر پہنچ گیا۔ وہ دونوں کافی دیر تک اس صورتحال اور اس سے نکلنے کے منصوبے سوچتے رہے مگر کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ جنید دوبارہ آنے کا وعدہ اور احتیاط رکھنے کی تاکید کی اور گھر کے لئے نکل گیا۔ اسے کیا خبر تھی کہ یہ اس کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہو گا۔ گھر کے قریب ایک تیز رفتار گاڑی کی ٹکر نے اس کی موٹر سائکل اور خود اس کے وجود، دونوں کے چیتھڑے اڑا دئے تھے۔

یہ خبر جب قانتہ تک پہنچی تو وہ سکتے میں آگئی۔ اسے معلوم تھا کہ کہیں نہ کہیں احمر اور جنید دونو کی موت کی زمہ دار وہ خود تھی اور یہ سلسلہ ہر اس شخص تک دراز ہو جانا تھا جو اس کی زندگی میں آنے کی کوشش کرتا۔ اس نے ہار ماننے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اب مزید نقصانات اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی ہر حرکت پر اس شخص کی نظر تھی سو اس بار اس نے خود اس شخص سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آفس کے لیے نکلتے وقت وہ دروازے پر چٹ لگانا نہیں بھولی تھی کے وہ اس نامعلوم شخص سے ملنا چاہتی تھی اور اگر وہ ملنے کے لئے تیار ہے تو اگلے خط میں اپنی مرضی کی جگہ اور مقام لکھ بھیجے جہاں وہ پہنچ سکے۔ وہ جانتی تھی کہ وہ شخص اس سے ملنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرے گا اور حسب توقع واپسی پر ایک جوابی لفافہ اس کا منتظر تھا۔ وہ انجان شخص اس سے ملنے کیلئے تیار تھا اور اس نے اسے رات 7 بجے ایک مشہور شاپنگ سینٹر پہنچنے کا کہا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ باقی تفصیلات وہ اسے وہاں پہنچنے پر بتا دےگا۔

 قانتہ نے گھڑی پر نظر ڈالی، اس کے پاس وہاں پہنچنے کیلئے اب صرف آدھا گھنٹہ بچا تھا۔ اس نے وہ تمام خطوط ایک جگہ جمع کیے اور ایک نوٹ لکھ کر گھر سے روانہ ہوگئی۔ اس نے نوٹ میں تمام خطوط کا حوالہ دے کر مینشن کر دیا تھا کے اگر وہ گھر نہ پہنچے تو اس شاپنگ مال کے سی سی ٹی وی کیمراز کی مدد لی جائے تاکہ احمر اور جنید کو انصاف مل سکے۔ گھر سے نکلتے وقت وہ اپنے بیگ میں اس تیز دھار خنجر کو رکھنا نہیں بھولی تھی جو کراچی آتے وقت وہ حالات کی وجہ سے اپنے ساتھ لائی تھی۔ آج شاید پہلی مرتبہ سہی معنوں میں اسے اس خنجر کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔ مال میں پہنچ کر وہ حسب ہدایت ایک مشہور فوڈ چین کے باہر جا کھڑی ہوئی۔ اسے وہاں کھڑے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اس کا موبائل بجا۔ ایک نامعلوم نمبر کو دیکھ کر وہ ٹھٹکی مگر پھر اس نے فون اٹھا لیا۔ دوسری طرف سے ایک بھرائی ہوئی آواز میں ایک شخص نے اس کا مال تک آنے کا شکریہ ادا کیا اور اس کو فون منقطع کیے بغیر دوسرے فلور پر موجود ایک موبائل کمپنی کے دفتر پہنچنے کا کہا ۔ وہ خاموشی سے ایلیویٹر کے زریعے دوسرے فلور پر پہنچ گئی مگر اس سے پہلے کے وہ موبائل کمپنی کے دفتر تک پہنچتی اسے پارکنگ لاٹ میں جانے کا کہہ دیا گیا۔ اس نامعلوم کالر نے اس سے زحمت کیلئے معذرت کی مگر پولیس یا کسی دھوکے سے بچنے کیلئے اس کا یہ کرنا ضروری تھا۔ وہ خاموشی سے اس کی تمام ہدایات پر عمل کر رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ایک بار اس شخص سے مل لے اور خود اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی اجاڑنے والے سے انتقام لے سکے۔ انتقام ایک ایسی چیز جو شاید ہم میں سے ہر ایک سے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کروا سکتی ہے۔ اس کے پارکنگ لاٹ میں پہنچنے تک اس کالر کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ کسی قسم کی کوئی چال نہیں چل رہی اور یہاں اکیلی آئی ہے۔ پارکنگ لاٹ میں وہ بے مقصد چل رہی تھی جب کالر نے اسے دائیں ہاتھ پر موجود ایک سیاہ گاڑی میں جا کر بیٹھ جانے کو کہا۔ وہ خاموشی سے جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی جہاں اسد اس کا منتظر تھا۔

اس دن سیلز کانفرنس میں اس لڑکی کو دیکھتے ہی اسد اپنا دل ہار بیٹھا تھا۔ اسد ایک کامیاب کاروباری شخصیت کا بیٹا تھا جن اسد کے بچپن میں ہی طلاق ہو گئی تھی۔ ماں اور باپ کی باہمی نفرت کی چکی میں پستے ہوئے نجانے کتنے نفسیاتی عوارض بچپن سے ہی اس کی زات سے جڑ گئے تھے۔ بچپن کی اِن حرکات کو ضد اور اکھڑ پن کا پردہ ڈال کر ماں اور باپ دونو اپنی زمہ داریوں سے دامن چراتے رہے اور عمر کے ساتھ ساتھ یہ مسائل بھی بڑے ہوتے چلے گئے۔ اسد دماغی اعتبار سے بہت ذہین مگر بلا کا ضدی اور خودسر واقع ہوا تھا۔ بچپن سے ہی اپنی پسندیدہ چیز کا حصول اس کی فطرت بن چکا تھا، چاہے حاصل کرنے کا طریقہ جائز ہو یا ناجائز۔ جو چیز اسے ایک دفعہ پسند آجاتی وہ اسے حاصل کر کے چھوڑتا تھا۔ اور اگر یہ حصول ناممکن ہوجائے تو اس کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ چیز کسی اور کو بھی نہ مل پائے۔ اس کی زندگی کی پہلی تین محبتیں جنہوں نے اس سے شادی سے انکار کر دیا تھا، پر اسرار طریقے سے ہلاک ہو چکی تھیں مگر اس کے شاندار منصوبہ کار دماغ کی وجہ سے پولیس زیادہ سے زیادہ اس پر شک ہی کر پائی تھی۔ چوری اگر پکڑی نہ جائے تو یہ بھی ایک فن ہے۔ وہ ہمیشہ سے اس بات کا قائل رہا تھا۔ قانتہ اس کی چوتھی محبت تھی اور وہ اس کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک بار اس سے مل کر اس کو سمجھائے کہ وہ کن چھوٹے اور عام لوگو میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے جبکہ وہ اس جیسے زہین، خوبصورت، دولتمند اور کامیاب نوجوان کی ساتھی بن سکتی تھی۔ اس کام کیلئے راستے سے اس کے منگیتر کا ہٹنا سب سے زیادہ ضروری تھا کیونکہ اسد جانتا تھا کہ عورت کتنا بھی پڑھ لکھ جائے عورت ہی ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ دماغ جیسی قیمتی چیز کو چھوڑ کر دل جیسی بیکار چیز کو اہمیت دیتی ہے اور اگر ایک بار کسی سے منسوب ہو جائے تو اپنے تمام تر جذبات اس ہی سے منسوب کر دیتی ہے۔ آج اس کی راہ کے تمام کانٹے ہٹ چکے تھے اور آخر کار وہ دن آ گیا تھا جب قانتہ اس سے ملنے آگئی تھی۔

گاڑی میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ قانتہ جلدبازی میں کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی تھی اور اسد فی الوقت اپنی کامیابی کے نشے میں چور تھا۔ گا ڑی اب شہر کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی اور تیزی سے اسد کے پینٹ ہائوس کی طرف رواں تھی جو اس نے آج کے دن کے حساب سے خصوصی طور پر مزین کروایا تھا۔ گا ڑی مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی پینٹ ہائوس پر جا کر رک گئی۔ اسد نے خود اتر کر قانتہ کیلئے دروازہ کھولا اور اسے اندر لے آیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی جو منظر قانتہ کے سامنے آیا وہ اس کے وہم و گمان سے ماورا تھا۔ اس گھر کی ہر دیوار اور ہر کونا اس کی تصاویر سے مزین تھا۔ اٹھتے، بیٹھتے، چلتے، پھرتے، ہنستے، بولتے، کھاتے، پیتے، غرض اس کی ہر انداز اور ہر ادا کو کیمرے کی آنکھ سے لے کر اس گھر کی دیواروں پر منتقل کر دیا تھا۔ قانتہ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ وہ اس سے پہلے بھی چاہی اور سراہی گئی تھی مگر اس شدت اور اس جنون کی چاہت کا تو خود اس نے بھی تصور تک نہیں کیا تھا۔ میں آپ کی خاطر کسی کی جان لے سکتا ہوں تو اپنی جان دے بھی سکتا ہوں، اسد کی آواز اسے کانوں سے زیادہ دل سے سنائی دے رہی تھی۔ "تم یہاں شکار ہونے نہیں بلکہ شکار کرنے آئی ہو" اس سے پہلے کہ وہ مکمل طور پر کمزور پڑ جاتی  اس نے خود کو سمجھایا مگر اب دل اور دماغ میں ایک عجیب کشمکش شروع ہو گئی تھی۔

اسد نے اسے ہال میں بٹھایا اور خود کچن کی جانب بڑھ گیا۔ قانتہ نے بیگ سے چاقو نکالا اور دبے قدمو اس کے پیچھے کچن میں جا پہنچی۔ اسد کھڑا سنک پر چائے کیلئے برتن کھنگال رہا تھا۔ قانتہ کے دل و دماغ کی جنگ شدت پکڑ چکی تھی۔ دماغ نے یاد دلایا کہ اس ہی شخص کی وجہ سے تم اپنی زندگی کے قیمتی ترین لوگو کو کھو بیٹھی ہو، اسے مار ڈالو، تو دل نے بے اختیار صدا دی کہ چاہا جانا اور اس شدت سے چاہا جانا تمہارا ہمیشہ سے خواب رہا ہے، ایسے عاشق نصیب والو کو ہی ملتے ہیں اس کو اپنے گذرے ہوئے کل کی وجہ سے جانے نہ دو ۔ قانتہ خنجر ہاتھ میں لئے اس ہی کشمکش میں الجھ رہی تھی کہ اسے احساس ہوا کہ سردی بہت شدید ہو رہی ہے۔ وہ دسمبر کی ایک سرد رات تھی، وہ کانپتی ہوئی اٹھ بیٹھی؛ شکر ہے یہ سب صرف ایک بھیانک خواب تھا

سید عاطف علی
20- جنوری-2014

بلاگ فالوورز

آمدورفت