Black لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Black لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 اپریل، 2017

سچی خوشی

دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی بستی میں جعفر اور عمر نام کے دو دوست بستے تھے۔ دونوں کا تعلق اچھے گھرانوں سے تھا جہاں بچوں کو سونے کا نوالہ کھلا کر دیکھا شیر کی آنکھ سے جاتا تھا۔ کہانی چونکہ غیر سیاسی ہے لہٰذا آپ بھی اسے جنگل والا شیر ہی سمجھیں جو اب تک سیاست کے کارزار سے دور، اور شاید اس ہی لیئے عزت دار ہے۔
جعفر اور عمر اچھے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ کلاس فیلو بھی تھے۔ دونوں شروع سے پڑھائی میں اچھے ہونے کے ساتھ ساتھ بزرگوں کا احترام کرنے اور غریبوں کے کام آنے کیلئے بھی مشہور تھے۔ دونوں دوستوں میں اکثر یہ دوستانہ مخاصمت بھی رہتی کہ نیکی کے کاموں میں کون دوسرے سے سبقت لے جائے۔
وقت کے ساتھ ساتھ دونوں اب سینئر کیمبرج میں پہنچ گئے تھے۔ دونوں دوستوں کو نئی ٹیکنالوجی خاص طور پر موبائل فون کا بہت شوق تھا۔ ان دونوں کی کوشش ہوتی تھی کہ وقت کا سب سے جدید موبائل فون ان کے استعمال میں ہو۔ چونکہ باقی چیزوں میں دونوں دوست کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیتے تھے لہٰذا ان کے اس بےضرر شوق سے بھی کسی کو کوئی شکایت نہیں تھی۔ کیمبرج کے امتحانات اب نزدیک تھے سو ان کا جذبہ بڑھانے کیلئے دونوں کے گھر والوں نے یہ اعلان کردیا تھا کہ اگر وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوجاتے ہیں تو ان دونوں کو اپنی مرضی کے موبائل فون دلا دیئے جائیں گے۔ وہ دونوں اس چیز کو لیکر کافی پرجوش تھے اور خوب دل لگا کر پڑھائی کر رہے تھے۔
امتحان آئے بھی اور چلے بھی گئے۔ نتیجہ آیا تو ان دونوں دوستوں کی محنت رنگ لے آئی اور دونوں دوست امتیازی نمبروں سے پاس ہوگئے۔دونوں کے گھر والے ان کی اس کامیابی سے بےحد خوش تھے۔ انہوں نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آج یہ دونوں دوست اپنے لیئے نیا آئی فون 6 خریدنے مارکیٹ کیلئے نکلے ہوئے تھے۔
دونوں دوستوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ نہ صرف وہ، بلکہ ان کے دوست بھی اس نئے فون کو دیکھنے کے مشتاق تھے جس کے بارے میں وہ پچھلے ایک ماہ سے انٹرنیٹ پر چیزیں پڑھ رہے تھے۔ انتظار کی گھڑیاں طویل ضرور تھیں مگر اس صبر کا انہیں بہت میٹھا پھل مل رہا تھا اور یہی ان کیلئے بہت تھا۔
وہ دونوں مارکیٹ میں داخل ہونے ہی لگے تھے کہ تین چار لوگوں نے انہیں گھیر لیا۔ ان میں سے ایک ضعیف بوڑھا تھا اور باقی دو مفلوک الحال خواتین۔ بوڑھے نے جعفر کا ہاتھ پکڑ کر روتے ہوئے فریاد کی کہ اس کا جوان بیٹا ایک اندھی گولی کا شکار ہوچکا ہے اور اب اس کے گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر وہ دونوں اس کی مدد کردیں تو وہ اپنے یتیم پوتے پوتیوں کے لیئے کھانا لے جائے گا۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ اس کے گھر میں دو جوان بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے رخصت نہیں ہوپارہی ہیں اور اسے ان کی امداد کی ضرورت ہے جبکہ دوسری خاتون کا شوہر ایک حادثے کے بعد سے گھر پر پڑا ہوا تھا اور اب اس کے پاس اپنے خاوند کے علاج کیلئے پیسے نہیں تھے۔ نیز اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر عمر اور جعفر اس کی مدد کردیں تووہ ان پیسوں سے اپنے بچوں کا اسکول کا یونیفارم اور کتابیں بھی خرید لے گی کہ سرکار کے ہزارہا دعووں کے باوجود اب بھی کتب اور یونیفارم بازار سے ہی خریدنا پڑتا ہے۔
جعفر اور عمر دونوں خاموشی سے ان کی گفتگو سنتے رہے اور جب ان تینوں کی بپتا ختم ہوئی تب تک ان دونوں کی آنکھوں میں آنسو آچکے تھے۔ دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر تمام پیسے نکال لیئے۔ دونوں نے ان پیسوں کو گنا تو یہ پورے دو لاکھ روپے تھے؛ اتنی ہی رقم تھی جس سے وہ نیا موبائل آنا تھا۔ اگر اس میں سے سو روپے بھی کم ہوجاتے تو وہ نیا موبائل نہیں لے سکتے تھے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا اٹھے۔ وہ دونوں ایک فیصلے پر پہنچ چکے تھے۔ دونوں نے پیسے جیب میں واپس ڈالے اور ان تینوں کو "معاف کرو بابا، چھٹے پیسے نہیں ہیں" کہہ کر مارکیٹ میں داخل ہوگئے۔
لاکھوں روپے غریبوں پر لٹا کر صرف بچوں کے رسالوں میں ہی خوشیاں ملتی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ آئی فون 6 سے ملنے والی سچی خوشی انہیں کبھی بھی ان بھکاریوں کو پیسے دیکر حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔
ختم شد

پیر، 20 فروری، 2017

پیر صاحب

جیل سے فرار ہوئے مجھے ایک ماہ سے اوپر ہوگیا تھا اور میں مسلسل بھاگتا پھر رہا تھا۔ گو کہ اس ایک ماہ میں میرا حلیہ کافی حد تک تبدیل ہوچکا تھا مگر مجھے ڈر تھا کہ پولیس نے میری تلاش میں اشتہارات نہ لگوا دیئے ہوں۔ پہچانے اور پھر دوبارہ پکڑے جانے کا خوف مجھے کسی بھی ایک جگہ زیادہ دن رکنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ اس ہی فرار کی حالت میں خدا معلوم کن رستوں سے ہوتا ہوا میں اس گائوں پہنچ گیا تھا۔
یہ ایک نہایت پسماندہ اور دور افتادہ گائوں تھا۔ بمشکل چند ہزار کی آبادی تھی اور سہولیات زندگی نہ ہونے کے برابر۔ آس پاس کے چار چار گائوں تک نہ کوئی سکول تھا نہ ہسپتال۔ گائوں کے لوگوں کو البتہ ان چیزوں سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ انہوں نے حالات کے ساتھ سمجھوتا کرلیا تھا اور اب وقت کے ساتھ اتنے سمجھدار ہوگئے تھے کہ کسی غریب کی طبیعت اگر زیادہ خراب ہو جاتی تو پیسے علاج پر خرچ کرنے کے بجائے تدفین کیلئے جوڑ لیئے جاتے تھے۔
سادہ سا گائوں تھا اور سادہ سے لوگ۔ یہاں ابھی تک ہاتھ باندھنے یا کھول کر نماز پڑھنے کے جھگڑے نہیں پہنچے تھے کہ یہ لڑائیاں وہاں ہوتیں جہاں نماز بھی ہوتی ہو۔ گائوں میں نہ کوئی مسجد تھی نہ مولوی! کبھی بھولا بھٹکا کوئی مولوی اگر آبھی جاتا تو ان گائوں والوں کی غربت دیکھتے ہوئے کسی ذیادہ منافع بخش جگہ کی تلاش میں آگے نکل جاتا تھا۔ شادی بیاہ اور میت کیلئے شہر سے مولانا صاحب بلائے جاتے تھے جبکہ روزمرہ کی زندگی کیلئے اللہ، رسول کے نام ان گائوں والوں کو معلوم تھے اور انکے لیئے یہی بہت تھے کہ مذہب ان کیلئے بس اتنا ہی اہم تھا کہ ان کے نزدیک جب زندگی میں کوئی راستہ نہ دکھے تو اللہ رسول کا نام لے کر رونے سے وہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو کچھ گائوں چھوڑ کر ایک پیر صاحب کا ڈیرہ تھا جہاں جاکر نذرانہ چڑھانے سے کام ہوجائے گا۔
جب میں گائوں میں داخل ہوا تو رات گہری ہوچکی تھی اور گائوں کے کتے تک سوچکے تھے۔ میں کچے پکے راستوں اور کھیتوں کے بیچ میں سے گزرتا ہوا گائوں کے وسط میں واقع ایک برگد کے نیچے جا کر لیٹ گیا۔ جسم پھوڑا بن چکا تھا اور تھکن کی وجہ سے مزید جاگنا محال تھا۔ میں نے چادر کاندھے پر سے اتاری اور منہ پر تان کر سو گیا۔
کب رات گزری اور کب صبح ہوئی مجھے احساس تک نہیں ہوا۔ جب آنکھ کھلی تو خود کو گائوں کے بوڑھوں اور بچوں میں گھرا پایا جو بڑی دلچسپی اور حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں ابھی تک نیم خوابی کے عالم میں ہی تھا اور کانونٹ کے دنوں کی بری عادت سے مجبور، بے دھیانی میں انگریزی میں ہی بات کرتا تھا۔
( میرا تعلق ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تھا اور اگر ریپ کے کیس میں پکڑا نہ جاتا تو آج میں بھی شہر میں ایک عزت دار زندگی گزار رہا ہوتا۔ تمام تر تعلیم اور تربیت کے بعد بھی میں اپنے اندر کے اس درندے کو روک نہیں پاتا تھا جو خواتین کو دیکھتے ہی میرے اندر بیدار ہوجاتا تھا۔ معاشرے کو بھی میری اس بیماری سے فرق نہیں پڑتا کہ میرے جرم کی اصل سزا یہ معاشرہ مجرم کو نہیں بلکہ جرم کا شکار ہونے والے مظلوم کو دیتا تھا۔ خودساختہ عزت بچانے کے ڈر سے کبھی کسی نے میرے خلاف رپورٹ نہیں کروائی تھی کہ اگر وہ غریب میرے خلاف تھانے جاتیں تو اول تو معاشرہ انہیں جینے نہیں دیتا اور دوسرا وہ بیچاری وہ چار گواہ کہاں سے لاتیں جو یہ کہتے کہ ہاں ہم نے بےغیرتوں کی طرح اس کی عزت لٹتے ہوئے دیکھی اور ہم نے اس وقت تو کچھ نہیں کیا مگر آج گواہی دینے آگئے ہیں۔ زندگی عیاشی میں گزر رہی تھی مگر غلطی سے میں نے ایک طاقتور کی بیٹی پر ہاتھ صاف کردیا۔ چار کی جگہ چار سو گواہ بھی آگئے اور کیس بھی اس لڑکی کے بجائے اس کی ملازمہ کی عزت لٹنے کا بنا۔ خود تو مردود صاف نکل گئی اور ہمیں عدالت نے سات سال کی بامشقت سزا سنادی۔)
میں نے انگریزی میں انہیں جھاڑا کہ تم یہاں کون سا تماشہ دیکھنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہو؟ میں کوئی چڑیا گھر کا جانور نہیں جسے اس طرح ہجوم بنا کر دیکھنے کیلئے تم لوگ یہاں جمع ہوئے ہو! دفع ہوجائو!!! گائوں والے سراسیمہ ہوکر اِدھر ادھر ہوگئے مگر تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ پہلے سے زیادہ بڑی تعداد میں واپس آگئے۔ اس بار ان سب کے ہاتھوں میں کھانے پینے کی چیزیں تھیں جو وہ میری خدمت میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ گائوں کے بزرگوں نے واپس جاکر گائوں بھر کو خوشخبری دے دی تھی کہ اب علاج کیلئے چار کوس دور پیر صاحب کے پاس نہیں جانا پڑے گا کیونکہ خود ہمارے گائوں میں ایک اللہ لوک بزرگ تشریف لے آئے ہیں جو جنات کی بولی بھی جانتے ہیں۔
آنے والے چند ہی دنوں میں میں ایک نیم پکے مکان میں منتقل ہوچکا تھا جو گائوں کے چوہدری صاحب نے بطور خاص میرے لیئے بنوایا تھا۔ چوہدری صاحب خود تو اس گائوں میں نہیں رہتے تھے مگر وہ جانتے تھے کہ گائوں والوں کو ان کی ذہنی اور جسمانی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے میں میں کتنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہوں۔ مجھے بھی انکی نوازشات پر کوئی اعتراض نہیں تھا کہ مجھے صرف کچھ وقت گزار کر یہاں سے آگے چلے جانا تھا۔ یہ پیری فقیری میرے بس کی چیز نہیں تھی اور کسی بھی دن اگر بھانڈہ پھوٹ جاتا تو لینے کے دینے پڑ جاتے۔
گائوں کے لوگوں کو اب ایک نیا شغل اور امید مل گئی تھی۔ پیر صاحب کیا آئے، زندگی کے ہر مسئلے کا حل ان کے ہاتھ آگیا۔ وہ اپنی ذندگی کے تمام مسائل کا رونا اب میرے پاس آکر رونے لگے۔ مجھے صرف تین وقت کے کھانے اور وقتی پناہ سے مطلب تھا سو میں ان کی اس بکواس کو اس کھانے کی قیمت سمجھ کر سن لیتا۔ گائوں والے مجھ سے بہت خوش تھے۔ اندر کی تمام بھڑاس نکالنے کے بعد وہ قدرتی طور پر بہتر محسوس کرتے اور اسے میری کرامت سے منسوب کردیا جاتا۔ دوسری چیز جو میرے حق میں گئی وہ یہ تھی کہ آس پاس کے گائوں والے بھی اب دعا کروانے میرے پاس آنے لگے تھے جس سے گائوں والی کی عزت میں بھی اضافہ ہوگیا تھا۔
دن ہفتوں میں بدل گئے اور اب میں اس تماشے سے اکتانے لگا۔ میں اب گائوں سے روانگی اور آگے کی منازل کے بارے میں سوچنے ہی لگا تھا کہ کل میرے پاس گائوں کا ایک بے اولاد جوڑا آگیا۔ وہ دونوں اولاد نہ ہونے کے غم سے پریشان تھے۔ میں نے تسلی سے ان کی بات سنی اور انہیں یقین دلایا کہ میں ان کیلئے خصوصی دعا کروں گا۔ وہ دونوں خوشی خوشی وہاں سے اٹھ کر جانے لگے تو بدقسمتی سے اس کی بیوی کے چہرے سے چادر کھسک گئی۔ میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو میں نے اس ہی وقت اپنا ارادہ تبدیل کردیا۔ میں نے اس کے شوہر کو کہا کہ کل وہ اپنی بیوی کو میرے حجرے پر چھوڑ جائے کہ یہ معاملہ دعا سے زیادہ دوا کا ہے۔ مجھے ایک مخصوص عمل کرنا ہوگا جس کے بعد تم دونوں کو اولاد کی نعمت نصیب ہوجائے گی۔ ان دونوں میاں بیوی کے چہرے خوشی سے چمک اٹھے۔ وہ اگلے دن اپنی بیوی کو لانے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
پوری رات میں صبح ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ اگلے دن میں نے صبح ہی اپنے خاص مرید کے ذریعے، آنے والے تمام لوگوں کو کہلوادیا کہ آج مرشد ایک خاص عمل کر رہے ہیں جس کیلئے انہیں تنہائی اور انہماک کی ضرورت ہے سو آپ لوگ اب کل آئیے گا۔ جب تمام مرید چلے گئے تو میں نے اس خاص خادم اور مرید کو بھی رخصت کردیا اور تیار ہوکر ان میاں بیوی کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر گزری ہوگی کہ وہ دونوں میاں بیوی بھی پہنچ گئے۔ میاں کو میں نے دروازے سے ہی رخصت کردیا اور اندر پہنچتے ہی اس عورت پر ٹوٹ پڑا۔ وہ بیچاری چپ چاپ سب کچھ سہتی رہی اور آخر میں اپنے آپ کو سنبھالتی، روتی ہوئی حجرے سے نکل کر بھاگ گئی۔
اس کے جانے کے بعد مجھے ہوش آیا کہ یہ میں کیا کر بیٹھا ہوں۔ اگر اس نے یہ بات اپنے شوہر کو بتادی تو وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ ان علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل ایک معمول کی بات تھی۔ میں تیزی سے باہر نکلا کہ اس سے پہلے وہ عورت جاکر اپنے شوہر کو یہ بات بتائے میں اسے پکڑ کر کسی طرح قائل کرلوں کہ یہ بات صرف ہم دونوں کے بیچ میں رہنی چاہیئے۔ جنت جہنم کی چار باتیں ان گائوں والوں کو ڈرانے اور للچانے کیلئے بہت تھیں کہ یہ لوگ جہنم سے بے انتہا ڈرتے تھے۔ میں بھاگتا ہوا جا رہا تھا کہ مجھے وہ عورت ایک کھیت میں داخل ہوتی ہوئی دکھی۔ میں تیزی سے اس کے پیچھے لپکا مگر اس سے پہلے کہ میں اس تک پہچتا وہ اپنے میاں تک پہنچ چکی تھی۔ میں وہیں پیچھے کھڑے ہوکر سننے لگا۔ وہ عورت رو رو کر اپنے شوہر کو بتا رہی تھی کہ اس سے ایک عظیم گناہ سرزد ہوچکا ہے اور اب وہ اس کے قابل نہیں رہی ہے۔ اس کے شوہر نے اس کو تسلی دیتے ہوئے پوچھا کہ ایسا کیا ہوگیا؟ اس عورت نے جواب دینے کی کوشش کی مگر سوائے ہچکیوں کے کوئی آواز نہیں نکل پائی۔ تھوڑی دیر وہ اس ہی طرح دھاڑیں مارتی رہی اور پھر بمشکل سسکیوں کے درمیان بولی کہ اب وہ جہنمی ہوگئی ہے اور اب اپنے شوہر تو کیا کسی  انسان کے بھی لائق نہیں رہی ہے۔
میں کھیت میں کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا اور میرا خود کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ گائوں میں رکتا تو گائوں والے مار ڈالتے اور اگر گائوں چھوڑ کر بھاگتا تو پولیس مجھے نہیں چھوڑتی۔ مجھے جو بھی فیصلہ کرنا تھا نہایت سوچ سمجھ کر کرنا تھا۔ میں تمام ممکنات کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس عورت کے شوہر کی آواز ایک مرتبہ پھر آئی جو اپنی بیوی کو سمجھا رہا تھا کہ رونے سے کچھ نہیں ہوگا اور اسے اپنے شوہر پر بھروسہ کرتے اسے اعتماد میں لینا چاہیئے۔ وہ عورت بمشکل خود پر ضبط کرتے ہوئے بولی، اب کچھ نہیں ہوسکتا! مجھے جہنم میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پیر صاحب جب عمل کر رہے تھے تو میری ناپاک ٹانگیں ان کی داڑھی مبارک پر لگ گئیں! تو خود بتا اب مجھے جہنم میں جانے سے کون روک سکتا ہے؟ میں دم بخود ان کی گفتگو سن رہا تھا اور پھر میری آنکھوں نے ایک حیران کن منظر دیکھا۔ اس کے شوہر نے اس کا ہاتھ تھاما اور بولا، پیر صاحب بہت پہنچی ہوئی ہستی ہیں! چل کر مل کر ان سے بات کریں گے تو مجھے یقین ہے وہ تجھے معاف کردیں گے۔ چل آجا مرشد سائیں سے معافی مانگ کر آئیں۔
میں نے ایک مرتبہ پھر دوڑ لگادی۔ اس مرتبہ میرا رخ واپس اپنے حجرے کی طرف تھا جہاں میں باقی کی پوری زندگی اطمینان سے گزار سکتاہوں۔

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2014

نفسیاتی

"عجیب نفسیاتی عورت ہیں آپ۔ نجانے کون لوگ ہیں جو ممتا کے قصیدے اور مائوں کی بےپناہ محبت کے فسانے ہر وقت الاپتے رہتے ہیں۔ مجھے تو آپ سے کبھی بھی سوائے سرد مہری کے کچھ نہیں ملا۔ یا تو وہ تمام لوگ جھوٹے ہیں یا آپ میں ہی کچھ کھوٹ ہے۔ یا پھر میں آپ کا خون نہیں بلکہ لےپالک بیٹا ہوں جو کبھی بھی آپ کی الفت کا حق دار نہیں بن سکتا۔" میں آج پھر دن بھر کا غصہ امی پر چنگھاڑ کر نکال رہا تھا اور وہ روز ہی کی طرح خاموش لیٹی مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔


لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ سن اور بول نہیں سکتی تھیں؛ مگر مجھے یہ بات کسی بھی طرح ہضم نہیں ہوتی تھی۔ جس سفاکی کے ساتھ وہ میری باتوں پر مسکراتی تھیں، مجھے لگتا تھا کہ وہ سن  اور بول دونوں سکتی ہیں مگر صرف مجھے زچ کرنے کیلئے اس طرح خاموشی سے لیٹی رہتی ہیں۔


کبھی کبھی مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ ایک کھیل سمجھ کرکرتی ہیں۔  وہ چاہتی ہیں کہ میں غصہ کروں، چلائوں، اور آخر میں زچ ہوکر روپڑوں اور اس طرح وہ مجھے احساس دلائیں کہ میں اب بھی وہی چھوٹا سا بچہ ہوں جو بات بات پر ضبط کھو بیٹھتا تھا۔ جو ان کی زرا سی ناراضگی پر اس وقت تک رویا کرتا تھا جب تک وہ خود اسے اپنی ممتا کی آغوش میں نہ چھپا لیتیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں اتنا بڑا ہونے کے بعد بھی ان کے ساتھ  بچوں ہی کی طرح برتائو کروں۔ ان کے آگے پیچھے گھوموں۔ اپنی ہر ضرورت کو ان سے جوڑ کر رکھوں۔ ان کے گلے میں جھولتا رہوں۔ ان سے فرمائشیں کروں۔ ناز دکھائوں اور لاڈ اٹھوائوں۔ ان کو دیکھتے ہی پہلے جیسا بچہ بن جائوں۔ مگر امی کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہے۔ اب میں بچہ نہیں رہا ہوں! اب میں انتیس سال کا جوان ہوں۔


اور یہ چیزیں تو میں نے اس وقت بھی نہیں کی تھیں جب میں واقعتاّ بچہ تھا۔ یہ نہیں کہ مجھے ان سب چیزوں کا شوق نہیں تھا، بات صرف اتنی  تھی کہ امی بہت  سفاک عورت تھیں۔ ایک تو میرے بچپن میں ہی مرگئیں اور  دوسرا جاتے ہوئے میرا بچپن بھی اپنے ساتھ لے گئیں۔ اوراب،  پچھلے چھبیس سال کی طرح آج بھی میں ان کی قبر پر بیٹھا انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ان کی یہ خواہشات فضول ہیں اور چونکہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی وہ دنیا سے چلی گئی تھیں لہٰذا میں چاہ کر بھی ایسے انسان سے محبت نہیں کرسکتا جس کو میں نے اپنے مکمل عقل و ہوش کی حالت میں نہ دیکھا ہو یا جس کے ساتھ میں نے وقت نہ گزارا ہو۔ اور پچھلے چھبیس سال کی طرح آج بھی امی قبر میں لیٹی میری باتیں سن کر ایسے مسکرا رہی ہیں جیسے انہیں میری باتوں کا یقین ہی نہ ہو۔ عجیب نفسیاتی عورت ہیں۔

بدھ، 10 ستمبر، 2014

ہیجڑا

اس ہجوم میں پھنسے ہوئے مجھے اب بیس منٹ ہونے کو آرہے تھے مگرٹریفک تھا کہ ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آج دن ہی خراب تھا۔ میرے دفتر کے ساتھی عاطف صاحب جو خیر سے کروڑوں نہیں تو لاکھوں کے گھپلوں میں ملوث ہیں آج ترقی پاکر مجھ سے اوپر آگئے ہیں۔ ہم دونوں  ایک ہی ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں اور جب ان کی ترقی ہورہی تھی تو ادارے کے ڈائریکٹر نے مجھ سے بھی ان کے بارے میں رائے مانگی تھی کہ گھپلوں کی کچھ اڑتی اڑتی شکایات اس تک بھی پہنچی تھیں۔ میرا دل تو کیا کہ میں سارا کچا چٹھہ کھول کر رکھ دوں مگر پھر یہ سوچ کر چپ ہوگیا کہ اگر بات باہر نکلی تو بلاوجہ کی دشمنی ہوجائے گی اور کراچی جیسے شہر میں کسی کا کیا بھروسہ؟ ہوسکتا ہے کہ آپ کسی شخص کو معمولی سمجھتے ہوں اور اس کے تعلقات کسی برائے نام کالعدم تنظیم سے ہوں؟ یا پھر وہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہو جو کل کو آپ سے مخاصمت پال لے؟ میں نے ڈائریکٹر صاحب کو کہہ دیا کہ میں نے عاطف صاحب میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ عاطف صاحب نہ صرف اس انکوائری سے باعزت باہر آگئے بلکہ کمپنی نے مزید بزمدگی سے بچنے کیلئے زر تلافی کے طور پر ان کی ترقی وقت سے پہلے ہی کردی۔ آج ہی پتہ چلا ہے کہ اگلے مہینے کی یکم تاریخ سے اب وہ میرے بوس ہونگے۔
صبح صبح یہ خبر سن کر ویسے ہی دماغ کی بتی بجھ گئی تھی اوپر سے جھوٹے منہ عاطف صاحب کو مبارک باد اور ان کے ناکردہ کارناموں کی تعریف بھی کرنی پڑ گئی۔ جب تک لنچ کا ٹائم آتا تب تک میرا موڈ مکمل طور پر خراب ہوچکا تھا۔ لنچ کے دوران سلمان صاحب اور احمد بھائی کے درمیان کی وہی فرقہ وارانہ بحث دوبارہ شروع ہوگئی کہ دونوں میں سے کس کا مسلک زیادہ مظلوم ہے اور کس نے اب تک زیادہ نقصانات اٹھائے ہیں۔ ایک شام میں ہونے والے مظالم پر گریہ کناں تھا تو دوسرے کو بحرین کے مسلمانوں کا غم کھائے جارہا تھا۔ دل تو کیا کہ پوچھ لوں کہ آیا ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے آج فجر کی نماز پڑھی ہے؟ پھر مگر خیال آیا کہ یہ ان دونوں کی ذاتی بحث ہے اور ایسے مباحثوں میں پڑ کر سوائے نقصان کے کچھ نہیں ملنا۔ اگر غلطی سے بھی سلمان صاحب کے حق میں بول دیا تو احمد صاحب ناراض ہوجاتے اور اگر احمد صاحب کی کسی بات کی تائید کردیتا تو سلمان صاحب سے تعلقات منقطع کرنے پڑجاتے۔ بہتری جان کر میں خاموش ہورہا ورنہ دل تو یہ بھی کر رہا تھا ان دونوں کو قرآن کی وہ آیت یاد دلائوں جس میں مالکِ کائنات تمام غیر مسلموں کو یہ پیشکش کررہا ہے کہ آئو ہم تم (کم سے کم) ان باتوں پر متفق ہوجائیں جو ہم میں تم میں یکساں ہیں۔ ایک طرف دین غیر مسلموں سے مشترک چیزیں ڈھونڈ کر ایک جگہ اکٹھا ہونے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف دیندار ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ چیزیں جمع کرتے پھرتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ یہ ایک ہی مذہب کے دو مختلف مسالک نہیں بلکہ سراسر دو الگ ادیان ہیں۔ جتنی محنت ہم ایک دوسرے کو کافر ٹھہرانے میں کرتے ہیں اس کی آدھی محنت سے پوری دنیا مسلمان ہوسکتی تھی۔
بحث کے کثیف ماحول میں کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں کھایا گیا۔ واپس اپنی میز آگیا اور اس پریزنٹیشن پر کام کرنے لگا جو عاطف صاحب نے باس بننے کی پیشگی قسط کے طور پر میرے متھے مار دی تھی۔ تین گھنٹے کی عرق ریزی کے بعد جاکر وہ پریزنٹیشن تیار ہوہی گئی تھی کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ پاورجنریٹر کے زریعے بجلی بحال ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ میں فائل کو محفوظ کرنا بھول چکا ہوں اور کمپیوٹر مٰیں اب اس فائل کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے جس کے پیچھے میں نے اپنی پوری دوپہر کالی کی تھی۔ بال نوچتے ہوئے نئے سرے سے کام کرنا شروع کردیا اور پھر کام ختم کرنے کیلئے دفتر میں بھی دیر تک رکنا پڑا۔
دفتر سے گھر پہنچا تو شدید بھوک لگی تھی۔ کافی عرصے سے گھر والوں کو بھی کھانے پر کہیں باہر نہیں لیکر گیا تھا اور یہ خیال بھی تھا کہ شاید باہر جاکر سب کے ساتھ اس طرح بیٹھ کر کھانے سے پورے دن کی کلفت دور ہوجائے گی۔ میں بیوی بچوں کو لیکر کھانا کھانے آگیا۔ کھانا بہت شاندار تھا اور واقعی سارے دن کی کلفتیں مٹاگیا۔ واپسی میں البتہ یہ ٹریفک ایک مرتبہ پھر میرا منہ چڑا رہا تھا جس میں میں اب گزشتہ بیس منٹ سے پھنسا ہوا تھا اور اگلے بیس منٹ تک بھی اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں تھے۔
جب گاڑی میں بیٹھے بیٹھے تنگ آگیا تو میں نے اتر کر صورتحال خود دیکھنے کا فیصلہ کرلیا۔  گاڑیوں کی طویل قطار کو عبور کرتا ہوا میں لوگوں کے اس ہجوم میں پہنچ گیا جو گھیرا بنا کر  کھڑے ہوئے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ ہجوم کے گھیرے میں ایک وڈیرہ نما انسان شراب کے نشے میں مخمور ایک زنخے کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے اپنی بیش قیمت پجارو میں بٹھانے کی کوشش کررہا تھا جبکہ اس مریل سے زنخے نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر اسے کوسنے دے رہا تھا اور اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا تھا مگر اس وڈیرے پر اس کی چیخ و پکار کا کوئی اثر نہیں تھا۔ وہ اسے بالوں سے پکڑ کر گاڑی کی جانب گھسیٹتا اور جواب میں وہ زنخا اپنی پوری جان لگا کر زمین سے چمٹنے کی کوشش کرتا اور بالوں کی تکلیف سے بےنیاز گاڑی سے دور جانے کیلئے اپنا پور زور لگا دیتا۔
معاملہ ویسے تو بالکل واضح تھا مگر میں نے ہجوم میں شامل ہونے کی روایت نبھاتے ہوئے برابر میں کھڑے شخص سے معاملہ پوچھا تھا تو اس نے بتایا کہ یہ ملک کے ایک نامور جاگیردار  ہیں جو اس وقت رنگین پانی کے خمار میں رنگین ہوگئے ہین۔   اشارے پر اس زنخے نے ان کے آگے دست سوال دراز کیا تھا اور اس دست سوال کے جواب میں جاگیردار صاحب دست درازی پر اتر آئے ہیں۔ میں  نے معصوم بنتے ہوئے پوچھا کہ کوئی ان صاحب کو روکتا کیوں نہیں؟ کچھ بولتا کیوں نہیں؟ اس شخص نے غصے سے مجھے دیکھا اور بولا کہ اتنی محبت جاگ رہی ہے تو تم روک لو؟ تم بول دو؟ ہم کم سے کم دل سے تو برا جان رہے ہیں اس برائی کو، اور بھلے کمتر سہی مگر یہ بھی ایمان کا ایک درجہ ہے۔ مزید کچھ کہہ کر میں مزید بے عزت نہیں ہونا چاہتا تھا سو میں بھی خاموشی سے ہجوم کے بیچ کھڑا تماشہ دیکھنے لگا۔
جاگیردار اور زنخا دونوں ہی تھک چکے تھے مگر دونوں ہی ہار ماننے کو تیار نہیں تھے، زاویہ الگ تھا مگر بات اب دونوں کی عزت کی تھی سو کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ ان دونوں کی زور آزمائی جاری ہی تھی اچانک ہجوم میں ہلچل ہوئی اور ہجوم کو چیرتے ہوئے ایک اور زنخا اپنے ساتھی کی مدد کیلئے میدان میں کود پڑا۔ دو اور ایک کی لڑائی میں فتح دو کی ہی ہوئی اور نئے آنے والے زنخے نے نہ صرف اپنے ساتھی کو چھڑایا بلکہ اس جاگیردار کی بھی طبیعت صاف کردی۔ وہ جاگیردار اچھی خاصی مرمت کروانے کے بعد برے انجام کی دھمکی دیتا ہوا گاڑی میں سوار ہوکر بھاگ گیا۔
ہجوم چھٹنا شروع ہوا تو میں بھی بھاگ کر گاؑڑی میں سوار ہوگیا اور ہجوم کے مکمل چھٹنے کے بعد آہستہ آہستہ ٹریفک کے ساتھ چلنا شروع ہوگیا۔  جب گاڑی اس اشارے  پر پہنچی جہاں یہ سب فساد ہورہا تھا تو اشارہ ایک بار پھر سرخ ہوگیا۔ میں اشارہ کھلنے کا انتطار کر ہی رہا تھا کہ شیشے پر دستک ہوئی۔ میں نے نظر پھیر کر دیکھا تو باہر سے آنے والا دوسرا زنخا بھیک کا طلب گار تھا۔ میں نے خاموشی سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور بیس کا ایک نوٹ اسے نکال کر دے دیا۔ جب وہ جانے لگا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اسے ڈر نہیں لگتا؟ کل کو وہ جاگیردار اپنے گرگے لیکر آگیا تو؟ تمہارا تو یہ روز کا ٹھکانہ ہے، وہ کسی بھی دن موقع دیکھ کر بدلہ لے لے گا! اس زنخے نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور بولا، صاحب! ڈرنے کیلئے ایک اللہ کی ذات کافی ہے! ان جیسے کتوں کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر ڈرو گے تو اور بھونکے گا اور اگر پلٹ کر پتھر مارو گے تو دم دبا کر بھاگ جائے گا۔ روز ہی کسی جاگیردار اور غنڈے سے نمٹتے ہیں، اب کیا ان سے ڈر کر روز مرتے رہیں؟ ایک دفعہ کی تکلیف روز روز کے عذاب سے بہتر ہوتی ہے۔
اشارہ کھل گیا اور وہ زنخا بھی واپس فٹ پاتھ پر جاکر دوبارہ اشارہ بند ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ میں شاید ساری عمر ہی وہاں دم بخود کھڑا رہ جاتا مگر پیچھے سے آنے والے ہارن کے مسلسل شور سے میں چونک گیا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ گاڑی آگے بڑھی تو پیچھے والی سیٹ سے میرا نو سال کا بیٹا اپنی معلومات کا رعب جھاڑنے کیلئے سوالیہ انداز میں بولا، بابا یہ ہیجڑا تھا نا؟ میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سچ بولنے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے جواب دیا، بیٹا یہ ہیجڑا نہیں تھا، یہی تو واحد مرد تھا!! ہیجڑے تو ہم ہیں!!!

ہفتہ، 30 اگست، 2014

زبان دراز کی ڈائری - 13

پیاری ڈائری!

اب تم تو مجھ سے ناراض ہوکر نہ بیٹھو! میں نے کہا تھا نا کہ فارغ ہوتے ہی پوری رام کتھا سنائوں گی سو لو میں حاضر ۔۔۔ پہلے کہانی سن لو پھر اس کے بعد بھی روٹھنا چاہو تو میں شکوہ نہیں کروں گی۔ تم تو خیر نئی ہو اس لیئے شروع سے ہی کہانی بیان کردیتی ہوں تاکہ تمہیں سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہ تو تم جانتی ہو کہ جوائنٹ فیملی کے گھر میں رہتی ہوں جہاں کمائی ایک ہے اور کھانے والے پیٹ ہزار۔ وہی لگے بندھے وسائل اور وہی ان وسائل پر اختیار کی گھریلو رنجشیں۔ شروع میں یہ نظام طے ہوگیا تھا کہ ہر کچھ عرصے بعد گھر کا انتظام ایک شخص کے ہاتھ سے لیکر دوسرے کے ہاتھ میں دے دیا جاتا تھا کہ اس طرح جوابدہی اور زمہ داری کا احساس سب لوگوں میں قائم رہے۔ میں تو چھوٹی تھی سو جتنے پیسے چاہیئے ہوتے تھے لے لیتی تھی۔ نہ جوابدہی کا خوف تھا نہ کسی اور چیز کا ڈر۔ گھر کے سب لوگ مجھ سے اتنا پیار جو کرتے تھے۔ ایک دفعہ غلطی سے گھر کا انتظام میں نے لینے کی خواہش ظاہر کردی۔ گھر والوں کی چہیتی تو تھی ہی لہٰذا کسی نے اعتراض بھی نہیں کیا۔ سارے وسائل میرے قبضے میں آئے۔ بہت سے گھر پہ لگائے باقی یاروں میں اڑائے۔ شروع میں تو کسی نے کچھ نہیں کہا مگر کچھ عرصے بعد گھر میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں اور گھر کا انتظام مجھ سے واپس لے لیا گیا۔ سارے وسائل کا اختیار میں ہونا اتنا لطف انگیز نہیں تھا جتنا ان اختیارات کا چلے جانا تکلیف دہ ثابت ہوا۔ خیر میں نے بھی اس وقت تو برداشت کیا مگر موقع ملتے ہی گھر کا کنٹرول ایک بار پھر سنبھال لیا۔

وقت کا پہیہ چلتا رہا اور اختیار و بے اختیاری کا کھیل بھی جاری رہا۔ کچھ دنوں پہلے مگر جب آخری مرتبہ اختیار میرے ہاتھ سے گیا تو میرے دونوں چچا زاد بھائیوں نے دادا ابو سے کہہ کر یہ تحریری معاہدہ کروا لیا کہ اب اگلے پندرہ ماہ تک میں گھر کے امور میں مداخلت نہیں کروں گی اور خاموشی سے اپنی ضرورت کی چیزیں ان چچا زاد بھائیوں اور دادا ابو سے لیتی رہوں گی۔ اس وقت تو مجبوری تھی کہ سامنے دادا ابو تھے اور گھر کے بیشتر وسائل ان ہی کی مرہون منت تھے۔ میں ان سے اختلاف کی جسارت نہیں کرسکتی تھی۔ مرتی کیا نہ کرتی میں نے بھی معاہدے پر ستخط کردیئے۔

پہلے پانچ ماہ تو جیسے تیسے کرکے کاٹ دیئے مگر اختیار اور طاقت کا نشہ تو افیم سے بھی زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ کچھ نشہ بھی ٹوٹنے لگا تھا اور کچھ اس بات کا بھی غصہ تھا اب ان دونوں چچا زاد بھائیوں میں سے اختیار اس بھائی کے ہاتھ میں آگیا تھا جس کی مجھے کبھی بھی شکل پسند نہیں آئی تھی۔ مجھے بچپن سے یہ بات سکھا دی گئی تھی کہ اس گھر کی سب سے حسین فرد میں ہوں سو اس اعتبار سے انا و غرور بھی صرف مجھ پر ہی جچتا تھا۔ یہ چچازاد بھائی اس بات کو سمجھنے کو تیار نہیں تھا۔ ایک تو عجیب موٹا اور گنجا سا انسان اور اوپر سے انا ایسی جیسے گھر کا اصل چہیتا وہی ہو۔ خیر میں پھر بھی اسے برداشت کرلیتی اگر اس نے آتے ہی اپنی اوقات نہ دکھا دی ہوتی۔ سب سے پہلے تو اس نے کھلے کمینے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوس والی رشیدہ کی شادی میں شرکت کا فیصلہ کرلیا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ رشیدہ سے مجھے کتنی چڑ ہے۔ میں پھر بھی برداشت کرگئی۔ میری اس برداشت کو کمزوری سمجھتے ہوئے اس گنجے نے دوسرا کام یہ کیا کہ میرے لیئے کام کرنے والی کریمن کو نوکری سے نکالنے اور پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کیا ہوا اگر گھر کے سودے میں سے چار پیسے رکھ لیتی تھی غریب؟ گویا خود تو اس نے کبھی چوری کی ہی نہیں؟ اور جب وہ جانتا تھا کہ کریمن میری خاص ہے اور اس کی تمام حرکات میرے علم میں بھی ہیں تو جب میں نے اسے پولیس کے حوالے نہیں کیا تو یہ کون ہوتا تھا یہ فیصلہ کرنے والا؟

کریمن والے واقعے کے بعد سے میری بس ہوگئی تھی اور میں اب مناسب موقع کے انتظار میں تھی۔ اس گنجے چچا زاد کی واحد اچھی چیز یہ تھی کہ یہ مجھے کبھی مایوس نہیں کرتا تھا۔ جب جب میں نے اس سے کسی حماقت کی امید کی، اس نے الحمدللہ میری امیدوں کی لاج رکھی۔ ہوا یوں کہ گھر میں دیمک لگ گئی جو سارے دروازوں کھڑکیوں کو مسلسل چاٹنے لگی۔ گھر میں سب لوگ اسے کہتے رہے کہ مجھ سے کہہ کر یہ دیمک مار دوائی ڈلوا دو کہ گھر کی صفائی میرے ذمے تھی۔ گنجے نے مگر ایک نہ سنی۔ ایک دن تنگ آکر میں نے خود اسپرے اٹھایا اور صفائی میں لگ گئی۔ تب یہ صاحب بھاگتے ہوئے اور سب گھر والوں کو جمع کرکے بتانے لگے کہ کس طرح ان کے کہنے پر میں یہ صفائی کرنے لگی ہوں۔ میں دل ہی دل میں مسکرارہی تھی کیوںکہ گھر میں اب کوئی بچہ نہیں رہا تھا جسے معلوم نہ ہو کہ کون سا کام کس کے کہنے پر اور کون کر رہا ہے۔ میری منزل اب آسان تھی۔ گھر والوں کی نظر میں میری عزت اب بحال ہوگئی تھی۔ اب صرف آخری وار کرنا باقی تھا۔

میں نے اپنے تایا کے دونوں بیٹوں کو بلایا اور ان کو یقین دلوا دیا کہ اگر وہ چاہیں تو میں گھر کے وسائل اور زمام اختیار ان کے حوالے کروا سکتی ہوں۔ وہ دونوں بیچارے سیدھے سادھے فوراّ میری مدد کرنے پر رضامند ہوگئے۔ اب گھر کے اندر روزانہ ایک فصیحتہ کھڑا ہونے لگا۔ دونوں تایازاد کچن کے دروازے پر بیٹھ گئے کہ نہ خود کھائیں گے اور نہ کسی کو کھانے دیں گے۔  ایک عجیب افراتفری کا عالم ہوگیا تھا۔ گھر کے سارے افراد پریشان تھے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہوگا؟ بات اب گھر سے نکل کر محلے بھر میں پھیل چکی تھی اور گھر والے مسلسل بدنام ہورہے تھے۔ میں نے سوچا تھا کہ گنجا اس طرح دبائو کا شکار ہوکر میرے پاس آئے گا اور پھر میں اپنی مرضی کی شرائط پر مک مکا کروالوں گی۔ گنجا مگر اس مرتبہ ہوشیار نکلا۔ اسے معلوم تھا کہ دادا ابو کے ہوتے ہوئے اور اس تحریری معاہدے کے بعد میں چاہ کر بھی بذات خود ایک فریق نہیں بن سکتی تھی، اس نے دونوں تایا زاد بھائیوں کو ہر لحاظ سے زچ کرنا شروع کردیا۔ تایا زاد بھائی روزانہ رات کو میرے کاندھے پر سر رکھ کر روتے مگر میں ان کو تسلی دلوا کر واپس بھیج دیتی۔ ان بیچاروں کو اب یہ فکر لگ گئی تھی کہ اب اگر اپنا مطالبہ منوائے بغیر اٹھ گئے تو گھر کا انتظام کبھی بھی نہیں سنبھال پائیں گے اور جگ ہنسائی الگ۔ میری الگ مجبوری کہ میں بذات خود فریق نہیں بن سکتی تھی کہ دادا ابو کو پتہ چلتا تو بہت مار پڑنی تھی اور خرچہ پانی الگ بند ہوجاتا۔

اس ہی کشمکش میں پندرہ بیس دن ہوگئے تھے اور سب کے اعصاب جواب دے رہے تھے۔ میں نے چچازاد گنجے کو کہا کہ اگر وہ چاہے تو میں ان دونوں تایازاد سے بات کرکے معاملہ رفع دفع کروائوں؟ اس نے بخوشی ہامی بھر لی۔ تایازاد جو اپنی چھوٹی سی انا کی وجہ سے اب چچازاد سے براہ راست مل نہیں سکتے تھے اور کسی باعزت واپسی کا ویسے ہی راستہ ڈھونڈ رہے تھے، ان کو جیسے ہی پتہ چلا کہ چچازاد نے معاملات سنبھالنے کا اختیار مجھے سونپ دیا ہے وہ ناچتے گاتے فورا میرے کمرے میں آپہنچے۔ معافی تلافی ہوئی اور اگلی بار بہتر تیاری کے ساتھ آنے کے عزم مصمم کے ساتھ وہ لوگ باہر نکلے تو گھر  کے تمام لوگ بشمول ان کے اپنے بچے ان پر تھو تھو کر رہے تھے کہ اب سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس سارے ہنگامے میں کہیں نہ کہیں میرا بھی ہاتھ تھا۔ اب کوئی میرے اوپر تو انگلی اٹھا نہیں سکتا تھا  لہٰذا ساری لعنت ملامت ان دونوں غریب تایازاد پر آگئی۔ جلے پر نمک اس وقت پڑا جب گنجے چچازاد نے بھی گھر بھر کو جمع کرکے ان دونوں تایازاد کو خوب لتاڑا کہ کس طرح وہ میری مدد لیکر اس سے اختیارات چھیننا چاہ رہے تھے۔ جذبات کی رو میں وہ یہ بھی کہہ گیا کہ کسی کو اگر شک ہے تو مجھ سے تصدیق کرلے۔

بیچارے گنجے کو جوش میں ہوش نہیں کھونا چاہیئے تھا۔ اب چونکہ ساری توپوں کا رخ میری طرف تھا۔ اور یہ ویسے بھی واضح تھا کہ اس ڈرامے کا انجام چچازاد کے جانے پر نہیں بلکہ کچھ اختیارات میرے پاس آجانے پر ہی ہونا ہے سو میرے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا۔ ہم تو ڈوبے ہین صنم کا ورد کرتے ہوئے میں نے گھر والوں کو جمع کیا اور سب گھر والوں کو یقین دلا دیا کہ اصل سازش چچازاد گنجے کی رچائی ہوئی ہے اور اس ہی کے کہنے پر میں تایازاد سے ملی تھی ورنہ میں تو ان لوگوں کے نام تک نہیں جانتی تھی۔ اور ویسے بھی، ان لوگوں سے میرا کیا لینا دینا؟؟

خیر سے میری پوزیشن اب گھر میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اگر گنجے کو ہٹا کر گھر کا انتظام بھی سنبھال لوں تو بھی اب کسی کو اعتراض نہیں ہوگا مگر الحال میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کیوںکہ پیچھے بیٹھ کر حکم چلانا سامنے آکر گالی کھانے سے زیادہ آسان اور مزیدار کام ہے۔ باقی رہے تایازاد، تو جب وہ ایک چچازاد کے نہیں ہوسکتے تو دوسری چچازاد کے کیسے ہونگے؟ میں بھی موقع دیکھ کر ان پر لعنت بھیج دوں گی۔ اب خود بتائو؟ اتنا کچھ چل رہا ہو گھر میں تو ڈائری خاک لکھتی؟

تمہاری

آب-پاری

 

بلاگ فالوورز

آمدورفت