جمعہ، 7 ستمبر، 2018
زبان دراز کی ڈائری - 3
اتوار، 23 اپریل، 2017
زبان دراز کی ڈائری - 8
زندگی میں کبھی یاوہ گوئی کی عادت نہیں رہی اور اب افسوس ہورہا ہے کہ کاش صحیح وقت پر کچھ مناسب گالیاں سیکھ لی ہوتیں تو اس شاعرِ جنوب کو ایک جوابی خط لکھ ڈالتا۔ مگر خیر جو ہوا سو ہوا۔
کل پاکستان سے کسی عاطف صاحب کا محبت نامہ ملا جس میں انہوں نے ملک کے حالات پر معافی مانگنے سے یکسر انکار کردیا تھا اور مُصِر تھے کے صرف شرمندگی سے ہی کام چلایا جائے۔ یقین ہوگیا کہ خط واقعی پاکستان سے ہی آیا ہے کیوںکہ اتنی گھٹیا اردو دنیا کے کسی اور کونے میں نہیں بولی جاتی۔
خط پڑھ کر بہرحال حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی؛ خوشی اس بات کی کہ آج بھی چند لوگ ہیں جو پر امید ہیں اور حیرت اس بات پر کہ پاکستان میں اب بھی لوگوں کو اردو لکھنی یاد ہے؟ یہاں تو اب جتنے بھی پاکستانی آتے ہیں وہ سب تو رومن میں لکھتے ہیں۔ زبان ہی کے تذکرے پر پرسوں علامہ صاحب فرما رہے تھے کہ اردو کی بقا کی واحد صورت یہ ہے کہ امریکہ اسے قومی زبان کے طور پر قبول کرلے۔ خیر علامہ کے فلسفے تو علامہ ہی جانیں۔ مجھے بہرحال خط پڑھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ میں نے پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ لیاقت علی خان نے سمجھایا تو انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ آج کل پاکستانی لیڈران کا سال میں ایک آدھ مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنا فیشن میں ہے۔ خیر جناب، اللہ میاں سے اجازت لی اور ٹہلتے ٹہلتے رات کے کسی پہر کراچی پہنچ گیا۔
مزار سے باہر نکلا تو موٹرسائیکل پر سوار چند لڑکے نما مخلوق زناٹے سے برابر سے گزری۔ اگر سن اڑتالیس میں وقت پر ایمبولینس آگئی ہوتی تو اس بغیر سائلینسر کی موٹر سائکل ریلی کی آوازوں سے سن دو ہزار چودہ میں ضرور کام ہوجاتا۔ دیر تک وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر حواس بحال کرتا رہا۔ ابھی بیٹھے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ایک موٹرسائکل برابر میں آکر رکی اور اس پر سوار دو لڑکوں میں سے ایک نے بندوق نکال کر موبائل مانگ لیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ اول تو میرے پاس موبائل نہیں ہے کہ جنت میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی اور دوسرا یہ کہ موبائل مانگنے کیلئے بندوق نکالنے کی کیا ضرورت؟ اگر آپ نے کسی کو کال ہی کرنی ہے تو مانگنے کے اور بھی عزت دار طریقے ہیں۔۔۔ حد ہوتی ہے!! نوجوان حیرت سے میری شکل دیکھ رہا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، اس کے پیچھے والے لڑکے نے اس کو کہنی مار کر کہا کہ "بڈھا خبطی ہے اور مجھے اس کی شکل جانی پہچانی لگ رہی ہے۔ خوامخواہ جان پہچان نکل گئی تو مسئلہ ہوگا، ٹائم کھوٹا نہ کر اور نکل"۔ پہلے والے نے جلدی سے موٹرسائکل کا گیئر ڈالا اور موٹرسائکل اڑا دی۔ عجیب نامعقول سے لڑکے تھے۔ اگر رک کر میری بات سن لیتے تو کیا پتہ ان ہی سے لفٹ مانگ کر آگے چلا جاتا۔
ان لڑکوں سے فارغ ہوا ہی تھا کہ ایک خاتون آکر گلے پڑ گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ میں کسی شاہ رخ خان سے ملتا ہوں اور اگر میں چاہوں تو یہیں "بابے کے مزار " کے ساتھ والے کمرے میں ان کے ساتھ جاسکتا ہوں۔ میں نے پہلے تو انہیں سمجھایا کہ یہ صرف پسینے کی وجہ سے میرا چہرا چمک رہا ہے اور ان کے خیال کے برعکس میں ویسا چکنا نہیں ہوں جیسا انہوں نے مجھے پکارا۔ دوسری بات یہ کہ میں اس ہی بابے کے مزار سے نکل کر آرہا ہوں اور یہیں ہوتا ہوں۔ وہ بیچاری پتہ نہیں کیا سمجھی اور کھسیانی ہو کر مجھے چند روپیے دینے کی کوشش کرنے لگی۔ میری تو خود یہ معاجرہ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر میں نے پھر بھی اسے سمجھایا کہ میں اس سے پیسے نہیں لے سکتا۔ وہ یہ کہتی ہوئی تیزی سے ایک طرف چلی گئی کہ بابو پتہ نہیں تھا آپ مینجمنٹ والے ہو آئندہ احتیاط کروں گی۔
ان ہی جھمیلوں میں اب رات کے بارہ بجنے والے تھے اور مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس شہر کو ہوکیا گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک مسلسل عجیب کردار ٹکرا رہے تھے۔ سر جھٹک کر میں نے توجہ مزار پر ڈالی تو میرا مزار برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا۔ تیرہ اگست کی رات تھی اور اب چودہ اگست شروع ہونے ہی والی تھی۔ میں خوشی سے اپنے مزار کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک فائرنگ کی بھیانک آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ مجھے لگا کہ شاید ہندوستان نے حملہ کردیا ہے، میں گاندھی کو کوستا ہوا واپس مزار کے اندر بھاگا تو اس مرتبہ گیٹ پر موجود گارڈ نے روک لیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ باہر اس طرح حملہ ہوگیا ہے اور اب اسے بھی مورچہ بند ہوجانا چاہیے تو اس مریض نے ایک طرف منہ میں بھرے خون کی کلی کری اور قمیض کے دامن سے منہ پونچھتے ہوئے بولا کہ چاچا پہلی بار چودہ اگست دیکھ رہے ہوکیا؟ میں نے اس سے کہا کہ میں جشن آزادی اور چودہ اگست کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوں مگر یہ حیوانوں کی طرح برتائو اور اس طرح اندھادھند فائرنگ سے کونسا جشن اور کون سی ملک کی خدمت کی جارہی ہے؟ جواب میں اس نے وہی خون آلود ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور بولا، چاچا، چودہ اگست کو صرف یہ ملک آزاد نہیں ہوا تھا۔ یہ سب درندے بھی آزاد ہوگئے تھے۔ اب جس درندے کے منہ میں اس ملک کے جسم کی جتنی بڑی بوٹی آتی ہے وہ اتنا ہی بڑا لقمہ نوچ لیتا ہے۔ میں نے پوچھا، کہ کوئی ان درندوں کو روکتا کیوں نہیں؟ اس نے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور ایک عجیب سا کتھئی رنگ کا مواد منہ میں رکھتے ہوئے بولا، چاچا، یہ ایک فلمی دنیا ہے۔ یہاں ہیرو ہیروئن بچانے کیلئے غنڈوں کو صرف اس لیئے روکتا ہے تاکہ پکچر کے اختتام پر وہی عزت وہ خود لوٹ سکے۔
اس ساری گفتگو کے دوران میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھ میں آنسو آگئے تھے۔ میں نے موضوع تبدیل کرنے کیلئے اس سے پوچھ لیا کہ یہاں تو قائد اعظم دفن ہیں تو یہاں اتنی بندوقوں کے ساتھ پہرے داری کرنے کی کیا ضرورت؟ وہ میرے قریب آیا اور میرے کان میں تقریباٗ پچکاری مارتے ہوئے بولا، چاچا، اگر یہ قائد غلطی سے بھی دوبارہ زندہ ہوگیا تو ملک کے حالات دیکھ کر انگریزوں کو ملک واپس کردے گا اور ساتھ میں معافی بھی مانگے گا۔ ہم بندوق لیکر اس ہی لیئے کھڑے ہیں کہ قائد نکل کر بھاگ نہ جائیں۔ ملک کی عزت کا سوال ہے، بڑی بدنامی ہوجائے گی۔
مجھے اب اس نامعقول انسان پر شدید غصہ آرہا تھا۔ میں نے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے اس کو جذباتی مار مارنے کی کوشش کی۔ میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس لوٹ مار اور درندگی کے کھیل کے خلاف تمہارے اندر کس قسم کے جذبات ہیں۔ سچ سچ بتانا، تم اس ملک کو لوٹنے والوں کے ذکر پر آبدیدہ کیوں ہوگئے تھے۔ اس کمینے سپاہی نے روہانسی آواز میں جواب دیا، روئوں نہیں تو کیا کروں؟ سب کھا رہے ہیں، ایک ہمیں ہی موقع نہیں مل رہا بس!!
میں اس مردود لمحے کو کوس ہی رہا تھا جب میں نے نیچے آنے کا فیصلہ کیا تھا کہ اچانک محل میں زلزلہ آگیا۔ اب جو دیکھا تو خود کو اپنے ہی محل میں بستر پر پایا۔ خوشی سے سجدہ شکر بجا لایا کہ یہ سب صرف خواب تھا۔ حوروں نے آکر بتایا کہ زلزلے کی وجہ کوئی جون ایلیاء نامی صاحب تھے جو دروازے پر لاتیں اور گھونسے برساتے ہوئے پوچھ رہے تھے کہ وہ علی گڑھ کا لونڈا یہیں رہتا ہے؟؟؟
جون صاحب کی ملاقات کا احوال پھر کبھی، فی الحال اجازت دو۔ کراچی سے جاتے جاتے ایک لفظ سیکھ کر آگیا ہوں، آئندہ کبھی کسی شاعر کا خط آیا تو میں بھی جواب میں لکھ بھیجوں گا ۔۔۔۔۔ کدو!!!
محمد علی
بدھ، 10 ستمبر، 2014
ہیجڑا
جمعرات، 19 جون، 2014
زبان دراز کی ڈائری – 6
یہ دن بھی دیکھنے تھے کہ کرنے کو کچھ نہیں ہے سو مجبوراٗ ڈائری لکھنی پڑ رہی ہے۔
پیاری ڈائری! قصہ کچھ یوں ہے کہ پرسوں سے محلے میں میڈیا کا پہرہ ہے اور ہم اس بڑھی ہوئی داڑھی کے ساتھ ان کے سامنے جا نہیں سکتے کہ پھسٹ امپریسن لاسٹ امپریسن والی بات ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ یہ مجمع ٹلے تو ہم بھی باہر نکلیں اور ہوا کھائیں۔ سنا ہے کہ یہ سب ہمارے پڑوس میں رہنے والے گلو بھائی کے سلسلے میں یہاں جمع ہیں۔
گلو بھائی بھی خوب انسان ہیں ویسے۔ وزیر بننا ان کا بچپن کا خواب ہے۔ کہتے ہیں کہ جب گلو بھائی پیدا ہوئے تو ان کی ماں مر گئی، تس پر ان کے باپ جو ایک پہنچے ہوئے نائی تھے، نے پیش گوئی کی کہ چونکہ یہ پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو کھا گیا ہے سو یہ انشاءاللہ بڑا ہوکر کم سے کم وزیر بنے گا۔ لوگوں نے پوچھا کہ ماں کو مارنے سے وزیر بننے کا کیا تعلق تو اس پہنچی ہوئی ہستی نے وضاحت کی کہ جس ملک میں امیر بیوی کو مارکر صدر بنا جا سکتا ہو وہاں غریب ماں کو مار کر کم سے کم وزیر بننا تو انکے بیٹے کا حق ہے۔ خیر بڑے میاں کی خرافات تو بڑے میاں جانیں، ویسے بھی ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہٰں والا لطیفہ ہم سب نے سن ہی رکھا ہے۔
گلو میاں کے بارے میں اس سے بہتر کیا بیان کروں کہ ڈائری میری، قلم میرا اور گلو میاں مفت میں در آئے۔ ویسے ہی جیسے دفتر کسی کا، بیریئر کسی کے، پولیس کسی کی، آرڈر کسی کا، مگر گلو بھائی کہ جن کو نہ پولیس، نہ لیگ، نہ پارٹی، کوئی بھی اپنانے کو تیار نہیں مگر یہ ہیں کہ پوری کاروائی میں سب سے آگے آگے ہیں۔ اُن کے اِن ہی اوصافِ جمیلہ کی بنیاد پر محلے میں سب گلو بھائی سے بنا کر رکھتے ہیں کہ جس قسم کے خبطی یہ ہیں، کچھ بعید نہیں کہ آگے چل کر صوبے کے وزیرِ قانون لگ جائیں۔ برا وقت ویسے بھی کونسا بتا کر آتا ہے، اور غریبوں کے معاملے میں تو ایک دفعہ آجائے تو ہمیشہ کیلئے بس جاتا ہے۔ سو گلو بھائی بچپن سے ہی محلے کے سیاستدان تھے۔ ٹین ڈبے کی دکان سے انہوں نے کام شروع کیا اور ٹین ڈبوں کی چوری سے ٹرین کے ڈبوں کی چوری تک کا سفر بڑی کامیابی کے ساتھ طے کرتے چلے گئے۔ پیاری ڈائری تم جانتی ہو کہ میں یہ رائیونڈ والے گلو کی نہیں، اپنے محلے کے گلو کی بات کر رہا ہوں!! وقت کے ساتھ ساتھ گلو بھائی نے سیکھ لیا تھا کہ اس شخص سے بڑا احمق کوئی نہیں جس کے پاس کھانے کیلئے پورا ملک پڑا ہو اور وہ لوہے کے کارخانے ہڑپنے میں وقت ضائع کرتا رہے۔ سو گلو بھائی اب سارے فالتو کام دھندے چھوڑ کر ملک اور جیب سنوارنے کے اس ہی کارخیر میں مصروف تھے کہ پرسوں حکم ملا کہ ماڈل ٹائون میں جاکر کچھ سکریپ کی گاڑیاں توڑ دو۔ گلو بھائی نے مرشد کے حکم پر جاکر گاڑیاں توڑ دیں اور جیسے کے صوبے کی روایت ہے، کام ریکارڈ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچادیا۔ تس کے بعد آپ نے گرم موسم میں ٹھنڈی کوک لی، خود بھی پی، پولیسیوں کو بھی پلائی اور ناچتے گاتے گھر آگئے۔ شام گئے بڑی سرکار کا فون آیا کہ گرفتاری پیش کردی جائے سو گلو بھائی نے خیر سے گرفتاری بھی پیش کردی اور عدالت میں پیشی کے موقع پر پٹ بھی آئے۔ تب سے اب تک یہ میڈیا یہاں موجود ہے اور گلی میں موجود کھمبے کو مسلسل پیٹے جارہا ہے اور خدا معلوم کب تک پیٹتا رہے گا۔
میری پیاری ڈائری! یہ سب باتیں تمہیں سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اب خیر منائو۔ جس ملک کا میڈیا اور تمام افراد 11 انسانوں کے قاتل کو بھول کر 4 گاڑیوں کو شہید کرنے والے پر پچھلے دو دن سے کوریج دے رہے ہوں وہاں کا اللہ ہی حافظ ہے۔
تمہارا خیر خواہ
زبان دراز
19- جون - 2014
آج کا شعر:
بستی جلی ، خبر ہوئی شائع کچھ اس طرح
آتش زنوں کے تیل کا نقصان ہوگیا
پیر، 9 دسمبر، 2013
بَل قاٰعدہ
چونکہ اس، اور آنے والے ہر بلاگ کی زبان اردو ہو گی اس لیئے احتیاطا٘ اردو کا جدید اور ذاتی مرتب کردہ قاعدہ اس بلاگ میں حاظر ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے "زبانِ بلاگِ یار اردو، کہ من اردو نمی دانم"۔ محظوظ ہوئیے ۔۔۔
بَل قاٰعدہ
الف:
پرانے زمانے میں اس سے انار آتا تھا مگر آج کل سب کچھ پیسوں سے آتا ہے.
حاصل گفتگو: اب الف سے کچھ نہیں آتا
ب:
کسی زمانے میں بلّا ہوتا تھا مگر اب یہ بلّا ایک سیاسی جماعت لے گئی-
اب ب سے بَلائیں آتی ہیں
پ:
پ سے جو پتنگ آتی ہے اس کے بارے میں گفتگو کرنا حرام ہے... باقی آپ سمجھدار ہیں!
وضاحت: پ سے پیسے بھی آتے تھے جو اب صرف کرپشن سے آتے ہیں
ت
ت سے تتلی آتی ہے جو بڑی ہو کر پھلجھڑی بنتی ہے اور مزید بڑی ہو کر شادی کر لیتی ہے
وضاحت: تاڑو ت سے نہیں بد قسمتی سے آتے ہیں
ٹ
... ٹ سے جو ٹماٹر آتے تھے وہ اب دو سو روپے سے بھی نہیں آتے
وضاحت: ٹکلا ٹ سے نہیں آپ کے ووٹ سے آتا ہے سو اب بھگتیں
ث:
ث سے آنے والی چیزوں میں سب سے قابل ذکر ثنا ہے- ماشاءاللہ
وضاحت: ث سے جو ثمر آتا ہے اس کا مطلب گرمی نہیں پھل ہوتا ہے
ج:
چے کے چھوٹے بھائی کو ج کہتے ہیں!!!
مثال: جہالت، جمہوریت، جیو، جنگ وغیرہ وغیرہ
چ
اردو زبان کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ چ ہے - شرفاء میں اسے احمق بھی کہا جاتا ہے.
وضاحت: جو آپ سمجھے اصل مطلب وہی ہے
ح
ح سے پہلے حیرت ہوتی تھی- آج کل یہ حیرت لوگوں کو دیکھ کر ہوتی ہے.
ح الفاظ: حوالدار ، حکمران ، حرامی
خ
خ سے پہلے خلوص آتا تھا.. آج کل خونی رشتوں سے بھی نہیں آتا.
وضاحت: مصنف بلاوجہ جذباتی ہو رہا ہے آپ خربوزہ کھائیں
د
... دال سے صرف گیس آتی ہے باقی باتیں آپ کی عزت رکھنے کیلئے مشہور ہیں
ذ
ذ سے اب اردو دانوں کے لیئے صرف ذلت ہی آتی ہے-
شکریہ
ر
ر سے تو آج کل صرف رونا ہی آتا ہے
وضاحت: ریٹویٹ ر سے نہیں بیہودگی اور گالیوں سے آتی ہے
ز
پہلے زن ز سے آتی تھی آج کل ٹویٹر پر خود محنت کرنی پڑتی ہے!
سوال: سنا ہے ز سے آنے والے زر کیلئے بھی اب انتخاب لڑنا پڑتا ہے؟
س
پہلے س سے سی این جی آتی تھی اب دو گھنٹے کی ذلت کے بعد بھی نہیں آتی
س سے شروع ہونے والے جملے: س آن ہے بھائی وغیرہ وغیرہ
ش
ش سے پہلے نیک شہید آتے تھے مگر ملّا کے فضل سے آج کل کتے "ہی" شہید ہو رہے ہیں-
سنجیدہ نکتہ: شرم و حیا ش سے نہیں اچھی تربیت سے آتی ہے
ص
ص سے صراحی آتی تھی جو دو نسلوں پہلے متروک ہو چکی ہے - آج کل اس نام کا ایک بناسپتی آتا ہے بس..
ص سے شروع ہونے والے جملے: ص آگیا بادشاہو
ط
بچپن میں اس سے طوطا آتا تھا مگر آفتاب اقبال کے خبرناک کے بعد اب وہ بھی ت سے آتا ہے-
وضاحت: طاہرالقادری ط سے نہیں جی ایچ کیو سے آتا ہے
ظ
ظ سےپہلےظروف(برتن) لائےجاتےتھے آج کل اس کام کیلئےنکاح کر لیا جاتا ہے جس سے کھانا پکانے والی بھی مل جاتی ہے-
ظرف ظ سےنہیں کردار سےآتا ہے
ع
آج کل ع سےصرف ایک سابقہ کرکٹرکانام آتا ہےجبکہ عورت ع سےنہیں اپنی مرضی سے آتی ہے!
نوٹ: آپ جب اس بلاگ کا تذکرہ احباب سے کریں گے تو شیطان آپ کو روکے گا!!!
غ
کسی زمانے میں غ سے غیرت آتی تھی مگر اب کسی بات پر نہیں آتی-
وضاحت: آپ کے اساتذہ سدا کے جھوٹے تھے، آپ بخوبی واقف ہیں غبارہ پیسوں سے آتا ہے
ف
ف سے سرکاری فوارہ ہوتا ہے جس کی برکت سے ٹھیکیدار کا پورا گھر بن جاتا ہے
وضاحت: فالوور ف سے نہیں گندی ٹویٹس اور لڑکی کی تصویر سے آتے ہیں
ق
ق سے پہلے قائد اعظم آتے تھے مگر زیارت میں گھر تباہ ہونے کے بعد انہوں نے بھی آنا چھوڑ دیا!!!
سنجیدہ نکتہ: قائد اب واقعی نہیں آتے
ک
ک سے پہلےکتاب آتی تھی اب کیسےبھی نہیں آتی. ملک کے بیشتر حصوں میں قائد اب ک سےآتےہیں.
وضاحت: کافر ک سے نہیں مولویوں کے فتووں سے ہوتے ہیں-
گ
بچپن میں گ سے گائوں ہوتا تھا آج کل حقارت سے ہوتا ہے
تشریح: کچے مکانوں اور پکے رشتوں سے بنی چھوٹی سی بستی کو اکثر گائوں کہتے ہیں
ل
ل سے اور مسلسل آنے والی سب سے مشہور چیز لوڈ شیڈنگ ہے.
[وضاحت: یہ واحد لفظ ہے جو کسی مسلم لیگی دھڑے سے نہ جڑا ہو [ن ج ق ض وغیرہ وغیرہ
م
مرغا اور ملک دونوں م سے آتے ہیں بس پہلے مرغا کھایا ور ملک چلایا جاتا تھا جبکہ اب ملک کھایا اور مرغا بنایا جاتا ہے
وضاحت: یہ محض اتفاق ہے کہ محبت اور موت دونو م سے ہیں
ن
ن سے آنے والی نرگس پہلے اپنی بے نوری پہ روتی تھی آج کل سٹیج پر ناچ کر شرفاء کو رلاتی ہے۔
وضاحت: لفظ "گنجا" ن سے نہیں آتا یہ افواہ ہے
و
آج کل و سے واہ واہ آتی ہے اور جسے کرنی آتی ہے اس کی زندگی بن جاتی ہے۔
وضاحت: سیف علی خان اردو والا "و" نہیں بولتا
ہ
ہ سے عوام کے حصے میں ہمیشہ ہاتھ آتا ہے ۔۔۔
اگر آپ حکومتی ارکان میں سے ہیں تو میرے ساتھ مل کے دوبارہ پڑھیں "یہ سب میڈیا کا پروپیگنڈا ہے"
ی/ے
ی سے پہلے یکّہ/تانگہ آتا تھا مگر اب تانگے کا ذکر کرنے سے شیخ رشید صاحب برا مان جاتے ہیں ۔۔۔
نوٹ: گدھے کو باپ بنانے والا محاورہ "ی/ے" سے نہیں آتا
غور سے پڑھنے کا شکریہ ۔۔۔ اس امید کے ساتھ اجازت کے کاوش پسند آئی ہو گی ۔۔۔
ملتمس دعا
احقر
سید عاطف علی
09-Dec-2013
[polldaddy poll=7629240]