Sarcasm لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Sarcasm لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 7 ستمبر، 2018

زبان دراز کی ڈائری - 3

 سب سے پہلے تو اس طویل غیر حاضری کی معذرت کہ ہمارے ہمسائے جناب حاجی مسلمان احمد نمازی و روزوی و زکٰوتی صاحب کے سلسلہ میں کچھ ایسی مصروفیت رہی کے لکھنے  لکھانے کا وقت ہی نہیں مل سکا۔ حاجی صاحب کے نام سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ جناب کس حد کے متقی اور عبادت گزار تھے۔ امت مسلمہ کا جتنا درد ان کے دل میں تھا، اگر کسی عام انسان کے ہوتا تو اب تک اٹھارہ بیس ہارٹ اٹیک کھا کر مر چکا ہوتا، مگر حاجی صاحب کو خدا نے کمال کے ضبط سے نوازا تھا۔ مسلمانوں کے مسائل کا درد رکھنے کی ایک اور مثال یہ بھی ہے کہ اگر آپ ان کے ساتھ دس منٹ بات کر لیں تو انشاءاللہ آپ کے بھی سر میں بھی درد ہو جائے گا۔ کسی کم فہم اور پکے جہنمی نے ایک دفعہ ان سے اس درد کا ذکر کیا تو آپ نے کمال ضبط و محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا گال سہلایا جسے بعد میں محلے کے یہودی ایجنٹوں نے تھپڑ کا نام دے دیا۔ مگر حاجی صاحب ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے ہرگز نہیں تھے سو اس اعلائے کلمۃ حق کا کام اس ہی خیر و خوبی سے جاری رکھا۔ 
بحث اور مناظرے میں حاجی صاحب یدِ طولٰی رکھتے تھے۔ ایک دفعہ میرے منہ سے غلطی سے نکل گیا کہ حاجی صاحب، مانا کہ اسلام دینِ حق ہے اور مسلمان آج بھی بہت سی اقوامِ دیگر سے بہتر ہیں مگر یہ کیا کہ صرف رٹو توتے کی طرح عربی کے چند لفظ رٹ کر صبح شام دہرانا اور یہ امید رکھنا کہ اس سے دنیا و آخرت سنور جائے گی؟ قرآن سمجھنے کی کتاب ہے نہ کے رٹنے کی، اور ویسے بھی مسلمان صاحبِ عزت صرف تب تک تھے جب تک تحقیق کے میدان میں آگے تھے آج اگر کفار خلقِ خدا کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے تو اللہ بھی عزت اسے ہی دے گا جو اس کی مخلوق کے کام آئے۔ جذبات کی رو میں بہک کر ہم بول تو گئے مگر ہم بھول گئے تھے کہ حاجی صاحب جب دلیل سے جواب دینے کے موڈ میں نہ ہوں تو اللہ کے دیئے ہوئے ہاتھ پیروں کا استعمال مباح سمجھتے تھے۔ پانچ منٹ بعد ہم زمین پر بے سدھ پڑے تھے اور حاجی صاحب فرما رہے تھے کہ دیکھو حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے اور تمہارا اس طرح زمین پر پڑا ہونا میرے غالب آنے اور برحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ مزید بحث کی نہ تاب تھی نہ گنجائش۔
پچھلے ہفتے امت مسلمہ کا درد رنگ لے آیا اور حاجی صاحب کو شہر کے مشہور امراضِ قلب کے ہسپتال لے کر بھاگنا پڑا کے دل کا دورہ بہت شدید تھا۔ ہسپتال میں داخل  رہے اور اس کافر نرس کو مسلمان کرنے کی کوشش کرتے رہے جو سوئے قسمت ان کی ڈیوٹی پر مامور تھی۔  ڈاکٹروں نے بتایا کے انجیو پلاسٹی ہوگی- نقاہت سے مجھ سے پوچھا یہ کیا ہوتی ہے؟ میں نے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں یہ اب بہت معمول کی چیز ہے۔ آپ کے جسم میں ایک سوئی جتنا سوراخ ہوگا اور اس کے زریعے جسم کی بند شریانوں کو کھول دیا جائے گا۔ ایک دم سے چہک اٹھے، آپ بڑے گن گاتے تھے نہ ان یہود و نصارا کے! دیکھیں جابر بن حیان کے انسانیت پر احسانات! سبحان اللہ ۔۔۔ ماشاءاللہ ۔۔۔۔ جزاک اللہ ۔۔۔ کیا اعلٰی چیز بنا گئے ہیں، خدا ان کو جوارِ رحمت میں جگہ دے! بھئی جابر بن حیان کے لیئے فاتحہ ہو جائے۔ جب ہم فاتحہ پڑھ کر فارٖغ ہوئے تو اس تقریباٗ یہودی ڈاکٹر نے منہ بنا کر کہا کہ یہ جابر بن حیان کی ایجاد نہیں۔ حاجی صاحب مسکرا کر بولے، شک تو مجھے بھی تھا۔ یہ البیرونی کا کام ہوگا! نہیں؟ ڈاکٹر نے سر ہلا کر کہا نہیں! الفارابی سے الکندی اور پھر ابن زہر سے الزہراوی تک پہنچتے پہنچتے آپ کا رنگ ہر نہیں کے ساتھ اترتا چلا گیا۔ اور جب پتہ چلا کہ یہ ساری تکنیک یہود و نصارٰی کی ہے تو قبلہ حاجی  صاحب نے بغیر علاج کروائے رخصت کا قصد کیا۔
 کل شب حاجی مسلمان احمد نمازی و روزوی و زکٰوتی صاحب مرحوم و مغفور کے سوئم سے فارغ ہوا ہوں تو آج ڈائری لکھنے بیٹھا ہوں۔ 

اتوار، 23 اپریل، 2017

زبان دراز کی ڈائری - 8

پیاری ڈائری!

زندگی میں کبھی یاوہ گوئی کی عادت نہیں رہی اور اب افسوس ہورہا ہے کہ کاش صحیح وقت پر کچھ مناسب گالیاں سیکھ لی ہوتیں تو اس شاعرِ جنوب کو ایک جوابی خط لکھ ڈالتا۔ مگر خیر جو ہوا سو ہوا۔

کل پاکستان سے کسی عاطف صاحب کا محبت نامہ ملا جس میں انہوں نے ملک کے حالات پر معافی مانگنے سے یکسر انکار کردیا تھا اور مُصِر تھے کے صرف شرمندگی سے ہی کام چلایا جائے۔ یقین ہوگیا کہ خط واقعی پاکستان سے ہی آیا ہے کیوںکہ اتنی گھٹیا اردو دنیا کے کسی اور کونے میں نہیں بولی جاتی۔

خط پڑھ کر بہرحال حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی؛ خوشی اس بات کی کہ آج بھی چند لوگ ہیں جو پر امید ہیں اور حیرت اس بات پر کہ پاکستان میں اب بھی لوگوں کو اردو لکھنی یاد ہے؟ یہاں تو اب جتنے بھی پاکستانی آتے ہیں وہ سب تو رومن میں لکھتے ہیں۔ زبان ہی کے تذکرے پر پرسوں علامہ صاحب فرما رہے تھے کہ اردو کی بقا کی واحد صورت یہ ہے کہ امریکہ اسے قومی زبان کے طور پر قبول کرلے۔ خیر علامہ کے فلسفے تو علامہ ہی جانیں۔ مجھے بہرحال خط پڑھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ میں نے پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ لیاقت علی خان نے سمجھایا تو انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ آج کل پاکستانی لیڈران کا سال میں ایک آدھ مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنا فیشن میں ہے۔ خیر جناب، اللہ میاں سے اجازت لی اور ٹہلتے ٹہلتے رات کے کسی پہر کراچی پہنچ گیا۔

مزار سے باہر نکلا تو موٹرسائیکل پر سوار چند لڑکے نما مخلوق زناٹے سے برابر سے گزری۔ اگر سن اڑتالیس میں وقت پر ایمبولینس آگئی ہوتی تو اس بغیر سائلینسر کی موٹر سائکل ریلی کی آوازوں سے سن دو ہزار چودہ میں ضرور کام ہوجاتا۔ دیر تک وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر حواس بحال کرتا رہا۔ ابھی بیٹھے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ایک موٹرسائکل برابر میں آکر رکی اور اس پر سوار دو لڑکوں میں سے ایک نے بندوق نکال کر موبائل مانگ لیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ اول تو میرے پاس موبائل نہیں ہے کہ جنت میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی اور دوسرا یہ کہ موبائل مانگنے کیلئے بندوق نکالنے کی کیا ضرورت؟ اگر آپ نے کسی کو کال ہی کرنی ہے تو مانگنے کے اور بھی عزت دار طریقے ہیں۔۔۔ حد ہوتی ہے!! نوجوان حیرت سے میری شکل دیکھ رہا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، اس کے پیچھے والے لڑکے نے اس کو کہنی مار کر کہا کہ "بڈھا خبطی ہے اور مجھے اس کی شکل جانی پہچانی لگ رہی ہے۔ خوامخواہ جان پہچان نکل گئی تو مسئلہ ہوگا، ٹائم کھوٹا نہ کر اور نکل"۔ پہلے والے نے جلدی سے موٹرسائکل کا گیئر ڈالا اور موٹرسائکل اڑا دی۔ عجیب نامعقول سے لڑکے تھے۔ اگر رک کر میری بات سن لیتے تو کیا پتہ ان ہی سے لفٹ مانگ کر آگے چلا جاتا۔

ان لڑکوں سے فارغ ہوا ہی تھا کہ ایک خاتون آکر گلے پڑ گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ میں کسی شاہ رخ خان سے ملتا ہوں اور اگر میں چاہوں تو یہیں "بابے کے مزار " کے ساتھ والے کمرے میں ان کے ساتھ جاسکتا ہوں۔ میں نے پہلے تو انہیں سمجھایا کہ یہ صرف پسینے کی وجہ سے میرا چہرا چمک رہا ہے اور ان کے خیال کے برعکس میں ویسا چکنا نہیں ہوں جیسا انہوں نے مجھے پکارا۔ دوسری بات یہ کہ میں اس ہی بابے کے مزار سے نکل کر آرہا ہوں اور یہیں ہوتا ہوں۔ وہ بیچاری پتہ نہیں کیا سمجھی اور کھسیانی ہو کر مجھے چند روپیے دینے کی کوشش کرنے لگی۔ میری تو خود یہ معاجرہ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر میں نے پھر بھی اسے سمجھایا کہ میں اس سے پیسے نہیں لے سکتا۔ وہ یہ کہتی ہوئی تیزی سے ایک طرف چلی گئی کہ بابو پتہ نہیں تھا آپ مینجمنٹ والے ہو آئندہ احتیاط کروں گی۔

ان ہی جھمیلوں میں اب رات کے بارہ بجنے والے تھے اور مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس شہر کو ہوکیا گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک مسلسل عجیب کردار ٹکرا رہے تھے۔ سر جھٹک کر میں نے توجہ مزار پر ڈالی تو میرا مزار برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا۔ تیرہ اگست کی رات تھی اور اب چودہ اگست شروع ہونے ہی والی تھی۔ میں خوشی سے اپنے مزار کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک فائرنگ کی بھیانک آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ مجھے لگا کہ شاید ہندوستان نے حملہ کردیا ہے، میں گاندھی کو کوستا ہوا واپس مزار کے اندر بھاگا تو اس مرتبہ گیٹ پر موجود گارڈ نے روک لیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ باہر اس طرح حملہ ہوگیا ہے اور اب اسے بھی مورچہ بند ہوجانا چاہیے تو اس مریض نے ایک طرف منہ میں بھرے خون کی کلی کری اور قمیض کے دامن سے منہ پونچھتے ہوئے بولا کہ چاچا پہلی بار چودہ اگست دیکھ رہے ہوکیا؟ میں نے اس سے کہا کہ میں جشن آزادی اور چودہ اگست کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوں مگر یہ حیوانوں کی طرح برتائو اور اس طرح اندھادھند فائرنگ سے کونسا جشن اور کون سی ملک کی خدمت کی جارہی ہے؟ جواب میں اس نے وہی خون آلود ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور بولا، چاچا، چودہ اگست کو صرف یہ ملک آزاد نہیں ہوا تھا۔ یہ سب درندے بھی آزاد ہوگئے تھے۔ اب جس درندے کے منہ میں اس ملک کے جسم کی جتنی بڑی بوٹی آتی ہے وہ اتنا ہی بڑا لقمہ نوچ لیتا ہے۔ میں نے پوچھا، کہ کوئی ان درندوں کو روکتا کیوں نہیں؟ اس نے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور ایک عجیب سا کتھئی رنگ کا مواد منہ میں رکھتے ہوئے بولا، چاچا، یہ ایک فلمی دنیا ہے۔ یہاں ہیرو ہیروئن بچانے کیلئے غنڈوں کو صرف اس لیئے روکتا ہے تاکہ پکچر کے اختتام پر وہی عزت وہ خود لوٹ سکے۔

اس ساری گفتگو کے دوران میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھ میں آنسو آگئے تھے۔ میں نے موضوع تبدیل کرنے کیلئے اس سے پوچھ لیا کہ یہاں تو قائد اعظم دفن ہیں تو یہاں اتنی بندوقوں کے ساتھ پہرے داری کرنے کی کیا ضرورت؟ وہ میرے قریب آیا اور میرے کان میں تقریباٗ پچکاری مارتے ہوئے بولا، چاچا، اگر یہ قائد غلطی سے بھی دوبارہ زندہ ہوگیا تو ملک کے حالات دیکھ کر انگریزوں کو ملک واپس کردے گا اور ساتھ میں معافی بھی مانگے گا۔ ہم بندوق لیکر اس ہی لیئے کھڑے ہیں کہ قائد نکل کر بھاگ نہ جائیں۔ ملک کی عزت کا سوال ہے، بڑی بدنامی ہوجائے گی۔

مجھے اب اس نامعقول انسان پر شدید غصہ آرہا تھا۔ میں نے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے اس کو جذباتی مار مارنے کی کوشش کی۔ میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس لوٹ مار اور درندگی کے کھیل کے خلاف تمہارے اندر کس قسم کے جذبات ہیں۔ سچ سچ بتانا، تم اس ملک کو لوٹنے والوں کے ذکر پر آبدیدہ کیوں ہوگئے تھے۔ اس کمینے سپاہی نے روہانسی آواز میں جواب دیا، روئوں نہیں تو کیا کروں؟ سب کھا رہے ہیں، ایک ہمیں ہی موقع نہیں مل رہا بس!!

میں اس مردود لمحے کو کوس ہی رہا تھا جب میں نے نیچے آنے کا فیصلہ کیا تھا کہ اچانک محل میں زلزلہ آگیا۔ اب جو دیکھا تو خود کو اپنے ہی محل میں بستر پر پایا۔ خوشی سے سجدہ شکر بجا لایا کہ یہ سب صرف خواب تھا۔ حوروں نے آکر بتایا کہ زلزلے کی وجہ کوئی جون ایلیاء نامی صاحب تھے جو دروازے پر لاتیں اور گھونسے برساتے ہوئے پوچھ رہے تھے کہ وہ علی گڑھ کا لونڈا یہیں رہتا ہے؟؟؟

جون صاحب کی ملاقات کا احوال پھر کبھی، فی الحال اجازت دو۔ کراچی سے جاتے جاتے ایک لفظ سیکھ کر آگیا ہوں، آئندہ کبھی کسی شاعر کا خط آیا تو میں بھی جواب میں لکھ بھیجوں گا ۔۔۔۔۔ کدو!!!

محمد علی

بدھ، 10 ستمبر، 2014

ہیجڑا

اس ہجوم میں پھنسے ہوئے مجھے اب بیس منٹ ہونے کو آرہے تھے مگرٹریفک تھا کہ ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آج دن ہی خراب تھا۔ میرے دفتر کے ساتھی عاطف صاحب جو خیر سے کروڑوں نہیں تو لاکھوں کے گھپلوں میں ملوث ہیں آج ترقی پاکر مجھ سے اوپر آگئے ہیں۔ ہم دونوں  ایک ہی ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں اور جب ان کی ترقی ہورہی تھی تو ادارے کے ڈائریکٹر نے مجھ سے بھی ان کے بارے میں رائے مانگی تھی کہ گھپلوں کی کچھ اڑتی اڑتی شکایات اس تک بھی پہنچی تھیں۔ میرا دل تو کیا کہ میں سارا کچا چٹھہ کھول کر رکھ دوں مگر پھر یہ سوچ کر چپ ہوگیا کہ اگر بات باہر نکلی تو بلاوجہ کی دشمنی ہوجائے گی اور کراچی جیسے شہر میں کسی کا کیا بھروسہ؟ ہوسکتا ہے کہ آپ کسی شخص کو معمولی سمجھتے ہوں اور اس کے تعلقات کسی برائے نام کالعدم تنظیم سے ہوں؟ یا پھر وہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہو جو کل کو آپ سے مخاصمت پال لے؟ میں نے ڈائریکٹر صاحب کو کہہ دیا کہ میں نے عاطف صاحب میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ عاطف صاحب نہ صرف اس انکوائری سے باعزت باہر آگئے بلکہ کمپنی نے مزید بزمدگی سے بچنے کیلئے زر تلافی کے طور پر ان کی ترقی وقت سے پہلے ہی کردی۔ آج ہی پتہ چلا ہے کہ اگلے مہینے کی یکم تاریخ سے اب وہ میرے بوس ہونگے۔
صبح صبح یہ خبر سن کر ویسے ہی دماغ کی بتی بجھ گئی تھی اوپر سے جھوٹے منہ عاطف صاحب کو مبارک باد اور ان کے ناکردہ کارناموں کی تعریف بھی کرنی پڑ گئی۔ جب تک لنچ کا ٹائم آتا تب تک میرا موڈ مکمل طور پر خراب ہوچکا تھا۔ لنچ کے دوران سلمان صاحب اور احمد بھائی کے درمیان کی وہی فرقہ وارانہ بحث دوبارہ شروع ہوگئی کہ دونوں میں سے کس کا مسلک زیادہ مظلوم ہے اور کس نے اب تک زیادہ نقصانات اٹھائے ہیں۔ ایک شام میں ہونے والے مظالم پر گریہ کناں تھا تو دوسرے کو بحرین کے مسلمانوں کا غم کھائے جارہا تھا۔ دل تو کیا کہ پوچھ لوں کہ آیا ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے آج فجر کی نماز پڑھی ہے؟ پھر مگر خیال آیا کہ یہ ان دونوں کی ذاتی بحث ہے اور ایسے مباحثوں میں پڑ کر سوائے نقصان کے کچھ نہیں ملنا۔ اگر غلطی سے بھی سلمان صاحب کے حق میں بول دیا تو احمد صاحب ناراض ہوجاتے اور اگر احمد صاحب کی کسی بات کی تائید کردیتا تو سلمان صاحب سے تعلقات منقطع کرنے پڑجاتے۔ بہتری جان کر میں خاموش ہورہا ورنہ دل تو یہ بھی کر رہا تھا ان دونوں کو قرآن کی وہ آیت یاد دلائوں جس میں مالکِ کائنات تمام غیر مسلموں کو یہ پیشکش کررہا ہے کہ آئو ہم تم (کم سے کم) ان باتوں پر متفق ہوجائیں جو ہم میں تم میں یکساں ہیں۔ ایک طرف دین غیر مسلموں سے مشترک چیزیں ڈھونڈ کر ایک جگہ اکٹھا ہونے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف دیندار ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ چیزیں جمع کرتے پھرتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ یہ ایک ہی مذہب کے دو مختلف مسالک نہیں بلکہ سراسر دو الگ ادیان ہیں۔ جتنی محنت ہم ایک دوسرے کو کافر ٹھہرانے میں کرتے ہیں اس کی آدھی محنت سے پوری دنیا مسلمان ہوسکتی تھی۔
بحث کے کثیف ماحول میں کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں کھایا گیا۔ واپس اپنی میز آگیا اور اس پریزنٹیشن پر کام کرنے لگا جو عاطف صاحب نے باس بننے کی پیشگی قسط کے طور پر میرے متھے مار دی تھی۔ تین گھنٹے کی عرق ریزی کے بعد جاکر وہ پریزنٹیشن تیار ہوہی گئی تھی کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ پاورجنریٹر کے زریعے بجلی بحال ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ میں فائل کو محفوظ کرنا بھول چکا ہوں اور کمپیوٹر مٰیں اب اس فائل کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے جس کے پیچھے میں نے اپنی پوری دوپہر کالی کی تھی۔ بال نوچتے ہوئے نئے سرے سے کام کرنا شروع کردیا اور پھر کام ختم کرنے کیلئے دفتر میں بھی دیر تک رکنا پڑا۔
دفتر سے گھر پہنچا تو شدید بھوک لگی تھی۔ کافی عرصے سے گھر والوں کو بھی کھانے پر کہیں باہر نہیں لیکر گیا تھا اور یہ خیال بھی تھا کہ شاید باہر جاکر سب کے ساتھ اس طرح بیٹھ کر کھانے سے پورے دن کی کلفت دور ہوجائے گی۔ میں بیوی بچوں کو لیکر کھانا کھانے آگیا۔ کھانا بہت شاندار تھا اور واقعی سارے دن کی کلفتیں مٹاگیا۔ واپسی میں البتہ یہ ٹریفک ایک مرتبہ پھر میرا منہ چڑا رہا تھا جس میں میں اب گزشتہ بیس منٹ سے پھنسا ہوا تھا اور اگلے بیس منٹ تک بھی اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں تھے۔
جب گاڑی میں بیٹھے بیٹھے تنگ آگیا تو میں نے اتر کر صورتحال خود دیکھنے کا فیصلہ کرلیا۔  گاڑیوں کی طویل قطار کو عبور کرتا ہوا میں لوگوں کے اس ہجوم میں پہنچ گیا جو گھیرا بنا کر  کھڑے ہوئے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ ہجوم کے گھیرے میں ایک وڈیرہ نما انسان شراب کے نشے میں مخمور ایک زنخے کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے اپنی بیش قیمت پجارو میں بٹھانے کی کوشش کررہا تھا جبکہ اس مریل سے زنخے نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر اسے کوسنے دے رہا تھا اور اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا تھا مگر اس وڈیرے پر اس کی چیخ و پکار کا کوئی اثر نہیں تھا۔ وہ اسے بالوں سے پکڑ کر گاڑی کی جانب گھسیٹتا اور جواب میں وہ زنخا اپنی پوری جان لگا کر زمین سے چمٹنے کی کوشش کرتا اور بالوں کی تکلیف سے بےنیاز گاڑی سے دور جانے کیلئے اپنا پور زور لگا دیتا۔
معاملہ ویسے تو بالکل واضح تھا مگر میں نے ہجوم میں شامل ہونے کی روایت نبھاتے ہوئے برابر میں کھڑے شخص سے معاملہ پوچھا تھا تو اس نے بتایا کہ یہ ملک کے ایک نامور جاگیردار  ہیں جو اس وقت رنگین پانی کے خمار میں رنگین ہوگئے ہین۔   اشارے پر اس زنخے نے ان کے آگے دست سوال دراز کیا تھا اور اس دست سوال کے جواب میں جاگیردار صاحب دست درازی پر اتر آئے ہیں۔ میں  نے معصوم بنتے ہوئے پوچھا کہ کوئی ان صاحب کو روکتا کیوں نہیں؟ کچھ بولتا کیوں نہیں؟ اس شخص نے غصے سے مجھے دیکھا اور بولا کہ اتنی محبت جاگ رہی ہے تو تم روک لو؟ تم بول دو؟ ہم کم سے کم دل سے تو برا جان رہے ہیں اس برائی کو، اور بھلے کمتر سہی مگر یہ بھی ایمان کا ایک درجہ ہے۔ مزید کچھ کہہ کر میں مزید بے عزت نہیں ہونا چاہتا تھا سو میں بھی خاموشی سے ہجوم کے بیچ کھڑا تماشہ دیکھنے لگا۔
جاگیردار اور زنخا دونوں ہی تھک چکے تھے مگر دونوں ہی ہار ماننے کو تیار نہیں تھے، زاویہ الگ تھا مگر بات اب دونوں کی عزت کی تھی سو کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ ان دونوں کی زور آزمائی جاری ہی تھی اچانک ہجوم میں ہلچل ہوئی اور ہجوم کو چیرتے ہوئے ایک اور زنخا اپنے ساتھی کی مدد کیلئے میدان میں کود پڑا۔ دو اور ایک کی لڑائی میں فتح دو کی ہی ہوئی اور نئے آنے والے زنخے نے نہ صرف اپنے ساتھی کو چھڑایا بلکہ اس جاگیردار کی بھی طبیعت صاف کردی۔ وہ جاگیردار اچھی خاصی مرمت کروانے کے بعد برے انجام کی دھمکی دیتا ہوا گاڑی میں سوار ہوکر بھاگ گیا۔
ہجوم چھٹنا شروع ہوا تو میں بھی بھاگ کر گاؑڑی میں سوار ہوگیا اور ہجوم کے مکمل چھٹنے کے بعد آہستہ آہستہ ٹریفک کے ساتھ چلنا شروع ہوگیا۔  جب گاڑی اس اشارے  پر پہنچی جہاں یہ سب فساد ہورہا تھا تو اشارہ ایک بار پھر سرخ ہوگیا۔ میں اشارہ کھلنے کا انتطار کر ہی رہا تھا کہ شیشے پر دستک ہوئی۔ میں نے نظر پھیر کر دیکھا تو باہر سے آنے والا دوسرا زنخا بھیک کا طلب گار تھا۔ میں نے خاموشی سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور بیس کا ایک نوٹ اسے نکال کر دے دیا۔ جب وہ جانے لگا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اسے ڈر نہیں لگتا؟ کل کو وہ جاگیردار اپنے گرگے لیکر آگیا تو؟ تمہارا تو یہ روز کا ٹھکانہ ہے، وہ کسی بھی دن موقع دیکھ کر بدلہ لے لے گا! اس زنخے نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور بولا، صاحب! ڈرنے کیلئے ایک اللہ کی ذات کافی ہے! ان جیسے کتوں کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر ڈرو گے تو اور بھونکے گا اور اگر پلٹ کر پتھر مارو گے تو دم دبا کر بھاگ جائے گا۔ روز ہی کسی جاگیردار اور غنڈے سے نمٹتے ہیں، اب کیا ان سے ڈر کر روز مرتے رہیں؟ ایک دفعہ کی تکلیف روز روز کے عذاب سے بہتر ہوتی ہے۔
اشارہ کھل گیا اور وہ زنخا بھی واپس فٹ پاتھ پر جاکر دوبارہ اشارہ بند ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ میں شاید ساری عمر ہی وہاں دم بخود کھڑا رہ جاتا مگر پیچھے سے آنے والے ہارن کے مسلسل شور سے میں چونک گیا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ گاڑی آگے بڑھی تو پیچھے والی سیٹ سے میرا نو سال کا بیٹا اپنی معلومات کا رعب جھاڑنے کیلئے سوالیہ انداز میں بولا، بابا یہ ہیجڑا تھا نا؟ میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سچ بولنے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے جواب دیا، بیٹا یہ ہیجڑا نہیں تھا، یہی تو واحد مرد تھا!! ہیجڑے تو ہم ہیں!!!

جمعرات، 19 جون، 2014

زبان دراز کی ڈائری – 6

یہ دن بھی دیکھنے تھے کہ کرنے کو کچھ نہیں ہے سو مجبوراٗ ڈائری لکھنی پڑ رہی ہے۔

پیاری ڈائری! قصہ کچھ یوں ہے کہ پرسوں سے محلے میں میڈیا کا پہرہ ہے اور ہم اس بڑھی ہوئی داڑھی کے ساتھ ان کے سامنے جا نہیں سکتے کہ پھسٹ امپریسن لاسٹ امپریسن والی بات ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ یہ مجمع ٹلے تو ہم بھی باہر نکلیں اور ہوا کھائیں۔ سنا ہے کہ یہ سب ہمارے پڑوس میں رہنے والے گلو بھائی کے سلسلے میں یہاں جمع ہیں۔

گلو بھائی بھی خوب انسان ہیں ویسے۔ وزیر بننا ان کا بچپن کا خواب ہے۔ کہتے ہیں کہ جب گلو بھائی پیدا ہوئے تو ان کی ماں مر گئی، تس پر ان کے باپ جو ایک پہنچے ہوئے نائی تھے، نے پیش گوئی کی کہ چونکہ یہ پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو کھا گیا ہے سو یہ انشاءاللہ بڑا ہوکر کم سے کم وزیر بنے گا۔ لوگوں نے پوچھا کہ ماں کو مارنے سے وزیر بننے کا کیا تعلق تو اس پہنچی ہوئی ہستی نے وضاحت کی کہ جس ملک میں امیر بیوی کو مارکر صدر بنا جا سکتا ہو وہاں غریب ماں کو مار کر کم سے کم وزیر بننا تو انکے بیٹے کا حق ہے۔ خیر بڑے میاں کی خرافات تو بڑے میاں جانیں، ویسے بھی ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہٰں والا لطیفہ ہم سب نے سن ہی رکھا ہے۔

گلو میاں کے بارے میں اس سے بہتر کیا بیان کروں کہ ڈائری میری، قلم میرا اور گلو میاں مفت میں در آئے۔ ویسے ہی جیسے دفتر کسی کا، بیریئر کسی کے، پولیس کسی کی، آرڈر کسی کا، مگر گلو بھائی کہ جن کو نہ پولیس، نہ لیگ، نہ پارٹی، کوئی بھی اپنانے کو تیار نہیں مگر یہ ہیں کہ پوری کاروائی میں سب سے آگے آگے ہیں۔ اُن کے اِن ہی اوصافِ جمیلہ کی بنیاد پر محلے میں سب گلو بھائی سے بنا کر رکھتے ہیں کہ جس قسم کے خبطی یہ ہیں، کچھ بعید نہیں کہ آگے چل کر صوبے کے وزیرِ قانون لگ جائیں۔ برا وقت ویسے بھی کونسا بتا کر آتا ہے، اور غریبوں کے معاملے میں تو ایک دفعہ آجائے تو ہمیشہ کیلئے بس جاتا ہے۔ سو گلو بھائی بچپن سے ہی محلے کے سیاستدان تھے۔ ٹین ڈبے کی دکان سے انہوں نے کام شروع کیا اور ٹین ڈبوں کی چوری سے ٹرین کے ڈبوں کی چوری تک کا سفر بڑی کامیابی کے ساتھ طے کرتے چلے گئے۔ پیاری ڈائری تم جانتی ہو کہ میں یہ رائیونڈ والے گلو کی نہیں، اپنے محلے کے گلو کی بات کر رہا ہوں!! وقت کے ساتھ ساتھ گلو بھائی نے سیکھ لیا تھا کہ اس شخص سے بڑا احمق کوئی نہیں جس کے پاس کھانے کیلئے پورا ملک پڑا ہو اور وہ لوہے کے کارخانے ہڑپنے میں وقت ضائع کرتا رہے۔ سو گلو بھائی اب سارے فالتو کام دھندے چھوڑ کر ملک اور جیب سنوارنے کے اس ہی کارخیر میں مصروف تھے کہ پرسوں حکم ملا کہ ماڈل ٹائون میں جاکر کچھ سکریپ کی گاڑیاں توڑ دو۔ گلو بھائی نے مرشد کے حکم پر جاکر گاڑیاں توڑ دیں اور جیسے کے صوبے کی روایت ہے، کام ریکارڈ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچادیا۔ تس کے بعد آپ نے گرم موسم میں ٹھنڈی کوک لی، خود بھی پی، پولیسیوں کو بھی پلائی اور ناچتے گاتے گھر آگئے۔ شام گئے بڑی سرکار کا فون آیا کہ گرفتاری پیش کردی جائے سو گلو بھائی نے خیر سے گرفتاری بھی پیش کردی اور عدالت میں پیشی کے موقع پر پٹ بھی آئے۔ تب سے اب تک یہ میڈیا یہاں موجود ہے اور گلی میں موجود کھمبے کو مسلسل پیٹے جارہا ہے اور خدا معلوم کب تک پیٹتا رہے گا۔

میری پیاری ڈائری! یہ سب باتیں تمہیں سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اب خیر منائو۔ جس ملک کا میڈیا اور تمام افراد 11 انسانوں کے قاتل کو بھول کر 4 گاڑیوں کو شہید کرنے والے پر پچھلے دو دن سے کوریج دے رہے ہوں وہاں کا اللہ ہی حافظ ہے۔

تمہارا خیر خواہ

زبان دراز
19- جون - 2014

آج کا شعر:
بستی جلی ، خبر ہوئی شائع کچھ اس طرح
آتش زنوں کے تیل کا نقصان ہوگیا

پیر، 9 دسمبر، 2013

بَل قاٰعدہ

جب سے سنا تھا کہ ہر بڑا آدمی بلاگ لکھتا ہے تو فطرتاَ یہ شوق ہوا کہ ایک پلاٹ اپنے نام نہ سہی مگر بلاگ ضرور اپنے نام سے ہونا چاہیئے۔ [بڑا آدمی بننے کا تو یاد نہیں البتہ بڑا آدمی دکھنے کا شوق ہمیں بچپن سے ہے]۔

چونکہ اس، اور آنے والے ہر بلاگ کی زبان اردو ہو گی اس لیئے احتیاطا٘ اردو کا جدید اور ذاتی مرتب کردہ قاعدہ اس بلاگ میں حاظر ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے "زبانِ بلاگِ یار اردو، کہ من اردو نمی دانم"۔ محظوظ ہوئیے ۔۔۔

بَل قاٰعدہ

الف:
پرانے زمانے میں اس سے انار آتا تھا مگر آج کل سب کچھ پیسوں سے آتا ہے.
حاصل گفتگو: اب الف سے کچھ نہیں آتا

ب:
کسی زمانے میں بلّا ہوتا تھا مگر اب یہ بلّا ایک سیاسی جماعت لے گئی-
اب ب سے بَلائیں آتی ہیں

پ:
پ سے جو پتنگ آتی ہے اس کے بارے میں گفتگو کرنا حرام ہے... باقی آپ سمجھدار ہیں!
وضاحت: پ سے پیسے بھی آتے تھے جو اب صرف کرپشن سے آتے ہیں

ت
ت سے تتلی آتی ہے جو بڑی ہو کر پھلجھڑی بنتی ہے اور مزید بڑی ہو کر شادی کر لیتی ہے
وضاحت: تاڑو ت سے نہیں بد قسمتی سے آتے ہیں

ٹ
... ٹ سے جو ٹماٹر آتے تھے وہ اب دو سو روپے سے بھی نہیں آتے
وضاحت: ٹکلا ٹ سے نہیں آپ کے ووٹ سے آتا ہے سو اب بھگتیں

ث:
ث سے آنے والی چیزوں میں سب سے قابل ذکر ثنا ہے- ماشاءاللہ
وضاحت: ث سے جو ثمر آتا ہے اس کا مطلب گرمی نہیں پھل ہوتا ہے

ج:
چے کے چھوٹے بھائی کو ج کہتے ہیں!!!
مثال: جہالت، جمہوریت، جیو، جنگ وغیرہ وغیرہ

چ
اردو زبان کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ چ ہے - شرفاء میں اسے احمق بھی کہا جاتا ہے.
وضاحت: جو آپ سمجھے اصل مطلب وہی ہے

ح
ح سے پہلے حیرت ہوتی تھی- آج کل یہ حیرت لوگوں کو دیکھ کر ہوتی ہے.
ح الفاظ: حوالدار ، حکمران ، حرامی

خ
خ سے پہلے خلوص آتا تھا.. آج کل خونی رشتوں سے بھی نہیں آتا.
وضاحت: مصنف بلاوجہ جذباتی ہو رہا ہے آپ خربوزہ کھائیں

د
... دال سے صرف گیس آتی ہے باقی باتیں آپ کی عزت رکھنے کیلئے مشہور ہیں

ذ
ذ سے اب اردو دانوں کے لیئے صرف ذلت ہی آتی ہے-
شکریہ

ر
ر سے تو آج کل صرف رونا ہی آتا ہے
وضاحت: ریٹویٹ ر سے نہیں بیہودگی اور گالیوں سے آتی ہے

ز
پہلے زن ز سے آتی تھی آج کل ٹویٹر پر خود محنت کرنی پڑتی ہے!
سوال: سنا ہے ز سے آنے والے زر کیلئے بھی اب انتخاب لڑنا پڑتا ہے؟

س
پہلے س سے سی این جی آتی تھی اب دو گھنٹے کی ذلت کے بعد بھی نہیں آتی
س سے شروع ہونے والے جملے: س آن ہے بھائی وغیرہ وغیرہ

ش
ش سے پہلے نیک شہید آتے تھے مگر ملّا کے فضل سے آج کل کتے "ہی" شہید ہو رہے ہیں-
سنجیدہ نکتہ: شرم و حیا ش سے نہیں اچھی تربیت سے آتی ہے

ص
ص سے صراحی آتی تھی جو دو نسلوں پہلے متروک ہو چکی ہے - آج کل اس نام کا ایک بناسپتی آتا ہے بس..
ص سے شروع ہونے والے جملے: ص آگیا بادشاہو

ط
بچپن میں اس سے طوطا آتا تھا مگر آفتاب اقبال کے خبرناک کے بعد اب وہ بھی ت سے آتا ہے-
وضاحت: طاہرالقادری ط سے نہیں جی ایچ کیو سے آتا ہے

ظ
ظ سےپہلےظروف(برتن) لائےجاتےتھے آج کل اس کام کیلئےنکاح کر لیا جاتا ہے جس سے کھانا پکانے والی بھی مل جاتی ہے-
ظرف ظ سےنہیں کردار سےآتا ہے

ع
آج کل ع سےصرف ایک سابقہ کرکٹرکانام آتا ہےجبکہ عورت ع سےنہیں اپنی مرضی سے آتی ہے!
نوٹ:  آپ جب اس بلاگ کا تذکرہ احباب سے کریں گے تو شیطان آپ کو روکے گا!!!

غ
کسی زمانے میں غ سے غیرت آتی تھی مگر اب کسی بات پر نہیں آتی-
وضاحت: آپ کے اساتذہ سدا کے جھوٹے تھے، آپ بخوبی واقف ہیں غبارہ پیسوں سے آتا ہے

ف
ف سے سرکاری فوارہ ہوتا ہے جس کی برکت سے ٹھیکیدار کا پورا گھر بن جاتا ہے
وضاحت: فالوور ف سے نہیں گندی ٹویٹس اور لڑکی کی تصویر سے آتے ہیں

ق
ق سے پہلے قائد اعظم آتے تھے مگر زیارت میں گھر تباہ ہونے کے بعد انہوں نے بھی آنا چھوڑ دیا!!!
سنجیدہ نکتہ: قائد اب واقعی نہیں آتے

ک
ک سے پہلےکتاب آتی تھی اب کیسےبھی نہیں آتی. ملک کے بیشتر حصوں میں قائد اب ک سےآتےہیں.
وضاحت: کافر ک سے نہیں مولویوں کے فتووں سے ہوتے ہیں-

گ
بچپن میں گ سے گائوں ہوتا تھا آج کل حقارت سے ہوتا ہے
تشریح: کچے مکانوں اور پکے رشتوں سے بنی چھوٹی سی بستی کو اکثر گائوں کہتے ہیں

ل
ل سے اور مسلسل آنے والی سب سے مشہور چیز لوڈ شیڈنگ ہے.
[وضاحت: یہ واحد لفظ ہے جو کسی مسلم لیگی دھڑے سے نہ جڑا ہو [ن ج ق ض وغیرہ وغیرہ

م
مرغا اور ملک دونوں م سے آتے ہیں بس پہلے مرغا کھایا ور ملک چلایا جاتا تھا جبکہ اب ملک کھایا اور مرغا بنایا جاتا ہے
وضاحت: یہ محض اتفاق ہے کہ محبت اور موت دونو م سے ہیں

ن
ن سے آنے والی نرگس پہلے اپنی بے نوری پہ روتی تھی آج کل سٹیج پر ناچ کر شرفاء کو رلاتی ہے۔
وضاحت:  لفظ "گنجا" ن سے نہیں آتا یہ افواہ ہے

و
آج کل و سے واہ واہ آتی ہے اور جسے کرنی آتی ہے اس کی زندگی بن جاتی ہے۔
وضاحت: سیف علی خان اردو والا "و" نہیں بولتا

ہ
ہ سے عوام کے حصے میں ہمیشہ ہاتھ آتا ہے ۔۔۔
اگر آپ حکومتی ارکان میں سے ہیں تو میرے ساتھ مل کے دوبارہ پڑھیں "یہ سب میڈیا کا پروپیگنڈا ہے"

ی/ے
ی سے پہلے یکّہ/تانگہ آتا تھا مگر اب تانگے کا ذکر کرنے سے شیخ رشید صاحب برا مان جاتے ہیں ۔۔۔
نوٹ: گدھے کو باپ بنانے والا محاورہ "ی/ے" سے نہیں آتا

غور سے پڑھنے کا شکریہ ۔۔۔ اس امید کے ساتھ اجازت کے کاوش پسند آئی ہو گی ۔۔۔

ملتمس دعا
احقر
سید عاطف علی

09-Dec-2013

[polldaddy poll=7629240]

بلاگ فالوورز

آمدورفت