Humour لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Humour لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 7 ستمبر، 2018

زبان دراز کی ڈائری - 3

 سب سے پہلے تو اس طویل غیر حاضری کی معذرت کہ ہمارے ہمسائے جناب حاجی مسلمان احمد نمازی و روزوی و زکٰوتی صاحب کے سلسلہ میں کچھ ایسی مصروفیت رہی کے لکھنے  لکھانے کا وقت ہی نہیں مل سکا۔ حاجی صاحب کے نام سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ جناب کس حد کے متقی اور عبادت گزار تھے۔ امت مسلمہ کا جتنا درد ان کے دل میں تھا، اگر کسی عام انسان کے ہوتا تو اب تک اٹھارہ بیس ہارٹ اٹیک کھا کر مر چکا ہوتا، مگر حاجی صاحب کو خدا نے کمال کے ضبط سے نوازا تھا۔ مسلمانوں کے مسائل کا درد رکھنے کی ایک اور مثال یہ بھی ہے کہ اگر آپ ان کے ساتھ دس منٹ بات کر لیں تو انشاءاللہ آپ کے بھی سر میں بھی درد ہو جائے گا۔ کسی کم فہم اور پکے جہنمی نے ایک دفعہ ان سے اس درد کا ذکر کیا تو آپ نے کمال ضبط و محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا گال سہلایا جسے بعد میں محلے کے یہودی ایجنٹوں نے تھپڑ کا نام دے دیا۔ مگر حاجی صاحب ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے ہرگز نہیں تھے سو اس اعلائے کلمۃ حق کا کام اس ہی خیر و خوبی سے جاری رکھا۔ 
بحث اور مناظرے میں حاجی صاحب یدِ طولٰی رکھتے تھے۔ ایک دفعہ میرے منہ سے غلطی سے نکل گیا کہ حاجی صاحب، مانا کہ اسلام دینِ حق ہے اور مسلمان آج بھی بہت سی اقوامِ دیگر سے بہتر ہیں مگر یہ کیا کہ صرف رٹو توتے کی طرح عربی کے چند لفظ رٹ کر صبح شام دہرانا اور یہ امید رکھنا کہ اس سے دنیا و آخرت سنور جائے گی؟ قرآن سمجھنے کی کتاب ہے نہ کے رٹنے کی، اور ویسے بھی مسلمان صاحبِ عزت صرف تب تک تھے جب تک تحقیق کے میدان میں آگے تھے آج اگر کفار خلقِ خدا کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے تو اللہ بھی عزت اسے ہی دے گا جو اس کی مخلوق کے کام آئے۔ جذبات کی رو میں بہک کر ہم بول تو گئے مگر ہم بھول گئے تھے کہ حاجی صاحب جب دلیل سے جواب دینے کے موڈ میں نہ ہوں تو اللہ کے دیئے ہوئے ہاتھ پیروں کا استعمال مباح سمجھتے تھے۔ پانچ منٹ بعد ہم زمین پر بے سدھ پڑے تھے اور حاجی صاحب فرما رہے تھے کہ دیکھو حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے اور تمہارا اس طرح زمین پر پڑا ہونا میرے غالب آنے اور برحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ مزید بحث کی نہ تاب تھی نہ گنجائش۔
پچھلے ہفتے امت مسلمہ کا درد رنگ لے آیا اور حاجی صاحب کو شہر کے مشہور امراضِ قلب کے ہسپتال لے کر بھاگنا پڑا کے دل کا دورہ بہت شدید تھا۔ ہسپتال میں داخل  رہے اور اس کافر نرس کو مسلمان کرنے کی کوشش کرتے رہے جو سوئے قسمت ان کی ڈیوٹی پر مامور تھی۔  ڈاکٹروں نے بتایا کے انجیو پلاسٹی ہوگی- نقاہت سے مجھ سے پوچھا یہ کیا ہوتی ہے؟ میں نے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں یہ اب بہت معمول کی چیز ہے۔ آپ کے جسم میں ایک سوئی جتنا سوراخ ہوگا اور اس کے زریعے جسم کی بند شریانوں کو کھول دیا جائے گا۔ ایک دم سے چہک اٹھے، آپ بڑے گن گاتے تھے نہ ان یہود و نصارا کے! دیکھیں جابر بن حیان کے انسانیت پر احسانات! سبحان اللہ ۔۔۔ ماشاءاللہ ۔۔۔۔ جزاک اللہ ۔۔۔ کیا اعلٰی چیز بنا گئے ہیں، خدا ان کو جوارِ رحمت میں جگہ دے! بھئی جابر بن حیان کے لیئے فاتحہ ہو جائے۔ جب ہم فاتحہ پڑھ کر فارٖغ ہوئے تو اس تقریباٗ یہودی ڈاکٹر نے منہ بنا کر کہا کہ یہ جابر بن حیان کی ایجاد نہیں۔ حاجی صاحب مسکرا کر بولے، شک تو مجھے بھی تھا۔ یہ البیرونی کا کام ہوگا! نہیں؟ ڈاکٹر نے سر ہلا کر کہا نہیں! الفارابی سے الکندی اور پھر ابن زہر سے الزہراوی تک پہنچتے پہنچتے آپ کا رنگ ہر نہیں کے ساتھ اترتا چلا گیا۔ اور جب پتہ چلا کہ یہ ساری تکنیک یہود و نصارٰی کی ہے تو قبلہ حاجی  صاحب نے بغیر علاج کروائے رخصت کا قصد کیا۔
 کل شب حاجی مسلمان احمد نمازی و روزوی و زکٰوتی صاحب مرحوم و مغفور کے سوئم سے فارغ ہوا ہوں تو آج ڈائری لکھنے بیٹھا ہوں۔ 

اتوار، 23 اپریل، 2017

زبان دراز کی ڈائری - 8

پیاری ڈائری!

زندگی میں کبھی یاوہ گوئی کی عادت نہیں رہی اور اب افسوس ہورہا ہے کہ کاش صحیح وقت پر کچھ مناسب گالیاں سیکھ لی ہوتیں تو اس شاعرِ جنوب کو ایک جوابی خط لکھ ڈالتا۔ مگر خیر جو ہوا سو ہوا۔

کل پاکستان سے کسی عاطف صاحب کا محبت نامہ ملا جس میں انہوں نے ملک کے حالات پر معافی مانگنے سے یکسر انکار کردیا تھا اور مُصِر تھے کے صرف شرمندگی سے ہی کام چلایا جائے۔ یقین ہوگیا کہ خط واقعی پاکستان سے ہی آیا ہے کیوںکہ اتنی گھٹیا اردو دنیا کے کسی اور کونے میں نہیں بولی جاتی۔

خط پڑھ کر بہرحال حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی؛ خوشی اس بات کی کہ آج بھی چند لوگ ہیں جو پر امید ہیں اور حیرت اس بات پر کہ پاکستان میں اب بھی لوگوں کو اردو لکھنی یاد ہے؟ یہاں تو اب جتنے بھی پاکستانی آتے ہیں وہ سب تو رومن میں لکھتے ہیں۔ زبان ہی کے تذکرے پر پرسوں علامہ صاحب فرما رہے تھے کہ اردو کی بقا کی واحد صورت یہ ہے کہ امریکہ اسے قومی زبان کے طور پر قبول کرلے۔ خیر علامہ کے فلسفے تو علامہ ہی جانیں۔ مجھے بہرحال خط پڑھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ میں نے پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ لیاقت علی خان نے سمجھایا تو انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ آج کل پاکستانی لیڈران کا سال میں ایک آدھ مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنا فیشن میں ہے۔ خیر جناب، اللہ میاں سے اجازت لی اور ٹہلتے ٹہلتے رات کے کسی پہر کراچی پہنچ گیا۔

مزار سے باہر نکلا تو موٹرسائیکل پر سوار چند لڑکے نما مخلوق زناٹے سے برابر سے گزری۔ اگر سن اڑتالیس میں وقت پر ایمبولینس آگئی ہوتی تو اس بغیر سائلینسر کی موٹر سائکل ریلی کی آوازوں سے سن دو ہزار چودہ میں ضرور کام ہوجاتا۔ دیر تک وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر حواس بحال کرتا رہا۔ ابھی بیٹھے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ایک موٹرسائکل برابر میں آکر رکی اور اس پر سوار دو لڑکوں میں سے ایک نے بندوق نکال کر موبائل مانگ لیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ اول تو میرے پاس موبائل نہیں ہے کہ جنت میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی اور دوسرا یہ کہ موبائل مانگنے کیلئے بندوق نکالنے کی کیا ضرورت؟ اگر آپ نے کسی کو کال ہی کرنی ہے تو مانگنے کے اور بھی عزت دار طریقے ہیں۔۔۔ حد ہوتی ہے!! نوجوان حیرت سے میری شکل دیکھ رہا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، اس کے پیچھے والے لڑکے نے اس کو کہنی مار کر کہا کہ "بڈھا خبطی ہے اور مجھے اس کی شکل جانی پہچانی لگ رہی ہے۔ خوامخواہ جان پہچان نکل گئی تو مسئلہ ہوگا، ٹائم کھوٹا نہ کر اور نکل"۔ پہلے والے نے جلدی سے موٹرسائکل کا گیئر ڈالا اور موٹرسائکل اڑا دی۔ عجیب نامعقول سے لڑکے تھے۔ اگر رک کر میری بات سن لیتے تو کیا پتہ ان ہی سے لفٹ مانگ کر آگے چلا جاتا۔

ان لڑکوں سے فارغ ہوا ہی تھا کہ ایک خاتون آکر گلے پڑ گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ میں کسی شاہ رخ خان سے ملتا ہوں اور اگر میں چاہوں تو یہیں "بابے کے مزار " کے ساتھ والے کمرے میں ان کے ساتھ جاسکتا ہوں۔ میں نے پہلے تو انہیں سمجھایا کہ یہ صرف پسینے کی وجہ سے میرا چہرا چمک رہا ہے اور ان کے خیال کے برعکس میں ویسا چکنا نہیں ہوں جیسا انہوں نے مجھے پکارا۔ دوسری بات یہ کہ میں اس ہی بابے کے مزار سے نکل کر آرہا ہوں اور یہیں ہوتا ہوں۔ وہ بیچاری پتہ نہیں کیا سمجھی اور کھسیانی ہو کر مجھے چند روپیے دینے کی کوشش کرنے لگی۔ میری تو خود یہ معاجرہ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر میں نے پھر بھی اسے سمجھایا کہ میں اس سے پیسے نہیں لے سکتا۔ وہ یہ کہتی ہوئی تیزی سے ایک طرف چلی گئی کہ بابو پتہ نہیں تھا آپ مینجمنٹ والے ہو آئندہ احتیاط کروں گی۔

ان ہی جھمیلوں میں اب رات کے بارہ بجنے والے تھے اور مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس شہر کو ہوکیا گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک مسلسل عجیب کردار ٹکرا رہے تھے۔ سر جھٹک کر میں نے توجہ مزار پر ڈالی تو میرا مزار برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا۔ تیرہ اگست کی رات تھی اور اب چودہ اگست شروع ہونے ہی والی تھی۔ میں خوشی سے اپنے مزار کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک فائرنگ کی بھیانک آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ مجھے لگا کہ شاید ہندوستان نے حملہ کردیا ہے، میں گاندھی کو کوستا ہوا واپس مزار کے اندر بھاگا تو اس مرتبہ گیٹ پر موجود گارڈ نے روک لیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ باہر اس طرح حملہ ہوگیا ہے اور اب اسے بھی مورچہ بند ہوجانا چاہیے تو اس مریض نے ایک طرف منہ میں بھرے خون کی کلی کری اور قمیض کے دامن سے منہ پونچھتے ہوئے بولا کہ چاچا پہلی بار چودہ اگست دیکھ رہے ہوکیا؟ میں نے اس سے کہا کہ میں جشن آزادی اور چودہ اگست کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوں مگر یہ حیوانوں کی طرح برتائو اور اس طرح اندھادھند فائرنگ سے کونسا جشن اور کون سی ملک کی خدمت کی جارہی ہے؟ جواب میں اس نے وہی خون آلود ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور بولا، چاچا، چودہ اگست کو صرف یہ ملک آزاد نہیں ہوا تھا۔ یہ سب درندے بھی آزاد ہوگئے تھے۔ اب جس درندے کے منہ میں اس ملک کے جسم کی جتنی بڑی بوٹی آتی ہے وہ اتنا ہی بڑا لقمہ نوچ لیتا ہے۔ میں نے پوچھا، کہ کوئی ان درندوں کو روکتا کیوں نہیں؟ اس نے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور ایک عجیب سا کتھئی رنگ کا مواد منہ میں رکھتے ہوئے بولا، چاچا، یہ ایک فلمی دنیا ہے۔ یہاں ہیرو ہیروئن بچانے کیلئے غنڈوں کو صرف اس لیئے روکتا ہے تاکہ پکچر کے اختتام پر وہی عزت وہ خود لوٹ سکے۔

اس ساری گفتگو کے دوران میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھ میں آنسو آگئے تھے۔ میں نے موضوع تبدیل کرنے کیلئے اس سے پوچھ لیا کہ یہاں تو قائد اعظم دفن ہیں تو یہاں اتنی بندوقوں کے ساتھ پہرے داری کرنے کی کیا ضرورت؟ وہ میرے قریب آیا اور میرے کان میں تقریباٗ پچکاری مارتے ہوئے بولا، چاچا، اگر یہ قائد غلطی سے بھی دوبارہ زندہ ہوگیا تو ملک کے حالات دیکھ کر انگریزوں کو ملک واپس کردے گا اور ساتھ میں معافی بھی مانگے گا۔ ہم بندوق لیکر اس ہی لیئے کھڑے ہیں کہ قائد نکل کر بھاگ نہ جائیں۔ ملک کی عزت کا سوال ہے، بڑی بدنامی ہوجائے گی۔

مجھے اب اس نامعقول انسان پر شدید غصہ آرہا تھا۔ میں نے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے اس کو جذباتی مار مارنے کی کوشش کی۔ میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس لوٹ مار اور درندگی کے کھیل کے خلاف تمہارے اندر کس قسم کے جذبات ہیں۔ سچ سچ بتانا، تم اس ملک کو لوٹنے والوں کے ذکر پر آبدیدہ کیوں ہوگئے تھے۔ اس کمینے سپاہی نے روہانسی آواز میں جواب دیا، روئوں نہیں تو کیا کروں؟ سب کھا رہے ہیں، ایک ہمیں ہی موقع نہیں مل رہا بس!!

میں اس مردود لمحے کو کوس ہی رہا تھا جب میں نے نیچے آنے کا فیصلہ کیا تھا کہ اچانک محل میں زلزلہ آگیا۔ اب جو دیکھا تو خود کو اپنے ہی محل میں بستر پر پایا۔ خوشی سے سجدہ شکر بجا لایا کہ یہ سب صرف خواب تھا۔ حوروں نے آکر بتایا کہ زلزلے کی وجہ کوئی جون ایلیاء نامی صاحب تھے جو دروازے پر لاتیں اور گھونسے برساتے ہوئے پوچھ رہے تھے کہ وہ علی گڑھ کا لونڈا یہیں رہتا ہے؟؟؟

جون صاحب کی ملاقات کا احوال پھر کبھی، فی الحال اجازت دو۔ کراچی سے جاتے جاتے ایک لفظ سیکھ کر آگیا ہوں، آئندہ کبھی کسی شاعر کا خط آیا تو میں بھی جواب میں لکھ بھیجوں گا ۔۔۔۔۔ کدو!!!

محمد علی

ہفتہ، 20 ستمبر، 2014

تاریخِ پاکستان - جدید

پیارے بچوں!  پاکستان کی بنیاد تو اس ہی دن پڑ گئی تھی جس دن برصغیر میں کسی مسلمان نے پہلا قدم رکھا تھا۔ یہ بات محض افواہ ہے کہ وہ پہلے مسلمان جو اس زمین پر پہنچے وہ اموی سلطنت کے مظالم سے تنگ آکر یہاں پناہ لینے پہنچے تھے۔ یہ سب پڑوسی ملک کی پھیلائی ہوئی افواہیں ہیں اور چونکہ مورخین بھی ذیادہ تر ہندو رہے ہیں اس لیئے وہ باآسانی ان افواہوں کا شکار ہوگئے اور یہ سب افواہیں حقیقت سمجھ کر تاریخ کی کتب میں رقم کردیں۔ خدا ان کے حال پر رحم کرے۔


آپ ان افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے سرکاری نصاب میں لکھی ہوئی بات پر یقین رکھیئے جس کے مطابق سندھ کے راجہ داہر نے چند مسلمانوں کو پکڑ کر قید کر لیا تھا جس پر امت مسلمہ کی غیرت جاگ اٹھی اور حضرت حجاج بن یوسف جو اپنی رحم دلی اور امت مسلمہ کے ساتھ نرم سلوک کیلئے مشہور تھے انہوں نے حضرت محمد بن قاسم کی سربراہی میں ایک لشکر بھیجا جس نے سندھ کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور اسلام کا بول بالا کردیا۔ جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اس زمانے کے تمام مورخ کینہ پرور ہندو تھے لہٰذا انہوں نے راجہ داہر کی بیٹیوں کو خلیفہ کی خدمت میں بطور تحفہ بھجوانے کا ذکر تو کردیا مگر کہیں ان مسلمان قیدیوں کا ذکر نہیں کیا جن کو چھڑانے حضرت محمد بن قاسم یہاں آائے تھے۔ وہ بیچارے زندہ بچے یا مارے گئے؟ اس بارے میں چونکہ تاریخ خاموش ہے لہٰذا آپ بھی خاموش رہیں۔ نیز وہ خزانہ لٹنے اور ہزارہا عورتوں کی عزتیں پامال ہونے والی بات بھی سراسر بہتان ہے۔ اگر آپ کو اس بات پر یقین نہیں ہے تو پاکستان ٹیلیویژن کا شہرہ آفاق ڈرامہ "لبیک" دیکھ لیں جس میں ایسا کچھ نہیں دکھایا گیا ہے۔ اور اگر اکا دکا واقعات ہوبھی گئے ہوں تو جنگ میں اتنا کچھ تو ہو ہی جاتا ہے۔ امریکی افواج نے عراق اور افغانستان میں جو کچھ کیا اس پر تو کبھی شور نہیں اٹھا؟ مسلمانوں کی دفعہ میں ہی سب کو اخلاقیات کا بھوت کیوں سوار ہوجاتا ہے؟


حضرت محمد بن قاسم کی سندھ میں شاندار کامیابیوں اور اسلام پھیلانے جیسی گرانقدر خدمات کے باوجود ان ہندو خواتین کی شکایت پر خلیفۃالمسلمین حضرت سلیمان بن عبدلملک نے انہیں ایک جانور کی کھال میں سلوا کر واپس دمشق بلوالیا۔ وہ کھال اپنی فطرت سے مجبور ہوکر گرمی پاکر سکڑتی رہی اور دمشق پہنچنے تک محمد بن قاسم جس پنچرے میں ڈال کر سندھ سے لےجائے گئے تھے، اس میں سے صرف زنجیریں اور بھوسے کا ڈھیر نکلا۔ اس بات کو یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ خود سمجھ جائیں کہ زندگی کے کسی موڑ پر اگر تاریخ کی کسی کتاب میں یہ واقعہ پڑھنے کو ملے تو آپ گھبرائیں نہیں اور آپ کو یاد رہے کہ یہ افواہ آپ پہلے بھی سن چکے ہیں۔ دوسری اور اہم نصیحت یہ ہے کہ اس واقعے سے ہندوئوں کا ہمارے ہیروز کےخلاف بغض سمجھیں اور حسب توفیق چچ نامہ لکھنے والے قاضی اسماعیل پر چار حروف بھیج کر آگے بڑھ جائیں کہ اگر یہ بات سچ بھی تھی تو مسلمان تو مسلمان کا پردہ رکھتا ہے؟ یہ کون سے مسلمان تھے جنہوں نے اتنے عظیم جھوٹ کو اتنے دھڑلے کے ساتھ چچ نامہ میں جگہ دے کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مکروہ سازش کی؟


پیارے بچوں! ہمیشہ یاد رکھیئے گا کہ آپ کا یہ ملک اور آپ کا یہ دین، ہمیشہ سے ہی کفار کی سازشوں کے نشانے پر رہا ہے۔ جب روائتی طریقوں سے کام نہ چل سکا اور مسلمانوں کا جذبہ ایمانی اس ہی طرح قائم رہا تو کفار نے ایک سازش کے طور پر ہمارے پاک وطن اور پڑوسی ناپاک وطن جو کبھی ہمارے اجداد کی سلطنت کا حصہ ہوتا تھا، میں مزارات کا ایک جال بچھا دیا اور اپنے کارندوں اور کمزور عقیدہ لوگوں کا ایک ہجوم ان مزارات پر جمع کردیا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ افواہ بھی اڑائی گئی کہ برصغیر میں اسلام دراصل ان مزرات میں مدفون بزرگانِ دین کی وجہ سے پھیلا ہے جنہوں نے اپنے کردار سے دنیا کو دکھایا کہ اسلام انسانیت کی بقاء کا ضامن اور سلامتی کا دین ہے۔ اس مذہب میں خلیفہ وقت اور ایک عام آدمی برابر ہوتے ہیں اور ذات، پات، رنگ، نسل کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ اور ان ہی افراد کے کردار سے متاثر ہوکر لوگ جوق در جوق مسلمان ہوتے چلے گئے تھے۔


پیارے بچوں! یہ بات آپ کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ یہ سب محض مسلمانوں کو جہاد سے دور کرنے کی سازش ہے ورنہ دنیا میں کون سا ایسا کام ہے جو طاقت کے زور پر نہ ہوسکتا ہو اور محبت سے ہوجائے؟ یہ سازش دراصل موہن داس کرم چند گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے کو پھیلانے کیلئے ان بزرگوں سے منسوب کی گئی ہیں ورنہ حضرت نظام الدین اپنے وقت کے بہترین تیر انداز اور محمد علی ہجویری ایک ماہر تلوار باز تھے۔ لعل شہباز کے نام سے مشہور جناب عثمان صاحب نے تو کئی جنگیں جیتی تھیں اور عبداللہ شاہ غازی نے تو ویسے ہی اپنے نیزے سے کراچی کے مقام پر سمندر کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔


تاریخِ پاکستان کے موضوع پر واپس آتے ہوئے اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ برصغیر کے مسلمان وقت کے ساتھ جہاد جیسی عظیم چیز کو بھلا بیٹھے تھے اور اس ہی لیئے ہندو ایک بار پھر ان پر مسلط ہوگئے۔ مسلمان محکومی کی اس زندگی سے تنگ تھے مگر اں کی دن رات کی عبادت مقبول ہوئی اور خدا نے اس زمین پر حضرت محمود غزنوی جیسا فرشتہ بھیج دیا۔ محمود غزنوی کو اسلام پھیلانے کا بہت شوق تھا۔ آپ کو جب کبھی اس بات کا علم ہوتا کہ کسی علاقے میں ہندوئوں نے مال جمع کرلیا ہے اور اسے ملت اسلامیہ کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ فورا غزنی سے آکر اس مال اسباب کو اپنے ساتھ لےجاتے تاکہ یہ مال مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کیلئے استعمال ہو۔ آپ نے ہندوستان میں سترہ مرتبہ اسلام پھیلایا۔ اگر کوئی ملک دشمن آپ سے یہ سوال کربیٹھے کہ اگر اسلام ہی پھیلانا تھا تو ایک دفعہ میں ہی رک کر اسلام پھیلاتے یا یہاں اپنا گورنر لگا جاتے جو آپ کی غیر موجودگی میں اسلام کی ترویج پر عمل کرتا؟ تو اس کی باتوں پر چنداں کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا یہ سوال ہی اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ وہ کس حد تک ہندوئوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہے۔ ایسے بندے سے بحث کرنا فضول ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اس کی شناخت سوشل میڈیا پر ڈال دی جائے تاکہ وقت کے محمود غزنوی اس کے گھر جاکر اسلام پھیلا سکیں۔


محمود غزنوی صاحب کے بعد بھی اللہ تعالٰی نے اس سر زمین پر اپنا خاص کرم رکھا اور ایک کے بعد ایک مسلم خاندان یہاں حکمرانی کرتا رہا۔ ہندو اس زمانے میں بھی حکومت چلانے سے زیادہ حکومت کو کھانے میں راحت محسوس کرتے تھے اور اس ہی لیئے حکومت کو زیادہ تر اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے مقابلہ کرنا پڑتا تھا جو ان کی جگہ خود کفار پر حکومت کرنے کا ثواب حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پڑوسی ملک کی فلموں سے متاثرہ لوگ  اسے اکثر محض حکومت کی ہوس، اور مسلمانوں کی باہمی چپقلش سے تعبیر  کرتے ہیں مگر انہیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ دونوں طرف مسلمانوں کے شیر بچے تھے۔ اب شیر کے بچے آپس میں پنچے نہ چلائیں تو کیا کتے بلیوں کی طرح ایک دوسرے کے منہ چاٹیں؟ اور ویسے بھی حکیم امت کے بقول یہ جھپٹنا، پلٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا محض خون گرم رکھنے کا بہانہ ہوا کرتا تھا۔ اب یہ کل کے لونڈے علامہ اقبال سے تو زیادہ نہیں جانتے ہوں گے نا؟


اس باہمی چپقلش کا اختتام بالآخر خاندانی حکمرانی کے سلسلے پر ہوا۔ برصغیر پر حکومت کرنے والے مسلم خاندانوں میں سب سے مشہور مغل خاندان تھا۔ آج بھی بہت سارے وہ لوگ جو خود مچھر تک نہیں مار سکتے، مغلوں کی بہادری اپنے ساتھ جوڑنے کیلئے اپنے نام کے ساتھ مرزا اور بیگ وغیرہ لگا لیتے ہیں کہ عزت کا بھرم رہ جائے اور شہزادے سمجھے جائیں۔


مغل شہنشاہوں میں سب سے مشہور اکبر تھا۔ اکبر کی شہرت کی سب سے بڑی وجہ پہلے خان آصف کی فلم "مغل اعظم" اور انارکلی تھی مگر حالیہ کچھ عرصے میں اکبر اعظم کہلانے والا یہ عظیم فرمانروا اب جودھا اکبر کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اکبر نے ایک شاندار تخلیقی ذہن پایا تھا اور جدت کو پسند کرتا تھا۔ اس کی اس کمزوری کو بیربل نامی ذات کے تیلی اور مذہب کے ہندو نے بھانپ لیا اور اسے غلط راستوں پر لگا لیا۔ بیربل کی ان حرکتوں کا جواب اللہ محشر میں اس سے لیں گے مگر  دنیا مین انتقام لینے کیلئے ہم نے مملکت اسلامی میں بیربل اور ملا دوپیازہ کی کہانیاں مشہور کرادی ہیں جن میں سے ہر ایک کے اختتام پر بیربل ہی ذلیل ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے دشمن اس ہی انجام کے لائق ہیں۔


اکبر اعظم کے بعد جہانگیر عرف شیخو المعروف انار کلی والی سرکار نے مغلیہ سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔ ویسے تو آپ بچپن سے ہی ولی عہد تھے اور اکبر کے انتقال پرملال کے بعد آپ نے ہی حکومت کرنی تھی مگر جب جہانگیر کو یہ پتہ چلا کہ اکبر اعظم نے اسے دھوکہ دیکر انارکلی کو دیوار میں چننے کے بجائے اس سے شادی کرلی ہے اور اسے لاہور میں مال روڈ کے قریب ایک گھر لیکر دے دیا ہے تو جہانگیر کو فطری طور پر غصہ آگیا۔ اس غصے اور انارکلی کی بےوفائی پر اٹھنے والے جذبات کو بعض حاسدین نے بغاوت کا بھی نام دیا مگر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے زندگی میں کبھی محبت کی ہی نہ ہو۔ اپنی ہی محبوبہ کو والدہ کے روپ میں دیکھنے کا کرب کوئی حضرت جہانگیر سے پوچھے جنہوں نے آگے چل کر تزک جہانگیری لکھنی اور مورخ کو کوڑے مار مار کر عدلِ جہانگیری مشہور کروانا تھا۔


جہانگیر کے مرنے کے بعد شاہجہاں نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ شاہ جہاں پیشے کے حساب سے سول انجینئر تھا اور اسے عمارات بنانے کا بہت شوق تھا۔ شاہجہاں ایک اچھا معمار ہونے کے علاوہ مستقبل پر گہری نظر رکھنے والا انسان تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک زمانے میں سیاحت عروج پکڑے گی اور اگر اس نے بھی عمارات تعمیر نہیں کیں تو آنے والے وقتوں میں کوئی ایسی چیز نہیں ہوگی جس پر ٹکٹ لگا کر پیسے کمائے جاسکیں۔ اس خیال کے آتے ہی شاہجہاں نے ملک بھر میں عمارات کا ایک جال بچھا دیا۔ مغلیہ سلطنت میں ہندوئوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سے اس نے کئی مندر تعمیر کروائے جو بٹوارے کے بعد ہندوستانی حکومت نے برباد کردیئے تاکہ شاہجہاں پر  رعایا کا خیال رکھنے والے حکمران کے بجائے صرف مسلمانوں کا خیال رکھنے والا حکمران کا الزام لگایا جاسکے۔ پیارے بچوں! زرا خود سوچو کہ جس رحم دل حکمران نے اپنے ہرن کے مرنے پر شیخوپورہ میں ہرن مینار کھڑا کردیا ہو اس نے اپنی اکثریت میں موجود رعایا کیلئے کوئی ایک مندر نہیں بنوایا ہوگا؟ اور اگر نہ بھی بنوایا ہو تو اس میں کوئی ایسا عیب نہیں۔ ہر حکمران اپنے ہی دین کو اپنی حکومت میں پروان چڑھاتا ہے ناکہ مخالف کے دین کو۔ اگر کوئی آپ سے یہ کہے کہ پھر ہمیں چین میں روزہ رکھنے پر پابندی پر بھی نہیں کڑھنا چاہیئے تو یہ جان رکھیئے گا کہ وہ طاغوت کا ایجنٹ اور ہمالہ سے اونچی اور بحر ہند سے گہری پاک چین دوستی خراب کرنا چاہتا ہے۔ ایسے انسان سے بحث تو کیا، سلام دعا بھی نہیں رکھنی چاہیئے۔ شاہجہاں کے بارے میں اگر لکھا جائے تو کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں مگر آپ تھوڑے کو غنیمت جانیں۔ شاہجہاں کے بارے میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ وہ ایک نہایت رحم دل، محبت کرنے والا انسان اور ایک سچا مسلمان تھا۔ اس کے دل میں رعایا کا بےحد درد تھا۔ بعض روایات میں تو یہ بھی آتا ہے کہ اس کی موت بھی ہارٹ اٹیک سے ہی ہوئی تھی۔ رعایا کیلئے اس کے درد کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک مرتبہ اس کی نظر ممتاز محل نامی ایک عورت پر پڑی جس کا شوہر اس کے ساتھ ناروا سلوک رکھتا تھا۔ رعایا کی محبت میں شاہجہاں نے اس عورت کے خاوند کی گردن اڑوادی۔ وہ بیچاری عورت اب آٹھ بچوں کے ساتھ بیوگی کا پہاڑ کیسے کاٹتی؟ شاہجہاں سے اس کی تکلیف دیکھی نہیں گئی لہٰذا صرف انسانی ہمدردی کے تحت اس نے ممتاز محل سے شادی کرلی۔ شادی کے بعد شاہجہاں نے اس عورت کو دنیا کی ہر خوشی دی اور اسے کبھی خالی پیٹ نہیں رکھا۔ مورخین کے مطابق شادی کے نو سال میں ان دونوں کے دس مزید بچے پیدا ہوچکے تھے۔ مذکورہ بالا جملے کے بعد شاہجہاں کا ممتاز محل کیلئے بےتحاشہ پیار کسی اور وضاحت کا محتاج نہیں۔ اٹھارہ بچوں کی فوج کھڑی کرنے کے بعد بھی شاہجہاں نے اپنے بیوی کو خالی پیٹ نہ رکھنے کے وعدے کی لاج رکھی جس سے اس کے راسخ العقیدہ مسلمان اور زبان کا پکا انسان ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ ممتاز محل مگر اس مرتبہ پیٹ کی کچی نکلیں اور انیسویں بچے کی دفعہ میں مرگئیں۔ شاہجہاں نے ان کے مرنے کے بعد تاج محل بنوایا جو بٹوارے کے وقت جلدی جلدی سامان سمیٹنے کے چکر میں ہندوستان میں ہی رہ گیا۔ اللہ زید حامد کو زندگی دے، کل پرسوں تک انشاءاللہ ہم تاج محل واپس پاکستان لے آئیں گے۔ تاج محل بنانے کے بعد بھی ممتاز  کیلئیے شاہجہاں کی محبت کم نہیں ہوئی تھی لہٰذا صرف اس بیوی کی یاد میں انہوں نے ممتاز کی چھوٹی بہن سے شادی کرلی۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اس مرتبہ شادی کرنے کیلئے شاہجہاں کو اس کے میاں کو کسی دور کے محاذ جنگ پر نہیں بھیجنا پڑا ہوگا۔


شاہجہاں کے بعد عنان اقتدار حضرت اورنگزیب کے پاس آگئی۔ اورنگزیب عالمگیر اپنے وقت میں ریڈ بل کے برانڈ ایمبیسیڈر تھے اور کسی نیک کام میں تاخیر کے قائل نہیں تھے۔ جب تیس سال گزرنے کے بعد بھی شاہجہاں کی حکومت ختم نہیں ہوئی تو آپ نے بوریت سے تنگ آکر اپنے والد ماجد کو ایک کوٹھڑی میں اللہ اللہ کرنے کیلئے بھیج دیا اور ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں خود اقتدار سنبھال لیا۔ آپ نہایت متقی اور پرہیزگار انسان تھے۔ آپ نے زندگی میں نہ کبھی کوئی نماز چھوڑی نہ اپنے کسی بھائی کو زندہ چھوڑا۔ نمازیں پھر بھی پانچ تھیں جبکہ بھائی سترہ تھے۔ مگر جیسے ہم نے پہلے عرض کیا کہ شیر کے بچے اگر پنچے نہیں ماریں گے تو ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا اورنگزیب ایک نہایت متقی انسان تھے۔ سلطنت سے ہونے والی تمام آمدنی آپ "مغل ویلفیئر ٹرسٹ" میں جمع کرادیتے تھے اور خود ٹوپیاں سی کر گزارہ کرتے تھے۔ بعض بد بختوں نے اس تاریخی جملے میں سے لفظ "سی" کو" دے" سے تبدیل کرکے، ٹوپیاں دے کر گزارہ کرتے تھے، کردیا ہے مگر ہم کتنی دفعہ عرض کریں کہ یہ سب محض ایک پروپیگنڈہ اور سوچی سمجھی سازش ہے؟ اورنگزیب جیسا فرشتہ صفت بادشاہ برصغیر میں نہ آیا نہ کبھی آئے گا۔ آپ کے طرزِ حکومت کے قریب اگر کوئی کبھی پہنچ سکا تو وہ صرف جنت مکانی ضیاء الحق صاحب تھے جن کا بیان آپ مطالعہ پاکستان کی کتاب میں ملاحظہ کریں گے۔ امت مسلمہ پر آپ کے احسانات کو یاد کرکے، اور آپکے دور میں شروع ہونے والی نیکیوں کی برکت سے آج بھی روزانہ کسی نہ کسی ماں کی آنکھوں میں آنسو آ ہی جاتے ہیں کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان ہر سال ماہِ محرم میں اٹھنے والے فساد کی ابتداء آپ ہی کے مبارک دور میں ہوئی تھی۔


پچاس سال حکومت کرنے کے بعد جب اورنگزیب عالمگیر دنیا سے رخصت ہوئے تو اتحاد بین المسلمین عروج پر تھا۔ شیعہ سنی اور دیوبندی بریلوی سب مل جل کر رہتے تھے۔ مورخین البتہ اس زمانے میں بھنگ کے عادی ہوگئی تھے اور نشے میں الٹی سیدھی باتیں لکھ جایا کرتے تھے۔ اس بھنگ کے نشے ہی کی وجہ سے آپ دربار میں مسلکی بنیادوں پر چپقلش، کاروبارِ ریاست سے بے تعلقی، راگ رنگ کی محافل جیسی چیزوں کے بارے میں سنتے ہیں۔ نیز محمد علی شاہ رنگیلا نامی کردار بھی اس ہی بھنگ کے نشے کی پیداوار ہے ورنہ مسلمان ہمیشہ سے ہی راگ رنگ اور خواتین کے چکروں سے دور رہے ہیں۔ اور یہ تو پھر مغل بچے تھے، جو پیدا ہی تلواروں کے سائے میں ہوتے تھے۔ ان سے اس قسم کی لغو باتیں منسوب کرنا محض کمینگی اور مسلمانوں سے بغض ہے۔ آئندہ آپ سے کوئی پوچھے کہ پھر انگریزوں کی حکومت کیونکر آئی تو انہیں بتا دیجیئے گا کہ مسلمان کی پہچان اس کی سخاوت سے ہے۔ ویسے بھی مغل اب اتنے عرصے حکومت کرکے تھک چکے تھے اور اب گوشہ نشینی کی زندگی چاہتے تھے لہٰذا جیسے ہی انہیں کوئی حکومت کرنے کا اہل طبقہ دکھا، انہوں نے تخت و تاج ترک کے ویرانوں کی راہ لی اور باقی عمر اللہ اللہ کرتے گزار دی۔


مغلوں کے جانے اور انگریز کے آنے کے بعد جو کچھ ہوا وہ آپ جدید مطالعہ پاکستان میں ملاحظہ فرمائیں گے۔

جمعرات، 13 فروری، 2014

Valentine's Day


دل کی گہرائیوں سے آپ تمام احباب کو شبِ ویلنٹائن ڈے مبارک ہو۔ آج تیرہ فروری ہے اور انشاءاللہ کل کا سورج ہم پر چودھویں شریف (المعروف ویلنٹائن ڈے) لے کر طلوع ہوگا۔ اس بلاگ میں ہم آپ کو اس دن سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔

تعارف:
یہ سال کی وہی مبارک تاریخ ہے جو محبت کرنے والوں سے منسوب ہے، ہرگاہ کچھ میڈیا نہ اندیش لوگ یہ افواہ بھی اڑاتے پائے گئے ہیں کہ ان سینٹ ویلنٹائن سے پہلے بھی لوگ محبت کیا کرتے تھے مگر یہ نری افواہ ہے سو اس پر کان نہ دھرا جائے اور خشوع و خضوع سے اس دن کا اہتمام کیا جائے۔ گوکہ اس عظیم دن کا آغاز یورپ کی تاریک گلیوں میں ہوا مگر اس دن کو صحیح عظمت برِ صغیر آکر ہی ملی۔ صحیح کہا تھا کسی نے کہ ہیرے کی قدر صرف جوہری ہی کرسکتا ہے۔ سو چونکہ یہ دن محبت سے منسوب ہے اور محبت کوئی کام نہیں ہے لہٰذا اس میدان میں کوئی ہمارے قریب تک نہیں پہنچ سکا۔
خدا فیض صاحب کا بھلا کرے کہ اچھے وقتوں میں ہی عشق کو کام سمجھنے کے نقصانات بتا گئے، سو ہم نے من حیث القوم نہ کبھی عشق کو کام سمجھا اور نہ کبھی کام سے عاشقی کرنے جیسے غیر مسلمانہ فعلِ قبیح کے مرتکب ہوئے۔

آداب:

اعمالِ شبِ چودھویں شریف:
رات ہوتے ہی محبوب کو کال ملا لیں (اس سے پہلے کے کوئی اور ملائے)۔ ہر سال کی طرح امسال بھی میڈیا زمہ دارانہ صحافت اور ہمدردیِ خلقِ خدا کا ثبوت دے گا اور آپ کو انشاءاللہ ایک ہفتہ پہلے سے ہی یاددہانی کروانا شروع کردے گا۔ سننے میں آیا ہے کہ بعض اداروں نے تو الٹی گنتی کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اجرکم ال اللہ

اعمال روزِ چودھویں شریف:

غسل:
روایات سے ثابت ہے کہ اس دن کو غسلِ شرعی کرنا چاہئے (دن کے آغاز میں بھی) کیونکہ اگر پچھلے ویلنٹائن پر ملا عطر ختم ہو بھی گیا ہو تو یہ غسل کم سے کم ایک/دو گھنٹے کیلئے آپ کی عزت اور محبوب کی ذندگی دونوں پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ البتہ اگر صورتحال گمبھیر ہو رہی یو تو تحفے میں ملنے والا پرفیوم چیک کرنے کے بہانے ہی لگا لیں کہ زندہ رہے گی/گا تو ملتی/ملتا رہے گی/گا۔  

لباس:
اچھے سے اچھا کپڑا پہنیں بلکہ پچھلے سال کی طرح دوست سے مانگ کر اوقات سے اچھے کپڑے پہنیں کیونکہ سامنے والی/والا بھی میاں منشاء کی بیٹی/بیٹا نہیں ہے اور آج کا گلابی سوٹ اپنی کسی دوست سے "کیسی/کیسا کوئی کنجوس کمینی/کمینہ ہے تو، بھین/بھای کی کھسیوں سے جلیوس ہوریا/ہورئی ہے، دیکھ لڑکا/لڑکی گولستانِ جوہر سے آریا/آرئ اے، کیا سونچیں گا/گی" کہہ کر لایا/لائی ہے۔

کھجور:
اصل مطلب وہی ہے جو آپ سمجھے ہیں سو آگے چلئیے۔ اور اگر آپ کو واقعی نہیں پتہ کے ڈیٹ پر کیا کرنا ہے تو صرف ایک کام کیجئے کہ بیچاری/بیچارے کی جان بخش دیجئے۔ "ایویں ٹیم کھوٹا نہ کریں"۔

خیر صاحب یہ تو تھی مذاق کی باتیں۔ اب ویلنٹائن ڈے منانا چاہئے یا نہیں؟ صرف ایک دن کی تخصیص کیوں؟ کیا مذہب اور تہذیب ان سب کی اجازت دیتے ہیں؟ میں ان سب سوالوں کے جواب نہیں جانتا ۔۔۔۔ میرا سوال تو بس اتنا ہے کہ ۔۔۔۔۔

کیا آپ کسی کوئٹہ کے ہزارہ یا کسی گمشدہ بلوچ اور کسی دفاعِ وطن کیلئے اجڑے ہوئے گھرانے کے لواحقین کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دیں گے کہ محبت کے اس دن پر وہ سب سے پہلے میری محبت کے حقدار ہیں؟؟؟؟ پلیز؟؟؟؟؟

منگل، 17 دسمبر، 2013

زبان دراز کی ڈائری - ۲


ڈائری کی پہلی تحریر بھی کیا خوب رہی- اچھن میاں تو پڑھتے ہی کہہ اٹھے کہ میاں دنیا والوں کے لیئے اور تکالیف کیا کم تھیں کہ تم نے ڈائری اور لکھنا شروع کر دی؟ سخت بات کہنا ان کی خاندانی عادت ہے سو میں اب برا نہیں مانتا۔ قریشی صاحب جو محلے کے مانے ہوئے ادیب ہیں کو جب پتہ چلا کہ محلے میں ان کے علاوہ کسی اور نے بھی لکھنے کی کوشش کی ہے تو بقولِ چناب غصہ سے جامنی ہی تو ہو کر رہ گئے- چناب کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تو سرخ ہونے کی تھی مگر موجودہ رنگت کے حساب سے وہ صرف جامنی ہی ہو پائے- مجھے چناب پر ٹوکنے سے پہلے یہ خود فیصلہ کر لیں کے کیا واقعی ہم نے راوی کو اس قابل چھوڑا ہے کہ وہ کوئی کام کر سکے؟؟ خدا جھوٹ نہ بلوائے،راوی سے زیادہ تو زکام میں ہمارے چھوٹے بیٹے کی ناک بہہ لیتی ہے۔ قریشی صاحب کے تعارف میں اتنی ہی بات کافی ہے کہ موصوف کا ایک خط ہمدرد نونہال میں چھپ گیا تھا اور تب سے انہوں نے خود ادیب [ظاہر ہے زبردستی] کہلوانا شروٰع کردوا دیا۔ بزرگوں نے سمجھایا بھی کے آپ کے نام کے ساتھ یہ ادیب کا لاحقہ میل نہیں کھاتا مگر جناب مصر تھے کہ جب "مرزا ادیب" ہو سکتے ہیں تو "قریشی ادیب" کیوں نہیں؟ نیز یہ کہ محلے کے سارے بزرگ تعصبی ہیں اور ایسے لوگوں سے قرض ادھار رکھنا کارِگناہ ہے۔ تِس پر تمام اہلیانِ محلہ نے مل کر ان کے اس خط کے قصیدے پڑھے اور تعریف کی باقاعدہ بالٹیاں برسائیں نیز قریشی صاحب کو ان تمام اوصاف جمیلہ سے بھی روشناس کرایا گیا جو ان کی بے حد محبت کرنے والی ماں بھی کبھی ان میں نہ دیکھ پائیں تھیں۔ قریشی صاحب کو ان تمام باتوں پر یقین آگیا اور محلے داروں کے گھر ایک بار پھر سے ادھار پر گوشت آنے لگا۔ خیر ہمیں کسی کی برائیوں سے کیا لینا دینا ویسے بھی ہم نہ تو پٹھان ہیں نہ غیبت خور کے پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کریں۔ واللہ اعلم بالصواب 

آج ہمارے بیٹے کے سکول سے شکایت آئی تھی سو ہم سکول جا پہنجے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دستور بھی بدلتے جاتے ہیں[یا شاید وقت ایک جیسا رہتا ہے اور انسان بل جاتے ہیں؟] ، ہمارے زمانے میں فیل ہونے پر بچہ ذلیل ہوتا تھا آج کل اس ہی بات پر استاد ذلیل ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے ایک دوست سے یہ بات کی تو کھسیانی ہنسی ہنس کر بولے  "کیا کیجیئے صاحب۔ ہمارا پیشہ ہی ایسا ہے!" اور میں سوچتا رہ گیا کہ علم بانٹنا کب سے پیشہ بن گیا؟ ہمارے زمانے میں پیشہ کوٹھوں پر اور علم مکتب میں ملتا تھا مگر شاید اب مکتب میں بھی ۔۔۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا، سو بہرحال ہم سکول پہنچ کر ان کے استاد سے ملے جن کا کہنا تھا ہمارے بیٹے کو اردو تلک ٹھیک سے نہیں آتی اور یہ ہر لَفَظ کا تُلفَظ غَلْط  ہی کرتا ہے۔

 

فی الحال اجازت کے کل بیٹے کا داخلہ کرانے نئے سکول جانا ہے۔

والسلام

ایک اردو زدہ انسان

جمعرات، 12 دسمبر، 2013

زبان دراز کی ڈائری

آج کا دن بہت اعتبار سے تاریخ ساز رہا- سب سے اہم اور تاریخی بات تو یہ رہی کہ سالہا سال ہمت جمع کرنے کے بعد آج ہم نے ڈائری لکھنا شروع کر ہی دی۔ دیر آید درست آید کا محاورہ جو آپ کے ذہن میں آیا ہے اسے محفوظ رکھیں اور میرے ساتھ مل کر دعا کریں کے اس ڈائری کے اختتام تک یہ تبدیل ہو کر "تھوڑی اور دیر سے نہیں آ سکتے تھے؟" نہ ہو چکا ہو-

ڈائری نہ لکھنے کی وجوہات میں خدانخواستہ ہماری کم سخنی یا وقت کی تنگی شامل نہیں، اصل سبب یہ احساس تھا کہ زمانے والے [آپ اسے تھانے والے بھی پڑھ سکتے ہیں] صرف ہماری سوچ کی بنیاد پر ہمیں نہیں پکڑ سکتے اور جب تک کوئی ثبوت نہ ہو ہماری قابل دست اندازیِ پولیس قسم کی سوچ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

الحمدللہ نہ سوچ بدلی ہے اور نہ پولیس، بس ہم ایک کالعدم تنظیم میں شامل ہو گئے ہیں سو اب انشاءاللہ زمانہ کیا، تھانہ بھی ہمارا کچھ نہہں بگاڑ سکتا۔ سو آج سے ہم بھی بابا سید عاطف علی المعروف ڈائری والی سرکار کہلائیں گے۔

آج کا دن سائنس دانوں کے لیئے بھی بہت بڑا ثابت ہوا ہے۔ تقریباَ تیرہ سو سال کی انتھک محنت کے بعد اور خدا جانے کتنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر سائنس آج بالآخر اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کے شیعہ اور سنی دونوں کا خون ایک جیسا ہی ہوتا ہے اور دونوں کے لواحقین کو اپنے کسی عزیز کے جانے اور بالخصوص زبردستی بھیجے جانے پر ایک جتنی ہی تکلیف ہوتی ہے- مجھے تو خیر اس ساری ریسرچ سے ایک بہت گہری اور گھنائونی یہودی سازش کی بو آتی ہے- اس ہی وجہ سے میں کہتا ہوں ہم مسلمان ان ریسرچ جیسے فتنہ پرور چیزوں سے دور رہیں تو بہتر ہے۔
یہ خبر میں نے امیر صاحب کو بتائی تو بہت ہنسے، کہنے لگے: میاں! تو تم یہ کہ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ محشر میں مجھ سے واقعی یہ نہیں پوچھیں گے کے ابوطالب مسلمان تھے یا نہیں؟ اور کیا پل صراط پر شیعہ سنی ساتھ چلائے جائیں گے؟ لاحول ولا قوۃ
میرے دماغ میں جتنے وقتی وسوسے اس امریکہ مردود نے ڈالے تھے سب دور ہو گئے اور دل ایمان کی روشنی سے جگمگ جگمگ کرنے لگا۔ بعض حاسدوں نے اس کی وجہ اس حقیر نذرانے کو جانا جو امیر صاحب نے جیب خرچ کے لیے مجھے دیا تھا مگر لوگوں کا تو کام ہی باتیں بنانا ہے-

اس وقت تو مجھے اسکائپ پر ایک امریکی کافرہ کو مسلمان کرنے کیلیئے اس سے کچھ پیار بھری باتیں کرنی ہیں کہ مولانا صاحب نے سکھایا ہے کے دعوت کا کام ہمیشہ محبت سے کرنا چاہیئے- سو اب اجازت-

صدق اللہ العظیم

والسلام
ڈائری والی سرکار

منگل، 10 دسمبر، 2013

قائد کا خط میرے نام

قابل برداشت پاکستانیوں

میں نے بہت چاہا کے اس خط کا آغاز "میرے عزیز ہم وطنو" جیسی کسی چیز سے کروں مگر پھر یاد آیا کہ آج کل یہ جملہ کسی سویلین کے منہ سے اچھا نہیں لگتا۔ پیارے پاکستانی لکھنے پر حکام جنت کو اعتراض تھا کہ یہاں دل رکھنے کے لیئے بھی جھوٹ بولنا منع ہے۔ جون ایلیاء تو مصر تھے کے اول تو یہ "بھان کے گھوڑے" اس قابل نہیں کے ان سے کلام کیا جائے، اور اگر اتنا ہی ضروری ہے تو "ابے او وغیرہ وغیرہ" جیسی کسی چیز سے اس خط کا آغاز کیا جائے؛ ان سے نظر بچا کر "قابل برداشت پاکستانیوں" لکھ رہا ہوں سو اس ہی کو غنیمت جانیں۔

خط کے آغاز میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ آپ لوگوں کے عقیدے کے برخلاف ہر وہ جگہ جہاں بجلی نہ جائے اور خودکش دھماکے نہ ہوں اسے جنت نہیں کہتے۔

شاید آپ جاننا چاہتے ہوں گے کے یہاں سب کیسا ہے تو جنت میں بہت سکون ہے اور ہم سب بہت آرام سے ہیں سوائے علامہ صاحب کے؛ بیچارے آج کل بےخوابی کا شکار ہیں۔ جوش
صاحب کے پوچھنے پر بتایا کے ڈر لگتا ہے کے اگر سویا تو ہھر سے کوئی خواب نہ دیکھ لوں۔

پچھلے کچھ دنوں سے ایک صاحب روزانہ آ کر گفتگو کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کل میں نے پوچھ ہی لیا کے وہ ہیں کون؟ بولے: پاکستانی ہوں! اقبال بے دھیانی میں پوچھ بیٹھے کہ "جنت میں کیا کر رہے ہو؟" ۔۔۔ شاید ناراض ہو گئے کیونکہ آج نظر نہیں آئے۔

 ویسے تو مجهے شاعری سے کوئی خاص شغف نہیں مگر علامہ صاحب کی وجہ سے مجبورا مشاعروں میں جانا پڑ جاتا ہے. ابهی پرسوں بهی فیض صاحب کے گھر مشاعرہ تھا اور خوب محفل رہی۔ یہاں کا مشاعرہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے کہ یہاں شعراء گھر سے پی کر نہیں آتے بلکہ سب اہتمام محفل میں ہی ہوتا ہے۔ جالب صاحب البتہ نہیں پیتے کہ سرکاری چیز خواہ شراب ہی کیوں نہ ہو حرام ہے، مولانا حالی نے سمجھانے کی کوشش کی تو سیخ پا ہو کر خوب شور کیا۔ گفتگو کیا رہی یہ تو شور میں سمجھ نہیں آئی البتہ ایک جملہ کچھ "میں باغی ہوں میں باغی ہوں" جیسا بار بار سنائی دیا۔

احمد ندیم قاسمی صاحب بتا رہے تھے کے آپ لوگو کی مجھ سے محبت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور انتہا یہ ہے کہ میری شکل دیکھے بغیر اب آپ لوگ کوئی کام نہیں کرتے؟ ناصر کاظمی نے کہا کہ مجھ پر بات آجائے تو لوگ خونی رشتوں کو میری تصاویر پر قربان کر دیتے ہیں؟ محسن نقوی نامعلوم کیوں پہلو بدلتے رہے اور آخر میں یارۃِ ضبط کھو کر بول اٹھے کے بات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ اب تو یہ صورتحال ہے کہ ناصر صاحب اچھے وقتوں میں چلے گئے ورنہ قائد کی چند تصویروں کے عوض یہ بھی ناصر کاظمی مرحوم کی جگہ شہید ناصر کاظمی کہلاتے۔ مجھے اس ساری گفتگو کی سمجھ نہیں آئی البتہ احباب کے سرخ چہروں سے میں نے سمجھا یہ میرے بارے میں اچھی گفتگو ہو رہی ہے۔

بیچارے جون ایلیاء، ناصر کاظمی، محسن نقوی، مصطفیٰ زیدی، جوش صاحب وغیرہ آج کل سخت پریشان ہیں اور چھپتے پھر رہے ہیں کے کسی مولوی نے کہا ہے کے کوئی حکیم اللہ صاحب جنت میں آنے والے ہیں۔ قرض ادھار کا معاملہ لگتا ہے- دعا کیجیئے گا!

والسلام
محمد علی

یہ ایک تخیلاتی خط ہے جو ہم پاکستانیوں کے نام قائداعظم محمد علی جناح نے لکھا ہے۔ پڑھتا جا شرماتا جا

پیر، 9 دسمبر، 2013

بَل قاٰعدہ

جب سے سنا تھا کہ ہر بڑا آدمی بلاگ لکھتا ہے تو فطرتاَ یہ شوق ہوا کہ ایک پلاٹ اپنے نام نہ سہی مگر بلاگ ضرور اپنے نام سے ہونا چاہیئے۔ [بڑا آدمی بننے کا تو یاد نہیں البتہ بڑا آدمی دکھنے کا شوق ہمیں بچپن سے ہے]۔

چونکہ اس، اور آنے والے ہر بلاگ کی زبان اردو ہو گی اس لیئے احتیاطا٘ اردو کا جدید اور ذاتی مرتب کردہ قاعدہ اس بلاگ میں حاظر ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے "زبانِ بلاگِ یار اردو، کہ من اردو نمی دانم"۔ محظوظ ہوئیے ۔۔۔

بَل قاٰعدہ

الف:
پرانے زمانے میں اس سے انار آتا تھا مگر آج کل سب کچھ پیسوں سے آتا ہے.
حاصل گفتگو: اب الف سے کچھ نہیں آتا

ب:
کسی زمانے میں بلّا ہوتا تھا مگر اب یہ بلّا ایک سیاسی جماعت لے گئی-
اب ب سے بَلائیں آتی ہیں

پ:
پ سے جو پتنگ آتی ہے اس کے بارے میں گفتگو کرنا حرام ہے... باقی آپ سمجھدار ہیں!
وضاحت: پ سے پیسے بھی آتے تھے جو اب صرف کرپشن سے آتے ہیں

ت
ت سے تتلی آتی ہے جو بڑی ہو کر پھلجھڑی بنتی ہے اور مزید بڑی ہو کر شادی کر لیتی ہے
وضاحت: تاڑو ت سے نہیں بد قسمتی سے آتے ہیں

ٹ
... ٹ سے جو ٹماٹر آتے تھے وہ اب دو سو روپے سے بھی نہیں آتے
وضاحت: ٹکلا ٹ سے نہیں آپ کے ووٹ سے آتا ہے سو اب بھگتیں

ث:
ث سے آنے والی چیزوں میں سب سے قابل ذکر ثنا ہے- ماشاءاللہ
وضاحت: ث سے جو ثمر آتا ہے اس کا مطلب گرمی نہیں پھل ہوتا ہے

ج:
چے کے چھوٹے بھائی کو ج کہتے ہیں!!!
مثال: جہالت، جمہوریت، جیو، جنگ وغیرہ وغیرہ

چ
اردو زبان کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ چ ہے - شرفاء میں اسے احمق بھی کہا جاتا ہے.
وضاحت: جو آپ سمجھے اصل مطلب وہی ہے

ح
ح سے پہلے حیرت ہوتی تھی- آج کل یہ حیرت لوگوں کو دیکھ کر ہوتی ہے.
ح الفاظ: حوالدار ، حکمران ، حرامی

خ
خ سے پہلے خلوص آتا تھا.. آج کل خونی رشتوں سے بھی نہیں آتا.
وضاحت: مصنف بلاوجہ جذباتی ہو رہا ہے آپ خربوزہ کھائیں

د
... دال سے صرف گیس آتی ہے باقی باتیں آپ کی عزت رکھنے کیلئے مشہور ہیں

ذ
ذ سے اب اردو دانوں کے لیئے صرف ذلت ہی آتی ہے-
شکریہ

ر
ر سے تو آج کل صرف رونا ہی آتا ہے
وضاحت: ریٹویٹ ر سے نہیں بیہودگی اور گالیوں سے آتی ہے

ز
پہلے زن ز سے آتی تھی آج کل ٹویٹر پر خود محنت کرنی پڑتی ہے!
سوال: سنا ہے ز سے آنے والے زر کیلئے بھی اب انتخاب لڑنا پڑتا ہے؟

س
پہلے س سے سی این جی آتی تھی اب دو گھنٹے کی ذلت کے بعد بھی نہیں آتی
س سے شروع ہونے والے جملے: س آن ہے بھائی وغیرہ وغیرہ

ش
ش سے پہلے نیک شہید آتے تھے مگر ملّا کے فضل سے آج کل کتے "ہی" شہید ہو رہے ہیں-
سنجیدہ نکتہ: شرم و حیا ش سے نہیں اچھی تربیت سے آتی ہے

ص
ص سے صراحی آتی تھی جو دو نسلوں پہلے متروک ہو چکی ہے - آج کل اس نام کا ایک بناسپتی آتا ہے بس..
ص سے شروع ہونے والے جملے: ص آگیا بادشاہو

ط
بچپن میں اس سے طوطا آتا تھا مگر آفتاب اقبال کے خبرناک کے بعد اب وہ بھی ت سے آتا ہے-
وضاحت: طاہرالقادری ط سے نہیں جی ایچ کیو سے آتا ہے

ظ
ظ سےپہلےظروف(برتن) لائےجاتےتھے آج کل اس کام کیلئےنکاح کر لیا جاتا ہے جس سے کھانا پکانے والی بھی مل جاتی ہے-
ظرف ظ سےنہیں کردار سےآتا ہے

ع
آج کل ع سےصرف ایک سابقہ کرکٹرکانام آتا ہےجبکہ عورت ع سےنہیں اپنی مرضی سے آتی ہے!
نوٹ:  آپ جب اس بلاگ کا تذکرہ احباب سے کریں گے تو شیطان آپ کو روکے گا!!!

غ
کسی زمانے میں غ سے غیرت آتی تھی مگر اب کسی بات پر نہیں آتی-
وضاحت: آپ کے اساتذہ سدا کے جھوٹے تھے، آپ بخوبی واقف ہیں غبارہ پیسوں سے آتا ہے

ف
ف سے سرکاری فوارہ ہوتا ہے جس کی برکت سے ٹھیکیدار کا پورا گھر بن جاتا ہے
وضاحت: فالوور ف سے نہیں گندی ٹویٹس اور لڑکی کی تصویر سے آتے ہیں

ق
ق سے پہلے قائد اعظم آتے تھے مگر زیارت میں گھر تباہ ہونے کے بعد انہوں نے بھی آنا چھوڑ دیا!!!
سنجیدہ نکتہ: قائد اب واقعی نہیں آتے

ک
ک سے پہلےکتاب آتی تھی اب کیسےبھی نہیں آتی. ملک کے بیشتر حصوں میں قائد اب ک سےآتےہیں.
وضاحت: کافر ک سے نہیں مولویوں کے فتووں سے ہوتے ہیں-

گ
بچپن میں گ سے گائوں ہوتا تھا آج کل حقارت سے ہوتا ہے
تشریح: کچے مکانوں اور پکے رشتوں سے بنی چھوٹی سی بستی کو اکثر گائوں کہتے ہیں

ل
ل سے اور مسلسل آنے والی سب سے مشہور چیز لوڈ شیڈنگ ہے.
[وضاحت: یہ واحد لفظ ہے جو کسی مسلم لیگی دھڑے سے نہ جڑا ہو [ن ج ق ض وغیرہ وغیرہ

م
مرغا اور ملک دونوں م سے آتے ہیں بس پہلے مرغا کھایا ور ملک چلایا جاتا تھا جبکہ اب ملک کھایا اور مرغا بنایا جاتا ہے
وضاحت: یہ محض اتفاق ہے کہ محبت اور موت دونو م سے ہیں

ن
ن سے آنے والی نرگس پہلے اپنی بے نوری پہ روتی تھی آج کل سٹیج پر ناچ کر شرفاء کو رلاتی ہے۔
وضاحت:  لفظ "گنجا" ن سے نہیں آتا یہ افواہ ہے

و
آج کل و سے واہ واہ آتی ہے اور جسے کرنی آتی ہے اس کی زندگی بن جاتی ہے۔
وضاحت: سیف علی خان اردو والا "و" نہیں بولتا

ہ
ہ سے عوام کے حصے میں ہمیشہ ہاتھ آتا ہے ۔۔۔
اگر آپ حکومتی ارکان میں سے ہیں تو میرے ساتھ مل کے دوبارہ پڑھیں "یہ سب میڈیا کا پروپیگنڈا ہے"

ی/ے
ی سے پہلے یکّہ/تانگہ آتا تھا مگر اب تانگے کا ذکر کرنے سے شیخ رشید صاحب برا مان جاتے ہیں ۔۔۔
نوٹ: گدھے کو باپ بنانے والا محاورہ "ی/ے" سے نہیں آتا

غور سے پڑھنے کا شکریہ ۔۔۔ اس امید کے ساتھ اجازت کے کاوش پسند آئی ہو گی ۔۔۔

ملتمس دعا
احقر
سید عاطف علی

09-Dec-2013

[polldaddy poll=7629240]

بلاگ فالوورز

آمدورفت