اتوار، 27 نومبر، 2016

زبان دراز کی ڈائری - میرے رشکِ قمر


پیاری ڈائری،
لوگوں کو بھی کسی حال میں چین نہیں ہے۔ جہاں مشہور آدمی دکھا نہیں اور ان کے نفسیاتی عوارض ویسے ہی  امڈ آتے ہیں جیسے کسی بھی زندہ مادہ کو دیکھ کر برصغیر کے مردوں کے جذبات۔  زندگی میں پہلی مرتبہ جب ٹیلیویژن پر آئے تھے تو ہم نے کب سوچا تھا کہ ٹاک شو کی میزبانی،  ایک دن ایسی بلائے جان بن جائے گی کہ وہ ہمارے ابلے ہوئے انڈے کے منہ والے ایک سینئر کے بقول، الحذر الحذر!
بھئی قصہ کچھ یوں ہے کہ جب سے لوگوں کو پتہ چلا  تھا  کہ محلے کا چوکیدار تبدیل ہونے والا ہے تب سے سب ہمارے پیچھے پڑ گئے  تھے۔  اب انہیں کون سمجھائے کہ چوکیدار ایک نہایت متقی اور قناعت پسند آدمی ہوتا ہے ۔  اس کی ان ہی صفات کی بنا پر اور "محض انسانی ہمدردی کے جذبات کے تحت" ہم سب بہن بھائیوں نے یہ طے کر لیا تھا کہ ہم لوگ حسب استطاعت اور حسب موقع اس کے جوتے چمکا دیا کریں گے۔ اور مرد تو وہی ہوتا ہے جو اپنی زبان کا پکا ہو۔  عورت پتہ نہیں کیا ہوتی ہے۔ شاید خود عورت کو بھی نہ پتہ  ہے اور نہ اسے فکر ہے سو اس غیر ضروری بات کو چھوڑکر واپس مدعے پر آتا ہوں کہ ایک بار تہیہ کرنے کے بعد ہم کبھی اپنی زبان سے نہیں پھرے۔ جب اور جہاں جتنا موقع ملا ہم نے ان جوتوں کو چمکایا۔ برش نہ ملا تو ہاتھ سے اور پالش میسر نہ ہوئی تو زبان سے ۔چوکیدار بدلتے گئے مگر ہم اپنی زبان سے نہ پھرے۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ ہم نے چوکیدار کے حلیے میں پھرنے والے کسی عام آدمی کے جوتے بھی چمکا دیئے کہ کہیں آگے چل کر یہ چوکیدار نہ بن جائے اور تب ہماری عدم توجہی اور وعدہ ایفا نہ کرنے کا رنج رکھے۔ غرضیکہ ہم یہاں مومن کی ایک زبان والے قول کے پیچھے چلتے  رہے اور یہ مردود محلے دار ہمارے پیچھے پڑ گئے۔ کمینگی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے!
پیاری ڈائری! یہ بات تو میں بتانا ہی بھول گیا کہ چونکہ چوکیدارعمر میں ہم سے بڑے ہوتے ہیں اور تہذیب دار گھرانوں میں بڑے باپ سمان ہوتے ہیں سو ہم بھی چوکیدار کو ابو مانتے آئے ہیں۔ بھلا بتاؤ کہ محلے کے خصیص لوگوں کو اس بات پر بھی اعتراض ہے؟ وہی ابلے ہوئے انڈے کے منہ والے سینئر ایک بار پھر یاد آگئے کہ یا للعجب! یہ بات تو ساری دنیا مانتی ہے کہ چیزوں میں جدت تراشنا ہمارا خاصہ ہے ۔  جہاں پوری دنیا منہ بولے بچے رکھتی ہے اور کسی کو اعتراض نہیں ہوتا وہاں ہم نے منہ بولے ابو رکھ لئے تو سب کو مرگی کے دورے پڑنے لگے؟ ایسے مواقع کے لئے ہی تو شاعر نے کہا تھا کہ، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ تو خیر، اب یہ سارے محلے دار ہمارے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ چونکہ  آپ لوگ ٹیلیویژن پر آتے ہیں اور ساری دنیا کی خبریں رکھتے ہیں سو اب اپنے نئے آنے والے ابو کا نام بھی پیشگی بتائیں۔
اب اس سادے سے دکھنے والے معاملے میں  سب سے بڑی دقت یہ تھی کہ اگر غلطی سے غلط نام بتا دیا تو نئے آنے والے چوکیدار نے پیشگی مخاصمت پال لینی تھی اور چوکیدار (جو کہ جیسا میں نے بارہا بیان کیا ہم بہن بھائیوں کے لئے باپ سمّان ہوتا ہے ) کی ناراضگی کا مطلب بتاتے ہوئے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔  اور صحیح نام پتہ ہوتا تو ہم ان احمق محلے داروں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اس سے سلام علیک نہ بڑھا لیتے؟ اب یہ بات ان چھوٹے لوگوں کو کون سمجھائے؟ بہتر یہی تھا کہ جب کوئی اس موضوع پر بات کرنے کی کوشش بھی کرتا تو میں بات کو گھما کر کہیں اور لے جاتا کہ باخبر ہونے کا بھرم بھی رہے اور خدانخواستہ انجانے میں کسی گستاخی سے بھی بچا جا سکے۔
اللہ اللہ کرکےیہ مشکل وقت کاٹا اور آج جب نئے چوکیدار کے نام کا اعلان ہونے والا تھا تب ہی محلے میں رہنے والا ایک منحوس شاعر آن ٹپکا کہ بھائی چوکیدار تو آنی جانی شے ہیں۔ آپ آج کے پروگرام میں اس مملکت اللہ داد کے گھٹن اور ہوس زدہ  معاشرے کے بارے میں بات کریں کہ جہاں اسلام کے نام پر آباد ایک شہر میں ایک باپ اپنی ہی سگی بیٹی کے ساتھ چار سال تک مسلسل زیادتی کرنے کا جرم ثابت ہونے پر کل عمر قید کا   سزاوار ٹھہرایا گیا ہے۔ جہاں کل ایک آٹھ سالہ معصوم کلی کو محض اس جرم میں مسل دیا  گیا کہ وہ اس دکان پر اکیلی سودا لینے پہنچ گئی جہاں ایک ہوس کار درندہ بھوکا بیٹھا تھا۔ چوکیدار کے موضوع پر آپ کے پروگرام کرنے سے پڑوسی کے چوکیدار سے ہمارے محلے کے چوکیدار کی لڑائی ختم نہیں ہوگی کہ اس لڑائی پر ٹیلیویژن دیکھنے والوں کا کوئی اختیار نہیں ہے مگر اس گھٹن اور ہوس زدہ معاشرے پر سوال اٹھانے سے شاید معاشرے میں ایسے لوگ اٹھ کھڑے ہوں جو اس گھٹن کے خاتمے کے بارے میں کچھ کر سکیں۔ اور کچھ نہ بھی ہو تو کم از کم اپنے گھروں میں بہتری لا سکیں!
پیاری ڈائری! لوگوں کو بھی کسی حال میں چین نہیں ہے۔ جہاں مشہور آدمی دکھا نہیں اور ان کے نفسیاتی عوارض ویسے ہی  امڈ آتے ہیں جیسے کسی بھی زندہ مادہ کو دیکھ کر برصغیر کے مردوں کے جذبات۔  زندگی میں پہلی مرتبہ جب ٹیلیویژن پر آئے تھے تو ہم نے کب سوچا تھا کہ ٹاک شو کی میزبانی،  ایک دن ایسی بلائے جان بن جائے گی کہ وہ ہمارے ابلے ہوئے انڈے کے منہ والے ایک سینئر کے بقول، الحذر الحذر!
اس مردود شاعر کو لاتیں مار کر گھر سے نکالا اور پچھلے چار گھنٹے سے لاؤڈ سپیکر پر استاد نصرت فتح علی خان کی مشہور زمانہ قوالی، میرے رشکِ قمر لگا کر بیٹھا ہوا تھا تو اب جا کر مزاج بحال ہوا اور یہ ڈائری لکھنے بیٹھا۔ آج مجھے کامل یقین ہوگیا ہے کہ نصرت فتح علی خان ایک دو ر رس انسان تھے اور ان کا کل کلام ایک طرف مگر ان کی بخشش اس ہی میرے رشکِ قمر کی ادائیگی کے صدقے میں ہونی ہے۔ یاد رکھنا یہ بات سب سے پہلے میں نے تمہیں بتائی ہے۔
زبان دراز بوٹ چاٹوی

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فالوورز

آمدورفت