جمعرات، 30 جون، 2016

ہمزاد

تم نے کبھی خودکشی کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟
اس کے اس سوال پر میں سوچ میں پڑ گیا۔ہم دونوں اس وقت ساحل پر موجود تھے۔ ہم دونوں یہاں شام گئے پہنچے تھے اور اب رات اپنی تمام تر ظلمتوں کے ساتھ ہم پر چھائی ہوئی تھی۔ اگر تم اس وقت مجھے دیکھتے تو تمہیں لگتا کہ میں خودکلامی میں مصروف ہوں مگر یہ خود کلامی نہیں تھی۔ میرا ہمزاد، میرا عکس، میرا عاطف، مجھ سے باتیں کرنے اکثر آجایا کرتا تھا۔ ہم دونوں دوست مل کر یونہی کبھی کسی باغ میں ٹہلنے نکل جاتے۔ کبھی ساحل پر آنکلتے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ میں اپنی اسٹڈی کا دروازہ بند کرلیتا اور ہم دونوں وہیں بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کرتے رہتے۔ آج جب وہ آیا تو میں اسے لیکر ساحل پر آگیا۔ سمندر مجھے ہمیشہ سے اپنا اپنا محسوس ہوتا ہے۔ جس مساوات  کا مظاہرہ یہ سمندر کرتا ہے میں خود بھی ویسا ہی بننا چاہتا ہوں۔ بغیر حفاظتی اقدامات کیئے سمندر کے اندر اترنے کی کوشش کرو تو یہ شیطان اور فرشتے، انسان اور درندے، کالے اور گورے  میں فرق کیئے بغیر سب کو ایک جیسی موت دیتا ہے۔ میں بھی ایسا ہی مساوات پسند ہونا چاہتا ہوں۔ شاید اس ہی لیئے سمندر سے سیکھنے گاہے بگاہے سمندر کے چکر لگاتا رہتا ہوں۔
 اُس کے خودکشی کے بارے میں سوال پر میں سوچ میں پڑگیا۔ پھر کچھ دیر نیم تاریک سمندر کو بے دھیانی میں تکتے ہوئے میں نے انکار میں سر ہلا دیا۔  اس کے چہرے پر  چھائی دلچسپی اچانک ناگواری میں بدل گئی۔ گویا  کوئی بچہ دور سے اپنے مرغوب کھلونے کو دیکھ کر دوڑتا ہوا آیا ہو اور جب قریب پہنچے تو اسے معلوم ہو کہ یہ وہ چیز نہیں جو وہ سمجھا تھا۔ اس نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر ناگواری  سے کہا، تم کب سے مجھ سے، یعنی اپنے آپ سے جھوٹ بولنے لگے؟ یہ کام تو محض انسانوں کو زیب دیتا ہے! تو میں بھی تو ایک انسان ہی ہوں! میں نے  اس کی جانب دیکھے بغیر جواب دیا۔ اس نے ایک بڑا سا قہقہہ لگایا اور میرا چہرا اپنی جانب موڑ کر بولا، تم کب سے انسان ہوگئے؟تم تو محض احساس کمتری کی بدترین کیفیت یعنی خود ترسی اور خود ترحمی کا شکار ایک وجود ہو جو انسانی خد و خال رکھتا ہے۔ تم یہ رکیک بات میرے بارے میں کیسے کہہ سکتے ہو؟ میں نے تنک کر اس سے پوچھا۔  اس نے ایک کمینی مسکراہٹ چہرے پر پھیلا کر جواب دیا کیوں کہ تمہیں جاننے کے لئے مجھے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہارا ہی عکس ہوں۔ جو تم ہو سو میں ہوں اور جو میں ہوں سو تم ہو! اور میں جانتا ہوں کہ ہم دونوں احساس کمتری کے اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہم لوگوں کی اغلاط کو بھی صرف اس وجہ سے معاف کردیتے ہیں کہ ساری عمر خود کو سنا سکیں کہ دیکھو میں نے انتقام کی طاقت رکھتے ہوئے بھی بدلہ نہیں لیا۔ ہم یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اس کا بدلہ نہیں دے سکتے، لوگوں کے پیچھے مسلسل خرچ ہوئے چلے جاتے ہیں  تاکہ انہیں احساس شرمندگی میں مبتلا کرکے اپنی انا کی تسکین کر سکیں۔   ہم جان بوجھ کر روح پر آزار پالتے ہیں تاکہ دنیا کو دکھا سکیں کہ ہم نے کانٹوں کی فصل کاٹ کر بھی بدلے میں سوائے پھولوں کے کچھ نہیں دیا۔ ہم انسان کیسے ہوسکتے ہیں؟ تم انسان کیسے ہوسکتے ہو؟ انسان تو بے ضرر ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ خود کو نقصان پہنچاتا ہے۔  ہماری تمہاری طرح اپنے پیاروں کی زندگی میں آہستگی سے وہ زہر نہیں گھولتا کہ جس کا تریاق سوائے ہمارے وجود کے کچھ بھی نہ ہو اور ایک وقت ایسا  نہ آجائے کہ ان کی زندگیوں میں ہمارے سوا کچھ نہ بچے اور ہمارے وجود کے بغیر ان کی زندگیوں کا تصور ہی مٹ جائے۔ اور ستم ظریفی یہ کہ جب تک وہ اس مرحلے تک نہ پہنچ جائیں ہم ان سے اس بات کا شکوہ بھی رکھتے ہیں کہ ان کی زندگیوں میں اب تک وہ مقام کیوں نہیں آیا ہے۔ انسان اتنا سفاک نہیں ہوسکتا ۔ہم انسان نہیں ہوسکتے! تم انسان نہیں ہوسکتے!  جذبات کی رو میں وہ مسلسل بولتا چلا گیا اور اپنا جملہ مکمل کرنے کے بعد ایک طرف حقارت سے تھوک کر بیٹھ گیا اور ہانپنے لگا۔
تھوڑی دیر تک ہم دونوں یونہی خاموشی سے ساحل پر بیٹھے رہے اور پھر میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا دیا اور اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے ساحل پر چلنے لگا۔  سمندر کی لہریں ہمارے پیروں کو بھگو رہی تھیں اور نرم ریت میں پیر دھنسے جاتے تھے۔ لہر جب واپس سمندر کی سمت لوٹتی تو اپنے ساتھ ہمارے پیروں کے نیچے کی مٹی کو بھی سرکاتی جاتی تھی۔ گویا ہمارے وجود کی نجاست کو صاف کرنے اسے اپنے ساتھ سمندر میں لے جانا چاہتی ہو۔ فضا میں سوائے سمندر کی لہروں کی موسیقی کے، مکمل خاموشی تھی۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد جب میں نے محسوس کیا کہ اس نے مدافعت ترک کردی ہے اور اب مجھے اسے کھینچنا نہیں پڑ رہا تو میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور گویا ہوا، یہ ساری باتیں جو تم نے کہیں، شاید تمام کی تمام سچ تھیں۔ مگر تم نے کبھی سوچا کہ یہ ساری خصوصیات جو تم نے مجھ سے منسوب کی ہیں یہ پہلے بھی کسی اور سے منسوب رہی ہیں۔ ایک اور بھی ہے جو اس نقشے پر پورا اترتا ہے؟ میری بات سن کر اس نے پہلے مجھے حیرت سے دیکھا اور پھر ہنستے ہنستے دوہرا ہوگیا۔ وہ مجھے میری کمینگی پر صلواتیں سناتا جاتا تھا اور ہنستا جاتا تھا۔ جب ہنستے ہنتے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تو وہ رکا  اور اپنی آنکھوں سے پانی صاف کرتے ہوئے بولا، میں نے غلط سوال تو نہیں کیا تھا،  تم نے  واقعی کبھی خودکشی کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟۔

اس رات ساحل پر دیر تک ہمارے قہقہے گونجتے رہے تھے!

منگل، 28 جون، 2016

داستان الف لیلہ - قصہ رمضان ٹرانسمیشن اور بیمار کھسرے کا

تو جب تین سو سڑسٹھویں رات آئی تو شہرزاد نے بدستور کہانی کہنا شروع کی،

قصہ رمضان ٹرانسمیشن اور بیمار کھسرے کا

تو ہوا کچھ یوں کے کسی ملک میں نفسیاتی مسائل کا شکار لوگوں کا ایک ہجوم رہتا تھا جو یوم آزادی، یوم دفاع، پڑوسی ملک کے ساتھ کھیل کے مقابلے وغیرہ جیسے سال کے چار پانچ مخصوص ایام میں اپنے آپ کو قوم  کہلوایا کرتا تھا۔ ایسی بات نہیں کہ ان لوگوں میں اتفاق و اتحاد نام کو بھی نہ ہو۔ جب کبھی اپنے عقیدے یا سیاسی مفاد کی بات آتی تو یہ لوگ ایک جٹھ  ہوجاتے تھے۔
 سیدھے سادھے لوگ تھے اس لئے کسی بھی بات کی تحقیق کے جھمیلے میں نہیں پڑتے تھے اور بحث و تکرار کو گناہ جانتے ہوئے مخالف کو سیدھا زمین میں گاڑ دینے کی کوشش میں سرگرداں رہتے تھے۔  ملک کی سرکار نے اس ہی لئے خاندانی منصوبہ بندی کی وزارت مستقل طور پر بند کرکے اس کے حصے کے فنڈز بھی سوشل میڈیا پر خرچ کرنا شروع کردئے تھے۔
قتل و غارت کا یہ کھیل اپنے عروج پر جاری تھا مگر اکثریت میں موجود عوام کچھ اس کھیل میں حصہ نہ لے پانے کی وجہ سے بھی اور چند دیگر وجوہات کی بنا پر بھی شدید احساس کمتری کا شکار تھی۔  محرومیوں کی وجہ سے ملک میں حسِ مزاح تیزی سے مرتی جارہی تھی اور ایک وقت ایسا بھی آگیا  کہ لوگوں نے ایکسکیوز می آپ بھی اور عینجھل تک پر ہنسنا چھوڑ دیا  اور  کپل جانی کے شو کو کامیڈی شو کہنا شروع کردیا۔
حالات جب اس حد تک خراب ہوگئے تو ہوتے ہوتے یہ خبر بادشاہِ وقت تک بھی پہنچ گئی۔ بادشاہ ، تمام بادشاہوں کی طرح بادشاہ آدمی تھا سو اس نے اپنے ذہنِ رسا کو بروئے کار لاتے ہوئے آنے والے ماہِ مقدس میں ایک نئے گیم شو کا اعلان کردیا۔ ملک بھر میں منادی کی گئی اور چن کر ایک ذہنی بیمار کھسرے کو اس گیم شو کی میزبانی کے لئے منتخب کرلیا گیا۔
وہ بیمار کھسرا اپنے وقت کا مشہور فنکار تھا اور مشہوری میں رہنے کا ہنر جانتا تھا۔  اس نے لوگوں کی نفسیات کو دیکھتے ہوئے اپنے گیم شو میں روزانہ شام کو پگڑی اچھالنے کا مقابلہ رکھنے کا اعلان کردیا۔  اعلان ہونے کی دیر تھی کہ ملک بھر سے لوگ لائنیں اور پرچیاں لگوا کر اس مقابلے میں شامل ہونے پہنچ گئے۔  مقابلے میں شریک یہ تمام لوگ خدمت انسانی کے جذبے سے سرشار تھے سو رضاکارانہ طور پر اپنی پگڑیاں اچھلواتے تھے تاکہ مقابلہ دیکھنے والے لوگوں کو احساس رہے کہ ان کی زندگی میں کتنے ہی مصائب سہی، مگر وہ اس قسم کی ذلت سے محفوظ ہیں۔  بیمار کھسرا چونکہ  ایک نہایت رحم دل آدمی تھا اس لئے وہ آنے والوں کی قربانیوں کے عوض انہیں اعتراف خدمت کے طور پر چھوٹی موٹی یادگاریں بھی عطا کردیا کرتا تھا۔
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا کہ وہ نفسیاتی لوگوں کا گروہ تھا اس لئے یہ عظیم انسانی خدمت انہین راس نہیں آئی اور جتنے لوگ گیم شو کا پاس نہ حاصل کرسکے وہ اس گیم شو کو ہی گالیاں دینا شروع ہوگئے۔  چند ایک نے جذبات میں آکر گیم شو کو دیکھنا ہی بند کردیا اور باقی جو اب بھی دیکھ رہے تھے انہوں نے اسے کتوں والا شو کہنا شروع کردیا۔ بیمار کھسرا بڑے دل کا آدمی تھا۔ اسے جب اس سب کی خبر ہوئی تو اس نے شو دیکھنا بند کرنے والوں کے لئے پگڑی اچھال شو میں ہر کچھ دن بعد ایک سپیشل آئٹم نمبر کا تڑکا لگانا شروع کردیا جس میں بنیادی انسانی ضرورت یعنی ٹھرک کے مختلف پہلو لوگوں کے سامنے رکھے جاتے تھے۔ جہاں تک اس شو کو کتا شو کہنے والوں کا تعلق تھا تو ان کی خوشنودی کے لئے اس نے پروگرام میں کتوں کی طرح زبان نکالنے، کتوں کی طرح بھونکنے اور کتوں کی ہی طرح ایک دوسرے کو بھنبھوڑنے کے مقابلے بھی رکھوانے شروع کردیا۔ کہتے ہیں کہ خلوص کبھی رائگاں نہیں جاتا سو اب جو لوگ گیم شو نہیں بھی دیکھنا چاہتے تھے وہ محض آئٹم نمبر اور کتوں والی پرفارمنس کے انتظار میں وہ شو دیکھنا شروع ہوگئے۔ 
کہتے ہیں کہ جہاں انسان کے چار دوست ہوتے ہیں وہیں چالیس دشمن بھی! بعض حاسدین نے  "جو غلط ہے سو غلط ہے میں تو شکایت ہی لگاؤں گا" کا نعرہ لگا کر بیمار کھسرے کے خلاف بادشاہ کے کان بھرنا شروع کردیئے۔ بادشاہ کے بارے میں پہلے ہی بیان ہوچکا ہے کہ وہ بادشاہ آدمی تھا سو اس نے اعلان کردیا کہ اگر لوگ اس گیم شو کو واقعی گھٹیا سمجھتے ہیں تو اسے دیکھنا چھوڑ دیں۔ جس دن ریٹنگ آنا بند ہوگئی اس ہی دن یہ شو بند کردیا جائے گا۔

یہاں پہنچ کر شہرزاد خاموش ہوئی تو دنیا زاد نے دریافت کیا کہ آیا پھر وہ شو بند ہوا؟ شہرزاد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ پچھلے ڈیڑھ سو سال سے وہ بیمار کھسرا ریٹنگ کے نت نئے ریکارڈ بنا رہا ہے اور اگلے ڈیڑھ سو سال تک بھی اس میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے! اتنے مفید گیم شو کا آئیڈیا دینے اور اس کہانی کو بیان کرنے پر بادشاہ نے شہرزاد کی جان ایک دن کے لئے مزید بخش دی اور اسے چ موبائل کی گاڑی دینے کا بھی اعلان کردیا۔اب دیکھتے ہیں شہرزاد اگلے دن کیا کہانی سناتی ہے!

پیر، 27 جون، 2016

قصہ گو

شاید وہ رات ہی عجیب تھی یا اس رات نانا ابا کچھ عجیب تھے۔ یا شاید رات ہوتی ہی عجیب ہے اور نانا ابا شروع سے ہی عجیب تھے اور دراصل اس رات میں خود ہی کچھ عجیب تھا جو چیزوں کو محسوس کرسکتا تھا۔  اصل واقعہ جو کچھ بھی رہا ہو مگر یہ بات طے ہے کہ کچھ نہ کچھ عجیب ضرور تھا۔
سردیوں کی رات تھی اور میں نانا ابا کی برابر والی چارپائی پر لیٹا رضائی میں دبک کر کہانی سننے میں مصروف تھا۔  یہ ہمارا سالوں کا معمول تھا۔ امی کے انتقال کے وقت میری عمر کم تھی سو نانی امی مجھے اپنے ساتھ لے آئیں تھیں۔ نانا ابا اور نانی امی کی چارپائیوں کے درمیان ایک تیسری چارپائی کا اضافہ کردیا گیا تھا اور میں ان دونوں کے درمیان سونا شروع ہوگیا۔ تھوڑا ہوش سنبھالا تو نانی امی نے ہمیں کہانیوں کی لت لگا دی۔ روز رات کو جب تک ایک نئی کہانی نہ سن لیتا میں سو نہیں پاتا تھا۔ نانی اماں نے شروع شروع کے جوش میں ہمیں یہ لت تو لگادی مگر جلد ہی ان کی کہانیوں کا محدود ذخیرہ جواب دے گیا جبکہ ہمیں روز ایک نئی کہانی سننے کی عادت پڑچکی تھی اور پرانی کہانیاں ہمیں مزہ نہیں دیتی تھیں۔ نانی اماں ہماری فرمائشوں سے زچ ہوچکی تھیں  مگر ہم اپنی فرمائشوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے سو مجبورا یہ کہانی سنانے والا محکمہ نانا ابا کو سنبھالنا پڑگیا اور گزشتہ کئی سالوں سے وہ روز مجھے ایک نئی کہانی سناتے آئے تھے۔  ان کے پاس ایک خیالی بستہ تھا جسے وہ کہانیوں کی پٹاری کہتے تھے۔ روز رات کو وہ ہوا میں ہاتھ گھما کر اس پٹاری کو کھولتے اور کچھ پڑھنے کا ناٹک کرکے مجھے کہانی سنانا شروع کردیتے۔ جنوں پریوں کی کہانیاں، نبیوں ولیوں کے قصے، شہزادے شہزادیوں کے کارنامے، جانوروں کی مزے مزے کی کہانیاں، سبق آموز کہانیاں، مزاحیہ کہانیاں غرضیکہ دنیا کی کون سی دلچسپ کہانی تھی جو اس پٹاری میں موجود نہ تھی۔
جیسا میں نے عرض کیا کہ  سردیوں کی اس رات میں کچھ نہ کچھ عجیب ضرور تھا کہ اس رات اول تو نانا ابا پٹاری کو کھولنے پر راضی نہیں تھے اور جب راضی ہو بھی گئے تو انہوں نے وہ کہانیاں سنانا شروع کردیں جن کا میرے نزدیک سرے سے کوئی سر پیر تھا ہی نہیں۔ ان کی پہلی کہانی ایک درخت کی تھی جو سورج کی دھوپ سے سخت پریشان تھا۔ وہ روزانہ صبح مالی سے درخواست کرتا کہ اسے اٹھا کر کسی چھپڑ کے نیچے منتقل کردیا جائے کہ وہ اس تپش کے عذاب سے بچ سکے مگر مالی کو شاید اس کی زبان سمجھ میں ہی نہیں آتی تھی۔  وہ روزانہ اپنے بچوں کو لیکر اس درخت کے نیچے یہ کہتا ہوا بیٹھ جاتا کہ باغ میں اس سے زیادہ سائے دار درخت ممکن نہیں ہے اور جتنی ٹھنڈی اس درخت کی چھاؤں ہے یہ درخت ضرور جنت سے آیا ہے۔ ادھر درخت جب یہ سنتا کہ اس کے اپنے سائے میں لوگ جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں اور وہ خود کڑی دھوپ میں جلتا رہتا ہے تو اس کا خون مزید کھول جاتا۔ کہتے ہیں کہ جس کا کوئی نہیں ہو اس کا خدا بھی نہیں ہوتا مگر شاید اس معاملے میں ایسا نہیں تھا۔ جو فریاد وہ دن رات مالی سے کرتا تھا وہ ایک دن خداوند نے سن لی اور اس کے برابر میں لگے دونوں درخت اذنِ خداوندی سے بڑے ہونے شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی شاخوں اور پتوں نے ایک سائبان کی شکل اختیار کرکے اس درخت کو مکمل طور پر اس طرح گھیرے میں لے لیا کہ سورج کی ایک کرن بھی اس پر براہ راست نہ پڑسکتی تھی۔ نانا ابا سانس لینے کے لئے رکے تو میں نے سوال داغ دیا کہ پھر کیا ہوا؟ نانا ابا مسکرائے یا شاید مجھے لگا کہ وہ مسکرائے، بہرحال انہوں نے کہا کہ پھر یہ ہوا کہ مالی اپنے بچوں کے ساتھ ان دوسرے درختوں کے نیچے بیٹھنے لگا اور جو درخت کڑی دھوپ سے نہ جل سکا تھا وہ حسد سے جل کر سوکھ گیا اور ایک وقت آیا کہ مالی کو اسے کاٹ کر اس کی لکڑی کو باقاعدہ ایندھن بنا کر جلانا پڑ گیا۔
یہاں تک پہنچ کر نانا ابا خاموش ہوگئے تھے۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا کہ شاید وہ اب اس کہانی کو کسی اچھے انجام کی سمت لے جائیں گے مگر نانا ابا تو کہانی مکمل کرکے اپنی آنکھ میں آیا کچرا صاف کرنے میں مصروف ہوگئے تھے۔ جب نانا ابا اپنی آنکھ کی صفائی سے فارغ ہوکر بھی خاموش رہے تو تنگ آکر میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ پھر اس کہانی کا انجام کیا ہوا؟ نانا ابا نے میری طرف دیکھا اور ایک کمزور مسکراہٹ میری سمت اچھال کر بولے، ہر کہانی کا انجام لازمی نہیں ہے کہ ہر قاری یا سامع کو سمجھ بھی آسکے۔  میں نے تمہاری طبیعت پر بوجھ ڈالا مجھے معاف کردو۔ مجھےیہ کہانی چھیڑنا ہی نہیں چاہئے تھی۔
میں حیرانی سے نانا ابا کی شکل دیکھ رہا تھا۔ نانا ابا وضعدار آدمی تھے۔ غلطی پر ہوتے تو اور بات تھی مگر میں نے انہیں کبھی غلطی کرتے دیکھا نہیں تھا سو کسی سے معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں رضائی سے نکل کر نانا ابا کے پاس پہنچ گیا تھا اور ان کے گالوں کو چوم کر میں نے انہیں یاد دلایا تھا کہ انہیں معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک کہانی غلط ہوگئی تو کیا ؟ وہ مجھے کوئی دوسری کہانی بھی سنا سکتے ہیں۔ نانا ابا نے مجھے بہت زور سے بھینچا تھا اور میری آنکھوں کو چوم لیا تھا۔ یہ ان کا ہمیشہ کا طریق تھا۔ جب وہ مجھ پر بہت لاڈ میں آتے تھے تو میری آنکھوں کو چوم لیتے تھے۔ نانی اماں کہتی تھیں کہ میری آنکھیں بالکل امی کی جیسی تھیں۔ خدا جانے! تو اس رات بھی نانا ابا نے میری آنکھوں کو چوما اور مجھے ایک دوسری کہانی سنانا شروع ہوگئے۔
ایک مرتبہ ایک انسان گھومتا پھرتا در در کی ٹھوکریں کھاتا ایک ایسی جگہ جا نکلتا ہے جہاں وہ جو چاہے سو پا سکتا ہے۔ تمہیں پتہ ہے کہ وہ وہاں جا کر کس چیز کی خواہش کرتا ہے؟ نانا ابا نے اپنے لہجے میں پراسراریت سموتے ہوئے کہانی کے بیچ میں مجھ سے سوال کیا تھا۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ کس طرح میں نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔ نانا ابا نے شاید میرا جواب جاننے کی زحمت بھی نہیں کی تھی کیونکہ میرے سر ہلانے سے پہلے ہی وہ بولنا شروع ہوگئے تھے کہ وہ انسان بہت زیرک تھا! اس نے حقارت سے ایک نظر وہاں پڑے زر و جواہر و سونا چاندی کو دیکھا اور ان سب کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے آپ سے ملنے کی خواہش کردی! معرفتِ ذات والے ملنے کی نہیں! اپنے ہم زاد سے ملنے کی! ایک ایسے انسان سے ملنے کی جو اسے اس ہی طرح برت سکے جس طرح وہ دنیا کو برتتا آیا تھا۔اچھے یا برے سے قطع نظر۔ عین اس کے جیسا!  اس سوال پر اس جگہ کا مالک بہت جزبز ہوا اور اسے ہفت اقلیم دینے کی پیشکش کردی بشرطیکہ وہ خود سے ملنے کی اس خواہش سے باز آجائے کہ ایسا ممکن نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں خود اس کے جیسا کوئی کردار آسکتا ہو۔تم سن رہے ہونا؟ نانا ابا نے کہانی کے بیچ میں میری توجہ ماپنے کے لئے مجھ سے پوچھا تھا اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ مجھے کہانی کا سر پیر سمجھ نہیں آرہا تھا مگر پھر بھی میں اس وجہ سے کہانی کو توجہ سے سن رہا تھا کہ میں جانتا تھا کہ نانا ابا کی سنائی ہوئی کہانی کا آغاز کیسا ہی ہو وہ اختتام تک پہنچنے سے پہلے بہت مزے کی ہوجاتی تھی۔ میری توجہ اپنی جانب پا کر نانا ابا نے مجھ سے پوچھا کہ تم جانتے ہو اس کے بعد کیا ہوا ہوگا؟  میں نے اس بار نفی میں سر ہلا دیا۔  نانا ابا نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور بولے، وہ شخص ایسا بد دل ہوا کہ اس نے اس جگہ پر تھوکا اور واپس اس جگہ روانہ ہوگیا جہاں تمام مسافر سفر مکمل کرکے آرام کرنے پہنچ جایا کرتے تھے۔
کہانی کو اس موڑ پر پہنچا کر نانا ابا خاموش ہوگئے اور اس بار یہ خاموشی کبھی نہ ختم ہونے والی تھی۔میں اتنا چھوٹا نہیں رہا تھا کہ یہ بات نہ جان سکوں کہ اس قسم کی لایعنی کہانیوں کا مقصد محض مجھ سے جان چھڑانا تھا سو میں نے نانا ابا کوشب بخیر کہا اور سونے کے لئے لیٹ گیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ صبح جب میں سو کر اٹھوں گا تو نانا ابا ہمیشہ کے لئے سو چکے ہوں گے۔ آج برسوں بعد یہ کہانی اس لئے یاد آگئی کہ میری بیٹی کو بھی میری ہی طرح کہانیاں سننے کی عادت ہے اور آج جب میں نے کہانی سنانے کے لئے پٹاری میں ہاتھ ڈالا تو وہی خود سے ملاقات والی کہانی میرے ہاتھ میں آگئی۔

آج کی رات بہت عجیب ہے ۔ جیسی عجیب وہ رات تھی یا اس رات میں کچھ عجیب ہوں ۔ یا شاید رات ہوتی ہی عجیب ہے اور میں بھی شروع سے ہی عجیب تھا  اور دراصل آج رات کچھ زیادہ ہی عجیب ہے جومیں  چیزوں کو محسوس کرسکتا ہوں ۔  اصل واقعہ جو کچھ بھی رہا ہو مگر یہ بات طے ہے کہ کچھ نہ کچھ عجیب ضرور ہے۔

جمعہ، 3 جون، 2016

زبان دراز کی ڈائری - سوختہ

پیاری ڈائری!
ایک زخم ابھی بھر نہیں پاتا کہ دوسرا گھاؤ رسنا شروع ہوجاتا ہے۔  آج کے خبار میں چھوٹی سی سرخی لگی ہے کہ کل پھر ، زمانہ جاہلیت میں بھی عورتوں کے حقوق کے لئے کھڑے ہونے والے نبیﷺ کے ماننے والوں کے ملک میں ایک لڑکی کو  لڑکی ہونے کے جرم میں زندہ جلا دیا گیا۔
میں جانتا ہوں کہ میں مسلسل لکھی جانے والی اپنی حزنیہ داستانوں کی وجہ سے بدنام ہوچکا ہوں مگر میں کیا کروں؟ جب لوگ کرنے سے باز نہیں آتے تو میں لکھنے سے کیسے باز آجاؤں؟ میں معاشرے کے سڑے ہوئے وجود میں سے مسلسل بہتی اس متعفن پیپ کو دیکھ کر بھی کیسے ان دیکھا کر دوں؟  میں کیسے ان حالات میں عیش و نشاط وعشق و سرود کے قصے بیان کروں کہ جب میرے معاشرے میں انسان ہونا جرم ٹھہرا دیا جائے؟ میں کیا کروں کہ معاشرہ اپنی کمینگی سے باز آنے پر تیار نہیں ہے اور مجھ ایسے نام نہاد شریف قلمکار ان واقعات کو جانتے ہوئے بھی ان پر لکھنے سے گریز کرتے رہتے ہیں کہ یہ معاشرے کی وہ دکھتی رگیں ہیں جن پر ہاتھ رکھتے سب کی جان جاتی ہے۔ خدا کی قسم ایسے مواقع پر منٹو ایسا اوسط درجے کا قلمکار بھی مجھے مہان لگتا ہے کہ جو اس زمانے میں بھی ان موضوعات پر قلم اٹھاتا تھا جن پر آج ساٹھ ستر سال گزرنے کے بعد بھی بات کرتے ہوئے ہم گھبراتے ہیں۔  لعنت ہے ایسے قلم پر جو معاشرے کے گند کو سامنے نہ لاسکے اور اس کی اصلاح کیلئے قلمکار کی سمجھ کے مطابق کوئی حل تجویز نہ کرسکے۔
پیاری ڈائری! میں نہیں چاہتا کہ میرا شمار ان لوگوں میں سے ہو جو ٹوٹا پھوٹا ہی سہی مگر لکھ سکتے تھے مگر خاموش بیٹھے رہے۔ سو اب سن سکو تو سنو کہ آج میں ماحول سے ماخوذ تمام تر غلاضت تمہارے اوپر انڈیلنے لگا ہوں۔ تمہاری مجبوری ہے کہ تم اٹھ کر نہیں بھاگ سکتیں سو برداشت کرو کہ پرہیز گاری کا بہروپ اوڑھے اور رحمتہ اللہ علیہہ کے جعلی  القابات سجائے اس کوڑھ زدہ  اور دراصل لعنت اللہ علیہہ  معاشرے کی سچائی بیان کرنے کیلئے تم سے بہتر سامع کوئی نہیں  ۔  ویسے بھی یہ باتیں تم سے نہ کروں تو کس سے کروں کہ ان باتوں کی تاب کوئی بھی باحیا و  باغیرت انسان نہیں لاسکتا۔ یہ تو مجھ ایسے بےغیرتوں کا ہی کلیجہ ہے کہ اتنے  شرمناک داغوں کے بعدبھی  زندہ ہیں اوربے شرمی کی انتہاہے کہ ان حالات میں بھی مسکراتے ہیں، زندگی جیتے ہیں، اور انسانوں کو زندہ جلائے جانے ایسے واقعات میں بھی طنز و مزاح  اور ملک کو بدنام کرنے کی سازش ایسی توجیحات کے پہلو ڈھونڈ لاتے ہیں۔مجھ اور مجھ ایسے  سب پر لعنت!
پیاری ڈائری! میں جو یہ سب کچھ لکھ رہا ہوں اس کا قطعا یہ  مطلب نہیں کہ میں بہت اچھا انسان ہوں۔ ان سطور کو تحریر کرتے وقت سے آدھے گھنٹے پہلے  تک اور اس تحریر کو مکمل کرنے کے آدھے گھنٹے بعد میں بھی کسی بھی دوسرے انسان کی طرح مکمل بےحس ہوجاؤں گا۔ پھر جب تک آگ کے شعلے میرے کسی اپنے کو نہیں چاٹیں گے میں ایسے ہی بےحسی کی زندگی جیتا رہوں گا۔ جیسے سب جیتے ہیں۔ شاید میں یہ  تحریر بھی کبھی نہ لکھتا اگر یہ مختصر سا خط میرے پاس نہ پہنچتا۔  زرا یہ خط ملاحظہ کرو
پیارے انکل،
سنا ہے آپ سب کے خطوط چھاپ دیتے ہیں سو میں نے سوچا کہ میں بھی آپ کے ذریعے اپنی بات سب کو پہنچا دوں۔ مجھے امید ہے آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے۔
انکل! میری باجی بہت اچھی تھیں۔ گاؤں والے کہتے  ہیں کہ باجی گاؤں کی سب سے قابل اور خوبصورت لڑکی تھیں۔ میں جب چھوٹی ہوتی تھی تو باجی ایک سکول میں پڑھانے جاتی تھی تاکہ وہاں سے پیسے کما کر میرے لئے کھلونے لا سکے۔ باجی مجھ سے بہت پیار کرتی تھی۔ پھر باجی نے وہ اسکول چھوڑ دیا اور دوسرے اسکول میں پڑھانے لگی۔ آج صبح پڑوس والے انکل میرے ابو کو بتا رہے تھے کہ اخبار میں آیا ہے کہ اسکول کے مالک کے بیٹے نے باجی کا رشتہ بھی بھیجا تھا مگر ایسا کچھ ہوتا تو باجی مجھے ضرور بتاتی ۔ میں نے بتایا نا کہ وہ مجھ سے سب سے زیادہ پیار کرتی تھی۔ یا شاید خود باجی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ اس کا کوئی رشتہ آیا ہوا تھا۔ خیر باجی کو تو کچھ بھی نہیں پتہ تھا۔ پتہ ہوتا تو دروازہ کیوں کھولتی؟  میں اور باجی گھر میں اکیلے تھے ۔ امی ابا فوتگی میں گئے ہوئے تھے۔ باجی مجھے تو سکھاتی تھی کہ جب گھر میں امی ابا نہ ہوں تو دروازہ نہیں کھولنا چاہئے مگر اس دن جب دروازے پر دستک ہوئی تو خود دروازہ کھول دیا۔  بے وقوف کہیں کی! دروازہ جیسے ہی  کھلا پانچ لوگ اندر گھس گئے اور باجی کو گالیاں دیتے ہوئے مارنا شروع ہوگئے۔ میں بھی باجی سے بہت پیار کرتی تھی۔ میں نے دوڑ کر باجی کو بچانا چاہا تو ان لوگوں نے مجھے بھی بہت زور زور سے مارا۔ میں ڈر کر پیچھے ہٹی اور چیخنا شروع ہوگئی مگر پڑوس والے انکل بھی فوتگی میں گئے ہوئے تھے تو کوئی بھی ہمیں بچانے نہیں آیا۔ انکل! انہوں نے باجی کو بہت مارا۔ میں باجی کو بچا نہیں سکتی تھی مگر میں چیخ چیخ کر روتی رہی۔ پھر انہوں نے باجی کو آگ لگا دی۔ جیسے سردی کی رات میں برف پڑتی ہے تو ہم گھر میں گوبر جلاتے ہیں،  ویسے۔ باجی جل رہی تھی اور مدد کے لئے بلا رہی تھی مگر میں کیسے جاتی؟ مجھے تو خود ایک گندے انکل نے پکڑا ہوا تھا۔ پھر جب ان گندے انکل کو یقین ہوگیا کہ باجی پوری جل گئی ہے تو وہ باجی کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ان کے جانے کے بعد بڑی مشکل سے ہم نے آگ  بجھائی اور چند ہی لمحے بعد باہر قدموں کی آہٹ ہوئی تو باجی نے اپنے آپ کو بستر کے نیچے چھپا لیا۔ اس کے کپڑے جل گئے تھے اس لئے اس کی شیم شیم ہورہی تھی۔پھر ابا باجی کو چادر میں لپیٹ کر ہسپتال دوڑ گیا۔ وہاں ڈاکٹر انکل نے اس کا بہت خیال رکھا اور کل جب وہ واپس آئی تو اس کو سفید رنگ کا نیا جوڑا بھی پہنا کر بھیجا تھا۔ باجی مگر نیا جوڑا پہن کر بھی بہت اداس لگ رہی تھی۔ مجھ سے بات بھی نہیں کر رہی تھی۔ بس خاموشی سے لیٹی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو گاؤں والوں نے مجھے اس کے پاس سے ہٹا دیا۔ شام میں ابا اور چاچا وغیرہ مل کر اسے قبرستان لے گئے۔ امی بتا رہی تھی کہ باجی مر گئی ہے!
کل سے بہت سارے لوگ ہمارے گھر ملنے آرہے ہیں ۔ سب کہتے ہیں کہ وہ ہمارا درد سمجھ سکتے ہیں۔ مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہورہا ہے۔ درد تو صرف  وہ سمجھ سکتا ہے جس کو ہو رہا ہو۔ باجی میرے سامنے جل گئی مگر جس طرح وہ تڑپی میں تو ویسے نہیں تڑپ رہی تھی۔اور اگر وہ میرے درد کی بات کر رہے ہیں تو  کیا ان سارے لوگوں کی باجیوں کو بھی ایسے ہی گندے انکلوں نے ان کے سامنے جلا دیا تھا؟ اور اگر ہاں،  تو پیارے انکل! میں تو چھوٹی تھی۔ اپنی  باجی کو نہیں بچا سکتی تھی۔ ان بڑے لوگوں نے ان جلانے والے گندے انکلوں کے ہاتھ کیوں نہیں پکڑے تھے؟  شاید کسی نے ان گندے انکلوں کے ہاتھ پہلے پکڑ لئے ہوتے تو میری باجی نہیں جلتی!
پیارے انکل! کیا آپ پلیز ایسا کچھ کر سکتے ہیں کہ جس کے بعد کسی اور کو میرا درد محسوس نہیں کرنا پڑے؟
والسلام
ایک بہن

پیاری ڈائری! تم خود بتاؤ  کہ میں چیخ چیخ کر گلا کیوں نہ پھاڑ لوں؟ 

بلاگ فالوورز

آمدورفت