جمعہ، 6 مارچ، 2015

غرور کا سر نیچا

غرور کا سر نیچا
(اس کہانی کے تمام نام، مقام اور کردار فرضی ہیں۔ کسی بھی اتفاقیہ مماثلت کی صورت میں مصنف ذمہ دار نہیں ہوگا)

پیارے بچوں! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شہر میں نتاشا نامی ایک عورت رہا کرتی تھی۔  نتاشا کا تعلق ایک رئیس گھرانے سے تھا مگر نتاشا  خدا کی نعمتوں پر شکر کرنے کے بجائے تکبر جیسی بری بیماری کا شکار ہوگئی تھی۔ وہ ہر وقت دوسروں کو نیچا دکھانے کے منصوبے بناتی رہتی   اور لوگوں کو نیچا دکھا کر خوش ہوا کرتی تھی۔  اس کے والدین اسے اکثر سمجھاتے  کہ  تکبر ایک بری عادت ہے اور اس تکبر کی وجہ سے وہ اپنے مخلص دوستوں کو بھی کھو دے گی مگر نتاشا یہ ساری نصیحتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دیتی۔

ماریہ  کے والد نتاشا کے گھر میں مالی کا  کام کیا کرتے تھے اور وہ لوگ نتاشا کے گھر میں ہی ایک سرونٹ کوارٹر میں رہا کرتے تھے۔ نتاشا بات بات پر ماریہ کا مذاق اڑایا کرتی اور اسے یہ احساس دلاتی تھی کہ اس کا باپ محض ایک مالی ہے جو نتاشا کے گھر میں کام کرتا ہے اس لیئے ماریہ کو  اس کی ہر جائز وہ ناجائز بات ماننی چاہیئے۔ ماریہ کو اس کی باتوں سے تکلیف تو بہت ہوتی مگر اسے اپنی ماں کی وہ بات یاد آجاتی کہ اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ ماریہ اس کی ساری تلخ باتیں پی جاتی اور سر جھکا کر اس کے کام نمٹاتی رہتی تھی۔ کبھی وہ نتاشا کا ہوم ورک کر رہی  ہوتی اور کبھی اس کے پائوں دبا رہی ہوتی۔ ماریہ نے ان ساری سختیوں کو اپنے والدین کے حالات کی وجہ سے برداشت کیا ہوا تھا۔

 ایک دن نتاشا کے   اسکول  میں اسلامیات کی استانی نے بچوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے پر ایک طویل لیکچر دیا اور بچوں کو سمجھایا  کہ ایک اچھا معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں افراد ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔  نتاشا کے اوپر لیکچر کا اثر تو کیا خاک ہونا تھا الٹا اسے خودنمائی کا ایک اور طریقہ ہاتھ لگ گیا۔ اسکول سے گھر آکر اس نے اپنی ماں سے پیسے لیئے اور بازار جاکر سب سے گھٹیا سمجھے جانے والے سستے ترین کپڑوں کے ڈھیروں جوڑے خریدکر  سیدھی ماریہ کے کوارٹر پہنچ گئی۔ اس نے  دروازہ کھٹکھٹا کر ماریہ کو باہر بلایا اور نوکر سے کہہ کر سارے کپڑے اس کے حوالے کردیئے۔ ماریہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ آج اچانک سے نتاشا اتنی مہربان کیسے ہوگئی کہ اس کیلئے کوئی چیز لیکر آئے مگر پھر اس نے سوچا کہ شاید اللہ تعالٰی نے  نتاشا کوہدایت دے دی ہو اور آج وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کیلئے یہ سب تحائف لیکر آئی ہو۔  اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے چاہا کہ وہ  نتاشا کا شکریہ ادا کرے مگر اس سے پہلے ہی نتاشا وہاں سے پلٹ کر اپنے گھر میں جاچکی تھی۔ ماریہ  نے کوارٹر میں جاکر اپنی ماں کو نتاشا کے اس بدلائو کے بارے میں بتایا تو اس کی امی بھی بہت خوش ہوگئیں۔ دونو ں ماں بیٹی نے بہت اشتیاق سے وہ تھیلے کھولے مگر اس میں موجود کپڑے دیکھ کر دونوں کو اندازہ ہوگیا کہ یہ تحائف بھی دراصل نتاشا کی ماریہ کو  ذلیل کرنے کی ایک اور کوشش تھی۔ جس قسم کے کپڑے نتاشا نے ماریہ کیلئے خریدے تھے انہیں مجبور بھکارنوں کے علاوہ کوئی پہننا پسند نہیں کرتا تھا۔ماریہ  کا دل کیا کہ وہ یہ سارے  کپڑے اٹھا کر لےجائے اور نتاشا کے منہ پر مار آئے مگر اس کی امی نے سمجھایا کہ تحفہ کتنا ہی حقیر ہی کیوں نہ ہو، بہرحال تحفہ ہوتا ہے لہٰذا وہ ان کپڑوں استعمال خواہ نہ کرے مگر انہیں سنبھال کر رکھ لے۔

دوسرے دن اسکول میں اسلامیات کا پیریڈ لگا تو نتاشا نے کھڑے ہوکر بڑے فخر سے سب کو بتایا کہ کل کے استانی کے لیکچر سے متاثر ہوکر اس نے پورے تیس جوڑے  غرباء میں تقسیم کیئے ہیں۔ استانی نتاشا کی اس بات سے بڑی خوش ہوئیں اور اگلے کئی دن تک اسکول میں نتاشا کی رحم دلی اور سخاوت کے چرچے ہوتے رہے۔ نتاشا اس سب سے بہت خوش تھی۔وہ سوچ سوچ کر ہنستی تھی کہ سب کو جوڑوں کی تعداد تو پتا تھی مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ  یہ جوڑے بہت معمولی کپڑے کے اور محض پانچ ہزار روپے کے آئے تھے۔ اس سارے واقعے سے متاثر ہوکر نتاشا نے اب ہر سال ماریہ کے ساتھ یہ گھنائونا مذاق کرنا شروع کردیا۔ ماریہ اس کی حرکت پر بہت کڑھتی مگر ماں باپ کا خیال کرکے چپ ہوجاتی تھی۔

اگلے چھ سال یہ کھیل جاری رہا مگر پھر خدا نے ماریہ کے والدین کے دن پھیر دیئے۔ پہلے اس کے باپ کے اکٹھے دو پرائز بونڈ نکل آئے اور پھر اس کے بڑے بھائی کی دبئی میں نوکری لگ گئی۔  پیسہ ہاتھ لگا تو اس کے باپ نے مالی کا کام چھوڑ کر شہر میں ایک چھوٹی سی کپڑے کی دکان کھول لی اور ماریہ کو نتاشا کے مظالم سے نجات مل گئی۔ وقت کے ساتھ ماریہ کے باپ کا کام چل نکلا اور ان کے گھر کے حالات بہت بہتر ہوگئے۔ ماریہ نے اپنی پڑھائی جاری رکھی اور اب وہ ملک کے ایک مشہور آرٹ انسٹیٹیوٹ سے  ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کی ڈگری حاصل کرکے باپ کے کام میں ہاتھ بٹانے لگی تھی۔ اس کے باپ کی کپڑوں کی دکان اب ایک معروف بوتیک میں تبدیل ہوچکی تھی اور ملک کے تمام  بڑے شہروں میں اس کے بوتیک کی برانچز  موجود تھیں۔

دوسری طرف نتاشا نے والدین کے بے جا لاڈ پیار سے شہہ پا کر پڑھائی چھوڑ دی اور باپ کے پیسے پر عیاشی کرنے لگی۔ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اور جس طرح ماریہ کے باپ کے دن پھرے اس ہی طرح نتاشا کے والد بھی مسلسل کاروباری خساروں میں جاتے ہوئے ایک دن اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے۔  نتاشا اب اپنے باپ کے ایک دوست کے آفس میں ریسیپشنسٹ کا کام کرنے لگی ۔ لگی بندھی تنخواہ مہینے کے شروع میں آتی اور مہینہ ختم ہونے سے پہلے ختم ہوجاتی تھی۔  نتاشا اپنی اس زندگی سے تنگ تھی مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
ادھر ماریہ اپنے کام سے پوری طرح مطمئن نہیں تھی۔ وہ کچھ نیا اور ایسا کرنا چاہتی تھی جس سے اس کا نام فیشن کی دنیا میں امر ہوجاتا۔ وہ دن رات اس ہی سوچ میں غلطاں رہتی اور نت نئے شاہکار تراشتی رہتی ۔ مگر ان سب شاہ پاروں کے باوجود وہ اپنے کام سے مطمئن نہیں تھی۔ ایک دن ماریہ کچھ سامان کی تلاش میں اسٹور روم میں گئی تو اس کی نظر ان بوریوں پر پڑی جن کو وہ عرصہ ہوا بھول چکی تھی۔ ماریہ کے دماغ میں ایک خیال آیا اور وہ بے ساختہ مسکرا اٹھی۔ اگلے مہینے شہر کی تمام شاہرات پر بڑے بڑے بل بورڈز آویزاں تھے جن پر دیدہ زیب خواتین اس بوری میں سے نکلے ہوئے کپڑوں کی نمائش کر رہی تھیں۔  اور پھر ماریہ نے وہ کردکھایا جو اس سے پہلے کوئی نہیں کرپایا تھا۔ وہ  کپڑے جنہیں  مالی کی بیٹی تک پہننا پسند نہیں کرتی تھی اب دس دس ہزار کے ایک جوڑے کے حساب سے بکنے لگے۔

ماریہ کا شمار اب ملک کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے اوروہ ایک کامیاب ترین زندگی گزار رہی ہے۔ ہر سال مارچ کے مہینے میں جب ہر طرف لان کے میلے سجتے ہیں تو ہر  بل بورڈ پر لگے لان کے مختلف برانڈز  ماریہ کے مرہون منت ہوتے ہیں جس نے لان جیسے بھکاری کپڑے کو اب امراء کی پوشاک بنا دیا تھا۔ مگر ماریہ آج بھی اپنی محسن کو نہیں بھولی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ  اس کامیابی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ نتاشا کا ہے۔نہ وہ اسے لان کے اتنے ڈھیروں سوٹ دیتی اور نہ آج وہ اتنی کامیاب زندگی گزار رہی ہوتی۔

پیارے بچوں! اس ہی لیئے کہتے ہیں کہ تکبر بہت بری چیز ہے۔ اگر نتاشا نے وہ لان کے جوڑے ماریہ کو نہ دیئے ہوتے تو آج ان سو، دو سو لان کے جوڑوں کو بیچ کر دس پندرہ  لاکھ روپوں کی مالک بن جاتی اور اپنے مالی مصائب سے چھٹکارا پاتی۔ آئیے ہم سب عہد کریں کہ آئندہ تکبر سے پرہیز کریں گے اور کسی کو پوچھے کا کپڑا تک تحفہ نہیں دیں گے کہ کیا پتہ آج سے دس سال بعد بل بورڈز پر حسین دوشیزائیں ان جھاڑنوں کو پہن کر مسکراتی پائی جائیں اور یہ بھی دس ہزار میں بھی ڈھونڈے سے بھی نہ ملیں۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فالوورز

آمدورفت