پیر، 26 ستمبر، 2022

روپانزل

 دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جگہ پر ایک ذہنی اعتبار سے بانجھ جوڑا رہا کرتا تھا۔ ذہنی اعتبار سے بانجھ ہونے کے باعث ان کی زندگی بہت پرسکون تھی اور وہ دونوں میاں بیوی دنیا و مافیہا کی تکالیف سے ماورا ہوکر محض اپنی زندگی جیتے اور فرصت کے ایام میں اپنے ہی جیسے بچے پیدا کیا کرتے تھے۔ کھانے پینے کی کوئی تنگی نہیں تھی کہ اگر روزگار نہ بھی لگتا تو وہ اپنے گھر کے ساتھ واقع باغ (کہ جس کی چڑیل عرصہ پہلے ایک سبزی کے نام سے منسوب روپانزل کی بےوفائی سے دلبرداشتہ ہوکر علاقہ چھوڑ گئی تھی) سے جب جی چاہے بے دھڑک چیزیں توڑ کر کھاتے اور خوش رہتے تھے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ان کی اس ہی خوشی کی خرمستیوں میں پیدا ہونے والا ان کا چوتھا یا پانچواں بچہ تھا۔ ترتیب کا اس لئے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ پورا گھرانا اتنا معمولی تھا کہ کسی نے ان کی ترتیب نزولی کو دفتر کرنا ضروری ہی نہیں سمجھا تھا۔

بچپن میں وہ اپنے باقی گھر والوں ہی کی طرح معمولی ہی تھا مگر پھر اس کی اس غیرمعمولی طور پر معمولی زندگی اور اس کی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی۔ بات محض سوچنے کی بیماری تک محدود رہتی تو شاید معاملہ اتنا خراب نہ ہوتا مگر وہ تو اب سوچنے کے ساتھ ساتھ سوال کرنے جیسی غلیظ عادت کا بھی شکار ہوگیا تھا۔ گھر والوں نے اس بیماری کی متعدی طبیعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے فی الفور اس سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنا شروع کردیا اور جس قدر بن پڑا اس کے علاج کے لئے کوششیں شروع کردیں۔ بڑے بڑے نامی گرامی کارپوریٹ مینجرز کو دکھایا گیا مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اچھی سے اچھی نو سے پانچ بھی اسے سوال کرنے اور سوچنے کی علت سے دور نہیں کرپارہی تھی۔ اور نو سے پانچ پر ہی کیا موقوف، ہفتے کی چھٹی، سالانہ بونس،  اور بیرون ملک تعیناتی کے امکانات جیسے مجرب نسخہ جات جو کبھی اور کہیں ناکام نہیں ہوتے وہ بھی اس کی مرتبہ میں بےاثر ثابت ہوچکے تھے۔ سماج کے مروجہ اصول کے مطابق نصیحت کے نام پر ہر شخص اس سے مل کر اپنی اپنی مجروح انا کی مقدور بھر تسکین حاصل کرچکا تھا مگر وہ سدھرنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی" تو بالکل بےجا نہ ہوگا کہ اب اس نے باقاعدہ طور پر منطق پڑھنا اور کہانیوں اور غزلیات کے نام پر فلسفہ بکنا بھی شروع کردیا تھا۔

مسلسل بیماری میں ساتھ دینے کا سفر درپیش ہو تو انسان کے مخلص ترین رشتے بھی ہانپ جاتے ہیں جبکہ یہاں تو محض دنیا دار رشتے تھے۔ اور یہ مسلسل بیماری اگر متعدی ہونے کا ڈر بھی لاحق ہو تو محض خدا ہی ایسے انسان کو مہمان بناسکتا ہے، انسانوں سے ایسے خدائی ظرف کی امید رکھنا کم عقلی کی معراج ہے۔ سو وقت کے ساتھ وہ اپنی بیماری کے ساتھ  ساتھ تنہائی کا بھی شکار ہوتا چلا گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے بشری فطرت کے تقاضوں کے زیر اثر خود کو اس امید پر اپنی ہی ذات کے بے در منارے میں قید کرلیا کہ کوئی ایک، محض ایک انسان ایسا ہوگا جو اس کی فکر میں منار کی دیواروں کو توڑ کر دروازہ بنائے گا اور اسے اس خودساختہ قید اور تنہائی سے نجات دلا دے گا۔

اچھی امیدوں کا سب سے بڑا مسئلہ تب بھی یہی تھا کہ یہ ناہنجار اس وقت تک پوری نہیں ہوتیں کہ جب تک آپ ان کا دامن نہ چھوڑ دیں۔ گھڑی اور کیلنڈر کے حساب سے تو چند دن ہی گزرے ہوں گے مگر تنہائی کا ایک دن کیلنڈر کے تین سو پینسٹھ سال کے برابر ہوتا ہے اور اس اعتبار سے اس پر ہزارہا سال کا عرصہ بیت چلا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس پورے عرصے میں کوئی اس منار کے قریب نہ پھٹکا ہو۔ انجان اور پراسرار چیزیں عمومی لوگوں اور انسانوں کو یکساں طور پر متوجہ کرتی ہیں۔ کئی لوگ اس منفرد منارے کو دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے مگر منارے کے اردگرد گھوم کر جائزہ لینے اور کوئی داخلی دروازہ نہ پاکر بنانے والے انجینئر پر چار حروف بھیجنے کے بعد آگے بڑھ جاتے۔ ہر بار وہ انسانی آہٹ کو محسوس کرتا اور منار کی بلندی پر موجود اپنے کمرے کی کھڑکی سے نیچے جھانکتا اور آنے والے کی حرکات کا بغور معائنہ کرتا کہ وہ اس تک پہنچنے کے لئے کس حد تک جتن کرنے کے لئے تیار ہے اور بالآخر آنے والے کی مایوسی سے خود اپنے لئے بھی مایوسی کشید کرکے واپس اپنے بستر پر جا لیٹتا۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا یہاں تک کہ اس نے طے کر لیا کہ اب وہ محض تب خود کو زحمت دے گا کہ جب کوئی انسان واقعی منار میں در بنانے کے لئے کوئی عملی کوشش کرتا محسوس ہو۔ مگر مینار کو توڑنے کی کوشش کرنا تو دور، لوگوں نے وقت کے ساتھ اس منارے کے پاس بھٹکنا بھی چھوڑ دیا کہ جس میں اب وہ اور اس کی فراغت سے بھرپور تنہائی بسا کرتے تھے۔

ان ہزارہا برسوں میں فراغت کی طوالت سے تنگ آکر وہ اپنے خیالات کی زلفیں سنوارا کرتا تھا کہ مسلسل توجہ کے طفیل ان کی طوالت اب دسیوں گز ہوچکی تھی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ جب کوئی مسیحا اس تک پہنچے تو وہ ان میں الجھ کر گر پڑے اور اس پکار پر لبیک نہ کہہ پائے۔ اور اس ہی مشغلے میں چند ہزار برس اس پر مزید بیت گئے یہاں تک کہ ایک دن اس نے منار کے نزدیک دوبارہ کسی انسان کی موجودگی کو محسوس کیا۔ اس سے پہلے کے نووارد منارے میں کوئی در نہ پاکر مایوس ہوکر لوٹ جاتا، اس نے ہمت کرکے کھڑکی میں سے آواز لگائی اپنی طویل زلفوں کو نیچے لٹکا دیا کہ اگر دیوار میں در بنانا مشکل ہے تو میری زلفوں کا سہارا لے کر ہی مجھ تک پہنچ جاؤ؟ نووارد نے اس کے بالوں کو کھینچ کر ان کی مضبوطی کا جائزہ لیا اور پھر  کچھ سوچ کر واپس لوٹ گیا۔

اس بار کی مایوسی اس کے لئے پہلے سے گراں تر تھی۔ اس سے پہلے کم از کم دل کو تسلی دینے کے لئے یہ خیال موجود تھا کہ اس نے خود کو لوگوں کی پہنچ سے دور کر رکھا تھا۔ وہ اس تک پہنچنے کا نہ طریقہ جانتے تھے، نہ اس بات کی اہمیت۔ اب کی بار مگر اس نے نہ صرف خود صدا لگا کر لوگوں کو متوجہ کیا تھا بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اپنے خیالات کی زلفوں سے ان کو سہارا بھی دیا تھا کہ وہ اس تک پہنچ جائیں۔ شاید اس ہی لئے اس بار کی مایوسی میں خفت کے رنگ بہت نمایاں تھے۔

وہ بستر میں دراز خود کو اپنی اس حماقت کے لئے کوس ہی رہا تھا کہ اسے منار کے باہر بہت سے لوگوں کے بات کرنے کی بھنبھناہٹ محسوس ہوئی۔ اس نے دوڑ کر کھڑکی میں سے جھانکا تو وہ پلٹ جانے والا انسان اپنے ساتھ بہت سے لوگوں کو ساتھ لئے کھڑا تھا۔ اسے کھڑکی میں آتا دیکھ کر ہجوم نے بیک زبان اس سے زلفیں کھڑکی سے باہر لٹکانے کی درخواست کردی۔ اس کا جی چاہا کہ وہ لوگوں کو بتادے کہ اتنے سارے انسانوں کی اس تک پہنچ پانے کی خواہش رکھنا اب اسے اس منارے میں مقید رہنے کی ضرورت سے آزاد کرچکا ہے اور اب زلفیں لٹکانے کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ وہ خود اب منار سے باہر آکر ان کے بیچ رہ سکتا ہے مگر ہجوم متواتر پکار کر اس سے زلفیں دراز کرنے کی درخواست کر رہا تھا۔ اس نے لوگوں کی خوشی کا خیال کرتے ہوئے زلفیں کھڑکی میں سے باہر لٹکا دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مجمع ان زلفوں پر ٹوٹ پڑا۔ اسے لگا کہ شاید وہ اپنی روایتی حماقت سے مغلوب ہوکر اسے بھی کوئی مقدس چیز سمجھ کر چومنا چاہتے ہیں مگر جیسے ہی مجمع تھوڑا تھما اور پیچھے ہٹا تو اس نے دیکھا کہ ان سب کے ہاتھوں میں قینچیاں موجود تھیں جن کی مدد سے ان میں سے ہر ایک نے مقدور بھر اس کی زلف کا حصہ کاٹ لیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ مجمع سے کچھ کہہ پاتا، ہجوم اس کا شکریہ ادا کرکے واپس پلٹ چکا تھا۔

اور اس دن کے بعد سے یہ روز کا معمول بن گیا۔ ہجوم روز منار کے گرد جمع ہوکر اس سے زلفیں لٹکانے کی درخواست کرتا اور وہ اس امید پر دن بھر کی محنت سے بڑھائی ہوئی اپنی خیالات کی زلفیں دراز کرتا کہ شاید ان سینکڑوں عمومیوں کے اندر کوئی ایک انسان موجود ہو جو قینچی ساتھ نہ لایا ہو اور واقعی منار کی بلندی سر کر کے اس تک پہنچنا چاہتا ہو مگر اچھی امیدوں کے بارے میں بیان آپ تین پیراگراف قبل پڑھ ہی چکے ہیں۔

وقت کے ساتھ اگر کچھ بدلا تھا تو بس یہ کہ جس ویرانے میں اس کی ذات کا یہ منار موجود تھا، وہاں اب ایک مکمل بازار سج چکا تھا کہ جہاں اس ہی کے بالوں سے بنی ہوئی وگ فروخت کی جاتی تھیں۔ تین چار بل بورڈ تھے کہ جن پر مشہور شیمپو کے اشتہارات چسپاں تھے۔ بالوں کی آرائش کی مصنوعات کے لئے ایک الگ قطار میں سات دکانیں موجود تھیں۔ اور دوسرے شہروں سے آنے والے فکری گنج پن کے شکار لوگوں کے لئے گیارہ عدد سرائے قایم تھیں جو اکثر اوقات گنجائش سے زائد مسافروں کو سنبھال رہی ہوتی تھیں۔

وہ اب اس روزانہ کی مشقت سے مایوس ہوچلا تھا۔ باہر اڑنے والی افواہوں کو سن کر اسے لگنا لگا تھا کہ لوگ اس کے خیالات کی زلفوں سے اپنے گھروں کو تو آراستہ کرسکتے ہیں مگر اپنے گھر میں اسے بلانا تو درکنار، خود اس کے گھر میں اس کے مہمان بننے کو بھی درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔

اس بات کا صدمہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے سر کے بال جھڑنے لگے۔ وہ پورے دو دن تک کمرے میں بند اپنے بکھرے ہوئے بال سمیٹتا رہا اور کھڑکی میں بھی نہ جا سکا۔ دوسرے دن شام کو البتہ منار کے باہر سے احتجاج کی آوازیں اس حد تک بلند ہوگئیں کہ اسے صورتحال سمجھنے کے لئے کھڑکی میں آنا ہی پڑا۔ اسے یقین تھا کہ قسمت اتنے عرصے بعد بھی اتنی مہربان نہیں ہوسکتی کہ اس کی غیر موجودگی کا احساس لوگوں کو احتجاج کرنے پر مجبور کردے۔ وہ لوگوں کی بات دھیان سے سن کر اپنی رائے بنانا چاہتا تھا۔ اور جب کھڑکی میں آکر اس نے دیکھا تو باہر ہزارہا انسان سیاہ رنگ کے ماتمی بینر لئے کھڑے تھے جن پر مختلف انداز میں ایک ہی بات درج تھی کہ وہ کس درجہ کا کمینہ، نیچ، اور خودغرض انسان ہے کہ باہر ہزاروں لوگ اپنی ضرورت کے انتظار میں کھڑے ہیں جبکہ وہ کمرے میں بیٹھا اپنے بال سنوارتا رہتا ہے۔

اتنی صدیوں میں وہ اذیت کے ان گنت روپ دیکھ چکا تھا مگر کرب کی جو لہر اس وقت اس کے سراپے میں دوڑ رہی تھی وہ اس تکلیف سے یکسر ناآشنا تھا۔ اس نے اپنے بچے کھچے بال سمیٹ کر گردن کے گرد سے گزارتے ہوئے کھڑکی سے باہر لٹکائے اور کھڑکی بند کردی۔

ہجوم نے زلفیں نیچے آتی ہوئی دیکھیں تو ایک نعرہ مسرت بلند کیا اور دیوانہ وار ان کی طرف لپک پڑے۔ کچھ گرتے ہوئے ، اور کچھ گردن میں لپٹے ہوئے ہونے کی وجہ سے آج زلفیں زمین تک نہیں پہنچ پائی تھیں مگر مجمع ناشکرے لوگوں کا نہیں تھا کہ جو اس بات کی شکایت کرتا۔ ان میں سے چند راہنما آگے بڑھے اور اچھل کر زلفوں سے لٹک گئے تاکہ اپنے وزن سے انہیں نیچے لاسکیں اور ایک عام مقتدی بھی ان سے فیضیاب ہوسکے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ تھوڑی ہی دیر میں ان افراد کے وزن سے وہ بوسیدہ عمارت بھوسے کی طرح اپنی ہی بنیادوں پر ڈھیر ہوچکی تھی۔ مگر کہنے والوں کا کیا؟ وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگلے جب اس عمارت کا جنازہ اٹھا تو شہر بھر کے ہزارہا گنجے اس میں شریک تھے۔ اور اس کا ثبوت وہ تصاویر کے جو اس ملبے کے ڈھیر کے ساتھ وہ اپنے سوشل میڈیا پر لگائے بیٹھے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فالوورز

آمدورفت