منگل، 23 فروری، 2016

اک اور آخری نظم

مجھے معلوم ہے تم منتظر ہو
کہ ہر سال گذشتہ کی طرح سے
رسم اک بار پھر دہرائی جائے
تخیل کی حسیں وادی میں جا کر
خیالی وصل کے لمحوں کی راحت
وفا کے باب کے سارے فسانے
مثالی اک تعلق سوچ کر میں
حسیں الفاظ کے قالب میں ڈھالوں
تمہارے نام پہ غزلیں تراشوں
حسیں عنوان کے روشن سے قصے
تمہارے نام سے منسوب کر کے
جہاں کو پھر سے یہ احساس دوں کہ
یہ رشتہ کس قدر کا معتبر ہے ۔۔۔۔

میری جاں اب مگر میں تھک چکا ہوں

یہ چوبیس سال کی دوری ہے جاناں)
(قرار واقعی میں تھک چکا ہوں

میں لکھوں کس طرح تم ہی بتائو
گذشتہ شب سے ہی یہ سانحہ ہے
تخیل کی بلندی سرنگوں ہے
قلم اب تاب کھوتا جا رہا ہے
فقط الفاظ باقی رہ گئے ہیں
ہر ایک احساس مٹتا جا رہا ہے

میں تیرے ساتھ اس دن مر گیا تھا
اور اب اندر کا شاعر مر گیا ہے

سید عاطف علی
23-Oct-2013

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فالوورز

آمدورفت