بدھ، 22 مارچ، 2017

منڈی

بازار کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ ایک مخصوص مدت کے بعد نیچے آجاتا ہے۔ وہ تمام چیزیں جو دن میں بھاؤ دکھا رہی ہوتی ہیں وہ شام گئے بہت سے ان غربا کے ہاتھ بھی لگ جاتی ہیں جو دن  میں  ان اشیاء کے دام سن کر سوائے دل جلانے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ کچھ غربا مگر اتنے شدید غریب ہوتے ہیں کہ عام غریب بھی انہیں غریب سمجھتا ہے۔ یہ حرماں نصیب ان اشیاء کو شام گئے، دام گرنے کے بعد بھی اپنی دسترس سے باہر ہی پاتے ہیں۔ میرا شمار بھی ان ہی شدید غربا میں ہوتا ہے۔مگر مجھ میں اور دیگر شدید غربا میں ایک فرق موجود ہے کہ میں نے کبھی اپنی غربت کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا ہے۔ میں اپنا کام نکالنا اور نکلوانا خوب جانتا ہوں۔
آج جب میں اس ہفتہ وار بازار میں داخل ہوا تو میری جیب میں فقط ڈیڑھ سو روپے تھے اور بیگم صاحب کی خواہش تھی کہ میں دس کلو پیاز لے کر لوٹوں۔ میری بیوی مجھے دیوتا سمّان سمجھتی ہے اور اسے لگتا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی کام ایسا نہیں ہے جو میں نہ کر سکتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرے سو اب مجھے ہر حال میں ان ہی پیسوں میں وہ پیاز لے کر لوٹنا تھا۔
جب میں بازار پہنچا تو شام ڈھل چکی تھی۔ بہت سے تاجراپنے ٹھیے سمیٹ چکے تھے جب کہ کچھ ابھی بھی اپنا مال لئے گاہکوں کے منتظر تھے۔ یہ اس ہفتہ وار بازار کی شام کا معمول کا منظر تھا ۔ دن چڑھے جو لوگ گاہکوں کومنہ لگانے کو تیار نہ تھے آج وہ خود آوازیں دے کر انہیں اپنے اپنے ٹھیوں کی طرف متوجہ کر رہے تھے۔ تاجر دیسی والدین کی طرح جوانی میں نخرے دکھانے کے بعد ادھیڑ عمر میں پہنچی اولاد کو جو ملے جیسا ملے غنیمت ہے سمجھ کر اپنا مال خرید کے دام پر بیچنے کو بھی راضی تھے۔  اور وہ تو شکر ہے کہ ان اشیا کی زبان نہ تھی ورنہ وہ بھی گھریلو ماحول سے تنگ لڑکیوں کی طرح اپنی اصل قیمت سے کم پر بھی گاہک کے ساتھ جانے کا اعلان کر دیتیں کہ صبح سے شام گئے تک وہ پہلا تھا جس نے ان پر توجہ کی نظر ڈالی تھی۔
یہ ماجرا سن کر آپ کو شاید یہ گمان ہوا ہوگا کہ اب پندرہ روپے کلو کے حساب سے پیاز خریدنا کوئی مسئلہ ہی نہ رہا ہوگا مگر واللہ آپ اس شام میرے ساتھ ہوتے تو دیکھتے کہ پیاز دن بھر پچاس روپے کلو بکنے کے بعد شام گئے بمشکل پینتیس روپے پر آئی تھی اور تاجر قسمیں اٹھا رہے تھے کہ بتیس روپے کی خرید شدہ پیاز وہ اس سے ایک روپیہ کم میں نہیں دیں گے۔
میری جگہ کوئ  بھی اور شدید غریب ہوتا تو شاید ہمت ہار دیتا یا پھر دس کی جگہ ساڑھے چار کلو پیاز لے کر لوٹ جاتا مگر میں دس کلو سے کم پیاز لے کر کیسے جا سکتا تھا؟ میں نے بتایا نا کہ پیچھے میری بیوی یہ امید لگا کر بیٹھی ہوئی تھی کہ میں دس کلو پیاز لے کر لوٹوں گا اور وہ بیوی مجھے دیوتا وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
میں نے بازار کا جائزہ لیا اور ایک نسبتا اونگھتے ہوئے تاجر کو تاڑا کہ جس کے پاس کم و بیش دس بارہ کلو  ہی پیاز بچی ہوگی ۔ وہ پورے دن کی مشقت کے بعد اب تھک کر بیٹھ چکا تھا اور منتظر تھا کہ کوئی آئے اور اس سے یہ بچی ہوئی پیاز کی چھوٹی سی ڈھیری بھی مول لے جائے۔
میں جب اس کے پاس پہنچا تو اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور اپنے تجربہ کار ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بولا، پینتیس سے ایک روپیہ کم نہیں ہوگا۔ اور یہ کہہ کر دوبارہ اونگھنے میں مشغول ہوگیا۔ وہ مجھے بتانا چاہتا تھا کہ وہ جانتا ہے میری اوقات پینتیس روپے کلو ملنے والی پیاز خریدنے کی نہیں تھی۔
میں نے اس کے رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس  کے ٹھیلے پر موجود پیاز کو ٹٹولنا شروع کردیا اور چند ہی لمحوں میں میرے ہاتھ میں چھپی ہوئی برف کی ڈلیاں اس پیاز کے اندر منتقل ہوچکی تھیں۔
برف کو پیاز میں منتقل کرنے کے بعد میں وہاں سے آگے بڑھ آیا اور ایک کونے میں کھڑا ہوکر بیڑی پینے لگا۔ انتظار کے لمحات خواہ پیاز کے لئے ہی کیوں نہ ہوں، بہر حال تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ بیڑی ختم کرکے میں دوبارہ اس کے پاس پہنچا اور نہایت سنجیدگی سےاس سے پوچھا کہ وہ اس پوری ڈھیری کے کتنے پیسےلے گا؟  اس نے بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر بولا، ویسے تو پینتیس روپے مانگ رہا ہوں مگر تم ساری خریدو گے تو تینتیس کے حساب سے ساری تول دوں گا۔ ایک نمبر پیاز ہے! میں جانتا تھا کہ برف اتنی دیر میں اپنا کام کر چکی ہوگی سو میں نے کہا کہ اگر ایک نمبر ہوئی تو تینتیس کی جگہ پینتیس پورے دے دوں گا۔ یہ کہہ کر میں نے پیاز کی ڈھیری میں ہاتھ مارا تو اندر سے ساری گیلی پیاز باہر آگئی! ادھر اس غریب کا یہ حال کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ وہ بوکھلاہٹ میں بڑبڑانے لگا، یہ پیاز گیلی کیسے ہوسکتی ہے؟ میں تو سوکھی پیاز بیچ رہا تھا! ایک نمبر پیاز!  یہ کیسے ہوا؟
میں نے اس کی بڑبڑاہٹ کو کاٹتے ہوئے اسےیاد دلایا کہ یہ گیلی پیاز کسی کام کی نہیں رہی ہے۔ اب کوئی اس پیاز کو نہیں خریدے گا۔ وہ ہکلایا، مممم مگر میرا کیا قصور؟ میں نے جواب دیا، میرا کیا قصور کہ میں پینتیس روپے دے کر وہ گیلی پیاز خریدوں جو میرے کسی کام کی نہیں ہے؟ وہ بولا، صاحب! یہ تازی گیلی پیاز ہے۔ صبح سے سوکھی تھی۔ ابھی کہیں سے پانی آیا ہے۔ گھر لے جا کر پونچھ لیں، نہیں خراب ہوگی۔ میں نے کہا تو تم پونچھ کر گھر کیوں نہیں لے جاتے؟اگلے ہفتے  جب دوبارہ بازار لگے اور یہ پیاز سلامت رہے تو بیچنے لے آنا۔ وہ بولا، صاحب آپ تو جانتے ہو! پیاز میں نمی آگئی ہے۔ ہفتے بھر میں خراب ہو ہی جائے گی۔ آپ گھر لے جاؤ۔ گھر میں کام آ ہی جائے گی۔ دیکھو ساری گیلی نہیں ہوئی ہے۔ جو گیلی ہے وہ فوراُٗ تل لیجئے گا باقی سکون سے استعمال کر تے رہئے گا۔ میں نے کچھ دیر سوچنے کی اداکاری کی اور پھر کہا مگر میرے پاس فقط ڈیڑھ سو روپے ہیں۔ اس نے کہا مگر ابھی تو آپ ساری پیاز پینتیس روپے کے حساب سے خریدنے والے تھے؟ اس کی مجبوری نے مجھے تم سے آپ بنا دیا تھا اور میں اس ترقی پر بے حد خوش تھا۔ میں نے بے نیازی سے کہا، وہ پینتیس روپے ایک نمبر پیاز کے لئے تھے۔ اس گیلی پیاز کے لئے یہی ڈیڑھ سو ہیں۔ دینا ہے تو دو ورنہ میں کہیں اور جاؤں۔ اس نے کچھ دیر سوچا اور پھر خاموشی سے پیاز کو تھیلوں میں منتقل کرنے میں مصروف ہوگیا۔

میں بازار سے نکل کر آیا تو ایک فاتحانہ مسکراہٹ بے ساختہ میرے لبوں پر آگئی۔ برف لے جانے والا میرا آئیڈیا کمال کا نکلا تھا۔  میں آج ایک بار پھر اپنی بیوی کی امیدوں پر پورا اترا تھا۔ اور میں نے بتایا نا کہ میری بیوی مجھے دیوتا سمان سمجھتی ہے۔ اور کیوں نہ سمجھے؟ آج سے پندرہ سال پہلے جب دنیا نے اس کے کردار پر جھوٹی کیچڑ اچھالی تھی اور اس کی تمام تر خوبصورتی اور تعلیم اور سیرت کے باوجود کوئی اسے اپنانے کو تیار نہیں تھا تو یہ میں ہی تو تھا  جس نے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ وہ چاہے بھی تو ساری عمر میرے اس عظیم احسان کا بدلہ کیسے اتار سکتی ہے؟

1 تبصرہ :

بلاگ فالوورز

آمدورفت