ہفتہ، 29 دسمبر، 2018

درندے


اپنی مجروح انا کی تسکین اور لغت پر دسترس  نہ رکھنے کے عیب کو میں نے ہمیشہ یہ سوچ کر تسلی دی ہے کہ طویل افسانے وہ غریب لکھتے ہیں جنہیں کم الفاظ میں مدعا بیان کرنے کا ہنر نہیں آتا۔  میری کہانیوں میں درختوں کے پتے نہیں ہلتے۔  آسمان بس ایک جملے کا آسمان ہوتا ہے اور اس کی منظر نگاری  ایک مکمل  صفحہ نہیں کھا جاتی۔  موسم بس موسم ہوتے ہیں ، استعارے نہیں ہوتے ۔  شاید اس ہی وجہ سے میری تحاریر مختصر اور ادب کے مروجہ قاعدوں کے برخلاف ہیں۔ ان میں مترنم الفاظ کی چاشنی اور فلسفیانہ استعاروں کا گزر نہیں ہوپاتا۔ اور شاید اس ہی وجہ سے انہیں کوئی قاری یا کوئی ناقد گھاس بھی نہیں ڈالتا۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میری کہانیاں وہ سچی کہانیاں ہوتی ہیں جنہیں پڑھ کر  انسان محض خجل ہی ہو سکتا ہے۔ اردو ادب اور اس کی لطافتوں کے قصیدہ گو ان کہانیوں کو اپنی طبیعت کے لئے بوجھل پاتے ہیں اور اس لئے میرا تخلیق کیا گیا ادب، بے ادبی قرار پاتا ہے۔  اب جیسے اس کہانی کو ہی لے لیجئے۔ آپ احباب کی سہولت کے لئے میں نے اس میں تخیلاتی کردار شامل کر دئیے ہیں تاکہ کہانی مزاجِ لطیف پر گراں گزرے تو آپ ان ایک دو تخیلاتی واقعات کی بنیاد پر پوری کہانی کو ہی تخیلاتی قرار دے کر مصنف پر لعنت بھیجیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں ویسے ہی مگن ہو سکیں جیسے کہ اس کہانی کو پڑھنے سے 
پہلے تھے۔
تو ہوا کچھ یوں کہ کل رات میرے دروازے پر دستک ہوئی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو باہر مروجہ انسانی تعریف کی رو سے جانوروں کا ایک غول اکٹھا تھا۔ شیر، چیتے، بھیڑیے، ریچھ وغیرہ تو تھے ہی ساتھ میں سور، کتے اور بلیاں وغیرہ بھی چلی آئی تھیں۔ ظاہر ہے میں اردو زبان کا ایک لکھیک ہوں سو گھر میں اتنی جگہ نہیں رکھتا تھا کہ ان سب کو مدعو کرسکتا سو دروازے سے ہی مدعا دریافت کر لیا۔ ان جانوروں کے بیان کے مطابق انہیں ایک الو نے میرا تعارف بحیثیت ایک مصنف کے کروایا تھا اور وہ اس ہی الو کے پٹھے سے میرا پتہ پوچھ کر یہاں تک پہنچے تھے۔  وہ جانوروں کی طرف سے ہم انسانوں   کو صفائی پیش کرنے آئے تھے  اور چاہتے تھے کہ میں ان کی جانب سے یہ تحریری صفائی لکھ کر چھاپ دوں۔ ان جانوروں کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ایک شمالی قصبے حویلیاں  سے آئے تھے جہاں  تین چار دن قبل کوئی انسان اپنی تین سالہ دلہن کو لے کر جنگل کی طرف نکل آیا تھا اور شبِ زفاف منانے کے بعد اپنی اس تین سالہ معصوم کو وہیں جنگل میں خونم خون اور برہنہ چھوڑ گیا تھا۔ ان جانوروں کا کہنا تھا کہ  انسانوں کے نفسیاتی اور جسمانی گھاؤ سے بچ جانے والی وہ تین سال کی کم سن بچی منفی دو درجہ حرارت  سے نہیں بچ پائی تھی اور جم کر مر گئی تھی۔ وہ جانور یہ صفائی پیش کرنا چاہتے تھے کہ اس برہنہ تن بچی پر  کسی سور، کسی کتے، کسی بھیڑیے نے حملہ نہیں کیا  تھا اور نہ ہی اس کا گوشت نوچا تھا۔ لاش ان کے پاس سے صحیح سلامت اٹھی تھی کیونکہ بہرحال وہ انسان نہیں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں لکھ دوں کہ کہ جنگل کے کسی درندے نے  اس برہنہ بچی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جس کو پورے ملبوس میں دیکھ کر بھی کسی مرد کی انسانیت جاگ اٹھی تھی!

جمعہ، 9 نومبر، 2018

لنگڑا


ماضی اپنے وقت میں جیسا بھی رہا ہومگر ماضی بن جانے کے بعد خوشگوار ہو ہی جاتا ہے۔ البتہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی یاد داشت سے کھرچ نہیں پاتےاور وقت کی شیرینی بھی ان کی تلخیوں کو کم نہیں کرپاتی۔ انسان شاید ایسی ہی یادداشتوں کی بائے پروڈکٹ ہے۔
اچھے وقتوں کی بات ہے جب میں ابا کے میڈیکل سٹور پر دوپہریں کالی کیا کرتا تھا۔ یہ دکان کراچی کے ایک صنعتی علاقے سے ملحقہ آبادی میں واقع تھی سو گاہکوں کی اکثریت انہیں کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور خاندانوں کی ہوا کرتی تھی۔کراچی کے  اردو بولنے والوں کا خبطِ عظمت اس وقت تک قائم تھا سو ان کارخانوں میں کام کرنے والے یہ مزدور عام طور پر سرحدی علاقوں سے آنے والے محنت کش  ہوا کرتے تھے جو یہ بات جان چکے تھے کہ انا سے پیٹ نہیں بھرا جا سکتا۔  
گو اتنے عرصے سے بازار میں بیٹھ کر ابا اب اہلِ زبان کی طرح پشتو اور دیگر علاقائی زبانیں بول لیا کرتے تھے مگر پھر بھی بازار میں ہماری دکان کی پہچان مہاجروں کا میڈیکل سٹور کے نام سے ہی تھی۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی رہی ہو کہ بازار میں یہ واحد دکان تھی جسے کوئی ہندوستانی مہاجر چلا رہا تھا۔ ہماری دکان کے اطراف میں واقع ویلڈنگ والا، روئی والا، کریانہ والا اور موچی سب سرحدی علاقے سے تعلق رکھتے اور پشتو بولتے تھے۔ ولی ولی کو پہچانتا ہے سو ان دکانوں پر کام کرنے والے تمام لڑکے میری خباثت کے معترف  اور باقاعدہ مرید تھے۔  اس سے پہلے کہ آپ میری خباثتوں کے بارے میں غلط اندازے لگائیں، یہ کہانی اچھے دور کی ہے کہ جب ہماری حرکتوں سے ہڈیاں تو کئی ٹوٹی ہوں گی مگر کوئی دل کبھی نہیں ٹوٹا تھا۔ ہاں ہماری کسی حرکت سے معتوب ہو کر کوئی غریب انسانیت پر بھروسہ چھوڑ بیٹھے تو اور بات ہے۔ تو  فارغ وقت میں میری  دکان پر یہ  بیٹھک جمتی جہاں  وہ مجھ سے خباثت سیکھتے اور بدلے میں میں ان سے پشتو زبان کی مکروہ ترین گالیاں اور گنتی سیکھا کرتا تھا۔
تو ایسی ہی ایک بیٹھک کا ذکر ہے کہ کڑی دوپہر میں عبدالصمد نمودار ہوگیا۔ عبدالصمد اپنی ذات کا ایک منفرد کردار تھا۔ اس کی عمر کوئی سولہ سترہ برس رہی ہوگی مگر ابھی تک اس کی مسیں بھی نہیں پھوٹی تھیں۔ نہایت معصوم چہرہ  اور بہت ہی نازک نقوش۔ مگر  کہتے ہیں نا کہ قدرت کسی کو بھی سب کچھ نہیں دیتی۔  والدین کی لاپرواہی کی وجہ سے ہونے والے پولیو کے نتیجے میں عبدالصمد کی دونوں ٹانگیں بیکار ہوچکی تھیں۔  شاید کلاس میں بچوں کی تضحیک رہی تھی یا پھر کوئی اور وجہ مگر پانچویں کے بعد وہ کبھی اسکول نہیں گیا تھا۔ پڑھنے لکھنے سے زیادہ سیکھنے کا شوق رہا تھا لہٰذا گھر بیٹھ کر بھی وہ کوشش کرتا تھا کہ کتاب سے رشتہ نہ ٹوٹے۔ گھر سے باہر نکلنے کا یا تو شوق نہیں تھا یا پھر ٹانگوں کی مجبوری رہی تھی کہ وہ کتب خریدنے بازار نہیں جا سکتا تھا سو ابا جو کتابیں مہینے میں ایک بار پرانی کتب فروش سے لا دیتے یہ انہیں ہی چاٹ جاتا تھا۔ میں اس کے بارے میں اتنا سب کچھ اس لئے جانتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ ایسے وقتوں میں دکان پر آتا تھا کہ جب گاہکوں کا رش نہ ہو، اور ایسے اوقات میں بالعموم ابا مجھے دکان پر بٹھا کر خود گھر پر کمر سیدھی کرنے چلے جاتے تھے۔ پچھلے پانچ سال سے  وہ اپنی بیساکھی گھسیٹتا ہوا میری دکان پر آرہا  تھا اور اب دکانداری کے علاوہ بھی ہمارا ایک تعلق بن چکا تھا۔ میں اپنی پڑھی ہوئی اردو کتب اس کے لئے لے آیا کرتا تھا اور اکثر ہم دکان پر کھڑے کھڑے پانچ دس منٹ کی گپ بھی لگا لیا کرتے تھے۔ اسے میرا کپڑوں کا انتخاب اور بالوں کا انداز بہت پسند تھا اور وہ اکثر اپنی اس پسندیدگی کا اظہار بھی کر دیا کرتا تھا۔  میں اسے اکثر اوڑھنے پہننے کے آداب بھی سکھا دیا کرتا تھا۔ ہم اکثر کتابوں پر گفتگو بھی کر لیا کرتے تھے۔  میرا اس کا تعلق ہمدردی کا نہیں بلکہ دوستی کا بن چکا تھا۔ میں ہمیشہ کے لئے اس کو اپنا چھوٹا بھائی مان چکا تھا۔
تو اس دوپہر جب عبدالصمد دکان پر آیا تو خلافِ معمول بہت دیر نہیں رکا۔ وہ بہت گھبرایا ہوا معلوم ہورہا تھا۔ میں نے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا مگر میں نے محسوس  کر لیا کہ اس کی بدحواسی کی وجہ   دکان میں موجود میرے چیلے اور بالخصوص ڈھکن خان ہے۔ ڈھکن خان ویلڈنگ والے کا بیٹا تھا جس کا اصل نام سرپوش خان ہوا کرتا تھا مگر ترجمہ کرکے میں نے اس کا نام ڈھکن خان کردیا تھا اور اب پورا بازار اسے ڈھکن کے نام سے ہی پکارا کرتا تھا۔  میں نے محسوس کیا کہ ڈھکن خان نہایت تمسخرانہ  و ہوسناک نظروں سے عبدالصمد کو دیکھ رہا تھا۔ عبدالصمد تو دوائیاں لے کر رخصت ہوگیا مگر میں نے ڈھکن کو اس ذلیل حرکت پر پکڑ لیا۔  میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ ہماری خباثتوں میں اس وقت تک جنس کا گزر نہیں ہوا تھا اور یہ چیز میرے لئے ناقابلِ برداشت تھی کہ میرے مقدس آستانے پر بیٹھ کر کوئی اس قسم کی ذلیل حرکات کرے۔ میرے استفسار پر ڈھکن نہایت  ڈھٹائی سے گویا ہوا کہ استاد! تم   اسے جانتے نہیں ہو! تم کو لگتا اے ام اس کی لنگڑی ٹانگوں کا مذاق اڑا رہا تھا؟ یا تم کو لگتا ہے ہم بچہ باز ہے جو اس کو ایسے دیکھ رہا تھا؟ ام تم کو بتا تا اے۔ یہ عبدالصمد اماری چاچی کا بھانجی اے۔ خدا کا قسم یہ لڑکی اے! اسے بچپن میں پولیو ہو گیا تھا تو اسے کراچی جب لائے تو لڑکا لوگ کا کپڑا پہناتا اے تاکہ نئے شہر میں کوئی اس کا کمزوری کا فائدہ اٹھا کر عزت مزت پر ہاتھ نہ ڈالے۔ تم خود بتاؤ، پانچ سال سے تم اسے دیکھ رہا ہے۔ کبھی داڑھی مونچھ تو چھوڑو، منہ پر رواں بھی دیکھا ہے اس کے؟اس کا بال مال اتنا شائن کیسے مارتا ہے کبھی سوچا ہے؟امارے خاندان کا اے ام جانتا اے۔  چھوڑو استاد ام جاتا اے۔  یہ کہتے ہوئے  ڈھکن نے دکان سے باہر کی راہ لے لی اور ڈھکن خان اٹھا تو اس کے ساتھ پوری پلٹن بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
ان لوگوں کو رخصت کرنے کے بعد میں گزشتہ پانچ سال  کے واقعات کی فلم اپنے دماغ میں دوبارہ چلانے لگا اور عبدالصمد کا میرے بالوں کی تعریف کرنا، میرے لباس کو سراہنا، اس کے نازک نقوش جو دراصل زنانہ نقوش تھے، اس کی آواز کی نسوانیت وغیرہ سب میری نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔ حقیقت ہمیشہ سے میرے سامنے موجود تھی مگر میں ہی احمق بن کر اس پر پردہ ڈالے بیٹھا رہا تھا۔ عبدالصمد نہ صرف ایک لڑکی تھی بلکہ وہ مجھے پسند بھی کرتی تھی۔ میں نے اس دن سے ہی انتظار کرنا شروع کردیا کہ کب وہ دوبارہ دکان پر آئے اور میں اسے اس طرح دیکھ سکوں جیسے وہ دراصل تھی۔
میرا انتظار زیادہ طویل ثابت نہیں ہوا اور چار دن کے بعد ہی وہ ایک مرتبہ پھر دکان کے کاؤنٹر پر موجود تھی۔ دوائیوں کا پرچہ مجھے تھماتے ہوئے میرے ہاتھ اس کے ہاتھ سے ٹکڑائے اور پھر ایک عجیب  شے ہوئی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس سے پہلے اکثر اوقات ہم سلام علیک کرتے ہوئے باقاعدہ مصافحہ کیا کرتے تھے مگر آج جب میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھوا تو میرے پورے جسم میں ایک عجیب سی بجلی دوڑ گئی۔ شاید یہ بجلی کا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ عبدالصمد نے بھی اس کو محسوس کرلیا۔ اس کے چہرے کا رنگ بالکل فق ہوگیا۔ وہ جان گئی تھی کہ میں جان گیا ہوں ۔اور اس معرفت کے  نتیجے میں  میرایہ نیا  رویہ اس کی ذات میں زلزلوں کا باعث بن گیا  تھا۔ ہماری نگاہیں ملیں تو میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں قوسِ خزح کے رنگ دوڑ رہے تھے۔ درد کے رنگ، شکایت کے رنگ، ملامت کے رنگ۔ اس کی آنکھوں میں احترام کے علاوہ تمام رنگ موجود تھے اور وہ آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا،  اس نے دوائی کا پرچہ میرے ہاتھ سے چھینا اور بیساکھی گھسیٹتی ہوئی نکل گئی ۔ کبھی نہ واپس آنے کے لئے!
ماضی اپنے وقت میں جیسا بھی رہا ہومگر ماضی بن جانے کے بعد خوشگوار ہو ہی جاتا ہے۔ البتہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی یاد داشت سے کھرچ نہیں پاتےاور وقت کی شیرینی بھی ان کی تلخیوں کو کم نہیں کرپاتی۔ انسان شاید ایسی ہی یادداشتوں کی بائے پروڈکٹ ہے۔

اتوار، 21 اکتوبر، 2018

پینسل

لدھڑ  کپتان کا جگری دوست تھا۔ وہ کپتان سے چودہ سال کی عمر میں ملا تھا۔ یہ دونوں  اس وقت اسکول میں پڑھتے تھے۔لدھڑ بنیادی طور پر سادہ طبیعت کا حامل تھا اور ایک ایسے دور میں کہ جب اس کی عمر کے لوگ کرکٹ، ہاکی، پڑھائی  وغیرہ کے نشئی تھے، لدھڑ سیدھا سادہ نشئی تھا۔  اس کی یہی سادگی اسے کپتان کے نزدیک لے آئی تھی۔ ان دونوں کا دن ایک دوسرے سے ملاقات کے بغیر ادھورا رہتا تھا۔  یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ دونوں بڑے ہوکر پائلٹ بننا چاہتے تھے۔ یہ دونوں گھنٹوں ساتھ بیٹھ کر اس ہی تصور میں خود جہاز بنے رہتے تھے۔
ان دونوں کی یہ دوستی قریب تین سال اس ہی طرح جاری رہی مگر چونکہ کپتان اپنے والدین کی محنت کی بدولت  ایچ ای سِن میں تھا  اور ایچ ای سِن کے لڑکوں کو لدھڑ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا کیونکہ وہ دوستی میں کاروبار کا قائل نہیں تھا اور تین سو روپے گرام  کی چیز پانچ سو روپے میں بیچنے کا سخت مخالف تھا۔  کہتے ہیں کہ بڑا کپتان  وہ ہوتا ہے جو کان اور ازار کا کچا ہو۔ ان لوگوں نے اٹھتے بیٹھتے کپتان کے معصوم ذہن میں لدھڑ کے خلاف زہر بھرنا شروع کردیا اور ایک وقت آیا کہ دونوں دوستوں نے اپنے اپنے جہاز الگ کر لئے۔
لدھڑ اس دوستی کے یوں ختم ہوجانے پر شدید آزردہ ہوگیا۔  مایوسی نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ ایسے میں اس کے پاس صرف دو راستے بچتے تھے۔ ایک تو یہ کہ وہ ہمت ہار جائے اور ساری عمر کے لئے روگ لے کر تقدیر کو گالیاں دیا کرے۔ دوسرا راستہ یہ کہ وہ اس زخم کو اپنی طاقت بنا لے اور اس سے ہمت کشید کرتے ہوئے زندگی میں کچھ ایسا مقام حاصل کرلے  کہ دنیا کو اس کی اہمیت تسلیم کرنی پڑے۔  لدھڑ نے دوسرا راستہ چننے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ کپتان سے انتقام لے گا اور اسے اس کی غلطی کا احساس دلائے گا۔ 
 کپتان زندگی کے سفر میں آگے بڑھ چکا تھا اور لدھڑ کو قریب قریب بھول چکا تھا۔  اس نے کرکٹ کے نشے کو  بھی جاری رکھا ہوا تھا اور اللہ اور ماموں کی مہربانی سے اب قومی ٹیم کے لئے کھیلا کرتا تھا۔ وہ ایک مکمل آل راؤنڈر تھا۔ وہ بیٹنگ میں بھی چمپیئن تھا اور باؤلنگ میں بھی ۔ اس زمانے میں کہ جب قومی ٹیم کی فیلڈنگ نہایت زبوں حالی کا شکار تھی، کپتان اگر فائن لیگ پر کھڑا ہوجاتا تو بیٹسمین نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے سلپ میں کیچ دے کر آؤٹ ہوجانے میں عافیت محسوس کرتا تھا۔ کپتان ایک مکمل پیکج تھا۔ صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کو سراہا جاتا تھا۔ دنیا بھر کی خواتین کرکٹ ٹیم اس حسرت میں مری جاتی تھیں کہ کاش ان کے ملک میں بھی کوئی کپتان جیسا پلیئر ہوتا۔  مگر یہ مراتب ہر کسی کو کہاں نصیب ہوتے ہیں؟ 
کرکٹ ٹیم سے سیاست کا کورس کرنے کے بعد کپتان نے قومی سیاست کا رخ کیا مگر  کپتان کا وژن بہت آگے کا تھا اور قوم ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہوئی تھی کہ اس کی بات کو سمجھ سکے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب کوپن ہیگن میں  ایک شام میں بیٹھا ہوا ڈنمارک اور پاکستان کا تقابل کرتا ہوا اداس ہورہا تھا  اورتب  ایک نوجوان  خاتون نے مجھ سے آکر پوچھا تھا کہ آیا میرا تعلق پاکستان سے ہے؟  میرے لئے یہ بات شدید حیران کن تھی۔ ڈینمارک سکینڈے نیویا کے ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کی سب سے پرمسرت قوم ہیں۔ اس قوم کی خوشحالی کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ پاکستانیوں کی طرح دوسرے اینکرز کی کرسیوں پر نظریں لگا کر نہیں بیٹھتے۔ یہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔  یہ اپنی افواج کی عزت کرتے ہیں۔ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔   اپنے علاوہ کسی اور قوم کی پرواہ نہیں کرتے ۔ اس لئے اس خاتون کے منہ سے پاکستان کا نام سننا میرے لئے حیران کن تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں پاکستان سے ہوں؟  اس نے کہا جس طرح آپ مجھے دیکھ رہے تھے میں سمجھ گئی تھی کہ آپ پاکستان سے ہوں گے۔ میرا دل خوشی سے لبریز ہوگیا تھا۔ یہ احساس کہ میں پردیس میں پاکستان کی شناخت کا باعث بن رہا ہوں میرے لئے از حد قابلِ فخر تھا۔ مگر میں جاننا چاہتا تھاکہ اسے پاکستان کا نام کیسے معلوم ہوا؟  تب اس نے مجھے بتایا کہ وہ کپتان کی فین ہے اور میری آنکھیں یہ سوچ کر بھر آئیں  کہ کیسے ہمارے معاشرے میں ہیروں کو روندا جاتا ہے۔  مگر اندھیرے کبھی بھی دائمی نہیں ہوتے۔ جہالت کی تاریکیوں کے بعد بہرحال علم کی روشنی ضرور آتی ہے اور ان تاریکیوں کا سینہ و دیگر اعضا چیر کر اپنے وجود کو ثابت کردیتی ہے۔  تبدیلی کا علم اٹھائے کپتان نے جو سفر شروع کیا تھا اس میں کامیابی نے اس کے قدم چومے اور کپتان نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا۔
دوسری طرف لدھڑ بھی زندگی میں پیچھے نہیں رہا تھا۔ ڈنکی کے ذریعے یونان پہنچ کر اس نے پہلے تو  سرمایہ جمع کیا اور پھر خدا کا نام لے کر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ مسلسل محنت اور لگن کے ساتھ کام میں دن دوگنی اور رات سو گنی ترقی کرتا ہوا وہ اپنے کاروبار کو پھیلاتا چلا گیا اور اب اس کا کاروبار کولمبیا سے لے کر افغانستان تک پھیل چکا تھا۔
ملک کی ترقی کے لئے کپتان نے سمندر پار پاکستانیوں سے امداد کی اپیل کی اور اس ہی سلسلے میں لدھڑ کو بھی وزیرِ اعظم ہاؤس مدعو کیا گیا۔ کپتان معصوم نہیں جانتا تھا کہ لدھڑ آج بھی اس کے خلاف کس حد تک کینہ پال رہا تھا۔  یہ دونوں جب وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملے تو کپتان کو قطعاٗ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ملاقات پاکستان کے مستقبل کا رخ بدل دے گی۔ لدھڑ کو دیکھ کر جب کپتان نے بازو پھیلائے اور اسے سینے سے لگایا تو لدھڑ نے کپتان کے کان میں سرگوشی کی، بولو پینسل! کپتان اپنی سادگی میں کہہ اٹھا ، پینسل! لدھڑ نے کپتان کی آنکھوں میں جھانک کر سفاکی سے بولا، تبدیلی کینسل!
اب آپ کپتان پر لاکھ یو ٹرن کے الزام لگاتے رہیں۔ ہر غلطی کے لئے اسے خطاوار سمجھتےرہیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا الزام بھی اس پر دھر دیں مگر تاریخ کبھی نہ کبھی انصاف ضرور کرے گی۔ مورخ لکھے گا کہ  فساد کی جڑ یہ پینسل تھی اور اس ہی لئے ملک سے مخلص تمام ادارے قلم پر پابندی لگادینا چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ پینسل پاکستان کے لئے کس قدر تباہ کن ثابت ہوسکتی تھی۔ اگر مورخ کو قلم میسر ہوا تو مورخ ضرور لکھے گا۔

ہفتہ، 6 اکتوبر، 2018

تھپڑ

منی بس میں حسب معمول شدید رش تھا اور میں نشست یا شاید زیادہ اپنی منزل کے انتظار میں کھڑا ٹریفک کی بے ہنگم صورتحال اور اس بظاہر نہ ختم ہونے والے سفر کو کوس رہا تھا۔ ان منی بسوں، سست ٹریفک اور نشست کے انتظار سے یوں تو پرانی آشنائی ہے مگر مصیبت کتنی ہی مسلسل کیوں نہ ہو اس کی عادت نہیں پڑتی جبکہ آسائش کتنی ہی مختصر وقفے کی ہو ساری عمر کے لیئے اپنی لت لگا جاتی ہے-
انتظار سے تنگ آکر میں نے ارد گرد نظر ڈالی تو بس کو ہر طرح کے لوگوں سے بھرا پایا۔ کراچی میں ساحل کے بعد میری سب سے پسندیدہ چیز اس شہر کی یہی وسعت قلبی تھی۔ دلی سے آنے والا مہاجر ہو یا سیالکوٹ سے آنے والا پنجابی، پشاور کا پٹھان ہو یا سکھر کا سندھی، اس شہر نے کبھی کسی آنے والے سے اس کا نام، مسلک یا ذات نہیں پوچھی۔ غریب کی ماں کا خطاب اس کو واقعی جچتا تھا۔ لیکن شاید خطاب دینے والے کے گمان میں بھی یہ نہیں آیا ہو گا کے غریب کی ماں کا پیٹ اکثر خالی اور آنکھ اکثر بھری رہتی ہے۔
دو بزرگ اپنے اپنے پیروں کی کرامات پر بحث میں اس طرح مصروف تھے کہ اگر ایک بزرگ کی منزل نہ آجاتی تو دوسرے والے ان سے اعتراف کروا چھوڑتے کے اسلام میں اللہ رسول اور اصحاب کے بعد سب سے برگزیدہ ہستی ان کے حضرت والا ہی ہیں۔ مجھے بچپن کی وہ بات یاد آگئی کے "پیر خود نہیں اٰڑتے، ان کے مرید اڑاتے ہیں"۔ ایک پٹھان بھائی ڈرون طیاروں اور ان کے شجرہ نسب پر روشنی ڈالنے میں مصروف تھے اور ڈرون کی والدہ سے متعلق ان کے بیان کردہ ارادوں سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ انسان اور مشین کے تعلقات بہیت جلد ایک نیا اور تاریخی موڑ لینے والے ہیں۔ ایک حضرت پاک-ایران گیس پائپ لائن کے فوائد اور خطے میں ایران اور سعودیہ کی جنگ پر اپنے زریں خیالات سے نواز رہے تھے اور ہر دلیل کے ساتھ اونچی ہوتی ان کی آواز مجھے یاد دلا رہی تھی کے جب دلیل کمزور ہو جائے تو آواز خودبخود اونچی ہو جاتی ہے۔
اگلے اسٹاپ پر ایک نشست خالی ہوئی تو میں تیزی سے اس کی طرف لپکا، جو صاحب اس نشست کے انتظار میں پہلے سے کھڑے تھے وہ پہلے تو تھوڑے ہچکچائے مگر پھر کمال مہربانی سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے "آپ مجھ سے زیادہ تھکے ہوئے ہیں، پہلا حق آپ کا ہے"۔ نشست کیا آئی، گویا جان میں جان آگئی۔ نشستوں پر بیٹھے تمام مسافر جو اس سے پہلے نہایت مطلبی، خودغرض اور بناوٹی لگ رہے تھے یکایک کھڑے ہوئے مسافروں سے بہتر لگنے لگے۔ اور کیوں نہ لگتے؟ جو مسافر اب تک کھڑے ہوئے تھے وہ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے گویا میں کوئی نہایت مطلبی، خودغرض اور بناوٹی انسان ہوں؟ اچھا ہوتا ہے جو ان کو نشست نہیں ملتی، ہیں ہی اس ہی قابل1 دل میں یہ سوچ کر میں اب ان صاحب کی طرف متوجہ ہوا اور رسما پوچھ لیا کہ انہوں نے یہ زحمت کیوں کی میرے لیئے؟ اس سے پہلے کے وہ کوئی کوڑھ مغز قسم کا جواب دیتے میں بات کا پہلو بدل کر امت مسلمہ کے موجودہ مسائل اور ان کے حل پر آگیا کہ یہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ اگلے بیس منٹ تک ہماری [زیادہ تر میری] گفتگو اسلام کی نشاط اول کے راست باز، قانون اور اصول پسند مسلمانوں پر رہی۔ ہم دونوں کا اتفاق تھا کہ مسلمان اگر صرف قانون پسندی ہی کر لے تو بھی ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہو سکتا ہے۔ گفتگو کچھ اور آگے چلتی تو میں ان صاحب کو مزید سکھاتا کے میری برسوں کی تحقیق کس طرح مسلمانوں کے کام آ سکتی ہے، مگر ان کی منزل آگئی تھی سو انہوں نے رخصت چاہی۔
اترنے سے پہلے کنڈکٹر کو روک کر کچھ پیسے دیے اور اسے یاد دلایا کے وہ ٹکٹ لینا بھول گیا تھا۔ میں نے کہا کہ بھول چوک اسلام میں معاف ہے، اگر وہ کرایہ لینا بھول گیا تھا تو آپ بھی بھول جاتے؟ وہ بس سے اترتے ہوئے آہستہ سے گویا ہوا "جی، میں مسلمان نہیں ہوں۔"
اس سرگوشی میں چھپے تھپڑ کی آواز آج تک مجھ میں گونجتی ہے۔

سید عاطف علی
11-12-2013

جمعہ، 7 ستمبر، 2018

زبان دراز کی ڈائری - 3

 سب سے پہلے تو اس طویل غیر حاضری کی معذرت کہ ہمارے ہمسائے جناب حاجی مسلمان احمد نمازی و روزوی و زکٰوتی صاحب کے سلسلہ میں کچھ ایسی مصروفیت رہی کے لکھنے  لکھانے کا وقت ہی نہیں مل سکا۔ حاجی صاحب کے نام سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ جناب کس حد کے متقی اور عبادت گزار تھے۔ امت مسلمہ کا جتنا درد ان کے دل میں تھا، اگر کسی عام انسان کے ہوتا تو اب تک اٹھارہ بیس ہارٹ اٹیک کھا کر مر چکا ہوتا، مگر حاجی صاحب کو خدا نے کمال کے ضبط سے نوازا تھا۔ مسلمانوں کے مسائل کا درد رکھنے کی ایک اور مثال یہ بھی ہے کہ اگر آپ ان کے ساتھ دس منٹ بات کر لیں تو انشاءاللہ آپ کے بھی سر میں بھی درد ہو جائے گا۔ کسی کم فہم اور پکے جہنمی نے ایک دفعہ ان سے اس درد کا ذکر کیا تو آپ نے کمال ضبط و محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا گال سہلایا جسے بعد میں محلے کے یہودی ایجنٹوں نے تھپڑ کا نام دے دیا۔ مگر حاجی صاحب ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے ہرگز نہیں تھے سو اس اعلائے کلمۃ حق کا کام اس ہی خیر و خوبی سے جاری رکھا۔ 
بحث اور مناظرے میں حاجی صاحب یدِ طولٰی رکھتے تھے۔ ایک دفعہ میرے منہ سے غلطی سے نکل گیا کہ حاجی صاحب، مانا کہ اسلام دینِ حق ہے اور مسلمان آج بھی بہت سی اقوامِ دیگر سے بہتر ہیں مگر یہ کیا کہ صرف رٹو توتے کی طرح عربی کے چند لفظ رٹ کر صبح شام دہرانا اور یہ امید رکھنا کہ اس سے دنیا و آخرت سنور جائے گی؟ قرآن سمجھنے کی کتاب ہے نہ کے رٹنے کی، اور ویسے بھی مسلمان صاحبِ عزت صرف تب تک تھے جب تک تحقیق کے میدان میں آگے تھے آج اگر کفار خلقِ خدا کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے تو اللہ بھی عزت اسے ہی دے گا جو اس کی مخلوق کے کام آئے۔ جذبات کی رو میں بہک کر ہم بول تو گئے مگر ہم بھول گئے تھے کہ حاجی صاحب جب دلیل سے جواب دینے کے موڈ میں نہ ہوں تو اللہ کے دیئے ہوئے ہاتھ پیروں کا استعمال مباح سمجھتے تھے۔ پانچ منٹ بعد ہم زمین پر بے سدھ پڑے تھے اور حاجی صاحب فرما رہے تھے کہ دیکھو حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے اور تمہارا اس طرح زمین پر پڑا ہونا میرے غالب آنے اور برحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ مزید بحث کی نہ تاب تھی نہ گنجائش۔
پچھلے ہفتے امت مسلمہ کا درد رنگ لے آیا اور حاجی صاحب کو شہر کے مشہور امراضِ قلب کے ہسپتال لے کر بھاگنا پڑا کے دل کا دورہ بہت شدید تھا۔ ہسپتال میں داخل  رہے اور اس کافر نرس کو مسلمان کرنے کی کوشش کرتے رہے جو سوئے قسمت ان کی ڈیوٹی پر مامور تھی۔  ڈاکٹروں نے بتایا کے انجیو پلاسٹی ہوگی- نقاہت سے مجھ سے پوچھا یہ کیا ہوتی ہے؟ میں نے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں یہ اب بہت معمول کی چیز ہے۔ آپ کے جسم میں ایک سوئی جتنا سوراخ ہوگا اور اس کے زریعے جسم کی بند شریانوں کو کھول دیا جائے گا۔ ایک دم سے چہک اٹھے، آپ بڑے گن گاتے تھے نہ ان یہود و نصارا کے! دیکھیں جابر بن حیان کے انسانیت پر احسانات! سبحان اللہ ۔۔۔ ماشاءاللہ ۔۔۔۔ جزاک اللہ ۔۔۔ کیا اعلٰی چیز بنا گئے ہیں، خدا ان کو جوارِ رحمت میں جگہ دے! بھئی جابر بن حیان کے لیئے فاتحہ ہو جائے۔ جب ہم فاتحہ پڑھ کر فارٖغ ہوئے تو اس تقریباٗ یہودی ڈاکٹر نے منہ بنا کر کہا کہ یہ جابر بن حیان کی ایجاد نہیں۔ حاجی صاحب مسکرا کر بولے، شک تو مجھے بھی تھا۔ یہ البیرونی کا کام ہوگا! نہیں؟ ڈاکٹر نے سر ہلا کر کہا نہیں! الفارابی سے الکندی اور پھر ابن زہر سے الزہراوی تک پہنچتے پہنچتے آپ کا رنگ ہر نہیں کے ساتھ اترتا چلا گیا۔ اور جب پتہ چلا کہ یہ ساری تکنیک یہود و نصارٰی کی ہے تو قبلہ حاجی  صاحب نے بغیر علاج کروائے رخصت کا قصد کیا۔
 کل شب حاجی مسلمان احمد نمازی و روزوی و زکٰوتی صاحب مرحوم و مغفور کے سوئم سے فارغ ہوا ہوں تو آج ڈائری لکھنے بیٹھا ہوں۔ 

ہفتہ، 26 مئی، 2018

گناہگار


 طوائف اگر سدھرنا بھی چاہے تو تماش بین اسے بھولنے نہیں دیتے۔

اس نے  کہتے ہوئے تاسف سے سر جھٹکا تو میں حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔ اس کی عمر تیس بتیس سال ہی رہی ہوگی مگر وقت
 نے اسے عینِ شباب میں ہی بوڑھا کر دیا تھا۔ اس کے چہرے پر جھریاں تو نہیں تھیں مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تھکن تھی جو اس کا مجموعی تاثر ایک جوان دکھنے والے بوڑھے کا بناتی تھی۔
ہم دونوں سمندر کے دوست تھے۔  یہ میرا روز کا معمول تھا  کہ میں دفتر سے واپسی پر گھر جانے سے پہلے مغرب گئے سمندر پر حاضری دینے آجاتا تھا۔ کسی زمانے میں یہ واقعی سمندر ہوا کرتا تھا مگر شہرمیں آ بسنے کی وجہ سے اب یہ بھی شہر کے باسیوں کی طرح ایک وسیع و عریض جوہڑ میں تبدیل ہو چکا تھا۔  اس کا ساحل اب ایک وسیع کوڑا دان تھا۔ اس کی موجیں جو کبھی شفاف نیلگوں پانی ساتھ لاتی تھیں اب سیاہی مائل ہوچکی تھیں۔  میرا ماننا تھا کہ سمندر کا دامن اتنا وسیع تھا کہ وہ اس شہر کیا، اس پورے ملک کا کچرا بھی اپنے اندر سمو سکتا تھا۔ اور اس کا ظرف اتنا تھا کہ اس تمام کچرے کو بھی وہ اپنے دل سے لگا کر رکھتا  اور کبھی سطحِ آب کو اس طرح آلودہ نہ دکھاتا۔ مجھے یاد ہے ایک دن ایسے ہی ساحل پر بینچ پر بیٹھے میں نے اپنے اس فلسفے کی تکرار کی تھی اور بے دھیانی میں میری آواز تھوڑی بلند ہوگئی تھی تو اس نے مجھے  مخاطب کر کے جواب دیا تھا کہ ، سمندر  فضلے کی آلودگی سے کالا نہیں ہوا۔ ہماری سوچوں کی نجاست نے اس کا رنگ اجاڑ دیا ہے۔ اس دن کے بعد روزانہ ہونے والی ہماری ملاقاتوں کے سلسلے کی وہ پہلی ملاقات تھی۔
ہماری ملاقاتیں عام لوگوں کی ملاقاتوں سے مختلف ہوتی تھیں۔ ہم دونوں اس بات سے واقف تھے کہ ان ملاقاتوں (اور شاید اس تعلق کا بھی )  واحد سبب ایک دوسرے کی ذات میں دلچسپی نہیں بلکہ سمندر تھا۔   شاید اس ہی لئے ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے سے ذاتی معلومات کا تبادلہ نہیں کیا تھا۔  آپ کو پڑھ کر حیرت ہو رہی ہوگی کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ناموں تک سے واقف نہیں تھے۔  ہم دونوں جانتے تھے کہ ناموں کے پیچھے  حوالے چھپے  ہوتے ہیں اور جب ہمیں کسی انسان کا حوالہ مل جائے تو ہم اس کی پہچان اس کے کردار یا گفتار کے بجائے اس حوالے سے جوڑ دینے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں۔ سمندر ایسا نہیں کرتا۔ یہ سید، شیخ، سنگھ، پیٹر، سومرو، بٹ، مینگل ، خان اور  اعوان سب کو ایک جیسا برتتا ہے۔ ایک ہی جیسی موت بخشتا ہے۔  اس لئے ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے سے نام پوچھنے کا تردد نہیں کیا تھا اور  اطمینان کی بات یہ تھی کہ ایک دوسرے کی پہچان جانے بغیر بھی ہم زندہ تھے۔
آج البتہ معاملہ مختلف تھا۔ خلافِ معمول آج وہ مجھ سے پہلے سےساحل پر براجمان تھا۔ خدا  جانے کب سے بیٹھا تھا۔ تھکن تو خیر اس کی شناختی علامت رہی ہی تھی مگر آج وہ کچھ پریشان بھی معلوم ہورہا تھا۔ یا شاید وہ ہمیشہ سے ہی پریشان رہا ہو اور میں نے آج محسوس کیا تھا۔  معاملہ جو بھی تھا، بہرحال وہ میرے معشوق کا عاشق تھا اور یہ تعلق کتنا ہی گھٹیا سہی مگر ہوتا بہرحال نہایت مضبوط ہے۔ سو فطری طور پر میں اس کے لئے فکرمند تھا۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ مجھے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی اور وہ خود ہی بولنا شروع ہوگیا۔ نجانے کیوں ہم انسان دوسرے انسانوں کو زبردستی خود سے برتر بنانے پر تلے رہتے ہیں؟  اگر سب انسان ایک ایسے نیک ہوتے تو جنت میں مدارج کیوں ہوتے؟  پونر جنم پا کر ایک برہمن اور دوسرا کتا کیوں بنتا؟   خدا  کے گھرانے میں صرف تین ہی لوگ کیوں ہوتے؟  جب خدا یا ایشور یا گوڈ کے عقیدے کے حامل تمام انسان یہ بات مانتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی برتر اور باقی اس سے کمتر لوگ ہوتے ہیں تو  پھر ہم انسانوں کو کمتر ہونے کا حق کیوں نہیں دے سکتے؟ کوئی گناہ محض بدلے کے طور پر کیوں قابلِ فہم قرار دیا جاتا ہے؟ اور کوئی برائی محض اس لئے کیوں برائی ہے کیونکہ آپ اسے  نہیں کرتے؟ برائی محض برائی ہے۔ کسی ایک انسان کا اسے کرنا نہ کرنا اسے برا کیسے بنا سکتا ہے؟ ویسے ہی اچھائی محض اچھائی ہے۔ اگر تم کوئی نیک کام کرتے ہو     تو یہ مجھ پر کیسے لازم ہوجاتا ہے کہ میں بھی وہی نیکی دہراؤں؟ مگر میں نیکی کے موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ اس موضوع پر مجھ سے بہتر بولنے والے بہت سے موجود ہیں۔ میں تو  محض یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر میں نے بحیثیت انسان ایک غلطی کر دی تو مجھے  پچھتاوے کا حق کیوں نہیں ہے۔  میں اگر اپنے ماضی سے آگے نکلنا چاہتا ہوں تو کیوں یہ لازم ہے کہ میرے ماضی کے گندے پوتڑے میرے منہ پر مارے جائیں؟ کیوں  میری معافی قبول ہونے پر بھی مجھے پہلے میرے ماضی کی وہ بھیانک فلم دکھائی جاتی ہے جس سے گھن کھا کر ہی میں توبہ کے راستے پر چلنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ ، ان سب کے باوجود میں تمہیں معاف کرتا ہوں؟ ان سب کے باوجود؟  اگر پونر جنم کا قصہ درست مان لیا جائے تو کیا ہم اپنے کتے سے بھی یہی کہیں گے کہ تیرے رذیل ماضی کے باوجودمیں تجھے اپنے گھر میں رکھنے کو تیار ہوں؟ یا اگر مسلم کی بات درست مان لی جائے تو بخشش  کے طلب گار گناہگاروں کو، بغیر حساب کے بخشنے والے خدا کے ماننے والے دنیا میں ہر بخشش سے پہلے حساب کیوں مانگتے ہیں؟
وہ مسلسل بولے چلا جا رہا تھا اور میں حیرت سے اس کی شکل دیکھ رہا تھا۔  جب کلام میں تھوڑا سا وقفہ آیا  اور وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھیں رگڑنے لگا تو میں نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا  ۔ میں نے چاہا کہ اسے تسلی دوں مگر جب تسلی کے لئے مناسب الفاظ نہ ملے تو میں نے بس اتنا پوچھ لیا، کیا ہوا دوست؟ اس نے بھیگی ہوئی سرخ آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور نہایت کرب سے گویا ہوا، طوائف اگر سدھرنا بھی چاہے تو تماش بین اسے بھولنے نہیں دیتے۔ اس لئے طوائف کو چاہئے کہ وہ تاعمر طوائف ہی رہے کیونکہ گناہ کرچکنے کے بعد فرشتوں کی اس دنیا میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ کوٹھے پر اس کی عزت نہیں لٹتی، وہ اس کا پیشہ ہوتا ہے جس کی وہ مناسب قیمت لیتی ہے۔ یہاں فرشتوں کی دنیا میں روز اس کی عزت لٹے گی ۔اس نے یہ کہہ کر تاسف سے سر جھٹکا اور اٹھ کر واپسی کی طرف چل دیا۔ میں خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا۔  اس کی عمر تیس بتیس سال ہی رہی ہوگی مگر وقت نے اسے عینِ شباب میں ہی بوڑھا کر دیا تھا۔ اس کے چہرے پر جھریاں تو نہیں تھیں مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تھکن تھی جو اس کا مجموعی تاثر ایک جوان دکھنے والے بوڑھے کا بنادیتی تھی۔  ضرور اس نے زندگی میں کوئی نیچ کام کیا ہوگا جس کے پچھتاوے نے اسے ایسی باتیں کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ اور شاید یہی نیچ کام اس کے چہرے پر اس پھٹکار کا باعث بنے تھے جسے میں اب تک تھکن سمجھتا آیا تھا۔ خدا ہم سب کو ایسے کاموں سے محفوظ رکھے۔


بدھ، 9 مئی، 2018

قائد

بہت پیارا بچہ ہے صاحب! ڈرائیور کے انٹرویو کے لئے آئے ہوئے اس مفلوک الحال شخص نے میرے بیٹے کی تعریف کی تو خود بخود میری گرفت گود میں موجود اپنے بیٹے   پر مضبوط ہوگئی۔ کیا کریں؟ زمانہ  ہی ایسا ہے کہ اپنے بچوں کی خود حفاظت کرنی پڑتی ہے ورنہ یہ بھوکا معاشرہ انہیں مردوں سے بدتر حال میں پہنچا دے۔ خیر صرف تعریف کرنے پر میں اس کو کچھ نہیں کہہ  سکتا تھا مگردماغ میں آنے والے وسوسوں کی وجہ سے میں نے اس کو  غیرت دلانے کا فیصلہ کر لیا۔ "گھر میں ماں بہن نہیں ہے کیا"  والا روایتی جملہ یہاں کسی طرح منطبق نہیں ہو رہا تھا   مگر میں چاہتا تھا کہ میں اس  سے پوچھوں کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس کی قیمت چکانے کے لئے گھر میں مال موجود ہے  بھی یا نہیں ؟ سو میں نے بیٹے کی مناسبت سے اس سے پوچھ لیا کہ تمہارا کوئی  بچہ نہیں ہے؟    میرے سوال پر اس کی آنکھوں میں ایک چمک آکر گزر گئی۔ جب وہ  بولا تو مجھے احساس ہو اکہ اس ایک جملے کو کہنے میں وہ کس کرب سے گزرا ہوگا۔ اس نے کہا، ہے نہیں صاحب، تھا! آپ کے بیٹے سے تھوڑا ہی بڑا تھا ۔
میرا دل کیا کہ زمین پھٹ جائے اور میں سالم اس میں دفن ہو جاؤں۔ میں نے جو رائے اس شخص کے بارے میں بنالی تھی وہ اس وقت طمانچے کی صورت مجھ پر برس گئی تھی۔ لوگوں کے بارے میں رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ہوتی مگر اس رائے کو  اگلے کے موقف کو سنے بغیر حتی الیقین پر پہنچا دیناحرام    ہونا چاہئے۔ مجھ سے یہ حرام فعل سرزد ہوچکا تھا۔ شرمندگی  کو کم کرنے کے لئے میں نے اسے ہمدردی دینی چاہی اور پوچھ بیٹھاکہ، کیا مطلب تھا؟ کیا ہوا اس کو؟  اس نے میری طرف دیکھا گویا یہ جانچنے کی کوشش کر رہا ہو کہ آیا میں یہ بات برائے بات کر رہا ہوں یا واقعی سنجیدگی سے جاننا چاہتا ہوں۔ میرے چہرے پر شرمندگی نما ہمدردی دیکھ کر وہ بولا، بس صاحب! اللہ کی دی ہوئی چیز تھی۔ اللہ نے لے لی! مالک کے کاموں میں کس کا دخل؟ لوگ جیتے جی دوسرے کے لئے مر جاتے  ہیں اور پہلا ساری عمر اس کا روگ پالتا رہتا ہے ،یہاں اطمینان تو ہے کہ جب وہ مرا تو میری ہی گود میں تھا۔ گفتگو میرے لئے تکلیف دہ ہوتی جارہی تھی مگر میں موضوع یہاں پر پہنچ کر تبدیل نہیں کر سکتا تھا۔  میں نے پوچھا، مگر اسے ہوا کیا تھا؟ اب کی بار جب وہ بولا تو بولتا ہی چلا گیا۔ صاحب! ہونا کیا تھا؟ امیر آدمی تو کینسر سے بھی بچ جاتا ہے جبکہ غریب کے بچے کو بخار ہی بہت ہے۔ میرے بیٹے کو بخار ہوگیا تھا۔ شروع میں تو میں سرکاری ڈسپنسری سے دوائی لا کر دیتا رہا مگر بخار جان چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ پھر محلے کے ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے ملیریا بتایا۔ دوائی مہنگی تھی مگر بیٹے سے بڑھ کر تو نہیں تھی نا صاحب؟ ویسے بھی میرا بیٹا تو قائد تھا۔ قائد اعظم کو گئے ہوئے پینسٹھ سال ہوگئے تھے صاحب جب یہ پیدا ہوا۔ جیسے انہوں نے مسلمانوں کی تقدیر بدلی ویسے مجھے لگتا تھا یہ بڑا ہوکر میری تقدیر بدلے گا۔ اس ملک کی تقدیر بدلے گا۔ یہاں پہنچ کر اس کی آواز بھرا چکی تھی۔ اس نے آنسووں کا گھونٹ بھرا اور بولا، صاحب! برا مت ماننا مگر انسان خالی پیٹ میں فلسفی ہوجاتا ہے۔ تو بس ملیریا کا علاج چل رہا تھا اس کا کہ اچانک ایک دن طبیعت خراب ہوگئی۔ گھر پر بیوی اکیلی تھی۔ میں ڈیوٹی پر تھا۔ ان دنوں راج مستری کا کام کرتا تھا میں صاحب۔ موبائل فون تھا نہیں میرے پاس۔ بیوی میری گاؤں کی ہے ۔ یہاں کی زبان بھی نہیں جانتی تھی کہ کسی سے مدد مانگتی۔ بیچاری گھر پر پٹیاں رکھتی رہی ۔ جب میں گھر پہنچا تو میرے بچے کا حال بخار سے خراب تھا۔ پٹیوں کے باوجود بخار نیچے نہیں آرہا تھا۔ میں نے پڑوسی سے فون لے کر ایمبولینس منگوائی کہ سرکاری ہسپتال لے کر دوڑوں۔ ایمبولینس بھی وقت پر پہنچ گئی۔ میں بچے کو گود میں لے کر اس میں بیٹھ گیا۔ راستے میں بچے کا سانس اکھڑنے لگا۔ وہ پورا زور لگا کر سانس اندر کھینچنے کی کوشش کرتا تھا تو صاحب میں اس کے ننھے سے جسم کو دیکھتا تھا کہ کیسے اس کا سینہ پورا اندر ہوجاتا تھا۔ پھر وہ اس سانس کو باہر نکالنے لگتا تو شاید سانس کی ضرورت پھر پڑ جاتی اور وہ پھر دوبارہ اسے کھینچنے میں لگ جاتا۔ صاحب! دیکھتے ہی دیکھتے وہ بچہ میری گود میں نیلا پڑ چکا تھا۔ مگر کیا کرتے؟ ہمارے شہر میں جو ایمبولینس ہوتی ہے اس میں آکسیجن ماسک نہیں ہوتا صاحب۔ ڈرائیور مجھے تسلی دے رہا تھا کہ ہم جلدی پہنچ جائیں گے مگر صاحب یہ جو معصوم آپ کی گود میں ہے اگر یہ خدانخواستہ  سانس نہ لے پا رہا ہو اور نیلا پڑ چکا ہو تو کیا آپ تسلی رکھ سکتے ہو؟ نہیں نا؟  مگر خدا کا شکر ہے کہ تکلیف کی وہ گھڑی زیادہ دیر نہیں رہی۔ قائد نے میری گود میں پیر پٹخے اور پھر ایک بار اس کا جسم اکڑا اور پھر ڈھیلا پڑ گیا۔ خدا کو اس پر رحم آگیا تھا صاحب!
میں بھول چکا تھا کہ ہماری گفتگو کہاں سے شروع ہوئی تھی۔ میں بھول چکا تھا کہ میں کس سلسلے میں اس سے بات کرنے کھڑا ہوا تھا۔ میری نظر تو بس اپنے اس معصوم پر تھی جو اس وقت میری گود میں موجود تھا۔ کہیں نہ کہیں میں یہ بات جانتا تھا کہ امیری غریبی سے ماورا اگر کبھی خدانخواستہ مجھے ایمبولینس کی ضرورت پڑی تو میرے ساتھ بھی یہی ہوسکتا تھا۔ ڈھائی کروڑ کی آبادی والے شہر میں جان بچانے کی صلاحیت سے لیس اگر محض ساٹھ ایمبولینسز ہوں تو ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ محض ساٹھ لوگ خوش قسمت ہوسکتے ہیں۔ اگر اس وقت قسمت میرے ساتھ نہ ہوئی تو؟ میری سوچ کا سلسلہ شاید یونہی جاری رہتا مگر اس کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ اپنے آنسو پونچھ کر وہ ایک بار پھر  بول رہا تھا۔ صاحب! اس دن میں نے معلوم کیا تھوڑی ہی سہی مگر اس شہر میں جان بچانے والی ایمبولینسز موجود ہیں۔ میں نے اس دن طے کر لیا کہ کوئی اور قائد اب ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے نہیں مرے گا۔ میں نے ایمبولینس چلانے کے لئے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کرلیا اور ڈرائیونگ   سیکھ کر امن فاؤنڈیشن کےدفتر پہنچ گیا جو یہ جان بچانے والی ایمبولینسز چلاتے ہیں۔ مجھے لگا تھا کہ میرا جذبہ دیکھتے ہوئے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا مگر انہوں نے صاف کہہ دیا کہ پہلے ہی ڈرائیور زیادہ ہیں اور ایمبولینسز کم۔ اگر ایمبولینسز کی تعداد میں اضافہ ہوا تو ہم آپ کو بلا لیں گے۔ تب تک کے لئے صاحب کام مل جائے گا؟

اتوار، 15 اپریل، 2018

The Honest Code of Conduct


جنابِ گرامی،
ادارے میں خوش آمدید!  ادارے سے منسلک ہونے سے پہلے اس صفحے کو بغور پڑھنا اور یاد کرنا لازمی ہے۔ ابھی یاد کر کے اگر آپ بعد میں بھول بھی جائیں تو ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ شکریہ!
جنابِ گرامی! کوئی چیز اس وقت تک گناہ نہیں ہے جب تک کوئی طاقتور اسے انجام دے رہا ہے۔  آپ کا کام اپنے سے کمزوروں پر نظر رکھنا ہے۔ یہ کمزور لوگ بہت کمینے ہوتے ہیں ۔ طاقتور بننے کے شوق میں اکثر گناہ کے راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ آپ کا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی کمزور طاقتور بننے کی کوشش نہ کرے۔ اور ہاں، غلطی ہمیشہ انفرادی ہوتی ہے۔ جو گناہ ہجوم مل کر کرتا ہو اسے گناہ نہیں بلکہ کلچر کہتے ہیں۔ آپ کلچر سے لڑ نہیں سکتے۔ اگر آپ کلچر سے لڑنے یا اس کو تبدیل کرنے کی بات کریں گے تو آپ محض ایک کمزور سمجھے جائیں گے جو طاقتور بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے لوگوں   کے لئے ادارے کی پالیسی ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔
ادارے میں شامل ہونے سے پہلے چند دیگر ہدایات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ ادارے کے کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق 
1.            گالیاں صرف سینئر مینجر سے اوپر درجے کا سٹاف دے سکتا ہے۔ نچلے درجے کے سٹاف کی گالی گلوچ برداشت نہیں کی جائے  گی
2.            تمباکو نوشی مینجر کے درجے  سے نچلے سٹاف کی صحت کے لئے مضر ہے
a.       تمباکونوشی خواتین  کی صحت کے ساتھ ساتھ کردار کو بھی نقصان پہنچاتی ہے
3.            ادارہ مرد ملازمین کی عزت کی حفاظت کا ضامن ہے
a.       تمام خواتین سے گزارش ہے کہ چونکہ مرد تو ہوتے ہی ایسے ہیں لحاظہ وہ  خود خیال کریں
b.      ہراسگی  صرف مخالف جنس کی جانب سے ہو سکتی ہے۔ مرد، مردوں اور خواتین ، دیگر خواتین کے بارے میں فضول شکایات سے پرہیز کریں
4.            آپ کا لباس آ پ کے کردار کا آئینہ دار ہے۔
a.       ادارے کے کارکنان  محض ایک مخصوص لباس کی عزت کے عادی ہیں۔ مختلف کپڑے پہن کر کارکنان کو اپنے بارے میں بری رائے بنانے پر مجبور کرنا قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
5.            اگر آپ کے دن کا کم از کم ایک گھنٹہ کسی میٹنگ میں نہیں گزرتا تو یا آپ کا محکمہ کمزور ہے یا آپ کا عہدہ۔ دونوں صورتوں میں اوپر بیان کردہ تمام اصولوں میں سے کسی ایک اصول کی خلاف ورزی کی صورت میں نوکری تو نہیں جائے گی البتہ آپ کی زندگی ضرور جہنم بنا دی جائے گی!  شکریہ!
ادارہ ان تمام ہدایات کو بغور پڑھنے اور یاد رکھنے پر آپ کا مشکور ہے اور دل کی گہرائیوں سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہے!

ہفتہ، 10 مارچ، 2018

مردود

ہر ذلیل ترین اپنے زمانے کا عزیز ترین رہا ہوتا ہے۔
کیا یہ لازم ہے؟
شاید! کیونکہ  دنیا تو برے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔  خود اپنے ایمان سے کہو کیا  کبھی ان میں سے کسی کو دیکھ کر تمہارے اندر غصے کی وہ لہر دوڑی ہے جو کسی سابقہ اپنے کو دیکھ کر دوڑتی ہے؟
نہیں!
اور کیا ایسا نہیں ہے کہ تعلق جتنا مضبوط رہا ہو، تاسف اتنا ہی شدید ہوتا ہے؟
شاید ایسا ہی ہے۔
تو مان کیوں نہیں لیتے کہ ہر ذلیل ترین اپنے زمانے کا عزیز ترین رہا ہوتا ہے؟
 میرے مان لینے سے کیا فرق پڑ جاتا ہے؟
فرق تو پڑتا ہے۔ ایک انسان کے قائل ہوجانے سے بھی فرق پڑتا ہے۔
اگر ایسا ہے تو تم نے لکھنا کیوں چھوڑا؟
کیونکہ کسی ایک کو بھی فرق نہیں پڑتا تھا۔
تو اب مجھے یہ کہانی کیوں سنا رہے ہو؟
کیونکہ تمہیں فرق پڑتا ہے۔ اور تمہیں فرق پڑنا بھی چاہئے کیونکہ اب سے تم اور میں ایک جیسے ہیں۔
میں اور تم ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں؟ مجھ اور تم میں کچھ بھی قدر مشترک نہیں ہے!
ایک قدر مشترک ہے۔
وہ کیا؟
ہاہاہاہاہاہاہا  ۔۔۔ ہم دونوں کے ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔
یہ ایک نہایت بے ہودہ مذاق ہے!
میرے پیارے! مذاق یہ نہیں ہے۔ مذاق تو وہ ہے جو تقدیر نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔
اب تقدیر کہاں سے آگئی؟
یہ بھی ایک کہانی ہے۔
مگر تم نے تو کہانی کہنا چھوڑ دی ہے؟
چھوڑ دی ہے مگر ایک مختصر کہانی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
اچھا؟
ہاں! توہوا کچھ یوں کہ خدا نے جب فرشتے بنائے  تو ان میں سے ہر ایک احسان شناسی کے تقاضوں کے تحت خدا کی عبادت کیا کرتا تھا اور خدا بھی قدر شناسی کے تقاضوں کے تحت ان کو محبوب رکھتا تھا۔ انسانوں کی طرح تمام فرشتے بھی ایک جیسے نہیں تھے۔ ان میں بھی وقت کے ساتھ طبقات وجود میں آگئے۔ اپنی عبادات کے خلوص اور کثرت کی وجہ سے عزازیل نامی ایک فرشتہ ترقی کے مدارج طے کرتا ہوا مقربین کی فہرست میں سب سے آگے پہنچ گیا اور سرداری کے منصب پر فائز کیا گیا۔سمے اپنی رفتار سے گزرتا گیا اور راوی چین ہی چین لکھتا رہا مگر پھر ایک دن خدا نے ان مقربین کے سامنے اپنے نائب یعنی انسان کو پیش کر دیا اور ان مقربین کو حکم ہوا کہ اس نائب کے آگے سر کو خم کر دیں۔
یہ کہانی میں نے سن رکھی ہے۔ سارے فرشتوں نے حکم مان لیا تھا سوائے ابلیس کے اور اس کے بعد سے وہ مردود ہوگیا تھا۔
جانتے ہو ابلیس نے ایسا کیوں کیا تھا؟
تکبر کی وجہ سے!
اور یہ تکبر کس بات کا تھا؟
کہ خدا نے اسے مٹی سے پیدا کیا ہے جبکہ مجھے آگ سے !
صرف یہی وجہ رہی ہوگی؟
قرآن میں تو یہی وجہ لکھی ہے
میں قرآن کے خلاف جانے کا تصور نہیں کر سکتا۔ قرآن میں لکھا ہے تو ٹھیک ہی لکھا ہوگا۔ مگر میری کہانی تھوڑی مختلف ہے ۔ میری کہانی کے ابلیس کا تکبر اس کے تعلق پر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس کا تعلق اتنا مستحکم اور اتنا منفرد ہے کہ تاعمر کبھی بھی کسی کو بھی مجھ پر فوقیت نہیں دی جا سکتی اور اس لئے جب انسان نے آکر اس کی جگہ لے لی تو ابلیس نے قسم کھائی کہ مالک کو دکھا کر چھوڑے گا کہ اس نے مجھے چھوڑ کر جس کو چنا ہے وہ کس حد کا گھٹیا اور رذیل ہے۔
تو نے لکھنا چھوڑ دیا تھا نا؟
ہاں! کیوں؟
اچھا کیا تھا۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت