جمعہ، 9 اکتوبر، 2015

تقسیم

بابا ! کچھ تو بتائیں؟  کب تک ایسے گھٹتے رہیں گے؟ میں دیکھتا ہوں آپ جب بھی تنہا ہوتے ہیں اس ہی طرح آنسو بہاتے رہتے ہیں۔ آج آپ کو اس دکھ کی روداد سنانی ہی پڑے گی!
کیا سناؤں بیٹا؟  کیسے سناؤں؟ یہ زخم ایسا ہے کہ میں چاہ کر بھی کسی کو نہیں دکھا سکتا!
میں آج آپ کی باتوں میں نہیں آنے والا! آج آپ کو سب کچھ کھل کر بتانا ہی پڑے گا!
کیوں مجھ ناتواں کو وہ بات بیان کرنے پر مجبور کرتے ہو جسے بیان کرنے کی میں تاب نہیں رکھتا؟
بابا! اگر آپ میری جگہ پر ہوتے؟ اگر آپ کے بابا اس طرح گھٹ گھٹ کر زندگی گزار رہے ہوتے تو کیا آپ جانے دیتے؟
نام نہ لو میرے باپ کا! تم جاننا چاہتے ہو ناں کہ میں کیوں ایسے گھٹ گھٹ کر زندگی گزارتا ہوں؟ کیوں میں کمرے کے کواڑ بند کرکے اندر روتا ہوں؟ تو سنو! ان سب کے پیچھے کوئی اور نہیں میرا باپ ہی ہے!
دادا ابا؟ مگر کیسے؟
میرے بیٹے! میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا! تمہارا دادا مرا نہیں ہے! مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہیں یا گزر گئے! تمہاری پیدائش سے بھی پہلے میں ان سے بچھڑ گیا تھا۔
بچھڑ گئے تھے؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ جانتے ہیں؟ دادا ابا کہاں ہیں؟ آپ نے انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟  یا خدا! مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا!
میرے بیٹے! یہ بہت سال پہلے کی بات ہے۔ تمہاری پیدائش سے بھی چند سال پہلے! ملک میں بٹوارے کی لہر ان دنوں زوروں پر تھی۔  میں مسلم لیگ کا سرگرم کارکن تھا۔ میرے دن رات عظیم قائد کا پیغام عام کرنے میں بسر ہوتے تھے جبکہ تمہارے دادا کو مسلم لیگ کے نام سے ہی چڑ تھی۔ گھر میں روزانہ کے فسادات ہوا کرتے تھے۔ صورتحال پھر بھی اتنی خراب نہیں تھی کہ ان جھگڑوں کے باوجود ہم باپ بیٹے ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ پھر مگر وہ سیاہ دن آگیا۔ سرکار نے  انتخابات کا اعلان کروادیا۔ جیسا تم نے تاریخ کی کتب میں پڑھا ہے،   یہ انتخابات مسلم لیگ کی بقا کیلئے بہت اہم تھے۔ ہم اس زمانے میں لاہور میں رہا کرتے تھے۔ میں دیوانہ وار انتخابات کی مہم چلانے میں مگن تھا   کہ انتخابات سے ایک دن پہلے ایک صاحب نے مجھے طعنہ دے دیا کہ خود تو آپ مسلم لیگ کیلئے مہم چلا رہے ہیں جبکہ آپ کے اپنے گھر والے مسلم لیگ کو ووٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں؟ میں اس بندے کو تو کہہ سن کر قائل کر آیا مگر اس رات ہمارے گھر میں شدید مہا بھارت ہوگئی۔ ہم دونوں باپ بیٹے اس سیاست کے پیچھے اس طرح لڑے جیسے ایک دوسرے کے بدترین دشمن ہوں۔ تقسیم کی فضا ویسے ہی تیار تھی اور جذبات ان دنوں عروج پر ہوا کرتے تھے۔ ابا نے مجھے اور میں نے ابا کو کہہ دیا کہ اگر ایک نے دوسرے کی بات نہیں مانی تو دوسرا اس رشتے کو بھول جائے گا۔  
پھر کیا ہوا؟
ہونا کیا تھا میرے بیٹے! میں وہ منحوس دن کیسے بھول سکتا ہوں؟ اگلے دن انتخابات تھے اور ابا نے میرے اصرار کرنے کے باوجود مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دیا اور جب وہ بلے کے نشان پر مہر لگا کر آئے تو میرے اندر کا شیر بھی بیدار ہوگیا۔ گیارہ اکتوبر دو ہزار پندرہ وہ آخری دن تھا بیٹا جب ہم باپ بیٹے نے آخری مرتبہ ایک دوسرے کی شکل دیکھی تھی۔ کہتے ہوئے بابا پھوٹ پھوٹ کر رودیئے!

اس دن سے ڈریں جب آپ کے بچے اس قسم کی کہانیاں پڑھ رہے ہوں۔ 

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فالوورز

آمدورفت