ہفتہ، 3 اکتوبر، 2015

پروپوزل

کل جو پہلی دفعہ
میں نے دیکھا اسے

خوبرو،  خوش لحن
خوش ادا، خوش بدن
مے کا اک جام تھی
نازک اندام تھی

جی میں آیا کہ میں
بڑھ کے اس سے کہوں
جانِ جاں، جانِ من
دیکھ کر یہ تمہارا چھریرا بدن
جی میں آتا ہے کہ
تجھ کو اپنے نکاح میں لے کر کے میں
تجھ کو ممتا کا لالچ دلا کرکے میں
(جیسے دستور ہے)
تجھ کو بھینسے کے سانچے میں ، میں ڈال دوں

صد شکر، صد شکر!
سوچ گونگی رہی!

سید عاطف علی
2 اکتوبر 2015

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فالوورز

آمدورفت