اتوار، 31 جولائی، 2016

اڑان

سڑک کے اس پار کھڑا وہ خشمگیں نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔  میں جانتا تھا کہ اس کی نظریں میرے ساتھ موجود میری بیٹی پر تھیں۔  ہاں میں مانتا ہوں کہ وہ میری سگی بیٹی نہیں تھی اور اس نے ہی اسے میرے حوالے کیا تھا کہ میں اس کا خیال رکھ سکوں ۔ وہ ایک سرکاری ہرکارہ تھا جو توجہ طلب بچوں کو ایسے گھرانوں میں بھیجتا تھا جو ان کا خیال رکھ سکیں۔ سرکار اسے اس کام کی تنخواہ اور ایسے بچوں کو رکھنے والوں کو اس کا محنتانہ دیتی تھی۔ مگر گزشتہ برسوں میں اس بچی کے ساتھ میرا تعلق اتنا مضبوط ہوگیا تھا کہ میں مکمل طور پر بھول بیٹھا کہ وہ میرے پاس بطور امانت رکھوائی گئی تھی۔ میں یہ کیسے بھول سکتا تھا کہ کس طرح اس ننھی پری نے آ کر میری زندگی کو مکمل کیا تھا۔  میری بے کار اور بد رنگ زیست کو ایک مقصد اور یہ خوشنما رنگ دیے تھے۔ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ میں نے اس کی ذمہ داری محض اس لالچ میں قبول کی تھی کہ میں اس سے پہلے  گود لئے گئے بچوں کی طرح ایک دو ماہ اسے اپنے پاس رکھ کر اس کا محنتانہ وصول کروں گا مگر جب وقت مقررہ کے بعد اس کے جانے کا وقت آیا تو پہلی مرتبہ میرا دل شدید پسیج گیا تھا۔ میں نے  اپنے تمام تعلقات اور وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس بچی کو اپنے پاس رکوا لیا تھا۔ اپنے تئیں ہمیشہ کے لئے! بیچ میں ایک مرتبہ وہ اسے ایک ماہ کے لئے لے گیا تھا مگر اس ایک ماہ میں خود اس بچی کے واویلوں اور میری پیہم درخواست پر اس نے اس بچی کو واپس میرے حوالے کردیا تھا۔ جب تک وہ خود ذمہ دار نہیں ہوجاتی تب تک کے لئے اس کے ذمہ داری میرے نام لکھ دی گئی تھی۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ کیسے میں اس کا ہاتھ تھام کر وہاں سے ناچتا ہوا گھر آیا تھا۔ مجھے اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا تھا کہ محنتانہ ملنا تو درکنار، الٹا مجھے اب اسے اپنے ساتھ رکھنے کی روازنہ کی بنیاد پر قیمت ادا کرنی تھی ۔ میرے لئے یہی بہت تھا کہ وہ میرے ساتھ تھی۔ میرے پاس تھی۔ میری بیٹی تھی۔ میری تھی۔ ہاں ٹھیک ہے کہ اس کی زندگی کے فیصلے اس نے اب بھی اپنے ہی ہاتھ میں رکھے تھے اور اس کی زندگی میں کیا ہونا ہے یہ وہی طے کرتا تھا مگر روزمرہ کی چھوٹی موٹی تمام چیزیں میں اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر خود طے کرتا تھا اور یہی میرے لئے بہت تھا۔
 وقت کی سب سے اچھی اور سب سے بری بات ایک ہی ہے۔ یہ گزر جاتا ہے۔ اس بات کو کہنے کو سال گزر گئے تھے مگر سوچو تو کل کا ہی واقعہ لگتا ہے۔ یقین مانو تو میں تو اس بات کو سرے سے بھول ہی چکا ہوتامگر وہ مجھے یاد دلانا نہیں بھولتا تھا۔ ہر کچھ دن بعد وہ کسی غریب بچے کا ہاتھ پکڑ کر میرے دروازے پر کھڑا ہوتا تھا ۔ نت نئے بہانوں سے مجھے میرے ماضی کی طرف گھسیٹتا۔  مزید بچوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی ترغیب دیتا۔میرے نہ ماننے پر پیسوں کا لالچ دیتا۔ اور جب کوئی چیز اثر نہیں کرتی تو ہر بار میرے منہ پر سیاہی مل کر دوڑ جاتا۔ میں جانتا تھا کہ وہ طاقتور تھا سو میں اس سے بگاڑ نہیں سکتا تھا۔ مجبوری میں سب کچھ برداشت کرنا پڑتا۔ کیوں نہ کرتا؟ اگر وہ طاقتور نہ بھی ہوتا تو بھی میری بیٹی اس ہی کی دی ہوئی تھی اور وہ چاہتا تو ہمارے معاہدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھی اسے واپس لے سکتا تھا۔ میں اس سے کیسے لڑسکتا تھا؟
گزشتہ کئی ماہ سے اس نے آنا چھوڑ دیا تھا تو میں بھی کچھ مطمئن ہوگیا تھا۔ زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی ۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ میری بیٹی بڑی ہورہی ہے۔اب وہ زندگی کو خود سے پرکھنا چاہتی تھی۔ خود کو پرکھنا چاہتی تھی۔ میں اس کے لئے بہت خوش ہوا تھا۔میں اس دن کو یاد کرتا جب وہ میرے پاس آئی تھی اور پھر آج کی اس لڑکی کو دیکھتا تو مانو میرا سینہ گز بھر کا ہوجاتا تھا۔ مگر جیسا میں نے کہا کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا سو اس دن بھی جب وہ میرے ساتھ چلتے ہوئے مجھ سے بڑے قدم اٹھا کر مڑ مڑ کر مجھے ہنستے ہوئے دکھا رہی تھی کہ کس طرح وہ اب میرے نقش قدم سے بڑھ کر خود قدم اٹھا سکتی ہے تو تب ہی میری نظر اس پر پڑی تھی۔ وہی سرکاری کارندہ ایک کافی شاپ میں بیٹھا ، شیشے سے باہر ہم دونوں کو بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ہماری نظریں ملیں تو اس نے اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے میری بیٹی کی طرف اشارہ کیا اور ایک مسکراہٹ میری سمت اچھال دی۔ میں اس مسکراہٹ کا مطلب اچھی طرح سمجھ سکتا تھا سو میں نے جلدی سے اپنی بیٹی کا ہاتھ تھام لیا اور اسے تقریبا گھسیٹتا ہوا وہاں سے لے آیا۔ میں محسوس کرسکتا تھا کہ اسے میری یہ حرکت قطعا پسند نہیں آئی تھی مگر میرا لحاظ کرتے ہوئے وہ خاموش ہوگئی۔
اس دن کے بعد سے تو یہ معمول ہی بن گیا۔ ہم دونوں جہاں کہیں بھی جاتے وہ وہاں پہنچ جاتا۔ مجھے دیکھ کر دانت نکوستا۔ میں زندگی میں کبھی اتنا بزدل نہیں رہا مگر اس وقت خوف کے مارے میری روح تک کانپ جاتی اور میں گھبرا کر بیٹی کا ہاتھ تھام لیتا۔ خود کو تسلی دینے کے لئے کہ وہ میرے ساتھ موجود ہے اور کوئی اسے مجھ سے جدا نہیں کرسکتا۔
آج جب میں نے اسے سڑک کے اس پار دیکھا تو پہلے تو میں نے سوچا کہ بیٹی کو منع کردوں کہ ہمیں سڑک کے اس پار نہیں جانا چاہیے مگر میں جانتا تھا کہ وہاں اس کا جانا ضروری تھا سو میں نے بادل نخواستہ اس کے ساتھ چلنا شروع کردیا۔ حسب معمول سڑک پار کرتے ہوئے میں نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ سڑک پار کرکے جیسے ہی ہم فٹ پاتھ پر پہنچے تو اس سے پہلے کہ میں اس کا ہاتھ چھوڑنے کا سوچتا اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور بول اٹھی، بابا! میں جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں مگر میں اس محبت کے بوجھ کو اٹھاتے اٹھاتے تھک چکی ہوں۔ آپ کی محبت کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ میرا دم گھٹتا ہے۔ میں جینا چاہتی ہوں۔ اڑنا چاہتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ آپ اس اڑان میں میرے بازو بننا چاہتے ہیں مگر بابا میرے اپنے پروں کا کیا؟ بابا! میں تھک چکی ہوں۔ میں زندگی کو اس طرح سے نہیں گزار سکتی جس طرح لوگ چاہتے ہیں کہ میں گزاروں۔ میری اپنی ذاتی خواہشات کا کیا؟ آپ مجھ سے یہ امید کیوں رکھتے ہیں کہ میں آپ کی جگہ آ کر سوچوں؟ میری جگہ آ کر کون سوچتا ہے؟ بابا! میں معذرت چاہتی ہوں اگر میرے الفاظ آپ کے لئے تکلیف دہ ہیں مگر بابا آپ کو تو خوش ہونا چاہئے۔ آپ کی بیٹی اب بڑی ہوگئی ہے۔ اپنے فیصلے خود لے سکتی ہے۔ اپنی ذمہ داری خود اٹھا سکتی ہے!

لوگ ہمارے پاس سے لاتعلق ہوکر گزر رہے تھے گویا اس گفتگو کو سن ہی نہ رہے ہوں مگر قریب ہی کھڑاوہ شخص قہقہے مار کر ہنس رہا تھا اور ان ہی قہقہوں کے درمیان اس نے میری بیٹی کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے ساتھ لے کر چل دیا۔ معاہدے کے مطابق، میری بیٹی اب اپنی ذمہ داری خود اٹھا سکتی تھی! 

1 تبصرہ :

  1. دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا

    بہت شاندار تحریر عاطف بھائی جیتے رہیں

    جواب دیںحذف کریں

بلاگ فالوورز

آمدورفت