منگل، 12 اگست، 2014

بھوک

میں:
جاننا چاہتی ہیں میں کون ہوں؟
سنیئے مادام!!!
میں بہت عام سا اک فرد ہوں اِن کے جیسا ۔۔۔ !!!

وہ:
وہ جنہیں تابِ گراں باریٰ ایام نہیں؟

میں:
جی نہیں! وہ تو بڑے لوگ تھے جن پر اکثر
فیض و جالب سے کئی،
نظم لکھا کرتے تھے
اب مگر دور دِگر ہے میری پیاری مادام۔۔!!!
اس نئے دور کا عنوان ہے
جسموں کی ہوس ۔۔۔!!!
اب کوئی ہم پہ غزل ۔۔۔ جانے دیں!!!
ہم انہی بھوک زدہ، خوف زدہ، ننگ زدہ لوگوں کی اولاد ہیں جو ۔۔۔
خیر ، اب چھوڑیئے؛ اس بات کو ہی جانے دیں!!!

میں:
کیا کہا؟؟ جاننا چاہیں گی میرے بارے میں؟؟
میرے بارے میں بتانے کیلئے کچھ بھی نہیں
میرا ماضی نری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں!
میں نے بولا نا بہت عام سا اک فرد ہوں میں
اک نظر دیکھیئے، ہر شخص میں دکھ جائوں گا!!
دیکھیئے ایک نظر گرتے ہوئے بوڑھوں پر
جن کے بارے میں کہا تھا یہ کبھی فیض نے ہی
"وہ جنہیں تابِ گراں باری ایام نہٰیں"
دیکھیئے ایک نظر غور سے پیاری مادام
اپنے سینے کو چھپاتی یہ سسکتی عورت
روز بکتی ہے جو اس شہر کے بازاروں میں
اس کے پہلو میں یہ لیٹا ہوا بیمار بدن
آیا تھا زد میں دھماکے کی کئی سال گئے ۔۔۔
اور یہ بچے ۔۔۔۔
میں نے بولا نا ۔۔۔ بہت عام سا اک فرد ہوں میں
ان میں جس شخص میں دیکھیں گی تو دکھ جائوں گا

وہ:
مگر یہ سب ۔۔۔؟؟؟
خداوندا ۔۔۔!!!
یہ غربت، غلاظت، یہ عصمت فروشی؟
یہ سب کیا ہے، کیوں ہے؟ میں کیسے بتائوں؟
وہ ساحر کا جملہ میں کس کو سنائوں
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کو لائوں،
یہ گلیاں یہ کوچے یہ منظر دکھائوں!!

میں:
یہ بستی، یہ قریہ
یہ گلیاں، یہ کوچے
جوانوں کے لاشے
یہ رسوا بڑھاپے
یہ کمزور بچے
یہ ادھ ننگی عورت
یہ عصمت دریدہ
نہیں جس کو پرواہ
کے بھٹو جیئے یا کہ عمران آئے
میاں جی رکیں یا حکومت ہی جائے
اسے بس فکر ہے تو اتنی سی میڈم
کہ کل سے ہے دھندے میں ہفتے کا ناغہ
اور اس ایک ہفتے
بڑی والی بیٹی کو اک بار پھر سے ۔۔۔۔

میں نے نظم مکمل کرکے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور ڈرائیور کو اےسی تیز کر نے کا کہہ کر اپنی نئی کرولا کی نشست پر نیم دراز ہوگیا۔ مجھے یقین تھا کہ بھوک، سیاست، اور غربت پر لکھے ہوئی یہ نظم بہت مشہور ہوگی۔

سید عاطف علی
12-August-2014

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فالوورز

آمدورفت