اتوار، 23 اپریل، 2017

بابو بھائی

اگر زندگی میں کبھی بھی آپ کا کراچی میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے تو آپ کم سے کم کسی ایک بابو بھائی کو ضرور جانتے ہونگے۔ بابو بھائی کراچی کی ہر گلی اور ہر محلے میں پائے جاتے ہیں۔ کہیں کریانے والے کی شکل میں اور کہیں پان فروش کے روپ میں۔ کہیں محلہ کمیٹی کے سربراہ کے طور پر اور کہیں گوشت کی دکان پر بیٹھے ہوئے۔ بابو بھائی نیٹ ورک پورے کراچی میں ہے اور سر چڑھ کر بولتا ہے۔ تحقیق کی جائے تو شاید ان میں سے کسی ایک کا بھی اصل نام بابو نہیں ہوگا مگر وقت نے ان کے اصل نام پس پردہ ڈال کر ان سب کو بابو بھائی کی شناخت دے دی تھی۔ ہر محلے کی طرح ہمارے محلے میں بھی ایک بابو بھائی ہوا کرتے تھے۔ بابو بھائی ایک چھوٹا سا جنرل اسٹور چلاتے تھے جہاں بنیادی ضرورت کی بیشتر اشیاء دستیاب ہوا کرتی تھیں۔
بابو بھائی ہم سب کے بابو بھائی تھے۔ میرے دادا بھی انہیں بابو بھائی کہا کرتے تھے اور میرے بابا بھی۔ وہ ہمارے لیئے بھی بابو بھائی تھے اور حد یہ کہ ان کے اپنے بچے بھی پیٹھ پیچھے انہیں بابو بھائی ہی پکارا کرتے تھے۔ محلے کے بڑے لڑکوں نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ انہوں نے خود بابو بھائی کی بیگم صاحبہ کو بھی انہیں بابو بھائی بلاتے سنا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ہمیں ان سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ بابو بھائی کا جنرل سٹور ہمارے لیئے ایک اڈہ تھا۔ شام ڈھلے جب کرکٹ کھیل کر تھک جاتے تو ہم سب بابو بھائی کی دکان کے باہر تھڑے پر بیٹھ کر آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیمز، وسیم اکرم اور وقار یونس کی تباہ کن بائولنگ، امتحان میں آنے والے ممکنہ سوالات، اسکول کے اساتذہ کے خواتین ٹیچرز کے ساتھ معاشقے وغیرہ پر سیر حاصل گفتگو کیا کرتے تھے۔ عید بقرعید پر بابو بھائی کی دکان کے باہر ایک شامیانہ لگ جاتا۔ محلے کے ہر بڑے کو جان بوجھ کر سلام کیا جاتا اور زبردستی عیدی وصول کی جاتی۔ "عیدی جمع کرکے رکھنا تو لڑکیوں کا کام ہے" کہہ کردل کو تسلی دی جاتی اور سیدھے بابو بھائی کی دکان پر پہنچ جاتے۔ خوب خوب آئسکریم کھائی جاتی اور دکان کے باہر لگی کرسیوں پر بڑوں کی طرح ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر ایپل سڈرا کو اس طرح پیتے جیسے واقعی شراب پی رہے ہوں۔ دو چار چھچھورے تو پینے کے بعد جھومنے کی بھی اداکاری کرتے اور ہم سب کو یقین آجاتا کہ معاملہ صرف ایپل اور سڈرا کا نہیں، اس مشروب میں واقعی کچھ ملا ہوتا ہے۔
ہم سب لڑکوں کو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگائو تھا۔ ہم لوگ جلتی دوپہروں سے لیکر شام گئے تک کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ مغرب سے کچھ پہلے بڑوں کی گھر واپسی کا خوف نہ ہوتا تو ہم شائد عشاء تک بھی اس ہی طرح اپنا کھیل جاری رکھتے۔ ٹیپ بال کرکٹ اس زمانے میں عروج پر ہوا کرتی تھی اور ٹیپ بال کھیلنے کیلئے رمضان کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ گیند اور بلے کی پھر بھی خیر ہوتی تھی کہ ایک دفعہ خریدنے کے بعد وہ کچھ دن سکون سے نکال جاتے تھے۔ ٹیپ مگر روز خریدنا پڑتا تھا کہ جس حساب سے سڑک پر کرکٹ کھیلی جاتی تھی، دن میں ٹیپ کا ایک رول ہم با آسانی ختم کردیتے تھے۔ مڈل کلاس محلے میں ہم بچوں کیلئے روز کے ڈھائی روپے نکالنا ایک مشکل کام تھا۔ کھینچ تان کر اور گالیاں کھا کر ہم بچے ڈھائی روپے پھر بھی جمع کرہی لیتے تھے کہ کرکٹ کھیلے بغیر بھی گزارہ ممکن نہیں تھا۔
رو پیٹ کر دن گزر رہے تھے کہ خدا نے ہماری سن لی۔ مارکیٹ میں ایک نئی کمپنی "اوساکا" کے نام سے آگئی جو "نیٹو" کے معیار کے ٹیپ رول مہیا کرنے لگی۔ ٹیپ کی قیمت تو وہی تھی جو نیٹو کی تھی البتہ فرق یہ تھا کہ بابو بھائی کی دکان پر نیٹو کی برنی سامنے کائونٹر پر جبکہ اوساکا کا ٹیپ دکان کے اندر کہیں جاکر رکھا ہوا تھا۔ ہم اب ڈھائی روپے لیکر بابو بھائی کی دکان پر جاتے اور نیٹو کی جگہ اوساکا کا ٹیپ مانگتے تھے۔ جتنی دیر میں بابو بھائی اندر سے اوساکا کا ٹیپ لیکر آتے اتنی دیر میں نیٹو کا ایک ٹیپ برنی سے نکل کر ہماری جیبوں میں منتقل ہوچکا ہوتا تھا۔ اگلے چھ سات سال بیچارے بابو بھائی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ ہم نیٹو کی جگہ اوساکا کا ٹیپ کیوں مانگنے لگے ہیں۔
وقت گزرتا گیا۔ ہم سب بھی بڑے ہوگئے اور ہم میں سے کچھ بہت زیادہ بڑے ہوگئے۔ انسان جب بہت بڑا ہوجاتا ہے تو اپنے چھوٹے ماضی کی تمام یادوں کو یا تو چھپا دیتا ہے یا تبدیل کرکے انہیں خوشنما بنا دیتا ہے۔ ہم جب بڑے ہوئے تو گھر والوں نے تبدیل کرنے کے بجائے ان یادوں کو چھپانے کا فیصلہ کرلیا اور ایک پوش علاقے میں منتقل ہوگئے۔ اس بات کو بھی دس برس بیت گئے۔ کل اتفاق سے پرانے محلے کی طرف گزر ہوا تو میں نے کچھ دیر ٹھہرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بابو بھائی اب بوڑھے ہوگئے ہیں مگر ان کا سٹور پہلے سے زیادہ جوان تھا۔ خدا نے کاروبار میں برکت دے دی تھی اور اب برابر والی دونوں دکانیں بھی خرید کر اس جنرل سٹور میں شامل کرلی گئی تھیں جو اب ایک سپر سٹور میں تبدیل ہوگیا تھا۔
بابو بھائی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ مجھے لگتا تھا کہ ان سالوں میں، میں بہت تبدیل ہوگیا ہوں۔ بابو بھائی مگر خدا جانے کس طرح مجھے پہچان گئے۔ پوچھنے پر بولے کہ، لڑکے! تیری رگ پٹھے سے واقف ہوں۔ آج بھی تیرا سلام کرنے کا وہی انداز ہے جو دس سال پہلے تھا۔ باقی حرکتیں بھی ویسے ہی ہیں یا صرف سلام کرنے کا انداز وہی رکھا ہے؟ میں مسکرا کر چپ ہوگیا۔ میں کیا بولتا؟ کیسے بتاتا؟
بابو بھائی اب بہت ضعیف ہوگئے تھے۔ ان کے چہرے پر اب جھریاں بھی آگئی تھیں۔ مجھے لگا کہ میں شاید انہیں دوبارہ نہیں دیکھ پائوں گا کہ بستی میں کون سا میرا روز آنا ہوتا تھا؟ میں نے موقع غنیمت جان کر بچپن سے اپنے دل پر چڑھا وہ بوجھ ہلکا کر دیا کہ کس طرح ہم بابو بھائی کی دکان سے ٹیپ رول چرایا کرتے تھے اور ان کو آج تک اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ جن بچوں کو وہ بہت معصوم سمجھتے تھے اصل میں وہ چور تھے! بابو بھائی میری بات سن کر مسکرائے اور میرے قریب آکر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ میں بابو بھائی کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ وہ مجھے گالیاں دیں۔ ان چھ سالوں میں ہر دوسرے دن کے ایک ٹیپ رول کے پیسوں کا حساب سود کے ساتھ بنائیں اور میرے منہ پر مار کر کہیں کہ نکال پیسے!! یا شاید وہ چاہیں تو مجھے مار بھی سکتے ہیں کہ میری حرکت تھی بھی اس قابل! ڈھائی روپے بابو بھائی کیلئے بھی اتنے ہی اہم تھے جتنے ہمارے لیئے کہ وہ بھی ہماری ہی طرح اس محلے میں رہنے والے ایک مڈل کلاس انسان تھے۔ میں بابو بھائی کی طرف دیکھ رہا تھا اور بابو بھائی مسکرا رہے تھے۔ اس مسکراہٹ اور خاموشی کا دورانیہ کچھ سیکنڈز کا تھا مگر کئی صدیوں کا بوجھ میرے وجود پر ڈال رہا تھا۔ بابو بھائی جب بولے تو میری رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی۔ بابو بھائی کا یہ کہنا کہ انہیں یہ سب معلوم تھا مجھے اوپر سے نیچے تک ہلا گیا۔ میں اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا کہ ایک انسان جانتے بوجھتے اتنے سالوں تک روزانہ کی بنیاد پر نقصان کیونکر برداشت کرسکتا ہے؟ میں نے بابو بھائی کا ہاتھ تھام کر ان سے پوچھا کہ وہ اتنے عرصے چپ کیوں رہے؟ کبھی ہمیں پکڑا کیوں نہیں؟ ہمارے گھر والوں سے شکایت کیوں نہیں لگائی؟ بابو بھائی ایک بار پھر مسکرا کر بولے، بیٹا تمہیں کیا لگتا ہے کہ شو کیس پر اتنی جگہ ہونے کے باوجود آج تک اوساکا کا ٹیپ دکان کے اندر کیوں رہا؟ آج یہ جنرل سٹور سپر سٹور بن گیا ہے مگر آج بھی اوساکا کا ٹیپ لینے کیلئے کائونٹر والے لڑکے کو اٹھ کر ہی جانا پڑتا ہے۔ میں نے پہلی بار جب نیٹو کا ایک ٹیپ کم دیکھا تو میں اس ہی دن سمجھ گیا تھا۔ مگر تم لوگوں کے خوشی سے ٹمٹماتے چہرے اور یہ احساس کے اب تم لوگوں کو کل کسی سے کھیلنے کیلئے چندہ نہیں مانگنا پڑے گا، میرے پیروں کی زنجیر بن گیا۔ تم خود بتائو، ڈھائی روپے کی خاطر میں تم لوگوں کی یہ انمول خوشی کیسے چھین سکتا تھا؟
میں نے زندگی میں بابو بھائی سے زیادہ گھٹیا، مطلبی اور بچوں کو بگاڑنے والا انسان نہیں دیکھا۔ گھٹیا اور مطلبی اس لیئے کہ صرف ڈھائی روپے کے ٹیپ سے کمبخت وہ کام کرگئے کہ اب میں ڈھائی کروڑ بھی ان پر خرچ کردوں تو قرض ادا نہیں ہوسکتا۔
دکان سے باہر نکل رہا تھا تو دیکھا کہ محلے کے بچے کائونٹر پر کھڑے لڑکے سے اوساکا کا ٹیپ مانگ رہے ہین۔ میں آنکھ کو رگڑتا ہوا دکان سے باہر آگیا۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فالوورز

آمدورفت