جمعہ، 1 مئی، 2020

لاک ڈاؤن

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملک کوہ قاف میں ایک جنگل ہوا کرتا تھاجہاں چیتے بادشاہ  راج کیا کرتے تھے۔  میں جانتا ہوں کہ مروجہ محاورے  کے اعتبار سے جنگل کا بادشاہ شیر کو ہونا چاہئے مگر جنگل کے باسیوں کے نزدیک شیر خان صاحب بدعنوان اور چور تھے لہٰذا  کوہ قاف کے دیووں کی مدد سے انہیں برخواست کر کے جنگل بدر کر دیا گیا تھا اور اب چیتے بادشاہ کی حکومت تھی کہ جس میں  تمام جانور مل جل کر رہتے تھے۔ بعض حاسدین   اعتراضاً کہیں گے کہ محض شکاری جانور باہم مل جل کر رہتے تھے اور باقی جانور جان بچانے کے لئے جھنڈ بنا کر اکٹھے گھوما کرتے تھے مگر  حقیقت اخبار کی مصدقہ خبر کے مطابق یہ محض حاسدین کی پھیلائی ہوئی افواہ تھی  اور تمام جانور باہم مل جل کر رہتے تھے۔ بحیثیت لکھاری میں سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرتا  مگر خبر کے ساتھ ان کی لگائی گئی وہ تصویر کہ  جس میں ایک کتا، راہ چلتے بکرے کے پائنچے سے لپٹا ساتھ چل رہا  تھا، جانوروں کے باہمی التفات کا ایک ایسا  ثبوت تھا کہ جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا ہم پورے شرحِ صدر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ چیتے بادشاہ کے راج میں تمام جانور مل جل کر رہتے تھے۔
جیسا کہ دستورِ زمانہ رہا ہے کہ وقت کبھی یکساں نہیں رہتا سو اس جنگل کے بھی دن پھرے اور اس ہنستے بستے لٹتے جنگل کو بھی شیر خان کی نظر لگ گئی اور جنگل کو ایک ایسی بیماری نے گھیر لیا جو  باجماعت نماز میں کھانسی کی خواہش کی طرح پھیلتی تھی کہ  ایک نمازی کے کھانسنے کی دیر ہوتی ہے اور ہر  صف میں سے کم از کم  ایک دائمی دمے کا مریض جاگ اٹھتا ہے۔  بیماری بظاہر تو جان لیوا نہ تھی مگر موت سے زیادہ موت کا خوف  جانور کو مارتا ہے لہٰذا جانوروں کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلایا گیا اور اس میں طے کیا گیا کہ بھلائی بس اسی میں ہے کہ جنگل کو مکمل طور پر بند کردیا جائے اور تمام جانوروں سے کہہ دیا جائے  کہ وہ احتیاط کے تقاضوں کے تحت وبا کے ٹلنے تک اپنے گھروں میں ہی  محدود  ہو کر رہیں۔
جب باہر نکلنا بند ہوا تو روزگار اور کاروبار کے مواقع بھی محدود ہوگئے۔ چچھوندر اپنے بیوٹی پارلر کے بند ہونے سے پریشان ہوئی تو بندروں کو اپنے ہیئر سلون کی فکر  نے آدھا کر دیا۔ مگر ان تمام چیزوں کے ساتھ جنگل میں اکا دکا جانور اپنی بد احتیاطی کی وجہ سے بیماری کا شکار ہونا بھی شروع ہوچکے تھے لہٰذا جانوروں کی اکثریت تمام شکایتوں کے باوجود اپنے بل ، گھونسلوں   اور  طبیلے  میں مقید رہنے میں ہی عافیت محسوس کر رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ چھوٹے جانوروں کا پیٹ اور بھوک بھی چھوٹی ہی ہوتی ہے لہٰذا رو پیٹ کر ہی سہی مگر چھوٹے جانوروں کا گزارا  بہرحال ضرور ہو رہا تھا۔ مسئلہ بڑے جانوروں کا تھا کہ جن کی بقا کا تمام تر دارومدار ہی چھوٹے جانوروں کی ہڈیوں اور گوشت پر تھا۔ کہنے کو یہ بڑے جانور اتنے بڑے اور پیٹ بھرے تھے کہ مزید شکار کئے بغیر بھی برسہا برس جی سکتے تھے مگر  پیٹ کاٹ کر ہی زندگی بسر کرنی ہوتی تو یہ تمام جانور اتنی محنت کر کے بڑے جانور کیوں بنتے؟ ان تمام بڑے جانوروں نے فوری طور پر چیتے بادشاہ سے رابطہ کیا اور چھوٹے جانوروں کے باہر نہ نکلنے کی وجہ سے شکار اور اس کے لازمی نتیجے میں آنے والی غذائی قلت  جیسی جان لیوا تکلیف ان کے سامنے رکھ دی۔ چیتے بادشاہ نہایت خدا ترس مخلوق تھے اور رعایا کے بیچ بھید بھاؤ کرنے کے عادی نہیں تھے اور سب سے ایک جیسی رقوم کی امید کرتے تھے۔ ان شکاری جانوروں کی دکھ بھری بپتا سن کر چیتے بادشاہ کی آنکھ میں آنسو آگئے اور انہوں نے  فوری طور پر تمام جانوروں کو جمع کر کے سارا معاملہ ان کے سامنے رکھ دیا کہ کس طرح جنگل کے طاقتور جانوروں نے انہیں بے وقوف بنا کر ان سے جنگل میں لاک ڈاؤن کروا دیا ہے اور  کس طرح اس لاک ڈاؤن سے نقصان صرف چھوٹے جانوروں کا ہو رہا ہے جبکہ طاقتور جانور اپنے گھروں میں خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔  ساری صورتحال جانوروں کے سامنے رکھنے کے بعد چیتے بادشاہ نے عوام کو خوشخبری سنائی کہ شکاری جانوروں کے دانت اور پنجے تیز ہوتے ہی لاک ڈاؤن ختم کر دیا جائے گا اور اس کے بعد تمام چھوٹے جانور اپنی مرضی کے شکاری کا نوالہ بننے میں مکمل آزاد ہوجائیں گے کہ جنگل کا قانون ان کے قربان ہونے کے حق کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔
دور کہیں جنگل کے کسی کونے میں موجود ایک گائے ، چیتے بادشاہ کا قوم سے یہ خطاب ٹیلیویژن پر براہ راست دیکھ رہی تھی اور رب کا شکر ادا کر رہی تھی  کہ اب وہ منحوس بھینسا  گھر سے باہر نکل جائے گا جس کی زندگی کا واحد مقصد  اس کے جسم کو روند کر اپنی انا کی تسکین کرنا تھا۔ جو جانتا  تھا کہ ڈاکٹر بکری کے مطابق  ایک مزید حمل اس گائے کی جان بھی لے سکتا ہے مگر یہ بات  اس کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ شاید اس گائے کو بھی اس کے احساس نہ کرنے سے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایک ہی چار دیواری میں اپنے ہی   قاتل کے ساتھ رہنا اور بات بے بات اپنی نااہلی کے طعنے سننے کی دو اذیتوں  کا اضافی کرب بڑھ چکا  تھا اور یہ بات اب ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی تھی۔ ٹیلیویژن پر چیتے بادشاہ کا خطاب سنتے ہی اس گائے نے چیتا بادشاہ زندہ باد کا نعرہ لگایا اور سجدہ شکر بجا لائی! لاک ڈاؤن اور اذیت ختم ہونے جا رہی تھی۔
خدا نے جیسے اس گائے کے دن پھیرے، ویسے ہی ہم سب کے دن بھی پھیر دے! کہانی ختم گائے ہضم  

اتوار، 16 فروری، 2020

تقدیر


تقدیر کی سب سے بڑی  خوبی یہی ہے کہ انسان آخر تک اس گمان میں رہتا ہے  کہ وہ اپنے فیصلے لینے میں خود مختار ہے۔ جیسے  کوئی ماں اپنے کمسن بچے کے سامنے کھچڑی اور دال چاول میں سے ایک چیز کھانے کا اختیار رکھ دے اور وہ معصوم اپنے لئے دال چاول چن کر اپنے تئیں یہ سمجھتا رہے کہ وہ اب بڑا ہوچکا ہے اور اپنے کھانے کے فیصلے لینے میں آزاد ہے۔
اسے بھی اپنی خودمختاری کا بہت زعم تھا۔ کیوں نہ ہوتا؟ تھا تو وہ بھی میری اور آپ ہی کی طرح کا ایک انسان!   خدائی اور مختاری کی خواہشات سے سرشار ۔ انا کے رتھ پر ہمہ وقت سوار۔ وہی انا کا رتھ کہ جس سے انسان نہایت مجبوری کے عالم میں بھی بمشکل ہی اتر پاتا ہے ۔ مگریہ کہانی انا کی تسخیر کی نہیں ہے۔ یہ کہانی تو اس انسان کی ہے کہ جو تقدیر کو مات دینے نکلا تھا۔ جس  کا ماننا تھا کہ وہ تقدیر کا کھیل سمجھ چکا ہے اور جب کبھی تقدیر نے اس کے سامنے کھچڑی رکھی تو وہ دال چاول کی فرمائش کردے گا کیونکہ تقدیر کا اصول ہے کہ وہ اپنی سنت قائم رکھتی ہے اور دکھاوے کے لئے ہی سہی مگر انتخاب کی سہولت ہمیشہ فراہم کرتی ہے۔ اور اس ہی زعم میں وہ اپنی انا کے رتھ پر سوار ہوکر تقدیر کو ڈھونڈتا ہوا اس تک پہنچ چکا تھا۔ اگر میں اچھے وقتوں کا لکھیک ہوتا یا کسی ماہنامے کے لئے یہ کہانی لکھ رہا ہوتا تو میں آپ کو بتاتا کہ کس طرح اس سفر میں اس نے کالے کوس طے کئے، کیسے راستے میں جادو کا پہاڑ اور بولنے والی مینا ملی۔ مگر  افسوس کہ جب تقدیر نے میرے سامنے مشہور ہونے یا اپنی بات کھل کر کہنے کا انتخاب رکھا تب میں نے بات بیان کرپانے کا وصف چن لیا تھا اور آج مقبول طرزِ تحریر میں یہ داستان سنانے سے قاصر ہوں۔
سو جب وہ انسان تقدیر کے پاس پہنچا تو خلافِ توقع اسے سوتا ہوا پایا۔ اسے لگتا تھا کہ سوئی ہوئی تقدیر کے ساتھ وہ تقدیر کو کبھی نہیں پا سکتا لہٰذا اس کی حیرت حق بجانب تھی۔  بہرحال، جواب کے لئے بھی تقدیر کا جاگنا ضروری تھا سو اس نے حسبِ دستور قصائد کا پلندہ کھولا کہ وہ جانتا تھا خوشامد کے بغیر تقدیر  کو جگانا ناممکن ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ وقت کی پرواہ کئے بغیر مسلسل مدح سرائی کرتا رہا یہاں تک کہ تقدیر نے اپنا بھاڑ جیسا منہ کھولا اور جمائی لیتے  ہوئے بیدار ہوگئی۔  جن احباب نے کبھی تقدیر کو جاگتا نہ دیکھا ہو وہ شاید یہ سوال اٹھائیں کہ دیگر تمام مخلوقات تو انگڑائی لیتے ہوئے بیدار ہوتے ہیں یا بس ویسے ہی بیدار ہوجاتے ہیں۔مگر یہ بات یاد رکھئے گا کہ تقدیر انسانوں کے سوالات کے جواب دینے کی پابند نہیں ہوتی نہ ان کے اعتراضات کو خاطر میں لاتی ہے۔ اس نے جب بیدار ہونا ہوتا ہے وہ اپنی مرضی اور اپنے طریقے سے بیدار ہوجاتی ہے خواہ وہ طریقہ انسانوں کے لئے کتنا ہی خلاف عقل کیوں نہ ثابت ہو۔
سو تقدیر نے جاگنے کے بعد وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے انسانوں کے ساتھ کرتی آئی ہے۔ اس نے سوال جواب کو موخر کرتے ہوئے اس انسان کو ایک کھیل کھیلنے کی پیشکش کر دی۔ چونکہ وہ انسان تقدیر کو جاننے کا دعویٰ رکھتا تھا لہٰذا وہ جانتا تھا کہ تقدیر ہمیشہ سے کھیلے بغیر کچھ بھی عطا نہیں کرتی۔ اور چونکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ تقدیر کے گھر میں بھوک کا گزر نہیں ہے لہٰذا وہ دفتر بھی نہیں جاتی اور ہر وقت مختلف کھیل  کھیلنے میں مشغول رہتی ہے لہٰذا اس نے ایک ایسا کھیل کھیلنے کی فرمائش کر دی کہ جس میں اس کے نزدیک کسی قسم کی مہارت درکار نہیں ہوتی ۔ اس نے تقدیر سے سانپ اور سیڑھی کا کھیل کھیلنے کی فرمائش کردی کہ جس میں جو بھی فاتح ہوتا، مفتوح اس کا غلام ہوجاتا۔  اپنے تئیں اس نے بہت عقلمندی کا انتخاب کیا تھا مگر اپنی ذہانت کے زعم میں وہ یہ بات بھول بیٹھا تھا کہ تقدیر کے سامنے عقل نہیں کام کرتی۔  تقدیر نے اس کی بات مان لی اور کھیل شروع ہوگیا۔
سانپ اور سیڑھی کے کھیل میں پانسہ درکار ہوتا ہے اور پانسہ ہمیشہ تقدیر چلا کرتی ہے لہٰذا دونوں کی جانب سے تقدیر نے پانسہ پھینکنا شروع  کر دیا۔ شروعات میں سب کچھ ٹھیک چلتا رہا اور تقدیر کے ساتھ ساتھ وہ بھی کھیل کے خانے پھاندتا رہا مگر مشکل تب درپیش ہوئی جب  اس کا مہرہ سانپ پر جا پہنچا ۔ اصولی طور پر اسے اب نیچے چلا جانا چاہئے تھا مگر اس ذہین انسان نے کمال ذہانت کا ثبوت دیتے ہوئے تقدیر سے انتخاب کا حق مانگ لیا۔ تقدیر بظاہر اس پر مہربان تھی لہٰذا اسے یہ حق دے دیا گیا کہ آگے آنے والی سیڑھیوں میں سے کوئی ایک سیڑھی اس سانپ سے تبدیل کر دی جائے۔ بساط   کے خانوں میں سے ایک سیڑھی اٹھا کر اس سانپ کی جگہ لگا دی گئی اور جہاں سے ٹھوکر کھا کر اسے پانچ خانے پیچھے جانا تھا وہیں سے اسے آٹھ خانے  اوپر بھیج دیا گیا۔ اس انسان نے ایک فاتحانہ نظر تقدیر پر ڈالی اور کھیل آگے بڑھا دیا گیا۔ آنے والے وقت میں ایسے ہی چار مزید  سانپوں کو سیڑھیوں سے تبدیل کیا گیا اور جب تقدیر محض پینتالیسویں خانے تک پہنچ پائی تھی، وہ  ترانوے کے خانے میں بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
 اس نے ایک فاتحانہ نظر تقدیر پر ڈالی کہ اس کو محض اپنی نگاہوں سے ہی یہ احساس دلا دے کہ ذہن اور معرفت کی بنیاد پر انسان تقدیر کو کسی بھی بساط پر پچھاڑ سکتا ہے مگر تقدیر تو کھیل بھلا کر خود لوٹ پوٹ ہوئے جا رہی تھی۔ پہلے تو اسے لگا کہ ایک معمولی انسان کے ہاتھوں شکست کی وجہ سے تقدیر اپنا ذہنی توازن خراب کر بیٹھی ہے مگر جب اس نے بغور بساط کا جائزہ لیا تو اسے احساس ہوا کہ پیچھے چھٹ جانے والے تمام سانپ اب بساط پر اس کے منتظر تھے۔ اگلے چھ کے چھ خانوں میں وہ تمام سانپ اس کے منتظر تھے جن کے بدلے وہ سیڑھیاں پھاندتا ہوا اوپر چڑھ آیا تھا۔ دال چاول اور کھچڑی کے مابین انتخاب میں وہ یہ بھول گیا تھا کہ جو کھچڑی اس دن نہیں کھائی جاتی ، اگلے دن بغیر کسی انتخابی سہولت کے وہی باامر مجبوری کھانی پڑتی ہے۔

بلاگ فالوورز

آمدورفت